আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮৪২৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسا قیدی جس کو امان دی گئی ہو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان کو مالوں اور جانوں کے بارے میں دھوکا دے

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ لأَنَّہُمْ إِذَا آمَنُوہُ فَہُمْ فِی أَمَانٍ مِنْہُ ۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب مالک امان دے دیں تو وہ اس سے ام
(١٨٤٢١) حضرت عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں قیامت کے دن ہر دھوکا کرنے والے انسان کے لیے ایک جھنڈا ہوگا کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی عہد شکنی ہے۔
(١٨٤٢١) وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُقَالُ ہَذِہِ غَدْرَۃُ فُلاَنٍ ۔

أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسا قیدی جس کو امان دی گئی ہو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان کو مالوں اور جانوں کے بارے میں دھوکا دے

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ لأَنَّہُمْ إِذَا آمَنُوہُ فَہُمْ فِی أَمَانٍ مِنْہُ ۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب مالک امان دے دیں تو وہ اس سے ام
(١٨٤٢٢) عمرو بن حمق خزاعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی آدمی کسی شخص کو امان دے کر قتل کر دے تو میں قاتل سے بری ذمہ ہوں اگرچہ مقتول کافر ہی کیوں نہ ہو۔
(١٨٤٢٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ شَدَّادٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ الْخُزَاعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِذَا آمَنَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ عَلَی نَفْسِہِ ثُمَّ قَتَلَہُ فَأَنَا بَرِیئٌ مِنَ الْقَاتِلِ وَإِنْ کَانَ الْمَقْتُولُ کَافِرًا ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسا قیدی جس کو امان دی گئی ہو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان کو مالوں اور جانوں کے بارے میں دھوکا دے

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ لأَنَّہُمْ إِذَا آمَنُوہُ فَہُمْ فِی أَمَانٍ مِنْہُ ۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب مالک امان دے دیں تو وہ اس سے ام
(١٨٤٢٣) رفاعہ بن شداد کہتے ہیں : میں نے کپڑے کے نیچے مختار (کذاب) کے لیے کوئی چیز چھپائی۔ کہتے ہیں : میں ایک دن اس کے پاس گیا اس نے کہا : تو آیا ہے، جبرائیل (علیہ السلام) اس کرسی پر پہلے کھڑا تھا تو میں تلوار کے دستے کی جانب جھکا۔ میں نے کہا کہ میں اسے مہلت نہ دوں گا یہاں تک کہ میں اس کے سر اور جسم کے درمیان چلوں۔ لیکن پھر مجھے عمرو بن حمق خزاعی کی حدیث یاد آگئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جب کوئی شخص کسی فرد کو جان کی امان دے کر قتل کر دے تو قیامت کے دن اس کے لیے عہد شکنی کا جھنڈا لگایا جائے گا تو میں اس سے رک گیا۔
(١٨٤٢٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ : کُنْتُ أَبْطَنَ شَیْئٍ بِالْمُخْتَارِ یَعْنِی الْکَذَّابَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ : دَخَلْتَ وَقَدْ قَامَ جِبْرِیلُ قَبْلُ مِنْ ہَذَا الْکُرْسِیِّ قَالَ فَأَہْوَیْتُ إِلَی قَائِمِ السَّیْفِ فَقُلْتُ مَا أَنْتَظِرُ أَنْ أَمْشِیَ بَیْنَ رَأْسِ ہَذَا وَجَسَدِہِ حَتَّی ذَکَرْتُ حَدِیثًا حَدَّثَنِیہِ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ الْخُزَاعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِذَا آمَنَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ عَلَی دَمِہِ ثُمَّ قَتَلَہُ رُفِعَ لَہُ لِوَائُ الْغَدْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَکَفَفْتُ عَنْہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسا قیدی جس کو امان دی گئی ہو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان کو مالوں اور جانوں کے بارے میں دھوکا دے

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ لأَنَّہُمْ إِذَا آمَنُوہُ فَہُمْ فِی أَمَانٍ مِنْہُ ۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب مالک امان دے دیں تو وہ اس سے ام
(١٨٤٢٤) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ خیبر میں ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ ایک چھوٹا لشکر نکلا، انھوں نے ایک انسان کو پکڑا جو بکریاں چرا رہا تھا۔ اسے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے بات چیت کی جو اللہ نے چاہا تو اس شخص نے کہا : میں آپ پر اور جو آپ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان رکھتا ہوں، اے اللہ کے رسول ! بکریوں کا کیا بنے گا ؟ کیونکہ یہ امانت ہے کسی کی ایک اور دو یا اس سے بھی زائد ہے۔ آپ نے فرمایا : تو ان کے چہروں پر کنکریاں پھینک یہ بکریاں اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائیں گی۔ اس نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی لی اور ان بکریوں کی طرف پھینکی تو وہ بھاگتی ہوئی ہر بکری اپنے مالکوں کے پاس پہنچ گئی۔ پھر یہ شخص مجاہدین کی صف میں کھڑا ہوا تو ایک تیر لگنے کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگیا اور اس نے اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کو خیمے میں داخل کر دو تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خیمے میں داخل کردیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارغ ہوئے اس کے پاس آئے، پھر نکلے تو فرمایا تمہارے ساتھی کا اسلام اچھا تھا، میں اس کے پاس گیا تو اس کی دو بیویاں حور العین سے اس کے پاس موجود تھیں۔
(١٨٤٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ خَیْبَرَ خَرَجَتْ سَرِیَّۃٌ فَأَخَذُوا إِنْسَانًا مَعَہُ غَنَمٌ یَرْعَاہَا فَجَائُ وا بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَکَلَّمَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یُکَلِّمَہُ بِہِ فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : إِنِّی قَدْ آمَنْتُ بِکَ وَبِمَا جِئْتَ بِہِ فَکَیْفَ بِالْغَنَمِ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَإِنَّہَا أَمَانَۃٌ وَہِیَ لِلنَّاسِ الشَّاۃُ وَالشَّاتَانِ وَأَکْثَرُ مِنْ ذَلِکَ قَالَ : احْصُبْ وُجُوہَہَا تَرْجِعْ إِلَی أَہْلِہَا ۔ فَأَخَذَ قَبْضَۃً مِنْ حَصْبَائٍ أَوْ تُرَابٍ فَرَمَی بِہِ وُجُوہَہَا فَخَرَجَتْ تَشْتَدُّ حَتَّی دَخَلَتْ کُلُّ شَاۃٍ إِلَی أَہْلِہَا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَی الصَّفِّ فَأَصَابَہُ سَہْمٌ فَقَتَلَہُ وَلَمْ یُصَلِّ لِلَّہِ سَجْدَۃً قَطُّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَدْخِلُوہُ الْخِبَائَ ۔ فَأُدْخِلَ خِبَائَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَخَلَ عَلَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ : لَقَدْ حَسُنَ إِسْلاَمُ صَاحِبِکُمْ لَقَدْ دَخَلْتُ عَلَیْہِ وَإِنَّ عِنْدَہُ لَزَوْجَتَیْنِ لَہُ مِنَ الْحُورِ الْعِینِ ۔

لَمْ أَکْتُبْہُ مَوْصُولاً إِلاَّ مِنْ حَدِیثِ شُرَحْبِیلَ بْنِ سَعْدٍ وَقَدْ تَکَلَّمُوا فِیہِ ۔ (ت) وَرُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلاً ۔

وَرُوِیَ عَنْ أَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیعِ فِیہِ قِصَّۃٌ شَبِیہَۃٌ بِہَذِہِ إِلاَّ أَنَّہَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسا قیدی جس کو امان دی گئی ہو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان کو مالوں اور جانوں کے بارے میں دھوکا دے

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ لأَنَّہُمْ إِذَا آمَنُوہُ فَہُمْ فِی أَمَانٍ مِنْہُ ۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب مالک امان دے دیں تو وہ اس سے ام
(١٨٤٢٥) عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ ابو العاص بن ربیع شام کی جانب تجارت کی غرض سے نکلا اور یہ ایسا شخص تھا جس کو امان حاصل تھی۔ اس کے پاس قریش کا مال بھی تھا۔ جب قافلہ آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لشکر نے اس قافلے کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کردیا اور مال آپس میں تقسیم کرلیا۔ ابو العاص نے حضرت زینب کے پاس آ کر پناہ طلب کی اور ان سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے مال اور لوگوں کے مال کو واپس کرنے کا مطالبہ کریں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سریے والوں کو بلا کر پوچھا تو انھوں نے مال واپس کردیا۔ ابو العاص نے مکہ آ کر لوگوں کے مال واپس کردیے۔ فارغ ہونے کے بعد کہنے لگے : اے قریش کے گروہ ! کیا کسی کا مال ہے کہ میں نے واپس نہ کیا ہو ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ ہم نے تجھے معزز ادا کرنے والا پایا ہے۔ پھر کہا : میں نے اسلام صرف اس ڈر سے نہ قبول کیا کہ کہیں تم یہ نہ کہو کہ ہمارے مال ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

امام شافعی (رح) مسلم کے بارے میں فرماتے ہیں : جب قیدی بنایا جائے اور امان بھی نہ دی ہو اور وعدہ بھی نہ لیا ہو تو وہ ان کے مال کو حسب قدرت لے سکتا ہے خراب کرے یا لے کر بھاگ جائے۔

شیخ فرماتے ہیں کہ وہ مسلمہ عورت جو اونٹنی لے کر بھاگ گئی تھی۔
(١٨٤٢٥) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ : خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِیعِ تَاجِرًا إِلَی الشَّامِ وَکَانَ رَجُلاً مَأْمُونًا وَکَانَتْ مَعَہُ بَضَائِعُ لِقُرَیْشٍ فَأَقْبَلَ قَافِلاً فَلَقِیَہُ سَرِیَّۃٌ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَاسْتَاقُوا عِیرَہُ وَأَفْلَتَ وَقَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَا أَصَابُوا فَقَسَمَہُ بَیْنَہُمْ وَأَتَی أَبُو الْعَاصِ حَتَّی دَخَلَ عَلَی زَیْنَبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَاسْتَجَارَ بِہَا وَسَأَلَہَا أَنْ تَطْلُبَ لَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَدَّ مَالِہِ عَلَیْہِ وَمَا کَانَ مَعَہُ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - السَّرِیَّۃَ فَسَأَلَہُمْ فَرَدُّوا عَلَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّی قَدِمَ مَکَّۃَ فَأَدَّی عَلَی النَّاسِ مَا کَانَ مَعَہُ مِنْ بَضَائِعِہِمْ حَتَّی إِذَا فَرَغَ قَالَ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ہَلْ بَقِیَ لأَحَدٍ مِنْکُمْ مَعِی مَالٌ لَمْ أَرُدَّہُ عَلَیْہِ ؟ قَالُوا : لاَ فَجَزَاکَ اللَّہُ خَیْرًا قَدْ وَجَدْنَاکَ وَفِیًّا کَرِیمًا۔ فَقَالَ : أَمَّا وَاللَّہِ مَا مَنَعَنِی أَنْ أُسْلِمَ قَبْلَ أَنْ أَقْدَمَ عَلَیْکُمْ إِلاَّ تَخَوُّفًا أَنْ تَظُنُّوا أَنِّی إِنَّمَا أَسْلَمْتُ لأَذْہَبَ بِأَمْوَالِکُمْ فَإِنِّی أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْمُسْلِمِ إِذَا أُسِرَ وَلَمْ یُؤَمِّنُوہُ وَلَمْ یَأْخُذُوا عَلَیْہِ أَنَّہُمْ آمِنُونَ مِنْہُ فَلَہُ أَخْذُ مَا قَدَرَ عَلَیْہِ مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَإِفْسَادُہُ وَالْہَرَبُ مِنْہُمْ ۔

قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رُوِّینَا حَدِیثَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْمَرْأَۃِ الْمُسْلِمَۃِ الَّتِی أَخَذَتِ النَّاقَۃَ وَہَرَبَتْ عَلَیْہَا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر (رض) نے حبشہ میں قتال کیا، جبکہ دونوں جانب مشرک تھے۔ بعض حضرات مشرکین کی مدد کو جائز نہیں خیال کرتے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت زبیر (رض) والی بات ہی ثابت نہیں۔ اگر ثابت ہو بھی جائے تو نجاشی مسلمان تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لایا۔
(١٨٤٢٦) ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام حضرت ام سلمہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مکہ کی زمین ہمارے اوپر تنگ ہو گئی۔۔۔ انھوں نے اپنی ہجرتِ حبشہ کا قصہ ذکر کیا اور قریش کا عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو نجاشی کے پاس روانہ کرنا تاکہ وہ مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکال دے اور ان کے پاس واپس کر دے اور جعفر بن ابی طالب (رض) اور دیگر ساتھی نجاشی کے پاس گئے تو نجاشی نے پوچھا : وہ نبی تمہارے پاس کیا لیکر آئے ہیں ؟ تو جعفر (رض) نے کہا : ہاں اور سورة مریم کی ابتدائی آیات پڑھ کر سنائی تو نجاشی کی روتے روتے داڑھی تر ہوگئی اور ان کے پادریوں کے روتے ہوئے مصاحف بھی تر ہوگئے۔ اس نے کہا کہ یہ کلام تو وہاں سے ہی آتی ہے جس طرح موسیٰ کے پاس آئی تھی۔ تم ہدایت یافتہ ہو کر چلو۔ پھر اس نے ان کے تصورات کے بارے میں حدیث ذکر کی کہ وہ عیسیٰ بن مریم کو بندہ خیال کرتے ہیں۔ وہ صحابہ کے پاس آئے جو رات کو ان کے پاس تھے کہ تم عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ تو حضرت جعفر (رض) نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جو اللہ نے حضرت مریم میں پھونک ڈالا تو نجاشی نے زمین سے ایک تنکا پکڑ کر کہا کہ عیسیٰ بن مریم اس تنکے سے زیادہ نہ تھے جو اس نے ان کے بارے میں کہا۔ پھر اس نے حدیث ذکر کی۔ فرماتی ہیں کہ پھر حبشی شخص اس کی بادشاہت کے بارے میں جھگڑا کرے گا۔ اللہ کی قسم ! ہمیں یہ جان کر بہت غم ہوا کہ کوئی دوسرا بادشاہ اس پر غلبہ حاصل کرلے کہ وہ ایسا بادشاہ ہو جو ہمارے حقوق کو نہ جانتا ہو جن کو یہ جانتا ہے۔ ہم نے اللہ سے دعا کی اور نجاشی کے لیے مدد طلب کر رہے تھے تو صحابہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : کون اس واقعہ میں حاضر ہو کر دیکھے گا کہ کیا بنتا ہے ؟ تو حضرت زبیر (رض) نے حامی بھری۔ یہ ابھی نوجوان تھے۔ انھوں نے زبیر (رض) کو کہا : ایک تکیے کے اندر ہوا بھر کردی۔ جس کے اوپر تیر کر انھوں نے دریائے نیل کو عبور کرلیا اور دوسری جانب جا پہنچے جہاں لڑائی ہو رہی تھی۔ جنگ ہوئی تو اللہ نے اس بادشاہ کو شکست دی اور وہ مارا گیا۔ نجاشی کو فتح نصیب ہوئی تو زبیر (رض) نے چادر ہلا کر ہمیں اطلاع دی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اللہ نے نجاشی کو فتح نصیب فرمائی ہے تو ہمیں نجاشی کی فتح کی بڑی خوشی ہوئی۔
(١٨٤٢٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہَا قَالَتْ : لَمَّا ضَاقَتْ عَلَیْنَا مَکَّۃُ فَذَکَرَتِ الْحَدِیثَ فِی ہِجْرَتِہِمْ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَمَا کَانَ مِنْ بِعْثَۃِ قُرَیْشٍ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ إِلَی النَّجَاشِیِّ لِیُخْرِجَہُمْ مِنْ بِلاَدِہِ وَیَرُدَّہُمْ عَلَیْہِمْ وَمَا کَانَ مِنْ دُخُولِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَأَصْحَابِہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ عَلَی النَّجَاشِیِّ قَالَ فَقَالَ النَّجَاشِیُّ : ہَلْ مَعَکُمْ شَیْئٌ مِمَّا جَائَ بِہِ ؟ فَقَالَ لَہُ جَعْفَرٌ : نَعَمْ فَقَرَأَ عَلَیْہِ صَدْرًا مِنْ { کٓھٰیٰعٓصٓ} [مریم ١] فَبَکَی وَاللَّہِ النَّجَاشِیُّ حَتَّی أَخْضَلَ لِحْیَتَہُ وَبَکَتْ أَسَاقِفَتُہُ حَتَّی أَخْضَلُوا مَصَاحِفَہُمْ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ ہَذَا الْکَلاَمَ لَیَخْرُجُ مِنَ الْمِشْکَاۃِ الَّتِی جَائَ بِہَا مُوسَی انْطَلِقُوا رَاشِدِینَ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی تَصْوِیرِہِمَا لَہُ أَنَّہُمْ یَقُولُونَ فِی عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَنَّہُ عَبْدٌ فَدَخَلُوا عَلَیْہِ وَعِنْدَہُ بَطَارِقَتُہُ فَقَالَ مَا تَقُولُونَ فِی عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ لَہُ جَعْفَرٌ نَقُولُ ہُوَ عَبْدُ اللَّہِ وَرَسُولُہُ وَکَلِمَتُہُ وَرُوحُہُ أَلْقَاہَا إِلَی مَرْیَمَ الْعَذْرَائِ الْبَتُولِ فَدَلَّی النَّجَاشِیُّ یَدَہُ إِلَی الأَرْضِ فَأَخَذَ عُوَیْدًا بَیْنَ إِصْبَعَیْہِ فَقَالَ مَا عَدَا عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ مَا قُلْتَ ہَذَا الْعُوَیْدَ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَتْ : فَلَمْ یَنْشَبْ أَنْ خَرَجَ عَلَیْہِ رَجُلٌ مِنَ الْحَبَشَۃِ یُنَازِعُہُ فِی مُلْکِہِ فَوَاللَّہِ مَا عَلِمْتُنَا حَزِنَّا حُزْنًا قَطُّ کَانَ أَشَدَّ مِنْہُ فَرَقًا مِنْ أَنْ یَظْہَرَ ذَلِکَ الْمَلِکُ عَلَیْہِ فَیَأْتِی مَلِکٌ لاَ یَعْرِفُ مِنْ حَقِّنَا مَا کَانَ یَعْرِفُ فَجَعَلْنَا نَدْعُو اللَّہَ وَنَسْتَنْصِرُہُ لِلنَّجَاشِیِّ فَخَرَجَ إِلَیْہِ سَائِرًا فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ مَنْ رَجُلٌ یَخْرُجُ فَیَحْضُرَ الْوَقْعَۃَ حَتَّی یَنْظُرَ عَلَی مَنْ تَکُونُ فَقَالَ الزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ مِنْ أَحْدَثِہِمْ سِنًّا أَنَا فَنَفَخُوا لَہُ قِرْبَۃً فَجَعَلَہَا فِی صَدْرِہِ ثُمَّ خَرَجَ یَسْبَحُ عَلَیْہَا فِی النِّیلِ حَتَّی خَرَجَ مِنَ الشِّقَۃِ الأُخْرَی إِلَی حَیْثُ الْتَقَی النَّاسُ فَحَضَرَ الْوَقْعَۃَ فَہَزَمَ اللَّہُ ذَلِکَ الْمَلِکَ وَقَتَلَہُ وَظَہَرَ النَّجَاشِیُّ عَلَیْہِ فَجَائَ نَا الزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَعَلَ یُلِیحُ إِلَیْنَا بِرِدَائِہِ وَیَقُولُ أَلاَ أَبْشِرُوا فَقَدْ أَظْہَرَ اللَّہُ النَّجَاشِیَّ فَوَاللَّہِ مَا فَرِحْنَا بِشَیْئٍ فَرَحَنَا بِظُہُورِ النَّجَاشِیِّ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کے عوض فدیہ لینا یا اس کو اپنی قید میں واپس لانا

امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ اوزاعی سے منقول ہے کہ وہ قیدیوں کو واپس لاتے تھے، اگرچہ وہ ان کو مال بھی دے دے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے مقام پر اس شرط پر صلح کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے آنے والے انسان کو واپس کردیں گے
(١٨٤٢٧) مسور بن مخرمہ (رض) اور مسروق بن حکم (رض) نے حدیبیہ کی صلح حدیث ذکر کی۔ اس میں ابو جندل (رض) ، اور ابو بصیر (رض) کا واقع ذکر کیا اور وہ اس سے زیادہ مکمل بھی ہے۔

شیخ فرماتے ہیں : ابو جندل (رض) کو صرف اس لیے واپس فرمایا کہ مرتد ہونے کا خطرہ نہ تھا اور اس طرح ابتداء میں ابو بصیر (رض) کو واپس کردیا تھا۔
(١٨٤٢٧) قَالَ الشَّیْخُ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَذَکَرَ حَدِیثَ صُلْحِ الْحُدَیْبِیَۃِ وَذَکَرَ فِیہِ قِصَّۃَ أَبِی جَنْدَلٍ وَأَبِی بَصِیرٍ بِنَحْوٍ مِنْ ہَذَا وَأَتَمَّ مِنْہُ ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَإِنَّمَا رَدَّ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَبَا جَنْدَلٍ إِلَیْہِمْ لأَنَّہُ کَانَ لاَ یُخَافُ عَلَیْہِ فِی الرَّدِّ لِمَکَانَ أَبِیہِ وَکَذَلِکَ أَشَارَ عَلَی أَبِی بَصِیرٍ بِالرُّجُوعِ إِلَیْہِمْ فِی الاِبْتِدَائِ لِذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَسَیَرِدُ کَلاَمُ الشَّافِعِیِّ إِنْ شَائَ اللَّہُ عَلَیْہِ فِی کِتَابِ الْجِزْیَۃِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٨٣٤٢]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کے عوض فدیہ لینا یا اس کو اپنی قید میں واپس لانا

امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ اوزاعی سے منقول ہے کہ وہ قیدیوں کو واپس لاتے تھے، اگرچہ وہ ان کو مال بھی دے دے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے مقام پر اس شرط پر صلح کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے آنے والے انسان کو واپس کردیں گے
(١٨٤٢٨) ابو رافع (رض) فرماتے ہیں کہ قریش کا خط نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ راوی کہتے ہیں : جب میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام پختہ ہوگیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں واپس نہ جاؤں گا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں عہد کو نہیں توڑتا اور نہ ہی قاصد کو روکتا ہوں۔ جاؤ اگر آپ کے دل میں یہی بات ہے تو واپس پلٹ آنا۔ کہتے ہیں : میں واپس چلا گیا اور واپس آ کر مسلمان ہوگیا اور ابو رافع (رض) قبطی آدمی تھا۔
(١٨٤٢٨) وَفِی مِثْلِ ہَذَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی رَافِعٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ أَقْبَلَ بِکِتَابٍ مِنْ قُرَیْشٍ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ فَلَمَّا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أُلْقِیَ فِی قَلْبِیَ الإِسْلاَمُ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی وَاللَّہِ لاَ أَرْجِعُ إِلَیْہِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنِّی لاَ أَخِیسُ بِالْعَہْدٌ وَلاَ أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَکِنِ ارْجِعْ فَإِنْ کَانَ فِی قَلْبِکَ الَّذِی فِی قَلْبِکَ الآنَ فَارْجِعْ ۔ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَیْہِمْ ثُمَّ أَقْبَلْتُ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَسْلَمْتُ قَالَ بُکَیْرُ وَأَخْبَرَنِی أَنَّ أَبَا رَافِعٍ کَانَ قِبْطِیًّا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کے عوض فدیہ لینا یا اس کو اپنی قید میں واپس لانا

امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ اوزاعی سے منقول ہے کہ وہ قیدیوں کو واپس لاتے تھے، اگرچہ وہ ان کو مال بھی دے دے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے مقام پر اس شرط پر صلح کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے آنے والے انسان کو واپس کردیں گے
(١٨٤٢٩) حذیفہ بن یمان (رض) فرماتے ہیں کہ میں بدر میں حاضر نہ ہوا، اس وجہ سے کہ میں اور میرے والد حیل نامی جگہ گئے تو کفار قریش نے پکڑ لیا۔ انھوں نے کہا : تم مکہ کا ارادہ رکھتے ہو۔ ہم نے نفی میں جواب دیا کہ ہم مدینہ جانا چاہتے ہیں تو انھوں نے ہم سے وعدہ لیا کہ وہ مدینہ جائیں گے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ملکر لڑائی نہ کریں گے۔ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آ کر بتایا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم مدینہ جاؤ ہم وعدہ کی پاسداری کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کریں گے۔

شیخ فرماتے ہیں : قرض کے ترک کی وجہ سے وہ واپس نہیں ہوئے۔ جب ان پر نکلنا بھی فرض نہ تھا اور نہ ہی انھوں نے حرام کا ارتکاب کیا۔ قیام وقعود میں ان کے لیے فتنہ کا ڈر تھا۔
(١٨٤٢٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ وَقَدْ سَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَیْلِ حَدَّثَنَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلاَّ أَنِّی خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِی : حُسَیْلٌ قَالَ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ فَقَالُوا إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا مَا نُرِیدُہُ مَا نُرِیدُ إِلاَّ الْمَدِینَۃَ فَأَخَذُوا عَلَیْنَا عَہْدَ اللَّہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلاَ نُقَاتِلُ مَعَہُ فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ فَقَالَ : انْصَرِفَا نَفِی لَہُمْ بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِینُ بِاللَّہِ عَلَیْہِمْ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا لأَنَّہُ لَمْ یُؤَدِّ انْصِرَافُہُمَا إِلَی تَرْکِ فَرْضٍ إِذْ لَمْ یَکُنْ خُرُوجُہُمَا وَاجِبًا عَلَیْہِمَا وَلاَ إِلَی ارْتِکَابِ مَحْظُورٍ وَالْعَوْدُ إِلَیْہِمْ وَالإِقَامَۃُ بَیْنَ أَظْہُرِہِمْ مِمَّا لاَ یَجُوزُ إِذَا کَانَ یَخَافُ الْفِتْنَۃَ عَلَی نَفْسِہِ فِی الْعَوْدِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٨٧]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کے لیے جائز نہیں یا جس شخص کو قتل یا لڑائی کی صف میں لایا جائے کہ وہ اپنے مال میں تصرف کرے
(١٨٤٣٠) زہری (رض) فرماتے ہیں کہ مسرف نے یزید بن عبداللہ کو حرہ کے دن قتل کے لیے پیش کیا۔ اس نے اپنی غیر مدخول بھا عورت کو طلاق دے دی۔ انھوں نے اہل علم سے پوچھا تو فرماتے ہیں : اس کو آدھا حق مہر ملے گا اور وراثت نہ ملے گی۔
(١٨٤٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ مُسْرِفًا قَدَّمَ یَزِیدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَمْعَۃَ یَوْمَ الْحَرَّۃِ لِیَضْرِبَ عُنُقَہُ فَطَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا فَسَأَلُوا أَہْلَ الْعِلْمِ فَقَالُوا لَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ وَلاَ مِیرَاثَ لَہَا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کے لیے جائز نہیں یا جس شخص کو قتل یا لڑائی کی صف میں لایا جائے کہ وہ اپنے مال میں تصرف کرے
(١٨٤٣١) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ زبیر (رض) کے عام صدقات جو وہ صدقہ کرتے اور بعض کام وہ گھوڑے پر سوار ہو کر سر انجام دیا کرتے تھے۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عمر بن عبد العزیز اور سعیدبن مسیب (رض) دونوں گھوڑے پر سوار ہو کر قتال کرتے۔ جو بھی کیا جائے جائز ہے۔ عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ حاملہ کا عطیہ جائز ہے یہاں تک کہ وہ بچہ جنم دینے کے لیے بیٹھ جائے۔ قاسم بن محمد اور سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ حاملہ کا عطیہ دینا جائز ہے۔
(١٨٤٣١) وَبِإِسْنَادِہِ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَامَّۃَ صَدَقَاتِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَصَدَّقَ بِہَا وَفَعَلَ أُمُورًا وَہُوَ وَاقِفٌ عَلَی ظَہْرِ فَرَسِہِ یَوْمَ الْجَمَلِ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ وَابْنِ الْمُسَیَّبِ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنَّہُمَا قَالاَ : إِذَا کَانَ الرَّجُلُ عَلَی ظَہْرِ فَرَسِہِ یُقَاتِلُ فَمَا صَنَعَ فَہُوَ جَائِزٌ۔ وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ : عَطِیَّۃُ الْحُبْلَی جَائِزَۃٌ حَتَّی تَجْلِسَ بَیْنَ الْقَوَابِلِ ۔ وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَابْنُ الْمُسَیَّبِ : عَطِیَّۃُ الْحَامِلِ جَائِزَۃٌ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبِہَذَا کُلُّہُ نَقُولُ ۔

قَالَ الشَّیْخُ حَدِیثُ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ رُوِّینَاہُ فِی کِتَابِ الْوَصَایَا بِطُولِہِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کی نماز کا حکم جب اسے قتل کرنے کیلئے لایا جائے
(١٨٤٣٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس افراد کا گروہ روانہ کیا۔ جن کے امیر عاصم بن ثابت بن ابی اقلع تھے۔ یہ عاصم کے دادا ہیں، یعنی حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب (رض) ۔ جب وہ چلتے ہوئے عسفان اور مکہ کے درمیان ایک بلند جگہ پر پہنچے تو ہذیل نامی قبیلے کا تذکرہ کیا گیا جن کو بنو لحیان کہا جاتا تھا۔ ان کے سو تیر اندازوں نے ان صحابہ کا پیچھا کیا اور انھیں کھجوریں کھاتے ہوئے پا لیا۔ انھوں نے کہا : یہ یثرب کی کھجوریں ہیں، جب عاصم اور ساتھیوں نے محسوس کرلیا کہ لوگوں نے انھیں گھیر لیا ہے تو انھوں نے کہا : تم اترو اور تم سے عہد وپیما ہے۔ تم میں سے کسی کو قتل نہ کیا جائے گا۔ عاصم نے کہا : میں کسی کافر کے عہد میں نہ اتروں گا۔ اے اللہ ! ہماری جانب سے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام بھیج دینا۔ انھوں نے ان سے قتال کیا۔ سات شہید ہوگئے۔ تین افراد نے ان کے عہد وپیما کو قبول کرلیا۔ جب انھوں نے ان پر غلبہ پا لیا اور ان کی کمان کی تندی کو اتار کر ان کے بازو پچھلی جانب باندھ لیے۔ جب ان تینوں میں سے ایک نے دیکھا تو کہنے لگا : یہ پہلا دھوکا ہے تو انھوں نے اس کو قتل کر ڈالا۔ خبیب بن عدی زید بن دثنہ کو مکہ لا کر فروخت کردیا۔ یہ جنگ بدر کے بعد کی بات ہے۔ بنو حارث نے خبیب کو خرید لیا۔ خبیب نے بدر کے دن حارث کو قتل کیا تھا۔ حارث کی بیٹی کہتی ہے کہ خبیب ہمارے پاس قیدی تھے۔ اللہ کی قسم ! میں نے خبیب سے بہتر قیدی کوئی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم ! میں نے اس کو انگوروں کے گچھے کھاتے ہوئے دیکھا۔ حالانکہ وہ پھل مکہ میں موجود نہیں تھا۔ یہ اللہ رب العزت نے خبیب کو رزق عطا کیا تھا۔ کہتی ہے : خبیب نے مجھ سے استرا مانگا تاکہ قتل کی تیاری کیلئے وہ زیر ناف بال صاف کرے۔ کہتی ہے : میں نے اس کو دے دیا۔ میرا چھوٹا بیٹا آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کے پاس پہنچ گیا۔ میں اس سے غافل تھی۔ جب میں نے اس کو دیکھا تو وہ اس کے سینے پر بیٹھا ہوا تھا۔ کہتی ہیں : میں گھبرائی جسے خبیب پہچان گئے۔ کہتی ہیں : اس نے مجھے تسلی دی اور کہا : تو میرے بارے میں گمان رکھتی ہے کہ میں اس کو قتل کر دوں گا۔ میں ایسا کرنے والا نہیں۔ کہتی ہے کہ جب تمام لوگ اس کو قتل کرنے پر جمع ہوگئے تو اس نے کہا : مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو ۔ کہتی ہے : خبیب نے دو رکعت نماز ادا کی اور فرمانے لگے : اگر تم میرے بارے میں یہ خیال نہ کرو کہ میں ڈر گیا ہوں تو میں مزید نماز ادا کرتا۔ راوی کہتے ہیں کہ خبیب پہلا انسان ہے جس نے باندھ کر قتل کیے جانے کے وقت نماز پڑھنے کی سنت جاری کی اور پھر فرمایا : اے اللہ ! ان کو شمار کرلے اور ان کو ایک ایک کر کے قتل کرنا۔ ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑ اور یہ شعر پڑھ رہے تھے۔

مجھے کوئی پروا نہیں جب میں حالت اسلام میں قتل کیا جاؤں اور کسی حالت میں اللہ کی راہ میں گرایا جاؤں۔

اور یہ میرا مرنا اللہ کے حق میں ہے۔ اگر وہ چاہے گا تو اپنی برکت سے بکھرے جوڑ ملا دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ مشرکین نے عاصم بن ثابت کو بھیجا کہ وہ اس کا کچھ گوشت لیکر آئے اور ان کے قبیلے کے بڑے آدمی نے اس کو قتل کیا تھا۔ اللہ رب العزت نے شہید کی مکھیوں کا ایک جھنڈ چھتری کی مثل بھیج دیا۔ جس نے ان کے قاصد سے حفاظت کی تو وہ اس کا گوشت نہ لے جاسکا۔
(١٨٤٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَسِیدِ بْنِ جَارِیَۃَ حَلِیفِ بَنِی زُہْرَۃَ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَشَرَۃَ رَہْطٍ عَیْنًا وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِی الأَقْلَحِ وَہُوَ جَدُّ عَاصِمٍ یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَانْطَلَقُوا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالْہَدَّۃِ بَیْنَ عُسْفَانَ وَمَکَّۃَ ذُکِرُوا لِحَیٍّ مِنْ ہُذَیْلٍ یُقَالُ لَہُمْ بَنُو لِحْیَانَ فَنَفَرُوا لَہُمْ بِمَائَۃِ رَجُلٍ رَامٍ فَاتَّبَعُوا آثَارَہُمْ حَتَّی وَجَدُوا مَأْکَلَہُمُ التَّمْرَ فَقَالُوا ہَذِہِ تَمْرُ یَثْرِبَ فَلَمَّا أَحَسَّ بِہِمُ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ لَجَئُوا إِلَی قَرْدَدٍ یَعْنِی فَأَحَاطَ بِہِمُ الْقَوْمُ فَقَالُوا : انْزِلُوا وَلَکُمُ الْعَہْدُ وَالْمِیثَاقُ أَنْ لاَ یُقْتَلَ مِنْکُمْ أَحَدٌ فَقَالَ عَاصِمٌ : أَمَّا أَنَا فَوَاللَّہِ لاَ أَنْزِلُ فِی ذِمَّۃِ کَافِرٍ الْیَوْمَ اللَّہُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِیَّکَ السَّلاَمَ فَقَاتَلُوہُمْ فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعَۃٌ وَنَزَلَ ثَلاَثَۃٌ عَلَی الْعَہْدِ وَالْمِیثَاقِ فَلَمَّا اسْتَمْکَنُوا مِنْہُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِیِّہِمْ وَکَتَّفُوہُمْ فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ مِنْہُمْ أَحَدُ الثَّلاَثَۃِ قَالَ ہُوَ وَاللَّہِ أَوَّلُ الْغَدْرِ فَعَالَجُوہُ فَقَتَلُوہُ وَانْطَلَقُوا بِخُبَیْبِ بْنِ عَدِیٍّ وَزَیْدِ بْنِ الدَّثِنَۃِ فَانْطَلَقُوا بِہِمَا إِلَی مَکَّۃَ فَبَاعُوہُمَا وَذَلِکَ بَعْدَ وَقْعَۃِ بَدْرٍ فَاشْتَرَی بَنُو الْحَارِثِ خُبَیْبًا وَکَانَ قَتَلَ الْحَارِثَ یَوْمَ بَدْرٍ قَالَتِ ابْنَۃُ الْحَارِثِ : فَکَانَ خُبَیْبٌ أَسِیرًا عِنْدَنَا فَوَاللَّہِ إِنْ رَأَیْتُ أَسِیرًا قَطُّ کَانَ خَیْرًا مِنْ خُبَیْبٍ وَاللَّہِ لَقَدْ رَأَیْتُہُ یَأْکُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ وَمَا بِمَکَّۃَ یَوْمَئِذٍ مِنْ ثَمَرَۃٍ وَإِنْ ہُوَ إِلاَّ رِزْقٌ رَزَقَہُ اللَّہُ خُبَیْبًا قَالَتْ فَاسْتَعَارَ مِنِّی مُوسَی یَسْتَحِدُّ بِہِ لِلْقَتْلِ قَالَتْ فَأَعَرْتُہُ إِیَّاہُ وَدَرَجَ بُنَیٌّ لِی وَأَنَا غَافِلَۃٌ فَرَأَیْتُہُ مُجْلِسَہُ عَلَی صَدْرِہِ قَالَتْ فَفَزِعْتُ فَزْعَۃً عَرَفَہَا خُبَیْبٌ قَالَتْ فَفَطِنَ بِی فَقَالَ أَتَحْسَبِینِی أَنِّی قَاتِلُہُ مَا کُنْتُ لأَفْعَلَہُ قَالَتْ فَلَمَّا أَجْمَعُوا عَلَی قَتْلِہِ قَالَ لَہُمْ دَعُونِی أُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ قَالَتْ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ فَقَالَ : لَوْلاَ أَنْ تَحْسَبُوا أَنَّ بِی جَزَعًا لَزِدْتُ قَالَ فَکَانَ خُبَیْبٌ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الصَّلاَۃَ لِمَنْ قُتِلَ صَبْرًا ثُمَّ قَالَ اللَّہُمَّ أَحْصِہِمْ عَدَدًا وَاقْتُلْہُمْ بَدَدًا وَلاَ تُبْقِ مِنْہُمْ أَحَدًا وَأَنْشَأَ یَقُولُ :

فَلَسْتُ أُبَالِی حَیْثُ أُقْتَلُ مُسْلِمًا

عَلَی أَیِّ حَالٍ کَانَ فِی اللَّہِ مَصْرَعِی

وَذَلِکَ فِی جَنْبِ الإِلَہِ وَإِنْ یَشَأْ

یُبَارِکْ عَلَی أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ

قَالَ : وَبَعَثَ الْمُشْرِکُونَ إِلَی عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ لِیُؤْتَوْا مِنْ لَحْمِہِ بِشَیْئٍ وَکَانَ قَتَلَ رَجُلاً مِنْ عُظَمَائِہِمْ فَبَعَثَ اللَّہُ مِثْلَ الظُّلَّۃِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْہُ مِنْ رُسُلِہِمْ فَلَمْ یَسْتَطِیعُوا أَنْ یَأْخُذُوا مِنْ لَحْمِہِ شَیْئًا۔

[صحیح۔ بخاری ٣٠٤٥]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৩৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کی نماز کا حکم جب اسے قتل کرنے کیلئے لایا جائے
(١٨٤٣٣) حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس کے ہم معنی مختصر حدیث ذکر کی۔ جس میں اشعار اور عاصم کے قصے کا ذکر نہیں ہے۔
(١٨٤٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ جَارِیَۃَ الثَّقَفِیُّ حَلِیفُ بَنِی زُہْرَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ مُخْتَصَرًا دُونَ الشِّعْرِ وَدُونَ قِصَّۃِ عَاصِمٍ فِی آخِرِہِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ بِطُولِہِ قَالَ وَأَخْبَرَنِی ابْنُ أَسِیدِ بْنِ جَارِیَۃَ وَہُوَ عَمْرُو بْنُ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ أَسِیدِ بْنِ جَارِیَۃَ الثَّقَفِیُّ وَقِیلَ عُمَرُ بْنُ أَسِیدٍ قَالَ الْبُخَارِیُّ الأَوَّلُ أَصَحُّ یَعْنِی عَمْرَو بْنَ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ أَسِیدٍ أَصَحُّ وَکَذَلِکَ قَالَہُ شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ وَمَعْمَرٌ وَیُونُسُ وَغَیْرُہُمْ عَنِ الزُّہْرِیِّ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৪০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسا مسلم انسان جو مسلمانوں کے راز مشرکین کو بتاتا ہے
(١٨٤٣٤) عبید اللہ بن ابی رافع کہتے ہیں : میں نے حضرت علی (رض) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے، زبیر (رض) اور مقداد کو روانہ کیا اور فرمایا کہ تم روضہ خاخ نامی جگہ جاؤ وہاں ایک عورت ہوگی جس کے پاس ایک خط ہے۔ ہم نے اپنے گھوڑے بھگائے وہاں پہنچے تو ایک عورت تھی۔ ہم نے خط مانگا تو وہ کہنے لگی میرے پاس خط نہیں ہے۔ ہم نے کہا : خط نکالو وگرنہ تجھے تنگی کردیں گے تو اس نے اپنی مینڈھیوں سے خط نکال کر دے دیا۔ ہم اسے لیکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ اس میں تھا کہ یہ حاطب بن ابی بلتعہ کی جانب سے مشرکین مکہ کی طرف ہے۔ جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض خبریں دی گئی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے حاطب ! یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : آپ جلدی نہ کریں، میں باہر سے آ کر مہاجرین میں ان کی وہاں رشتہ داریاں ہیں تو وہ لوگ اپنے رشتے داروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ میری مکہ میں میرا کوئی قریبی نہیں ہے تو میں نے چاہا۔ اس کی جگہ میں ان پر کوئی احسان کر دوں۔ اللہ کی قسم ! میں نے دین کے بارے میں شک کرتے ہوئے اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے اجازت دیں، میں اس منافق کی گردن اتار دوں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بدری ہے کیا آپ کو معلوم نہیں اللہ رب العزت نے بدر والوں کو دیکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو تم چاہو عمل کرو، میں نے تمہیں معاف کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی : { یاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃ } [الممتحنۃ ١]

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم اپنے اور میرے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم ان کی جانب محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔
(١٨٤٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمِ بْنِ حَیَّانَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَا وَالزُّبَیْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ : انْطَلِقُوا حَتَّی تَأْتُوا رَوْضَۃَ خَاخٍ فَإِنَّ بِہَا ظَعِینَۃً مَعَہَا کِتَابٌ ۔ فَخَرَجْنَا تَعَادَی بِنَا خَیْلُنَا فَإِذَا نَحْنُ بِظَعِینَۃٍ فَقُلْنَا أَخْرِجِی الْکِتَابَ فَقَالَتْ مَا مَعِیَ کِتَابٌ فَقُلْنَا لَہَا لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَنُلْقِیَنَّ الثِّیَابَ فَأَخْرَجَتْہُ مِنْ عِقَاصِہَا فَأَتَیْنَا بِہِ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَإِذَا فِیہِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِی بَلْتَعَۃَ إِلَی أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مِمَّنْ بِمَکَّۃَ یُخْبِرُ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا حَاطِبُ ؟ ۔ قَالَ : لاَ تَعْجَلْ عَلَیَّ إِنِّی کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِی قُرَیْشٍ وَلَمْ أَکُنْ مِنْ أَنْفُسِہَا وَکَانَ مَنْ مَعَکَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ لَہُمْ قَرَابَاتٌ یَحْمُونَ بِہَا قَرَابَاتِہِمْ وَلَمْ یَکُنْ لِی بِمَکَّۃَ قَرَابَۃٌ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِی ذَلِکَ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَہُمْ یَدًا وَاللَّہِ مَا فَعَلْتُہُ شَکًّا فِی دِینِی وَلاَ رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّہُ قَدْ صَدَقَ ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ دَعْنِی أَضْرِبُ عُنُقَ ہَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّہُ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّ اللَّہُ اطَّلَعَ عَلَی أَہْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ ۔ وَنَزَلَتْ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَائَ تُلْقُونَ إِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ } [الممتحنۃ ١]

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ جَمَاعَۃٍ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৪১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسا مسلم انسان جو مسلمانوں کے راز مشرکین کو بتاتا ہے
(١٨٤٣٥) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے مکہ والوں کو خط لکھا کہ محمد تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ اپنا دفاع کرو اور یہ خط دے کر سائرہ نامی عورت کو روانہ کردیا تو اس نے خط کو میڈھیوں کے اندر چھپالیا۔ وہ چل پڑی۔ ادھر اللہ رب العزت نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دے دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) ، زبیر بن عوام (رض) اور ابومرثدغنوی (رض) ۔ تمام شاہسواروں کو بھیج دیا اور فرمایا کہ تم فلاں جگہ ایک عورت کو ملو گے۔ اس کی تلاشی لینا۔ اس کے پاس حاطب کی جانب سے مکہ والوں کے نام ایک خط ہے۔ کہتے ہیں : ہم چلے اسی جگہ ہم نے عورت کو پایا۔ ہم نے کہا :۔ مکہ والوں کے نام خط ہے۔ وہ نکال دے۔ اس نے کہا : میرے پاس کوئی خط نہیں۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : نہ تو میں جھوٹ بولتا ہوں اور نہ میں تکذیب کرتا ہوں تو خط نکال دے یا میں تیرے کپڑے اتار دوں گا۔ جب اس نے جان لیا کہ یہ ایسا ہی کریں گے۔ تو اس نے خط نکال دیا تو ہم لیکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھول کر پڑھا تو اس میں تھا کہ حاطب کی جانب سے مکہ والوں کی طرف کہ محمد تم پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تم اپنے دفاع کی تیاری کرو۔ جب آ نے خط پڑھا تو حاطب کو بلایا۔ آپ نے جو چھا : تو نے یہ خط لکھا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ پوچھا : تجھے کس چیز نے اس پر ابھارا تو حاطب نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اسلام لانے کے بعد میں نے کفر نہیں کیا۔ میں اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں نے خط حرف اس لیے لکھا کہ مکہ میں میرے اہل و مال کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں، جس طرح دوسرے صحابہ کے مکہ میں موجود ہیں۔ میں صرف ان لوگوں پر احسان کرنا چاہتا تھا اور مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ اللہ آپ کے رسول کو غالبہ دیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تصدیق کی اور عذر قبول کرلیا۔ راوی کہتے کہ حضرت عمر (رض) نے ان کے قتل کی اجازت طلب کی۔ کیونکہ اس نے اللہ ورسول سے خیانت کی تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! یہ بدری ہے۔ آپ کہ کیا معلوم کہ اللہ نے ان پر جھانک لیا اور فرمایا : جو تمہارا دل چاہے عمل کرو میں نے تمہیں معاف کردیا ہے۔

(ب) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ تم معزز لوگوں سے حدوں کو دور کرو۔ حدیث میں کہا گیا ہے کہ یہ حد نہ تھی اور جب یہ شخص معزز لوگوں سے ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہالت کی وجہ سے حد نہ لگائی جائے جیسے حاطب بن ابی بلتعہ سے بھول ہوئی۔
(١٨٤٣٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ وَحَیَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ السُّلَمِیِّ : أَنَّہُمَا کَانَا یَتَنَازَعَانِ فِی عَلِیٍّ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَکَانَ حَیَّانُ یُحِبُّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ یُحِبُّ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ یَعْنِی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ کَتَبَ حَاطِبُ بْنُ أَبِی بَلْتَعَۃَ إِلَی مَکَّۃَ أَنَّ مُحَمَّدًا یُرِیدُ أَنْ یَغْزُوَکُمْ بِأَصْحَابِہِ فَخُذُوا حِذْرَکُمْ وَدَفَعَ کِتَابَہُ إِلَی امْرَأَۃٍ یُقَالُ لَہَا سَارَۃُ فَجَعَلَتْہُ فِی إِزَارِہَا فِی ذُؤَابَۃٍ مِنْ ذَوَائِبِہَا فَانْطَلَقَتْ فَأَطْلَعَ اللَّہُ رَسُولَہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی ذَلِکَ قَالَ عَلِیٌّ فَبَعَثَنِی وَمَعِی الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَأَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِیُّ وَکُلُّنَا فَارِسٌ قَالَ : انْطَلِقُوا فَإِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَہَا بِرَوْضَۃِ کَذَا وَکَذَا فَفَتِّشُوہَا فَإِنَّ مَعَہَا کِتَابًا إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ مِنْ حَاطِبٍ ۔ فَانْطَلَقْنَا فَوَافَقْنَاہَا فَقُلْنَا ہَاتِی الْکِتَابَ الَّذِی مَعَکِ إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ فَقَالَتْ مَا مَعِیَ کِتَابٌ قَالَ قُلْتُ مَا کَذَبْتُ وَلاَ کُذِّبْتُ لَتُخْرِجِنَّہُ أَوْ لأُجَرِّدَنَّکِ فَلَمَّا عَرَفَتْ أَنِّی فَاعِلٌ أَخْرَجَتِ الْکِتَابَ فَأَخَذْنَاہُ فَانْطَلَقْنَا بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَفَتَحَہُ فَقَرَأَہُ فَإِذَا فِیہِ : مِنْ حَاطِبٍ إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ مُحَمَّدًا یُرِیدُکُمْ فَخُذُوا حِذْرَکُمْ وَتَأَہَّبُوا أَوْ کَمَا قَالَ فَلَمَّا قَرَأَ الْکِتَابَ أَرْسَلَ إِلَی حَاطِبٍ فَقَالَ لَہُ : أَکَتَبْتَ ہَذَا الْکِتَابَ ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَمَا حَمَلَکَ عَلَی ذَلِکَ ؟ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَّا وَاللَّہِ مَا کَفَرْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَإِنِّی لِمُؤْمِنٌ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَمَا حَمَلَنِی عَلَی مَا صَنَعْتُ مِنْ کِتَابِی إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِکَ إِلاَّ وَلَہُ ہُنَاکَ بِمَکَّۃَ مَنْ یَدْفَعُ عَنْ أَہْلِہِ وَمَالِہِ وَلَمْ یَکُنْ لِی ہُنَاکَ أَحَدٌ یَدْفَعُ عَنْ أَہْلِی وَمَالِی فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَ الْقَوْمِ یَدًا وَإِنِّی لأَعْلَمُ أَنَّ اللَّہَ سَیُظْہِرُ رَسُولَہُ عَلَیْہِمْ قَالَ فَصَدَّقَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَقَبِلَ قَوْلَہُ قَالَ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ دَعْنِی فَأَضْرِبَ عُنُقَہُ فَإِنَّہُ قَدْ خَانَ اللَّہَ وَالْمُؤْمِنِینَ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : یَا عُمَرُ إِنَّہُ مِنْ أَہْلِ بَدْرٍ وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّ اللَّہَ اطَّلَعَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ ہُشَیْمٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِدْرِیسَ وَغَیْرِہِ عَنْ حُصَیْنٍ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ قَالَ : تَجَافَوْا لِذَوِی الْہَیْئَاتِ ۔ وَقِیلَ فِی الْحَدِیثِ : مَا لَمْ یَکُنْ حَدًّا ۔ فَإِذَا کَانَ ہَذَا مِنَ الرَّجُلِ ذِی الْہَیْئَۃِ وَقِیلَ بِجَہَالَۃٍ کَمَا کَانَ ہَذَا مِنْ حَاطِبٍ بِجَہَالَۃٍ وَکَانَ غَیْرُ مُتَّہَمٍ أَحْبَبْتُ أَنْ یَتَجَافَی لَہُ وَإِذَا کَانَ مِنْ غَیْرِ ذِی الْہَیْئَۃِ کَانَ لِلإِمَامِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ تَعْزِیرُہُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৪২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کرنے والوں کے جاسوس کا حکم
(١٨٤٣٦) ابن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سفر کے دوران نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مشرکین کا جاسوس آیا۔ وہ صحابہ کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتا رہا۔ پھر کھسک گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے پکڑ کر قتل کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اس کو قتل کر کے اس کا سامان لے لیا۔
(١٨٤٣٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ یَعْقُوبَ الإِیَادِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَیْسٍ عَنِ ابْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَتَی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَیْنٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَہُوَ فِی سَفَرٍ قَالَ فَجَلَسَ فَتَحَدَّثَ عِنْدَ أَصْحَابِہِ ثُمَّ انْسَلَّ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اطْلُبُوہُ فَاقْتُلُوہُ ۔ قَالَ : فَسَبَقْتُہُمْ إِلَیْہِ فَقَتَلْتُہُ وَأَخَذْتُ سَلَبَہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৪৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کرنے والوں کے جاسوس کا حکم
(١٨٤٣٧) حارث بن مضرب فرات بن حیان سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے قتل کا حکم دیا اور وہ ابوسفیان کا جاسوس اور حلیف تھا۔ میرا گمان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک انصاری شخص سے کہا تو وہ انصاری لوگوں کی مجلس کے پاس سے گزرا۔ اس نے کہا : میں مسلمان ہوں تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ کہتا ہے میں مسلم ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ان میں سے بعض افراد ایسے ہیں کہ بزدلی ان کو ایمان کی طرف لے آتی ہے۔ ان میں سے فرات بن حیان بھی ہیں۔
(١٨٤٣٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو ہَمَّامٍ الدَّلاَّلُ فِی مَسْجِدِ الْبَصْرَۃِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنِ الْفُرَاتِ بْنِ حَیَّانَ : وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِہِ وَکَانَ عَیْنًا لأَبِی سُفْیَانَ وَحَلِیفًا أَظُنُّہُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَمَرَّ عَلَی حَلْقَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ إِنِّی مُسْلِمٌ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْہُمْ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ یَقُولُ إِنِّی مُسْلِمٌ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ مِنْہُمْ رِجَالاً نَکِلُہُمْ إِلَی إِیمَانِہِمْ مِنْہُمُ الْفُرَاتُ بْنُ حَیَّانَ ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ١١٦٨٣١]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৪৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی سے مشرکین کے بارے میں معلومات حاصل کرنا
(١٨٤٣٨) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کو لیکر بدر کی جانب چل۔ اچانک قریش کیلئے پانی بھرنے والا ایک سیاہ غلام بنو حجاج کا آیا۔ اس کو صحابہ نے پکڑ لیا اور اس سے پوچھنے لگے : ابو سفیان کہاں ہے ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے کوئی علم نہیں۔ لیکن یہ قریشی ہیں، جن میں ابو جہل، عتبہ، شیبہ، امیہ بن خلف شامل ہیں۔ جب وہ یہ بات کہتاتو صحابہ اس کو مارتے۔ وہ کہتا : مجھے چھوڑو۔ مجھے چھوڑو، میں تمہیں بتاتا ہوں۔ جب وہ اس کو چھوڑ دیتے تو کہتا اللہ کی قسم ! مجھے ابو سفیان کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ لیکن یہ قریشی آ رہے ہیں جن میں عتبہ، شیبہ، امیہ بن خلف موجود ہیں۔ وہ اسے لیکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالت نماز میں یہ باتیں سن رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : قسم اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اس کو مارتے تھے جب اس نے سچ بولا اور جب وہ جھوٹ بولتا تو تم چھوڑ دیتے۔ یہ قریش ہی آرہے ہیں تاکہ وہ ابو سفیان کو تم سے محفوظ کرسکیں۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمین پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔ یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہے اور یہ فلاں کی قتل گاہ ہے۔ اللہ کی قسم ان میں سے کوئی ایک بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ والی جگہ سے تجاوز نہ کرسکا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بارے میں حکم دیا اور انھیں پاؤں سے پکڑ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔
(١٨٤٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَدَبَ أَصْحَابَہُ فَانْطَلَقَ إِلَی بَدْرٍ فَإِذَا ہُمْ بِرَوَایَا قُرَیْشٍ فِیہَا عَبْدٌ أَسْوَدُ لِبَنِی الْحَجَّاجِ فَأَخَذَہُ أَصْحَابُ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَجَعَلُوا یَسْأَلُونَہُ أَیْنَ أَبُو سُفْیَانَ فَیَقُولُ وَاللَّہِ مَا لِی بِشَیْئٍ مِنْ أَمْرِہِ عِلْمٌ وَلَکِنْ ہَذِہِ قُرَیْشٌ قَدْ جَائَ تْ فِیہِمْ أَبُو جَہْلٍ وَعُتْبَۃُ وَشَیْبَۃُ ابْنَا رَبِیعَۃَ وَأُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ فَإِذَا قَالَ لَہُمْ ذَلِکَ ضَرَبُوہُ فَیَقُولُ دَعُونِی دَعُونِی أُخْبِرْکُمْ فَإِذَا تَرَکُوہُ قَالَ وَاللَّہِ مَا لِی بِأَبِی سُفْیَانَ مِنْ عِلْمٍ وَلَکِنْ ہَذِہِ قُرَیْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ فِیہِمْ أَبُو جَہْلٍ وَعُتْبَۃُ وَشَیْبَۃُ ابْنَا رَبِیعَۃَ وَأُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ أَقْبَلُوا وَالنَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُصَلِّی وَہُوَ یَسْمَعُ ذَلِکَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّکُمْ لَتَضْرِبُونَہُ إِذَا صَدَقَکُمْ وَتَدَعُونَہُ إِذَا کَذَبَکُمْ ہَذِہِ قُرَیْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ لِتَمْنَعَ أَبَا سُفْیَانَ ۔ قَالَ أَنَسٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ہَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا ۔ وَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی الأَرْضِ وَہَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا ۔ وَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی الأَرْضِ وَہَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا ۔ وَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی الأَرْضِ فَقَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا جَاوَزَ أَحَدٌ مِنْہُمْ عَنْ مَوْضِعِ یَدِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَمَرَ بِہِمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأُخِذَ بِأَرْجُلِہِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِی قَلِیبِ بَدْرٍ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ حَمَّادٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٧٩]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৪৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کا جاسوس بھیجنے کا بیان
(١٨٤٣٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بسیسہ کو جاسوس بنا بھیجا کہ وہ ابو سفیان کے قافلہ کی حرکات کو نوٹ کرلے۔ راوی کہتے ہیں : جب وہ آیا تو میرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کوئی گھر میں موجود نہیں تھا۔۔۔ پھر اس نے حدیث بیان کی۔
(١٨٤٣٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ یَعْنِی ابْنَ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بُسَیْسَۃَ عَیْنًا یَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِیرُ أَبِی سُفْیَانَ قَالَ فَجَائَ وَمَا فِی الْبَیْتِ أَحَدٌ غَیْرِی وَغَیْرُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَحَدَّثَہُ الْحَدِیثَ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی النَّضْرِ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٠١]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪৪৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کا جاسوس بھیجنے کا بیان
(١٨٤٤٠) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کی خبر میرے پاس کون لائے گا ؟ زبیر (رض) نے کہا : میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : میرے پاس قوم کی خبر کون لائے گا ؟ زبیر (رض) نے کہا : میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : میرے لیے لوگوں کی جاسوسی کون کرے گا۔ زبیر (رض) نے کہا : میں کروں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر (رض) ہے۔
(١٨٤٤٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ الأَحْزَابِ : مَنْ یَأْتِینِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ ۔ فَقَالَ الزُّبَیْرُ : أَنَا ثُمَّ قَالَ : مَنْ یَأْتِینِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ ۔ فَقَالَ الزُّبَیْرُ : أَنَا ثُمَّ قَالَ : مَنْ یَأْتِینِی بِخَبَرِ الْقَوْمِ ۔ فَقَالَ الزُّبَیْرُ : أَنَا فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِیٌّ وَحَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক: