আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮৪০৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے جزیہ والی زمین کو خریدنا ناپسند کیا ہے
(١٨٤٠١) قتادہ (رض) ، حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ جزیہ کی زمین میں سے کچھ بھی خریدنے کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مسلمانوں کا جزیہ ان کے ذمہ ہے۔
(١٨٤٠١) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَشْتَرِیَ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ شَیْئًا وَیَقُولُ عَلَیْہَا خَرَاجُ الْمُسْلِمِینَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے جزیہ والی زمین کو خریدنا ناپسند کیا ہے
(١٨٤٠٢) کلیب بن وائل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا : میں نے زمین خریدی ہے تو انھوں نے فرمایا : زمین خریدنا اچھا ہے۔ کہتے ہیں : میں نے کہا کہ میں ہر زمین کی کھیتی کے عوض ایک درہم اور ایک کھانے کا قفیز (پیمانہ) ادا کرتا ہوں تو انھوں نے کہا کہ ذلت کو اپنے گلے میں نہ ڈالو۔
(١٨٤٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ کُلَیْبِ بْنِ وَائِلٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ : اشْتَرَیْتُ أَرْضًا۔ قَالَ : الشِّرَائُ حَسَنٌ۔ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّی أُعْطِی مِنْ کُلِّ جَرِیبِ أَرْضٍ دِرْہَمًا وَقَفِیزًا مِنْ طَعَامٍ قَالَ فَلاَ تَجْعَلْ فِی عُنُقِکَ صَغَارًا۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے جزیہ والی زمین کو خریدنے کی رخصت دی ہے
(١٨٤٠٣) قاسم بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ عبداللہ نے جزیے والی زمین خریدی تو ان سے حنظلہ نے یہ بات کہی کہ میں آپ کی جانب سے جزیہ ادا کروں گا اور زمین کی دیکھ بھال بھی کروں گا۔
(١٨٤٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : اشْتَرَی عَبْدُ اللَّہِ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ قَالَ فَقَالَ لَہُ صَاحِبُہَا یَعْنِی دِہْقَانَہَا أَنَا أَکْفِیکَ إِعْطَائَ خَرَاجِہَا وَالْقِیَامَ عَلَیْہَا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے جزیہ والی زمین کو خریدنے کی رخصت دی ہے
(١٨٤٠٤) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے ایک تاجر سے جزیہ کی زمین خریدی اور شرط رکھی کہ وہ اس کا جزیہ ادا کرتے رہیں گے۔
(١٨٤٠٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : اشْتَرَی عَبْدُ اللَّہِ أَرْضَ خَرَاجٍ مِنْ دِہْقَانٍ وَعَلَی أَنْ یَکْفِیَہُ خَرَاجَہَا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے جزیہ والی زمین کو خریدنے کی رخصت دی ہے
(١٨٤٠٥) ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حسن بن علی نے نمک خریدا اور حسین بن علی نے جزیہ کی باقی ماندہ زمین خریدی۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے زمین واپس کردی اور جزیہ پر صلح کرلی جو کم کیا تھا۔
(١٨٤٠٥) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنِی حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : اشْتَرَی الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مَلْحَۃً أَوْ مِلْحًا وَاشْتَرَی الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ شَرِیدَیْنِ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ وَقَالَ قَدْ رَدَّ إِلَیْہِمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرْضَہُمْ وَصَالَحَہُمْ عَلَی الْخَرَاجِ الَّذِی وَضَعَہُ عَلَیْہِمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے جزیہ والی زمین کو خریدنے کی رخصت دی ہے
(١٨٤٠٦) عبداللہ بن حسن فرماتے ہیں کہ حضرت حسن و حسین نے جزیہ کی زمین کا ٹکڑا خریدا۔
(١٨٤٠٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَسَنٍ : أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا اشْتَرِیَا قِطْعَۃً مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے جزیہ والی زمین کو خریدنے کی رخصت دی ہے
(١٨٤٠٧) حجاج کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ نے جزیہ والی زمین کا ایک قطعہ خریدا تھا۔
(١٨٤٠٧) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ حَجَّاجٍ قَالَ بَلَغَنَا : أَنَّ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اشْتَرَی قِطْعَۃً مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص نے جزیہ والی زمین کو خریدنے کی رخصت دی ہے
(١٨٤٠٨) حکم قاضی شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے حیرہ کی زمین خریدی جس کو زت کہا جاتا تھا اور حیرہ کی زمین خریدنے کی رخصت تھی کیونکہ یہ صلح کی زمین تھی۔ (ب) یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن صالح سے پوچھا تو انھوں نے خراج والی زمین کو خریدنے کو ناپسند فرمایا، جس کو لڑائی سے حاصل کیا گیا ہو اور اس پر جزیہ لاگو کیا گیا ہوں اور صلح کی زمین خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(١٨٤٠٨) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحِیمِ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ شُرَیْحٍ : أَنَّہُ اشْتَرَی أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْحِیرَۃِ یُقَالُ لَہَا زَبَّا۔ قَالَ وَقَالَ الْحَکَمُ وَکَانُوا یُرَخِّصُونَ فِی شِرَائِ أَرْضِ الْحِیرَۃِ مِنْ أَجْلِ أَنَّہُمْ صُلْحٌ۔

قَالَ یَحْیَی وَسَأَلْتُ حَسَنَ بْنَ صَالِحٍ فَکَرِہَ شِرَائَ أَرْضِ الْخَرَاجِ الَّتِی أُخِذَتْ عَنْوَۃً فَوُضِعَ عَلَیْہَا الْخَرَاجُ وَلَمْ یَرَ بَأْسًا بِشِرَائِ أَرْضِ أَہْلِ الصُّلْحِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کرنے والے کا اسلام قبول کرنے کی وجہ سے جزیہ ختم ہوجاتا ہے
(١٨٤٠٩) داؤد بن سلیمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عبدالحمید بن عبدالرحمن کو خط لکھا، جس میں یہ تحریر تھا کہ جو اسلام قبول کرے اس کی زمین پر خراج نہیں ہے اور ایک مسند روایت ہے کہ صرف اس کے ذمہ زکوۃ ہے۔
(١٨٤٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ سُلَیْمَانَ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ إِلَی عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَکَرَہُ فَقَالَ فِیہِ وَلاَ خَرَاجَ عَلَی مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ وَقَدْ رُوِّینَا فِیہِ حَدِیثًا مُسْنِدًا لَیْسَ عَلَیْہِمْ فِیہِ إِلاَّ صَدَقَۃٌ وَقَدْ مَضَی ذَلِکَ مَعَ غَیْرِہِ فِی کِتَابِ الزَّکَاۃِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ذریعہ حاصل کی گئی زمین جب حصہ داروں کی رضا مندی سے مسلمانوں کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو فروخت کرنا درست نہیں ہے اور جس کے قبضہ میں ہو وہ مسلمان ہوجائے تو جزیہ ختم ہوگا
(١٨٤١٠) بکر بن عامر حضرت عامر سے نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد نے خراج والی زمین خریدی پھر۔ آ کر حضرت عمر (رض) کو بتایا۔ انھوں نے پوچھا : آپ نے کس سے خریدی ہے ؟ کہنے لگے : زمین والوں سے۔ فرمایا : یہ زمین والے ہیں۔ کیا تم نے ان سے کچھ خریدا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : جا کر اپنا مال واپس لے لو۔
(١٨٤١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ہُوَ ابْنُ حَرْبٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ : اشْتَرَی عُتْبَۃُ بْنُ فَرْقَدٍ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ ثُمَّ أَتَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ : مِمَّنْ اشْتَرَیْتَہَا ؟ قَالَ : مَنْ أَہْلِہَا۔ قَالَ : فَہَؤُلاَئِ أَہْلُہَا لِلْمُسْلِمِینَ أَبِعْتُمُوہُ شَیْئًا قَالُوا : لاَ ۔ قَالَ : اذْہَبْ فَاطْلُبْ مَالَکَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ذریعہ حاصل کی گئی زمین جب حصہ داروں کی رضا مندی سے مسلمانوں کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو فروخت کرنا درست نہیں ہے اور جس کے قبضہ میں ہو وہ مسلمان ہوجائے تو جزیہ ختم ہوگا
(١٨٤١١) شعبی حضرت عتبہ بن فرقد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سواد کی زمین سے دس ایکڑ زمین فرات کے کنارے خریدی۔ جب حضرت عمر (رض) کے سامنے تذکرہ ہوا تو پوچھا : آپ نے زمین والوں سے خریدی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ کہنے لگے : میرے پاس آؤ۔ میں ان کے پاس گیا تو فرمایا : کیا تم نے ان کو کچھ فروخت کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : اپنا مال لو جس کو دے رکھا ہے۔
(١٨٤١١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا قَیْسٌ عَنْ أَبِی إِسْمَاعِیلَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَ : اشْتَرَیْتُ عَشْرَۃَ أَجْرِبَۃٍ مِنْ أَرْضِ السَّوَادِ عَلَی شَاطِئِ الْفُرَاتِ لِقَضْبِ دَوَابِّ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ اشْتَرَیْتَہَا مِنْ أَصْحَابِہَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ رُحْ إِلَیَّ قَالَ فَرُحْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ یَا ہَؤُلاَئَ أَبِعْتُمُوہُ شَیْئًا قَالُوا لاَ قَالَ ابْتَغِ مَالَکَ حَیْثُ وَضَعْتَہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ذریعہ حاصل کی گئی زمین جب حصہ داروں کی رضا مندی سے مسلمانوں کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو فروخت کرنا درست نہیں ہے اور جس کے قبضہ میں ہو وہ مسلمان ہوجائے تو جزیہ ختم ہوگا
(١٨٤١٢) طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ اہل نہر سے ایک عورت مسلمان ہوگئی تو حضرت عمر (رض) نے خط لکھا : اگر وہ اپنی زمین کو اختیار کرے اور جزیہ ادا کرے تو اس کو زمین دے دو ، وگرنہ زمین سے فارغ کر دو ۔
(١٨٤١٢) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ : أَسْلَمَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِ نَہَرِ الْمَلِکِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَوْ کَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنِ اخْتَارَتْ أَرْضَہَا وَأَدَّتْ مَا عَلَی أَرْضِہَا فَخَلُّوا بَیْنَہَا وَبَیْنَ أَرْضِہَا وَإِلاَّ خَلُّوا بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ وَبَیْنَ أَرَضِیہِمْ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪১৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ذریعہ حاصل کی گئی زمین جب حصہ داروں کی رضا مندی سے مسلمانوں کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو فروخت کرنا درست نہیں ہے اور جس کے قبضہ میں ہو وہ مسلمان ہوجائے تو جزیہ ختم ہوگا
(١٨٤١٣) ابو عون ثقفی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت علی (رض) اہلِ سواد کے افراد کو چھوڑ دیتے، جب وہ اسلام قبول کرلیتے تو فرماتے : وہ اپنی زمین پر ہی رہیں اور خراج ادا کرتے رہیں۔
(١٨٤١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ الأَسَدِیِّ عَنْ أَبِی عَوْنٍ الثَّقَفِیِّ قَالَ : کَانَ عُمَرُ وَعَلِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ السَّوَادِ تَرَکَاہُ یَقُومُ بِخَرَاجِہِ فِی أَرْضِہِ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ذریعہ حاصل کی گئی زمین جب حصہ داروں کی رضا مندی سے مسلمانوں کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو فروخت کرنا درست نہیں ہے اور جس کے قبضہ میں ہو وہ مسلمان ہوجائے تو جزیہ ختم ہوگا
(١٨٤١٤) حضرت جابر عامر سے نقل فرماتے ہیں کہ رفیل نے اسلام قبول کرلیا تو حضرت عمر (رض) نے ان کو خراج والی زمین عطا کردی اور ان کے لیے دو ہزار جزیہ مقرر کردیا۔
(١٨٤١٤) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا شَرِیکٌ وَقَیْسٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ أَسْلَمَ الرُّفَیْلُ فَأَعْطَاہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرْضَہُ بِخَرَاجِہَا وَفَرَضَ لَہُ أَلْفَیْنِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ذریعہ حاصل کی گئی زمین جب حصہ داروں کی رضا مندی سے مسلمانوں کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو فروخت کرنا درست نہیں ہے اور جس کے قبضہ میں ہو وہ مسلمان ہوجائے تو جزیہ ختم ہوگا
(١٨٤١٥) بنو زہرہ کے ایک شیخ حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت سعد کو لکھا کہ سعید بن زید کو کچھ زمین عطا کرو تو انھوں نے رفیل کی زمین دے دی۔ بنو رفیل حضرت عمر (رض) کے پاس آگئے اور کہا : اے امیر المؤمنین ! کس بات پر تم نے ہمارے ساتھ صلح کی ہے ؟ فرمانے لگے کہ تم جزیہ ادا کرو۔ زمین، مال، اولاد تمہارے پاس ہی رہیں گے۔ اس نے کہا : اے امیر المومنین ! کیا آپ نے میری زمین سعید بن زید کو دے دی ہے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے سعد کو لکھا کہ اس کی زمین واپس کر دو ۔ پھر اسے اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس پر سات سو جزیہ مقرر فرما دیا اور اس کی زمین خثعم قبیلہ کو عطا کردی اور فرمایا : اگر تم اپنی زمین پر رہے تو اتنا جزیہ ادا کرتے رہنا جتنا دیا کرتے تھے۔

(ب) یہ قول { وَلَکُمْ اَرَضْنَاکُمْ } وہ زمین جس میں تم کھیتی باڑی کرتے ہو اور جزیہ ادا کرتے ہو اور یہ زمین زبردستی ان سے لی گئی۔ دیکھیں مسلمان ہونے کے بعد بھی خراج ختم نہ ہوا حالانکہ صلح کی وجہ سے ساقط ہوجاتا ہے۔
(١٨٤١٥) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ عَنْ شَیْخٍ مِنْ بَنِی زُہْرَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی سَعْدٍ یُقْطِعُ سَعِیدَ بْنَ زَیْدٍ أَرْضًا فَأَقْطَعَہُ أَرْضًا لِبَنِی الرُّفَیْلِ فَأَتَی ابْنُ الرُّفَیْلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی مَا صَالَحْتُمُونَا ؟ قَالَ : عَلَی أَنْ تُؤَدُّوا إِلَیْنَا الْجِزْیَۃَ وَلَکُمْ أَرْضُکُمْ وَأَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ ۔ قَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَقْطَعْتَ أَرْضِی لِسَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ۔ قَالَ : فَکَتَبَ إِلَی سَعْدٍ رُدَّ عَلَیْہِ أَرْضَہُ ثُمَّ دَعَاہُ إِلَی الإِسْلاَمِ فَأَسْلَمَ فَفَرَضَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَبْعَمِائَۃٍ وَجَعَلَ عَطَائَ ہُ فِی خَثْعَمَ وَقَالَ إِنْ أَقَمْتَ فِی أَرْضِکَ أَدَّیْتَ عَنْہَا مَا کُنْتَ تُؤَدِّی۔

وَہَذَا فِی إِسْنَادِہِ ضَعْفٌ۔ فَإِنْ ثَبَتَ کَانَ قَوْلُہُ وَلَکُمْ أَرْضُکُمْ مَحْمُولاً عَلَی أَنَّہُ أَرَادَ وَلَکُمْ أَرْضُکُمُ الَّتِی کَانَتْ لَکُمْ تَزْرَعُونَہَا وَتُعْطُونَ خَرَاجَہَا وَذَلِکَ فِیمَا أُخِذَ عَنْوَۃً أَلاَ تَرَاہُ لَمْ یُسْقِطْ عَنْہُ خَرَاجَہَا حِینَ أَسْلَمَ وَفِی الصُّلْحِ یَسْقُطُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ذریعہ حاصل کی گئی زمین جب حصہ داروں کی رضا مندی سے مسلمانوں کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو فروخت کرنا درست نہیں ہے اور جس کے قبضہ میں ہو وہ مسلمان ہوجائے تو جزیہ ختم ہوگا
(١٨٤١٦) ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور کہا : میں نے اسلام قبول کرلیا ہے، جزیہ ختم کر دو ۔ فرمایا : نہیں آپ کی زمین بذریعہ لڑائی حاصل کی گئی ہے۔ راوی کہتے ہیں : دوسرا شخص آیا کہ فلاں زمین والے زیادہ خراج دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ فرمایا : ہم نے اسی پر ان سے صلح کی ہے۔
(١٨٤١٦) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیَّ یَقُولُ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ إِنِّی قَدْ أَسْلَمْتُ فَضَعْ عَنْ أَرْضِی الْخَرَاجَ فَقَالَ لاَ إِنَّ أَرْضَکَ أُخِذَتْ عَنْوَۃً ۔ قَالَ : وَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا یُطِیقُونَ مِنَ الْخَرَاجِ أَکْثَرَ مِمَّا عَلَیْہِمْ فَقَالَ : لاَ سَبِیلَ إِلَیْہِمْ إِنَّمَا صَالَحْنَاہُمْ صُلْحًا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ذریعہ حاصل کی گئی زمین جب حصہ داروں کی رضا مندی سے مسلمانوں کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو فروخت کرنا درست نہیں ہے اور جس کے قبضہ میں ہو وہ مسلمان ہوجائے تو جزیہ ختم ہوگا
(١٨٤١٧) زبیر بن عدی فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے دور میں اہل سواد کے ایک تاجر نے اسلام قبول کرلیا تو حضرت علی (رض) نے اس سے کہا : اگر تو اپنی زمین پر رہے تو ہم تیرا جزیہ ختم کردیتے ہیں اور تیری زمین کا جزیہ وصول کریں گے۔ اگر تو اس سے منتقل ہوجائے تو اس زمین کے ہم زیادہ حق دار ہیں۔
(١٨٤١٧) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ سَیَّارٍ أَبِی الْحَکَمِ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ قَالَ : أَسْلَمَ دِہْقَانٌ مِنْ أَہْلِ السَّوَادِ فِی عَہْدِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنْ أَقَمْتَ فِی أَرْضِکَ رَفَعْنَا الْجِزْیَۃَ عَنْ رَأْسِکَ وَأَخَذْنَا مِنْ أَرْضِکَ وَإِنْ تَحَوَّلْتَ عَنْہَا فَنَحْنُ أَحَقُّ بِہَا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے ذریعہ حاصل کی گئی زمین جب حصہ داروں کی رضا مندی سے مسلمانوں کے لیے وقف کردی جائے تو اس کو فروخت کرنا درست نہیں ہے اور جس کے قبضہ میں ہو وہ مسلمان ہوجائے تو جزیہ ختم ہوگا
(١٨٤١٨) ابو عون فرماتے ہیں کہ اہل عین التمر کا ایک تاجر مسلمان ہوگیا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہم تیرا جزیہ ختم کردیتے ہیں، تیری زمین مسلمانوں کے لیے ہوگی۔ اگر آپ چاہو تو آپ کے لیے جزیہ مقرر کردیتے ہیں اور اگر آپ چاہو تو ہم آپ کو قہرمان عطا کردیتے ہیں۔ جو اللہ رب العزت اس سے پیدا فرمائے وہ آپ ہمارے پاس لے کر آئیں گے۔
(١٨٤١٨) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنِ الْمَسْعُودِیِّ عَنْ أَبِی عَوْنٍ قَالَ : أَسْلَمَ دِہْقَانٌ مِنْ أَہْلِ عَیْنِ التَّمْرِ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمَّا جِزْیَۃُ رَأْسِکَ فَنَرْفَعُہَا وَأَمَّا أَرْضُکَ فَلِلْمُسْلِمِینَ فَإِنْ شِئْتَ فَرَضْنَا لَکَ وَإِنْ شِئْتَ جَعَلْنَاکَ قَہْرَمَانًا لَنَا فَمَا أَخْرَجَ اللَّہُ مِنْہَا مِنْ شَیْئٍ أَتَیْتَنَا بِہِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی سے وعدہ لیا جائے کہ وہ بھاگے گا نہیں امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب وہ بھاگنے کی قدرت رکھتا ہو تو بھاگ جائے، کیونکہ اس کی قسم مجبور انسان کی قسم ہے۔ فرماتے ہیں : شاید کہ اس کے لیے وسعت نہ ہو، جب تک ان کے ساتھ رہے کہ جب ان سے دور ہونے کی طاقت رکھتا ہو۔
(١٨٤١٩) جریر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ خثعم کی جانب ایک لشکر روانہ کیا تو لوگوں نے سجدہ کے ذریعے بچاؤ اختیار کیا۔ لشکر والوں نے ان کے قتل میں جلدی کی۔ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نصف دیت ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں ہر اس مسلمان سے بری ذمہ ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہے۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیوں ؟ فرمایا کہ وہ ایک دوسرے کی آگ کو نہ دیکھیں۔
(١٨٤١٩) قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا لِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَرِیَّۃً إِلَی خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْہُمْ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِیہِمُ الْقَتْلَ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَمَرَ لَہُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ أَنَا بَرِیئٌ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ مُقِیمٍ بَیْنَ أَظْہُرِ الْمُشْرِکِینَ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَلِمَ ؟ قَالَ : لاَ تَرَایَا نَارَاہُمَا ۔

[ضعیف۔ تقدم برقم ١٦٤٧٠]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪২৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی سے وعدہ لیا جائے کہ وہ بھاگے گا نہیں امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب وہ بھاگنے کی قدرت رکھتا ہو تو بھاگ جائے، کیونکہ اس کی قسم مجبور انسان کی قسم ہے۔ فرماتے ہیں : شاید کہ اس کے لیے وسعت نہ ہو، جب تک ان کے ساتھ رہے کہ جب ان سے دور ہونے کی طاقت رکھتا ہو۔
(١٨٤٢٠) حضرت سمرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم مشرکین میں رہائش نہ رکھو اور نہ تم ان کے ساتھ میل جول رکھو جس نے ان کے ساتھ میل جول یا رہائش رکھی وہ ہم میں سے نہیں۔
(١٨٤٢٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لاَ تُسَاکِنُوا الْمُشْرِکِینَ وَلاَ تُجَامِعُوہُمْ فَمَنْ سَاکَنَہُمْ أَوْ جَامَعَہُمْ فَلَیْسَ مِنَّا ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক: