আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮৩৮৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٨١) عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حیرہ شہر میرے سامنے کتوں کی کچلیوں کی مانند ظاہر کیا گیا اور تم اس کو فتح کرو گے۔ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا : اے اللہ کے نبی ! بطیلہ کی بیٹی مجھے ہبہ کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تیری ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دے دی۔ پھر اس کا باپ آیا۔ کہنے لگا : کیا فروخت کرو گے ؟ اس نے پوچھا : کتنے کی ؟ اس نے کہا : جو چاہو فیصلہ کرلو۔ اس نے کہا : ہزار درہم۔ اس نے کہا : میں نے خرید لی ہے۔ انھوں نے کہا : اگر وہ تیس ہزار بھی مانگتا تب بھی وہ خرید لیتے اس نے کہا : کیا ہزار سے بڑا عدد بھی کوئی ہے۔

(ب) یہ حدی مریسم بن اوس سے ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ عورت دی تھی۔
(١٨٣٨١) أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الدَّامَغَانِیُّ بِبَیْہَقَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : ہَارُونُ بْنُ یُوسُفَ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسٍ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مُثِّلَتْ لِی الْحِیرَۃُ کَأَنْیَابِ الْکِلاَبِ وَإِنَّکُمْ سَتَفْتَحُونَہَا ۔ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَبْ لِی ابْنَۃَ بُقَیْلَۃَ ۔ قَالَ : ہِیَ لَکَ ۔ فَأَعْطَوْہُ إِیَّاہَا فَجَائَ أَبُوہَا فَقَالَ : أَتَبِیعُہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : بِکَمْ احْکُمْ مَا شِئْتَ ۔ قَالَ : أَلْفُ دِرْہَمٍ ۔ قَالَ : قَدْ أَخَذْتُہَا۔

قَالُوا لَہُ : لَوْ قُلْتَ ثَلاَثِینَ أَلْفًا لأَخَذَہَا۔ قَالَ : وَہَلْ عَدَدٌ أَکْثَرُ مِنْ أَلْفٍ ؟

تَفَرَّدَ بِہِ ابْنُ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ ہَکَذَا وَقَالَ غَیْرُہُ عَنْہُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَالْمَشْہُورُ ہَذَا الْحَدِیثُ عَنْ خُرَیْمِ بْنِ أَوْسٍ وَہُوَ الَّذِی جَعَلَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ہَذِہِ الْمَرْأَۃَ وَقَدْ رُوِّینَاہُ فِی کِتَابِ دَلاَئِلِ النُّبُوَّۃِ فِی آخِرِ غَزْوَۃِ تَبُوکَ ۔ [موضوع ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواد والوں پر کتنی مقدار میں جزیہ (خراج) مقرر کیا گیا
(١٨٣٨٢) لاحق بن حمید فرماتے ہیں : جب حضرت عمر (رض) نے عمار بن یاسر، عبداللہ بن مسعود اور عثمان بن حنیف کو کوفہ روانہ کیا تو عمار بن یاسر کی ڈیوٹی نماز اور لشکروں پر تھی۔ ابن مسعود کو قاضی اور بیت المال کا عہدہ سونپا گیا اور عثمان بن حنیف کو زمین کے متعلقہ ذمہ داری دی گئی۔ ان کے لیے ایک دن میں ایک بکری دی گئی۔ نصف عمار بن یاسر کو باقی نصف دونوں ساتھیوں کو دی گئی۔ پھر فرمایا : میں نے تمہیں اس مال پر مقرر کیا ہے جیسے یتیم کے مال کا انسان والی ہوتا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : { وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰٓی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْٓا اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ وَ لَا تَاْکُلُوْھَآ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّکْبَرُوْا وَ مَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ وَ مَنْ کَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفِ } [النساء ٦] ” اور یتیموں کی آزمائش کرو یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ جائیں اگر تم ان میں بھلائی پاؤ تو ان کے مال ان کے سپرد کر دو اور تم ان کے مال زیادتی اور جلدبازی سے نہ کھاؤ کہ وہ بڑے ہوجائیں اور جو کوئی غنی ہو تو وہ اس سے بچے اور جو کوئی فقیر ہو انصاف کے ساتھ کھائے۔ “

میرا خیال نہیں کہ جس بستی سے ہر روز ایک بکری وصول کی جائے تو یہ اس کی جلد بربادی کے لیے کافی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن حنیف نے انگور کی فصل والوں پر دس درہم اور کھجور کے باغ والوں کے ذمہ آٹھ درہم اور قضب (ایک درخت کا نام) کے کھیت والوں پر چھ درہم اور گندم کی فصل والے کسانوں پر چار درہم اور جو کی فصل پر دو درہم مقرر فرمائے۔ ہر انسان سے سال میں ٢٤ درہم وصول کرتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو چھوڑ رکھا تھا اور مختلف قسم کی تجارت کرنے والوں پر نصف عشر تھا۔ پھر انھوں نے حضرت عمر (رض) کو خط لکھا۔ انھوں نے اجازت دے دی۔ حضرت عمر (رض) سے کہا گیا کہ ہم حربی تاجروں سے کتنا ٹیکس لیں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جب تم ان کے شہروں میں جاتے ہو وہ تم سے کتنا وصول کرتے ہیں ؟ انھوں نے کہا : دسواں حصہ۔ فرمایا : تم بھی ان سے اسی طرح لو۔

(ب) سعید بن ابی عروبہ فرماتے ہیں کہ کھجور کے باغ پر آٹھ درہم اور قضب کے کھیت پر چھ درہم مقرر فرمائے۔
(١٨٣٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ لاَحِقِ بْنِ حُمَیْدٍ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ وَعُثْمَانَ بْنَ حُنَیْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ إِلَی الْکُوفَۃِ بَعَثَ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ عَلَی الصَّلاَۃِ وَعَلَی الْجُیُوشِ وَبَعَثَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَلَی الْقَضَائِ وَعَلَی بَیْتِ الْمَالِ وَبَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَیْفٍ عَلَی مَسَاحَۃِ الأَرْضِ وَجَعَلَ بَیْنَہُمْ کُلَّ یَوْمٍ شَاۃً شَطْرَہَا وَسَوَاقِطَہَا لِعَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ وَالنِّصْفَ بَیْنَ ہَذَیْنِ ثُمَّ قَالَ أَنْزَلْتُکُمْ وَإِیَّایَ مِنْ ہَذَا الْمَالِ کَمَنْزِلَۃِ وَالِی مَالِ الْیَتِیمِ { وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰٓی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْٓا اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ وَ لَا تَاْکُلُوْھَآ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّکْبَرُوْا وَ مَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ وَ مَنْ کَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفِ } [النساء ٦] وَمَا أَرَی قَرْیَۃً یُؤْخَذُ مِنْہَا کُلَّ یَوْمٍ شَاۃً إِلاَّ کَانَ ذَلِکَ سَرِیعًا فِی خَرَابِہَا قَالَ فَوَضَعَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَیْفٍ عَلَی جَرِیبِ الْکَرْمِ عَشْرَۃَ دَرَاہِمَ وَعَلَی جَرِیبِ النَّخْلِ أَظُنُّہُ قَالَ ثَمَانِیَۃً وَعَلَی جَرِیبِ الْقَضْبِ سِتَّۃَ دَرَاہِمَ وَعَلَی جَرِیبِ الْبُرِّ أَرْبَعَۃَ دَرَاہِمَ وَعَلَی جَرِیبِ الشَّعِیرِ دِرْہَمَیْنَ وَعَلَی رُئُ وسِہِمْ عَنْ کُلِّ رَجُلٍ أَرْبَعَۃً وَعِشْرِینَ کُلَّ سَنَۃٍ وَعَطَّلَ مِنْ ذَلِکَ النِّسَائَ وَالصِّبْیَانَ وَفِیمَا یُخْتَلَفُ بِہِ مِنْ تِجَارَاتِہِمْ نِصْفَ الْعُشُرِ قَالَ ثُمَّ کَتَبَ بِذَلِکَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَجَازَ ذَلِکَ وَرَضِیَ بِہِ وَقِیلَ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَیْفَ نَأْخُذُ مِنْ تُجَّارِ الْحَرْبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَیْنَا۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَیْفَ یَأْخُذُونَ مِنْکُمْ إِذَا أَتَیْتُمْ بِلاَدَہُمْ ؟ قَالُوا : الْعُشْرَ ۔ قَالَ : فَکَذَلِکَ خُذُوا مِنْہُمْ ۔

وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَقَالَ : وَعَلَی جَرِیبِ النَّخْلِ ثَمَانِیَۃً وَعَلَی جَرِیبِ الْقَصْبِ سِتَّۃً لَمْ یَشُکَّ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواد والوں پر کتنی مقدار میں جزیہ (خراج) مقرر کیا گیا
(١٨٣٨٣) حکم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے عثمان بن حنیف کو سواد نامی جگہ بھیجا تو انھوں نے ہر آباد اور ویران کھیت پر جہاں تک پانی پہنچتا ہو، ایک قفیز (پیمانہ) اور درہم مقرر کیا۔ وکیع کہتے ہیں : یعنی گندم اور جو کا اور ہر انگور والے کھیت پر دس درہم اور تر کھجوروں پر پانچ درہم مقرر فرمائے۔
(١٨٣٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْحَکَمِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَیْفٍ فَمَسَحَ السَّوَادَ فَوَضَعَ عَلَی کُلِّ جَرِیبٍ عَامِرٍ أَوْ غَامَرٍ حَیْثُ یَنَالُہُ الْمَائُ قَفِیزًا وَدِرْہَمًا قَالَ وَکِیعٌ یَعْنِی الْحِنْطَۃَ وَالشَّعِیرَ وَوَضَعَ عَلَی کُلِّ جَرِیبِ الْکَرْمِ عَشْرَۃَ دَرَاہِمَ وَعَلَی جَرِیبِ الرِّطَابِ خَمْسَۃَ دَرَاہِمَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواد والوں پر کتنی مقدار میں جزیہ (خراج) مقرر کیا گیا
(١٨٣٨٤) ابان بن تغلب ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں جو حضرت عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ردی کھجوروں اور فارسی کھجوروں پر ایک درہم مقرر کیا۔
(١٨٣٨٤) قَالَ وَحَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ وَضَعَ عَلَی النَّخْلِ عَلَی الدَّقَلَتَیْنِ دِرْہَمًا وَعَلَی الْفَارِسِیَّۃِ دِرْہَمًا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواد والوں پر کتنی مقدار میں جزیہ (خراج) مقرر کیا گیا
(١٨٣٨٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عراقیوں نے درہم اور قفیز (پیمانہ) کو روک لیا اور شامیوں نے مد اور دینار کو روک لیا۔ مصر نے اردب (چوبیس صاع کا پیمانہ) اور دینار کو روک لیا اور تم اس کو شمار کرو جب سے تم نے ابتدا کی تھی، تین مرتبہ فرمایا۔ ابوہریرہ (رض) کا خون اور گوشت اس بات پر گواہ ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں : اس حدیث سے ان کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ نے قفیز اور درہم کا ذکر کیا۔ اس سے پہلے کہ حضرت عمر (رض) اسے زمین والوں پر مقرر کرتے۔
(١٨٣٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنَعَتِ الْعِرَاقُ دِرْہَمَہَا وَقَفِیزَہَا وَمَنَعَتِ الشَّامُ مُدْیَہَا وَدِینَارَہَا وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّہَا وَدِینَارَہَا وَعُدْتُمْ مِنْ حَیْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَیْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَیْثُ بَدَأْتُمْ ۔ شَہِدَ عَلَی ذَلِکَ لَحْمُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَدَمُہُ قَالَ یَحْیَی یُرِیدُ مِنْ ہَذَا الْحَدِیثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ذَکَرَ الْقَفِیزَ وَالدِّرْہَمَ قَبْلَ أَنْ یَضَعَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الأَرْضِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ یَعِیشَ وَإِسْحَاقَ بْنِ رَاہَوَیْہِ عَنْ یَحْیَی بْنِ آدَمَ ۔

[صحیح۔ مسلم ٢٨٩٦]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا خیال ہے کہ غنیمت والی زمین کو تقسیم کیا جائے اور جس کا یہ خیال نہیں ہے
(١٨٣٨٦) سالم بن مطیع نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو مال غنیمت میں سونا چاندی حاصل نہ ہوا بلکہ اونٹ، گائے، سامان اور باغ ملے۔ پھر ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سناتھ وادی قریٰ میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غلام تھا جس کو مدعم کہا جاتا تھا، یہ بنو ضباب کے ایک شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہبہ کیا تھا۔ ایک مرتبہ مدعم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ اچانک اس کو نامعلوم جانب سے آنے ولا تیر لگا جس سے وہ مرگیا۔ لوگوں نے کہا : مبارک ہو یہ شخص جنتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بیشک وہ چادر جس کو اس نے جنگ خیبر کے مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اٹھایا تھا وہ اس پر آگ بن کر لپٹی ہوئی ہے۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک یا دو تسمے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا۔ اس نے کہا : یہ مجھے ملے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں۔
(١٨٣٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْفَزَارِیِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِی ثَوْرٌ قَالَ حَدَّثَنِی سَالِمٌ مَوْلَی ابْنِ مُطِیعٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : افْتَتَحْنَا خَیْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَہَبًا وَلاَ فِضَّۃَ إِنَّمَا غَنَمِنَا الإِبِلَ وَالْبَقَرَ وَالْمَتَاعَ وَالْحَوَائِطَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی وَادِی الْقُرَی وَمَعَہُ عَبْدٌ لَہُ یُقَالُ لَہُ مِدْعَمٌ وَہَبَہُ لَہُ أَحَدُ بَنِی الضِّبَابِ فَبَیْنَمَا ہُوَ یَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ جَائَ ہُ سَہْمٌ عَائِرٌ حَتَّی أَصَابَ ذَلِکَ الْعَبْدَ فَقَالَ النَّاسُ ہَنِیئًا لَہُ الشَّہَادَۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : بَلْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ الشَّمْلَۃَ الَّتِی أَصَابَہَا یَوْمَ خَیْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْہَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَیْہِ نَارًا ۔ فَجَائَ رَجْلٌ حِینَ سَمِعَ ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِشِرَاکٍ أَوْ بِشِرَاکَیْنِ فَقَالَ ہَذَا شَیْئٌ کُنْتُ أَصَبْتُہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : شِرَاکٌ أَوْ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا خیال ہے کہ غنیمت والی زمین کو تقسیم کیا جائے اور جس کا یہ خیال نہیں ہے
(١٨٣٨٧) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر والوں سے جنگ کرتے ہوئے انھیں قلعہ میں پناہ لینے پر مجبور کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی زمین، زراعت اور کھجوروں کے باغات پر قبضہ کرلیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے اس بات پر صلح کی کہ جو ان کی سواریاں لے جاسکیں وہ ان کا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سونا چاندی ہے۔ وہ وہاں سے چلے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرط رکھی کہ وہ کسی چیز کو نہیں چھپائیں گے۔ اگر انھوں نے کسی چیز کو چھپایا تو ان کا ذمہ اور کوئی عہد نہیں ہے۔ پھر بھی انھوں نے مال سے بھری ہوئی ایک کھال چھپا دی اور حیی بن اخطب کے زیورات جو وہ خیبر لے کر آیا تھا بنو نضیر کی جلا وطنی کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیی کے چچا سے کہا کہ حیی کی مال سے بھری ہوئی وہ مشک کہاں ہے جو بنو نضیر سے لے کر آیا تھا ؟ اس نے کہا : جنگوں اور اخراجات نے اس کو ختم کردیا۔ فرمایا کہ احد قریب ہے اور مال اس سے بھی زیادہ ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو زبیر کے حوالے کردیا، جس نے اسے سزا دی اور حیی اس سے پہلے ایک ویرانے میں داخل ہوا : کہتے ہیں : میں نے حیی کو دیکھا کہ وہ اس ویرانے میں گھوم رہا تھا وہاں گئے تو انھوں نے ویرانے میں مال کو پایا۔ رسول اللہ نے حقیق کے دونوں بیٹوں کو قتل کردیا۔ ان میں سے ایک صفیہ بنت حیی بن اخطب کا خاوند تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا اور ان کے مالوں کو وعدہ کی خلاف ورزی کی بنا پر تقسیم کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جلا وطن کرنے کا ارادہ فرمایا۔ انھوں نے کہا : اے محمد ! ہمیں اس زمین پر برقرار رکھیے، ہم کھیتی باڑی کریں اور اس کا خیال رکھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کے پاس غلام بھی نہ تھے جو اس کا خیال رکھتے اور نہ خود ہی فارغ تھے کہ وہاں ٹھہر سکتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں خیبر کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ کھیتی باڑی اور کھجوروں کا اندازہ کرتے۔ پھر نصف ان سے وصول کرتے۔ انھوں نے اندازہ کی سختی کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکایت کی اور عبداللہ بن رواحہ کو رشوت دینے کا ارادہ کیا تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے دشمنو ! تم مجھے حرام کھلاتے ہو، اللہ کی قسم ! میں تمہارے پاس لوگوں میں سے اپنی جانب سب سے زیادہ محبوب شخص کے پاس سے آیا ہوں لیکن تمہاری عادت مجھے بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ بری لگتی ہے۔ تمہارا بغض اور ان کی محبت مجھے اس بات پر نہ ابھارے کہ میں عدل نہ کرسکوں۔ انھوں نے کہا : اسی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کی آنکھ میں سبز نشان دیکھا تو پوچھا : اے صفیہ یہ کیا ہے ؟ کہتی ہیں کہ میں حقیق کے بیٹے کی گود میں سر رکھ کر سوئی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ چاند میری گود میں گرپڑا ہے۔ میں نے اس کو بتایا تو اس نے مجھے تھپڑ دے مارا اور کہا : تو یثرب کے بادشاہ کی تمنا کرتی ہے۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوص تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے باپ اور خاوند کو قتل کیا تھا وہ مجھ سے معذرت کرتا رہا اور اس نے کہا کہ تیرا باپ میرے نزدیک عرب کا عقل مند آدمی ہے۔ اس نے یہ کیا۔ یہاں تک کہ میرے دل سے وہ بات ختم ہوگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ہر عورت کو ہر سال اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو دیا کرتے تھے۔ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کا دور آیا اور پریشانیوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا تو انھوں نے ابن عمر (رض) کو چھت پر چڑھایا اور اس کے ہاتھوں کے جوڑ نکال دیے پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جس کا خیبر میں حصہ ہو وہ آئے کہ ہم ان کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردی۔ ان کے سردار نے کہا : آپ ہمیں جلا وطن نہ کریں۔ بلکہ جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) نے ہمیں برقرار رکھا ویسے ہی رہنے دیں۔ حضرت عمر (رض) نے ان کے سردار سے یہ بات کہی : کیا تیرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات بھول گیا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ تیری کیا حالت ہوگی جب تیری سواری تجھے تین دن تک شام کی جانب لے کر جائے گی پھر حضرت عمر (رض) نے حدیبیہ والوں میں جو غزوہ خیبر میں موجود تھے ان کے حصے تقسیم کردیے۔
(١٨٣٨٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ فِیمَا یَحْسِبُ أَبُو سَلَمَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَاتَلَ أَہْلَ خَیْبَرَ حَتَّی أَلْجَأَہُمْ إِلَی قَصْرِہِمْ فَغَلَبَ عَلَی الأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ فَصَالَحُوہُ عَلَی أَنْ یُجْلَوْا مِنْہَا وَلَہُمْ مَا حَمَلَتْ رِکَابُہُمْ وَلِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الصَّفْرَائُ وَالْبَیْضَائُ وَیَخْرُجُونَ مِنْہَا وَاشْتَرَطَ عَلَیْہِمْ أَنْ لاَ یَکْتُمُوا وَلاَ یُغَیِّبُوا شَیْئًا فَإِنْ فَعَلُوا فَلاَ ذِمَّۃَ لَہُمْ وَلاَ عَہْدَ فَغَیَّبُوا مَسْکًا فِیہِ مَالٌ وَحُلِیٌّ لِحُیَیِّ بْنِ أَخْطَبَ کَانَ احْتَمَلَہُ مَعَہُ إِلَی خَیْبَرَ حِینَ أُجْلِیَتِ النَّضِیرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعَمِّ حُیَیٍّ مَا فَعَلَ مَسْکُ حُیَیٍّ الَّذِی جَائَ بِہِ مِنَ النَّضِیرِ فَقَالَ أَذْہَبَتْہُ النَّفَقَاتُ وَالْحُرُوبُ فَقَالَ الْعَہْدُ قَرِیبٌ وَالْمَالُ أَکْثَرُ مِنْ ذَلِکَ فَدَفَعَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی الزُّبَیْرِ فَمَسَّہُ بِعَذَابٍ وَقَدْ کَانَ حُیَیٌّ قَبْلَ ذَلِکَ دَخَلَ خَرِبَۃً فَقَالَ قَدْ رَأَیْتُ حُیَیًّا یَطُوفُ فِی خَرِبَۃٍ ہَا ہُنَا فَذَہَبُوا فَطَافُوا فَوَجَدُوا الْمَسْکَ فِی الْخَرِبَۃِ فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ابْنِی حُقَیْقٍ وَأَحَدُہُمَا زَوْجُ صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَیِّ بْنِ أَخْطَبَ وَسَبَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نِسَائَ ہُمْ وَذَرَارِیَّہُمْ وَقَسَمَ أَمْوَالَہُمْ بِالنَّکْثِ الَّذِی نَکَثُوا وَأَرَادَ أَنْ یُجْلِیَہُمْ مِنْہَا فَقَالُوا یَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَکُونُ فِی ہَذِہِ الأَرْضِ نُصْلِحُہَا وَنَقُومُ عَلَیْہَا وَلَمْ یَکُنْ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلاَ لأَصْحَابِہِ غِلْمَانٌ یَقُومُونَ عَلَیْہَا وَکَانُوا لاَ یَفْرُغُونَ أَنْ یَقُومُوا عَلَیْہَا فَأَعْطَاہُمْ خَیْبَرَ عَلَی أَنَّ لَہُمُ الشَّطْرَ مِنْ کُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَیْئٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوَاحَۃَ یَأْتِیہِمْ کُلَّ عَامٍ فَیَخْرُصُہَا عَلَیْہِمْ ثُمَّ یُضَمِّنُہُمُ الشَّطْرَ فَشَکَوْا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - شِدَّۃَ خَرْصِہِ وَأَرَادُوا أَنْ یَرْشُوہُ فَقَالَ یَا أَعْدَائَ اللَّہِ تُطْعِمُونِی السُّحْتَ وَاللَّہِ لَقَدْ جِئْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ وَلأَنْتُمْ أَبْغَضُ إِلَیَّ مِنْ عِدَّتِکُمْ مِنَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیرِ وَلاَ یَحْمِلُنِی بُغْضِی إِیَّاکُمْ وَحُبِّی إِیَّاہُ عَلَی أَنْ لاَ أَعْدِلَ بَیْنَکُمْ فَقَالُوا بِہَذَا قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ قَالَ وَرَأَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِعَیْنِ صَفِیَّۃَ خُضْرَۃً فَقَالَ : یَا صَفِیَّۃُ مَا ہَذِہِ الْخُضْرَۃُ ؟ ۔ فَقَالَتْ : کَانَ رَأْسِی فِی حَجْرِ ابْنِ حُقَیْقٍ وَأَنَا نَائِمَۃٌ فَرَأَیْتُ کَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِی حَجْرِی فَأَخْبَرْتُہُ بِذَلِکَ فَلَطَمَنِی وَقَالَ تَمَنِّینَ مَلِکَ یَثْرِبَ قَالَتْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلَیَّ قَتَلَ زَوْجِی وَأَبِی فَمَا زَالَ یَعْتَذِرُ إِلَیَّ وَیَقُولُ إِنَّ أَبَاکِ أَلَّبَ عَلَیَّ الْعَرَبَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ حَتَّی ذَہَبَ ذَلِکَ مِنْ نَفْسِی وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُعْطِی کُلَّ امْرَأَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ ثَمَانِینَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ کُلَّ عَامٍ وَعِشْرِینَ وَسْقًا مِنْ شَعِیرٍ فَلَمَّا کَانَ زَمَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَشُوا الْمُسْلِمِینَ وَأَلْقَوُا ابْنَ عُمَرَ مِنْ فَوْقِ بَیْتِ فَفَدَعُوا یَدَیْہِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَنْ کَانَ لَہُ سَہْمٌ مِنْ خَیْبَرَ فَلْیَحْضُرْ حَتَّی نَقْسِمَہَا بَیْنَہُمْ فَقَسَمَہَا بَیْنَہُمْ فَقَالَ رَئِیسُہُمْ لاَ تُخْرِجْنَا دَعْنَا نَکُونُ فِیہَا کَمَا أَقَرَّنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِرَئِیسِہِمْ أَتُرَاہُ سَقَطَ عَنِّی قَوْلُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَیْفَ بِکَ إِذَا رَقَصَتْ بِکَ رَاحِلَتُکَ نَحْوَ الشَّامِ یَوْمًا ثُمَّ یَوْمًا ثُمَّ یَوْمًا وَقَسَمَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَیْنَ مَنْ کَانَ شَہِدَ خَیْبَرَ مِنْ أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا خیال ہے کہ غنیمت والی زمین کو تقسیم کیا جائے اور جس کا یہ خیال نہیں ہے
(١٨٣٨٨) بشیر بن یسار نے صحابہ کے ایک گروہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب خیبر کو فتح کیا اور مال غنیمت کو ٣٦ حصوں میں تقسیم کردیا اور تمام حصے سو میں تقسیم کیے۔ نصف حصے مسلمانوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تھے اور نصف حصے ان کے لیے الگ کرلیے جن کو مختلف امور سر انجام دینے پر مقرر کیا ہوا تھا۔

شیخ فرماتے ہیں : خیبر کا بعض حصہ لڑائی کی وجہ سے حاصل ہوا اور کچھ حصہ صلح کے ساتھ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقسیم کیا وہ تھا جو لڑائی کے ذریعے حاصل کیا گیا اور جو مصیبت زدہ لوگوں کے لیے چھوڑا وہ تھا جو بغیر لڑائی کے حاصل ہوا۔
(١٨٣٨٨) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالُوا : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ ظَہَرَ عَلَی خَیْبَرَ فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی سِتَّۃٍ وَثَلاَثِینَ سَہْمًا جَمَعَ کُلُّ سَہْمٍ مِائَۃَ سَہْمٍ فَکَانَ النِّصْفُ سِہَامًا لِلْمُسْلِمِینَ وَسَہْمَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَعَزَلَ النِّصْفَ لِلْمُسْلِمِینَ لِمَا یَنُوبُہُ مِنَ الأُمُورِ وَالنَّوَائِبِ ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذَا لأَنَّہُ افْتَتَحَ بَعْضَ خَیْبَرَ عَنْوَۃً وَبَعْضَہَا صُلْحًا فَمَا قَسَمَ بَیْنَہُمْ ہُوَ مَا افْتَتَحَہُ عَنْوَۃً وَمَا تَرَکَہُ لِنَوَائِبِہِ ہُوَ مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ لَمْ یُوجَفْ عَلَیْہِ بِخَیْلٍ وَلاَ رِکَابٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا خیال ہے کہ غنیمت والی زمین کو تقسیم کیا جائے اور جس کا یہ خیال نہیں ہے
(١٨٣٨٩) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کا بعض حصہ لڑائی کے ذریعے فتح کیا۔
(١٨٣٨٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - افْتَتَحَ بَعْضَ خَیْبَرَ عَنْوَۃً ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا خیال ہے کہ غنیمت والی زمین کو تقسیم کیا جائے اور جس کا یہ خیال نہیں ہے
(١٨٣٩٠) زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر دوسرے مسلمان نہ ہوئے تو ہر فتح ہونے والی بستی کو ہم تقسیم کردیتے۔ جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو تقسیم کیا۔
(١٨٣٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَوْلاَ آخِرُ الْمُسْلِمِینَ مَا افْتُتِحَتْ قَرْیَۃٌ إِلاَّ قَسَمْنَاہَا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْبَرَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ صَدَقَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٣٣٤-٣١٢٥]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا خیال ہے کہ غنیمت والی زمین کو تقسیم کیا جائے اور جس کا یہ خیال نہیں ہے
(١٨٣٩١) زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے سنا، وہ فرماتے تھے : اگر میں لوگوں کو اس حالت میں نہ چھوڑوں کہ ان کے لیے کوئی چیز نہ ہو جو بستی بھی فتح ہو تو میں اسے تقسیم کر دوں۔ جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔

شیخ فرماتے ہیں : یہی ہمارا مؤقف ہے۔ ان کے دلوں کی چاہت تھی لیکن پھر بھی انھوں نے مسلمانوں کے فائدہ کے لیے وقف کردیا۔
(١٨٣٩١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : لَوْلاَ أَنِّی أَتْرُکَ النَّاسَ بَبَّانًا لاَ شَیْئَ لَہُمْ مَا فُتِحَتْ قَرْیَۃٌ إِلاَّ قَسَمْتُہَا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْبَرَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذَا عِنْدَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ عَلَی أَنَّہُ کَانَ یَسْتَطِیبُ قُلُوبَہُمْ ثُمَّ یَقِفُہَا لِلْمُسْلِمِینَ نَظَرًا لَہُمْ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا خیال ہے کہ غنیمت والی زمین کو تقسیم کیا جائے اور جس کا یہ خیال نہیں ہے
(١٨٣٩٢) جریر بن حازم کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کو شام کی فتح نصیب ہوئی۔ جن میں بلال بھی تھے، میرا گمان ہے کہ انھوں نے معاذ بن جبل کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خط لکھا کہ مال فیٔ میں سے پانچواں حصہ آپ کا اور باقی ہمارا ہے، کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔ جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے موقع پر کیا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے جواب دیا : تمہاری بات درست نہیں بلکہ میں اس کو مسلمانوں کے لیے وقف کرتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے تقسیم کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ وہ اس کی امید کیے بیٹھے تھے اور انھوں نے بھی واپس کرنے سے انکار کردیا۔ کیونکہ یہ ان کا حق تھا۔ جب انھوں نے انکار کردیا تو ان پر ان کے ہاتھوں خراج لینے کا حکم باقی رہے گا اور اس زمین کو وقف سمجھا جائے گا۔ لیکن حضرت عمر (رض) نے ان کے خلاف بددعا کی، جب انھوں نے حضرت عمر (رض) سے مصلحت کی مخالفت کی۔ اگر وہ ان کی موافقت کرتے تو غیر معروف لوگ اور ان کے پیروکار اس کی موافقت کرتے۔

(ب) فتح مصر کے بارے میں زبیر بن عوام (رض) کی یہ رائے تھی کہ اس کو تقسیم کردیا جائے، جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔
(١٨٣٩٢) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ یَقُولُ : أَصَابَ النَّاسُ فَتْحًا بِالشَّامِ فِیہِمْ بِلاَلٌ وَأَظُنُّہُ ذَکَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَکَتَبُوا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ ہَذَا الْفَیْئَ الَّذِی أَصَبْنَا لَکَ خُمُسُہُ وَلَنَا مَا بَقِیَ لَیْسَ لأَحَدٍ مِنْہُ شَیْئٌ کَمَا صَنَعَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِخَیْبَرَ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّہُ لَیْسَ عَلَی مَا قُلْتُمْ وَلَکِنِّی أَقِفُہَا لِلْمُسْلِمِینَ فَرَاجَعُوہُ الْکِتَابَ وَرَاجَعَہُمْ یَأْبَوْنَ وَیَأْبَی فَلَمَّا أَبَوْا قَامَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَا عَلَیْہِمْ فَقَالَ اللَّہُمَّ اکْفِنِی بِلاَلاً وَأَصْحَابَ بِلاَلٍ قَالَ فَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَیْہِمْ حَتَّی مَاتُوا جَمِیعًا۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ قَوْلُہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّہُ لَیْسَ عَلَی مَا قُلْتُمْ لَیْسَ یُرِیدُ بِہِ إِنْکَارَ مَا احْتَجُّوا بِہِ مِنْ قِسْمَۃِ خَیْبَرَ فَقَدْ رُوِّینَاہُ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَیُشْبِہُ أَنْ یُرِیدَ بِہِ لَیْسَتِ الْمَصْلَحَۃُ فِیمَا قُلْتُمْ وَإِنَّمَا الْمَصْلَحَۃُ فِی أَنْ أَقِفَہَا لِلْمُسْلِمِینَ وَجَعَلَ یَأْبَی قِسْمَتَہَا لِمَا کَانَ یَرْجُو مِنْ تَطْیِیبِہِمْ ذَلِکَ لَہُ وَجَعَلُوا یَأْبَوْنَ لِمَا کَانَ لَہُمْ مِنَ الْحَقِّ فَلَمَّا أَبَوْا لَمْ یُبْرِمْ عَلَیْہِمُ الْحُکْمَ بِإِخْرَاجِہَا مِنْ أَیْدِیہِمْ وَوَقْفِہَا وَلَکِنْ دَعَا عَلَیْہِمْ حَیْثُ خَالَفُوہُ فِیمَا رَأَی مِنَ الْمَصْلَحَۃِ وَہُمْ لَوْ وَافَقُوہُ وَافَقَہُ أَفْنَائُ النَّاسِ وَأَتْبَاعُہُمْ

وَالْحَدِیثُ مُرْسَلٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ

وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الْقَسْمِ فِی فَتْحِ مِصْرَ أَنَّہُ رَأَی ذَلِکَ وَرَأَی الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قِسْمَتَہَا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْبَرَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا خیال ہے کہ غنیمت والی زمین کو تقسیم کیا جائے اور جس کا یہ خیال نہیں ہے
(١٨٣٩٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بستی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح کریں تو یہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے اور جس بستی کو جنگ کے ذریعے فتح کریں۔ اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کا اور باقی حصہ لڑائی کرنے والوں کا ہے۔
(١٨٣٩٣) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ حَدَّثَنَا الْمُرَجَّا بْنُ رَجَائٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : أَیُّمَا قَرْیَۃٍ افْتَتَحَہَا اللَّہُ وَرَسُولُہُ فَہِیَ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ وَأَیُّمَا قَرْیَۃٍ افْتَتَحَہَا الْمُسْلِمُونَ عَنْوَۃً فَخُمُسُہَا لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ وَبَقِیَّتُہَا لِمَنْ قَاتَلَ عَلَیْہَا ۔ قَالَ أَبُو الْفَضْلِ الدُّورِیُّ : أَبُو سَلَمَۃَ ہَذَا ہُوَ عِنْدِی صَاحِبُ الطَّعَامِ أَوْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ۔

قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رُوِّینَاہُ فِی کِتَابِ الْقَسْمِ مِنْ حَدِیثِ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَعْنَاہُ ۔

[ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی زمین جو بذریعہ صلح حاصل ہو اس کی سواریاں وہاں کے لوگوں کی اور ان سے خراج وصول کیا جائے گا مسلمان ان سے کرائے پر وصول کرسکتے ہیں

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ان سے اونٹ، گھر اور غلام کرائے پر وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جو ان کی طرف یا بادشاہ کی طرف
(١٨٣٩٤) ابو عبداللہ حضرت معاذ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس کے ذمہ جزیہ ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بری ہیں جو اس کے ذمہ ہے۔
(١٨٣٩٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَکَّارِ بْنِ بِلاَلٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی بْنِ سُمَیْعٍ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ عَنْ مُعَاذٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : مَنْ عَقَدَ الْجِزْیَۃَ فِی عُنُقِہِ فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی زمین جو بذریعہ صلح حاصل ہو اس کی سواریاں وہاں کے لوگوں کی اور ان سے خراج وصول کیا جائے گا مسلمان ان سے کرائے پر وصول کرسکتے ہیں

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ان سے اونٹ، گھر اور غلام کرائے پر وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جو ان کی طرف یا بادشاہ کی طرف
(١٨٣٩٥) ابو دردائ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے جزیہ والی زمین حاصل کی اس نے اپنی ہجرت ختم کرلی اور جس نے کافر کی گردن سے ذلت کو اتار کر اپنے گلے ڈال لیا، اس نے اسلام سے پیٹھ پھیرلی۔
(١٨٣٩٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنِی عُمَارَۃُ بْنُ أَبِی الشَعْثَائِ حَدَّثَنِی سِنَانُ بْنُ قَیْسٍ حَدَّثَنِی شَبِیبُ بْنُ نُعَیْمٍ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ خُمَیْرٍ حَدَّثَنِی أَبُو الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِجِزْیَتِہَا فَقَدِ اسْتَقَالَ ہِجْرَتَہُ وَمَنْ نَزَعَ صَغَارَ کَافِرٍ مِنْ عُنُقِہِ فَجَعَلَہُ فِی عُنُقِہِ فَقَدْ وَلَّی الإِسْلاَمَ ظَہْرَہُ ۔

قَالَ سِنَانٌ فسَمِعَ مِنِّی خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ہَذَا الْحَدِیثَ فَقَالَ لِی أَشَبِیبٌ حَدَّثَکَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِذَا قَدِمْتُ فَسَلْہُ فَلْیَکْتُبْ إِلَیَّ بِالْحَدِیثِ قَالَ فَکَتَبَ لَہُ فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلَنِی ابْنُ مَعْدَانَ الْقِرْطَاسَ فَأَعْطَیْتُہُ فَلَمَّا قَرَأَہُ تَرَکَ مَا فِی یَدَیْہِ مِنَ الأَرْضِ حِینَ سَمِعَ ذَلِکَ

قَالَ أَبُو دَاوُدَ ہَذَا یَزِیدُ بْنُ خُمَیْرٍ الْیَزَنِیُّ لَیْسَ ہُوَ صَاحِبُ شُعْبَۃَ

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ ہَذَانِ الْحَدِیثَانِ إِسْنَادُہُمَا إِسْنَادٌ شَامِیٌّ وَالْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ لَمْ یَحْتَجَّ بِمِثْلِہِمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی زمین جو بذریعہ صلح حاصل ہو اس کی سواریاں وہاں کے لوگوں کی اور ان سے خراج وصول کیا جائے گا مسلمان ان سے کرائے پر وصول کرسکتے ہیں

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ان سے اونٹ، گھر اور غلام کرائے پر وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جو ان کی طرف یا بادشاہ کی طرف
(١٨٣٩٦) حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے سنا، جب کسی شخص نے ان سے پوچھا۔ فرمایا : میں سواد کا رہنے والا ہوں میں قبول تو کرتا ہوں لیکن زیادتی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ میں اپنے دفاع کا ارادہ کرتا ہوں۔ انھوں نے یہ آیت پڑھی : { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ } [التوبۃ ٢٩] ” تم ان لوگوں سے لڑائی کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ۔۔۔ یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں تو کوئی بھی ان کی ذلت کو اتار کر اپنی گردن پر مت ڈالے۔
(١٨٣٩٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ وَحَجَّاجٌ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیبٍ ہُوَ ابْنُ أَبِی ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّی أَکُونُ بِالسَّوَادِ فَأَتَقَبَّلُ وَلاَ أُرِیدُ أَنْ أَزْدَادَ إِنَّمَا أُرِیدُ أَنْ أَدْفَعَ عَنْ نَفْسِی فَقَرأَ ہَذِہِ الآیَۃَ { قَاتِلُوا الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ } [التوبۃ ٢٩] إِلَی { حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ وَہُمْ صَاغِرُونَ } [التوبۃ ٢٩] لاَ تَنْزِعِ الصَّغَارَ مِنْ أَعْنَاقِہِمْ فَتَجْعَلَہُ فِی عُنُقِکَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی زمین جو بذریعہ صلح حاصل ہو اس کی سواریاں وہاں کے لوگوں کی اور ان سے خراج وصول کیا جائے گا مسلمان ان سے کرائے پر وصول کرسکتے ہیں

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ان سے اونٹ، گھر اور غلام کرائے پر وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جو ان کی طرف یا بادشاہ کی طرف
(١٨٣٩٧) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو ذمی آدمی سے زمین خرید لیتا ہے، کیا اس کے ذمہ جزیہ ہے ؟ فرماتے ہیں غ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے اوپر اس ذلت کو مسلط کرے۔
(١٨٣٩٧) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الإِسْلاَمِ یَأْخُذُ الأَرْضَ مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ بِمَا عَلَیْہَا مِنَ الْخَرَاجِ یَقُولُ : لاَ یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَوْ لاَ یَنْبَغِی لِمُسْلِمٍ أَنْ یَکْتُبَ عَلَی نَفْسِہِ الذُّلَّ وَالصَّغَارَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی زمین جو بذریعہ صلح حاصل ہو اس کی سواریاں وہاں کے لوگوں کی اور ان سے خراج وصول کیا جائے گا مسلمان ان سے کرائے پر وصول کرسکتے ہیں

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ان سے اونٹ، گھر اور غلام کرائے پر وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جو ان کی طرف یا بادشاہ کی طرف
(١٨٣٩٨) میمون بن مہران حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ جزیہ کی تمام زمین مجھے پانچ درہم کے بدلے ملے کہ میں اپنے آپ کو اس ذلت میں برقرار رکھوں۔
(١٨٣٩٨) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانِ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَا یَسُرُّنِی أَنَّ الأَرْضَ کُلَّہَا لِی بِجْزِیَۃِ خَمْسَۃِ دَرَاہِمَ أُقِرَّ فِیہَا بِالصَّغَارِ عَلَی نَفْسِی۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی زمین جو بذریعہ صلح حاصل ہو اس کی سواریاں وہاں کے لوگوں کی اور ان سے خراج وصول کیا جائے گا مسلمان ان سے کرائے پر وصول کرسکتے ہیں

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ان سے اونٹ، گھر اور غلام کرائے پر وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جو ان کی طرف یا بادشاہ کی طرف
(١٨٣٩٩) قاسم حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ جس نے ٹیکس کا اقرار کیا تو اس نے ذلت کا اقرار کیا۔
(١٨٣٩٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ أَقَرَّ بِالطَّسْقِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالصَّغَارِ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے جزیہ والی زمین کو خریدنا ناپسند کیا ہے
(١٨٤٠٠) ابو عیاض حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ تم ذمی شخص سے غلام نہ خریدو، کیونکہ وہ جزیہ دینے والے لوگ ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے ادا کرتے ہیں اور ان کی زمینیں بھی نہ خریدو اور تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں کیوں ڈالتا ہے جب اللہ رب العزت نے اس کو نجات دے دی ہے۔

ابو عبید فرماتے ہیں : جب غلام، زمین اور ظاہری مال ان کے جزیہ سے زیادہ ہوں تو یہ حضرت عمر (رض) کا طریقہ تھا کہ وہ آسانی اور تنگی کی وجہ سے جزیہ کو کم کرلیتے تھے۔ اس وجہ سے ان کے غلاموں کو خریدنا ناپسند کیا گیا اور زمین کا خریدنا وہ جزیہ کی ادائیگی کی طرف لے جائے گا اور جزیہ کا ادا کرنا مسلمانوں پر ہو، یہ ناپسندیدہ بات ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ذلت میں روکے جب کہ اللہ رب العزت نے اس کو نجات دی ہے۔ حضرت عمر (رض) کے بعد کبار صحابہ جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) خباب بن ارت (رض) وغیرہ شامل ہیں انھوں نے اس بارے میں رخصت دی ہے۔
(١٨٤٠٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سُفْیَانَ الْعُقَیْلِیِّ عَنْ أَبِی عِیَاضٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ تَشْتَرُوا رَقِیقَ أَہْلِ الذِّمَّۃِ فَإِنَّہُمْ أَہْلُ خَرَاجِ یُؤَدِّی بَعْضُہُمْ عَنْ بَعْضٍ وَأَرَضِیہِمْ فَلاَ تَبْتَاعُوہَا وَلاَ یُقِرَّنَّ أَحَدُکُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاہُ اللَّہُ مِنْہُ ۔

قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : أَرَادَ فِیمَا نُرَی أَنَّہُ إِذَا کَانَتْ لَہُ مَمَالِیکُ وَأَرْضٌ وَأَمْوَالٌ ظَاہِرَۃٌ کَانَتْ أَکْثَرَ لِجِزْیَتِہِ وَہَکَذَا کَانَتْ سُنَّۃُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِیہِمْ إِنَّمَا کَانَ یَضَعُ الْجِزْیَۃَ عَلَی قَدْرِ الْیَسَارِ وَالْعُسْرِ فَلِہَذَا کَرِہَ أَنْ یُشْتَرَیَ رَقِیقُہُمْ وَأَمَّا شِرَائُ الأَرْضِ فَإِنَّہُ ذَہَبَ فِیہِ إِلَی الْخَرَاجِ کَرِہَ أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ أَلاَ تَرَاہُ یَقُولُ وَلاَ یُقِرَّنَّ أَحَدُکُمْ بِالصَّغَارِ بَعْدَ إِذْ نَجَّاہُ اللَّہُ مِنْہُ ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَقَدْ رَخَّصَ فِی ذَلِکَ بَعْدَ عُمَرَ رِجَالٌ مِنْ أَکَابِرِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْہُمْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ بِرَاذَانَ وَخَبَّابُ بْنُ الأَرَتِ وَغَیْرُہُمَا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক: