আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮৩৬৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٦١) شعبی فرماتے ہیں کہ خالد بن ولید نے حیرہ اور اہل عین التمر سے صلح کی اور حضرت ابوبکر (رض) کو خط لکھا تو انھوں نے اجازت دے دی۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن صالح سے کہا کہ عین التمر والے حیرہ والوں کی مثل ہیں۔ ان کے ذمہ کچھ ہوتا ہے، لیکن ان کی زمین پر کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ فرمایا : ہاں۔
(١٨٣٦١) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : صَالَحَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ أَہْلَ الْحِیرَۃِ وَأَہْلَ عَیْنِ التَّمْرِ قَالَ وَکَتَبَ بِذَلِکَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَجَازَہُ قَالَ یَحْیَی قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ فَأَہَلُ عَیْنِ التَّمْرِ مِثْلُ أَہْلِ الْحِیرَۃِ إِنَّمَا ہُوَ شَیْئٌ عَلَیْہِمْ وَلَیْسَ عَلَی أَرْضِہِمْ شَیْئٌ قَالَ نَعَمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٦٢) اسود بن قیس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہم حیرہ والوں کے پاس پہنچے تو ایک ہزار درہم اور سواری کے عوض ان سے صلح کی۔ کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سے کہا : تم نے اس سواری کا کیا کیا ؟ کہتے ہیں : ہمارا ایک ساتھی تھا جس کے پاس سواری نہ تھی۔ اس طرح میری کتاب میں ہزار درہم تو دوسروں نے کہا : ستر ہزار درہم۔
(١٨٣٦٢) حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : انْتَہَیْنَا إِلَی أَہْلِ الْحِیرَۃِ فَصَالَحْنَاہُمْ عَلَی أَلْفِ دِرْہَمٍ وَرَحْلٍ قَالَ قُلْتُ لأَبِی مَا صَنَعْتُمْ بِذَلِکَ الرَّحْلِ قَالَ صَاحِبٌ لَنَا لَمْ یَکُنْ لَہُ رَحْلٌ کَذَا فِی کِتَابِی أَلْفِ دِرْہَمٍ وَقَالَ غَیْرُہُ سَبْعِینَ أَلْفَ دِرْہَمٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٦٣) اشعث حضرت حکم سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حیرہ کی زمین کو خریدنے کی رخصت دیتے ہیں، کیونکہ ان سے صلح ہے۔
(١٨٣٦٣) حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ کَانُوا یُرَخِّصُونَ أَنْ یَشْتَرُوا مِنْ أَرْضِ الْحِیرَۃِ مِنْ أَجْلِ أَنَّہُمْ صُلْحٌ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٦٤) مجالد بن سعید کہتے ہیں کہ حیرہ والوں سے مال پر صلح ہوئی تھی، جو وہ اپنے درمیان تقسیم کرلیتے تھے۔ لیکن مردوں کے ذمے کچھ نہیں تھا۔
(١٨٣٦٤) حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : أَہْلُ الْحِیرَۃِ إِنَّمَا صُولِحُوا عَلَی مَالٍ یَقْتَسِمُوہُ بَیْنَہُمْ وَلَیْسَ عَلَی رُئُ وسِ الرِّجَالِ شَیْئٌ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٦٥) جابر شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ اہل انبار سے معاہدہ تھا۔
(١٨٣٦٥) حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : لأَہْلِ الأَنْبَارِ عَہْدٌ أَوْ قَالَ عَقْدٌ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٦٦) حضرت جابر عامر سے نقل فرماتے ہیں کہ اہل سواد سے معاہدہ نہ تھا وہ تو صرف حکم پر اترے تھے۔
(١٨٣٦٦) حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ : لَیْسَ لأَہْلِ السَّوَادِ عَہْدٌ إِنَّمَا نَزَلُوا عَلَی حُکْمٍ ۔

[صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٦٧) محمد بن قیس اسدی شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں اہل سواد کے بارے میں پوچھا گیا : کیا ان کے لیے کوئی عہد تھا ؟ کہتے ہیں کہ ان کے لیے نہیں تھا جب رضا مندی سے خراج لیا جانے لگا تو ان کے لیے معاہدہ بن گیا۔
(١٨٣٦٧) قَالَ وَحَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَیْدِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ الأَسَدِیِّ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّہُ سُئِلَ فِی زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَہْلِ السَّوَادِ أَلَہُمْ عَہْدٌ؟ قَالَ : لَمْ یَکُنْ لَہُمْ عَہْدٌ فَلَمَّا رُضِیَ مِنْہُمْ بِالْخَرَاجِ صَارَ لَہُمُ الْعَہْدُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٦٨) حسن بن صالح ابن ابی لیلیٰ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان کی زمینیں واپس کردیں اور خراج پر ان سے صلح کرلی۔
(١٨٣٦٨) حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : قَدْ رَدَّ إِلَیْہِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَرَضِیہِمْ وَصَالَحَہُمْ عَلَی الْخَرَاجِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٦٩) یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے سعد کو عراق کی فتح کے موقع پر خط لکھا : حمد و ثنا کے بعد ! مجھے آپ کا خط ملا جس میں آپ نے تذکرہ کیا ہے کہ لوگ آپ سے مال غنیمت کی تقسیم کا سوال کرتے ہیں اور جو اللہ نے آپ پر لوٹایا ہے جب میرا خط آپ کے پاس آئے تو دیکھنا، جو لوگوں نے آپ کے پاس مال جمع کروایا ہے اس کو موجود مسلمانوں کے اندر تقسیم کردیں۔ زمینیں اور نہریں مال کے لیے چھوڑ دیں، یہ مسلمانوں کے لیے عطیہ ہوں گے۔ اگر آپ نے موجود لوگوں کے اندر ہی تقسیم کردیا تو بعد والوں کے لیے کچھ نہ بچے گا۔
(١٨٣٦٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ قَالَ کَتَبَ عُمَرُ إِلَی سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا حِینَ افْتَتَحَ الْعِرَاقَ : أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِی کِتَابُکَ تَذْکُرُ أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوکَ أَنْ تَقْسِمَ بَیْنَہُمْ مَغَانِمَہُمْ وَمَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ فَإِذَا جَائَ کَ کِتَابِی ہَذَا فَانْظُرْ مَا أَجْلَبَ النَّاسُ عَلَیْکَ إِلَی الْعَسْکَرِ مِنْ کَرَاعٍ أَوْ مَالٍ فَاقْسِمْہُ بَیْنَ مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَاتْرُکِ الأَرَضِینَ وَالأَنْہَارَ لِعُمَّالِہَا فَیَکُونُ ذَلِکَ فِی أُعْطَیَاتِ الْمُسْلِمِینَ فَإِنَّکَ إِنْ قَسَمْتَہَا بَیْنَ مَنْ حَضَرَ لَمْ یَکُنْ لِمَنْ بَعْدَہُمْ شَیْئٌ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٧٠) حضرت عمرو (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے اہل سواد کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا ارادہ کیا اور ان کے بارے میں حکم دیا کہ ان کو شمار کیا جائے۔ انھوں نے ایک مسلم آدمی کو پایا جس کے حصہ میں تین گا وخر آئے تھے۔ صحابہ نے اس کے بارے مشورہ کیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : آپ چھوڑ دیں۔ یہ مسلمانوں کے لیے عطیہ ہے۔ اس نے عثمان بن حنیف کو بھیجا جنہوں نے ان کی قیمت 1 ٤٨ 2 ٤٣ 3 ١٢ مقرر کی۔
(١٨٣٧٠) حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ أَرَادَ أَنْ یَقْسِمْ أَہْلَ السَّوَادِ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَمَرَ بِہِمْ أَنْ یُحْصَوْا فَوَجَدُوا الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ یُصِیبُہُ ثَلاَثَۃٌ مِنَ الْفَلاَّحِینَ یَعْنِی الْعُلُوجَ فَشَاوَرَ أَصْحَابَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی ذَلِکَ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَعْہُمْ یَکُونُونَ مَادَّۃً لِلْمُسْلِمِینَ فَبَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَیْفٍ فَوَضَعَ عَلَیْہِمْ ثَمَانِیَۃً وَأَرْبَعِینَ وَأَرْبَعَۃً وَعِشْرِینَ وَاثْنَیْ عَشَرَ ۔

[ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٧١) عبدالمطلب بن ابی حرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے سواد کی دس اقسام اپنے لیے خاص کرلیں : 1 لڑائی میں قتل ہونے والے کی زمین 2 جو کفارہ کی جانب مسلمان بھاگ جائے 3 کسریٰ کی تمام زمین 4 تمام وہ زمین جو اس کے رہنے والوں کی تھی 5 ۔ کم پانی والی زمین 6 محکمہ ڈاک۔ کہتے ہیں : چار اشیاء میں بھول گیا۔ ان کا کل خراج سات لاکھ بنتا تھا۔ جب لڑائی ہوئی تو لوگوں نے رجسٹر جلا ڈالے اور جو کسی کے ہاتھ آئی قبضہ کرلیا۔
(١٨٣٧١) حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْقِلٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی حَرَّۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَصْفَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ ہَذَا السَّوَادِ عَشْرَۃَ أَصْنَافٍ أَصْفَی أَرْضَ مَنْ قُتِلَ فِی الْحَرْبِ وَمَنْ ہَرَبَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَعْنِی إِلَیْہِمْ وَکُلَّ أَرْضٍ لِکِسْرَی وَکُلَّ أَرْضٍ کَانَتْ لأَحَدٍ مِنْ أَہْلِہِ وَکُلَّ مَغِیضِ مَائٍ وَکُلَّ دَیْرِ بَرِیدٍ قَالَ وَنَسِیتُ أَرْبَعًا قَالَ وَکَانَ خَرَاجُ مَنْ أَصْفَی سَبْعَۃَ آلاَفِ أَلْفٍ فَلَمَّا کَانَتِ الْجَمَاجِمُ أَحْرَقَ النَّاسُ الدِّیوَانَ وَأَخَذَ کُلُّ قَوْمٍ مَا یَلِیہِمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٧٢) بنو اسد کے ایک فرد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ نے کسریٰ اور آل کسریٰ کی زمین اپنے لیے خاص کرلی اور جو کسریٰ تھا اس کی زمین اپنے لیے خاص کی اور لڑائی میں قتل ہونے والے کی زمین اور جو مسلمانوں میں سے کفار کی جانب بھاگ گیا اور جنگل والی زمین اور کم پانی والی زمین بھی اپنے لیے خاص کی۔
(١٨٣٧٢) حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی أَسَدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَصْفَی حُذَیْفَۃُ أَرْضَ کِسْرَی وَأَرْضَ آلِ کِسْرَی وَمَنْ کَانَ کِسْرَی أَصْفَی أَرْضَہُ وَأَرْضَ مَنْ قُتِلَ وَمَنْ ہَرَبَ وَالآجَامَ وَمَغِیضَ الْمَائِ ۔

[ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٧٣) ثفلبہ عمانی کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی (رض) کے پاس رحبہ نامی جگہ پر آئے تو فرمانے لگے : اگر تم آپس میں لڑائی نہ کرو تو میں تمہارے درمیان سواد کو تقسیم کر دوں۔
(١٨٣٧٣) حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ ثَعْلَبَۃَ الْحِمَّانِیِّ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالرَّحْبَۃِ فَقَالَ : لَوْلاَ أَنْ یَضْرِبَ بَعْضُکُمْ وُجُوہَ بَعْضٍ لَقَسَمْتُ السَّوَادَ بَیْنَکُمْ ۔

[ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٧٤) عمیرہ حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سواد کو تقسیم کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ تم کسی بستی میں جاؤ اور کہو : یہ میری بستی ہے۔ تم مجھ سے دور رہو یا کہہ دے : تم مجھے چھوڑ دو یا کہے کہ میں ضرور اس کو تقسیم کروں گا۔
(١٨٣٧٤) حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی الْمِقْدَامِ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ یَزِیدَ الْحِمَّانِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَحْوَہُ ۔ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ قُرَّانَ الأَسَدِیِّ عَنْ أَبِی سِنَانٍ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ عَمِیرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ أَقْسِمَ السَّوَادَ یَنْزِلُ أَحَدُکُمُ الْقَرْیَۃَ فَیَقُولُ قَرْیَتِی لَتَکْفُونِّی أَوْ قَالَ لَتَدَعُونِّی أَوْ لأَقْسِمَنَّہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٧٥) خالی
(١٨٣٧٥) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَیَقُولُونَ إِنَّ جَرِیرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ الْبَجَلِیَّ وَہَذَا أَثْبَتُ حَدِیثٍ عِنْدَہُمْ فِیہِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٧٦) قیس بن ابی حازم حضرت جریر بن عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بجیلہ لوگوں کا چوتھائی حصہ تھا۔ ان کے لیے سواد کا چوتھائی حصہ تقسیم کردیا گیا۔ انھوں نے تین یا چار سال تک غلہ حاصل کیا۔ میں نے شکایت کی۔ پھر میں حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور میرے ساتھ انھیں میں سے ایک عورت تھی۔ اس کا نام ذکر کرنا یاد نہیں رہا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر مجھے پوچھے جانے کا خوف نہ ہو تو تمہاری تقسیم پر ہی چھوڑ دوں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ تم لوگوں پر واپس کر دو گے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے : اس نے مجھے میرے حق کا بدلہ دیا ہے جو اسی دینار سے بھی زیادہ ہے اور دوسری حدیث میں ہے کہ اس عورت نے کہا کہ میرا باپ جنگِ قادسیہ میں موجود تھا۔ اس کا حصہ مقرر تھا۔ میں اس کو نہ چھوڑوں گی۔ مجھے اتنا اتنا دیا جائے۔ انھوں نے ادا کردیا۔

(ب) ہشیم اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے عورت کا قصہ ذکر کیا جو ام کرز تھی، کہنے لگی : اب مجھے اونٹنی پر سوار کریں جس پر سرخ رنگ کی چادر ہو اور میرے دونوں ہاتھوں کو سونے سے بھر دو ۔ پھر انھوں نے دیے اور دینار تقریبا اسی تھے۔
(١٨٣٧٦) أَخْبَرَنَاہُ الثِّقَۃُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : کَانَتْ بَجِیلَۃُ رُبُعَ النَّاسِ فَقَسَمَ لَہُمْ رُبُعَ السَّوَادِ فَاسْتَغَلُّوہُ ثَلاَثًا أَوْ أَرْبَعَ سِنِینَ أَنَا شَکَکْتُ ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَمَعِی فُلاَنَۃُ بِنْتُ فُلاَنٍ امْرَأَۃٌ مِنْہُمْ قَدْ سَمَّاہَا لاَ یَحْضُرُنِی ذِکْرُ اسْمَہَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَوْلاَ أَنِّی قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَتَرَکْتُکُمْ عَلَی مَا قُسِمَ لَکُمْ وَلَکِنْ أَرَی أَنْ تَرُدُّوا عَلَی النَّاسِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَکَانَ فِی حَدِیثِہِ وَعَاضَنِی مِنْ حَقِّی فِیہِ نَیِّفًا وَثَمَانِینَ دِینَارًا وَکَانَ فِی حَدِیثِہِ فَقَالَتْ فُلاَنَۃُ شَہِدَ أَبِی الْقَادِسِیَّۃَ وَثَبَتَ سَہْمُہُ وَلاَ أُسَلِّمُہُ حَتَّی تُعْطِیَنِی کَذَا وَتُعْطِیَنِی کَذَا فَأَعْطَاہَا إِیَّاہُ ۔

وَرَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ فَذَکَرَ قِصَّۃَ جَرِیرٍ وَرَوَاہُ ہُشَیْمٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ فَذَکَرَہَا وَذَکَرَ قِصَّۃَ الْمَرْأَۃِ وَذَکَرَ أَنَّہَا أُمُّ کُرْزٍ وَذَکَرَ أَنَّہَا قَالَتْ : وَإِنِّی لَسْتُ أُسَلِّمُ حَتَّی تَحْمِلَنِی عَلَی نَاقَۃٍ ذَلُولٍ وَعَلَیْہَا قَطِیفَۃٌ حَمْرَائُ وَتَمْلأَ کَفَّیَّ ذَہَبًا فَفَعَلَ ذَلِکَ وَکَانَتِ الدَّنَانِیرُ نَحْوًا مِنْ ثَمَانِینَ دِینَارًا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٧٧) قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ جب کریز بن عبداللہ، عمار بن یاسر اور کچھ مسلمان حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو حضرت عمر (رض) نے جریر سے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں تقسیم نہ کروں تو پوچھا جاؤں گا۔ پھر تم پہلی تقسیم پر ہی باقی رہتے۔ لیکن میں مسلمانوں پر واپس کرنا چاہتا ہوں اور لوٹا بھی دیا اور سواد کا چوتھائی حصہ بجیلہ کے پاس تھا۔ انھوں نے تین سال جزیہ وصول کیا۔ ان سے واپس لے کر اسی دینار عطا کردیے۔
(١٨٣٧٧) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ : لَمَّا وَفَدَ جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ إِلَی عُمَرَ وَعَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ وَنَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِجَرِیرٍ : یَا جَرِیرُ وَاللَّہِ لَوْ مَا أَنِّی قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَکُنْتُمْ عَلَی مَا قُسِمَ لَکُمْ وَلَکِنِّی أَرَی أَنْ أَرُدَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَرَدَّہُ وَکَانَ جَعَلَ رُبُعَ السَّوَادِ لِبَجِیلَۃَ فَأَخَذُوا الْخَرَاجَ ثَلاَثَ سِنِینَ فَرَدَّہُ وَأَعْطَاہُ ثَمَانِینَ دِینَارًا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٧٨) قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ قادسیہ کے دن ہمارے چوتھائی لوگوں کو حضرت عمر (رض) نے سواد کا چوتھائی حصہ عطا کردیا۔ ہم نے تین سال تک جزیہ وصول کیا۔ اس کے بعد جریر بن عبداللہ کا وفد حضرت عمر (رض) کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا : اگر مجھے تقسیم کے بارے میں پوچھے جانے کا ڈر نہ ہوتا تو تمہیں اسی تقسیم پر باقی رکھتا۔ لیکن میرے خیال میں تم یہ مسلمانوں کو واپس کر دو ۔ انھوں نے ایسا کرلیا تو اسی دینار کی ان لیے اجازت دے دی گئی۔
(١٨٣٧٨) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ : کُنَّا رُبُعَ النَّاسِ یَوْمَ الْقَادِسِیَّۃِ فَأَعْطَانَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رُبُعَ السَّوَادِ فَأَخَذْنَاہُ ثَلاَثَ سِنِینَ ثُمَّ وَفَدَ جَرِیرٌ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّہِ لَوْلاَ أَنِّی قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَکُنْتُمْ عَلَی مَا قُسِمَ لَکُمْ فَأَرَی أَنْ تَرُدَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَفَعَلَ وَأَجَازَہُ بِثَمَانِینَ دِینَارًا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٧٩) قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جریر اور اس کی قوم کو سواد کا چوتھائی حصہ عطا کردیا۔ انھوں نے دو یا تین سال جزیہ وصول کیا، پھر جریر اور عمار بن یاسر حضرت عمر (رض) کے پاس گئے تو انھوں نے فرمایا : اے جریر ! اگر تقسیم کے بارے میں مجھ سے سوال کیا نہ جاتا تو میں تمہیں اسی حالت پر برقرار رکھتا۔ لیکن اب تم یہ مسلمانوں کو واپس کر دو تو جریر نے سواد کا چوتھائی حصہ واپس کردیا، اس کے عوض حضرت عمر (رض) نے انھیں اسی دینار عطا کیے۔
(١٨٣٧٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ : أَعْطَی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَرِیرًا وَقَوْمَہُ رُبُعَ السَّوَادِ فَأَخَذَہُ سَنَتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ إِنَّ جَرِیرًا وَفَدَ إِلَی عُمَرَ مَعَ عَمَّارٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا جَرِیرُ لَوْلاَ أَنِّی قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَکُنْتُمْ عَلَی مَا کُنْتُمْ عَلَیْہِ وَلَکِنْ أَرَی أَنْ تَرُدَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَرَدَّہُ عَلَیْہِمْ وَأَعْطَاہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثَمَانِینَ دِینَارًا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٨٠) شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جریر سے کہا : کیا آپ عراق میں میرے پاس آسکتے ہیں ؟ آپ کو چوتھائی یا تہائی حصہ خمس کے بعد تمام زمین سے دیا جائے گا۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ جب جریر بجلی کو اس کے حصہ کا عوض دیا گیا جیسے عورت کو اس کے باپ کے حصہ کا عوض دیا گیا، یہ ان لوگوں کی خوشی سے تھا جنہوں نے اس پر گھوڑے دوڑائے تھے۔ انھوں نے اپنے حقوق چھوڑ کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیے۔ امام کے لیے جائز ہے کہ اگر آج کسی زمین کو فتح کرے تو فاتحین میں تقسیم کر دے اور وہ اپنی خوشی سے امام کے لیے وقف کردیں اور خمس بھی مکمل ادا کیا جائے۔ وگرنہ بالغ لوگ اپنے حصے چھوڑ سکتے ہیں۔ یہ بھی امام لے سکتا ہے اور زمین کا حکم بھی مال کی مانند ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہوازن کے لوگ قیدی بنائے اور ان کا مال فاتحین میں تقسیم کردیا۔ پھر ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آیا تو انھوں نے احسان کرنے کی اپیل کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں قیدیوں اور مال میں سے کسی ایک چیز لینے کا اختیار دیا تو انھوں نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ہمارے نسبوں اور مالوں میں اختیار دیا ہے۔ ہم اپنے نسبوں کو اختیار کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا اور اہل بیت کا حق چھوڑ دیا۔ جب مہاجرین اور انصار نے سنا تو انھوں نے بھی اپنے حقوق چھوڑ دیے، باقی لوگوں پر دس میں سے ایک شخص کو مقرر کردیا کہ مجھے خبر دو ۔ وگرنہ اتنے اتنے ادا کیے جائیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وقت کا تعین فرما دیا، اقراع بن حابس اور عیینہ بن بدر کے علاوہ تمام نے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔ ان دونوں نے ہوازن کو عار دلانے کے لیے انکار کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔ بعد میں دونوں نے اپنا حق چھوڑ بھی دیا۔ عیینہ نے بھی اپنا حق دل کی خوشی سے چھوڑ دیا تھا۔
(١٨٣٨٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِجَرِیرٍ : ہَلْ لَکْ أَنْ تَأْتِیَ الْعِرَاقَ وَلَکَ الرُّبُعُ أَوِ الثُّلُثُ بَعْدَ الْخُمُسِ مِنْ کُلِّ أَرْضٍ وَشَیْئٍ ۔

ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَالَّذِی قَبْلَہُ مَوْصُولٌ وَلَیْسَ فِی الآثَارِ الَّتِی رَوَیْنَاہَا وَلَمْ نَرْوِہَا فِی سَوَادِ الْعِرَاقِ أَصَحَّ مِنْہُ کَمَا قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ دَلاَلَۃٌ إِذْ أَعْطَی جَرِیرًا الْبَجَلِیَّ عِوَضًا مِنْ سَہْمِہِ وَالْمَرْأَۃَ عِوَضًا مِنْ سَہْمِ أَبِیہَا أَنَّہُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ الَّذِینَ أَوْجَفُوا عَلَیْہِ فَتَرَکُوا حُقُوقَہُمْ مِنْہُ فَجَعَلَہُ وَقْفًا لِلْمُسْلِمِینَ وَہَذَا حَلاَلٌ لِلإِمَامِ لَوِ افْتَتَحَ الْیَوْمَ أَرْضَ عَنْوَۃٍ فَأَحْصَی مَنِ افْتَتَحَہَا وَطَابُوا أَنْفُسًا عَنْ حُقُوقِہِمْ مِنْہَا أَنْ یَجْعَلَہَا الإِمَامُ وَقْفًا وَحُقُوقُہُمْ مِنْہَا الأَرْبَعَۃُ الأَخْمَاسِ وَیُوفِی أَہْلَ الْخُمُسِ حَقَّہُمْ إِلاَّ أَنْ یَدَعَ الْبَالِغُونَ مِنْہُمْ حُقُوقَہُمْ فَیَکُونُ ذَلِکَ لَہُ وَالْحُکْمُ فِی الأَرْضِ کَالْحُکْمِ فِی الْمَالِ وَقَدْ سَبَی النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ہَوَازِنَ وَقَسَمَ أَرْبَعَۃَ الأَخْمَاسِ بَیْنَ الْمُوجِفِینَ ثُمَّ جَائَ تْہُ وُفُودُ ہَوَازِنَ مُسْلِمِینَ فَسَأَلُوہُ أَنْ یَمُنَّ عَلَیْہِمْ بِأَنْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ مَا أَخَذَ مِنْہُمْ فَخَیَّرَہُمْ بَیْنَ الأَمْوَالِ وَالسَّبْیِ فَقَالُوا خَیَّرْتَنَا بَیْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا فَنَخْتَارُ أَحْسَابَنَا فَتَرَکَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَقَّہُ وَحَقَّ أَہْلِ بَیْتِہِ وَسَمِعَ بِذَلِکَ الْمُہَاجِرُونَ فَتَرَکُوا لَہُ حُقُوقَہُمْ وَسَمِعَ بِذَلِکَ الأَنْصَارُ فَتَرَکُوا لَہُ حُقُوقَہُمْ وَبَقِیَ قَوْمٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ الآخِرِینَ وَالْفَتْحِیِّینَ فَأَمَرَ فَعُرِّفَ عَلَی کُلِّ عَشْرَۃٍ وَاحِدٌ ثُمَّ قَالَ : ائْتُونِی بِطِیبِ أَنْفُسِ مَنْ بَقِیَ فَمَنْ کَرِہَ فَلَہُ عَلَیَّ کَذَا وَکَذَا مِنَ الإِبِلِ ۔ إِلَی وَقْتٍ ذَکَرَہُ فَجَائُ وہُ بِطِیبِ أَنْفُسِہِمْ إِلاَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ وَعُیَیْنَۃَ بْنَ بَدْرٍ فَإِنَّہُمَا أَبَیَا لِیُعَیِّرَا ہَوَازِنَ فَلَمْ یُکْرِہْہُمَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی ذَلِکَ حَتَّی کَانَا ہُمَا تَرَکَا بَعْدُ بِأَنْ خُدِعَ عُیَیْنَۃُ عَنْ حَقِّہِ وَسَلَّمَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَقَّ مَنْ طَابَ نَفْسُہُ عَنْ حَقِّہِ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ وَہَذَا أَوْلَی الأُمُورِ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عِنْدَنَا فِی السَّوَادِ وَفُتُوحِہِ إِنْ کَانَتْ عَنْوَۃً وَہَذَا الَّذِی ذَکَرَہُ الشَّافِعِیُّ مِنْ أَمْرِ ہَوَازِنَ قَدْ مَضَی فِی حَدِیثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক: