আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮৩৪৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ کی دعوت دینے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مقابلہ کی دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بدر کے دن عبیدہ، حمزہ اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مبارزہ کیا۔
(١٨٣٤١) قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ میں نے ابو ذر (رض) سے سنا، وہ قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ یہ آیت { ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ } [الحج ١٩] ” یہ دو شخص جن سے انھوں نے اللہ کے بارے میں جھگڑا کیا۔ “ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے بدر کے دن مقابلہ کیا۔ حمزہ، علی، عبیدہ بن حارث اور عتبہ و شیبہ یہ دونوں ربیعہ کے بیٹے ہیں اور ولید بن عتبہ۔
(١٨٣٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُقْسِمُ قَسَمًا أَنَّ ہَذِہِ الآیَۃَ { ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ } [الحج ١٩] نَزَلَتْ فِی الَّذِینَ بَرَزُوا یَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَۃَ وَعَلِیٍّ وَعُبَیْدَۃَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَعُتْبَۃَ وَشَیْبَۃَ ابْنَیْ رَبِیعَۃَ وَالْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَۃَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ یَعْقُوبَ الدَّوْرَقِیِّ عَنْ ہُشَیْمٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ کی دعوت دینے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مقابلہ کی دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بدر کے دن عبیدہ، حمزہ اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مبارزہ کیا۔
(١٨٣٤٢) ثوری ابو ہاشم سے نقل فرماتے ہیں : اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ بدر کے دن انھوں نے حج کے بارے میں جھگڑا کیا۔
(١٨٣٤٢) وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ زَادَ فِیہِ اخْتَصَمُوا فِی الْحَجِّ یَوْمَ بَدْرٍ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ فَذَکَرَہُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ کی دعوت دینے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مقابلہ کی دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بدر کے دن عبیدہ، حمزہ اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مبارزہ کیا۔
(١٨٣٤٣) حارثہ، حضرت علی (رض) سے بدر کے قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ اور اس کے بھائی اور اس کے بیٹے ولید نے غیرت سے مقابلہ کی دعوت دی کہ کون مقابلہ کرے گا۔ انصاری جوان مقابلہ میں آئے۔ عتبہ نے کہا : ان کا ہم نے قصد نہیں کیا، بلکہ ہمارے مقابلہ میں ہمارے چچا کے بیٹے یعنی بنو عبدالمطلب آئیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے علی، حمزہ، عبیدہ بن حارث (رض) ! کھڑے ہو جاؤ۔ اللہ رب العزت نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو ہلاک کر ڈالا اور عبیدہ بن حارث زخمی ہوئے ستر کافر ہم نے قتل کیے اور ستر ہی قیدی بنائے۔
(١٨٣٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ بَدْرٍ قَالَ : فَبَرَزَ عُتْبَۃُ وَأَخُوہُ وَابْنُہُ الْوَلِیدُ حَمِیَّۃً فَقَالَ : مَنْ یُبَارِزُ ؟ فَخَرَجَ مِنَ الأَنْصَارِ شَبَبَۃٌ فَقَالَ عُتْبَۃُ : لاَ نُرِیدُ ہَؤُلاَئِ وَلَکِنْ یُبَارِزُنَا مِنْ بَنِی عَمِّنَا مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُمْ یَا عَلِیُّ قُمْ یَا حَمْزَۃُ قُمْ یَا عُبَیْدَۃُ بْنَ الْحَارِثِ ۔ فَقَتَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عُتْبَۃَ وَشَیْبَۃَ ابْنَیْ رَبِیعَۃَ وَالْوَلِیدَ بْنَ عُتْبَۃَ وَجُرِحَ عُبَیْدَۃُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلْنَا مِنْہُمْ سَبْعِینَ وَأَسَرْنَا سَبْعِینَ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ کی دعوت دینے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مقابلہ کی دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بدر کے دن عبیدہ، حمزہ اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مبارزہ کیا۔
(١٨٣٤٤) عبداللہ بن ابی بکر اور ان کے علاوہ دوسرے بدر کے قصے کا ذکر کرتے ہیں اور اس میں ہے کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ ربیعہ، ولید بن عتبہ نکلے اور مقابلہ کی دعوت دی تو تین انصاری جوان ان کے مقابلہ میں آئے۔ انھوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا : انصاری لوگ۔ وہ کہنے لگے : ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آواز دینے والے نے آواز دی : اے محمد ! ہماری طرف ہمارے برابر کے لوگ نکالو ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حمزہ، علی اور عبیدہ کھڑے ہو جاؤ۔ جب وہ ان کے قریب گئے تو انھوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ حمزہ (رض) نے کہا : میں حمزہ بن عبدالمطلب ہوں اور حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں علی بن ابی طالب ہوں۔ عبیدہ کہنے لگے : میں عبیدہ بن حارث ہوں۔ انھوں نے کہا : برابر کے معزز لوگ ہیں۔ حضرت عبیدہ نے عتبہ کا مقابلہ کیا ان کے درمیان دو واروں کا تبادلہ ہوا۔ دونوں ثابت قدم رہے اور حضرت حمزہ (رض) نے شیبہ کا مقابلہ کیا۔ اسی جگہ ہی اسے قتل کر ڈالا اور حضرت علی (رض) نے ولید کا مقابلہ کیا۔ اسے بھی قتل کر ڈالا۔ پھر دونوں عتبہ پر پلٹے اور اس کا کام تمام کردیا اور اپنے ساتھی کو اٹھا کر خیمے میں لے گئے۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ (رض) نے خیبر کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی وجہ سے مرحب کا مقابلہ کیا اور زبیر بن عوام (رض) نے یاسر کا۔
(١٨٣٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ

(ح) وَحَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَغَیْرُہُمْ مِنْ عُلَمَائِنَا فَذَکَرُوا قِصَّۃَ بَدْرٍ وَفِیہَا : ثُمَّ خَرَجَ عُتْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ وَشَیْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ وَالْوَلِیدُ بْنُ عُتْبَۃَ فَدَعَوْا إِلَی الْبِرَازِ فَخَرَجَ إِلَیْہِمْ فِتْیَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ ثَلاَثَۃٌ فَقَالُوا : مِمَّنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : رَہْطٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا مَا بِنَا إِلَیْکُمْ حَاجَۃٌ ثُمَّ نَادَی مُنَادِیہِمْ یَا مُحَمَّدُ أَخْرِجْ إِلَیْنَا أَکْفَائَ نَا مِنْ قَوْمِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُمْ یَا حَمْزَۃُ قُمْ یَا عَلِیُّ قُمْ یَا عُبَیْدَۃُ ۔ فَلَمَّا قَامُوا وَدَنَوْا مِنْہُمْ قَالُوا : مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالَ حَمْزَۃُ : أَنَا حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ عَلِیٌّ : أَنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ۔ وَقَالَ عُبَیْدَۃُ : أَنَا عُبَیْدَۃُ بْنُ الْحَارِثِ ۔ فَقَالُوا : نَعَمْ أَکْفَائٌ کِرَامٌ۔ فَبَارَزَ عُبَیْدَۃُ عُتْبَۃَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَیْنِ کِلاَہُمَا أَثْبَتَ صَاحِبَہُ وَبَارَزَ حَمْزَۃُ شَیْبَۃَ فَقَتَلَہُ مَکَانَہُ وَبَارَزَ عَلِیٌّ الْوَلِیدَ فَقَتَلَہُ مَکَانَہُ ثُمَّ کَرَّا عَلَی عُتْبَۃَ فَذَفَّفَا عَلَیْہِ وَاحْتَمَلاَ صَاحِبَہُمَا فَحَازُوہُ إِلَی الرَّحْلِ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَبَارَزَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ مَرْحَبًا یَوْمَ خَیْبَرَ بِأَمْرِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَبَارَزَ یَوْمَئِذٍ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّام رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَاسِرًا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ کی دعوت دینے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مقابلہ کی دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بدر کے دن عبیدہ، حمزہ اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مبارزہ کیا۔
(١٨٣٤٥) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ خیبر کے قلعہ سے مرحب یہودی اپنے اسلحہ سے لیس ہو کر اشعار پڑھتے ہوئے نکلا۔ وہ کہہ رہا تھا : کون میرا مقابلہ کرے گا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون اس کے مقابلے میں آئے گا ؟ محمد بن مسلمہ (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم میں اس کو موت کے گھاٹ اتاروں گا۔ کیونکہ انھوں نے کل میرے بھائی کو قتل کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ اور دعا دی۔ اے اللہ ! اس کی مدد فرما۔ ان دونوں کے لڑائی کی کیفیت کو اس نے حدیث میں ذکر کیا، کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ (رض) نے اس کو قتل کردیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : پھر یاسر نکلا تو حضرت زبیر نے اس کا مقابلہ کیا۔ جب زبیر نکلے تو صفیہ (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرا بیٹا قتل کرلے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو تیرا بیٹا ہی اس کو قتل کرے گا۔ پھر زبیر رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلے۔ پھر ان دونوں کی لڑائی ہوئی تو زبیر نے اس کو قتل کردیا۔ راوی کہتے ہیں : اس طرح اس نے ذکر کیا کہ حضرت علی (رض) نے یاسر کو قتل کیا اور محمد بن مسلمہ (رض) نے مرحب کو قتل کیا۔
(١٨٣٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَہْلٍ أَحَدُ بَنِی حَارِثَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ مَرْحَبٌ الْیَہُودِیُّ مِنْ حِصْنِ خَیْبَرَ قَدْ جَمَعَ سِلاَحَہُ وَہُوَ یَرْتَجِزُ وَیَقُولُ : مَنْ یُبَارِزُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ لِہَذَا ؟ ۔ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ : أَنَا لَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا وَاللَّہِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ قَتَلُوا أَخِی بِالأَمْسِ ۔ قَالَ : قُمْ إِلَیْہِ اللَّہُمَّ أَعِنْہُ عَلَیْہِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی کَیْفِیَّۃِ قِتَالِہِمَا قَالَ : وَضَرَبَہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَتَّی قَتَلَہُ ۔ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ ثُمَّ خَرَجَ یَاسِرٌ فَبَرَزَ لَہُ الزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَتْ صَفِیَّۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا لَمَّا خَرَجَ إِلَیْہِ الزُّبَیْرُ یَا رَسُولَ اللَّہِ یَقْتُلُ ابْنِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : بَلْ ابْنُکِ یَقْتُلُہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔ فَخَرَجَ الزُّبَیْرُ وَہُوَ یَرْتَجِزُ ثُمَّ الْتَقَیَا فَقَتَلَہُ الزُّبَیْرُ قَالَ وَکَانَ ذَکَرَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہُوَ قَتَلَ یَاسِرًا کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ ہُوَ قَتَلَ مَرْحَبًا۔ [حسن۔ تقدم برقم ١٨١٠٨]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ کی دعوت دینے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مقابلہ کی دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بدر کے دن عبیدہ، حمزہ اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مبارزہ کیا۔
(١٨٣٤٦) ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آئے۔ ایک لمبی حدیث ذکر کی۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو بلایا : ان کی آنکھیں خراب تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مجھے لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا۔ میں تندرست ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھنڈا مجھے دے دیا۔ تو مرحب نے رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے مقابلہ کی دعوت دی۔ اس نے کہا : خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں۔ اسلحے سے لیس اور تجربہ کار بہادر ہوں۔ جب جنگیں بھڑک کر سامنے آجاتی ہیں۔

حضرت علی (رض) اس کے مقابلہ میں یہ کہتے ہوئے آئے : میں وہ ہوں جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے۔ جو جنگل کے شیر کی طرح خوفناک ہے اور صرف دھاڑنے سے ہی بھرپور قتل کرنے والا ہے۔

تو حضرت علی نے پہلے ہی وار میں مرحب کا سر تلوار سے پھاڑ ڈالا اور قتل کردیا۔ یہ فتح تھی۔
(١٨٣٤٦) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِی إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَدْعُوہُ وَہُوَ أَرْمَدُ فَقَالَ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ الْیَوْمَ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ۔ قَالَ : فَجِئْتُ بِہِ أَقُودُہُ قَالَ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی عَیْنَیْہِ فَبَرَأَ فَأَعْطَاہُ الرَّایَۃَ قَالَ فَبَرَزَ مَرْحَبٌ وَہُوَ یَقُولُ

قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی مَرْحَبُ

شَاکِی السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرِّبُ

إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ

قَالَ : فَبَرَزَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَقُولُ :

أَنَا الَّذِی سَمَّتْنِی أُمِّی حَیْدَرَہْ

کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیہِ الْمَنْظَرَہْ

أُوفِیہُمُ بِالصَّاعِ کَیْلَ السَّنْدَرَہْ

فَضَرَبَ مَرْحَبًا فَفَلَقَ رَأْسَہُ فَقَتَلَہُ وَکَانَ الْفَتْحُ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ کی دعوت دینے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مقابلہ کی دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بدر کے دن عبیدہ، حمزہ اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مبارزہ کیا۔
(١٨٣٤٧) عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے خیبر اور مرحب کا رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلنے کا تذکرہ کیا اور حضرت علی (رض) کی بات بھی اس کے ہم معنیٰ ہے مگر حضرت علی (رض) کا قول دوسرے الفاظ میں نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : میں تمہیں بہت زیادہ قتل کرنے والا ہوں۔

راوی کہتے ہیں : ان میں دو واروں کا تبادلہ ہوا تو حضرت علی (رض) نے تلوار ماری، جس نے پتھر، ٹوپ اور سر کو پھاڑ ڈالا اور داڑھوں تک جا پہنچی۔
(١٨٣٤٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِیُّ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ مُسْلِمٍ الأَزْدِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ الْقِصَّۃَ فِی خَیْبَرَ وَذَکَرَ خُرُوجَ مَرْحَبٍ وَرَجَزَہُ وَقَوْلَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أَکِیلُہُمْ بِالصَّاعِ کَیْلَ السِّنْدَرَہْ قَالَ : فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَیْنِ فَبَدَرَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَضَرَبَہُ فَقَدَّ الْحَجَرَ وَالْمِغْفَرَ وَرَأْسَہُ وَوَقَعَ فِی الأَضْرَاسِ وَأَخَذَ الْمَدِینَۃَ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ کی دعوت دینے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مقابلہ کی دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بدر کے دن عبیدہ، حمزہ اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مبارزہ کیا۔
(١٨٣٤٨) عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں : جب خیبر کا دن ہوا، اس نے قصے کا بعض حصہ ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھنڈا منگوایا اور حضرت علی (رض) کو بلوایا۔ ان کی آنکھیں خراب تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ پھر حضرت علی (رض) کو جھنڈا دیا، جن کے ہاتھ پر فتح ہوئی۔ عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ وہ مرحب کا ساتھی تھا۔
(١٨٣٤٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : یَحْیَی بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُکْلِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ فَذَکَرَ بَعْضَ الْقِصَّۃِ قَالَ ثُمَّ دَعَا بِاللِّوَائِ فَدَعَا عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَشْتَکِی عَیْنَیْہِ فَمَسَحَہُمَا ثُمَّ دَفَعَ إِلَیْہِ اللِّوَائَ فَفُتِحَ لَہُ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ بُرَیْدَۃَ یَقُولُ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّہُ کَانَ صَاحِبُ مَرْحَبٍ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ کی دعوت دینے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مقابلہ کی دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بدر کے دن عبیدہ، حمزہ اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مبارزہ کیا۔
(١٨٣٤٩) ابو قابوس اپنے وال سے اور وہ اپنے دادا سے جو حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مرحب کا سر لے کر آیا۔ قال الشافعی : خندق کے دن حضرت علی (رض) نے عمرو بن عبد ود کا مقابلہ کیا۔
(١٨٣٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا السَّاجِیُّ وَبَدْرُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حُسَیْنٍ الأَشْقَرُ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ أَبِی قَابُوسَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جِئْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِرَأْسِ مَرْحَبٍ ۔ وَرَوَاہُ صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ حُسَیْنِ بْنِ حَسَنٍ الأَشْقَرِ بِمَعْنَاہُ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَبَارَزَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ ۔

[ضعیف جدًا ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقابلہ کی دعوت دینے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مقابلہ کی دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بدر کے دن عبیدہ، حمزہ اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مبارزہ کیا۔
(١٨٣٥٠) ابن اسحاق کہتے ہیں : خندق کے دن عمرو بن عبد ود نکلا۔ اس نے مقابلہ کی دعوت دی تو حضرت علی (رض) لوہے میں چھٹے ہوئے تھے، کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ! میں اس کا مقابلہ کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عمرو ہے بیٹھ جاؤ۔ عمرو نے پھر آواز دی۔ کیا کوئی مرد نہیں ہے۔ وہ ان کو متنبہ کررہا تھا اور کہہ رہا تھا : تمہاری جنت کہاں ہے جس کا تم گمان کرتے ہو ؟ جو تم میں سے قتل کیا گیا وہ اس میں داخل ہوجائے گا۔ کیا کوئی شخص میرا مقابلہ نہیں کرے گا ؟ حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں مقابلہ کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ پھر تیسری مرتبہ اس نے آواز دی اور اشعار پڑھے تو حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے : اے اللہ کے رسول ! میں مقابلہ کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عمرو ہے۔ کہنے لگے : اگرچہ عمرو ہی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو اجازت دے دی تو وہ چل کر اس کے پاس گئے اور اشعار پڑھے۔ عمرو نے پوچھا : تو کون ہے ؟ کہتے ہیں : میں علی ہوں۔ اس نے کہا : ابن عبد مناف ؟ کہا : میں علی بن ابی طالب ہوں۔ اس نے کہا : اے بھتیجے ! کیا تیرے چچاؤں میں سے تیرے علاوہ کوئی بڑی عمر کا نہیں ہے۔ کیونکہ میں تیرا خون بہانا ناپسند کرتا ہوں۔ حضرت علی (رض) کہنے لگے : لیکن اللہ کی قسم ! میں تجھے قتل کرنے میں کراہت محسوس نہیں کرتا۔ وہ غصے سے نیچے اتر پڑا اور اپنی تلوار کو سونتا گویا کہ وہ آگ کا شعلہ ہے۔ پھر حضرت علی (رض) کی جانب غصے کی حالت میں آیا اور حضرت علی (رض) نے اس کا سامنا اپنی ڈھال کے ذریعے کیا۔ عمرو نے ڈھال پر تلوار ماری تو تلوار نے ڈھال کو توڑ ڈالا اور حضرت علی (رض) کا سر بھی زخمی ہوا اور حضرت علی (رض) نے اس کے کندھے پر تلوار ماری، وہ گرپڑا اور اس کی چیخ بلند ہوئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کی آواز سنی تو پہچان گئے کہ حضرت علی (رض) نے اس کو قتل کردیا۔
(١٨٣٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : خَرَجَ یَعْنِی یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ وُدٍّ فَنَادَی : مَنْ یُبَارِزُ ؟ فَقَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ مُقَنَّعٌ فِی الْحَدِیدِ فَقَالَ : أَنَا لَہَا یَا نَبِیَّ اللَّہِ ۔ فَقَالَ : إِنَّہُ عَمْرٌو اجْلِسْ ۔ وَنَادَی عَمْرٌو : أَلاَ رَجُلٌ وَہُوَ یُؤَنِّبُہُمْ وَیَقُولُ : أَیْنَ جَنَّتُکُمُ الَّتِی تَزْعُمُونَ أَنَّہُ مَنْ قُتِلَ مِنْکُمْ دَخَلَہَا أَفَلاَ یَبْرُزُ إِلَیَّ رَجُلٌ؟ فَقَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ فَقَالَ : اجْلِسْ ۔ ثُمَّ نَادَی الثَّالِثَۃَ وَذَکَرَ شِعْرًا فَقَامَ عَلِیٌّ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا۔ فَقَالَ : إِنَّہُ عَمْرٌو ۔ قَالَ : وَإِنْ کَانَ عَمْرًا فَأَذِنَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَمَشَی إِلَیْہِ حَتَّی أَتَاہُ وَذَکَرَ شِعْرًا فَقَالَ لَہُ عَمْرٌو : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا عَلِیٌّ۔ قَالَ : ابْنُ عَبْدِ مَنَافٍ ؟ فَقَالَ : أَنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ۔ فَقَالَ : غَیْرُکُ یَا ابْنَ أَخِی مِنْ أَعْمَامِکَ مَنْ ہُوَ أَسَنُّ مِنْکَ فَإِنِّی أَکْرَہُ أَنْ أُہْرِیقَ دَمَکَ ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَکِنِّی وَاللَّہِ مَا أَکْرَہُ أَنْ أُہْرِیقَ دَمَکَ فَغَضِبَ فَنَزَلَ وَسَلَّ سَیْفَہُ کَأَنَّہُ شُعْلَۃُ نَارٍ ثُمَّ أَقْبَلَ نَحْوَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُغْضَبًا وَاسْتَقْبَلَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدَرَقَتِہِ فَضَرَبَہُ عَمْرٌو فِی الدَّرَقَۃِ فَقَدَّہَا وَأَثْبَتَ فِیہَا السَّیْفَ وَأَصَابَ رَأْسَہُ بِشَجَّۃٍ وَضَرَبَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی حَبْلِ الْعَاتِقِ فَسَقَطَ وَثَارَ الْعَجَاجُ وَسَمِعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - التَّکْبِیرَ فَعَرَفَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ قَتَلَہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سروں کو منتقل کرنے کا بیان
(١٨٣٥١) عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ عمرو بن عاص اور شرحبیل بن حسنہ نے حضرت عقبہ کو ابوبکر (رض) کی طرف یناق بطریق شام کا سر دے کر روانہ کیا۔ جب ابوبکر کے پاس سر لایا گیا تو انھوں نے انکار کردیا۔ عقبہ نے کہا : اے خلیفۃ الرسول ! وہ ہمارے ساتھ یہ کرتے ہیں۔ ابوبکر (رض) نے کہا : کیا تم فارس اور روم کی سنت کو اختیار کرنے والے ہو ؟ میری جانب کوئی سر نہ لایا جائے، صرف خط اور خبر ہی کافی ہے۔
(١٨٣٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ یَزِیدَ أَبِی شُجَاعٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ : أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَشُرَحْبِیلَ ابْنَ حَسَنَۃَ بَعَثَا عُقْبَۃَ بَرِیدًا إِلَی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِرَأْسِ یَنَّاقَ بِطْرِیقِ الشَّامِ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْکَرَ ذَلِکَ فَقَالَ لَہُ عُقْبَۃُ : یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَإِنَّہُمْ یَصْنَعُونَ ذَلِکَ بِنَا۔ قَالَ : أَفَاسْتِنَانٌ بِفَارِسَ وَالرُّومِ لاَ یُحْمَلُ إِلَیَّ رَأْسٌ فَإِنَّمَا یَکْفِی الْکِتَابُ وَالْخَبَرُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سروں کو منتقل کرنے کا بیان
(١٨٣٥٢) معاویہ بن خدیج فرماتے ہیں کہ ہم نے ابوبکر (رض) کے دور میں ہجرت کی۔ ہم ان کے پاس ہی تھے۔ جس وقت وہ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا کہ ہمارے پاس یناق بطریق کا سر لایا گیا ہے، حالانکہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے۔
(١٨٣٥٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ حَدَّثَنِی الْحَارِثُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ حُدَیْجٍ یَقُولُ : ہَاجَرْنَا عَلَی عَہْدِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَبَیْنَا نَحْنُ عِنْدَہُ إِذْ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ إِنَّہُ قُدِمَ عَلَیْنَا بِرَأْسِ یَنَّاقَ الْبِطْرِیقِ وَلَمْ یَکُنْ لَنَا بِہِ حَاجَۃٌ إِنَّمَا ہَذِہِ سُنَّۃُ الْعَجَمِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سروں کو منتقل کرنے کا بیان
(١٨٣٥٣) عبدالکریم جذری فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس ایک سر لایا گیا تو فرمانے لگے : تم نے سرکشی کی ہے۔

(ب) زہری فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ میں کبھی سر نہیں لایا گیا۔ جب حضرت ابوبکر (رض) کے پاس سر لایا گیا تو انھوں نے ناپسند کیا۔ کہتے ہیں : سب سے پہلے عبداللہ بن زبیر کے پاس سر لائے گئے۔
(١٨٣٥٣) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ الْجَزَرِیِّ أَنَّہُ حَدَّثَہُ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُتِیَ بِرَأْسٍ فَقَالَ : بَغَیْتُمْ ۔

قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ عَنْ مَعْمَرٍ حَدَّثَنِی صَاحِبٌ لَنَا عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : لَمْ یُحْمَلْ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَأْسٌ إِلَی الْمَدِینَۃِ قَطُّ وَلاَ یَوْمَ بَدْرٍ وَحُمِلَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَأْسٌ فَکَرِہَ ذَلِکَ قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ حُمِلَتْ إِلَیْہِ الرُّئُ وسُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سروں کو منتقل کرنے کا بیان
(١٨٣٥٤) بشیر بن عقبہ ابو نضرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمن سے ملے۔ فرمایا : جو سر لے کر آئے اس کے لیے وہی چیز ہے جو وہ اللہ سے خواہش کرے۔ دو آدمی ایک سر لے کر آئے اور اس کے بارے میں جھگڑا کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کے لیے فیصلہ کردیا۔

(ب) اگر یہ حدیث ثابت بھی ہوجائے تو صرف دشمنوں کے قتل پر ابھارنا مقصود ہے نہ کہ سروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔
(١٨٣٥٤) قَالَ الشَّیْخُ وَالَّذِی رَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْجَرَّاحِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أُسَامَۃَ عَنْ بَشِیرِ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ : لَقِیَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْعَدُوَّ فَقَالَ : مَنْ جَائَ بِرَأْسٍ فَلَہُ عَلَی اللَّہِ مَا تَمَنِّی ۔ فَجَائَ ہُ رَجُلاَنِ بِرَأْسٍ فَاخْتَصَمَا فِیہِ فَقَضَی بِہِ لأَحَدِہِمَا۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ فَہَذَا حَدِیثٌ مُنْقَطِعٌ۔ وَفِیہِ إِنْ ثَبَتَ تَحْرِیضٌ عَلَی قَتْلِ الْعَدُوِّ وَلَیْسَ فِیہِ نَقْلُ الرَّأْسِ مِنْ بِلاَدِ الشِّرْکِ إِلَی بِلاَدِ الإِسْلاَمِ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک مردار کو نہ خریدا جائے
(١٨٣٥٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : مسلمانوں نے مشرکین کے بڑے آدمیوں میں سے کسی کو پکڑ کر قتل کردیا۔ مشرکین نے ان سے کہا کہ وہ اس کو فروخت کردیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرک مردار کو فروخت کرنے سے منع کردیا۔
(١٨٣٥٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الْعَبْدِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ الْمُسْلِمِینَ أَصَابُوا رَجُلاً مِنْ عُظَمَائِ الْمُشْرِکِینَ فَقَتَلُوہُ فَسَأَلُوہُمْ أَنْ یَشْتَرُوہُ فَنَہَاہُمُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یَبِیعُوا جِیفَۃَ مُشْرِکٍ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک مردار کو نہ خریدا جائے
(١٨٣٥٦) مقسم حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ مشرکین کا ایک آدمی غزوہ احزاب میں قتل کردیا گیا تو مشرکین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پیغام بھیجا کہ اس کا جسم ہمیں واپس کردیں ہم آپ کو بارہ ہزار دیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے جسم اور قیمت میں بھلائی نہیں ہے۔
(١٨٣٥٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِکِینَ قُتِلَ یَوْمَ الأَحْزَابِ فَبَعَثَ الْمُشْرِکُونَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنِ ابْعَثْ إِلَیْنَا بِجَسَدِہِ وَنُعْطِیکَ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ خَیْرَ فِی جَسَدِہِ وَلاَ فِی ثَمَنِہِ ۔

[ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٥٧) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں صلح والی زمین کے بارے میں کیا کہوں کہ اس میں ظن اور علم دونوں ملے ہوئے ہیں میں نے صحیح حدیث دیکھی ہے جن کو کوفی روایت کرتے ہیں ان میں لفظ سواد کا بیان نہیں ہے لیکن ان کے مخالف حدیث ہیں جس میں لفظ سواد کا معنیٰ صلح کیا گیا ہے اور بعض کے نزدیک سواد کا معنیٰ زبردستی ہے۔
(١٨٣٥٧) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلاَ أَعْرِفُ مَا أَقُولُ فِی أَرْضِ السَّوَادِ إِلاَّ ظَنًّا مَقْرُونًا إِلَی عِلْمٍ وَذَلِکَ أَنِّی وَجَدْتُ أَصَحَّ حَدِیثٍ یَرْوِیہِ الْکُوفِیُّونَ عِنْدَہُمْ فِی السَّوَادِ لَیْسَ فِیہِ بَیَانٌ وَوَجَدْتُ أَحَادِیثَ مِنْ أَحَادِیثِہِمْ تُخَالِفُہُ مِنْہَا أَنَّہُمْ یَقُولُونَ السَّوَادُ صُلْحٌ وَیَقُولُونُ السَّوَادُ عَنْوَۃٌ وَیَقُولُونَ بَعْضُ السَّوَادِ صُلْحٌ وَبَعْضُہُ عَنْوَۃٌ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٥٨) اشعث ابن سیرین سے نقل فرماتے ہیں کہ سواد کا معنیٰ بعض نے صلح اور بعض نے زبردستی کیا ہے۔ جو چیز زبردستی حاصل ہو وہ مسلمانوں کے لیے اور جہاں پر صلح ہوجائے تو مال انھیں لوگوں کا ہے۔
(١٨٣٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو زُبَیْدٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : السَّوَادُ مِنْہُ صُلْحٌ وَمِنْہُ عَنْوَۃٌ فَمَا کَانَ مِنْہُ عَنْوَۃٌ فَہُوَ لِلْمُسْلِمِینَ وَمَا کَانَ مِنْہُ صُلْحًا فَلَہُمْ أَمْوَالُہُمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٥٩) حضرت عبداللہ بن معقل فرماتے ہیں کہ پہاڑ کے اوپر کوئی زمین نہ خریدی جائے مگر جو بنو صلوبا اور حیرہ کی زمین کیونکہ ان کے ساتھ معاہدہ ہے حسن بن صالح کہتے ہیں کہ جو صلح کے بعد ہو۔
(١٨٣٥٩) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ یَحْیَی عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عُبَیْدٍ أَبِی الْحَسَنِ الْمُزَنِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ : لاَ تُبَاعُ أَرْضٌ دُونَ الْجَبَلِ إِلاَّ أَرْضَ بَنِی صَلُوبَا وَأَرْضَ الْحِیرَۃِ فَإِنَّ لَہُمْ عَہْدًا۔ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ کُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ مَا دُونَ الْجَبَلِ فَمَا وَرَائَ ہُ صُلْحٌ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلح کا بیان
(١٨٣٦٠) عبداللہ بن معقل فرماتے ہیں کہ صلح صرف حیرہ، لیّس اور بانقیا سے ہے۔ شریک کہتے ہیں کہ اہل بانقیا جریر بن عبداللہ کے تابع ہوئے اور اہل لیّس ابو عبیدہ کے حکم پر اترے تھے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ انھوں نے دشمن سے دھوکا کیا۔
(١٨٣٦٠) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَکَمِ عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ قَالَ : لَیْسَ لأَہْلِ السَّوَادِ عَہْدٌ إِلاَّ أَرْضَ الْحِیرَۃِ وَاللُّیَّسِ وَبَانِقْیَا۔ قَالَ شَرِیکٌ : إِنَّ أَہْلَ بَانِقْیَا کَانُوا دَلُّوا جَرِیرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ عَلَی مَخَاضَۃٍ وَأَہْلُ اللُّیَّسِ کَانُوا أَنْزَلُوا أَبَا عُبَیْدَۃَ وَدَلُّوہُ عَلَی شَیْئٍ قَالَ یَحْیَی أَظُنُّہُ یَعْنِی غَدْرَہُ لِلْعَدُوِّ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক: