আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮৩২৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھائیوں کے درمیان بیع میں تفریق نہ کرنے کا بیان
(١٨٣٢١) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے تفریق کی وہ ملعون ہے۔
(١٨٣٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِیَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یُونُسَ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ طُلَیْقِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حَصِینٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَلْعُونٌ مَنْ فَرَّقَ ۔

کَذَا قَالَہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ وَقِیلَ عَنْہُ فِیہِ عَنْ طَلْقِ بْنِ مُحَمَّدٍ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩২৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھائیوں کے درمیان بیع میں تفریق نہ کرنے کا بیان
(١٨٣٢٢) ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے والد اور بچے کے درمیان اور دو بھائیوں کے درمیان تفریق کرنے والے پر لعنت کی ہے۔

شیخ فرماتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے والد اور بچے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں۔
(١٨٣٢٢) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ طُلَیْقِ بْنِ عِمْرَانَ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الْوَالِدِ وَبَیْنَ وَلَدِہِ وَبَیْنَ الأَخِ وَبَیْنَ أَخِیہِ ۔

قَالَ الشَّیْخُ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ہَذَا لاَ یُحْتَجُّ بِہِ ۔ وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنْ طُلَیْقِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الْوَالِدِ وَوَلَدِہِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩২৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھائیوں کے درمیان بیع میں تفریق نہ کرنے کا بیان
(١٨٣٢٣) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب قیدی لائے جاتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کو ایک گھر والے اکٹھے عطا کرتے اور ان کے درمیان تفریق کو ناپسند فرماتے تھے۔
(١٨٣٢٣) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ إِذَا أُتِیَ بِالسَّبْیِ أَعْطَی أَہْلَ الْبَیْتِ جَمِیعًا وَکَرِہَ أَنْ یُفَرِّقَ بَیْنَہُمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھائیوں کے درمیان بیع میں تفریق نہ کرنے کا بیان
(١٨٣٢٤) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قیدی لائے گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گھر والے اکٹھے ہی کسی کو عطا کردیتے اور ان کے درمیان تفریق کو ناپسند کیا ہے۔
(١٨٣٢٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ وَشَیْبَانُ وَقَیْسٌ کُلُّہُمْ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَبْیٍ فَجَعَلَ یُعْطِی أَہْلَ الْبَیْتِ کَمَا ہُمْ جَمِیعًا وَکَرِہَ أَنْ یُفَرِّقَ بَیْنَہُمْ ۔

جَابِرٌ ہَذَا ہُوَ ابْنُ یَزِیدَ الْجُعْفِیُّ تَفَرَّدَ بِہِ بِہَذَیْنِ الإِسْنَادَیْنِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھائیوں کے درمیان بیع میں تفریق نہ کرنے کا بیان
(١٨٣٢٥) عبدالرحمن بن فروخ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے خط لکھا کہ فروخت کرتے وقت دو غلام بھائیوں کے درمیان تفریق نہ کی جائے۔
(١٨٣٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فَرُّوخٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ لاَ یُفَرَّقَ بَیْنَ أَخَوَیْنِ مَمْلُوکَیْنِ فِی الْبَیْعِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ وقت جس میں تفریق کرنا جائز ہے

امام شافعی فرماتے ہیں : جب بچہ سات یا آٹھ سال کا ہوجائے۔ یہ انھوں نے قیاس کیا ہے جب والدین کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔
(١٨٣٢٦) حضرت عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماں اور اس کے بچے کے درمیان تفریق سے منع فرمایا : کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! کب تک ؟ فرمایا : جب تک بچہ بالغ ہوجائے اور بچی حیض والی ہوجائے۔
(١٨٣٢٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْخُرَاسَانِیُّ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ التَّنُوخِیُّ قَالَ سَمِعْتُ مَکْحُولاً یَقُولُ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَ الأُمِّ وَوَلَدِہَا فَقِیلَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلَی مَتَی ؟ قَالَ : حَتَّی یَبْلُغَ الْغُلاَمُ وَتَحِیضَ الْجَارِیَۃُ ۔ [موضوع ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ وقت جس میں تفریق کرنا جائز ہے

امام شافعی فرماتے ہیں : جب بچہ سات یا آٹھ سال کا ہوجائے۔ یہ انھوں نے قیاس کیا ہے جب والدین کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔
(١٨٣٢٧) خالی
(١٨٣٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالاَ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو ہَذَا ہُوَ الْوَاقِعِیُّ وَہُوَ ضَعِیفُ الْحَدِیثِ رَمَاہُ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ بِالْکَذِبِ وَلَمْ یَرْوِہِ عَنْ سَعِیدٍ غَیْرُہُ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک کو قیدی فروخت کرنے کا بیان
(١٨٣٢٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو قریظہ کی عورتیں اور ان کی اولاد کو قیدی بنایا اور مشرکین کو فروخت کردیا۔ ابو شحم یہودی نے ایک بوڑھیا اور اس کے بچے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خریدے اور باقی قیدیوں کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔ دو ثلث تہامہ، ایک ثلث نجد اور ایک ثلث شام کی جانب روانہ کردیا اور فرمایا کہ گھوڑوں، اسلحہ، اونٹ اور مال کے بدلے فروخت کر دو ۔
(١٨٣٢٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : سَبَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نِسَائَ بَنِی قُرَیْظَۃَ وَذَرَارِیَّہُمْ وَبَاعَہُمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَاشْتَرَی أَبُو الشَّحْمِ الْیَہُودِیُّ أَہْلَ بَیْتٍ عَجُوزًا وَوَلَدِہَا مِنَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَا بَقِیَ مِنَ السَّبْیِ أَثَلاَثًا ثُلُثَا إِلَی تِہَامَۃَ وَثُلُثًا إِلَی نَجْدٍ وَثُلُثًا إِلَی طَرِیقِ الشَّامِ فَبِیعُوا بِالْخَیْلِ وَالسِّلاَحِ وَالإِبِلِ وَالْمَالِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک کو قیدی فروخت کرنے کا بیان
(١٨٣٢٩) ابن اسحاق قریظہ کے قصہ میں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد بن زید جو بنو عبداشہل کے بھائی ہیں بنو قریظہ کے قیدی دے کر نجد کی جانب روانہ کیا کہ ان کے عوض گھوڑے اور اسلحہ خریدو۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو ایک بالغ لونڈی عطا کی جو انھوں نے دو آدمیوں کے عوض فدیہ میں دی۔
(١٨٣٢٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ قُرَیْظَۃَ قَالَ : ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَعْدَ بْنَ زَیْدٍ أَخَا بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ بِسَبَایَا بَنِی قُرَیْظَۃَ إِلَی نَجْدٍ فَابْتَاعَ لَہُ بِہِمْ خَیْلاً وَسِلاَحًا۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَکَذَلِکَ النِّسَائُ الْبَوَالِغُ قَدِ اسْتَوْہَبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - جَارِیَۃً بَالِغًا مِنْ أَصْحَابِہِ فَفَدَی بِہَا رَجُلَیْنِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک کو قیدی فروخت کرنے کا بیان
(١٨٣٣٠) ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم اپنے امیر حضرت ابوبکر (رض) کے ساتھ نکلے۔ ہم نے فزارہ سے غزوہ کیا۔ جب ہم ان کے پانی کے قریب پہنچے تو ہم نے ابوبکر (رض) کے حکم سے پڑاؤ کیا۔ جب صبح کی نماز پڑھی تو ابوبکر (رض) نے حملے کا حکم دے دیا۔ ہم پانی پر آئے۔ سلمہ کہتے ہیں : میں نے ایک اونچی جگہ پر لوگوں کو دیکھا، جن میں بچے اور عورتیں تھیں۔ میں ڈرا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے پہاڑ پر نہ چڑھ جائیں تو میں ان کے پیچھے چلا۔ ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر پھینکا تھا وہ کھڑے ہوگئے۔ میں ان کو حضرت ابوبکر (رض) کے پاس لے آیا۔ ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت تھی جس پر چمڑے کا لباس تھا اور اس کے ساتھ عرب کی حسین ترین بیٹی بھی تھی تو ابوبکر (رض) نے اس کی بیٹی مجھے زائد دے دی۔ میں نے اس کے کپڑے کو مدینہ آنے تک نہ کھولا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بازار میں ملے۔ فرمایا : اے سلمہ ! عورت مجھے حبہ کر دو ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ مجھے اچھی لگتی ہے اور میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں اٹھایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور دوسرے دن صبح پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بازار میں ملے اور کہا : اے سلمہ عورت ! مجھے ہبہ کر دو ۔ اللہ کے لیے تیرے باپ کی خوبی ہے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے اچھی لگتی ہے۔ اور اللہ کی قسم میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں اٹھایا۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے۔ راوی کہتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ والوں کی طرف اس کو روانہ کردیا اور اس کے عوض بہت سارے مسلمان ان کے ہاتھوں سے آزاد کروائے۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ لڑائی والے مال یا کھانے سے صلہ رحمی زیادہ قوی نہیں بعض حالات میں جبکہ ایک یا دو غلام ان سے فروخت کردیے جائیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسماء بنت ابی بکر کو اجازت دی تھی، جب اس نے کہا کہ میری والدہ میرے پاس آئی ہے اور یہ مشرکہ ہے۔ کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
(١٨٣٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ حَدَّثَنِی إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَمَّرَہُ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَغَزَوْنَا فَزَارَۃَ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَائِ أَمَرَنَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَرَّسْنَا فَلَمَّا صَلَّیْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَشَنَنَّا الْغَارَۃَ فَنَزَلْنَا عَلَی الْمَائِ قَالَ سَلَمَۃُ فَنَظَرْتُ إِلَی عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِیہِمُ الذُّرِّیَّۃُ وَالنِّسَائُ فَخَشِیتُ أَنْ یَسْبِقُونِی إِلَی الْجَبَلِ فَأَخَذْتُ آثَارَہُمْ فَرَمَیْتُ بِسَہْمٍ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْجَبَلِ فَقَامُوا فَجِئْتُ أَسُوقُہُمْ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفِیہِمُ امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِی فَزَارَۃَ عَلَیْہَا قِشْعٌ مِنْ أَدَمٍ وَمَعَہَا ابْنَۃٌ لَہَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَنَفَّلَنِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ابْنَتَہَا فَمَا کَشَفْتُ لَہَا ثَوْبًا حَتَّی قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ وَلَمْ أَکْشِفْ لَہَا ثَوْبًا وَلَقِیَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی السُّوقِ فَقَالَ : یَا سَلَمَۃُ ہَبْ لِی الْمَرْأَۃَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِی وَمَا کَشَفْتُ لَہَا ثَوْبًا فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَتَرَکَنِی حَتَّی إِذَا کَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِیَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی السُّوقِ فَقَالَ لِی : یَا سَلَمَۃُ ہَبْ لِی الْمَرْأَۃَ لِلَّہِ أَبُوکَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِی وَاللَّہِ مَا کَشَفْتُ لَہَا ثَوْبًا وَہِیَ لَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ قَالَ : فَبَعَثَ بِہَا إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ فَفَدَی بِہَا رِجَالاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ بِأَیْدِیہِمْ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عُمَرَ بْنِ یُونُسَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَرَأَیْتَ صِلَۃَ أَہْلِ الْحَرْبِ بِالْمَالِ وَإِطْعَامَہُمُ الطَّعَامَ أَلَیْسَ بِأَقْوَی لَہُمْ فِی کَثِیرٍ مِنَ الْحَالاَتِ مِنْ بَیْعِ عَبْدٍ أَوْ عَبْدَیْنِ مِنْہُمْ فَقَدْ أَذِنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَتْ : إِنَّ أُمِّی أَتَتْنِی وَہِیَ رَاغِبَۃٌ فِی عَہْدِ قُرَیْشٍ أَفَأَصِلُہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٢٥٥]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک کو قیدی فروخت کرنے کا بیان
(١٨٣٣١) اسماء بنت ابی بکر (رض) فرماتی ہیں کہ میری والدہ قریش کے دین میں رغبت رکھتی ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سے صلہ رحمی کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں صلہ رحمی کرو۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو اجازت دی کہ وہ اپنے مشرک قرابت داروں کو کپڑے پہنا دیں مکہ میں۔
(١٨٣٣١) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُمِّہِ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَتْ : أَتَتْنِی أُمِّی رَاغِبَۃٌ فِی عَہْدِ قُرَیْشٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَصْلُہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔

أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَذِنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَسَا ذَا قَرَابَۃٍ لَہُ مُشْرِکًا بِمَکَّۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک کو قیدی فروخت کرنے کا بیان
(١٨٣٣٢) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مسجد کے دروازے کے پاس دھاری دار حلہ دیکھا تو کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو خرید کر جمعہ اور وفود کے لیے پہن لیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حلے آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حلہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دے دیا۔ تو حضرت عمر (رض) نے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ نے مجھے حلہ پہنا دیا ہے حالانکہ عطارد کے حلہ کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا تو حضرت عمر (رض) نے اپنے مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : { وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا ۔ } [الانسان ٨]” وہ اللہ کی محبت کی بنا پر مسکینوں، یتیموں، قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ “
(١٨٣٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَأَی حُلَّۃَ سِیَرَائَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَوِ اشْتَرَیْتَ ہَذِہِ فَتَلْبَسَہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَلِلْوُفُودِ إِذَا قَدِمُوا عَلَیْکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّمَا یَلْبَسُ ہَذِہِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَہُ فِی الآخِرَۃِ ۔ ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْہَا حُلَلٌ فَأَعْطَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْہَا حُلَّۃً فَقَالَ عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَسَوْتَنِیہَا وَقَدْ قُلْتَ فِی حُلَّۃِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنِّی لَمْ أَکْسُکَہَا لِتَلْبَسَہَا ۔ فَکَسَاہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخًا لَہُ مُشْرِکًا بِمَکَّۃَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِینًا وَیَتِیمًا وَأَسِیرًا } [الانسان ٨]

[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک کو قیدی فروخت کرنے کا بیان
(١٨٣٣٣) حضرت حسن اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ { وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا ۔ } [الانسان ٨] ” وہ اللہ کی محبت کی وجہ سے مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانے ہیں مراد مشرکوں کو۔ “
(١٨٣٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّی عَنِ الْحَسَنِ فِی قَوْلِہِ { وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِینًا وَیَتِیمًا وَأَسِیرًا } [الانسان ٨] قَالَ : کَانُوا مِنْ أَہْلِ الشِّرْکِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچے والدین کے تابع ہوتے ہیں جب صاف بات کرنے لگیں
(١٨٣٣٤) اسود بن سریع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کے دن ایک چھوٹا لشکر بھیجا، جنہوں نے مشرکین سے لڑائی کرتے ہوئے ان کے بچوں کو بھی قتل کردیا۔ جب وہ آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تمہیں بچوں کے قتل پر کس نے ابھارا ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ مشرکین کی اولاد تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مشرکین کی اولاد کیا تم سے بہتر نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے کہ ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کی بات سمجھ میں آنے لگ جائے۔

امام شافعی (رح) ابو عبدالرحمن کی روایت میں فرماتے ہیں : یہ وہ فطرت ہے جس پر اللہ رب العزت نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ ان کے لیے کوئی حکم لاگو نہیں کیا جاتا جب تک فصیح کلام نہ کریں اور ان کو والدین کے تابع ہی شمار کیا جاتا ہے۔
(١٨٣٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِیعٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ سَرِیَّۃً یَوْمَ حُنَیْنٍ فَقَاتَلُوا الْمُشْرِکِینَ فَأَفْضَی بِہِمُ الْقَتْلُ إِلَی الذُّرِّیَّۃِ فَلَمَّا جَائُ وا قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا حَمَلَکُمْ عَلَی قَتْلِ الذُّرِّیَّۃِ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا کَانُوا أَوْلاَدَ الْمُشْرِکِینَ قَالَ : وَہَلْ خِیَارُکُمْ إِلاَّ أَوْلاَدُ الْمُشْرِکِینَ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ مَا مِنْ نَسَمَۃٍ تُولَدُ إِلاَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتَّی یُعْرِبَ عَنْہَا لِسَانُہَا ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْہُ : ہِیَ الْفِطْرَۃُ الَّتِی فَطَرَ اللَّہُ عَلَیْہَا الْخَلْقَ فَجَعَلَہُمْ مَا لَمْ یُفْصِحُوا بِالْقَوْلِ لاَ حُکْمَ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ إِنَّمَا الْحُکْمُ لَہُمْ بِآبَائِہِمْ ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ١٨٠٨٩]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو آزاد کے بعد وارث نہ بنایا جائے گا یہاں تک کہ مسلمانوں میں اس کے نسب کی دلیل مل جائے

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کے سبب دیا جانے لگے تو لوگ مردوں کے خون اور اپنے مالوں کے دعوے کردیں لیکن قسم اس پر ہے جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا۔
(١٨٣٣٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کسی کو بھی قیدی کا وارث نہ بناتے تھے۔ (ایسا قیدی جس کو مختلف جگہوں پر رکھا جائے)
(١٨٣٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ لاَ یُوَرِّثُ الْحَمِیلَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو آزاد کے بعد وارث نہ بنایا جائے گا یہاں تک کہ مسلمانوں میں اس کے نسب کی دلیل مل جائے

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کے سبب دیا جانے لگے تو لوگ مردوں کے خون اور اپنے مالوں کے دعوے کردیں لیکن قسم اس پر ہے جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا۔
(١٨٣٣٦) امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے قاضی شریح کو خط لکھا کہ قیدی کا وارث کسی کو دلیل کے ذریعے بنایا جائے۔ اگرچہ دلیل ایک ٹکڑے پر ہی کیوں نہ ہو۔
(١٨٣٣٦) قَالَ وَأَخْبَرَنَا یَزِیدُ أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی شُرَیْحٍ أَنْ لاَ یُوَرِّثَ الْحَمِیلَ إِلاَّ بِبَیِّنَۃٍ وَإِنْ جَائَ تْ بِہِ فِی خِرْقَتِہَا۔ [حسن۔ بدون الزیادۃ الاخیرۃ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو آزاد کے بعد وارث نہ بنایا جائے گا یہاں تک کہ مسلمانوں میں اس کے نسب کی دلیل مل جائے

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کے سبب دیا جانے لگے تو لوگ مردوں کے خون اور اپنے مالوں کے دعوے کردیں لیکن قسم اس پر ہے جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا۔
(١٨٣٣٧) امام شعبی قاضی شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مجھے خط لکھا کہ آپ کسی کو قیدی کا وارث بغیر دلیل کے نہ بنائیں۔
(١٨٣٣٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ شُرَیْحٍ قَالَ : کَتَبَ إِلَیَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ تُوَرِّثِ الْحَمِیلَ إِلاَّ بِبَیِّنَۃٍ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو آزاد کے بعد وارث نہ بنایا جائے گا یہاں تک کہ مسلمانوں میں اس کے نسب کی دلیل مل جائے

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کے سبب دیا جانے لگے تو لوگ مردوں کے خون اور اپنے مالوں کے دعوے کردیں لیکن قسم اس پر ہے جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا۔
(١٨٣٣٨) خالی
(١٨٣٣٨) قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ شُرَیْحٍ مِثْلَہُ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو آزاد کے بعد وارث نہ بنایا جائے گا یہاں تک کہ مسلمانوں میں اس کے نسب کی دلیل مل جائے

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کے سبب دیا جانے لگے تو لوگ مردوں کے خون اور اپنے مالوں کے دعوے کردیں لیکن قسم اس پر ہے جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا۔
(١٨٣٣٩) ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے صحابہ سے قیدی کے بارے میں مشورہ لیا انھوں نے اس کے بارے میں بات کی تو حضرت عثمان نے کہا : ہم اللہ کے مال کا وارث صرف دلیل کے ذریعے بناتے ہیں۔
(١٨٣٣٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اسْتَشَارَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الْحَمِیلِ فَقَالُوا فِیہِ فَقَالَ عُثْمَانُ : مَا نَرَی أَنْ نُوَرِّثَ مَالَ اللَّہِ إِلاَّ بِالْبَیِّنَاتِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو آزاد کے بعد وارث نہ بنایا جائے گا یہاں تک کہ مسلمانوں میں اس کے نسب کی دلیل مل جائے

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کے سبب دیا جانے لگے تو لوگ مردوں کے خون اور اپنے مالوں کے دعوے کردیں لیکن قسم اس پر ہے جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا۔
(١٨٣٤٠) حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) فرماتے تھے کہ قیدی کو صرف دلیل کی بنا پر وارث بنایا جائے گا۔
(١٨٣٤٠) قَالَ وَأَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ یُوَرَّثُ الْحَمِیلُ إِلاَّ بِبَیِّنَۃٍ ۔ وَہَذِہِ الأَسَانِیدُ عَنْ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کُلُّہَا ضَعِیفَۃٌ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক: