আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৭৭৪৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتال کرنے کی اجازت کا بیان
(١٧٧٤١) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف اور ان کے ساتھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے نبی ! جب ہم مشرک تھے تو ہم بڑے عزت والے تھے اور جب ہم نے اسلام قبول کیا تو ہم ذلیل ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے درگزر کا حکم دیا گیا اور قتال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو قتال کرنے کا حکم دے دیا۔ جب قتال کا حکم ملا تو یہ لوگ قتال سے رک گئے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَھُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ } [النساء ٧٧]” کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو کہا گیا کہ (ابھی) اپنے ہاتھ لڑائی سے روکو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو پس جب ان پر قتال فرض ہوا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے ڈرنے لگ گیا۔ “
(١٧٧٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السِّیَّارِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ حَاتِمٍ الْبَاشَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَأَصْحَابًا لَہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ أَتَوُا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ کُنَّا فِی عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِکُونَ فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّۃً فَقَالَ : إِنِّی أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلاَ تُقَاتِلُوا الْقَوْمَ ۔ فَلَمَّا حَوَّلَہُ اللَّہُ إِلَی الْمَدِینَۃِ أَمَرَہُ بِالْقِتَالِ فَکُفُّوا فَأَنْزَلَ اللَّہُ { أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینِ قِیلَ لَہُمْ کَفُّوا أَیْدِیَکُمْ وَأَقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیقٌ مِنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ } [النساء ٧٧] ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৪৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے درگزر کے منسوخ ہونے اور ان سے قتال کی نہی کے منسوخ ہونے کا بیان اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کی ممانعت کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہوگیا : { وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ} [الب
(١٧٧٤٢) حضرت ابن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں : { فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ } [التوبۃ ٥] ” مشرکین کو جہاں پاؤ ان کو قتل کر دو ۔ “ اور اسی طرح اس آیت کے بارے میں { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ } [التوبۃ ٢٩] ” تم ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔ “ ان آیات سے مشرکین سے درگزر کو منسوخ کردیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں : { یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْھِمْ } [التوبۃ ٧٣] ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کفار اور منافقین سے قتال کیجیے اور ان پر سختی کیجیے۔ “ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس آیت میں کفار سے جہاد بالسیف کرنے کا حکم دیا اور منافقین سے جہاد باللسان کا حکم دیا اور ان پر نرمی کرنے کو ختم کردیا۔
(ہ ١٧٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ { فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ } [التوبۃ ٥] وَقَوْلِہِ { قَاتِلُوا الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ } [التوبۃ ٢٩] قَالَ فَنَسَخَ ہَذَا الْعَفْوَ عَنِ الْمُشْرِکِینَ وَقَوْلِہِ { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ } [التوبۃ ٧٣] فَأَمَرَہُ اللَّہُ بِجِہَادِ الْکُفَّارِ بِالسَّیْفِ وَالْمُنَافِقِینَ بِاللَّسَانِ وَأَذْہَبَ الرِّفْقَ عَنْہُمْ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৪৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے درگزر کے منسوخ ہونے اور ان سے قتال کی نہی کے منسوخ ہونے کا بیان اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کی ممانعت کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہوگیا : { وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ} [الب
(١٧٧٤٣) اسی سند سے حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق فرمایا : { وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ } [الأنعام ١٠٦] اور { لَّسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُسَیْطِرٍ ۔ } [الغاشیۃ ٢٢] انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہیں اور اسی طرح یہ قول { فَاعْفُ عَنْھُمْ وَ اصْفَحْ } [المائدۃ ١٣] ” ان کو معاف کیجیے اور ان سے درگزر کیجیے۔ “ اور ایسے ہی { وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا } [التغابن ١٤] اور { فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰی یَاْتِیِ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ } [البقرۃ ١٠٩] ” ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئی اور حکم صادر فرمائیں۔ “ اور یہ آیت کریمہ { قُلْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ } [الجاثیۃ ١٤] ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے “ اور ان جیسی جتنی بھی قرآن مجید میں آیات ہیں جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے درگزر کرنے کا حکم دیا وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ } [التوبۃ ٥] اور اس فرمان { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ } [التوبۃ ٢٩] ” تم ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔ “ سے مشرکین سے درگزر کو منسوخ کردیا گیا ہے۔
(١٧٧٤٣) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَوْلُہُ { وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِینَ } [الأنعام ١٠٦] وَ { لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُسَیْطِرٍ } [الغاشیۃ ٢٢] یَقُولُ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّارٍ { فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاصْفَحْ } [المائدۃ ١٣] { وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا } [التغابن ١٤] { فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّی یَأْتِیَ اللَّہُ بِأَمْرِہِ } [البقرۃ ١٠٩] { قُلْ لِلَّذِینَ آمَنُوا یَغْفِرُوا لِلَّذِینَ لاَ یَرْجُونَ أَیَّامَ اللَّہِ } [الجاثیۃ ١٤] وَنَحْوَ ہَذَا فِی الْقُرْآنِ أَمَرَ اللَّہُ بِالْعَفْوِ عَنِ الْمُشْرِکِینَ وَإِنَّہُ نَسَخَ ذَلِکَ کُلَّہُ قَوْلُہُ { اقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ } [التوبۃ ٥] وَقَوْلُہُ { قَاتِلُوا الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ } [التوبۃ ٥] إِلَی قَوْلِہِ { وَہُمْ صَاغِرُونَ } [التوبۃ ٢٩] فَنَسَخَ ہَذَا الْعَفْوَ عَنِ الْمُشْرِکِینَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৫০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے درگزر کے منسوخ ہونے اور ان سے قتال کی نہی کے منسوخ ہونے کا بیان اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کی ممانعت کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہوگیا : { وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ} [الب
(١٧٧٤٤) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْھُمْ وَ اقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَ لَا تَتَّخِذُوْامِنْھُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا ۔ اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ۔۔۔} [النساء ٨٩-٩٠] ” پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو انھیں پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی ہاتھ لگ جائیں۔ خبردار ! ان میں سے کسی کو بھی اپنا رفیق اور مدد گار نہ بنا بیٹھنا سوائے ان لوگوں کے جو اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے۔ “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : { لاَیَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ } [الممتحنۃ ٨] ” جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں کی اور نہ تم کو جلا وطن کیا اللہ تعالیٰ تم کو ان کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کرنے سے نہیں روکتا۔۔۔“ پھر یہ آیات منسوخ ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : { بَرَآئَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ } [التوبۃ ١] اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک { فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ } [التوبۃ ٥] ” اللہ اور اس کا رسول ان مشرکین سے اعلانِ برائت کرتے ہیں جن سے تم نے عہد کیا ہے۔ “ یہاں تک ” جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں بھی تم پاؤ قتل کر دو ۔ “ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا : { وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً } [التوبۃ ٣٦]” مشرکین سے تم سب مل کرو قتال کرو جس طرح وہ سب مل کر تم سے قتال کرتے ہیں۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ } [الأنفال ٦١] ” اور اگر یہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہوجائیں۔ “ یہ والی آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہوگئی : { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ } [التوبۃ ٢٩]” ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور نہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔ “
(١٧٧٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ہُوَ الْفَزَارِیُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { فَإِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوہُمْ وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوا مِنْہُمْ وَلِیًّا وَلاَ نَصِیرًا إِلاَّ الَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ} الآیَۃَ [النساء ٨٩-٩٠] قَالَ وَقَالَ { لاَ یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّینِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ } الآیَۃَ [الممتحنۃ ٨] ثُمَّ نَسَخَ ہَؤُلاَئِ الآیَاتِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ { بَرَائَ ۃٌ مِنَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ إِلَی الَّذِینَ عَاہَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ } [التوبۃ ١] إِلَی قَوْلِہِ { فَإِذَا انْسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ } [التوبۃ ٥] وَأَنْزَلَ { قَاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّۃً کَمَا یُقَاتِلُونَکُمْ کَافَّۃً } [التوبۃ ٣٦] قَالَ { وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا } [الأنفال ٦١] ثُمَّ نَسَخَ ذَلِکَ ہَذِہِ الآیَۃُ { قَاتِلُوا الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ }[التوبۃ ٢٩] ۔[ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৫১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے درگزر کے منسوخ ہونے اور ان سے قتال کی نہی کے منسوخ ہونے کا بیان اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کی ممانعت کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہوگیا : { وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ} [الب
(١٧٧٤٥) حضرت جندب بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک گروہ کو روانہ کیا اور اس پر عبیدہ بن حارث کو امیر بنایا اور جب وہ جانے کے لیے نکلا تو اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت نے رلا دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی جگہ پر عبداللہ بن جحش کو امیر بنادیا اور ایک خط لکھ کردیا اور ان سے کہا کہ اس کو فلاں جگہ پر کھول کر پڑھنا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اپنے ساتھ سفر پر لے جانے کے لیے اپنے کسی بھی ساتھی پر جبر نہ کرنا۔ “ جب وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں پر آپ نے خط کھولنے کا حکم دیا تھا تو انھوں نے خط کھول کر پڑھا اور ساتھ ہی انا للہ و انا الیہ راجعون بھی پڑھ دیا اور کہا کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی بات سنی اور اس کی اطاعت کی۔ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھیوں میں سے آدمی واپس آگئے اور باقی ان کے ساتھ چلتے رہے اور ابن حضرمی ملے اور انھوں نے اس کو قتل کردیا اور ان کو پتا نہ چلا کہ یہ رجب کا مہینہ ہے یا جمادی اخریٰ کا تو مشرکین نے کہا کہ تم نے حرمت والے مہینے میں قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ والی آیات نازل فرمائیں : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ۔۔۔} [البقرۃ ٢١٧] ” اس قول تک { وَ الْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] ” یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حرمت والے مہینے میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجیے کہ ان میں قتال کرنا تو کبیرہ گناہ ہے ۔۔۔ لیکن فتنہ پھیلانا تو قتل کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ بعض مسلمانوں نے کہا کہ اگر انھوں نے اچھا کام بھی کیا ہے تو اس پر ان کو اجر نہیں ملے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ جٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔} [البقرۃ ٢٨١] ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا تو یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ “
(١٧٧٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنِ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ أَبِی السَّوَّارِ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَہْطًا وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ عُبَیْدَۃَ بْنَ الْحَارِثِ قَالَ فَلَمَّا انْطَلَقَ لِیَتَوَجَّہَ بَکَی صَبَابَۃً إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَکَانَہُ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَحْشٍ وَکَتَبَ لَہُ کِتَابًا وَأَمَرَہُ أَنْ لاَ یَقْرَأَہُ إِلاَّ بِمَکَانِ کَذَا وَکَذَا وَقَالَ : لاَ تُکْرِہَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِکَ عَلَی الْمَسِیرِ مَعَکَ ۔
فَلَمَّا صَارَ ذَلِکَ الْمَوْضِعَ قَرَأَ الْکِتَابَ وَاسْتَرْجَعَ قَالَ : سَمْعًا وَطَاعَۃً لِلَّہِ وَرَسُولِہِ قَالَ فَرَجَعَ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِہِ وَمَضَی بَقِیَّتُہُمْ مَعَہُ فَلَقَوُا ابْنَ الْحَضْرَمِیِّ فَقَتَلُوہُ فَلَمْ یُدْرَ ذَلِکَ مِنْ رَجَبٍ أَوْ مِنْ جُمَادَی الآخِرَۃِ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ قَتَلْتُمْ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ فَنَزَلَتْ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ} [البقرۃ ٢١٧] إِلَی قَوْلِہِ { وَالْفِتْنَۃُ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] قَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِینَ لَئِنْ کَانُوا أَصَابُوا خَیْرًا مَا لَہُمْ أَجْرٌ فَنَزَلَتْ {إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا وَجَاہَدُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أُولَئِکَ یَرْجُونَ رَحْمَۃَ اللَّہِ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ} [البقرۃ ٢٨١] ۔ [حسن ]
فَلَمَّا صَارَ ذَلِکَ الْمَوْضِعَ قَرَأَ الْکِتَابَ وَاسْتَرْجَعَ قَالَ : سَمْعًا وَطَاعَۃً لِلَّہِ وَرَسُولِہِ قَالَ فَرَجَعَ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِہِ وَمَضَی بَقِیَّتُہُمْ مَعَہُ فَلَقَوُا ابْنَ الْحَضْرَمِیِّ فَقَتَلُوہُ فَلَمْ یُدْرَ ذَلِکَ مِنْ رَجَبٍ أَوْ مِنْ جُمَادَی الآخِرَۃِ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ قَتَلْتُمْ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ فَنَزَلَتْ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ} [البقرۃ ٢١٧] إِلَی قَوْلِہِ { وَالْفِتْنَۃُ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] قَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِینَ لَئِنْ کَانُوا أَصَابُوا خَیْرًا مَا لَہُمْ أَجْرٌ فَنَزَلَتْ {إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا وَجَاہَدُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أُولَئِکَ یَرْجُونَ رَحْمَۃَ اللَّہِ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ} [البقرۃ ٢٨١] ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৫২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے درگزر کے منسوخ ہونے اور ان سے قتال کی نہی کے منسوخ ہونے کا بیان اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کی ممانعت کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہوگیا : { وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ} [الب
(١٧٧٤٦) حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں میں سے ایک لشکر روانہ کیا اور اس پر عبداللہ بن جحش (رض) کو امیر بنایا۔ وہ سفر کرتے کرتے ایک نخلستان میں اترے، وہاں پر انھوں نے قریش کے تجارتی قافلے میں عمرو بن حضرمی کو پایا اور انھیں قتل کردیا اور اسی طرح انھوں نے پوری حدیث بیان کی جس میں اس آیت کے نزول کا بھی ذکر ہے { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ }[البقرۃ ٢١٧] اور اس میں انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرمی کی دیت دی اور حرمت والے مہینے کی حرمت کو برقرار رکھا جیسا کہ اس کی حرمت کو وہ لوگ باقی رکھتے تھے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { بَرَآئَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ} [التوبۃ ١] ” اللہ اور اس کا رسول بری ہیں۔ “
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے اس آیت : { وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً } کہ مشرکین سے سب مل کر قتال کرو اس کو نسخ میں عام قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے اس آیت : { وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً } کہ مشرکین سے سب مل کر قتال کرو اس کو نسخ میں عام قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم
(١٧٧٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ سَرِیَّۃً مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ جَحْشٍ الأَسَدِیَّ فَانْطَلَقُوا حَتَّی ہَبَطُوا نَخْلَۃَ فَوَجَدُوا بِہَا عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِیِّ فِی عِیرِ تِجَارَۃٍ لِقُرَیْشٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قَتْلِ ابْنِ الْحَضْرَمِیِّ وَنُزُولِ قَوْلِہِ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ } [البقرۃ ٢١٧] قَالَ : فَبَلَغَنَا أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَقَلَ ابْنَ الْحَضْرَمِیِّ وَحَرَّمَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ کَمَا کَانَ یُحَرِّمُہُ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { بَرَائَ ۃٌ مِنَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ } [التوبۃ ١]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَأَنَّہُ أَرَادَ قَوْلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّۃً } [التوبۃ ٣٦] وَالآیَۃَ الَّتِی ذَکَرَہَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَعَمُّ فِی النَّسْخِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَأَنَّہُ أَرَادَ قَوْلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّۃً } [التوبۃ ٣٦] وَالآیَۃَ الَّتِی ذَکَرَہَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَعَمُّ فِی النَّسْخِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৫৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے درگزر کے منسوخ ہونے اور ان سے قتال کی نہی کے منسوخ ہونے کا بیان اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کی ممانعت کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہوگیا : { وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ} [الب
(١٧٧٤٧) مخرمہ بن بکیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ کفار سے حرمت والے مہینوں میں مسلمانوں کا قتال کرنا درست ہے ؟ تو انھوں نے کہا : ہاں ! اور کہا کہ یہ سلیمان بن یسار کا قول ہے۔
(١٧٧٤٧) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَخْرَمَۃُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : وَاسْتَفْتَی ہَلْ یَصْلُحُ لِلْمُسْلِمِینَ أَنْ یُقَاتِلُوا الْکُفَّارَ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ فَقَالَ سَعِیدٌ : نَعَمْ ۔ وَقَالَ ذَلِکَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৫৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے درگزر کے منسوخ ہونے اور ان سے قتال کی نہی کے منسوخ ہونے کا بیان اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کی ممانعت کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہوگیا : { وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ} [الب
(١٧٧٤٨) ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ۔۔۔} [البقرۃ ٢١٧] کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اور اب حرمت والے مہینوں اور اس کے علاوہ میں ان سے قتال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(١٧٧٤٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ سُفْیَانَ عَنْ قَوْلِ اللَّہِ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ} [البقرۃ ٢١٧] قَالَ : ہَذَا شَیْئٌ مَنْسُوخٌ وَقَدْ مَضَی وَلاَ بَأْسَ بِالْقِتَالِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَغَیْرِہِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৫৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کی فرضیت کا بیان اللہ تعالیٰ کا اس شخص کے بارے میں فرمان ہے جو اپنے دین کے بارے میں فتنوں میں مبتلا کیا جاتا ہے اور ہجرت پر قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا حتیٰ کہ مرجاتا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ
(١٧٧٤٩) محمد بن عبدالرحمن بن نوفل اسدی نے کہا : مدینہ والوں کو ایک فوج نکالنے کا حکم دیا گیا اور اس میں میرا بھی نام لکھا گیا۔ (اسی دوران) میری ملاقات عکرمہ مولیٰ ابن عباس سے ہوئی تو انھوں نے مجھے بڑی سختی سے منع کیا اور کہا کہ مجھے ابن عباس (رض) نے بتایا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ تھے جو مشرکین کی فوج کے ساتھ مل گئے اور ان کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہ ملے تو جب کبھی مسلمانوں کی طرف سے تیر آتا تو ان کو لگ جاتا اور یہ مرجاتے یا ویسے قتل ہوجاتے تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَا فَاُولًٰئِکَ مَاْوٰیھُمْ جَھَنَّمُ وَ سَآئَ تْ مَصِیْرًا ۔ } [النساء ٩٧] ” جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں : تم کس حال میں تھے (ہجرت کیوں نہ کی) ؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے ؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ پہنچنے کی بری جگہ ہے۔ “
(١٧٧٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ وَرَجُلٌ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الأَسَدِیُّ قَالَ : قُطِعَ عَلَی أَہْلِ الْمَدِینَۃِ بَعْثٌ کُتِبْتُ فِیہِ فَلَقِیتُ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَنَہَانِی أَشَدَّ النَّہْیِ ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ کَانُوا مَعَ الْمُشْرِکِینَ یُکَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِکِینَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَیَأْتِی السَّہْمُ یُرْمِی بِہِ فَیُصِیبُ أَحَدَہُمْ فَیَقْتُلُہُ أَوْ یُضْرَبُ فَیُقْتَلُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی ذِکْرُہُ فِیہِمْ {إِنَّ الَّذِینَ تَوَفَّاہُمُ الْمَلاَئِکَۃُ ظَالِمِی أَنْفُسِہِمْ قَالُوا فِیمَ کُنْتُمْ قَالُوا کُنَّا مُسْتَضْعَفِینَ فِی الأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَکُنْ أَرْضُ اللَّہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوا فِیہَا فَأُولَئِکَ مَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَسَائَ تْ مَصِیرًا } [النساء ٩٧] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ ۔ [صحیح۔ بخاری ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৫৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کی فرضیت کا بیان اللہ تعالیٰ کا اس شخص کے بارے میں فرمان ہے جو اپنے دین کے بارے میں فتنوں میں مبتلا کیا جاتا ہے اور ہجرت پر قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا حتیٰ کہ مرجاتا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ
(١٧٧٥٠) حضرت جریر بن عبداللہ بجلی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی نے مشرکین کے ساتھ قیام کیا تو وہ اللہ کے ذمہ سے بری ہوگیا۔
(١٧٧٥٠) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَاہُ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَجَلِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ أَقَامَ مَعَ الْمُشْرِکِینَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৫৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کی فرضیت کا بیان اللہ تعالیٰ کا اس شخص کے بارے میں فرمان ہے جو اپنے دین کے بارے میں فتنوں میں مبتلا کیا جاتا ہے اور ہجرت پر قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا حتیٰ کہ مرجاتا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ
(١٧٧٥١) حضرت جریربن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! اپنا ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں اور مجھ پر شرط بھی لگائیے جو آپ میرے بارے میں مناسب جانیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں آپ کی اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ آپ اللہ کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور مؤمن کی خیر خواہی کریں اور مشرک سے الگ رہیں۔
(١٧٧٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ أَبِی نُخَیْلَۃَ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ یُبَایِعُ النَّاسَ فَقُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ ابْسُطْ یَدَکَ حَتَّی أُبَایِعَکَ وَاشْتَرِطْ عَلَیَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالشَّرْطِ مِنِّی۔ قَالَ : أُبَایِعُکَ عَلَی أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ وَتُقِیمَ الصَّلاَۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ وَتُنَاصِحَ الْمُؤْمِنَ وَتُفَارِقَ الْمُشْرِکَ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৫৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کی فرضیت کا بیان اللہ تعالیٰ کا اس شخص کے بارے میں فرمان ہے جو اپنے دین کے بارے میں فتنوں میں مبتلا کیا جاتا ہے اور ہجرت پر قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا حتیٰ کہ مرجاتا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ
(١٧٧٥٢) حضرت یزید بن عبداللہ بن شخیر فرماتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ اس اونٹوں کے باڑے میں تھے کہ ہمارے پاس ایک دیہاتی آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کے پاس ایک کھال کا ٹکڑا تھا یا چمڑے کا تو ہم نے کہا : لگتا ہے کہ یہ ہمارے شہر کا نہیں۔ اس نے کہا ہاں میں تمہارے شہر کا نہیں ہوں۔ میرے پاس ایک خط ہے جو مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوا کردیا تھا تو قوم نے کہا : دکھاؤ ! تو میں نے اس سے وہ لے لیا اور اس کو پڑھا تو اس میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ خط محمد رسول اللہ ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کی طرف سے ہے بنی زہیر بن اقیش کے لیے۔ ابو العلاء نے کہا کہ یہ عکل قبیلے میں سے ایک قبیلہ ہے اگر تم لا الہ الا اللہ کی گواہی دے دو اور نماز قائم کرنے لگ جاؤ اور زکوۃ ادا کرنے لگ جاؤ اور مشرکین سے الگ ہو جاؤ اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا اور میرا حصہ اور میرے اہل و عیال کا حصہ ادا کرنا۔ جب تم یہ کرنے لگ جاؤ گے تو تم اللہ اور اس کے رسول کی امان میں آ جاؤ گے۔
(١٧٧٥٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ قُرَّۃَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ بِہَذَا الْمِرْبَدِ إِذْ أَتَی عَلَیْنَا أَعْرَابِیٌّ شَعِثُ الرَّأْسِ مَعَہُ قِطْعَۃُ أَدِیمٍ أَوْ قِطْعَۃُ جِرَابٍ فَقُلْنَا کَأَنَّ ہَذَا لَیْسَ مِنْ أَہْلِ الْبَلَدِ فَقَالَ أَجَلْ لاَ ہَذَا کِتَابٌ کَتَبَہُ لِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ الْقَوْمُ ہَاتِ فَأَخَذْتُہُ فَقَرَأْتُہُ فَإِذَا فِیہِ : بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذَا کِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ رَسُولِ اللَّہِ لِبَنِی زُہَیْرِ بْنِ أُقَیْشٍ ۔ قَالَ أَبُو الْعَلاَئِ : وَہُمْ حَیٌّ مِنْ عُکْلٍ : إِنَّکُمْ إِنْ شَہِدْتُمْ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَقَمْتُمُ الصَّلاَۃَ وَآتَیْتُمُ الزَّکَاۃَ وَفَارَقْتُمُ الْمُشْرِکِینَ وَأَعْطَیْتُمْ مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ وَسَہْمَ النَّبِیِّ وَالصَّفِیَّ ۔ وَرُبَّمَا قَالَ : وَصَفِیَّہُ فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّہِ وَأَمَانِ رَسُولِہِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৫৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستضعفین کے عذر کے بارے میں حکم کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ سَبِیْلًا فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ و
(١٧٧٥٣) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں جتنے بھی عسیٰ استعمال ہوئے ہیں یہ واجب کے معنیٰ میں استعمال ہوئے ہیں۔
(١٧٧٥٣) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کُلُّ عَسَی فِی الْقُرْآنِ فَہِیَ وَاجِبَۃٌ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৬০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستضعفین کے عذر کے بارے میں حکم کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ سَبِیْلًا۔ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ و
(١٧٧٥٤) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کریمہ کی تلاوت کی : { اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ سَبِیْلًا ۔ } [النساء ٩٨] اور کہا کہ میں اور میری والدہ ان لوگوں میں شامل تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہے۔
(١٧٧٥٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ : أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا تَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ {إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ } [النساء ٩٨] قَالَ : کُنْتُ وَأُمِّی مِمَّنْ عَذَرَ اللَّہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ۔ [صحیح۔ بخاری ١٣٥٧]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৬১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستضعفین کے عذر کے بارے میں حکم کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ سَبِیْلًا ۔ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ و
(١٧٧٥٥) عبیداللہ بن یزید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے سنا : وہ فرما رہے تھے کہ میں اور میری والدہ مستضعفین میں سے تھے۔ میری والدہ عورتوں میں اور میں بچوں میں شامل تھا۔
(١٧٧٥٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ : أَنَا وَأُمِّی مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ کَانَتْ أُمِّی مِنَ النِّسَائِ وَأَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سُفْیَانَ ۔
[صحیح۔ بخاری ]
[صحیح۔ بخاری ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৬২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستضعفین کے عذر کے بارے میں حکم کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ سَبِیْلًا ۔ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ و
(١٧٧٥٦) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم ہجرت کے لیے اکٹھے ہوئے تو میں نے اور عیاش بن ابی ربیعہ اور ہشام بن عاص نے آپس میں طے کیا کہ ہم فلاں جگہ صبح صبح اکٹھے ہو کر وہیں سے مدینہ کو ہجرت کرنی ہے تو جو صبح کے وقت وہاں نہ پہنچا اور اس کو روک لیا گیا تو اس کے دونوں ساتھی سفر شروع کردیں گے تو کہتے ہیں کہ میں اور عیاش بن ابی ربیعہ اس جگہ پر پہنچ گئے اور ہشام بن عاص کو قید کرلیا گیا اور اس کو سخت تکلیفوں میں ڈالا گیا اور وہ ان تکلیفوں اور فتنوں میں گھر گیا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم کہا کرتے تھے کہ اللہ ان لوگوں کی توبہ قبول کرنے والے نہیں کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ انھوں نے اللہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کی۔ پھر دنیا کی مصیبتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے اس سے پھرگئے اور وہ اپنے بارے میں کہا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیات نازل کیں : { قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ } اس قول تک { جَہَنَّمَ مَثْوًی لِلْمُتَکَبِّرِیْنَ ۔ } [الزمر ٦٠] ” اے نبی ! میرے بندوں سے کہہ دو ، جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کرلی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت سے نہ امید نہ ہوں۔ بیشک اللہ تعالیٰ سارے گناہ معاف کرنے والا ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ان کو میں نے اپنے ہاتھ سے ایک خط میں لکھ کر ہشام کی طرف بھیج دیا۔ پھر ہشام بن عاص کہتے ہیں کہ جب یہ خط میرے پاس آیا تو میں اسے لے کر ذی طوی کی طرف نکل گیا اور میں اس کو اوپر سے نیچے تک (پڑھتا) اور اللہ سے دعا کرتا : یا اللہ ! مجھے اس کی سمجھ عطاء فرما تو پھر میں نے پہچان لیا کہ یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئیں ہیں کیونکہ ہم اپنے بارے میں کہا کرتے تھے۔ پھر کہتے ہیں کہ میں اس کے بعد لوٹا اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جا ملا۔ آخر کار حضرت ہشام (رض) حضرت ابوبکر صدیق کے دور خلافت میں اور ان کے لشکر میں شہید ہوئے۔
(١٧٧٥٦) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی نَافِعٌ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا اجْتَمَعْنَا لِلْہِجْرَۃِ اتَّعَدْتُ أَنَا وَعَیَّاشُ بْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ وَہِشَامُ بْنُ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ وَقُلْنَا الْمِیعَادُ بَیْنَنَا التَّنَاضُبُ مِنْ أَضَاۃِ بَنِی غِفَارٍ فَمَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمْ لَمْ یَأْتِہَا فَقَدْ حُبِسَ فَلْیَمْضِ صَاحِبَاہُ فَأَصْبَحَتُ عِنْدَہُ أَنَا وَعَیَّاشُ بْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ وَحُبِسَ عَنَّا ہِشَامٌ وَفُتِنَ فَافْتَتَنَ وَقَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ فَکُنَّا نَقُولُ مَا اللَّہُ بِقَابِلٍ مِنْ ہَؤُلاَئِ تَوْبَۃً قَوْمٌ عَرَفُوا اللَّہُ وَآمَنُوا بِہِ وَصَدَّقُوا رَسُولَہُ ثُمَّ رَجَعُوا عَنْ ذَلِکَ لِبَلاَئٍ أَصَابَہُمْ مِنَ الدُّنْیَا وَکَانُوا یَقُولُونَہُ لأَنْفُسِہِمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِمْ { قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَۃِ اللَّہِ } إِلَی قَوْلِہِ { مَثْوًی لِلْمُتَکَبِّرِینَ } [الزمر ٦٠] قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبْتُہَا بِیَدِی کِتَابًا ثُمَّ بَعَثْتُ بِہَا إِلَی ہِشَامٍ فَقَالَ ہِشَامُ بْنُ الْعَاصِ فَلَمَّا قَدِمَتْ عَلَیَّ خَرَجْتُ بِہَا إِلَی ذِی طُوًی فَجَعَلْتُ أُصَعِّدُ بِہَا وَأُصَوِّبُ لأَفْہَمَہَا فَقُلْتُ اللَّہُمَّ فَہِّمْنِیہَا فَعَرَفْتُ أَنَّمَا أُنْزِلَتْ فِینَا لِمَا کُنَّا نَقُولُ فِی أَنْفُسِنَا وَیُقَالُ فِینَا فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ عَلَی بَعِیرِی فَلَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُتِلَ ہِشَامٌ شَہِیدًا بِأَجْنَادِینَ فِی وِلاَیَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৬৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستضعفین کے عذر کے بارے میں حکم کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ سَبِیْلًا ۔ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ و
(١٧٧٥٧) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت : { ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰھَدُوْا وَ صَبَرُوْٓا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔} ” جن لوگوں نے فتنے میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی اور جہاد کیا اور صبر کا ثبوت دیا، بیشک تیرا پروردگار ان باتوں کے بعد انھیں بخشنے والا اور مہربان ہے۔ “ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہیں مکہ میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔
(١٧٧٥٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی حَکِیمُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِیمَنْ کَانَ یُفْتَنُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَکَّۃَ { ثُمَّ إِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِینَ ہَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاہَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّک مِنْ بَعْدِہَا لَغَفُورٌ رَحِیمٌ} [النحل ١١٠] ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৬৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستضعفین کے عذر کے بارے میں حکم کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ سَبِیْلًا ۔ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ و
(١٧٧٥٨) حضرت مجاہد (رض) فرماتے ہیں کہ عیاش بن ابی ربیعہ نے اسلام قبول کیا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کی تو ان کے پاس ان کے اخیافی بھائی ابو جہل بن ہشام اور ان کے ساتھ ایک اور آدمی آیا اور انھوں نے ان سے کہا کہ تیری ماں تجھے اپنی قربت اور اپنے حق کی قسم دیتی ہے کہ تو اس کی طرف لوٹ آ تو حضرت عیاش بن ابی ربیعہ ان کے ساتھ لوٹ آئے تو انھوں نے ان کو باندھ دیا اور مدینہ میں لا کر طرح طرح کی سزائیں دیں۔
(١٧٧٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : أَسْلَمَ عَیَّاشُ بْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ وَہَاجَرَ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَجَائَ ہُ أَبُو جَہْلِ بْنُ ہِشَامٍ وَہُوَ أَخُوہُ لأُمِّہِ وَرَجُلٌ آخَرُ مَعَہُ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ أُمَّکَ تُنَاشِدُکَ رَحِمَہَا وَحَقَّہَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَیْہَا فَأَقْبَلَ مَعَہُمَا فَرَبَطَاہُ حَتَّی قَدِمَا بِہِ مَکَّۃَ فَکَانَا یُعَذِّبَانِہِ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৬৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستضعفین کے عذر کے بارے میں حکم کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ سَبِیْلًا ۔ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ و
(١٧٧٥٩) حضرت عکرمہ (رض) کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے مکہ میں اسلام کا اقرار کرلیا۔ جب لوگوں نے بدر کی طرف کوچ کیا تو انھوں نے ان کو بھی نکلوا لیا اور ساتھ لے لیا تو یہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا قتل کردیے گئے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں : { اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ۔۔۔} اس قول تک { وَ سَآئَ تْ مَصِیْرًا ۔ } [النساء ٩٧] ” جب ظالم لوگوں کی فرشتے روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں : تم کن میں تھے ؟ “ ( (حِیْلَۃً ) ) کا معنی ہے اس کی طرف اٹھنا، جانا اور ( (سَبِیْلًا) ) کا معنیٰ ہے مدینہ کی طرف راستہ، پس مدینہ کے مسلمانوں نے مکہ کے مسلمانوں کی طرف خط لکھے جب ان کی طرف خط لکھے گئے تو مکہ کے ان نو مسلمانوں میں سے کچھ نکلے تو مشرکین نے ان کو پکڑ لیا اور ان کو طرح طرح کی مصیبتوں سے دو چار کیا تو ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : { اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ۔۔۔} [النحل ١٠٦]” جس پر جبر کیا گیا اور اس کا دل ایمان سے لبریز ہو تو اس پر کلمہ کفر کہنے پر کوئی گناہ نہیں۔ “
(١٧٧٥٩) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُاللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : کَانَ نَاسٌ بِمَکَّۃَ قَدْ أَقَرُّوا بِالإِسْلاَمِ فَلَمَّا خَرَجَ النَّاسُ إِلَی بَدْرٍ لَمْ یَبْقَ أَحَدٌ۔
إِلاَّ أَخْرَجُوہُ فَقُتِلَ أُولَئِکَ الَّذِینَ أَقَرُّوا بِالإِسْلاَمِ فَنَزَلَتْ فِیہِمْ {إِنَّ الَّذِین تَوَفَّاہُمُ الْمَلاَئِکَۃُ ظَالِمِی أَنْفُسِہِمْ } إِلَی قَوْلِہِ { وَسَائَ تْ مَصِیرًا } [النساء ٩٧-٩٨] { حِیلَۃ } نُہُوضًا إِلَیْہَا وَ { سَبِیلاً } [آل عمران ٩٧] طَرِیقًا إِلَی الْمَدِینَۃِ فَکَتَبَ الْمُسْلِمُونَ الَّذِینَ کَانُوا بِالْمَدِینَۃِ إِلَی مَنْ کَانَ بِمَکَّۃَ فَلَمَّا کُتِبَ إِلَیْہِمْ خَرَجَ نَاسٌ مِمَّنْ أَقَرُّوا بِالإِسْلاَمِ فَاتَّبَعَہُمُ الْمُشْرِکُونَ فَأَکْرَہُوہُمْ حَتَّی أَعْطُوہُمُ الْفِتْنَۃَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِمْ {إِلاَّ مَنْ أُکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِیمَانِ } [النحل ١٠٦] ۔ [صحیح ]
إِلاَّ أَخْرَجُوہُ فَقُتِلَ أُولَئِکَ الَّذِینَ أَقَرُّوا بِالإِسْلاَمِ فَنَزَلَتْ فِیہِمْ {إِنَّ الَّذِین تَوَفَّاہُمُ الْمَلاَئِکَۃُ ظَالِمِی أَنْفُسِہِمْ } إِلَی قَوْلِہِ { وَسَائَ تْ مَصِیرًا } [النساء ٩٧-٩٨] { حِیلَۃ } نُہُوضًا إِلَیْہَا وَ { سَبِیلاً } [آل عمران ٩٧] طَرِیقًا إِلَی الْمَدِینَۃِ فَکَتَبَ الْمُسْلِمُونَ الَّذِینَ کَانُوا بِالْمَدِینَۃِ إِلَی مَنْ کَانَ بِمَکَّۃَ فَلَمَّا کُتِبَ إِلَیْہِمْ خَرَجَ نَاسٌ مِمَّنْ أَقَرُّوا بِالإِسْلاَمِ فَاتَّبَعَہُمُ الْمُشْرِکُونَ فَأَکْرَہُوہُمْ حَتَّی أَعْطُوہُمُ الْفِتْنَۃَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِمْ {إِلاَّ مَنْ أُکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِیمَانِ } [النحل ١٠٦] ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৬৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستضعفین کے عذر کے بارے میں حکم کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ سَبِیْلًا ۔ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْھُمْ و
(١٧٧٦٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ( (سمع اللہ لمن حمدہ) ) کہتے تو سجدہ کرنے سے پہلے آپ ان لوگوں کے لیے دعا کرتے ” اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات دے اے اللہ ! مؤمنین میں سے جو کمزور لوگ ہیں ان کو نجات دے، اے اللہ ! اپنی پکڑ کو مضر قبیلے پر سخت کر دے اے اللہ ! ان پر ایسی قحط سالی ڈال جس طرح تو نے یوسف کے لوگوں پر قحط سالی ڈالی تھی۔
(١٧٧٦٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا قَالَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ۔ قَبْلَ أَنْ یَسْجُدَ قَالَ : اللَّہُمَّ أَنْجِ عَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ اللَّہُمَّ أَنْجِ سَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ اللَّہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیدَ بْنَ الْوَلِیدِ اللَّہُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اللَّہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ اللَّہُمَّ اجْعَلْہَا سِنِینَ کَسِنِی یُوسُفَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شَیْبَانَ ۔
[صحیح۔ بخاری ]
[صحیح۔ بخاری ]
তাহকীক: