আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৭৭৬৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے گھر سے ہجرت کے لیے نکلے اور اسے راستے میں موت آجائے
(١٧٧٦١) حضرت سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ خزاعہ قبیلہ سے ایک (مسلمان) آدمی مکہ میں تھا اور وہ بیمار ہوگیا اس کا نام ضمرہ بن عیص تھا یا کہ عیص ابن ضمرہ بن زنباع تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ وہ اسے مدینہ پہنچائیں۔ انھوں نے اسے چار پائی پر اٹھا لیا اور مدینہ کی جانب سفر کردیا۔ جب وہ تنعیم مقام پر پہنچے تو یہ آدمی سفر میں ہی فوت ہوگیا تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : { وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْ بَیْتِہٖ مُھَا جِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ } [النساء ١٠٠] ” جو شخص اپنے گھر سے اللہ کے لیے ہجرت کرلے اور پھر اسے راستے میں موت آجائے تو اس کا اجر اللہ پر واقع ہوگیا۔ “ یہی تفسیر حسن بصری (رض) اور دوسرے مفسرین نے کی ہے۔
(١٧٧٦١) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ خُزَاعَۃَ کَانَ بِمَکَّۃَ فَمَرِضَ وَہُوَ ضَمْرَۃُ بْنُ الْعِیصِ أَوِ الْعِیصُ بْنُ ضَمْرَۃَ بْنِ زِنْبَاعٍ فَأَمَرَ أَہْلَہُ فَفَرَشُوا لَہُ عَلَی سَرِیرٍ فَحَمَلُوہُ وَانْطَلَقُوا بِہِ مُتَوَجِّہًا إِلَی الْمَدِینَۃِ فَلَمَّا کَانَ بِالتَّنْعِیمِ مَاتَ فَنَزَلَتْ { وَمَنْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہِ مُہَاجِرًا إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ یُدْرِکُہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ } [النساء ١٠٠] وَکَذَلِکَ قَالَہُ الْحَسَنُ وَغَیْرُہُ مِنَ الْمُفَسِّرِینَ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৬৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٦٢) حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عباس (رض) نے اسلام قبول کیا آپ مکہ میں حاجیوں کو پانی پلانے والے عہدہ پر کام کرتے رہے اور ہجرت نہ کی۔
(١٧٧٦٢) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُلاَثَۃَ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : کَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ أَسْلَمَ وَأَقَامَ عَلَی سِقَایَتِہِ وَلَمْ یُہَاجِرْ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৬৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٦٣) محمد بن اسحاق (رض) فرماتے ہیں کہ ابو العاص (رض) اسلام قبول کرنے کے بعد پھر مکہ میں لوٹ آئے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی غزوے میں شرکت نہ کی۔ اس کے بعد پھر مدینہ میں آئے اور ذی الحجہ سن ١٢ ھ ابوبکر (رض) کی خلافت میں وفات پائی اور زبیر بن عوام کو وصیت کی۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اپنے لشکروں کو حکم دیتے تھے کہ وہ اسلام قبول کرنے والوں سے کہیں کہ اگر تم نے ہجرت کی تو تم کو بھی وہی ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور اگر تم نے ہجرت نہ کی تو تم دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہو گے اور ان کو وہی کچھ دیا جاتا ہے جو ان کے لیے جائز اور مناسب ہو۔
(١٧٧٦٣) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْعَاصِ رَجَعَ إِلَی مَکَّۃَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ فَلَمْ یَشْہَدْ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَشْہَدًا ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ بَعْدَ ذَلِکَ فَتُوُفِّیَ فِی ذِی الْحِجَّۃِ مِنْ سَنَۃِ اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ فِی خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَوْصَی إِلَی الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَانَ یَأْمُرُ جُیُوشَہُ أَنْ یَقُولُوا لِمَنْ أَسْلَمَ إِنْ ہَاجَرْتُمْ فَلَکُمْ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ وَإِنْ أَقَمْتُمْ فَأَنْتُمْ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ وَلَیْسَ یُخَیِّرُہُمْ إِلاَّ فِیمَا یَحِلُّ لَہُمْ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَانَ یَأْمُرُ جُیُوشَہُ أَنْ یَقُولُوا لِمَنْ أَسْلَمَ إِنْ ہَاجَرْتُمْ فَلَکُمْ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ وَإِنْ أَقَمْتُمْ فَأَنْتُمْ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ وَلَیْسَ یُخَیِّرُہُمْ إِلاَّ فِیمَا یَحِلُّ لَہُمْ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৭০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٦٤) حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کسی کو لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو اسے خاص طور پر تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیتے اور اسے یہ بھی حکم دیتے کہ جب تیری ملاقات اپنے مشرک دشمنوں سے ہو تو پہلے ان کو تین چیزوں کی دعوت دینا۔ اگر وہ تین میں سے کسی ایک کو بھی قبول کرلیں تو تم ان کی اس بات کو مان لینا اور ان سے قتال نہ کرنا۔ سب سے پہلے ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا۔ اگر وہ قبول کرلیں تو تم بھی ان سے ان کے اسلام کو قبول کرنا اور ان سے قتال نہ کرنا۔ پھر ان کو اس جگہ کو بدلنے کا حکم دینا اور ان کو دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا اور ساتھ یہ بھی بتا دینا کہ اگر وہ یہ کام کرتے ہیں تو ان کے حقوق و فرائض ویسے ہی ہوں گے جیسے باقی مہاجرین کے ہیں اور اگر وہ ہجرت سے انکار کریں اور انپے وطن اور شہر کو پسند کریں تو ان سے کہنا کہ اس صورت میں تمہارے حقوق و فرائض دیہات کے مسلمان جیسے ہوں گے اور ان کا مال فیٔ اور مال غنیمت میں کوئی حصہ نہ ہوگا سوائے اس صورت کے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔
(١٧٧٦٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی سَرِیَّۃٍ أَوْ جَیْشٍ أَوْصَاہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ بِتَقْوَی اللَّہِ وَبِمَنْ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا وَقَالَ : إِذَا لَقِیتَ عَدُوَّکَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَادْعُہُمْ إِلَی إِحْدَی ثَلاَثِ خِصَالٍ أَوْ خِلاَلٍ فَأَیَّتُہُنَّ أَجَابُوکَ إِلَیْہَا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ادْعُہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ فَإِنْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ثُمَّ ادْعُہُمْ إِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ إِلَی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ وَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِکَ أَنَّ لَہُمْ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ وَأَنَّ عَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِینَ فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَہُمْ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ یَکُونُونَ مِثْلَ أَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ یَجْرِی عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللَّہِ الَّذِی کَانَ یَجْرِی عَلَی الْمُؤْمِنِینَ وَلاَ یَکُونُ لَہُمْ فِی الْفَیْئِ وَالْغَنِیمَۃِ نَصِیبٌ إِلاَّ أَنْ یُجَاہِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ وَکِیعٍ
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ وَرَدَتْ أَخْبَارٌ فِی مِثْلِ ہَذَا الْمَعْنَی۔ [صحیح۔ مسلم ]
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ وَرَدَتْ أَخْبَارٌ فِی مِثْلِ ہَذَا الْمَعْنَی۔ [صحیح۔ مسلم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৭১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٦٥) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک دیہاتی آیا۔ اس نے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ہجرت کا معاملہ بڑا مشکل ہے۔ کیا تیرے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا : جی ! آپ نے فرمایا : ان میں سے کسی اونٹ کو عاریتاً دیتے ہو ؟ اس نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : کیا اس کے ورود کے دن اس کا دودھ دوہتے ہو اور تقسیم کرتے ہو ؟ اس نے کہا : جی ! آپ نے فرمایا : تو پھر ان کو لے کر دریاؤں اور جنگلوں کی طرف نکل جاؤ اور وہاں جا کر اچھے اعمال کرو۔ اللہ تعالیٰ تیرے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔
(١٧٧٦٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ الْبَیْرُوتِیُّ أَخْبَرَنَا أَبِی أَخْبَرَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنِی عَطَائُ بْنُ یَزِیدَ اللَّیْثِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَسَأَلَہُ عَنِ الْہِجْرَۃِ فَقَالَ : إِنَّ الْہِجْرَۃَ شَأْنُہَا شَدِیدٌ فَہَلْ لَکَ إِبِلٌ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَہَلْ تَمْنَحُ مِنْہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَہَلْ تَحْلِبُہَا یَوْمَ وِرْدِہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَاعْمَلْ مِنْ وَرَائِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّہَ لَنْ یَتِرَکَ مِنْ عَمَلِکَ شَیْئًا ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৭২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٦٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا۔ چاہے وہ ہجرت کرے یا اپنی ہی پیدائش والی جگہ پر بیٹھا رہے۔ صحابہ کرام (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم اس چیز کی لوگوں کو خبر نہ دے دیں ؟ آپ نے فرمایا : ” بیشک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور ہر دو درجوں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان اور زمین کا ہے اور جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنتِ فردوس کا سوال کرو کیونکہ یہ درمیانی اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اسی سے ہی جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔
(١٧٧٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ یَعْنِی ابْنَ سُلَیْمَانَ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ آمَنَ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ عَلَی اللَّہِ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ہَاجَرَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ جَلَسَ فِی أَرْضِہِ الَّتِی وُلِدَ فِیہَا ۔ قَالُوا : یَا رَسُول اللَّہِ أَفَلاَ نُنْبِئُ النَّاسَ بِذَلِکَ ؟ قَالَ : إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّہَا لِلْمُجَاہِدِینَ فِی سَبِیلِہِ مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّہَ فَسَلُوہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہُ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ وَفَوْقَہُ عَرْشُ اللَّہِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْہَارُ الْجَنَّۃِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ صَالِحٍ عَنْ فُلَیْحٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৭৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٦٧) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” فتح مکہ کے دن (آج کے بعد) کوئی ہجرت نہیں، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں (جہاد) کی طرف بلایا جائے تو پھر تم نکلو۔ “
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان ( (لا ہجرۃ) ) کا مطلب یہ ہے (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے) کہ اہل مکہ میں سے جس نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ہے اس پر کوئی ہجرت واجب نہیں کیونکہ یہ دار الاسلام اور دار الامن بن گیا ہے اور کسی کو اس کے دین کے متعلق اس شہر میں فتنہ کا ڈر نہیں اور اسی طرح مکہ کے علاوہ دوسری جگہیں جب کہ وہ فتح ہونے کے بعد امن وامان کا گہوارہ بن جائیں (وہاں سے بھی ہجرت کرنا واجب نہیں) ۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان ( (لا ہجرۃ) ) کا مطلب یہ ہے (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے) کہ اہل مکہ میں سے جس نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ہے اس پر کوئی ہجرت واجب نہیں کیونکہ یہ دار الاسلام اور دار الامن بن گیا ہے اور کسی کو اس کے دین کے متعلق اس شہر میں فتنہ کا ڈر نہیں اور اسی طرح مکہ کے علاوہ دوسری جگہیں جب کہ وہ فتح ہونے کے بعد امن وامان کا گہوارہ بن جائیں (وہاں سے بھی ہجرت کرنا واجب نہیں) ۔
(١٧٧٦٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : الْعَلاَئُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّۃَ : لاَ ہِجْرَۃَ وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ جَرِیرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
وَقَوْلُہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ ہِجْرَۃَ ۔ یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ لاَ ہِجْرَۃَ وُجُوبًا عَلَی مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ بَعْدَ فَتْحِہَا فَإِنَّہَا قَدْ صَارَتْ دَارَ إِسْلاَمٍ وَأَمْنٍ فَلاَ یَخَافُ أَحَدٌ فِیہَا أَنْ یُفْتَنَ عَنْ دِینِہِ وَکَذَلِکَ غَیْرُ مَکَّۃَ إِذَا صَارَ فِی مَعْنَاہَا بَعْدَ الْفَتْحِ فِی الأَمْنِ ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : الْعَلاَئُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّۃَ : لاَ ہِجْرَۃَ وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ جَرِیرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
وَقَوْلُہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ ہِجْرَۃَ ۔ یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ لاَ ہِجْرَۃَ وُجُوبًا عَلَی مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ بَعْدَ فَتْحِہَا فَإِنَّہَا قَدْ صَارَتْ دَارَ إِسْلاَمٍ وَأَمْنٍ فَلاَ یَخَافُ أَحَدٌ فِیہَا أَنْ یُفْتَنَ عَنْ دِینِہِ وَکَذَلِکَ غَیْرُ مَکَّۃَ إِذَا صَارَ فِی مَعْنَاہَا بَعْدَ الْفَتْحِ فِی الأَمْنِ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৭৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٦٨) حضرت مجاشع بن مسعود سلمی کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی ابو معبد کو فتح مکہ کے بعد رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آیا اور میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ان سے ہجرت پر بیعت لیں تو آپ نے فرمایا : ” ہجرت جنہوں نے کرنی تھی انھوں نے کرلی اور (اب ہجرت نہیں) تو میں نے کہا : یا رسول ! تو پھر آپ ان سے کسی چیز پر بیعت لیں گے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام، جہاد اور خیر پر، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے بیعت لی۔ ابو عثمان کہتے ہیں کہ میری ملاقات ابو معبد سے ہوئی تو میں نے ان کو مجاشع کے قول کی خبر دی تو انھوں نے کہا کہ مجاشع نے سچ کہا۔
(١٧٧٦٨) وَفِی مِثْلِ ذَلِکَ وَرَدَ مَا أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا سُوَیْدٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِیُّ أَخْبَرَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ أَخْبَرَنِی مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِیُّ قَالَ : جِئْتُ بِأَخِی أَبِی مَعْبَدٍ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بَایِعْہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ قَالَ : قَدْ مَضَتِ الْہِجْرَۃُ لأَہْلِہَا ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَعَلَی أَیِّ شَیْئٍ تُبَایِعُہُ ؟ قَالَ : عَلَی الإِسْلاَمِ وَالْجِہَادِ وَالْخَیْرِ ۔ فَبَایَعَہُ قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَلَقِیتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُہُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ فَقَالَ : صَدَقَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ سَعِیدٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِیُّ أَخْبَرَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ أَخْبَرَنِی مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِیُّ قَالَ : جِئْتُ بِأَخِی أَبِی مَعْبَدٍ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بَایِعْہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ قَالَ : قَدْ مَضَتِ الْہِجْرَۃُ لأَہْلِہَا ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَعَلَی أَیِّ شَیْئٍ تُبَایِعُہُ ؟ قَالَ : عَلَی الإِسْلاَمِ وَالْجِہَادِ وَالْخَیْرِ ۔ فَبَایَعَہُ قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَلَقِیتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُہُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ فَقَالَ : صَدَقَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ سَعِیدٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৭৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٦٩) حضرت یعلیٰ بن امیہ فرماتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن اپنے والد کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : یا رسول اللہ ! میرے والد سے ہجرت پر بیعت لیجیے تو آپ نے فرمایا : نہیں ” بلکہ میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں کیونکہ ہجرت فتح مکہ کے دن سے منقطع ہوگئی ہے۔ “
(١٧٧٦٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ : سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَیَّۃَ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُنَیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأَبِی یَوْمَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بَایِعْ أَبِی عَلَی الْہِجْرَۃِ قَالَ : بَلْ أُبَایِعُہُ عَلَی الْجِہَادِ وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْہِجْرَۃُ یَوْمَ الْفَتْحِ ۔ کَذَا وَجَدْتُہُ وَإِنَّمَا ہُوَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৭৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧٠) حضرت یعلیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتح مکہ کے دن آپ نے امیہ کے بارے میں بات کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا یا رسول اللہ ! میرے باپ سے ہجرت پر بیعت لیجیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہجرت کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں۔ “
(١٧٧٧٠) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنِی عُقَیْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ یَعْلَی أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ یَعْلَی قَالَ : کَلَّمْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی أَبِی أُمَیَّۃَ یَوْمَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بَایِعْ أَبِی عَلَی الْہِجْرَۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : بَلْ أُبَایِعُہُ عَلَی الْجِہَادِ فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْہِجْرَۃُ ۔ وَرَوَاہُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَیَّۃَ ابْنِ أَخِی یَعْلَی۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৭৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧١) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ صفوان بن امیہ سے کہا گیا اور وہ مکہ کے بالائی حصہ میں تھے کہ جس نے ہجرت نہ کی اس کا کوئی دین نہیں تو انھوں نے کہا کہ جب تک میں مدینہ میں نہیں جاتا اس سے پہلے میں گھر میں داخل نہیں ہوں گا۔ کہتے ہیں کہ وہ مدینہ میں آئے اور حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ہاں اترے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ آپ نے کہا : اے ابو وہب ! تجھے کیا چیز لے آئی تو انھوں نے کہا کہ میں نے یہ سنا ہے کہ جس نے ہجرت نہیں کی اس کا کوئی دین نہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو وہب ! بطحاء مکہ کی طرف لوٹ جاؤ اور اپنے گھروں میں سکون کرو کیونکہ ہجرت کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تم کو (جہاد وغیرہ) کے لیے بلایا جائے تو پھر دیر نہ کرنا۔ (قصہ کے علاوہ)
(١٧٧٧١) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْخُسْرَوْجِرْدِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی ابْنُ کَاسِبٍ حَدَّثَنِی سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قِیلَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ وَہُوَ بِأَعْلَی مَکَّۃَ : إِنَّہُ لاَ دِینَ لِمَنْ لَمْ یُہَاجِرْ فَقَالَ : لاَ أَصِلُ إِلَی بَیْتِی حَتَّی أَقْدَمَ الْمَدِینَۃَ فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَنَزَلَ عَلَی الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا جَائَ بِکَ یَا أَبَا وَہْبٍ ؟ ۔ قَالَ قِیلَ : إِنَّہُ لاَ دِینَ لِمَنْ لَمْ یُہَاجِرْ ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: ارْجِعْ أَبَا وَہْبٍ إِلَی أَبَاطِحِ مَکَّۃَ فَقِرُّوا عَلَی سَکِنَتِکُمْ فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْہِجْرَۃُ وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ وَإِنِ اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৭৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧٢) حضرت جبیر بن مطعم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں رہتے ہوئے کوئی اجر نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں تمہارا ضرور اجر ملے گا اگرچہ تم لومڑی کی بل میں بھی ہوئے۔
(١٧٧٧٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَاہَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ رَجُلٍ سَمِعَ جُبَیْرَ بْنَ مُطْعِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ نَاسًا یَقُولُونَ لَیْسَ لَنَا أُجُورٌ بِمَکَّۃَ قَالَ : لَتَأْتِیَنَّکُمْ أُجُورُکُمْ وَلَوْ کُنْتُمْ فِی جُحْرِ ثَعْلَبٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৭৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧٣) حضرت فدیک (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فدیک ! نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو اور برائی کو چھوڑ دو ۔ پھر تمہارا جہاں دل چاہے تو اپنی قوم کی زمین میں رہو۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا یہ خیال ہے کہ آپ نے فرمایا : جب تم یہ کام کرنے والے بن جاؤ گے تو تم مہاجر ہو جاؤ گے۔
(١٧٧٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا فُدَیْکُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِیرٍ بْنِ فُدَیْکٍ قَالَ : جَائَ فُدَیْکٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُمْ یَزْعُمُونْ أَنَّ مَنْ لَمْ یُہَاجِرْ ہَلَکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : یَا فُدَیْکُ أَقِمِ الصَّلاَۃَ وَآتِ الزَّکَاۃَ وَاہْجُرِ السُّوئَ وَاسْکُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمِکَ حَیْثُ شِئْتَ ۔ قَالَ وَأَظُنُّ أَنَّہُ قَالَ : تَکُنْ مُہَاجِرًا ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৮০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧٤) یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ زبیدی کی روایت میں ہے کہ تم مہاجر بن جاؤ گے۔
(١٧٧٧٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِیدِ الزُّبَیْدِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِیرِ بْنِ فُدَیْکٍ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَحْوَہُ لَیْسَ فِی حَدِیثِ الزُّبَیْدِیِّ : تَکُنْ مُہَاجِرًا ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৮১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ دیہات میں سے کچھ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ہمارے کچھ قریبی لوگ آئے اور انھوں نے آکر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہجرت اور جہاد کے بغیر کوئی عمل فائدہ مند نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاں کہیں بھی رہو، تم اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرو اور اس پر جنت کی بشارت بھی حاصل کرلو۔
(١٧٧٧٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُمَیْرٍ حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِیُّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أُنَاسٌ مِنْ أَہْلِ الْبَدْوِ فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدِمَ عَلَیْنَا أُنَاسٌ مِنْ قَرَابَاتِنَا فَزَعَمُوا أَنَّہُ لاَ یَنْفَعُ عَمَلٌ دُونَ الْہِجْرَۃِ وَالْجِہَادِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ- (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: حَیْثُمَا کُنْتُمْ فَأَحْسِنُوا عِبَادَۃَ اللَّہِ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৮২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧٦) عطاء کہتے ہیں کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) کے پاس آیا اور وہ اعتکاف بیٹھی تھیں یا مجاورہ کا دوسرا ترجمہ ہے کہ وہ ان کے پڑوس میں رہتی تھیں تو ان سے عبید نے کہا : اے ہنتاہ ! (یہ حضرت عائشہ کی کنیت وغیرہ ہے) میں آپ سے ہجرت کے متعلق سوال کرتا ہوں۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے کہا : فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں، ہجرت تو فتح مکہ سے پہلے تھی جب آدمی اپنے دین کی خاطر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کرتا تو جب فتح ہوگئی ہے تو اب آدمی جہاں چاہے اللہ کی عبادت کرسکتا ہے اسے عبادت سے منع نہیں کیا جائے گا۔
(١٧٧٧٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ : أَنَّہُ جَائَ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَعَ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ وَکَانَتْ مُجَاوِرَۃً قَالَ فَقَالَ عُبَیْدٌ : أَیْ ہَنْتَاہُ أَسْأَلُکِ عَنِ الْہِجْرَۃِ ۔ قَالَتْ : لاَ ہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ إِنَّمَا کَانَتِ الْہِجْرَۃُ قَبْلَ الْفَتْحِ حِینَ یُہَاجِرُ الرَّجُلُ بِدِینِہِ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَمَّا حِینَ کَانَ الْفَتْحُ حَیْثُ شَائَ الرَّجُلُ عَبَدَ اللَّہَ لاَ یُمْنَعُ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৮৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧٧) حضرت عطاء کہتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) سے ملاقات کی تو انھوں نے ان سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا : آج کوئی ہجرت نہیں، ہجرت تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کی جاتی تھی۔ جب مؤمنین کو ان کے دین کے حوالے سے فتنے میں ڈالا جاتا تھا تو وہ اپنے دین کو بچانے کے لیے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے تھے۔ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اتنا پھیلا دیا ہے کہ آدمی جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کرسکتا ہے۔ اب تو جہاد اور نیت باقی ہے۔
یہ تمام احادیث اہل مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے وجوب کی طرف لوٹتی ہیں یا ان کے علاوہ ایسے شہر کی طرف لوٹتی ہیں جو دار الاسلام یا دار الامن بن گئے ہیں اور اگر کوئی آدمی دار الحرب میں ہے اور اس کو وہاں پر اسلام پر چلنا مشکل ہے تو اس کے لیے ہجرت باقی ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آجائے اور اپنے دین کو بچا لے۔
یہ تمام احادیث اہل مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے وجوب کی طرف لوٹتی ہیں یا ان کے علاوہ ایسے شہر کی طرف لوٹتی ہیں جو دار الاسلام یا دار الامن بن گئے ہیں اور اگر کوئی آدمی دار الحرب میں ہے اور اس کو وہاں پر اسلام پر چلنا مشکل ہے تو اس کے لیے ہجرت باقی ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آجائے اور اپنے دین کو بچا لے۔
(١٧٧٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : زُرْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَعَ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ فَسَأَلَہَا عَنِ الْہِجْرَۃِ قَالَتْ : لاَ ہِجْرَۃَ الْیَوْمَ إِنَّمَا کَانَتِ الْہِجْرَۃُ إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ کَانَ الْمُؤْمِنُونَ یَفِرُّونَ بِدِینِہِمْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ أَنْ یُفْتَنُوا فَقَدْ أَفْشَی اللَّہُ الإِسْلاَمَ فَحَیْثُمَا شَائَ رَجُلٌ عَبَدَ رَبَّہُ وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ وَابْنِ جُرَیْجٍ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَعْنَی ہَذَا۔
وَکُلُّ ذَلِکَ یَرْجِعُ إِلَی انْقِطَاعِ الْہِجْرَۃِ وُجُوبًا عَنْ أَہْلِ مَکَّۃَ وَغَیْرِہَا مِنَ الْبِلاَدِ بَعْدَ مَا صَارَتْ دَارَ أَمَنٍ وَإِسْلاَمٍ فَأَمَّا دَارُ حَرْبٍ أَسْلَمَ فِیہَا مَنْ یَخَافُ الْفِتْنَۃَ عَلَی دِینِہِ وَلَہُ مَا یُبَلِّغُہُ إِلَی دَارِ الإِسْلاَمِ فَعَلَیْہِ أَنْ یُہَاجِرَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠٩٠]
وَکُلُّ ذَلِکَ یَرْجِعُ إِلَی انْقِطَاعِ الْہِجْرَۃِ وُجُوبًا عَنْ أَہْلِ مَکَّۃَ وَغَیْرِہَا مِنَ الْبِلاَدِ بَعْدَ مَا صَارَتْ دَارَ أَمَنٍ وَإِسْلاَمٍ فَأَمَّا دَارُ حَرْبٍ أَسْلَمَ فِیہَا مَنْ یَخَافُ الْفِتْنَۃَ عَلَی دِینِہِ وَلَہُ مَا یُبَلِّغُہُ إِلَی دَارِ الإِسْلاَمِ فَعَلَیْہِ أَنْ یُہَاجِرَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠٩٠]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৮৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧٨) ابو ہند امیر معاویہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرما رہے تھے : جب تک توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوگا اس وقت تک ہجرت کا دروازہ بھی بند نہیں ہوگا اور توبہ کا دروازہ اس وقت بند ہوگا جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔
(١٧٧٧٨) وَفِی مِثْلِ ذَلِکَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِیُّ أَخْبَرَنَا عِیسَی عَنْ حَرِیزِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی عَوْفٍ عَنْ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لاَ تَنْقَطِعُ الْہِجْرَۃُ حَتَّی تَنْقَطِعَ التَّوْبَۃُ وَلاَ تَنْقَطِعُ التَّوْبَۃُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৮৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کی بستی میں اس آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت جس پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کو اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دی۔ ان میں عباس بن عبدالمطلب وغیرہ تھے جبکہ ان پر فتنہ کا آپ کو
(١٧٧٧٩) حضرت عبداللہ بن سعدی مالک بن حسل قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں، فرماتے ہیں کہ میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ جب وہ اپنی سواریوں سے اترے تو انھوں نے کہا کہ آپ سواریوں کی حفاظت کریں۔ جب ہم اپنی حاجت پوری کریں گے تو تم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے جانا اور اپنی ضرورت پوری کرلینا اور میں سب سے چھوٹا تھا جب وہ اپنی حاجت پوری کر کے آگئے تو انھوں نے مجھے کہا کہ اب تم چلے جاؤ۔ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو آپ نے فرمایا : تمہاری کیا حاجت ہے ؟ میں نے کہا : میری حاجت اور سوال یہ ہے کہ آپ مجھے ہجرت کے متعلق بتائیے کیا ہجرت منقطع ہوگئی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک دشمن سے قتال کیا جائے گا ہجرت منقطع نہیں ہوگی۔
(١٧٧٧٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ قَاضَی دِمَشْقَ عَنْ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ السَّعْدِیِّ مِنْ بَنِی مَالِکِ بْنِ حِسْلٍ : أَنَّہُ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِہِ فَلَمَّا نَزَلُوا قَالُوا احْفَظْ لَنَا رِکَابَنَا حَتَّی نَقْضِیَ حَاجَتَنَا ثُمَّ تَدْخُلُ وَکَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقُضِی لَہُمْ حَاجَتَہُمْ ثُمَّ قَالُوا لَہُ ادْخُلْ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : حَاجَتُکَ ؟ قَالَ : حَاجَتِی أَنْ تُخْبِرَنِی أَنْقَطَعَتِ الْہِجْرَۃُ ؟ قَالَ : حَاجَتُکَ مِنْ خَیْرِ حَوَائِجِہِمْ لاَ تَنْقَطِعُ الْہِجْرَۃُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ ۔ [صحیح لغیرہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৮৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٨٠) حضرت سعد بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کے لیے میرے پاس آئے اور میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ مجھے اسی زمین میں موت آئے جہاں سے میں نے ہجرت کی ہے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں سارے مال کی وصیت کر دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہیں “ میں نے کہا : آدھے مال کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ میں نے کہا : ایک تہائی مال کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم اپنے وارثوں مال داری کی حالت میں چھوڑ جاؤ یہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو فقیری کی حالت میں چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور آپ جب کبھی بھی اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کریں گے تو وہ آپ کے حق میں صدقہ بن جائے گا حتیٰ کہ وہ نوالہ جو تم اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتے ہو (اس پر بھی اجر ملتا ہے) اور شاید کہ رفعت عطاء فرمائے اور تیری وجہ سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور دوسروں (یعنی کافروں، مشرکوں) کو نقصان۔
(١٧٧٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ وَأَبُو نُعَیْمٍ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ نِی النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعُودُنِی وَکَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِی ہَاجَرَ مِنْہَا فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُوصِی بِمَالِی کُلِّہِ ؟ قَالَ : لاَ ۔
قُلْتُ : فَالشَّطْرُ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ فَالثُّلُثُ ؟ قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ إِنَّکَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْ أَنْ تَدَعَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ بِأَیْدِیہِمْ وَإِنَّکَ مَہْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَۃٍ فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ حَتَّی اللُّقْمَۃَ تَرْفَعُہَا إِلَی فِی امْرَأَتِکَ وَلَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یَرْفَعَکَ فَیَنْتَفِعَ بِکَ أُنَاسٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
قُلْتُ : فَالشَّطْرُ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قُلْتُ فَالثُّلُثُ ؟ قَالَ : الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ إِنَّکَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْ أَنْ تَدَعَہُمْ عَالَۃً یَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ بِأَیْدِیہِمْ وَإِنَّکَ مَہْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَۃٍ فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ حَتَّی اللُّقْمَۃَ تَرْفَعُہَا إِلَی فِی امْرَأَتِکَ وَلَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یَرْفَعَکَ فَیَنْتَفِعَ بِکَ أُنَاسٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক: