আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৭৭৮৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٨١) مذکورہ حدیث کو اسی سند اور اسی معنیٰ کے ساتھ بیان کیا سوائے ان الفاظ کی زیادتی کے ساتھ کہ میں مکہ میں مریض تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور وہ ناپسند کرتے تھے کہ ان کی وفات اسی زمین پر ہو جس سے انھوں نے ہجرت کی ہے۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن عفرائ ! اللہ تجھ پر رحم کرے۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔
(١٧٧٨١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ السَّمَّاکُ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : یَعُودُنِی وَأَنَا مَرِیضٌ بِمَکَّۃَ وَہْوَ یَکْرَہُ أَنْ یَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِی ہَاجَرَ مِنْہَا فَقَالَ : یَرْحَمُکَ اللَّہُ ابْنَ عَفْرَائَ ۔ ثُمَّ ذَکَرَہُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ بخاری و مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٨٢) عامر بن سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ان کو ان کے والد نے خبر دی کہ وہ فتح مکہ کے سال مکہ میں بیمار ہوئے اور اس بیماری میں ان کو اپنی موت کا اندیشہ ہوا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیادت کرنے کے لیے آئے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو میرے بعد ہرگز پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔ پس تم نیک اعمال کرتے رہو اور جو بھی تم اللہ کی رضا کے لیے کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے تمہارے مقام و مرتبے کو بڑھاتے جائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تجھے پیچھے چھوڑ دیا جائے اور تیری وجہ سے اللہ بعض لوگوں کو نفع پہنچائیں اور بعضوں کو نقصان۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی : اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور ان کو ایڑیوں کے بل نہ لوٹا دینا لیکن فقیر سعد بن خولہ، ان کے لیے مرثیہ پڑھتے کہ وہ مکہ میں ہی فوت ہوئے۔
(١٧٧٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی بْنِ أَسَدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ مَرِضَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَی مِنْہُ عَلَی الْمَوْتِ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعُودُہُ وَہُوَ بِمَکَّۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُخَلَّفُ عَنْ ہِجْرَتِی ؟ قَالَ : إِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِی فَتَعْمَلَ عَمَلاً تُرِیدُ بِہِ وَجْہَ اللَّہِ إِلاَّ ازْدَدْتَ بِہِ رِفْعَۃً وَدَرَجَۃً وَلَعَلَّکَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّی یَنْتَفِعَ بِکَ أَقْوَامٌ وَیُضَرَّ بِکَ آخَرُونَ اللَّہُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِی ہِجْرَتَہُمْ وَلاَ تَرُدَّہُمْ عَلَی أَعْقَابِہِمْ لَکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ ۔ یَرْثِی لَہُ أَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٨٣) اسی سند اور انہی معنیٰ کے ساتھ مذکورہ بالا روایت منقول ہے سوائے ان الفاظ کے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے مرثیہ پڑھتے کہ وہ مکہ میں فوت ہوئے اور سفیان نے کہا کہ سعد بن خولہ بنی عامر بن لؤی قبیلہ کے ایک آدمی ہیں۔
(١٧٧٨٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : یَرْثِی لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ ۔ قَالَ سُفْیَانُ : وَسَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ بخاری، تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٨٤) حضرت سعد (رض) کے تین بیٹے سب کے سب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے تو وہ رونے لگ گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کون سی چیز رلا رہی ہے ؟ انھوں نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ میری موت اس زمین میں واقع ہو جس سے میں نے ہجرت کی ہے۔ جیسا کہ سعد بن خولہ کی وفات اسی شہر میں ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! سعد کو شفا دے۔ اے اللہ ! سعد کو شفا دے۔ تین دفعہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی۔
(١٧٧٨٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنصُورٍ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْیَرِیِّ عَنْ ثَلاَثَۃٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ کُلُّہُمْ یُحَدِّثُہُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَخَلَ عَلَی سَعْدٍ یَعُودُہُ بِمَکَّۃَ فَبَکَی فَقَالَ : مَا یُبْکِیکَ ؟ ۔ قَالَ : قَدْ خَشِیتُ أَنْ أَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِی ہَاجَرْتُ مِنْہَا کَمَا مَاتَ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَۃَ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اللَّہُمَّ اشْفِ سَعْدًا اللَّہُمَّ اشْفِ سَعْدًا ۔ ثَلاَثَ مِرَارٍ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٨٥) حضرت عمرو قاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور جب آپ حنین جانے لگے تو آپ نے حضرت سعد (رض) کو پیچھے چھوڑ دیا اور جب آپ جعرانہ سے عمرہ کرنے آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سعد کے پاس تشریف لائے اور وہ تکلیف سے نڈھال غشی کی حالت میں تھے۔ (افاقہ کے بعد) حضرت سعد (رض) نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میں مال دار آدمی اور میرا وارث بھی کوئی نہیں ہے (یعنی کلالہ) کیا میں سارے مال کی وصیت کر جاؤں یا صدقہ کر دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ انھوں نے کہا : کیا دو تہائی مال کا صدقہ کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ پھر حضرت سعد (رض) نے کہا : کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔ انھوں نے پھر کہا : کیا ایک تہائی مال کو صدقہ کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! اور یہ بھی زیادہ ہے۔ پھر حضرت سعد (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ایسی جگہ پر بیماری میں مبتلا ہوں، جہاں سے میں نے ہجرت کی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے درجات کو بلند کرے اور تیرے ذریعے سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچائے اور بعض کو فائدہ۔ پھر آپ نے کہا : اے عمرو بن قاری ! اگر میرے بعد سعد فوت ہوجائے تو اسے یہاں دفن کرنا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے راستے کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا۔ یہ روایت بھی سفیان کی روایت کے موافق ہے جس میں ہے کہ یہ واقعہ عام الفتح میں پیش آیا جبکہ باقی رواۃ زہری کے طریق سے کہتے ہیں کہ یہ واقعہ حجۃ الوداع کے سال میں پیش آیا اور اسی طرح اس روایت میں ابن خیثم نام کے آدمی میں بھی اختلاف کیا گیا ہے جو عمرو بن قاری کے پوتے ہیں۔
(١٧٧٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَمْرٍو الْقَارِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِیضًا حَیْثُ خَرَجَ إِلَی حُنَیْنٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَنِ الْجِعْرَانَۃِ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَیْہِ وَہُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنَّ لِی مَالاً وَإِنِّی أُورَثُ کَلاَلَۃً فَأُوصِی بِمَالِی کُلِّہِ أَوْ أَتَصَدَّقُ بِہِ ۔ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْہِ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَأَوْصَی بِشَطْرِہِ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَذَاکَ کَثِیرٌ ۔ قَالَ : أَیْ رَسُولَ اللَّہِ أُصِیبُ بِالدَّارِ الَّتِی خَرَجْتُ مِنْہَا مُہَاجِرًا۔ قَالَ : إِنِّی لأَرْجُو أَنْ یَرْفَعَکَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ یُکَادَ بِکَ أَقْوَامٌ وَیَنْتَفِعُ بِکَ آخَرُونَ یَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِیِّ إِنْ مَاتْ سَعْدٌ بَعْدِی فَہَا ہُنَا ادْفِنْہُ نَحْوَ طَرِیقِ الْمَدِینَۃِ ۔ وَأَشَارَ بِیَدِہِ ہَکَذَا۔ ہَذِہِ الرِّوَایَۃُ تُوَافِقُ رِوَایَۃَ سُفْیَانَ فِی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ عَامَ الْفَتْحِ وَسَائِرُ الرُّوَاۃِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالُوا فِیہِ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَاخْتُلِفَ فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَلَی ابْنِ خُثَیْمٍ فِی اسْمِ حَفَدَۃِ عَمْرِو بْنِ الْقَارِیِّ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٨٦) حضرت عبدالرحمن اعرج (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد پر ایک آدمی مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر وہ یہاں فوت ہوجائیں تو انھیں اس جگہ دفن نہ کرنا۔
(١٧٧٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ قَالَ : خَلَّفَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی سَعْدٍ رَجُلاً فَقَالَ : إِنْ مَاتَ فَلاَ تَدْفِنُوہُ بِہَا ۔ [ضعیف۔ مرسل ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٨٧) حضرت ابو بردہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : کیا یہ بات آدمی کے لیے ناپسندیدہ ہے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہو اسی میں اس کو موت آئے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! یہ روایت بھی مرسل ہے اور اس سے ماقبل بھی۔
(١٧٧٨٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ قَالَ قَالَ سَعْدٌ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَیُکْرَہُ لِلرَّجُلِ أَنْ یَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِی ہَاجَرَ مِنْہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ وَکَذَلِکَ مَا قَبْلَہُ ۔ [صحیح لغیرہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٨٨) حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ آدمی کے لیے یہ چیز ناپسندیدہ ہے کہ جس زمین سے وہ ہجرت کرے اور پھر اسی ہی زمین پر اسے موت آئے۔
(١٧٧٨٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَفْصٍ بِنَیْسَابُورَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ خَشْرَمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ الأَسَدِیِّ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوسَی عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَکْرَہُ لِلرَّجُلِ أَنْ یَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِی یُہَاجِرُ مِنْہَا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٨٩) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ میں داخل ہوتے تو فرماتے : اے اللہ ! ہمیں اس زمین پر موت نہ دینا جس سے ہم نے ہجرت کی ہے۔ وکیع نے عبداللہ بن سعید کی متابعت کی ہے۔
(١٧٧٨٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَیْسَرِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا دَخَلَ مَکَّۃَ قَالَ : اللَّہُمَّ لاَ تَجْعَلْ مَنَایَانَا فِیہَا حَتَّی تُخْرِجَنَا مِنْہَا ۔ تَابَعَہُ وَکِیعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٩٠) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ لوگ سو اونٹ کی طرح ہیں جن میں ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔

ابن شہاب زہری کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) فرمایا کرتے تھے : اے مہاجرین کی جماعت ! اپنے مالوں کو مکہ میں جمع نہ کرو اور ان کو اپنے ہجرت کے گھر میں مہیا نہ کرو، کیونکہ آدمی کا دل اس کے مال کے پاس ہوتا ہے۔
(١٧٧٩٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : الْقَاسِمُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ الْہَمَذَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَخِی عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عَتِیقٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : إِنَّمَا النَّاسُ کَإِبِلِ مِائَۃٍ لاَ تَکَادُ تَجِدُ فِیہَا رَاحِلَۃً ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ لاَ تَتَّخِذُوا الأَمْوَالَ بِمَکَّۃَ وَأَعِدُّوہَا بِدَارِ ہِجْرَتِکُمْ فَإِنَّ قَلْبَ الرَّجُلِ عِنْدَ مَالِہِ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کے بعد اعرابی بننے کے بارے میں کیا بیان ہوا ہے
(١٧٧٩١) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا اور اس کے گواہ بننے والے جاننے کے باوجود اور کودنے والی اور کدوانے والی اور صدقہ کو لپیٹنے والا اور ہجرت کے بعد مرتد اعرابی بننے والا یہ سارے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان پر ملعون ہیں۔
(١٧٧٩١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عِیسَی الرَّمْلِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : آکِلُ الرِّبَا وَمُؤْکِلُہُ وَشَاہِدَاہُ إِذَا عَلِمَاہُ وَالْوَاشِمَۃُ وَالْمُؤْتَشِمَۃُ وَلاَوِی الصَّدَقَۃِ وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِیًّا بَعْدَ الْہِجْرَۃِ مَلْعُونُونَ عَلَی لِسَانِ مُحَمَّدٍ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ تَفَرَّدَ بِہِ یَحْیَی بْنُ عِیسَی ہَکَذَا۔ وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَغَیْرُہُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَرَوَاہُ ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے زمانے میں اس بارے میں جو رخصت آئی ہے اس کا بیان اور جو اس کے ہم معنیٰ کے بارے میں وارد ہوا ہے
(١٧٧٩٢) حضرت سلمہ بن اکوع (رض) حجاج بن یوسف کے پاس گئے تو انھوں نے کہا : اے ابن اکوع ! تم اپنی ایڑیوں کے بل پھرگئے ہو دیہاتی بن کر ہجرت کے بعد۔ انھوں نے کہا : نہیں، لیکن مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیہات میں رہنے کی اجازت دی تھی۔
(١٧٧٩٢) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ وَدَاوُدُ بْنُ مِخْرَاقٍ الْفَارْیَابِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ : أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی الْحَجَّاجِ فَقَالَ : یَا ابْنَ الأَکْوَعِ ارْتَدَدْتَ عَلَی عَقِبَیْکَ تَعَرَّبْتَ قَالَ أَحَدُہُمَا بَعْدَ الْہِجْرَۃِ ۔ قَالَ : لاَ وَلَکِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَذِنَ لِی فِی الْبَدْوِ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے زمانے میں اس بارے میں جو رخصت آئی ہے اس کا بیان اور جو اس کے ہم معنیٰ کے بارے میں وارد ہوا ہے
(١٧٧٩٣) یزید بن ابی عبید (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن عفان (رض) کو شہید کیا گیا تو حضرت سلمہ (بن الاکوع ) ربذہ کی طرف چلے گئے اور وہاں پر ہی ایک عورت سے شادی کرلی اور ان کے ہاں بہت زیادہ اولاد ہوئی۔ وہ ربذہ میں ہی رہے حتیٰ کہ موت سے چند راتیں پہلے مدینہ میں آئے۔
(١٧٧٩٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَرَجَ سَلَمَۃُ إِلَی الرَّبَذَۃِ وَتَزَوَّجَ ہُنَاکَ امْرَأَۃً وَوُلِدَ لَہُ أَوْلاَدٌ فَلَمْ یَزَلْ ہُنَاکَ حَتَّی قَبْلَ أَنْ یَمُوتَ بِلَیَالٍ فَنَزَلَ یَعْنِی الْمَدِینَۃَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ قُتَیْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی فرضیت کی دلیل کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَ ھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] ” اے ایمان والو !
(١٧٧٩٤) حضرت عیاض بن حمار مجاشعی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ میں کہا : ” سنو ! میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں وہ کچھ سکھاؤں جس سے تم ناواقف ہو، اس علم میں سے جو آج کے دن اس نے مجھے سکھایا ہے۔ پھر حدیث بیان کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اے محمد ! میں نے تجھے اس لیے بھیجا ہے کہ میں تیری آزمائش کروں اور تیرے ذریعے سے (دوسروں) کی آزمائش کروں اور میں نے تجھ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی بھی نہیں دھو سکتا یا مٹا سکتا تم اسے سوتے اور جاگتے ہوئے پڑھو گے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا دوں۔ میں نے کہا : اے میرے رب ! تب تو وہ میرا سر کچل دیں گے اور اسے روٹی کی مانند کردیں گے اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ان کو نکالو جیسے انھوں نے آپ کو نکالا ہے۔ آپ ان سے جہاد کیجیے ہم بھی آپ کا ساتھ دیں گے اور آپ خرچ کریں ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خرچ کریں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے اور جو آپ کے مطیع و فرمان بردار ہیں ان کے ساتھ مل کر اپنے نافرمانوں سے قتال کریں۔ “
(١٧٧٩٤) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِیِّ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی خُطْبَتِہِ : أَلاَ إِنَّ رَبِّی أَوْ إِنَّ رَبِّی أَمَرَنِی أَنْ أُعَلِّمَکُمْ مَا جَہِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِی یَوْمِی ہَذَا ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا بَعَثْتُکَ لأَبْتَلِیَکَ وَأَبْتَلِیَ بِکَ وَأَنْزَلْتُ عَلَیْکَ کِتَابًا لاَ یَغْسِلُہُ الْمَائُ تَقْرَأُہُ نَائِمًا وَیَقْظَانًا وَإِنَّ اللَّہَ أَمَرَنِی أَنْ أُحْرِقَ قُرَیْشًا فَقُلْتُ رَبِّ إِذًا یَثْلَغُوا رَأْسِی فَیَدَعُوہُ خُبْزَۃً فَقَالَ اسْتَخْرِجْہُمْ کَمَا أَخْرَجُوکَ وَاغْزُہُمْ نَغْزُ بِکَ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَیْکَ وَابْعَثْ جَیْشًا نَبْعَثْ خَمْسَۃَ أَمْثَالِہِ وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَکَ مَنْ عَصَاکَ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ قَتَادَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ٢٨٦٥]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی فرضیت کی دلیل کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَ ھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] ” اے ایمان والو !
(١٧٧٩٥) حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ شاید کہ تم میری قبر اور میری مسجد سے گزرو اور یقیناً میں نے تجھے ایسی قوم کی طرف بھیجا ہے جن کے دل بہت نرم ہیں اور وہ حق پر آپ کے ساتھ مل کر دو دفعہ قتال کریں گے۔ آپ اپنے فرمان بردار لوگوں سے مل کر نافرمانوں سے قتال کرنا۔ پھر وہ اسلام کی طرف چلیں گے حتیٰ کہ عورت اپنے شوہر سے جلدی کرے گی اور بیٹا اپنے باپ سے اور بھائی اپنے بھائی سے اور تم دو قبیلوں کے درمیان سکون و محبت پیدا کرنا۔
(١٧٧٩٥) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنَا أَبُو زِیَادٍ یَحْیَی بْنِ عُبَیْدٍ الْغَسَّانِیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ قُطَیْبٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ : لَعَلَّکَ أَنْ تَمُرَّ بِقَبْرِی وَمَسْجِدِی قَدْ بَعَثْتُکَ إِلَی قَوْمٍ رَقِیقَۃٌ قُلُوبُہُمْ یُقَاتِلُونَکَ عَلَی الْحَقِّ مَرَّتَیْنِ فَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَکَ مِنْہُمْ مَنْ عَصَاکَ ثُمَّ یَغْدُونَ إِلَی الإِسْلاَمِ حَتَّی تُبَادِرَ الْمَرْأَۃُ زَوْجَہَا وَالْوَلَدُ وَالِدَہُ وَالأَخُ أَخَاہُ فَانْزِلْ بَیْنَ الْحَیَّیْنِ السَّکُونِ وَالسَّکَاسِکِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی فرضیت کی دلیل کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَ ھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] ” اے ایمان والو !
(١٧٧٩٦) حضرت ابن خصاصیہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اسلام پر بیعت کرنے کے لیے آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ پر مندرجہ ذیل باتوں کی شرط لگائی : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں اور پانچ وقت کی نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ “ ابن خصاصیہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ان میں سے دو چیزوں کے کرنے کی میں طاقت نہیں رکھتا، یعنی (زکوۃ اور جہاد کی) ۔ رہی زکوۃ تو میرے پاس صرف دس اونٹ ہیں جو میرے گھر والوں کا سرکل چلاتے ہیں، یعنی ہم ان کا دودھ استعمال کرتے ہیں اور سواری کرتے ہیں اور رہا جہاد کا معاملہ تو اس کے بارے میں لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو میدان جنگ سے بھاگے گا۔ وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے گا تو میں ڈرتا ہوں کہ میں میدان قتال میں حاضر ہوں تو اس وقت میں موت کو ناپسند کروں اور اپنی جان کو پسند کرلوں اور اس پر حریص بن جاؤں۔ کہتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کو بند کرلیا اور پھر اسے ہلا کر کہا کہ نہ صدقہ اور نہ جہاد تو تم جنت میں کیسے جاسکتے ہو۔ ابن خصاصیہ کہتے ہیں : پھر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر آپ نے مجھ سے ان تمام چیزوں پر بیعت لی۔
(١٧٧٩٦) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ إِمْلاَئً بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی الْعَبْدِیُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْخَصَاصِیَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأُبَایِعَہُ عَلَی الإِسْلاَمِ فَاشْتَرَطَ عَلَیَّ : تَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ وَتُصَلِّی الْخَمْسَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتُؤَدِّی الزَّکَاۃَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ وَتُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔

قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَّا اثْنَتَانِ فَلاَ أُطِیقُہُمَا أَمَّا الزَّکَاۃُ فَمَا لِی إِلاَّ عَشْرُ ذَوْدٍ ہُنَّ رِسْلُ أَہْلِی وَحَمُولَتُہُمْ وَأَمَّا الْجِہَادُ فَیَزْعُمُونَ أَنَّہُ مَنْ وَلَّی فَقَدْ بَائَ بِغَضَبٍ مِنْ اللَّہِ فَأَخَافُ إِذَا حَضَرَنِی قِتَالٌ کَرِہْتُ الْمَوْتَ وَجَشِعَتْ نَفْسِی قَالَ فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَدَہُ ثُمَّ حَرَّکَہَا ثُمَّ قَالَ : لاَ صَدَقَۃَ وَلاَ جِہَادَ فَبِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ ؟ ۔ قَالَ ثُمَّ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُبَایِعُکَ فَبَایَعَنِی عَلَیْہِنَّ کُلِّہِنَّ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی فرضیت کی دلیل کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَ ھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] ” اے ایمان والو !
(١٧٧٩٧) حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ ان میں سے سر کون ہے اور ستون کون ہے اور کوہان کی بلندی کون سی چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ ان چیزوں کا سر اسلام ہے۔ جس نے اسلام قبول کیا وہ سلامت رہا اور ان چیزوں کا ستون نماز ہے اور کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔ “ پھر حدیث بیان کی۔
(١٧٧٩٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْبَلَدِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ حَدَّثَنَا مَنصُورٌ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ أَبِی شَبِیبٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلاَ تُحَدِّثُنِی بِعَمَلٍ أَدْخُلُ بِہِ الْجَنَّۃَ ؟ قَالَ : إِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُکَ بِرَأْسِ الأَمْرِ وَعَمُودِہِ وَذُرْوَۃِ سَنَامِہِ أَمَّا رَأْسُ الأَمْرِ فَالإِسْلاَمُ مَنْ أَسْلَمَ سَلِمَ وَأَمَّا عَمُودُہُ فَالصَّلاَۃُ وَأَمَّا ذُرْوَۃُ سَنَامِہِ فَالْجِہَادُ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی فرضیت کی دلیل کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَ ھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] ” اے ایمان والو !
(١٧٧٩٨) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاد کرو یعنی مشرکین سے اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ۔
(١٧٧٩٨) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : جَاہِدُوا۔ یَعْنِی الْمُشْرِکِینَ : بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ وَأَلْسِنَتِکُمْ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی فرضیت کی دلیل کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَ ھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] ” اے ایمان والو !
(١٧٧٩٩) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اپنے اوپر لازم کرلو اس لیے کہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے رنج و غم دور کردیتا ہے اور ان کے علاوہ دوسروں نے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں اور اللہ کے راستے میں قریب و بعید سے جہاد کرو اور اللہ کی حدود کو قریب و بعید قائم کرو اور اللہ کے دین میں تمہیں ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرنا چاہیے۔
(١٧٧٩٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَیَّاشٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : عَلَیْکُمْ بِالْجِہَادِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَإِنَّہُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یُذْہِبُ اللَّہُ بِہِ الْغَمَّ وَالْہَمَّ ۔ وَزَادَ فِیہِ غَیْرُہُ أَنَّہُ قَالَ : وَجَاہِدُوا فِی اللَّہِ الْقَرِیبَ وَالْبَعِیدَ وَأَقِیمُوا حُدُودَ اللَّہِ فِی الْقَرِیبِ وَالْبَعِیدِ وَلاَ یَأْخُذُکُمْ فِی اللَّہِ لَوْمَۃُ لاَئِمٍ ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْکِنْدِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی فرضیت کی دلیل کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَ ھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] ” اے ایمان والو !
(١٧٨٠٠) عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم دمشق میں حضرت مقداد بن اسود (رض) کے پاس بیٹھے میں اور وہ ایک صندوق پر تھے اور ان کے پاس اس سے زائد چیز یا فضل نہ تھا تو ان سے ایک آدمی نے کہا : اگر آپ اس سال غزوے پر نہ جاتے تو یہ بہتر ہوتا تو انھوں نے کہا کہ ہمیں اس ( (بحوث) ) یعنی سورة التوبہ نے روک لیا ہے، یعنی سورة التوبہ ہمیں نہیں بیٹھنے دیتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا } [التوبۃ ٤١] کہ ” اللہ کے راستے میں ہلکے اور بوجھل جس حال میں بھی ہو نکلو۔ “ تو میں اپنے آپ کو ہلکا پاتا ہوں۔
(١٧٨٠٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِیمٍ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَلَسْنَا إِلَی الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدِمَشْقَ وَہُوَ عَلَی تَابُوتٍ مَا بِہِ عَنْہُ فَضْلٌ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : لَوْ قَعَدْتَ الْعَامَ عَنِ الْغَزْوِ ۔ قَالَ : أَبَتْ عَلَیْنَا الْبَحُوثُ یَعْنِی سُورَۃَ التَّوْبَۃِ قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً } [التوبۃ ٤١] فَلاَ أَجِدُنِی إِلاَّ خَفِیفًا۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক: