আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৭৮০৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی فرضیت کی دلیل کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَ ھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] ” اے ایمان والو !
(١٧٨٠١) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ (رض) نے اس آیت کی تلاوت کی : { اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا } [التوبۃ ٤١] تو انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے رب نے اس میں بوڑھے اور جوانوں کو نکلنے کا کہا ہے تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا : اے بیٹو ! میرے لیے تیاری کرو، میرے لیے تیاری کرو تو بیٹوں نے کہا کہ یقیناً اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر اور عمر (رض) کے ساتھ مل کر غزوے کے لیے ہیں۔ (اب آپ بیٹھیں) اور ہم لڑتے ہیں۔ انھوں نے کہا : میری تیاری کرو حتیٰ کہ سمندر کا سفر کیا اور فوت ہوگئے۔ (حضرت انس (رض) کہتے ہیں) کہ انھیں سات دنوں کے بعد ایک جزیرہ ملا تو اس میں انھیں دفن کیا اور ان کی نعش بالکل صحیح رہی۔
(١٧٨٠١) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنِی حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً } [التوبۃ ٤١] قَالَ : أُرَی رَبَّنَا یَسْتَنْفِرُنَا شُیُوخًا وَشُبَّانًا جَہِّزُونِی أَیْ بَنِیَّ جَہِّزُونِی فَقَالَ بَنُوہُ : قَدْ شَہِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَنَحْنُ نَغْزُو فَقَالَ جَہِّزُونِی فَرَکِبَ الْبَحْرَ فَمَاتَ فَلَمْ یَجِدُوا لَہُ جَزِیرَۃً إِلاَّ بَعْدَ سَبْعَۃِ أَیَّامٍ فَدَفَنُوہُ فِیہَا وَلَمْ یَتَغَیَّرْ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮০৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨٠٢) ام المؤمنین حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جہاد کرنے کی اجازت مانگی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا جہاد تمہاری حج ہے یا حج کرنا ہی تمہیں کافی ہے۔
(١٧٨٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : اسْتَأْذَنْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الْجِہَادِ فَقَالَ : جِہَادُکُنَّ أَوْ حَسْبُکُنَّ الْحَجُّ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٨٧٥]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮০৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨٠٣) یہ روایت بھی پہلی روایت کی طرح ہے۔ یہاں پر ( (حَسْبُکُنَّ الْحَجُّ أَوْ جِہَادُکُنَّ الْحَجُّ ) ) کے الفاظ ہیں۔ (سابقہ حوالہ)
(١٧٨٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ النَّجَّارُ الْمُقْرِئُ بِالْکُوفَۃِ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَتْ : اسْتَأْذَنْتُہُ فِی الْجِہَادِ فَقَالَ : حَسْبُکُنَّ الْحَجُّ أَوْ جِہَادُکُنَّ الْحَجُّ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨٠٤) یہ روایت بھی سابقہ روایات کی طرح ہے اور اس کی دونوں سندیں قبیصہ سے منقول ہیں۔ (سابقہ حوالہ)
(١٧٨٠٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو الْقَاسِمِ بْنُ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ حَبِیبٍ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِنَحْوٍ مِنْ ہَذَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قَبِیصَۃَ بِالإِسْنَادَیْنِ جَمِیعًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨٠٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم جہاد کو افضل عمل جانتی ہیں، کیا ہم بھی آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں لیکن (عورتوں کے لیے) افضل عمل حج مبرور ہے۔
امام بخاری نے بہت سی جگہوں پر بیان کی ہے۔
امام بخاری نے بہت سی جگہوں پر بیان کی ہے۔
(١٧٨٠٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی مَحْمُودٌ الْوَاسِطِیُّ لَفْظُہُ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا وَہْبٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ نَرَی الْجِہَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ أَفَلاَ نُجَاہِدُ مَعَکَ ؟ قَالَ : لاَ وَلَکُنَّ أَفْضَلُ الْجِہَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ ۔ وَکَانَتْ عَائِشَۃُ خَالَتَہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨٠٦) حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مرد غزوات میں شریک ہوتے ہیں اور ہم شرکت نہیں کرتیں اور نہ ہم قتال کرتی ہیں کہ ہمیں شہادت مل جائے اور اسی طرح مردوں کے مقابلے میں ہمیں وراثت میں آدھا حصہ ملتا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ } [النساء ٣٢] ” جس چیز کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی تمنا نہ کرو۔ “
(١٧٨٠٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیَغْزُو الرِّجَالُ وَلاَ نَغْزُو وَلاَنُقَاتِلُ فَنُسْتَشْہَدَ وَإِنَّمَا لَنَا نِصْفُ الْمِیرَاثِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی { وَلاَ تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ } [النساء ٣٢] ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨٠٧) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے احد کی لڑائی میں احد کے دن اپنے آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اجازت نہ دی اور اس وقت میری عمر ١٤ سال تھی۔ پھر خندق کے دن میں نے پیش کیا تو میری عمر ١٥ سال تھی تو آپ نے مجھے (اس میں حصہ لینے کی) اجازت دے دی۔ نافع کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور خلافت میں ان کے پاس گیا اور انھیں یہ حدیث بیان کی تو انھوں نے کہا کہ یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان میں حد ہے۔ پھر انھوں نے اپنے عاملوں کی طرف لکھا کہ جس کی عمر ١٥ سال ہو تو وہ اس کو قتال میں شریک کریں اور جو اس سے کم عمر کا ہو تو اس کو اہل و عیال میں بھیج دو ۔
(١٧٨٠٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُرَیْشٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : عَرَضَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ أُحُدٍ فِی الْقِتَالِ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ فَلَمْ یُجِزْنِی وَعَرَضَنِی یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَأَجَازَنِی۔ قَالَ نَافِعٌ فَقَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ خَلِیفَۃٌ فَحَدَّثْتُہُ بِہَذَا الْحَدِیثَ فَقَالَ إِنَّ ہَذَا لَحَدٌّ بَیْنَ الصَّغِیرِ وَالْکَبِیرِ وَکَتَبَ إِلَی عُمَّالِہِ أَنْ یَفْرِضُوا لِمَنْ کَانَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَمَا کَانَ دُونَ ذَلِکَ فَاجْعَلُوہُ فِی الْعِیَالِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨٠٨) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور رافع بن خدیج خندق کے دن (جنگ کے لیے) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پیش کیے گئے اور اس وقت ہم دونوں پندرہ پندرہ سال کے تھے تو آپ نے ہم دونوں کو قبول کرلیا۔
(١٧٨٠٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ اسْتُصْغِرْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ یَوْمَ بَدْرٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : عُرِضْتُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ أَنَا وَرَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ عَلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَا وَہُوَ ابْنَا خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَقَبِلَنَا۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨٠٩) حضرت زید بن جاریہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن چند بچوں کو چھوٹا جانتے ہوئے (جہاد کے لیے) قبول نہ کیا۔ ان میں سے ایک تو میں تھا اور براء بن عازب، زید بن ارقم، سعد، ابو سعید خدری اور ابن عمر (رض) تھے اور اسی طرح جابر بن عبداللہ اور ایک کتاب میں عثمان بن عبداللہ اور ایک دوسری جگہ ابن عبید اللہ (رض) کے نام تھے۔
(١٧٨٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْقَبَّانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی عَتَّابٍ الأَعْیَنُ حَدَّثَنَا مَنصُورُ بْنُ سَلَمَۃَ أَبُو سَلَمَۃَ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ جَارِیَۃَ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا عَمِّی عَمْرُو بْنُ زَیْدِ بْنِ جَارِیَۃَ حَدَّثَنِی أَبِی زَیْدُ بْنُ جَارِیَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اسْتَصْغَرَ نَاسًا یَوْمَ أُحُدٍ مِنْہُمْ زَیْدُ بْنُ جَارِیَۃَ یَعْنِی نَفْسَہُ وَالْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ وَزَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَسَعْدٌ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَذَکَرَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ کَذَا فِی کِتَابِی عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَرَأَیْتُہُ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ ابْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨١٠) حضرت سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ میری ماں مجھے مدینہ میں لے کر آئی تو لوگوں نے ان کی طرف نکاح کے پیغام بھیجے تو انھوں نے کہا کہ میں نکاح اس آدمی سے کروں گی جو اس یتیم کی پرورش کرے گا تو انھوں نے انصار میں سے ایک آدمی سے نکاح کرلیا تو آپ ہر سال انصار کے بچوں کو جب ان کو پیش کیا جاتا ان میں سے جس کے اندر صلاحیت معلوم کرتے اس کو لشکر میں بھیج دیتے۔ حضرت سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک سال مجھے اور میرے ساتھ ایک اور لڑکے کو پیش کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو قبول کرلیا اور مجھے رد کردیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے اس کو قبول کرلیا ہے اور مجھے واپس کردیا ہے۔ اگر میں اسے گرا لوں تو کیا پھر میں بھی جاسکتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو تم دونوں کشتی کرلو تو کہتے ہیں : میں نے اسے پچھاڑ دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بھی اجازت دے دی۔
(١٧٨١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَتْ بِی أُمِّی فَقَدِمَتِ الْمَدِینَۃَ فَخَطَبَہَا النَّاسُ فَقَالَتْ : لاَ أَتَزَوَّجُ إِلاَّ بِرَجُلٍ یَکْفُلُ لِی ہَذَا الْیَتِیمَ فَتَزَوَّجَہَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعْرِضُ غِلْمَانَ الأَنْصَارِ فِی کُلِّ عَامٍ فَیُلْحِقُ مَنْ أَدْرَکَ مِنْہُمْ قَالَ وَعُرِضْتُ عَامًا فَأَلْحَقَ غُلاَمًا وَرَدَّنِی فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَلْحَقْتَہُ وَرَدَدْتَنِی وَلَوْ صَارَعْتُہُ لَصَرَعْتُہُ قَالَ : فَصَارِعْہُ ۔ فَصَارَعْتُہُ فَصَرَعْتُہُ فَأَلْحَقَنِی۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨١١) یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ نے ابن عباس (رض) کی طرف لکھا اور وہ آپ سے خلال کے متعلق پوچھ رہے تھے تو حضرت ابن عباس (رض) نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) حروریوں سے خط و کتابت کرتے ہیں اور اگر مجھے علم چھپانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس کو کبھی نہ لکھتا۔ نجدہ نے ان کو لکھا : اما بعد ! مجھے یہ بتائیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کے ساتھ غزوہ کرتے تھے اور کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے حصہ مقرر کرتے تھے ؟ اور کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچوں کو قتل کرتے تھے اور یتیم کی یتیمیت کب پوری ہوتی ہے اور خمس کے متعلق بتائیے کہ وہ کس کے لیے ہے ؟ پھر ابن عباس (رض) نے ان کی طرف لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کے ساتھ مل کر غزوہ کرتے تھے ؟ انھوں نے کہا : ہاں عورتیں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ میں شریک ہوتی تھیں لیکن وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور بیماروں کی تیمار داری کرتی تھیں اور انھیں غنیمت میں سے دیا جاتا تھا لیکن ان کا حصہ مقرر نہ تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔ پس تم بھی ان کو قتل نہ کرنا ما سوائے اس کے کہ تم ان بچوں میں وہ کچھ جان لو جو کچھ خضر (علیہ السلام) نے جانا تھا اور اسی طرح مومن اور کافر کے درمیان تمیز کرنا پس کافر کو قتل کردینا اور مومن کو چھوڑ دینا اور اسی طرح تو نے لکھا ہے کہ یتیم کی یتیمیت کب پوری اور مکمل ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا : میری عمر کی قسم ! بعض دفعہ آدمی کی داڑھی نکل آتی ہے اور اس کو لین دین کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ وہ اس معاملے میں بالکل کمزور ہوتا ہے اور جس کو وہ سمجھ بوجھ حاصل ہوجائے جو باقی لوگوں کو ہوتی ہے تو اس کی یتیمیت ختم ہوجاتی ہے اور تم نے مجھ سے خمس کے متعلق سوال کیا ہے تو ہم کہا کرتے تھے : یہ ہمارے لیے ہے لیکن قوم نے ہم پر انکار کردیا (کہ یہ تمہارا نہیں) تو ہم نے صبر کیا۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رہے غلام اور عورتیں تو ان کے لیے جب یہ جنگ میں حاضر ہوتے تو کوئی خاص حصہ مقرر نہیں تھا، لیکن وہ قوم کے غنائم میں سے کچھ لے لیتے تھے۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رہے غلام اور عورتیں تو ان کے لیے جب یہ جنگ میں حاضر ہوتے تو کوئی خاص حصہ مقرر نہیں تھا، لیکن وہ قوم کے غنائم میں سے کچھ لے لیتے تھے۔
(١٧٨١١) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا حَاتِمٌ یَعْنِی ابْنَ إِسْمَاعِیلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ : أَنَّ نَجْدَۃَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ خِلاَلٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّ نَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یُکَاتِبُ الْحَرُورِیَّۃَ وَلَوْلاَ أَنِّی أَخَافُ أَنْ أَکْتُمَ عِلْمًا لَمْ أَکْتُبْ إِلَیْہِ فَکَتَبَ نَجْدَۃُ إِلَیْہِ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِی ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ ؟ وَہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَضْرِبُ لَہُنَّ بِسَہْمٍ ؟ وَہَلْ کَانَ یَقْتُلُ الصِّبْیَانَ وَمَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ ہُوَ ؟
فَکَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِی ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ وَقَدْ کَانَ یَغْزُو بِہِنَّ یُدَاوِینَ الْمَرْضَی وَیُحْذَیْنَ مِنَ الْغَنِیمَۃِ وَأَمَّا السَّہْمُ فَلَمْ یَضْرِبْ لَہُنَّ بِسَہْمٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَقْتُلِ الْوِلْدَانَ فَلاَ تَقْتُلْہُمْ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مِنْہُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِیِّ الَّذِی قَتَلَ فَتُمَیِّزَ بَیْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْکَافِرِ فَتَقْتُلَ الْکَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ وَکَتَبْتَ مَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ وَلَعَمْرِی إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْیَتُہُ وَإِنَّہُ لَضَعِیفُ الأَخْذِ ضَعِیفُ الإِعْطَائِ فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِہِ مِنْ صَالِحِ مَا یَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَہَبَ عَنْہُ الْیُتْمُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِی عَنِ الْخُمُسِ وَإِنَّا کُنَّا نَقُولُ ہُوَ لَنَا فَأَبَی ذَلِکَ عَلَیْنَا قَوْمُنَا فَصَبَرْنَا عَلَیْہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ ۔
(ت) وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : وَأَمَّا النِّسَائُ وَالْعَبِیدُ فَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شَیْئٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ وَلَکِنْ یُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ ۔ [صحیح ]
فَکَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِی ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ وَقَدْ کَانَ یَغْزُو بِہِنَّ یُدَاوِینَ الْمَرْضَی وَیُحْذَیْنَ مِنَ الْغَنِیمَۃِ وَأَمَّا السَّہْمُ فَلَمْ یَضْرِبْ لَہُنَّ بِسَہْمٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَقْتُلِ الْوِلْدَانَ فَلاَ تَقْتُلْہُمْ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مِنْہُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِیِّ الَّذِی قَتَلَ فَتُمَیِّزَ بَیْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْکَافِرِ فَتَقْتُلَ الْکَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ وَکَتَبْتَ مَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ وَلَعَمْرِی إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْیَتُہُ وَإِنَّہُ لَضَعِیفُ الأَخْذِ ضَعِیفُ الإِعْطَائِ فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِہِ مِنْ صَالِحِ مَا یَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَہَبَ عَنْہُ الْیُتْمُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِی عَنِ الْخُمُسِ وَإِنَّا کُنَّا نَقُولُ ہُوَ لَنَا فَأَبَی ذَلِکَ عَلَیْنَا قَوْمُنَا فَصَبَرْنَا عَلَیْہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ ۔
(ت) وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : وَأَمَّا النِّسَائُ وَالْعَبِیدُ فَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شَیْئٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ وَلَکِنْ یُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨١٢) حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض مغازی میں تھے اور آپ مزینہ کے لوگوں کے قریب سے گزرے تو اس قبیلہ کی عورت کے ایک غلام نے آپ کا پیچھا کیا۔ جب آپ سے راستے میں اس کی ملاقات ہوئی تو اس نے آپ کو سلام بلایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو فلاں ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بتاؤ کیا مسئلہ ہے ؟ اس نے کہا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہاری سیدہ نے تمہیں اجازت دی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی طرف لوٹ جاؤ اور تمہاری مثال اس غلام یا بندے کی طرح ہے جو نماز نہیں پڑھتا۔ اگر تو اس کے پاس پہنچنے سے پہلے مرگیا اور اسے میرا سلام کہنا، غلام اپنی سیدہ کے پاس آیا اور اسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سلام عرض کیا اور پورا واقعہ بیان کیا تو اس نے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو سلام کہنے کا حکم دیا تھا ؟ غلام نے کہا : ہاں ! تو اس سیدہ نے کہا : پھر تم جاؤ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جہاد کرو۔
(١٧٨١٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی الأَنْطَاکِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی أُمَیَّۃَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ فِی بَعْضِ مَغَازِیہِ فَمَرَّ بِأُنَاسٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ فَاتَّبَعَہُ عَبْدٌ لاِمْرَأَۃٍ مِنْہُمْ فَلَمَّا کَانَ فِی بَعْضِ الطَّرِیقِ سَلَّمَ عَلَیْہِ قَالَ : فُلاَنٌ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ ۔ قَالَ : أُجَاہِدُ مَعَکَ ۔ قَالَ : أَذِنَتْ لَکَ سَیِّدَتُکَ ؟ ۔ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : ارْجِعْ إِلَیْہَا فَإِنَّ مِثْلَکَ مِثْلُ عَبْدٍ لاَ یُصَلِّی إِنْ مُتَّ قَبْلَ أَنْ تَرْجِعَ إِلَیْہَا وَاقْرَأْ عَلَیْہَا السَّلاَمَ ۔ فَرَجَعَ إِلَیْہَا فَأَخْبَرَہَا الْخَبَرَ فَقَالَتْ : آللَّہِ ہُوَ أَمَرَ أَنْ تَقْرَأَ عَلَیَّ السَّلاَمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَتْ : ارْجِعْ فَجَاہِدْ مَعَہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨١٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بوڑھے، کمزور اور عورتوں کا جہاد حج مبرور ہے۔ “
(١٧٨١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ بْنِ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : جِہَادُ الْکَبِیرِ وَالضَّعِیفِ وَالْمَرْأَۃِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨١٤) حضرت برائ (رض) فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } [النساء ٩٥] ” اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھے رہنے والے مومن برابر نہیں ہوسکتے “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید کو حکم دیا تو انھوں نے اس کو لکھا۔ پھر ابن ام مکتوم آئے اور انھوں نے اپنی بیماری وغیرہ کا عذر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش کیا تو اللہ تعالیٰ نے { غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ } والا حصہ نازل کیا۔ صرف سند ذکر کی ہے۔
(١٧٨١٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ } [النساء ٩٥] الآیَۃَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - زَیْدًا فَکَتَبَہَا فَجَائَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَشَکَا ضَرَارَتَہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ } [النساء ٩٥] ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ : ١٧٨١٥]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨١٥) ایضاً ۔
(١٧٨١٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ ۔ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨١٦) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا تو یہ آیت نازل ہوئی { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } [النساء ٩٥] تو کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم آئے اور میں لکھ رہا تھا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ جانتے ہیں کہ میں آنکھوں سے نابینا ہوں اور اگر میں جہاد کرنے کی طاقت رکھتا تو میں ضرور جہاد کرتا تو زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ آپ کے ران میری ران پر بڑے بھاری اور گراں ہوگئے۔ حتیٰ کے قریب تھا کہ وہ ٹوٹ جاتا پھر آپ کی حالت اچھی ہوگئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : لکھو ! { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ } [النساء ٩٥]
(١٧٨١٦) حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَکَمِ الْقِطْرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ جَالِسٌ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَنَزَلَتْ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ } [النساء ٩٥] قَالَ : فَجَائَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ وَأَنَا أَکْتُبَہَا فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ تَرَی مَا بِعَیْنَیَّ مِنَ الضَّرَرِ وَلَوْ أَسْتَطِیعُ الْجِہَادَ لَجَاہَدْتُ ۔ قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَثَقُلَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی فَخِذِی حَتَّی ہَمَّتْ أَنْ تَرُضَّہَا ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ لِی : اکْتُبْ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجَاہِدُونَ } [النساء ٩٥] ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْقِطْرِیِّ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَغَیْرِہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ١٧٨١٧]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَغَیْرِہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ١٧٨١٧]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨١٧) حضرت خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکینت نے ڈھانپ لیا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران میری ران پر گری تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں پائی۔ پھر آپ کی یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لکھو ! { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ۔۔۔} [النساء ٩٥] پوری آیت۔ حضرت زید (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت میں نے کندھے (کی ہڈی) پر لکھی تو ابن ام مکتوم جو نابینا آدمی تھے، کھڑے ہوئے۔ جب انھوں نے مجاہدین کی فضیلت بیٹھنے والوں پر سنی تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس آدمی کا کیا حال ہے جو مومنین کے ساتھ جہاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت زید (رض) فرماتے ہیں کہ ابھی ابن ام مکتوم کی کلام ختم نہیں ہوئی تھی کہ پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکونت نے ڈھانپ لیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران میری ران پر آگئی تو میں نے اس دفعہ بھی ویسے ہی بوجھ محسوس کیا جیسا کہ پہلی دفعہ محسوس کیا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ والی حالت جاتی رہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پڑھیے تو میں نے پڑھی : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ } حضرت زید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اس ٹکڑے کو اس آیت میں ملا دیا اور یہ ٹکڑا کندھے کی مضبوط ہڈی پر لکھا ہوا تھا۔
(١٧٨١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ الْحَکَمِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ خَارِجَۃَ بْنَ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ السَّکِینَۃَ غَشِیَتْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ زَیْدٌ وَأَنَا إِلَی جَنْبِہِ فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی فَخِذِی فَمَا وَجَدْتُ شَیْئًا أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ : اکْتُبْ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ } [النساء ٩٥] ۔ الآیَۃَ کُلَّہَا قَالَ زَیْدٌ فَکَتَبْتُ ذَلِکَ فِی کَتِفٍ فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ رَجُلاً أَعْمَی حِینَ سَمِعَ فَضِیلَۃَ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ بِمَنْ لاَ یَسْتَطِیعُ الْجِہَادَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ ؟ قَالَ فَمَا قَضَی ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ کَلاَمَہُ أَوْ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ فَصَلَ کَلاَمَہُ فَغَشِیَتْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - السَّکِینَۃُ فَوَقَعَتْ فَخِذُہُ عَلَی فَخِذِی فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِہَا الْمَرَّۃَ مِثْلَمَا وَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِہَا فِی الْمَرَّۃِ الأُولَی ثُمَّ سُرِّیَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : اقْرَأْ ۔ فَقَرَأْتُ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ } [النساء ٩٥] فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - { غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ } [النساء ٩٥] قَالَ زَیْدٌ : فَأَلْحَقْتُہَا وَکَانَ مَلْحَقَتُہَا عِنْدَ صَدْعٍ فِی الْکَتِفِ ۔ [صحیح لغیرہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨١٨) ابو نضرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق سوال کیا { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ } انھوں نے کہا : اس سے مراد اہل ضرر ہیں، یعنی لوگ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جہاد نہیں کرسکتے تھے۔ تکالیف اور بیماری نے ان کو جانے سے روک لیا تھا اور دوسرے لوگ صحیح ہونے کے باوجود نہیں جاتے تھے۔ لہٰذا بیمار لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں معذور قرار دیا۔
(١٧٨١٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ عَنْ أَبِی عَقِیلٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ غَیْرِ أُولِی الضَّرَرِ } [النسائ : ٩٥] قَالَ : ہُمْ أُولُو الضَّرَرِ قَوْمٌ کَانُوا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لاَ یَغْزُونَ مَعَہُ کَانَتْ تَحْبِسُہُمْ أَوْجَاعٌ وَأَمَرَاضٌ وَآخَرُونَ أَصْحَائُ فَکَانَ الْمَرْضَی أَعْذَرَ مِنَ الأَصْحَائِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨١٩) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کسی سفر کے دوران فرمایا کہ مدینہ میں کچھ مرد ہیں، ہم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ اب ان کو بیماری نے روک لیا ہے۔
(١٧٨١٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ : إِنَّ بِالْمَدِینَۃِ لَرِجَالاً مَا سِرْنَا مَسِیرًا وَلاَ قَطْعَنَا وَادِیًا إِلاَّ کَانُوا مَعَنَا فِیہِ حَبَسَہُمُ الْمَرَضُ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَحْمَدَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ : إِنَّ بِالْمَدِینَۃِ لَرِجَالاً مَا سِرْنَا مَسِیرًا وَلاَ قَطْعَنَا وَادِیًا إِلاَّ کَانُوا مَعَنَا فِیہِ حَبَسَہُمُ الْمَرَضُ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَحْمَدَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨٢٠) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم مدینہ میں کچھ لوگ چھوڑ آئے ہو تم نے کوئی سفر طے نہیں کیا اور نہ تم نے کوئی خرچ کیا اور نہ تم نے کوئی وادی طے کی مگر وہ اس میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! وہ ہمارے ساتھ کیسے ہیں جبکہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔
صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! وہ ہمارے ساتھ کیسے ہیں جبکہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔
(١٧٨٢٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لَقَدْ تَرَکْتُمْ بِالْمَدِینَۃِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِیرًا وَلاَ أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَۃٍ وَلاَقَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ إِلاَّ وَہُمْ مَعَکُمْ فِیہِ ۔
قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَکَیْفَ یَکُونُونَ مَعَنَا وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ ؟ قَالَ : حَبَسَہُمُ الْعُذْرُ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ زُہَیْرٍ وَحَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ ثُمَّ قَالَ وَقَالَ مُوسَی عَنْ حَمَّادٍ یَعْنِی ابْنَ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَحْوَہُ ۔ [صحیح۔ بخاری ]
قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَکَیْفَ یَکُونُونَ مَعَنَا وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ ؟ قَالَ : حَبَسَہُمُ الْعُذْرُ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ زُہَیْرٍ وَحَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ ثُمَّ قَالَ وَقَالَ مُوسَی عَنْ حَمَّادٍ یَعْنِی ابْنَ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَحْوَہُ ۔ [صحیح۔ بخاری ]
তাহকীক: