আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৭৮২৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨٢١) بنی سلمہ کے چند شیوخ فرماتے ہیں کہ عمرو بن جموح بہت زیادہ لنگڑے تھے۔ ان کے چار جوان بیٹے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس غزوے میں بھی جاتے وہ آپ کے ساتھ ہوتے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو عمرو بن جموح نے بھی جانا چاہا، لیکن ان کے بیٹوں نے ان کو کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رخصت دی ہے اور آپ کا یہاں بیٹھنا زیادہ بہتر ہے اور آپ کی جگہ ہم آپ کی کفایت کر جائیں گے۔ اللہ نے آپ پر جہاد فرض نہیں کیا تو عمرو بن جموح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے بیٹے مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جانے سے روکتے ہیں اور میں شہادت چاہتا ہوں اور میرے لنگڑے پن نے مجھے جنت میں جانے سے پیچھے چھوڑ دیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے آپ سے جہاد کو معاف کردیا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بیٹوں سے کہا کہ تم اسے کیوں نہیں جانے دیتے ! ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے شہادت نصیب فرمائے۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا اور احد کے دن شہید ہوگیا۔
(١٧٨٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی وَالِدِی إِسْحَاقُ بْنُ یَسَارٍ عَنْ أَشْیَاخٍ مِنْ بَنِی سَلَمَۃَ قَالُوا : کَانَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ أَعْرَجَ شَدِیدَ الْعَرَجِ وَکَانَ لَہُ أَرْبَعَۃُ بَنُونَ شَبَابٌ یَغْزُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا غَزَا فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَتَوَجَّہُ إِلَی أُحُدٍ قَالَ لَہُ بَنُوہُ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَعَلَ لَکَ رُخْصَۃً فَلَو قَعَدْتَ فَنَحْنُ نَکْفِیکَ فَقَدْ وَضَعَ اللَّہُ عَنْکَ الْجِہَادَ فَأَتَی عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ بَنِیَّ ہَؤُلاَئِ یَمْنَعُونِی أَنْ أَخْرُجَ مَعَکَ وَاللَّہِ إِنِّی لأَرْجُو أَنْ أُسَتَشْہَدَ فَأَطَأَ بِعُرْجَتِی ہَذِہِ فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا أَنْتَ فَقَدْ وَضَعَ اللَّہُ عَنْکَ الْجِہَادَ ۔
وَقَالَ لِبَنِیہِ : وَمَا عَلَیْکُمْ أَنْ تَدْعُوہُ لَعَلَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَرْزُقُہُ الشَّہَادَۃَ ؟ ۔ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ شَہِیدًا۔ [ضعیف ]
وَقَالَ لِبَنِیہِ : وَمَا عَلَیْکُمْ أَنْ تَدْعُوہُ لَعَلَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَرْزُقُہُ الشَّہَادَۃَ ؟ ۔ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ شَہِیدًا۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتا
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ} [التوبۃ ٩١] ” اور ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے۔ “
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ} [التوبۃ ٩١] ” اور ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے۔ “
(١٧٨٢٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مومنوں پر گراں نہ ہو کہ میں کسی بھی لڑائی سے پیچھے نہ رہوں جو اس کے راستہ میں لڑی جائے لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ ان سب کو سوار کرسکوں۔ ان کے پاس بھی اتنی فراخی نہیں ہے کہ وہ میری پیروی کرسکیں اور ان کے دل اس کو پسند نہیں کرتے کہ وہ میرے لڑائی میں جانے کے بعد بیٹھ رہیں۔
(١٧٨٢٢) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلَکِنْ لاَ أَجِدُ سَعَۃً فَأَحْمِلَہُمْ وَلاَ یَجِدُونَ سَعَۃً فَیَتَّبِعُونِی وَلاَ تَطِیبُ أَنْفُسُہُمْ أَنْ یَقْعُدُوا بَعْدِی ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتا
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ} [التوبۃ ٩١] ” اور ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے۔ “
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ} [التوبۃ ٩١] ” اور ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے۔ “
(١٧٨٢٣) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انسان کے لیے بطور گناہ یہی کافی ہے کہ وہ اپنی گزر اوقات کی اشیاء کو ضائع کر دے۔ وہب بن جابر راوی مجہول ہے۔
(١٧٨٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ وَہْبِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : کَفَی بِالْمَرْئِ إِثْمًا أَنْ یُضَیِّعَ مَنْ یَقُوتُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتا
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ} [التوبۃ ٩١] ” اور ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے۔ “
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ} [التوبۃ ٩١] ” اور ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جو خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے۔ “
(١٧٨٢٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے تھے، اچانک ایک نوجوان ثنیہ کی پہاڑیوں سے نمودار ہوا۔ جب ہم نے اس کو دیکھا تو ہم نے کہا : کاش اس جوان کی جوانی، چستی اور قوت اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ہو۔ راوی کہتا ہے : ہماری بات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سن لیا اور فرمایا : صرف اللہ کے راستہ میں قتل ہونا ہی سبیل اللہ ہے ؟ جس نے اپنے والدین کی خدمت کی وہ اس کے راستہ میں ہے اور جس نے اپنے خاندان کی کفالت کی وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ہے اور جس نے اپنے نفس کی حفاظت کی تاکہ اس کو بچا کر رکھے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ہے اور جس نے زیادہ مال جمع کرنے کی کوشش کی وہ شیطان کے راستہ پر ہے۔
(١٧٨٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا رِیَاحُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا شَابٌّ مِنَ الثَّنِیَّۃِ فَلَمَّا رَأَیْنَاہُ بِأَبْصَارِنَا قُلْنَا : لَوْ أَنَّ ہَذَا الشَّابَ جَعَلَ شَبَابَہُ وَنَشَاطَہُ وَقُوَّتَہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ قَالَ فَسَمِعَ مَقَالَتَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : وَمَا سَبِیلُ اللَّہِ إِلاَّ مَنْ قُتِلَ ؟ مَنْ سَعَی عَلَی وَالِدَیْہِ فَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَمَنْ سَعَی عَلَی عِیَالِہِ فَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَمَنْ سَعَی عَلَی نَفْسِہِ لِیُعِفَّہَا فَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَمَنْ سَعَی عَلَی التَّکَاثُرِ فَہُوَ فِی سَبِیلِ الشَّیْطَانِ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقروض آدمی قرض خواہ کی اجازت سے جہاد کرے گا
(١٧٨٢٥) حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور سوال کیا : اے اللہ کے رسول ! اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کردیا جاؤں کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو اللہ کے راستہ میں اس حال میں قتل ہوا کہ صبر کرنے والا ہو اور ثواب کی امید رکھے اور پیش قدمی کرنے والا ہو پیٹھ دکھانے والا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ تیرے گناہوں کو مٹا دے گا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے تو اس کو بلایا اور کہا : تو کیا کہتا ہے اور بات دہرائی اور کہا : مگر قرض اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے اسی طرح بتایا ہے۔
(١٧٨٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکَرْمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنْ قُتِلْتُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَفَّرَ اللَّہُ عَنِّی خَطَایَایَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنْ قُتِلْتُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلاً غَیْرَ مُدْبِرٍ کَفَّرَ اللَّہُ عَنْکَ خَطَایَاکَ ۔ فَلَمَّا جَلَسَ دَعَاہُ فَقَالَ : کَیْفَ قُلْتَ ؟ فَأَعَادَ عَلَیْہِ فَقَالَ : إِلاَّ الدَّیْنَ کَذَلِکَ أَخْبَرَنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقروض آدمی قرض خواہ کی اجازت سے جہاد کرے گا
(١٧٨٢٦) (الف) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ کے راستے میں شہید ہونا تمام خطاؤں کو مٹا دیتا ہے مگر قرض باقی رہتا ہے۔ (ب) ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ مومن کی جان قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ اس کی طرف سے ادا کردیا جائے۔
(١٧٨٢٦) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْحُبُلِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : الْقَتْلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ یُکَفِّرُ کُلَّ شَیْئٍ إِلاَّ الدَّیْنَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ الْمُقْرِئِ ۔ (ت) وَقَدْ مَضَی حَدِیثُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَۃٌ بِدَیْنِہِ حَتَّی یُقْضَی عَنْہُ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس آدمی کے مسلمان والدین زندہ ہوں یا ان میں سے ایک زندہ ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد نہیں کرے گا
(١٧٨٢٧) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور جہاد کی اجازت مانگنے لگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : کیا تیرے والدین زندہ ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بس انھیں میں جہاد کر۔
(١٧٨٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ بِالْبَصْرَۃِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ وَکَانَ لاَ یُتَّہَمُ فِی حَدِیثِہِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَاسْتَأْذَنَہُ فِی الْجِہَادِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَحَیٌّ وَالِدَاکَ ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَفِیہِمَا فَجَاہِدْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس آدمی کے مسلمان والدین زندہ ہوں یا ان میں سے ایک زندہ ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد نہیں کرے گا
(١٧٨٢٨) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تیرے والدین زندہ ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں تو آپ نے فرمایا : ان کی طرف جا، ان دونوں میں جہاد کا مقام ہے۔
(١٧٨٢٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : إِنِّی أُرِیدُ الْجِہَادَ ۔ قَالَ : أَحَیٌّ أَبَوَاکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : ارْجِعْ إِلَیْہِمَا فَإِنْ فِیہِمَا لَمُجَاہَدًا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس آدمی کے مسلمان والدین زندہ ہوں یا ان میں سے ایک زندہ ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد نہیں کرے گا
(١٧٨٢٩) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں : ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آیا اور کہنے لگا : میں ہجرت یا جہاد پر آپ کی بیعت کرتا ہوں اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر کی امید کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ! دونوں زندہ ہیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کرتا ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ! تو آپ نے فرمایا : ان کی طرف لوٹ جا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کر۔
(١٧٨٢٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ أَنَّ نَاعِمَ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَی نَبِیِّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : أُبَایِعُکَ عَلَی الْہِجْرَۃِ أَوِ الْجِہَادِ أَبْتَغِی الأَجْرَ مِنَ اللَّہِ ۔ قَالَ : فَہَلْ مِنْ وَالِدَیْکَ أَحَدٌ حَیٌّ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ بَلْ کِلاَہُمَا۔ قَالَ : فَتَبْتَغِی الأَجْرَ مِنَ اللَّہِ ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَارْجِعْ إِلَی وَالِدَیْکَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَہُمَا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ۔ [صحیح ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس آدمی کے مسلمان والدین زندہ ہوں یا ان میں سے ایک زندہ ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد نہیں کرے گا
(١٧٨٣٠) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے آیا ہوں اور اپنے والدین کو روتے ہوئے چھوڑ کر آیا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : واپس جا اور ان کو خوش کر جس طرح ان کو رلایا ہے۔
(١٧٨٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ التَّمَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ جِئْتُ أُبَایِعُکَ عَلَی الْہِجْرَۃِ وَتَرَکْتُ أَبَوَیَّ یَبْکِیَانِ فَقَالَ : ارْجِعْ فَأَضْحِکْہُمَا کَمَا أَبْکَیْتَہُمَا ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس آدمی کے مسلمان والدین زندہ ہوں یا ان میں سے ایک زندہ ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد نہیں کرے گا
(١٧٨٣١) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں : یمن سے ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنا وطن چھوڑ دیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے شرک کو چھوڑ دیا اور جہاد کیا۔ یمن میں کوئی تیرا رشتہ دار ہے ؟ اس نے کہا : میرے والدین۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ان سے اجازت لی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : واپس جا اور ان سے اجازت طلب کر۔ اگر وہ اجازت دیں تو جہاد کر وگرنہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کر۔
(١٧٨٣١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجٍ أَبِی السَّمْحِ عَنْ أَبِی الْہَیْثَمِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً ہَاجَرَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنَ الْیَمَنِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی قَدْ ہَاجَرْتُ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قَدْ ہَجَرْتَ الشِّرْکَ وَلَکِنَّہُ الْجِہَادُ ہَلْ لَکَ أَحَدٌ بِالْیَمَنِ ؟ ۔ قَالَ : أَبَوَیَّ ۔ قَالَ : أَذِنَا لَکَ ؟ ۔ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَارْجِعْ فَاسْتَأْذِنْہُمَا فَإِنْ أَذِنَا لَکَ فَجَاہِدْ وَإِلاَّ فَبَرَّہُمَا ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس آدمی کے مسلمان والدین زندہ ہوں یا ان میں سے ایک زندہ ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد نہیں کرے گا
(١٧٨٣٢) معاویہ بن جاہمہ سلمی فرماتے ہیں کہ جاہمہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے محاذ جنگ پر جانے کا ارادہ کیا ہے اور آپ کے پاس مشورہ کرنے آیا ہوں۔ آپ نے پوچھا : کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ! فرمایا اسی سے وابستہ رہ، جنت اس کے قدموں میں ہے۔ آپ نے یہ دو تین دفعہ کہا۔
(١٧٨٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ طَلْحَۃَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ جَاہِمَۃَ السُّلَمِیِّ : أَنَّ جَاہِمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَائَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُکَ أَسْتَشِیرُکَ ۔ فَقَالَ : ہَلْ لَکَ مِنْ أُمٍّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَالْزَمْہَا فَإِنَّ الْجَنَّۃَ عِنْد رِجْلَیْہَا ۔ ثُمَّ الثَّانِیَۃَ ثُمَّ الثَّالِثَۃَ فِی مَقَاعِدَ شَتَّی فَکَمِثْلِ ہَذَا الْقَوْلِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الصَّغَانِیِّ ۔ [حسن ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِی ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ طَلْحَۃَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ جَاہِمَۃَ السُّلَمِیِّ : أَنَّ جَاہِمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَائَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُکَ أَسْتَشِیرُکَ ۔ فَقَالَ : ہَلْ لَکَ مِنْ أُمٍّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَالْزَمْہَا فَإِنَّ الْجَنَّۃَ عِنْد رِجْلَیْہَا ۔ ثُمَّ الثَّانِیَۃَ ثُمَّ الثَّالِثَۃَ فِی مَقَاعِدَ شَتَّی فَکَمِثْلِ ہَذَا الْقَوْلِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الصَّغَانِیِّ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس آدمی کے مسلمان والدین زندہ ہوں یا ان میں سے ایک زندہ ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد نہیں کرے گا
(١٧٨٣٣) حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں کہ چار آیات میرے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ پھر حدیث کو ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ ام سعد نے کہا : کیا اللہ نے والدہ کے ساتھ احسان کا حکم نہیں دیا ؟ اللہ کی قسم ! میں نہ کھاؤں گی نہ پؤں گی حتی کہ تو کفر کرے یا میں مر جاؤں۔ جب وہ اس کو کھلانا یا پلانا چاہے تو لاٹھی سے اس کا منہ اٹھاتے اور کھانا اور پانی اس کے منہ میں ڈال دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی : { وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا وَ اِنْ جَاھَدٰکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا } [العنکبوت ٨] ” اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید کی ہے اور اگر وہ تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی نہ مان۔ “
(١٧٨٣٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نَزَلَتْ فِیَّ أَرْبَعُ آیَاتٍ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ قَالَ فَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ : أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَ اللَّہُ بِبِرِّ الْوَالِدَۃِ فَوَاللَّہِ لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّی تَکْفُرَ أَوْ أَمُوتَ فَکَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ یُطْعِمُوہَا أَوْ یَسْقُوہَا شَجَرُوا فَاہَا بِعَصًا ثُمَّ أَوْجَرُوہَا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ فَنَزَلَتْ { وَوَصَّیْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا وَإِنْ جَاہَدَاکَ عَلَی أَنْ تُشْرِکَ بِی مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْہُمَا } [العنکبوت ٨] أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৪০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مسلمان لڑائی میں اپنے باپ کے قتل سے پرہیز کرتا ہے، اگرچہ وہ اس کو قتل بھی کر دے تو کوئی حرج نہیں ہے
(١٧٨٣٤) حضرت طلحہ بن برائ (رض) جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : جو آپ پسند کریں مجھے حکم دیں۔ میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر تعجب کیا اور وہ ابھی چھوٹے تھے۔ آپ نے ان کو کہا : ” اپنے باپ کو قتل کر ! “ جب وہ واپس ہوا تاکہ اس پر عمل کرے تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا : ” مجھے رشتے توڑنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ “
(١٧٨٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ وَحْوَحٍ : أَنَّ طَلْحَۃَ بْنَ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا لَقِیَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ یَا نَبِیَّ اللَّہِ مُرْنِی بِمَا أَحْبَبْتَ وَلاَ أَعْصِی لَکَ أَمْرًا قَالَ فَعَجِبَ لِذَلِکَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ غُلاَمٌ فَقَالَ لَہُ عِنْدَ ذَلِکَ : فَاقْتَلْ أَبَاکَ ۔ قَالَ : فَخَرَجَ مُوَلِّیًا لِیَفْعَلَ فَدَعَاہُ قَالَ : إِنِّی لَمْ أُبْعَثْ لِقَطِیعَۃِ رَحِمٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৪১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مسلمان لڑائی میں اپنے باپ کے قتل سے پرہیز کرتا ہے، اگرچہ وہ اس کو قتل بھی کر دے تو کوئی حرج نہیں ہے
(١٧٨٣٥) حضرت عبداللہ بن شوذب فرماتے ہیں کہ بدر کے دن ابو عبیدہ بن جراح کا والد اس کے لیے معبود کھڑے کرتا تھا اور ابو عبیدہ ان سے کنارہ کشی کرتے تھے۔ جب جراح نے اس عمل میں زیادتی کی تو ابو عبیدہ نے انھیں قتل کرنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت اتاری۔ جب ابو عبیدہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا : { لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْا آبَائَ ہُمْ اَوْ اَبْنَآئَ ہُمْ } [المجادلۃ ٢٢] ” تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آپ نہیں پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے۔ “
(١٧٨٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ضَمْرَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَوْذَبٍ قَالَ : جَعَلَ أَبُو أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ یَنْصِبُ الأَلِہَۃَ لأَبِی عُبَیْدَۃَ یَوْمَ بَدْرٍ وَجَعَلَ أَبُو عُبَیْدَۃَ یَحِیدُ عَنْہُ فَلَمَّا کَثَّرَ الْجَرَّاحُ قَصَدَہُ أَبُو عُبَیْدَۃَ فَقَتَلَہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ ہَذِہِ الآیَۃَ حِینَ قَتَلَ أَبَاہُ { لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَائَ ہُمْ أَوْ أَبْنَائَ ہُمْ } [المجادلۃ ٢٢] إِلَی آخِرِہَا۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৪২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مسلمان لڑائی میں اپنے باپ کے قتل سے پرہیز کرتا ہے، اگرچہ وہ اس کو قتل بھی کر دے تو کوئی حرج نہیں ہے
(١٧٨٣٦) حضرت مالک بن عمیر فرماتے ہیں (اور انھوں نے جاہلیت کا دور پایا ہے) کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : میں دشمن سے ملا۔ ان میں میرا باپ بھی تھا۔ میں نے اس کے منہ سے آپ کے بارے میں ناپسندیدہ بات سنی۔ میں صبر نہیں کرسکا۔ میں نے نیزہ سے اس پر وار کیا۔ نتیجتاً وہ قتل ہوگیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر خاموش رہے۔ پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا : میں اپنے باپ کو ملا اور اس کو چھوڑ دیا اور میں نے چاہا کہ اس کو اور میرے علاوہ کوئی پہنچ جائے گا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر بھی خاموش رہے۔
(١٧٨٣٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سُمَیْعٍ الْحَنَفِیِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ عُمَیْرٍ وَکَانَ قَدْ أَدْرَکَ الْجَاہِلِیَّۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ إِنِّی لَقِیتُ الْعَدُوَّ وَلَقِیتُ أَبِی فِیہِمْ فَسَمِعَتُ لَکَ مِنْہُ مَقَالَۃً قَبِیحَۃً فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّی طَعَنْتُہُ بِالرُّمْحِ أَوْ حَتَّی قَتَلْتُہُ فَسَکَتَ عَنْہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ جَائَ ہُ آخَرُ فَقَالَ : إِنِّی لَقِیتُ أَبِی فَتَرَکْتُہُ وَأَحْبَبْتُ أَنْ یَلِیَہُ غَیْرِی فَسَکَتَ عَنْہُ ۔ وَہَذَا مُرْسَلٌ جَیِّدٌ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৪৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدوری لینے کی کراہیت کا بیان اور بادشاہ کی طرف سے اس میں رخصت کا بیان
(١٧٨٣٧) (الف) ابو ایوب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتے ہوئے سنا : تم پر ایسا زمانہ آنے والا ہے جب تم جمع کیے ہوئے لشکروں میں ہو گے اور تم پر لشکروں کو روک دیا جائے اس زمانہ میں کہ انسان ان میں جانا ناپسند کرے گا اور اپنی قوم سے بچے گا۔ پھر قبائل کو دیکھے گا اور خود کو ان پر پیش کرے گا اور کہے گا : کون ہے جس سے میں کافی ہو جاؤں فلاں لشکر کے سلسلہ میں۔ کون ہے جس سے میں کافی ہو جاؤں فلاں لشکر کے بارے میں۔ خبردار یہ مزدور ہے اپنے خون آخری قطرہ تک۔
(١٧٨٣٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ
قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْمَعْنَی وَأَنَا لِحَدِیثِہِ أَتْقَنُ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ : سُلَیْمَانَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ جَابِرٍ الطَّائِیِّ عَنِ ابْنِ أَخِی أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : سَیُفْتَحُ عَلَیْکُمُ الأَمْصَارُ وَسَتَکُونُ جُنُودٌ مُجَنَّدَۃٌ یُقْطَعُ عَلَیْکُمْ فِیہَا بُعُوثٌ یَتَکَرَّہُ الرَّجُلُ مِنْکُمُ الْبَعْثَ فِیہَا فَیَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِہِ ثُمَّ یَتَصَفَّحُ الْقَبَائِلَ یَعْرِضُ نَفْسَہُ عَلَیْہِمْ یَقُولُ مَنْ أَکْفِہِ بَعْثَ کَذَا مَنْ أَکْفِہِ بَعْثَ کَذَا أَلاَ وَذَلِکَ الأَجِیرُ إِلَی آخِرِ قَطْرَۃٍ مِنْ دَمِہِ ۔ [ضعیف ]
قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْمَعْنَی وَأَنَا لِحَدِیثِہِ أَتْقَنُ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ : سُلَیْمَانَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ جَابِرٍ الطَّائِیِّ عَنِ ابْنِ أَخِی أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : سَیُفْتَحُ عَلَیْکُمُ الأَمْصَارُ وَسَتَکُونُ جُنُودٌ مُجَنَّدَۃٌ یُقْطَعُ عَلَیْکُمْ فِیہَا بُعُوثٌ یَتَکَرَّہُ الرَّجُلُ مِنْکُمُ الْبَعْثَ فِیہَا فَیَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِہِ ثُمَّ یَتَصَفَّحُ الْقَبَائِلَ یَعْرِضُ نَفْسَہُ عَلَیْہِمْ یَقُولُ مَنْ أَکْفِہِ بَعْثَ کَذَا مَنْ أَکْفِہِ بَعْثَ کَذَا أَلاَ وَذَلِکَ الأَجِیرُ إِلَی آخِرِ قَطْرَۃٍ مِنْ دَمِہِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৪৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدوری لینے کی کراہیت کا بیان اور بادشاہ کی طرف سے اس میں رخصت کا بیان
(١٧٨٣٨) حضرت شقیق بن عیزار فرماتے ہیں : میں نے ابن عمر (رض) سے اجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : میں اجرت نہیں لیتا مگر جو اجرت مجھے میرا رب دے۔ حضرت شقیق فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن زبیر (رض) سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : اس چھوڑنا افضل ہے اگر تو لیتا ہے تو فی سبیل اللہ خرچ کر دے۔
(١٧٨٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی الزُّبَیْرُ بْنُ عَدِیٍّ عَنْ شَقِیقِ بْنِ الْعَیْزَارِ الأَسَدِیِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْجَعَائِلِ فَقَالَ : لَمْ أَکُنْ لأَرْتَشِی إِلاَّ مَا رَشَانِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ فَقَالَ تَرْکُہَا أَفْضَلُ فَإِنْ أَخَذْتَہَا فَأَنْفِقْہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৪৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدوری لینے کی کراہیت کا بیان اور بادشاہ کی طرف سے اس میں رخصت کا بیان
(١٧٨٣٩) عبید بن اعجم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس (رض) سے اجرت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : جب ہتھیار اور گھوڑوں کے سلسلہ میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جب غلاموں پر اجرت ہو تو نہ لے۔
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں : ان کو یہ پسند تھا کہ ان کو دیا جائے اس کے بدلہ میں کہ وہ خود لیں، یعنی اجرت۔
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں : ان کو یہ پسند تھا کہ ان کو دیا جائے اس کے بدلہ میں کہ وہ خود لیں، یعنی اجرت۔
(١٧٨٣٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الأَعْجَمِ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ الْجُعْلِ قَالَ : إِذَا جَعَلْتَہُ فِی سِلاَحٍ أَوْ کُرَاعٍ فَلاَ بَأْسَ بِہِ وَإِذَا جَعَلْتَہُ فِی الرَّقِیقِ فَلاَ ۔ وَرُوِّینَا عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ أَنَّہُ قَالَ : کَانُوا أَنْ یُعْطُوا أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مَنْ أَنْ یَأْخُذُوا یَعْنِی فِی الْجَعَائِلِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৪৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدوری لینے کی کراہیت کا بیان اور بادشاہ کی طرف سے اس میں رخصت کا بیان
(١٧٨٤٠) حضرت جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے جو لوگ لڑائی پر اجرت لیتے ہیں اور اس سے دشمن کے خلاف قوت حاصل کرتے ہیں۔ ان کی مثال موسیٰ (علیہ السلام) کی والد کی طرح ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو دودھ پلاتی تھیں اور اجرت لیتی تھیں۔
(١٧٨٤٠) وَرَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَیَّاشٍ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ حُدَیْرٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَثَلُ الَّذِینَ یَغْزُونَ مِنْ أُمَّتِی وَیَأْخُذُونَ الْجُعْلَ یَتَقَوَّوْنَ عَلَی عَدُوِّہِمْ مَثَلُ أُمِّ مُوسَی تُرْضِعُ وَلَدَہَا وَتَأْخُذُ أَجْرَہَا۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ ۔ فَذَکَرَہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক: