আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৭৮৪৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غازی کو تیار کرنے اور اس کو بھیجنے والے کے اجر کا بیان
(١٧٨٤١) حضرت زید بن خالد جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے غازی کو تیار کیا، اس نے جہاد کیا اور جس نے اس کے اہل خانہ کی بہتر کفالت کی، اس نے بھی جہاد کیا۔
(١٧٨٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ الْقَاضِی بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِی الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ حَدَّثَنِی بُسْرُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُہَنِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ جَہَّزَ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَہُ فِی أَہْلِہِ بِخَیْرٍ فَقَدْ غَزَا ۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَحَدِیثِ رَوْحٍ مِثْلَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنْ عَنْ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ أَبِی الرَّبِیعِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ عَنْ حُسَیْنٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৪৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غازی کو تیار کرنے اور اس کو بھیجنے والے کے اجر کا بیان
(١٧٨٤٢) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ بنو اسلم سے ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : میں جہاد پر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں مگر میرے پاس زاد راہ نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” فلاں آدمی نے جہاد کی تیاری کی۔ پھر وہ بیمار ہوگیا تو اس کے پاس جا اور اس کو کہہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھے سلام کہتے ہیں اور تجھے حکم دیتے ہیں کہ زاد راہ مجھے دے دے۔ جس سے میں جہاد کی تیاری کرسکوں۔ “ وہ آدمی اس کے پاس گیا اور اس کو کہا : اس نے اپنی بیوی کو کہا جو کچھ میرے لیے تیار کیا تھا وہ دیکھ کر اس کو دے دو اور کوئی چیز روک کر نہ رکھنا اللہ تجھے برکت دے گا۔
(١٧٨٤٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ أَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : إِنِّی أُرِیدُ الْجِہَادَ وَلَیْسَ مَعِی مَا أَتَجَہَّزُ بِہِ فَقَالَ : إِنَّ فُلاَنًا قَدْ تَجَہَّزَ ثُمَّ مَرِضَ فَاذْہَبْ إِلَیْہِ فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُقْرِئُکَ السَّلاَمَ وَیَأْمُرُکَ أَنْ تُعْطِیَنِی مَا أَتَجَہَّزُ بِہِ ۔ فَأَتَاہُ فَقَالَ لَہُ فَقَالَ لاِمْرَأَتِہِ : انْظُرِی أَنْ تُعْطِیہِ مَا جَہَّزْتِینِی بِہِ وَلاَ تَحْبِسِی مِنْہُ شَیْئًا فَیُبَارِکَ اللَّہُ لَکِ فِیہِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ عَفَّانَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৪৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غازی کو تیار کرنے اور اس کو بھیجنے والے کے اجر کا بیان
(١٧٨٤٣) (الف) حضرت ابو مسعود انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں تھک گیا ہوں، مجھے سواری دیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے پاس نہیں ہے۔ “ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ایسا آدمی بتاؤں جو اس کو سواری دے ؟ آپ نے فرمایا : ” بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔ “

(ب) ایک اور روایت میں ابو معاویہ کہتے ہیں میں تھک گیا ہوں کی بجائے میرا راستہ روک دیا گیا۔
(١٧٨٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ أُبْدِعَ بِی فَاحْمِلْنِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لَیْسَ عِنْدِی ۔ فَقَالَ رَجُلٌ : أَلاَ أَدُلُّکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلَی مَنْ یَحْمِلُہُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ دَلَّ عَلَی خَیْرٍ فَلَہُ أَجْرُ مِثْلِ فَاعِلِہِ ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ : أُبْدِعَ بِی یَقُولُ قُطِعَ بِی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غازی کو تیار کرنے اور اس کو بھیجنے والے کے اجر کا بیان
(١٧٨٤٤) اعمش فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : میرے پاس کچھ نہیں جو میں تم کو سواروں کے لیے دوں۔ ہاں تم فلاں آدمی کے پاس جاؤ۔ وہ گیا۔ اس آدمی نے اس کو سواری دی۔ یہ آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور خبر دی تو آپ نے فرمایا : ” بھلائی کی طرف راہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔
(١٧٨٤٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فَقَالَ : مَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُکَ وَلَکِنِ ائْتِ فُلاَنًا فَأَتَاہُ فَحَمَلَہُ فَأَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ : مَنْ دَلَّ عَلَی خَیْرٍ فَلَہُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غازی کو تیار کرنے اور اس کو بھیجنے والے کے اجر کا بیان
(١٧٨٤٥) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غازی کا اجر اس کا ہے اور اس کو تیار کرنے والے کا اجر اس کا ہے۔ غازی کا اجر اور تیار کرنے والے کا اجر برابر ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غازی پر خرچ کرنا لڑائی کی طرح ہے۔
(١٧٨٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ حَیْوَۃَ بْنِ شُرَیْحٍ الْکِنْدِیِّ التُّجِیبِیِّ عَنِ ابْنِ شُفَیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لِلْغَازِی أَجْرُہُ وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُہُ وَأَجْرُ الْغَازِی ۔ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : قَفْلَۃٌ کَغَزْوَۃٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غازی کو تیار کرنے اور اس کو بھیجنے والے کے اجر کا بیان
(١٧٨٤٦) حضرت واثلہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے لیے منادی کی۔ میں اپنے گھر گیا جب واپس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ابتدائی ساتھی جا چکے تھے۔ میں نے مدینہ کا چکر لگایا اور اعلان کیا جو شخص ایک آدمی کو سواری دے، اس کا حصہ سواری دینے والے کا ہوگا۔ انصار کے ایک معزز آدمی نے کہا کہ اس کا حصہ ہمارا ہوگا۔ اس کے بدلہ میں ہم اس کو سواری دیں گے اور اس کا کھانا ہمارے ساتھ ہوگا۔ میں نے قبول کرلیا، اس نے کہا : چلو اللہ کی برکت کے ساتھ، میں نکلا اپنے بہترین ساتھی کے ساتھ۔ ہمیں لڑائی بنا ہی مال ملا۔ مجھے کچھ اونٹنیاں ملیں۔ میں نے ان کو پانی پلایا۔ پھر میں اس کے پاس آیا۔ وہ نکلا اور اونٹ کے کجاوے پر بیٹھ گیا۔ پھر اس نے کہا : ان کو پانی پلاؤ آتے اور جاتے ہوئے اور کہا کہ تیری اونٹنیاں بہترین ہیں تو اس نے کہا : یہ نفع ہے جو میں نے آپ کے ساتھ شرط لگائی اس کا۔ یہ غنیمت آپ کی ہے تو اس نے کہا : میرے بھائی اپنی اونٹنیاں لے جاؤ، ہم نے اس کے علاوہ حصہ کا ارادہ کیا تھا۔ شیخ (رض) کہتے ہیں ( (فَغَیْرَ سَہْمِکَ أَرَدْنَا) ) کا مطلب ہے کہ ہم اجرت میں حصہ نہیں چاہتے تھے بلکہ ہمارا مقصد تو اجر وثواب میں شریک ہونا تھا۔
(١٧٨٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدِّمَشْقِیُّ أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ أَخْبَرَنِی أَبُو زُرْعَۃَ : یَحْیَی بْنُ أَبِی عَمْرٍو السَّیْبَانِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ حَدَّثَہُ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الأَسْقَعِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نَادَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَخَرَجْتُ إِلَی أَہْلِی وَأَقْبَلْتُ وَقَدْ خَرَجَ أَوْلُ صَحَابَۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَطَفِقْتُ فِی الْمَدِینَۃِ أُنَادِی أَلاَ مَنْ یَحْمِلُ رَجُلاً لَہُ سَہْمُہُ فَنَادَی شَیْخٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ لَنَا سَہْمُہُ عَلَی أَنْ نَحْمِلَہُ عُقْبَۃً وَطَعَامُہُ مَعَنَا قُلْتُ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَسِرْ عَلَی بَرَکَۃِ اللَّہِ فَخَرَجْتُ مَعَ خَیْرِ صَاحِبٍ حَتَّی أَفَائَ اللَّہُ عَلَیْنَا فَأَصَابَنِی قَلاَئِصُ فَسُقْتُہُنَّ حَتَّی أَتَیْتُہُ فَخَرَجَ فَقَعَدَ عَلَی حَقِیبَۃٍ مِنْ حَقَائِبِ إِبِلِہِ ثُمَّ قَالَ سُقْہُنَّ مُدْبِرَاتٍ ثُمَّ قَالَ سُقْہُنَّ مُقْبِلاَتٍ فَقَالَ مَا أَرَی قَلاَئِصَکَ إِلاَّ کِرَامًا۔ قَالَ : إِنَّمَا ہِیَ غَنِیمَتُکَ الَّتِی شَرَطْتُ لَکَ ۔ قَالَ : خُذْ قَلاَئِصَکَ ابْنَ أَخِی فَغَیْرَ سَہْمِکَ أَرَدْنَا۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَغَیْرَ سَہْمِکَ أَرَدْنَا یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ أَرَادَ أَنَّا لَمْ نَقْصِدْ بِمَا فَعَلْنَا الإِجَارَۃَ وَإِنَّمَا قَصَدْنَا الاِشْتِرَاکَ فِی الأَجْرِ وَالثَّوَابِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ میں اپنی خدمت کے لیے کسی کو اجرت پر رکھنا
(١٧٨٤٧) حضرت یعلیٰ بن منیہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے غزوات میں بھیجتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے مجھے روانہ کیا۔ ایک آدمی میری خچر پر سوار ہوتا تھا۔ میں نے اس کو کہا : سواری تیار کرو اور چلو۔ اس نے کہا : میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ میں نے کہا : کیوں ؟ اس نے کہا : پہلے میرے لیے تین دینار مقرر کرو۔ میں نے کہا : اب تو میں نکل گیا ہوں اور آپ کی طرف نہیں جاؤں گا۔ سواری تیار کرو اور تجھے تین دینار ملیں گے۔ جب میں لڑائی سے واپس آیا تو میں نے آپ کے سامنے اس کا ذکر کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ اس کو دے دو ۔ یہی لڑائی سے اس کا حصہ ہے۔
(١٧٨٤٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ : الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا بَشِیرُ بْنُ طَلْحَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَیْکٍ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُنَیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَبْعَثُنِی فِی سَرَایَاہُ فَبَعَثَنِی ذَاتَ یَوْمٍ وَکَانَ رَجْلٌ یَرْکَبُ بَغْلِی فَقُلْتُ لَہُ ارْحَلْ فَقَالَ مَا أَنَا بِخَارِجٍ مَعَکَ قُلْتُ لِمَ ؟ قَالَ : حَتَّی تَجْعَلَ لِی ثَلاَثَۃُ دَنَانِیرَ ۔ قُلْتُ الآنَ حِینَ وَدَّعْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا أَنَا بِرَاجِعِ إِلَیْہِ ارْحَلْ وَلَکَ ثَلاَثَۃُ دَنَانِیرَ فَلَمَّا رَجَعْتُ مِنْ غَزَاتِی ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: أَعْطِہَا إِیَّاہُ فَإِنَّہَا حَظُّہُ مِنْ غَزَاتِہِ ۔

(ت) وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الْقَسْمِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الدَّیْلَمِیِّ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُنَیَّۃَ فِی مَعْنَاہُ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران لشکر کو گھر واپسی سے نہ روکے

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں اگر حکمران غازیوں کو روکے گا وہ غلط کرے گا اور سب اس کی مخالفت کر کے واپس جاسکتے ہیں۔
(١٧٨٤٨) حضرت ابو فراس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے خطبہ میں ہمیں کہا : اے لوگو ! میں عمال کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہارے چشموں کو بند کردیں اور تمہارے مال کو لے لیں۔ ان کو اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تم کو دین سکھائیں اور سنت سکھائیں۔ اگر ان میں سے کوئی اس کے علاوہ کام کرے تو اس کا معاملہ مجھ تک پہنچاؤ۔ میں اس سے بدلہ لوں گا۔ خبردار ! مسلمانوں کو مار کر ان کو ذلیل نہ کرو۔ مسلمانوں کو بار بار ٹوک کر اور منع کر کے کفر پر مجبور نہ کریں اور گھروں کو واپسی سے مجاہدین کو نہ روکیں۔ اگر روکو گے تو وہ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں گے اور مجاہدین کو مشکل راستوں پر ڈال کر ضائع نہ کرو۔
(١٧٨٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ یَعْنِی مَحْبُوبَ بْنَ مُوسَی حَدَّثَنَا الْفَزَارِیُّ عَنْ سَعِیدٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی فِرَاسٍ قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ فِی خِطْبَتِہِ : أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی لَمْ أَبْعَثْ إِلَیْکُمْ عُمَّالِی لِیَضْرِبُوا أَبْشَارَکُمْ وَلاَ لِیَأْخُذُوا أَمْوَالَکُمْ وَلَکِنْ بَعَثْتُہُمْ لِیُعَلِّمُوکُمْ دِینَکُمْ وَسُنَّتَکُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِہِ غَیْرَ ذَلِکَ فَلْیَرْفَعْہُ إِلَیَّ فَأُقِصَّہُ مِنْہُ أَلاَ لاَ تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِینَ فَتُذِلُّوہُمْ وَلاَ تَمْنَعُوہُمْ فَتُکَفِّرُوہُمْ وَلاَ تُجَمِّرُوہُمْ فَتَفْتِنُوہُمْ وَلاَ تُنْزِلُوہُمُ الْغِیَاضَ فَتُضَیِّعُوہُمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران لشکر کو گھر واپسی سے نہ روکے

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں اگر حکمران غازیوں کو روکے گا وہ غلط کرے گا اور سب اس کی مخالفت کر کے واپس جاسکتے ہیں۔
(١٧٨٤٩) عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری فرماتے ہیں کہ انصار کا لشکر اپنے امیر کے ساتھ فارس میں تھا اور حضرت عمر (رض) کا معمول تھا کہ ایک سال بعد لشکر کو واپس بلاتے تھے۔ حضرت عمر (رض) ان سے غافل ہوگئے۔ جب مقررہ وقت گزر گیا تو سرحد والے لوگ لوٹ آئے۔ امیر نے ان پر سختی کی اور ڈرایا اور یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابی تھے۔ انھوں نے عمر (رض) سے کہا : آپ ہم سے غافل ہوگئے اور آپ نے ہمارے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کو ترک کردیا کہ لشکر کو تھوڑا تھوڑا کر کے واپس لایا جائے۔
(١٧٨٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ الأَنْصَارِیِّ : أَنَّ جَیْشًا مِنَ الأَنْصَارِ کَانُوا بِأَرْضِ فَارِسَ مَعَ أَمِیرِہِمْ وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُعَقِّبُ الْجُیُوشَ فِی کُلِّ عَامٍ فَشُغِلَ عَنْہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا مَرَّ الأَجَلُ قَفَلَ أَہْلُ ذَلِکَ الثَّغْرِ فَاشْتَدَّ عَلَیْہِ وَأَوْعَدَہُمْ وَہُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالُوا : یَا عُمَرُ إِنَّکَ غَفِلْتَ عَنَّا وَتَرَکْتَ فِینَا الَّذِی أَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ إِعْقَابِ بَعْضِ الَغَزِیَّۃِ بَعْضًا۔ [صحیح۔ اخرجہ السجستانی ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران لشکر کو گھر واپسی سے نہ روکے

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں اگر حکمران غازیوں کو روکے گا وہ غلط کرے گا اور سب اس کی مخالفت کر کے واپس جاسکتے ہیں۔
(١٧٨٥٠) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) رات کو نکلے، انھوں نے ایک عورت کی آواز سنی۔ وہ شعر پڑھ رہی تھی :” رات لمبی ہوگئی اور اس کے اطراف سیاہ ہوگئے ہیں۔ میری راتوں کی نیند اڑا دی ہے اس بات نے کہ میرا حبیب (محبوب) نہیں ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو میں اس کی دیکھ بھال کرتی۔ اور اس چارپائی کے پہلو حرکت کرتے۔ “

حضرت عمر (رض) نے اپنی بیٹی حفصہ (رض) سے پوچھا : عورت زیادہ سے زیادہ اپنے خاوند کے بغیر کتنا صبر کرسکتی ہے ؟ انھوں نے کہا : چھ ماہ یا چار ماہ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں کسی لشکر کو اس سے زیادہ نہیں روکوں گا۔
(١٧٨٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنَ اللَّیْلِ فَسَمِعَ امْرَأَۃً تَقُولُ :

تَطَاوَلَ ہَذَا اللَّیْلُ وَاسْوَدَّ جَانِبُہُ



وَأَرَّقَنِی أَنْ لاَ حَبِیبٌ أُلاَعِبُہُ

فَوَاللَّہِ لَوْلاَ اللَّہُ إِنِّی أُرَاقِبُہُ



تَحَرَّکَ مِنْ ہَذَا السَّرِیرِ جَوَانِبُہُ

فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِحَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : کَمْ أَکْثَرُ مَا تَصْبِرُ الْمَرْأَۃُ عَنْ زَوْجِہَا ؟ فَقَالَتْ : سِتَّۃَ أَوْ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ أَحْبِسُ الْجَیْشَ أَکْثَرَ مِنْ ہَذَا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس پر جہاد فرض نہیں اس کا جہاد پر جانا
(١٧٨٥١) حضرت نجدہ نے ابن عباس (رض) کو لکھا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کے ساتھ مل کر لڑائی کی ہے ؟ اور کیا ان کو حصہ دیا ہے ؟ ابن عباس (رض) نے جواب دیا : عورتیں آپ کے لشکر کے ساتھ ہوتی تھیں اور وہ زخمیوں کا علاج معالجہ کرتی تھیں، لیکن ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ نہیں ہوتا تھا جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو عطیۃً کچھ دے دیتے تھے۔

امام شافعی فرماتے ہیں : درست بات یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لڑائی میں بچے بھی ہوتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو غنیمت سے عطیۃً دیتے تھے۔
(١٧٨٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ : أَنَّ نَجْدَۃَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ وَہَلْ کَانَ یَضْرِبُ لَہُنَّ بِسَہْمٍ ؟ فَقَالَ : قَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ فَیُدَاوِینَ الْجَرْحَی وَلَمْ یَکُنْ یَضْرِبْ لَہُنَّ بِسَہْمٍ وَلَکِنْ یُحْذَیْنَ مِنَ الْغَنِیمَۃِ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَمَحْفُوظٌ أَنَّہُ شَہِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْقِتَالَ الْعَبِیدُ وَالصِّبْیَانُ وَأَحْذَاہُمْ مِنَ الْغَنِیمَۃِ ۔

[صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس پر جہاد فرض نہیں اس کا جہاد پر جانا
(١٧٨٥٢) حضرت نجدہ نے ابن عباس (رض) کو لکھا کہ کیا غلام اور عورت کا مال غنیمت میں حصہ ہے ؟ تو انھوں نے ان کو لکھا کہ ان دونوں کا کوئی حصہ نہیں ہے مگر یہ کہ ان کو عطیۃً دیا جائے۔

ابو یوسف نے اس حدیث کے بارے میں اسماعیل بن امیہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے لکھا ان کو اور بچے کے بارے میں سوال کیا کہ کب وہ یتیمی سے نکلتا ہے اور اس کے لیے مال غنیمت سے حصہ دیا جاتا ہے ؟ انھوں نے کہا : جب بچہ بالغ ہوجائے تو وہ یتیم نہیں ہوتا اس سے نکل جاتا ہے اور اس کے لیے مال غنیمت میں حصہ بھی ہوگا۔
(١٧٨٥٢) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ قَالَ : کَتَبَ نَجْدَۃُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَسْأَلُہُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَۃِ یَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ ہَلْ لَہُمَا مِنَ الْمَغْنَمِ شَیْئٌ؟ قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیْہِ لَیْسَ لَہُمَا شَیْئٌ إِلاَّ أَنْ یُحْذَیَا۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]

وَذَکَرَ أَبُو یُوسُفَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ أَنَّہُ کَتَبَ إِلَیْہُ یَسْأَلُہُ عَنِ الصَّبِیِّ مَتَی یَخْرُجُ مِنَ الْیُتْمِ ؟ وَمَتَی یُضْرَبُ لَہُ بِسَہْمٍ ؟ فَقَالَ : إِنَّہُ یَخْرُجُ مِنَ الْیُتْمِ إِذَا احْتَلَمَ وَیُضْرَبُ لَہُ بِسَہْمٍ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس پر جہاد فرض نہیں اس کا جہاد پر جانا
(١٧٨٥٣) اسماعیل بن امیہ سے مذکورہ روایت کے بعد یہ منقول ہے کہ یتیم کب یتیمی سے نکلتا ہے اور مال فیٔ سے کب اس کا حق رکھا جائے گا تو انھوں نے جواب دیا : جب بالغ ہوجائے تو بچہ یتیم نہیں رہتا اور اس کا حق مال فیٔ میں ثابت ہوجاتا ہے۔
(١٧٨٥٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَزِیدُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ الْقُرَشِیِّ فَذَکَرَ ہَذَا الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ : وَسَأَلَ عَنِ الْیَتِیمِ مَتَی یَخْرُجُ مِنَ الْیُتْمِ وَیَقَعُ حَقُّہُ فِی الْفَیْئِ فَکَتَبَ إِلَیْہِ إِذَا احْتَلَمَ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْیُتْمِ وَوَقَعَ حَقُّہُ فِی الْفَیْئِ ۔ یَزِیدُ بْنُ عِیَاضٍ لاَ یُحَتَجُّ بِہِ وَسَقَطَ مِنْ إِسْنَادِہِ سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৬০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس پر جہاد فرض نہیں اس کا جہاد پر جانا
(١٧٨٥٤) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن جب کچھ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے الگ ہوگئے اور ابو طلحہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ڈھال سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچا رہے تھے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) کو دیکھا اور ام سلیم کو وہ اپنی پیٹھوں پر مشکیزے اٹھاتی تھیں اور لوگوں کے منہ میں ڈالتی تھیں۔ پھر واپس آتی تھیں اور مشکیزے بھر کر پھر جاتیں اور لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتی تھیں۔
(١٧٨٥٤) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ انْہَزَمَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَبُو طَلْحَۃَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُجَوِّبُ عَلَیْہِ بِحَجَفَۃٍ الْحَدِیثَ قَالَ : وَلَقَدْ رَأَیْتُ عَائِشَۃَ بِنْتَ أَبِی بَکْرٍ وَأُمَّ سُلَیْمٍ وَإِنَّہُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَی خَدَمَ سُوقِہِمَا تَنْقُلاَنِ الْقِرَبَ عَلَی مُتُونِہِمَا ثُمَّ تُفْرِغَانِ فِی أَفْوَاہِ الْقَوْمِ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلآنِہَا ثُمَّ تَجِیئَانِ فَتُفْرِغَانِہِ فِی أَفْوَاہِ الْقَوْمِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الدَّارِمِیِّ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৬১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس پر جہاد فرض نہیں اس کا جہاد پر جانا
(١٧٨٥٥) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جنگوں میں ام سلیم اور انصار کی کچھ دوسری عورتیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتی تھیں جب لڑائی ہوتی یہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
(١٧٨٥٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِأُمِّ سُلَیْمٍ وَنِسْوَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ مَعَہُ إِذَا غَزَا فَیَسْقِینَ الْمَائَ وَیُدَاوِینَ الْجَرْحَی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ وَأُمِّ عَطِیَّۃَ وَغَیْرِہِمَا۔ [صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৬২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس پر جہاد فرض نہیں اس کا جہاد پر جانا
(١٧٨٥٦) (الف) حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ سہل بن سعد سے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زخم کے بارے میں سوال ہوا جو احد میں لگا تھا۔ انھوں نے کہا : آپ کے چہرے کو زخمی کیا گیا تھا اور آپ کے رباعی دانت ٹوٹ گئے تھے اور خود آپ کے سر پر ٹوٹ گیا تھا۔ فاطمہ (رض) آپ کا خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی (رض) ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے۔ جب خون نہ رکا تو فاطمہ (رض) نے چٹائی کا ٹکڑا جلا کر اس کی راکھ زخم پر لگائی تو خون بند ہوگیا۔
(١٧٨٥٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ سَمِعَ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ : جُرِحَ وَجْہُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ وَہُشِمَتِ الْبَیْضَۃُ عَلَی رَأْسِہِ فَکَانَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَغْسِلُ الدَّمَ وَکَانَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَسْکُبُ الْمَائَ عَلَیْہِ بِالْمِجَنِّ فَلَمَّا رَأَتِ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ الْمَائَ لاَ یَزِیدُ الدَّمَ إِلاَّ کَثْرَۃً أَخَذَتْ قِطْعَۃَ حَصِیرٍ فَأَحْرَقَتْہُ حَتَّی إِذَا صَارَ رَمَادًا أَلْصَقَتْہُ بِالْجُرْحِ فَاسْتَمْسَکَ الدَّمُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৬৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس پر جہاد فرض نہیں اس کا جہاد پر جانا
(١٧٨٥٧) حضرت عمیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے خیبر کی جنگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر لڑی اور میں اس وقت غلام تھا میرے لیے حصہ تو مقرر نہ ہوا مگر اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تلوار دی جو میرے گلے میں ڈال دی گئی۔ میں اس کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلتا تھا اور آپ نے میرے لیے ردی مال کا بھی حکم دیا۔
(١٧٨٥٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَنَا عُمَیْرٍ مَوْلَی آبِی اللَّحْمِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْبَرَ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوکٌ فَلَمْ یَضْرِبْ لِی بِسَہْمٍ وَأَعْطَانِی سَیْفًا فَقُلِّدْتُہُ أَجُرُّ بِنَعْلِہِ فِی الأَرْضِ وَأَمَرَ لِی مِنْ خُرْثِیِّ الْمَتَاعِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৬৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس پر جہاد فرض نہیں اس کا جہاد پر جانا
(١٧٨٥٨) (الف) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میں بدر کے دن اپنے ساتھیوں کے لیے پانی بھرتا تھا۔

احمد کی روایت میں ہے : کنت اسقی، یعنی میں پانی پلاتا تھا۔
(١٧٨٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنْتُ أَمِیحُ أَصْحَابِی الْمَائَ یَوْمَ بَدْرٍ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَحْمَدَ : کُنْتُ أَسْقِی۔ [صحیح۔ سعید بن منصور ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৬৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٥٩) اما شافعی (رح) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگیں لڑیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بعض ایسے لوگوں نے بھی جنگ لڑی جن کا نفاق ظاہر تھا اور احد کے دن تین سو آدمی آپ سے الگ ہوگئے تھے۔ شیخ فرماتے ہیں : اس کی وضاحت مغازی میں ہے۔
(١٧٨٥٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : غَزَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَغَزَا مَعَہُ بَعْضُ مَنْ یُعْرَفُ نِفَاقُہُ فَانْخَزَلَ عَنْہُ یَوْمَ أُحُدٍ بِثَلاَثِمِائَۃٍ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : ہُوَ بَیِّنٌ فِی الْمَغَازِی۔ [صحیح۔ للشافعی ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৬৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٦٠) ابن شہاب (رض) اور دیگر علماء فرماتے ہیں کہ احد کے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ نکلے تھے۔ جب مدینہ اور احد کے درمیان شوط کے مقام پر پہنچے تو عبداللہ بن ابیٔ منافق لوگوں کی ایک تہائی لے کر الگ ہوگیا اور اہل ریب اور منافق جو اس کے تابع تھے واپس لوٹ آئے۔
(١٧٨٦٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ الزُّہْرِیُّ وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ وَغَیْرُہُمْ مِنْ عُلَمَائِنَا عَنْ یَوْمِ أُحُدٍ فَذَکَرَ الْقِصَّۃَ قَالَ فِیہَا : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی أَلْفِ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِہِ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالشَّوْطِ بَیْنَ الْمَدِینَۃِ وَأُحُدٍ انْخَزَلَ عَنْہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ الْمُنَافِقُ بِثُلُثِ النَّاسِ فَرَجَعَ بِمَنِ اتَّبَعَہُ مِنْ قَوْمِہِ مِنْ أَہْلِ الرِّیَبِ وَالنِّفَاقِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক: