আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৭৮৬৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٦١) حضرت موسیٰ بن عقبہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی منافق احد کے دن اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ لوٹ آیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سات سو آدمی تھے جو باقی بچے۔
(١٧٨٦١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ فِی قِصَّۃِ أُحُدٍ قَالَ : وَرَجَعَ عَنْہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ ابْنُ سَلُولَ فِی ثَلاَثِمِائَۃٍ وَبَقِیَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی سَبْعِمِائَۃٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৬৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٦٢) حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف چلے۔ جب احد میں پہنچے تو عبداللہ بن ابیٔـ اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ وہاں سے لوٹ آیا۔ آپ کے ساتھ سات سو باقی رہ گئے تھے۔
(١٧٨٦٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُلاَثَۃَ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : فَمَضَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی نَزَلَ أُحُدًا وَرَجَعَ عَنْہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ فِی ثَلاَثِمِائَۃٍ وَبَقِیَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی سَبْعِمِائَۃٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৬৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٦٣) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف گئے تو کچھ لوگ راستے سے ہی واپس آگئے جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ان میں دو گروہ تھے، ایک کہتا تھا : ہم ان سے قتال کریں گے۔ ایک کہتا تھا : ہم ان سے قتال نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کردی : { فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰہُ اَرْکَسَھُمْ بِمَا کَسَبُوْا } [النساء ٨٨] ” پھر تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے۔ حالانکہ اللہ نے انھیں اس وجہ سے الٹا کردیا جو انھوں نے کیا۔ “
امام شافعی (رح) کہتے ہیں : پھر یہ لوگ خندق میں شریک ہوئے تو انھوں نے کلام کیا۔ اس میں جو اس نے بیان کیا تھا { مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا } [الاحزاب ١٢] ” اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ دھوکا کا وعدہ کیا ہے۔ “
شیخ (رض) فرماتے ہیں : یہ مغازی میں بالتفصیل موسیٰ بن عقبہ سے اور محمد بن اسحاق اور دیگر سے بیان ہوا ہے اور خندق کے قصہ میں گزر گیا ہے کہ جب آزمائش سخت ہوگئی۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں پر اکثر لوگ منافق ہوگئے اور کلام قبیح (ناپسندیدہ) کرنے لگے۔ جب آپ نے آزمائش اور تکلیف کی وجہ سے لوگوں کی یہ حالت دیکھی تو آپ خوشخبری دینے لگے، آپ نے فرمایا : ” مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو سخت آزمائش تم دیکھ رہے وہ ضرور دور ہوجائے گی۔ مجھے امید ہے ہم بیت اللہ کا طواف پر امن ہو کر کریں گے اور اللہ تعالیٰ مجھے کعبہ کی چابیاں دے گا اور وہ ضرور کسریٰ و قیصر کو ہلاک کرے گا اور تم ان کا خزانہ اس کی راہ میں خرچ کرو گے۔ “ منافقوں میں سے ایک آدمی نے اپنے ساتھیوں سے کہا : کیا تم کو محمد پر حیرانی نہیں ہوئی۔ وہ ہمیں بیت اللہ کے طواف اور فارس و روم کے خزانوں کی تقسیم کے وعدے دیتا ہے جبکہ ہم اپنی حاجت کے لیے جائیں تو بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اللہ کی قسم ! یہ ہمارے ساتھ دھوکا کرتا ہے۔ دوسروں نے کہا : ہمیں اجازت دیں ہمارے گھر اور کچھ نے کہا : اے یثرب والو ! یہاں تمہارے لیے کوئی ٹھکانا نہیں ہے، لوٹ جاؤ۔ ابن اسحاق نے پہلے قائل کا نام معتب بن قشیر اور دوسرے نام اوس بن قیظی نقل کیا ہے۔
امام شافعی (رح) کہتے ہیں : پھر یہ لوگ خندق میں شریک ہوئے تو انھوں نے کلام کیا۔ اس میں جو اس نے بیان کیا تھا { مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا } [الاحزاب ١٢] ” اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ دھوکا کا وعدہ کیا ہے۔ “
شیخ (رض) فرماتے ہیں : یہ مغازی میں بالتفصیل موسیٰ بن عقبہ سے اور محمد بن اسحاق اور دیگر سے بیان ہوا ہے اور خندق کے قصہ میں گزر گیا ہے کہ جب آزمائش سخت ہوگئی۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں پر اکثر لوگ منافق ہوگئے اور کلام قبیح (ناپسندیدہ) کرنے لگے۔ جب آپ نے آزمائش اور تکلیف کی وجہ سے لوگوں کی یہ حالت دیکھی تو آپ خوشخبری دینے لگے، آپ نے فرمایا : ” مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو سخت آزمائش تم دیکھ رہے وہ ضرور دور ہوجائے گی۔ مجھے امید ہے ہم بیت اللہ کا طواف پر امن ہو کر کریں گے اور اللہ تعالیٰ مجھے کعبہ کی چابیاں دے گا اور وہ ضرور کسریٰ و قیصر کو ہلاک کرے گا اور تم ان کا خزانہ اس کی راہ میں خرچ کرو گے۔ “ منافقوں میں سے ایک آدمی نے اپنے ساتھیوں سے کہا : کیا تم کو محمد پر حیرانی نہیں ہوئی۔ وہ ہمیں بیت اللہ کے طواف اور فارس و روم کے خزانوں کی تقسیم کے وعدے دیتا ہے جبکہ ہم اپنی حاجت کے لیے جائیں تو بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اللہ کی قسم ! یہ ہمارے ساتھ دھوکا کرتا ہے۔ دوسروں نے کہا : ہمیں اجازت دیں ہمارے گھر اور کچھ نے کہا : اے یثرب والو ! یہاں تمہارے لیے کوئی ٹھکانا نہیں ہے، لوٹ جاؤ۔ ابن اسحاق نے پہلے قائل کا نام معتب بن قشیر اور دوسرے نام اوس بن قیظی نقل کیا ہے۔
(١٧٨٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی أُحُدٍ رَجَعَ قَوْمٌ مِنَ الطَّرِیقِ فَکَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِیہِمْ فِرْقَتَیْنِ فِرْقَۃٌ تَقُولُ نَقْتُلُہُمْ وَفِرْقَۃٌ تَقُولُ لاَ نَقْتُلُہُمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللَّہُ أَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوا } [النساء ٨٨] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : ثُمَّ شَہِدُوا مَعَہُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ فَتَکَلَّمُوا بِمَا حَکَی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْلِہِمْ { مَا وَعَدَنَا اللَّہُ وَرَسُولُہُ إِلاَّ غُرُورًا } [الأحزاب ١٢]
قَالَ الشَّیْخُ : ہُوَ بَیِّنٌ فِی الْمَغَازِی عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَار وَغَیْرِہِمَا قَالَ مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ بِالإِسْنَادِ الَّذِی تَقَدَّمَ فِی قِصَّۃِ الْخَنْدَقِ : فَلَمَّا اشْتَدَّ الْبَلاَئُ عَلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابِہِ نَافَقَ نَاسٌ کَثِیرٌ وَتَکَلَّمُوا بِکَلاَمٍ قَبِیحٍ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا فِیہِ النَّاسُ مِنَ الْبَلاَئِ وَالْکَرْبِ جَعَلَ یُبَشِّرُہُمْ وَیَقُولُ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَیُفَرَّجَنَّ عَنْکُمْ مَا تَرَوْنَ مِنَ الشِّدَۃِ وَالْبَلاَئِ فَإِنِّی لأَرْجُو أَنْ أَطُوفَ بِالْبَیْتِ الْعَتِیقِ آمِنًا وَأَنْ یَدْفَعَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَیَّ مَفَاتِیحَ الْکَعْبَۃِ وَلَیُہْلِکَنَّ اللَّہُ کِسْرَی وَقَیْصَرَ وَلَتُنْفَقَنَّ کُنُوزُہُمَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ مَعَہُ لأَصْحَابِہِ أَلاَ تَعْجَبُونَ مِنْ مُحَمَّدٍ یَعِدُنَا أَنْ نَطُوفَ بِالْبَیْتِ الْعَتِیقِ وَأَنْ نَقْسِمَ کُنُوزَ فَارِسَ وَالرُّومِ وَنَحْنُ ہَا ہُنَا لاَ یَأْمَنُ أَحَدُنَا أَنْ یَذْہَبَ إِلَی الْغَائِطِ وَاللَّہِ لَمَا یَعِدُنَا إِلاَّ غُرُورًا وَقَالَ آخَرُونَ مِمَّنْ مَعَہُ ائْذَنْ لَنَا فَإِنَّ بُیُوتَنَا عَوْرَۃٌ وَقَالَ آخَرُونَ یَا أَہْلَ یَثْرِبَ لاَ مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوا وَسَمَّی ابْنُ إِسْحَاقَ الْقَائِلَ الأَوَّلَ مُعَتِّبَ بْنَ قُشَیْرٍ وَالْقَائِلَ الثَّانِیَ أَوْسَ بْنَ قَیْظِیٍّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی أُحُدٍ رَجَعَ قَوْمٌ مِنَ الطَّرِیقِ فَکَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِیہِمْ فِرْقَتَیْنِ فِرْقَۃٌ تَقُولُ نَقْتُلُہُمْ وَفِرْقَۃٌ تَقُولُ لاَ نَقْتُلُہُمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللَّہُ أَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوا } [النساء ٨٨] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : ثُمَّ شَہِدُوا مَعَہُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ فَتَکَلَّمُوا بِمَا حَکَی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْلِہِمْ { مَا وَعَدَنَا اللَّہُ وَرَسُولُہُ إِلاَّ غُرُورًا } [الأحزاب ١٢]
قَالَ الشَّیْخُ : ہُوَ بَیِّنٌ فِی الْمَغَازِی عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَار وَغَیْرِہِمَا قَالَ مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ بِالإِسْنَادِ الَّذِی تَقَدَّمَ فِی قِصَّۃِ الْخَنْدَقِ : فَلَمَّا اشْتَدَّ الْبَلاَئُ عَلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابِہِ نَافَقَ نَاسٌ کَثِیرٌ وَتَکَلَّمُوا بِکَلاَمٍ قَبِیحٍ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا فِیہِ النَّاسُ مِنَ الْبَلاَئِ وَالْکَرْبِ جَعَلَ یُبَشِّرُہُمْ وَیَقُولُ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَیُفَرَّجَنَّ عَنْکُمْ مَا تَرَوْنَ مِنَ الشِّدَۃِ وَالْبَلاَئِ فَإِنِّی لأَرْجُو أَنْ أَطُوفَ بِالْبَیْتِ الْعَتِیقِ آمِنًا وَأَنْ یَدْفَعَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَیَّ مَفَاتِیحَ الْکَعْبَۃِ وَلَیُہْلِکَنَّ اللَّہُ کِسْرَی وَقَیْصَرَ وَلَتُنْفَقَنَّ کُنُوزُہُمَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ مَعَہُ لأَصْحَابِہِ أَلاَ تَعْجَبُونَ مِنْ مُحَمَّدٍ یَعِدُنَا أَنْ نَطُوفَ بِالْبَیْتِ الْعَتِیقِ وَأَنْ نَقْسِمَ کُنُوزَ فَارِسَ وَالرُّومِ وَنَحْنُ ہَا ہُنَا لاَ یَأْمَنُ أَحَدُنَا أَنْ یَذْہَبَ إِلَی الْغَائِطِ وَاللَّہِ لَمَا یَعِدُنَا إِلاَّ غُرُورًا وَقَالَ آخَرُونَ مِمَّنْ مَعَہُ ائْذَنْ لَنَا فَإِنَّ بُیُوتَنَا عَوْرَۃٌ وَقَالَ آخَرُونَ یَا أَہْلَ یَثْرِبَ لاَ مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوا وَسَمَّی ابْنُ إِسْحَاقَ الْقَائِلَ الأَوَّلَ مُعَتِّبَ بْنَ قُشَیْرٍ وَالْقَائِلَ الثَّانِیَ أَوْسَ بْنَ قَیْظِیٍّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٦٤) حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ساتھیوں پر آزمائش سخت ہوئی (پھر موسیٰ بن عقبہ کی پوری حدیث مذکورہ نمبر ١٧٨٦١ بیان ہوئی ہے) مگر آخر میں یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا (جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مدد کا ہاتھ کھینچ چکے تھے) کہ اے یثرب والو ! یہاں سے لوٹ چلو تمہارے لیے یہاں کوئی قیام گاہ نہیں ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں : منافقین میں سے کچھ لوگ غزوہ بنی مصطلق میں بھی آپ کے ساتھ انھوں نے بھی نازیبا باتیں کی جن کو اللہ نے حکایتاً بیان فرمایا ہے { یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ } [المنافقون ٨] ” اگر ہم مدینہ واپس گئے تو زیادہ عزت والا اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا۔ “ اس کے علاوہ دوسری آیات جن میں اللہ نے ان کے نفاق کو بیان فرمایا ہے۔
(١٧٨٦٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُلاَثَۃَ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : فَلَمَّا اشْتَدَّ الْبَلاَئُ عَلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابِہِ فَذَکَرَ ہَذِہِ الْقِصَّۃَ مِثْلَ قَوْلِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی آخِرِہَا وَقَالَ رِجَالٌ مِنْہُمْ یُخَذِّلُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَا أَہْلَ یَثْرِبَ لاَ مُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : ثُمَّ غَزَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَشَہِدَہَا مَعَہُ مِنْہُمْ عَدَدٌ فَتَکَلَّمُوا بِمَا حَکَی اللَّہُ مِنْ قَوْلِہِمْ { لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْہَا الأَذَلَّ } [المنافقون ٨] وَغَیْرِ ذَلِکَ مِمَّا حَکَی اللَّہُ مِنْ نِفَاقِہِمْ ۔[ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : ثُمَّ غَزَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَشَہِدَہَا مَعَہُ مِنْہُمْ عَدَدٌ فَتَکَلَّمُوا بِمَا حَکَی اللَّہُ مِنْ قَوْلِہِمْ { لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْہَا الأَذَلَّ } [المنافقون ٨] وَغَیْرِ ذَلِکَ مِمَّا حَکَی اللَّہُ مِنْ نِفَاقِہِمْ ۔[ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٦٥) حضرت زید بن ارقم (رض) فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابیٔ نے کہا کہ اللہ کے رسول کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو حتیٰ کہ وہ لوٹ جائیں اور اسی طرح کہا : اگر ہم مدینہ واپس گئے تو زیادہ عزت والا ذلیل کو ضرور نکال دے گا۔ میں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی کہ انصاریوں نے مجھے ملامت کی اور عبداللہ بن ابیٔ نے قسم اٹھائی کہ اس نے یہ نہیں کہا۔ میں اپنے گھر آ کر سو گیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلوایا، میں گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے تیری تصدیق کی ہے اور عذر بیان کیا ہے۔ قرآن نازل ہوا { ہُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوا } [المنافقون ٧] ” یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہوجائیں۔ “
(١٧٨٦٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ کَعْبٍ الْقَرَظِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ لاَ تُنْفِقُوا عَلَی مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ حَتَّی یَنْفَضُّوا وَقَالَ أَیْضًا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْہَا الأَذَلَّ أَخْبَرْتُ بِذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلاَمَتْنِی الأَنْصَارُ وَحَلَفَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ مَا قَالَ ذَلِکَ فَرَجَعْتُ إِلَی الْمَنْزِلِ فَنِمْتُ فَأَتَانِی رَسُولُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَتَیْتُہُ فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ صَدَّقَکَ وَعَذَرَکَ ۔ وَنَزَلَ { ہُمُ الَّذِینَ یَقُولُونَ لاَ تُنْفِقُوا عَلَی مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ حَتَّی یَنْفَضُّوا } [المنافقون ٧] الآیَۃَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٦٦) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم کسی غزوہ میں تھے۔ مہاجرین نے کسی انصاری کو تکلیف دہ بات کہہ دی تو جابر نے کہا : اس کو چھوڑ دو ، یہ ناپسندیدہ بات ہے۔ عبداللہ بن ابی نے سن لی اور کہا : ان کے اس کام کی وجہ سے اللہ کی قسم اگر ہم مدینہ واپس گئے تو معزز ذلیل کو ضرور نکال دے گا۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو فرمایا : ” اس کو چھوڑ دو تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھوں کو قتل کرتا ہے۔ “ جب مہاجرین مدینے آئے تو انصار زیادہ تھے۔ پھر مہاجرین زیادہ ہوگئے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : غزوہ تبوک میں بھی منافقین میں سے کچھ لوگ شریک تھے۔ عقبہ کی رات کچھ لوگ آپ کو قتل کرنے کے لیے نکلے تھے مگر اللہ نے آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
شیخ فرماتے ہیں : اس کی تفصیل مغازی میں ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : غزوہ تبوک میں بھی منافقین میں سے کچھ لوگ شریک تھے۔ عقبہ کی رات کچھ لوگ آپ کو قتل کرنے کے لیے نکلے تھے مگر اللہ نے آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
شیخ فرماتے ہیں : اس کی تفصیل مغازی میں ہے۔
(١٧٨٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : کُنَّا فِی غَزَاۃٍ وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً أُخْرَی کُنَّا فِی جَیْشٍ فَکَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ : دَعُوہَا فَإِنَّہَا مُنْتِنَۃٌ ۔ فَسَمِعَ ذَلِکَ عِنْدَ عَبْدُ اللَّہِ فَقَالَ قَدْ فَعَلُوہَا أَمَّا وَاللَّہِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْہَا الأَذَلَّ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : دَعْہُ لاَ یَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ أَصْحَابَہُ ۔ قَالَ : وَکَانَتِ الأَنْصَارُ أَکْثَرَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ حِینَ قَدِمُوا الْمَدِینَۃَ ثُمَّ إِنَّ الْمُہَاجِرِینَ کَثُرُوا بَعْدُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَجَمَاعَۃٍ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ ۔
وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ بِالإِسْنَادِ الَّذِی تَقَدَّمَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی غَزْوَۃِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَکَذَلِکَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : ثُمَّ غَزَا غَزْوَۃَ تَبُوکَ فَشَہِدَہَا مَعَہُ مِنْہُمْ قَوْمٌ نَفَرُوا بِہِ لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ لِیَقْتُلُوہُ فَوَقَاہُ اللَّہُ شَرَّہُمْ ۔
قَالَ الشَّیْخُ : رَحِمَہُ اللَّہُ ہُوَ بَیِّنٌ فِی الْمَغَازِی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ بِالإِسْنَادِ الَّذِی تَقَدَّمَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی غَزْوَۃِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَکَذَلِکَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : ثُمَّ غَزَا غَزْوَۃَ تَبُوکَ فَشَہِدَہَا مَعَہُ مِنْہُمْ قَوْمٌ نَفَرُوا بِہِ لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ لِیَقْتُلُوہُ فَوَقَاہُ اللَّہُ شَرَّہُمْ ۔
قَالَ الشَّیْخُ : رَحِمَہُ اللَّہُ ہُوَ بَیِّنٌ فِی الْمَغَازِی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٦٧) ابن اسحاق غزوہ تبوک کے بارے میں فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ثنیہ (گھاٹی) پر پہنچے تو آپ کے ایلچی نے اعلان کیا کہ وادی کے درمیانی حصہ پر قبضہ کرلیں۔ وہ تمہارے لیے وسیع جگہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ثنیہ پر چلے گئے آپ کے ساتھ حذیفہ بن یمان، عمار بن یاسر (رض) تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناپسند کرتے تھے کہ کوئی ثنیہ کے بارے میں ان سے مقابلہ کرے۔ جب منافقین کے گروہ نے یہ نداء سنی تو یہ پیچھے ہٹ گئے اور منافقین نے ان کی پیروی کی۔ ان کے جانے کے بعد جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے خیالات سنے تو اپنے ایک ساتھ سے کہا : (ان کے منہ پر مارو) جب منافقین نے یہ سنا اور دیکھا کہ ایک آدمی ان کی طرف آ رہا ہے جو حذیفہ بن یمان تھے تو سب نیچے اتر آئے۔ ایک سواریوں کو مارنے لگا اور انھوں نے کہا : ہم احمد کے ساتھی ہیں وہ نقاب پوش تھے ان کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ جب آپ کا ساتھی آیا قوم کے اترنے کے بعد تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو نے گروہ کو پہچانا تھا تو اس نے کہا : میں نے ان کو نہیں پہچانا مگر ان کی سواریوں کو پہچانا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ثنیہ سے اترے اور ساتھیوں سے کہا : ” کیا تم جانتے ہو یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ یہ ثنیہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ وہ مجھے اس سے ہٹا دیں۔ “ تو ساتھیوں نے کہا : کیا آپ ہم کو حکم دیتے ہیں کہ ہم ان کی گردن مار دیں۔ جب وہ آپ کے پاس آئیں ؟ تو آپ نے فرمایا : ” میں پسند نہیں کرتا کہ لوگ باتیں کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔ “
(١٧٨٦٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ تَبُوکَ قَالَ : فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الثَّنِیَّۃَ نَادَی مُنَادِی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ خُذُوا بَطْنَ الْوَادِی فَہُوَ أَوْسَعُ عَلَیْکُمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدْ أَخَذَ الثَّنِیَّۃَ وَکَانَ مَعَہُ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ وَعَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَکَرِہَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یُزَاحِمَہُ فِی الثَّنِیَّۃِ أَحَدٌ فَسَمِعَہُ نَاسٌ مِنَ الْمُنَافِقِینَ فَتَخَلَّفُوا ثُمَّ اتَّبَعَہُ رَہْطٌ مِنَ الْمُنَافِقِینَ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِسَّ الْقَوْمِ خَلْفَہُ فَقَالَ لأَحَدِ صَاحِبَیْہِ : اضْرِبْ وُجُوہَہُمْ ۔ فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِکَ وَرَأَوُا الرَّجُلَ مُقْبِلاً نَحْوَہُمْ وَہُوَ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ انْحَدَرُوا جَمِیعًا وَجَعَلَ الرَّجُلُ یَضْرِبُ رَوَاحِلَہُمْ وَقَالُوا : إِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ أَحْمَدَ وَہُمْ مُتَلَثِّمُونَ لاَ یُرَی شَیْئٌ إِلاَّ أَعْیُنُہُمْ فَجَائَ صَاحِبُہُ بَعْدَ مَا انْحَدَرَ الْقَوْمُ فَقَالَ : ہَلْ عَرَفْتَ الرَّہْطَ ؟ فَقَالَ : لاَ وَاللَّہِ یَا نَبِیَّ اللَّہِ وَلَکِنِّی قَدْ عَرَفْتَ رَوَاحِلَہُمْ فَانْحَدَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنَ الثَّنِیَّۃِ وَقَالَ لِصَاحِبَیْہِ : ہَلْ تَدْرُونَ مَا أَرَادَ الْقَوْمُ ؟ أَرَادُوا أَنْ یَزْحَمُونِی مِنَ الثَّنِیَّۃِ فَیَطْرَحُونِی مِنْہَا فَقَالاَ أَفَلاَ تَأْمُرُنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَہُمْ إِذَا اجْتَمَعَ إِلَیْکَ النَّاسُ فَقَالَ : أَکْرَہُ أَنْ یَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ وَضَعَ یَدَہُ فِی أَصْحَابِہِ یَقْتُلُہُمْ ۔ وَذَکَرَ الْقِصَّۃَ ۔ [ضعیف۔ ابن اسحاق عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرسل ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٦٨) حضرت عروہ (رض) فرماتے ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے تو راستے میں کچھ لوگوں نے آپ کے خلاف چال چلی اور مشورہ کیا کہ آپ کو راستہ میں عقبہ سے نیچے گرا دیں گے۔ پھر ابن اسحاق کے ہم معنیٰ قصہ نقل کیا ہے۔
(١٧٨٦٨) وَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُلاَثَۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَافِلاً مِنْ تَبُوکَ إِلَی الْمَدِینَۃِ حَتَّی إِذَا کَانَ بِبَعْضِ الطَّرِیقِ مَکَرَ بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِہِ فَتَآمَرُوا أَنْ یَطْرَحُوہُ مِنْ عَقَبَۃٍ فِی الطَّرِیقِ ثُمَّ ذَکَرَ الْقِصَّۃَ بِمَعْنَی ابْنِ إِسْحَاقَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٦٩) حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ عقبہ کے لوگوں میں سے ایک آدمی کی حضرت حذیفہ کے ساتھ چپکلش تھی جیسا کہ لوگوں میں ہوتی ہے۔ حضرت حذیفہ (رض) نے کہا کہ اس کو گواہ بنا کر بتاؤ، عقبہ کے کتنے لوگ تھے تو قوم نے کہا : جب اس نے سوال کیا تو بتادو تو اس نے کہا : ہم چودہ تھے۔ اگر میں بھی ہوں تو پندرہ ہوں گے میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں بارہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ لڑ رہے تھے اور دنیا اور آخرت دونوں میں اور تین کا عذر بیان کیا۔ انھوں نے کہا : ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعلان نہیں سنا تھا اور نہ قوم کا ارادہ معلوم تھا اور یہ غزوہ گرمی میں تھا وہ چلے اور کہتے ہیں کہ پانی قلیل تھا۔ میں سب سے پہلے پہنچا تو دیکھا کہ ایک گروہ اس سے بھی آگے ہے۔ اس نے اس دن ان پر لعنت کی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حاضرین میں سے کچھ لوگ پیچھے رہ گئے۔ پھر اللہ نے غزوہ تبوک کے دوران یا واپسی پر ان کی خبریں نازل کردیں اور یہ آیات تلاوت کیں : { وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہٗ عُدَّۃًوَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَھُمْ } [التوبۃ ٤٦] یہاں تک پڑھا { وَ یَتَوَلَّوْا وَّ ھُمْ فَرِحُوْنَ ۔ } [التوبۃ ٥٠] ” اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے لیکن انھوں نے اس کا اٹھانا پسند کیا۔۔۔ اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔ “
شیخ فرماتے ہیں کہ مغازی میں وضاحت موجود ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حاضرین میں سے کچھ لوگ پیچھے رہ گئے۔ پھر اللہ نے غزوہ تبوک کے دوران یا واپسی پر ان کی خبریں نازل کردیں اور یہ آیات تلاوت کیں : { وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہٗ عُدَّۃًوَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَھُمْ } [التوبۃ ٤٦] یہاں تک پڑھا { وَ یَتَوَلَّوْا وَّ ھُمْ فَرِحُوْنَ ۔ } [التوبۃ ٥٠] ” اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے لیکن انھوں نے اس کا اٹھانا پسند کیا۔۔۔ اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔ “
شیخ فرماتے ہیں کہ مغازی میں وضاحت موجود ہے۔
(١٧٨٦٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَأَبُو نُعَیْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ جُمَیْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَیْلِ قَالَ : کَانَ بَیْنَ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْعَقَبَۃِ وَبَیْنَ حُذَیْفَۃَ بَعْضِ مَا یَکُونُ بَیْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّہِ کَمْ کَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَۃِ ؟ قَالَ فَقَالَ لَہُ الْقَوْمُ أَخْبِرْہُ أَنْ سَأَلَکَ ۔ قَالَ : کُنَّا نُخْبَرُ أَنَّہُمْ أَرْبَعَۃَ عَشَرَ فَإِنْ کُنْتَ فِیہِمْ فَقَدْ کَانَ الْقَوْمُ خَمْسَۃَ عَشَرَ وَأَشْہَدُ بِاللَّہِ أَنَّ اثْنَیْ عَشَرَ مِنْہُمْ حَرْبٌ لِلَّہِ وَرَسُولِہِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُومُ الأَشْہَادُ وَعَذَرَ ثَلاَثَۃً قَالُوا مَا سَمِعْنَا مُنَادِیَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلاَ عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ وَقَدْ کَانَ فِی حَرَّۃٍ فَمَشَی فَقَالَ إِنَّ الْمَائَ قَلِیلٌ فَلاَ یَسْبِقْنِی إِلَیْہِ أَحَدٌ فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوہُ فَلَعَنَہُمْ یَوْمَئِذٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِی أَحْمَدَ : مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الزُّبَیْرِیِّ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَتَخَلَّفَ آخَرُونَ مِنْہُمْ فِیمَنْ بِحَضْرَتِہِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْہِ غَزَاۃَ تَبُوکَ أَوْ مُنْصَرَفَہُ مِنْہَا مِنْ أَخْبَارِہِمْ فَقَالَ { وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لأَعَدُّوا لَہُ عُدَّۃً وَلَکِنْ کَرِہَ اللَّہُ انْبِعَاثَہُمْ } [التوبۃ ٤٦] قَرَأَ إِلَی قَوْلِہِ { وَیَتَوَلَّوْا وَہُمْ فَرِحُونَ } [التوبۃ ٥٠] قَالَ الشَّیْخُ ہُوَ بَیِّنٌ فِی مَغَازِی مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَابْنِ إِسْحَاقَ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَتَخَلَّفَ آخَرُونَ مِنْہُمْ فِیمَنْ بِحَضْرَتِہِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْہِ غَزَاۃَ تَبُوکَ أَوْ مُنْصَرَفَہُ مِنْہَا مِنْ أَخْبَارِہِمْ فَقَالَ { وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لأَعَدُّوا لَہُ عُدَّۃً وَلَکِنْ کَرِہَ اللَّہُ انْبِعَاثَہُمْ } [التوبۃ ٤٦] قَرَأَ إِلَی قَوْلِہِ { وَیَتَوَلَّوْا وَہُمْ فَرِحُونَ } [التوبۃ ٥٠] قَالَ الشَّیْخُ ہُوَ بَیِّنٌ فِی مَغَازِی مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَابْنِ إِسْحَاقَ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٧٠) حضرت عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شام کے لیے ایک لشکر تیار کیا۔ جب لوگوں کو نکلنے کا حکم دیا تو موسم بہت گرم تھا اور موسم خزاں کی راتیں بھی۔ لوگوں نے سستی کا مظاہرہ کیا اور رومیوں سے ڈر گئے جن کو ثواب کی امید تھی وہ نکل گئے۔ منافقین پیچھے رہے اور اپنے جی میں باتیں کرتے تھے کہ جانے والے واپس نہیں آئیں گے اور یہ رکے رہے۔ اطاعت کرنے والوں سے کچھ مسلمان بھی عذر کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ حضرت عروہ کہتے ہیں : جد بن قیس آپ کے پاس آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ اس نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے بیٹھنے کی اجازت دیں میں زمیندار ہوں اور بھی کچھ وجوہات ہیں جو میرے لیے عذر ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تیاری کر تو مال دار آدمی ہے شاید تو رومیوں کی لڑکیوں کو اپنے پیچھے سوار کرے۔ “ تو اس نے کہا : آپ مجھے اجازت دیں، رومیوں کی لڑکیاں مجھے فتنے میں مبتلا نہیں کریں گی تو اللہ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی : { وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَلَا تِفْتِنِّیْ اَلَا فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا وَ اِنَّ جَھَنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌ بِالْکٰفِرِیْنَ ۔ } [التوبۃ ٤٩] ” ان میں وہ ہے جو کہتا ہے مجھے اجازت دے دیں اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیں، سن لو وہ فتنے ہی میں تو پڑے ہوئے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کو ضرور گھیرنے والی ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین نکلے اور پیچھے رہنے والوں میں ابن عنمہ یا عنمہ جو بنی عمرو بن عوف سے ہے وہ بھی تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ پیچھے کیوں رہا تو اس نے کہا : شغل اور دل لگی کے لیے تو اللہ نے اس کے اور منافقین کے بارے میں آیت نازل فرما دی : { وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ قُلْ اَبِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ } [التوبۃ ٦٥] ” اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے تو ضرور کہیں گے ہم تو صرف شغل کی بات کر رہے تھے، دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دے : کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔ “
(١٧٨٧٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُلاَثَۃَ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَجَہَّزَ غَازِیًا یُرِیدُ الشَّامَ فَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالْخُرُوجِ وَأَمَرَہُمْ بِہِ فِی قَیْظٍ شَدِیدٍ فِی لَیَالِی الْخَرِیفِ فَأَبْطَأَ عَنْہُ نَاسٌ کَثِیرٌ وَہَابُوا الرُّومَ فَخَرَجَ أَہْلُ الْحِسْبَۃِ وَتَخَلَّفَ الْمُنَافِقُونَ وَحَدَّثُوا أَنْفُسَہُمْ أَنَّہُ لاَ یَرْجِعُ أَبَدًا وَثَبَّطُوا عَنْہُ مَنْ أَطَاعَہُمْ وَتَخَلَّفَ عَنْہُ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ لأَمْرٍ کَانَ لَہُمْ فِیہِ عُذْرٌ فَذَکَرَ الْقِصَّۃَ
قَالَ وَأَتَاہُ جَدُّ بْنُ قَیْسٍ وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ مَعَہُ نَفَرٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ائْذَنْ لِی فِی الْقُعُودِ فَإِنِّی ذُو ضَیْعَۃٍ وَعِلَّۃٍ لِی بِہَا عُذْرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : تَجَہَّزْ فَإِنَّکَ مُوْسِرٌ لَعَلَّکَ تُحْقِبُ بَعْضَ بَنَاتِ الأَصْفَرِ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ائْذَنْ لِی وَلاَ تَفْتِنِّی بِبَنَاتِ الأَصْفَرِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ وَفِی أَصْحَابِہِ { وَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ ائْذَنْ لِی وَلاَ تَفْتِنِّی أَلاَ فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیطَۃٌ بِالْکَافِرِینَ } [التوبۃ ٤٩] عَشْرَ آیَاتٍ یَتْبَعُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔
وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَہُ وَکَانَ فِیمَنْ تَخَلَّفَ ابْنُ عَنَمَۃَ أَوْ عَنَمَۃُ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَقِیلَ لَہُ : مَا خَلَّفَکَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -؟ قَالَ : الْخَوْضُ وَاللَّعِبُ ۔ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ وَفِیمَنْ تَخَلَّفَ مِنَ الْمُنَافِقِینَ { وَلَئِنْ سَأَلْتَہُمْ لَیَقُولُنَّ إِنَّمَا کُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّہِ وَآیَاتِہِ وَرَسُولِہِ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِئُونَ } [التوبۃ ٦٥] ثَلاَثَ آیَاتٍ مُتَتَابِعَاتٍ ۔ [ضعیف ]
قَالَ وَأَتَاہُ جَدُّ بْنُ قَیْسٍ وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ مَعَہُ نَفَرٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ائْذَنْ لِی فِی الْقُعُودِ فَإِنِّی ذُو ضَیْعَۃٍ وَعِلَّۃٍ لِی بِہَا عُذْرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : تَجَہَّزْ فَإِنَّکَ مُوْسِرٌ لَعَلَّکَ تُحْقِبُ بَعْضَ بَنَاتِ الأَصْفَرِ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ائْذَنْ لِی وَلاَ تَفْتِنِّی بِبَنَاتِ الأَصْفَرِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ وَفِی أَصْحَابِہِ { وَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ ائْذَنْ لِی وَلاَ تَفْتِنِّی أَلاَ فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیطَۃٌ بِالْکَافِرِینَ } [التوبۃ ٤٩] عَشْرَ آیَاتٍ یَتْبَعُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔
وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَہُ وَکَانَ فِیمَنْ تَخَلَّفَ ابْنُ عَنَمَۃَ أَوْ عَنَمَۃُ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَقِیلَ لَہُ : مَا خَلَّفَکَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -؟ قَالَ : الْخَوْضُ وَاللَّعِبُ ۔ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ وَفِیمَنْ تَخَلَّفَ مِنَ الْمُنَافِقِینَ { وَلَئِنْ سَأَلْتَہُمْ لَیَقُولُنَّ إِنَّمَا کُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّہِ وَآیَاتِہِ وَرَسُولِہِ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِئُونَ } [التوبۃ ٦٥] ثَلاَثَ آیَاتٍ مُتَتَابِعَاتٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٧١) حضرت کعب بن مالک کے قائد (جو آپ کی راہنمائی کرتے تھے نابینا ہونے کی بنا پر) فرماتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک کو سنا، وہ غزوہ تبوک سے اپنے پیچھے رہنے کا واقعہ بیان کرتے ہیں کعب کہتے ہیں : میں کسی غزوہ میں پیچھے نہیں رہا تھا کبھی بھی مگر غزوہ تبوک میں اور غزوہ بدر میں مگر اس میں اللہ نے پیچھے رہنے والے پر سزا نہیں رکھی تھی، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش کے قافلہ کے ارادہ سے نکلے تھے نہ کہ لڑائی کے لیے جبکہ مقرر کرنے کے بغیر ہی دشمن سے سامنا ہوگیا تھا اور میں بیعت عقبہ میں موجود تھا۔ اس میں موجود ہونا مجھے بدر سے زیادہ پسند ہے۔ اگرچہ بدر لوگوں میں بیعت عقبہ سے زیادہ مشہور ہے۔ میرا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ میں غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گیا، حالانکہ اس سے پہلے نہ اتنا قوی تھا اور نہ اتنا سہولت میں تھا۔ جب میں اس غزوے سے پیچھے رہ گیا۔ اس سے پہلے میرے پاس کبھی دو سواریاں نہیں تھیں۔ اس غزوہ میں دو سواریاں تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے غزوات کے لیے واضح بات نہیں کرتے تھے جبکہ اس دفعہ واضح بتادیا تھا اور سخت موسم میں آپ طویل سفر کی طرف نکلے اور کامیابی کی طرف اور دشمن کی زیادہ تعداد کی طرف آپ نے معاملہ کو مسلمانوں کے لیے واضح کیا تاکہ دشمن کی تیاری کے مطابق تیار ہوں اور آپ نے اس طرف کی خبر دی جہاں جانا تھا۔ مسلمان بھی کثرت میں تھے جبکہ حاضری کا انتظام بھی نہیں تھا۔
کعب کہتے ہیں : کوئی غائب ہونے کا گمان ہی کرسکتا ہے مگر وہ یہ جانتا ہے جب تک وحی نہیں آئے گی ہوسکتا مخفی رہے بعد میں نہیں۔
یہ غزوہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت برپا کیا جب پھل پک گئے تھے اور سائے اچھے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان تیار ہوئے۔ میں بھی صبح کے وقت تیاری کرنے لگا تاکہ آپ کے ساتھ تیار ہو سکوں لیکن کوئی فیصلہ نہ کرسکا۔ اپنے دل میں کہا : جب چاہوں گا تو تیاری کرلوں گا میں لیٹ ہوتا رہا یہاں تک کہ لوگوں کی سنجیدگی سخت ہوگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں نے صبح کی اور میں کوئی فیصلہ نہ کرسکا تو میں نے دل میں کہا : ایک دو دن میں چلا جاؤں گا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مل جاؤں گا۔ پھر میں نے صبح کی جب کہ لوگ جا چکے تھے تاکہ تیاری کروں۔ پھر لوٹ آیا اور کوئی فیصلہ نہ کر پایا۔ صبح و شام ہوتی رہی مگر میں کوئی فیصلہ نہ کرسکا میں مسلسل لیٹ ہوتا رہا حتیٰ کہ لشکر جلد نکل گیا اور لڑائی شروع ہوگئی میں نے ارادہ کیا کہ کوچ کروں اور ان کو پالوں۔ کاش میں ایسا کرتا لیکن یہ میرے مقدر میں نہیں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانے کے بعد جب میں لوگوں میں نکلتا تو یہ بات مجھے غم زدہ کردیتی کہ میں نفاق میں ڈوبے لوگوں کو دیکھتا یا کمزور لوگوں کو دیکھتا جن کا عذر تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا خیال نہ آیا حتی کہ آپ تبوک پہنچ گئے تو آپ نے تبوک میں لوگوں سے پوچھا ” کعب کو کیا ہوا۔ “ تو بنو سلمہ کے آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس کو دو چادروں نے روک لیا ہے وہ اس کے کناروں کو دیکھ رہا ہے۔
معاذ بن جبل نے فرمایا : تو نے اچھی بات نہیں کی۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم ان کے بارے میں برا خیال نہیں رکھتے، آپ خاموش ہوگئے۔
کعب کہتے ہیں : جب مجھے خبر ملی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قافلہ واپس آ رہا ہے تو میری سوچ نے فیصلہ کیا کہ میں جھوٹ کا سہارا لوں گا۔ اب میں جھوٹ یاد کرنے لگا اور دل میں کہا کہ کس طرح آپ کے غصہ سے نجات حاصل کی جائے اور اپنے گھر والوں سے مشاورت میں مدد لی۔ جب کہا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کو آ رہے ہیں تو جھوٹ مجھ سے زائل ہوگیا اور میں جان گیا کہ جھوٹی بات سے میں نجات نہیں پاؤں گا میں نے سچ کا دامن پکڑ لیا۔
آپ صبح کے وقت آئے اور آپ کی عادت تھی۔ جب آتے تو مسجد میں پہلے دو رکعت پڑھتے تھے۔ جب آپ یہ کام کرچکے تو پیچھے رہنے والے اور انھوں نے اپنے عذر پیش کیے اور قسمیں اٹھائیں۔ یہ اسی سے اوپر تھے۔ آپ نے ان کے ظاہری حالات کو قبول کیا ان کی بیعت کو قبول کیا اور ان کے لیے استغفار کیا اور ان کے غیب کو اللہ کی طرف لوٹا دیا۔ میں آیا میں نے سلام کہا آپ ہنسے غصے کے ساتھ تھے اور کہا : ” آؤ “ میں آیا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” کس چیز نے تم کو پیچھے رکھا کیا تو نے بیعت نہیں کی تھی ؟ “ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! اگر کسی دنیا دار کے پاس ہوتا تو عذر کے ساتھ اس کے غصہ سے نکل سکتا تھا کیونکہ مجھے بات کرنے کا فن عطا کیا گیا تھا۔ لیکن میں جانتا تھا اگر آج جھوٹی بات سے آپ کو راضی کرلوں تو ہوسکتا ہے اللہ آپ کو مجھے پر ناراض کر دے اور اگر میں سچی بات کروں تو جو آپ اس معاملہ میں مجھ پر پائیں تو میں اللہ سے معافی کی امید کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم ! کوئی عذر نہیں ہے میں کبھی اتنا قوی اور سہولت میں نہیں تھا جتنا اب ہوں جبکہ میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ آپ نے فرمایا : ” اس نے سچ بولا ہے اٹھو یہاں تک کہ اللہ تیرے بارے میں فیصلہ کر دے۔ “
میں اٹھا، بنی سلمہ کے کچھ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! ہم اس سے پہلے تیرے کسی گناہ کو نہیں جانتے تھے۔ پھر بھی تو عذر پیش کرنے سے عاجز کیوں ہوا جیسا کہ دوسروں نے عذر پیش کیے ہیں۔ جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا استغفار تیرے گناہ کے لیے کافی تھا وہ مجھے ملامت کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے ارادہ کرلیا کہ جاؤں اور جھوٹ بول کر اپنی خلاصی کرا لوں۔ پھر میں نے پوچھا : میرے ساتھ کوئی اور بھی ہے تو انھوں نے کہا : ہاں دو آدمی ہیں۔ میں نے کہا : وہ کون ہیں ؟ جواب ملا مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ہیں۔ انھوں نے دو نیک آدمیوں کے نام لیے جو بدر میں موجود تھے۔ میں نے ان کو نمونہ بنایا، میں پکا ہوگیا، جب ان کا ذکر کیا گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیچھے رہنے والوں میں سے ہم تینوں کے ساتھ بات کرنے سے روک دیا تو لوگوں نے اجتناب کیا اور ہم سے بدل گئے۔ یہاں تک کہ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ زمین بھی ہمارا انکار کرتی تھی۔ اسی حالت میں ہم پچاس راتوں تک رہے۔ میرے دونوں ساتھی اپنے گھروں میں بیٹھ گئے اور میں جوان تھا اور طاقت ور تھا۔ میں نماز میں جاتا مسلمانوں کے ساتھ اور بازار کا چکر لگاتا تھا اور کوئی مجھ سے بات نہ کرتا تھا اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتا، وہ نماز کے بعد مجلس میں ہوتے میں۔ سلام کہتا کہ دیکھوں آپ کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں یا نہیں سلام کے جواب دیتے وقت اور نماز پڑھتا اور آنکھ چرا کر دیکھتا۔ جب میں نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ میری طرف دیکھتے جب میں آپ کی طرف دیکھتا تو آپ اعراض کرتے۔ جب مسلمانوں کی بےرخی طویل ہوگئی تو میں ابو قتادہ کے باغ کی دیوار پھلانگ کر اندر گیا۔ وہ میرا چچا زاد تھا اور لوگوں میں محبوب بھی تھا۔ میں نے سلام کہا تو اللہ کی قسم ! اس نے جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا : اے ابو قتادہ ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کیا تو نہیں جانتا ہے میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ وہ خاموش رہے۔ میں نے دہرایا وہ پھر بھی خاموش رہے۔ میں نے تیسری بار دہرایا تو اس نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ میری آنکھیں بہہ پڑیں۔ میں واپس لوٹا اور دیوار پھلانگ کر باہر آیا۔ کعب کہتے ہیں : میں ایک بازار میں تھا کہ ایک شامی ملا جو شام سے غلہ مدینہ میں لا کر فروخت کرتا تھا وہ کہتا تھا : کون ہے جو مجھے کعب سے ملا دے۔ لوگ اشارہ کرنے لگے : وہ میرے پاس آیا اور مجھے ایک خط دیا جو غسان کے بادشاہ کی طرف سے تھا۔ میں چونکہ کاتب تھا تو پڑھ سکتا تھا اس میں لکھا تھا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تیرے ساتھی نے تجھ سے بےوفائی کی ہے اور اللہ نے تجھے ذلت کے لیے نہیں بنایا اور نہ ضائع ہونے کے لیے ہمارے ساتھ مل جاؤ، ہم اچھا برتاؤ کریں گے۔ میں نے اس کو پڑھ کر کہا : یہ بھی ایک آزمائش ہے، میں تنور تلاش کیا اور اس کو تنور میں پھینک دیا۔
پچاس میں سے جب چالیس دن گزر گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایلچی آیا اور اس نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اپنی بیوی سے الگ ہو جاؤ۔ کعب نے پوچھا : کیا طلاق دے دوں یا کچھ اور کروں اس نے کہا : نہیں بلکہ اس سے علیحدہ ہو جاؤ قریب نہ جاؤ، اسی طرح میرے دونوں ساتھیوں کو بھی پیغام دیا گیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا : جب تک اللہ میرے معاملہ کا فیصلہ نہیں کرتا تو اپنے گھر (میکے) چلی جا۔ کعب کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ کی بیوی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگی : اللہ کے رسول ! ہلال بن امیہ بوڑھا آدمی ہے اس کی خدمت کو بھی آپ پسند نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں مگر وہ تیرے قریب نہ آئے۔ “ اس نے کہا : اللہ کی قسم اس میں تو کوئی سکت نہیں ہے وہ تو اس دن سے آج تک مسلسل رو رہا ہے مجھے میرے گھر والوں نے کہا کہ تو بھی اپنی بیوی کے بارے میں اجازت لے لے جس طرح ہلال بن امیہ کے لیے اجازت دی تو وہ اس کی خدمت کرتی ہے۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اس سلسلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب نہیں کروں گا۔ مجھے نہیں خبر کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کہیں گے، اگر میں اجازت طلب کروں اور میں جوان آدمی ہوں۔
ہم اسی حالت میں رہے کہ پچاس دن گزر گئے۔ پچاسویں رات میں اپنے گھر کی چھت پر صبح کی نماز پڑھی، میں بیٹھا ہوا تھا میں اپنے آپ سے تنگ تھا اور زمین ہم پر تنگ ہوگئی تھی کشادہ ہونے کے باوجود۔ میں نے سلع پہاڑ کے اوپر سے ایک آواز سنی ابے خوش ہو جاؤ ! میں سجدہ میں گرگیا اور میں جان گیا کہ نجات مل گئی ہے اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز کے بعد ہماری توبہ کی قبولیت کی خبر دی۔ لوگ مجھے خوشخبری دینے لگے، میرے دو ساتھی مجھے خوشخبری دینے کے لیے ایک گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور وہ پہاڑ پر چڑھ گیا، اس کی آواز گھوڑے والے سے پہلے مجھ تک پہنچ گئی۔ جب یہ میرے پاس آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی تو میں نے خوشخبری دینے کی وجہ سے اپنا قمیض اتار کر اس کو پہنایا اور اللہ کی قسم ! میرے پاس اس کے علاوہ کوئی تھا بھی نہیں۔ میں نے دو کپڑے ادھار لیے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چلا، لوگ جوق در جوق مجھے مبارک دیتے اور کہتے : اللہ نے تیری توبہ کو قبول کرلیا تجھے مبارک ہو۔ جب میں مسجد میں داخل ہوا تو طلحہ بن عبیداللہ میری طرف بھاگ کر آئے اور مصافحہ کیا اور مبارک دی۔ مہاجرین میں سے ان کے علاوہ اور کوئی میری طرف نہیں آیا اور میں نے طلحہ کے اس عمل کو بھلایا نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور آپ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا : ” اے کعب ! مبارک ہو جب تیری ماں نے تجھ کو جنا اس وقت سے لے کو اس بہترین دن کی “ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا یہ آپ کی طرف سے یا اللہ کی طرف سے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” نہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ “ اور جب آپ کو خوشخبری دیتے تو آپ کا چہرہ چمک اٹھتا تھا گویا چاند کا ٹکڑا ہو اور یہ بات آپ کے چہرے پر دیکھی گئی۔ کعب کہتے ہیں : جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے کہا کہ میں اپنی توبہ کی قبولیت کے شکرانے کے طور پر اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کرتا ہوں تو آپ نے فرمایا : ” اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھ، یہ تیرے لیے بہتر ہے۔ “ تو میں نے کہا کہ میں خیبر کا حصہ رکھتا ہوں تو میں نے کہا : اللہ نے مجھے سچ کی وجہ سے نجات دی ہے۔ اب توبہ کا تقاضا یہ ہے کہ کبھی جھوٹی بات نہ کروں گا۔ جب تک زندہ رہوں اللہ کی قسم ! میں کسی مسلمان کو نہیں جانتا کہ جس کی آزمائش سچ کی وجہ سے ہوئی ہو جتنی آزمائش میری ہوئی اور اس دن کے بعد میں نے کبھی جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ بقیہ زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھے گا۔ اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل فرما دیا : { لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ اِنَّہٗ بِھِمْ رَئُ فٌ رَّحِیْمٌ ۔ وَّ عَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا حَتّٰٓی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْھِمْ اَنْفُسُھُمْ وَ ظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّآ اِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ لِیَتُوْبُوْا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ } [التوبۃ ١١٧ تا ١١٩] ” بلاشبہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے نبی پر مہربانی کے ساتھ توبہ قبول فرمائی اور مہاجرین و انصار پر بھی جو تنگ دستی کی گھڑی میں اس کے ساتھ رہے۔ اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہوجائیں پھر وہ ان پر دوبارہ مہربان ہوگیا۔ یقیناً وہ ان پر بہت شفقت کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے اور ان تینوں پر بھی جو موقوف رکھے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین ان پر تنگ ہوگئی باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہوگئیں اور انھوں نے یقین کرلیا کہ بیشک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب سے خالی نہیں۔ پھر اس نے ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ کریں یقیناً اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو ! اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ “ اسلام قبول کرنے کے بعد اس سچائی سے بڑھ کر کوئی نعمت مجھے عزیز نہیں ہے جو سچ میں نے اللہ کے رسول کے سامنے بولا اور اس دن میں نے جھوٹ نہیں بولا اگر بولا ہوتا تو ہلاک ہوتا جس طرح جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوئے اللہ نے وحی کے ذریعہ جھوٹ بولنے کو کہا ہے بہت جو کسی کو کہا جائے۔ اللہ فرماتے ہیں { سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْھِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ اِنَّھُمْ رِجْسٌ وَّ مَاْوٰیھُمْ جَھَنَّمُ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْن ۔ یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ۔ } [التوبۃ ٩٥-٩٦] ” عنقریب وہ تمہارے لیے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے تاکہ تم ان سے توجہ ہٹالو سو ان سے بےتوجہی کرو۔ بیشک وہ گندے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اس کے بدلہ میں جو کماتے ہیں۔ تمہارے لیے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ پس اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ بیشک اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔ “ کعب کہتے ہیں : تینوں مؤخر ہوگئے اس معاملہ میں جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسروں کی جانب سے قبول کرلیا جب انھوں نے حلف اٹھا دیا اور ان کی بیعت لے لی اور ان کے لیے استغفار کیا اور ہمارے معاملہ کو لیٹ کردیا حتیٰ کہ اللہ نے اس کا فیصلہ فرمایا، اس کے بارے میں اللہ نے کہا : { وَّ عَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا } [التوبۃ ١١٨] ” اور ان تینوں پر بھی جن کے معاملہ کو مؤخر کردیا گیا تھا۔ “ اللہ نے یہاں غزوہ سے لیٹ ہونا ذکر نہیں کیا بلکہ فیصلہ کا لیٹ ہونا کہا ہے ان سے جنہوں نے قسم اٹھا کر اور عذر کرلیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبول کرلیا ان سے معاملہ کو لیٹ کیا گیا تھا۔
کعب کہتے ہیں : کوئی غائب ہونے کا گمان ہی کرسکتا ہے مگر وہ یہ جانتا ہے جب تک وحی نہیں آئے گی ہوسکتا مخفی رہے بعد میں نہیں۔
یہ غزوہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت برپا کیا جب پھل پک گئے تھے اور سائے اچھے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان تیار ہوئے۔ میں بھی صبح کے وقت تیاری کرنے لگا تاکہ آپ کے ساتھ تیار ہو سکوں لیکن کوئی فیصلہ نہ کرسکا۔ اپنے دل میں کہا : جب چاہوں گا تو تیاری کرلوں گا میں لیٹ ہوتا رہا یہاں تک کہ لوگوں کی سنجیدگی سخت ہوگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں نے صبح کی اور میں کوئی فیصلہ نہ کرسکا تو میں نے دل میں کہا : ایک دو دن میں چلا جاؤں گا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مل جاؤں گا۔ پھر میں نے صبح کی جب کہ لوگ جا چکے تھے تاکہ تیاری کروں۔ پھر لوٹ آیا اور کوئی فیصلہ نہ کر پایا۔ صبح و شام ہوتی رہی مگر میں کوئی فیصلہ نہ کرسکا میں مسلسل لیٹ ہوتا رہا حتیٰ کہ لشکر جلد نکل گیا اور لڑائی شروع ہوگئی میں نے ارادہ کیا کہ کوچ کروں اور ان کو پالوں۔ کاش میں ایسا کرتا لیکن یہ میرے مقدر میں نہیں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانے کے بعد جب میں لوگوں میں نکلتا تو یہ بات مجھے غم زدہ کردیتی کہ میں نفاق میں ڈوبے لوگوں کو دیکھتا یا کمزور لوگوں کو دیکھتا جن کا عذر تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا خیال نہ آیا حتی کہ آپ تبوک پہنچ گئے تو آپ نے تبوک میں لوگوں سے پوچھا ” کعب کو کیا ہوا۔ “ تو بنو سلمہ کے آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس کو دو چادروں نے روک لیا ہے وہ اس کے کناروں کو دیکھ رہا ہے۔
معاذ بن جبل نے فرمایا : تو نے اچھی بات نہیں کی۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم ان کے بارے میں برا خیال نہیں رکھتے، آپ خاموش ہوگئے۔
کعب کہتے ہیں : جب مجھے خبر ملی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قافلہ واپس آ رہا ہے تو میری سوچ نے فیصلہ کیا کہ میں جھوٹ کا سہارا لوں گا۔ اب میں جھوٹ یاد کرنے لگا اور دل میں کہا کہ کس طرح آپ کے غصہ سے نجات حاصل کی جائے اور اپنے گھر والوں سے مشاورت میں مدد لی۔ جب کہا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کو آ رہے ہیں تو جھوٹ مجھ سے زائل ہوگیا اور میں جان گیا کہ جھوٹی بات سے میں نجات نہیں پاؤں گا میں نے سچ کا دامن پکڑ لیا۔
آپ صبح کے وقت آئے اور آپ کی عادت تھی۔ جب آتے تو مسجد میں پہلے دو رکعت پڑھتے تھے۔ جب آپ یہ کام کرچکے تو پیچھے رہنے والے اور انھوں نے اپنے عذر پیش کیے اور قسمیں اٹھائیں۔ یہ اسی سے اوپر تھے۔ آپ نے ان کے ظاہری حالات کو قبول کیا ان کی بیعت کو قبول کیا اور ان کے لیے استغفار کیا اور ان کے غیب کو اللہ کی طرف لوٹا دیا۔ میں آیا میں نے سلام کہا آپ ہنسے غصے کے ساتھ تھے اور کہا : ” آؤ “ میں آیا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” کس چیز نے تم کو پیچھے رکھا کیا تو نے بیعت نہیں کی تھی ؟ “ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! اگر کسی دنیا دار کے پاس ہوتا تو عذر کے ساتھ اس کے غصہ سے نکل سکتا تھا کیونکہ مجھے بات کرنے کا فن عطا کیا گیا تھا۔ لیکن میں جانتا تھا اگر آج جھوٹی بات سے آپ کو راضی کرلوں تو ہوسکتا ہے اللہ آپ کو مجھے پر ناراض کر دے اور اگر میں سچی بات کروں تو جو آپ اس معاملہ میں مجھ پر پائیں تو میں اللہ سے معافی کی امید کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم ! کوئی عذر نہیں ہے میں کبھی اتنا قوی اور سہولت میں نہیں تھا جتنا اب ہوں جبکہ میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ آپ نے فرمایا : ” اس نے سچ بولا ہے اٹھو یہاں تک کہ اللہ تیرے بارے میں فیصلہ کر دے۔ “
میں اٹھا، بنی سلمہ کے کچھ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! ہم اس سے پہلے تیرے کسی گناہ کو نہیں جانتے تھے۔ پھر بھی تو عذر پیش کرنے سے عاجز کیوں ہوا جیسا کہ دوسروں نے عذر پیش کیے ہیں۔ جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا استغفار تیرے گناہ کے لیے کافی تھا وہ مجھے ملامت کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے ارادہ کرلیا کہ جاؤں اور جھوٹ بول کر اپنی خلاصی کرا لوں۔ پھر میں نے پوچھا : میرے ساتھ کوئی اور بھی ہے تو انھوں نے کہا : ہاں دو آدمی ہیں۔ میں نے کہا : وہ کون ہیں ؟ جواب ملا مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ہیں۔ انھوں نے دو نیک آدمیوں کے نام لیے جو بدر میں موجود تھے۔ میں نے ان کو نمونہ بنایا، میں پکا ہوگیا، جب ان کا ذکر کیا گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیچھے رہنے والوں میں سے ہم تینوں کے ساتھ بات کرنے سے روک دیا تو لوگوں نے اجتناب کیا اور ہم سے بدل گئے۔ یہاں تک کہ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ زمین بھی ہمارا انکار کرتی تھی۔ اسی حالت میں ہم پچاس راتوں تک رہے۔ میرے دونوں ساتھی اپنے گھروں میں بیٹھ گئے اور میں جوان تھا اور طاقت ور تھا۔ میں نماز میں جاتا مسلمانوں کے ساتھ اور بازار کا چکر لگاتا تھا اور کوئی مجھ سے بات نہ کرتا تھا اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتا، وہ نماز کے بعد مجلس میں ہوتے میں۔ سلام کہتا کہ دیکھوں آپ کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں یا نہیں سلام کے جواب دیتے وقت اور نماز پڑھتا اور آنکھ چرا کر دیکھتا۔ جب میں نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ میری طرف دیکھتے جب میں آپ کی طرف دیکھتا تو آپ اعراض کرتے۔ جب مسلمانوں کی بےرخی طویل ہوگئی تو میں ابو قتادہ کے باغ کی دیوار پھلانگ کر اندر گیا۔ وہ میرا چچا زاد تھا اور لوگوں میں محبوب بھی تھا۔ میں نے سلام کہا تو اللہ کی قسم ! اس نے جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا : اے ابو قتادہ ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کیا تو نہیں جانتا ہے میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ وہ خاموش رہے۔ میں نے دہرایا وہ پھر بھی خاموش رہے۔ میں نے تیسری بار دہرایا تو اس نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ میری آنکھیں بہہ پڑیں۔ میں واپس لوٹا اور دیوار پھلانگ کر باہر آیا۔ کعب کہتے ہیں : میں ایک بازار میں تھا کہ ایک شامی ملا جو شام سے غلہ مدینہ میں لا کر فروخت کرتا تھا وہ کہتا تھا : کون ہے جو مجھے کعب سے ملا دے۔ لوگ اشارہ کرنے لگے : وہ میرے پاس آیا اور مجھے ایک خط دیا جو غسان کے بادشاہ کی طرف سے تھا۔ میں چونکہ کاتب تھا تو پڑھ سکتا تھا اس میں لکھا تھا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تیرے ساتھی نے تجھ سے بےوفائی کی ہے اور اللہ نے تجھے ذلت کے لیے نہیں بنایا اور نہ ضائع ہونے کے لیے ہمارے ساتھ مل جاؤ، ہم اچھا برتاؤ کریں گے۔ میں نے اس کو پڑھ کر کہا : یہ بھی ایک آزمائش ہے، میں تنور تلاش کیا اور اس کو تنور میں پھینک دیا۔
پچاس میں سے جب چالیس دن گزر گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایلچی آیا اور اس نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اپنی بیوی سے الگ ہو جاؤ۔ کعب نے پوچھا : کیا طلاق دے دوں یا کچھ اور کروں اس نے کہا : نہیں بلکہ اس سے علیحدہ ہو جاؤ قریب نہ جاؤ، اسی طرح میرے دونوں ساتھیوں کو بھی پیغام دیا گیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا : جب تک اللہ میرے معاملہ کا فیصلہ نہیں کرتا تو اپنے گھر (میکے) چلی جا۔ کعب کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ کی بیوی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگی : اللہ کے رسول ! ہلال بن امیہ بوڑھا آدمی ہے اس کی خدمت کو بھی آپ پسند نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں مگر وہ تیرے قریب نہ آئے۔ “ اس نے کہا : اللہ کی قسم اس میں تو کوئی سکت نہیں ہے وہ تو اس دن سے آج تک مسلسل رو رہا ہے مجھے میرے گھر والوں نے کہا کہ تو بھی اپنی بیوی کے بارے میں اجازت لے لے جس طرح ہلال بن امیہ کے لیے اجازت دی تو وہ اس کی خدمت کرتی ہے۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اس سلسلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب نہیں کروں گا۔ مجھے نہیں خبر کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کہیں گے، اگر میں اجازت طلب کروں اور میں جوان آدمی ہوں۔
ہم اسی حالت میں رہے کہ پچاس دن گزر گئے۔ پچاسویں رات میں اپنے گھر کی چھت پر صبح کی نماز پڑھی، میں بیٹھا ہوا تھا میں اپنے آپ سے تنگ تھا اور زمین ہم پر تنگ ہوگئی تھی کشادہ ہونے کے باوجود۔ میں نے سلع پہاڑ کے اوپر سے ایک آواز سنی ابے خوش ہو جاؤ ! میں سجدہ میں گرگیا اور میں جان گیا کہ نجات مل گئی ہے اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز کے بعد ہماری توبہ کی قبولیت کی خبر دی۔ لوگ مجھے خوشخبری دینے لگے، میرے دو ساتھی مجھے خوشخبری دینے کے لیے ایک گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور وہ پہاڑ پر چڑھ گیا، اس کی آواز گھوڑے والے سے پہلے مجھ تک پہنچ گئی۔ جب یہ میرے پاس آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی تو میں نے خوشخبری دینے کی وجہ سے اپنا قمیض اتار کر اس کو پہنایا اور اللہ کی قسم ! میرے پاس اس کے علاوہ کوئی تھا بھی نہیں۔ میں نے دو کپڑے ادھار لیے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چلا، لوگ جوق در جوق مجھے مبارک دیتے اور کہتے : اللہ نے تیری توبہ کو قبول کرلیا تجھے مبارک ہو۔ جب میں مسجد میں داخل ہوا تو طلحہ بن عبیداللہ میری طرف بھاگ کر آئے اور مصافحہ کیا اور مبارک دی۔ مہاجرین میں سے ان کے علاوہ اور کوئی میری طرف نہیں آیا اور میں نے طلحہ کے اس عمل کو بھلایا نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور آپ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا : ” اے کعب ! مبارک ہو جب تیری ماں نے تجھ کو جنا اس وقت سے لے کو اس بہترین دن کی “ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا یہ آپ کی طرف سے یا اللہ کی طرف سے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” نہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ “ اور جب آپ کو خوشخبری دیتے تو آپ کا چہرہ چمک اٹھتا تھا گویا چاند کا ٹکڑا ہو اور یہ بات آپ کے چہرے پر دیکھی گئی۔ کعب کہتے ہیں : جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے کہا کہ میں اپنی توبہ کی قبولیت کے شکرانے کے طور پر اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کرتا ہوں تو آپ نے فرمایا : ” اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھ، یہ تیرے لیے بہتر ہے۔ “ تو میں نے کہا کہ میں خیبر کا حصہ رکھتا ہوں تو میں نے کہا : اللہ نے مجھے سچ کی وجہ سے نجات دی ہے۔ اب توبہ کا تقاضا یہ ہے کہ کبھی جھوٹی بات نہ کروں گا۔ جب تک زندہ رہوں اللہ کی قسم ! میں کسی مسلمان کو نہیں جانتا کہ جس کی آزمائش سچ کی وجہ سے ہوئی ہو جتنی آزمائش میری ہوئی اور اس دن کے بعد میں نے کبھی جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ بقیہ زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھے گا۔ اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل فرما دیا : { لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ اِنَّہٗ بِھِمْ رَئُ فٌ رَّحِیْمٌ ۔ وَّ عَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا حَتّٰٓی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْھِمْ اَنْفُسُھُمْ وَ ظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّآ اِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ لِیَتُوْبُوْا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ } [التوبۃ ١١٧ تا ١١٩] ” بلاشبہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے نبی پر مہربانی کے ساتھ توبہ قبول فرمائی اور مہاجرین و انصار پر بھی جو تنگ دستی کی گھڑی میں اس کے ساتھ رہے۔ اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہوجائیں پھر وہ ان پر دوبارہ مہربان ہوگیا۔ یقیناً وہ ان پر بہت شفقت کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے اور ان تینوں پر بھی جو موقوف رکھے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین ان پر تنگ ہوگئی باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہوگئیں اور انھوں نے یقین کرلیا کہ بیشک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب سے خالی نہیں۔ پھر اس نے ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی تاکہ وہ توبہ کریں یقیناً اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو ! اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ “ اسلام قبول کرنے کے بعد اس سچائی سے بڑھ کر کوئی نعمت مجھے عزیز نہیں ہے جو سچ میں نے اللہ کے رسول کے سامنے بولا اور اس دن میں نے جھوٹ نہیں بولا اگر بولا ہوتا تو ہلاک ہوتا جس طرح جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوئے اللہ نے وحی کے ذریعہ جھوٹ بولنے کو کہا ہے بہت جو کسی کو کہا جائے۔ اللہ فرماتے ہیں { سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْھِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ اِنَّھُمْ رِجْسٌ وَّ مَاْوٰیھُمْ جَھَنَّمُ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْن ۔ یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ۔ } [التوبۃ ٩٥-٩٦] ” عنقریب وہ تمہارے لیے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے تاکہ تم ان سے توجہ ہٹالو سو ان سے بےتوجہی کرو۔ بیشک وہ گندے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اس کے بدلہ میں جو کماتے ہیں۔ تمہارے لیے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ پس اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ بیشک اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔ “ کعب کہتے ہیں : تینوں مؤخر ہوگئے اس معاملہ میں جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسروں کی جانب سے قبول کرلیا جب انھوں نے حلف اٹھا دیا اور ان کی بیعت لے لی اور ان کے لیے استغفار کیا اور ہمارے معاملہ کو لیٹ کردیا حتیٰ کہ اللہ نے اس کا فیصلہ فرمایا، اس کے بارے میں اللہ نے کہا : { وَّ عَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا } [التوبۃ ١١٨] ” اور ان تینوں پر بھی جن کے معاملہ کو مؤخر کردیا گیا تھا۔ “ اللہ نے یہاں غزوہ سے لیٹ ہونا ذکر نہیں کیا بلکہ فیصلہ کا لیٹ ہونا کہا ہے ان سے جنہوں نے قسم اٹھا کر اور عذر کرلیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبول کرلیا ان سے معاملہ کو لیٹ کیا گیا تھا۔
(١٧٨٧١) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَاللَّہِ بْنَ کَعْبِ قَائِدَ کَعْبٍ حِینَ عَمِیَ مِنْ بَنِیہِ قَالَ سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُ حَدِیثَہُ حِینَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ قَالَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ : لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃٍ غَزَاہَا قَطُّ إِلاَّ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ غَیْرَ أَنِّی تَخَلَّفْتُ عَنْ غَزْوَۃِ بَدْرٍ وَلَمْ یُعَاتِبِ اللَّہُ أَحَدًا حِینَ تَخَلَّفَ عَنْہَا إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُرِیدُ عِیرَ قُرَیْشٍ حَتَّی جَمَعَ اللَّہُ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ عَدُوِّہِمْ عَلَی غَیْرِ مِیعَادٍ وَلَقَدْ شَہِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِہَا مَشْہَدَ بَدْرٍ وَإِنْ کَانَتْ بَدْرٌ أَذْکَرَ فِی النَّاسِ مِنْہَا
کَانَ مِنْ خَبَرِی حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ أَنِّی لَمْ أَکُنْ قَطُّ أَقْوَی وَلاَ أَیْسَرَ مِنِّی حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْہُ فِی تِلْکَ الْغَزْوَۃِ وَاللَّہِ مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِی قَبْلَہَا رَاحِلَتَانِ قَطُّ حَتَّی جَمَعْتُہُمَا تِلْکَ الْغَزْوَۃَ وَلَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُرِیدُ غَزْوَۃَ یَغْزُوہَا إِلاَّ وَرَّی بِغَیْرِہَا حَتَّی کَانَتْ تِلْک الْغَزْوَۃُ غَزَاہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی حَرٍّ شَدِیدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِیدًا وَمَفَازًا وَعَدُوًّا کَثِیرًا فَجَلَّی لِلْمُسْلِمِینَ أَمْرَہَمْ لِیَتَأَہَّبُوا أُہْبَۃَ عَدُوِّہِمْ وَأَخْبَرَہُمْ بِوَجْہِہِ الَّذِی یُرِیدُہُ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَثِیرٌ لاَ یَجْمَعُہُمْ کِتَابٌ حَافِظٌ یُرِیدُ الدِّیوَانَ ۔
قَالَ کَعْبٌ : فَمَا رَجُلٌ یُرِیدُ أَنْ یَتَغَیَّبَ إِلاَّ ظَنَّ أَنْ سَیَخْفَی لَہُ مَا لَمْ یَنْزِلْ فِیہِ وَحْیٌّ مِنَ اللَّہِ وَغَزَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تِلْکَ الْغَزْوَۃَ حِینَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلاَلُ فَتَجَہَّزَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَالْمُسْلِمُونَ مَعَہُ وَطَفِقْتُ أَغْدُو لِکَیْ أَتَجَہَّزَ مَعَہُمْ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا وَأَقُولُ فِی نَفْسِی إِنِّی قَادِرٌ عَلَی ذَلِکَ إِذَا أَرَدْتُہُ فَلَمْ یَزَلْ یَتَمَادَی بِی حَتَّی اسْتَحَرَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَالْمُسْلِمُونَ مَعَہُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَہَازِی شَیْئًا فَقُلْتُ أَتَجَہَّزُ بَعْدَہُ یَوْمًا أَوْ یَوْمَیْنِ ثُمَّ أَلْحَقُہُمْ فَغَدَوْتُ بَعْدَ أَنْ فَصَلُوا لأَتَجَہَّزَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا ثُمَّ غَدَوْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا فَلَمْ یَزَلْ ذَلِکَ یَتَمَادَی بِی حَتَّی أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ وَہَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِکَہُمْ وَلَیْتَنِی فَعَلْتُ فَلَمْ یُقَدَّرْ لِی ذَلِکَ فَکُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِی النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَطُفْتُ فِیہِمْ أَحْزَنَنِی أَنِّی لاَ أَرَی إِلاَّ رَجُلاً مَغْمُوصًا مِنَ النِّفَاقِ أَوْ رَجُلاً مِمَّنْ عَذَرَ اللَّہُ مِنَ الضُّعَفَائِ فَلَمْ یَذْکُرْنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی بَلَغَ تَبُوکَ قَالَ وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْقَوْمِ بِتَبُوکَ : مَا فَعَلَ کَعْبٌ؟ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ یَا رَسُولَ اللَّہِ حَبَسَہُ بُرْدَاہُ یَنْظُرُ فِی عِطْفَیْہِ ۔ فَقَالَ لَہُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : بِئْسَمَا قُلْتَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا عَلِمْنَا إِلاَّ خَیْرًا فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -
قَالَ کَعْبٌ : فَلَمَّا بَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدْ تَوَجَّہَ قَافِلاً مِنْ تَبُوکَ حَضَرَنِی ہَمِّی وَطَفِقْتُ أَتَذَکَّرُ الْکَذِبَ وَأَقُولُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِہِ غَدًا وَأَسْتَعِینُ عَلَی ذَلِکَ بِکُلِّ ذِی رَأْیٍ مِنْ أَہْلِی فَلَمَّا قِیلَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّی الْبَاطِلُ وَعَرَفْتُ أَنِّی لاَ أَخْرُجُ مِنْہُ أَبَدًا بِشَیْئٍ فِیہ کَذِبٌ فَأَجْمَعْتُ صِدْقَہُ ۔
وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَادِمًا وَکَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّی فِیہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِکَ جَائَ الْمُخَلَّفُونَ فَطَفِقُوا یَعْتَذِرُونَ إِلَیْہِ وَیَحْلِفُونَ لَہُ وَکَانُوا بِضْعَۃً وَثَمَانِینَ رَجُلاً فَقَبِلَ مِنْہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلاَنِیَتَہُمْ وَبَایَعَہُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ وَیَکِلُ سَرَائِرَہُمْ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ۔
فَجِئْتُہُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَیْہِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ : تَعَالَ ۔ فَجِئْتُ أَمْشِی حَتَّی جَلَسْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ : مَا خَلَّفَکَ أَلَمْ تَکُنِ ابْتَعْتَ ظَہْرَکَ ؟ فَقُلْتُ : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی وَاللَّہِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَیْرِکَ مِنْ أَہْلِ الدُّنْیَا لَرَأَیْتُ أَنْ سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِہِ بِعُذْرٍ وَلَقَدْ أُعْطِیتُ جَدَلاً وَلَکِنْ وَاللَّہِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُکَ الْیَوْمَ حَدِیثًا کَاذِبًا تَرْضَی بِہِ عَنِّی لَیُوشِکَنَّ اللَّہُ أَنْ یُسْخِطَکَ عَلَیَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُکَ حَدِیثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَیَّ فِیہِ إِنِّی لأَرْجُو عَفْوَ اللَّہِ لاَ وَاللَّہِ مَا کَانَ لِی مِنْ عُذْرٌ وَاللَّہِ مَا کُنْتُ قَطُّ أَقْوَی وَلاَ أَیْسَرَ مِنِّی حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْکَ ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا ہَذَا فَقَدْ صَدَقَ قُمْ حَتَّی یَقْضِیَ اللَّہُ فِیکَ ۔
فَقُمْتُ وَسَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ فَقَالُوا : لاَ وَاللَّہِ مَا عَلِمْنَاکَ کُنْتَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ ہَذَا عَجَزْتَ أَنْ لاَ تَکُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَا اعْتَذَرَ إِلَیْہِ الْمُخَلَّفُونَ قَدْ کَانَ کَافَِیکَ ذَنْبَکَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَکَ فَوَاللَّہِ مَا زَالُوا یُؤَنِّبُونِی حَتَّی أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُکَذِّبَ نَفْسِی ثُمَّ قُلْتُ : ہَلْ لَقِیَ ہَذَا مَعِی أَحَدٌ؟ قَالُوا : نَعَمْ رَجُلاَنِ قَالاَ مِثْلَمَا قُلْتَ وَقِیلَ لَہُمَا مِثْلَمَا قِیلَ لَکَ ۔ فَقُلْتُ : مَنْ ہُمَا ؟ قَالُوا : مُرَارَۃُ بْنُ الرَّبِیعِ الْعَمْرِیُّ وَہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ الْوَاقِفِیُّ فَذَکَرُوا لِی رَجُلَیْنِ صَالِحَیْنِ قَدْ شَہِدَا بَدْرًا فِیہِمَا أُسْوَۃٌ فَمَضَیْتُ حِینَ ذَکَرُوہُمَا لِی۔
وَنَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ کَلاَمِنَا أَیُّہَا الثَّلاَثَۃُ مِنْ بَیْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْہُ فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ وَتَغَیَّرُوا لَنَا حَتَّی تَنَکَّرَتْ فِی نَفْسِی الأَرْضُ فَمَا ہِیَ الَّتِی أَعْرِفُ فَلَبِثْنَا عَلَی ذَلِکَ خَمْسِینَ لَیْلَۃً فَأَمَّا صَاحِبَایَ فَاسْتَکَانَا وَقَعَدَا فِی بُیُوتِہِمَا وَأَمَّا أَنَا فَکُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَہُمْ وَکُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْہَدُ الصَّلاَۃَ مَعَ الْمُسْلِمِینَ وَأَطُوفُ فِی الأَسْوَاقِ وَلاَیُکَلِّمُنِی أَحَدٌ وَآتِی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ فِی مَجْلِسِہِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ فَأُسَلِّمُ عَلَیْہِ فَأَقُولُ فِی نَفْسِی ہَلْ حَرَّکَ شَفَتَیْہِ بِرَدِّ السَّلاَمِ عَلَیَّ أَمْ لاَ ثُمَّ أُصَلِّی فَأُسَارِقُہُ النَّظَرَ فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَی صَلاَتِی نَظَرَ إِلَیَّ فَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَہُ أَعْرَضَ عَنِّی حَتَّی إِذَا طَالَ عَلَیَّ ذَلِکَ مِنْ جَفْوَۃِ الْمُسْلِمِینَ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِی قَتَادَۃَ وَہُوَ ابْنُ عَمِّی وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَیَّ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَوَاللَّہِ مَا رَدَّ عَلَیَّ السَّلاَمَ فَقُلْتُ لَہُ : یَا أَبَا قَتَادَۃَ أَنْشُدُکَ اللَّہَ ہَلْ تَعْلَمُنِی أُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ قَالَ فَسَکَتَ فَعُدْتُ لَہُ فَنَشَدْتُہُ فَسَکَتَ قَالَ فَعُدْتُ لَہُ فَنَاشَدْتُہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَفَاضَتْ عَیْنَایَ وَتَوَلَّیْتُ حَتَّی تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ قَالَ فَبَیْنَا أَنَا أَمْشِی بِسُوقِ الْمَدِینَۃِ إِذَا نَبَطِیٌّ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ یَبِیعُہُ بِالْمَدِینَۃِ یَقُولُ مَنْ یَدُلُّ عَلَی کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ فَطَفِقَ النَّاسُ یُشِیرُونَ لَہُ حَتَّی إِذَا جَائَ نِی دَفَعَ إِلَیَّ کِتَابًا مِنْ مَلِکِ غَسَّانَ وَکُنْتُ کَاتِبًا فَإِذَا فِیہِ : أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِی أَنَّ صَاحِبَکَ قَدْ جَفَاکَ وَلَمْ یَجْعَلْکَ اللَّہُ بِدَارِ ہَوَانٍ وَلاَ مَضْیَعَۃٍ فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِیکَ ۔ فَقُلْتُ حِینَ قَرَأْتُہَا : وَہَذَا أَیْضًا مِنَ الْبَلاَئِ فَتَیَمَّمْتُ بِہِ التَّنُّورَ فَسَجَرْتُہُ بِہَا
حَتَّی إِذَا مَضَتْ لَنَا أَرْبَعُونَ لَیْلَۃً مِنَ الْخَمْسِینَ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَأْمُرُکَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَکَ ۔ فَقُلْتُ : أُطَلِّقْہَا ؟ أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ بِہَا ؟ فَقَالَ : لاَ بَلِ اعْتَزِلْہَا فَلاَ تَقْرَبَنَّہَا وَأَرْسَلَ إِلَی صَاحِبَیَّ بِمِثْلِ ذَلِکَ فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِی : الْحَقِی بِأَہْلِکِ فَکُونِی عِنْدَہُمْ حَتَّی یَقْضِیَ اللَّہُ ہَذَا الأَمْرَ ۔ قَالَ کَعْبٌ : فَجَائَ تِ امْرَأَۃُ ہِلاَلِ بْنِ أُمَیَّۃَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ ہِلاَلَ بْنَ أُمَیَّۃَ شَیْخٌ ضَائِعٌ لَیْسَتْ لَہُ خَادِمٌ فَہَلْ تَکْرَہُ أَنْ أَخْدُمَہُ ۔ قَالَ : لاَ وَلَکِنْ لاَ یَقْرَبَنَّکِ ۔ قَالَتْ : إِنَّہُ وَاللَّہِ مَا بِہِ حَرَکَۃٌ إِلَی شَیْئٍ وَإِنَّہُ مَا زَالَ یَبْکِی مُذْ کَانَ مِنْ أَمْرِہِ مَا کَانَ إِلَی یَوْمِی ہَذَا فَقَالَ لِی بَعْضُ أَہْلِی : لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی امْرَأَتِکَ کَمَا أَذِنَ لِہِلاَلِ بْنِ أُمَیَّۃَ تَخْدُمُہُ فَقُلْتُ : وَاللَّہِ لاَ أَسْتَأْذِنُ فِیہَا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَا یُدْرِینِی مَا یَقُولُ لِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنِ اسْتَأْذَنْتُہُ فِیہَا وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ۔
فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِکَ عَشْرَ لَیَالٍ حَتَّی کَمُلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَیْلَۃً مِنْ حِینِ نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ کَلاَمِنَا فَلَمَّا صَلَّیْتُ صَلاَۃَ الْفَجْرَ صُبْحَ خَمْسِینَ لَیْلَۃً وَأَنَا عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِنَا فَبَیْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَی الْحَالِ الَّتِی ذَکَرَ اللَّہُ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَیَّ نَفْسِی وَضَاقَتْ عَلَیَّ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَی عَلَی جَبَلِ سَلْعٍ یَا کَعْبُ بْنَ مَالِکٍ أَبْشِرْ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّہُ قَدْ جَائَ الْفَرَجُ وَأَذِنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِتَوْبَۃِ اللَّہِ عَلَیْنَا حِینَ صَلَّی صَلاَۃَ الْفَجْرِ فَذَہَبَ النَّاسُ یُبَشِّرُونِی وَذَہَبَ قِبَلَ صَاحِبَیَّ مُبَشِّرُونَ وَرَکَضَ رَجُلٌ إِلَیَّ فَرَسًا وَسَعَی سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَی عَلَی الْجَبَلِ وَکَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ إِلَیَّ مِنَ الْفَرَسِ فَلَمَّا جَائَ نِی الَّذِی سَمِعْتُ صَوْتَہُ یُبَشِّرُنِی نَزَعَتُ ثَوْبَیَّ فَکَسَوْتُہُمَا إِیَّاہُ بِبُشْرَاہُ وَوَاللَّہِ مَا أَمْلِکُ غَیْرَہُمَا یَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَیْنِ فَلَبِسْتُہُمَا وَانْطَلَقْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَتَلَقَّانِی النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا یُہَنِّئُونِی بِالتَّوْبَۃِ یَقُولُونَ لِتَہْنِکَ تَوْبَۃُ اللَّہِ عَلَیْکَ حَتَّی دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَقَامَ إِلَیَّ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ یُہَرْوِلُ حَتَّی صَافَحَنِی وَہَنَّأَنِی مَا قَامَ إِلَیَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ غَیْرُہُ وَلاَ أَنْسَاہَا لِطَلْحَۃَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ یَبْرُقُ وَجْہُہُ مِنَ السُّرُورِ : أَبْشِرْ بِخَیْرِ یَوْمٍ مَرَّ عَلَیْکَ مُذْ وَلَدَتْکَ أُمُّکَ ۔ قُلْتُ : أَمِنْ عِنْدِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ ؟ قَالَ : لاَ بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی۔
وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بُشِّرَ بِبِشَارَۃً یَبْرُقُ وَجْہُہُ حَتَّی کَأَنَّہُ قِطْعَۃُ قَمَرٍ وَکَذَلِکَ یُعْرَفُ ذَلِکَ مِنْہُ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَی الرَّسُولِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمْسِکْ عَلَیْکَ بَعْضَ مَالِکَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ ۔ فَقُلْتُ : فَإِنِّی أُمْسِکُ سَہْمِی الَّذِی بِخَیْبَرَ ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا نَجَّانِی بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَنْ لاَ أُحَدِّثَ إِلاَّ صِدْقًا مَا بَقِیتُ فَوَاللَّہِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ابْتَلاَہُ اللَّہُ فِی صِدْقِ الْحَدِیثِ مُذْ حَدَّثْتُ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَحْسَنَ مِمَّا ابْتَلاَنِی مَا تَعَمَّدْتُ مُذْ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی یَوْمِی ہَذَا کَذِبًا وَإِنِّی لأَرْجُو أَنْ یَحْفَظَنِی اللَّہُ فِیمَا بَقِیَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ { لَقَدْ تَابَ اللَّہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ الَّذِینَ اتَّبَعُوہُ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیغُ قُلُوبُ فَرِیقٍ مِنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَئُ وفٌ رَحِیمٌ وَعَلَی الثَّلاَثَۃِ الَّذِینَ خُلِّفُوا حَتَّی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ أَنْفُسُہُمْ وَظَنُّوا أَنْ لاَ مَلْجَأَ مِنَ اللَّہِ إِلاَّ إِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوبُوا إِنَّ اللَّہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ } [التوبۃ ١١٧-١١٩] فَوَاللَّہِ مَا أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیَّ مِنْ نِعْمَۃٍ بَعْدَ أَنْ ہَدَانِی لِلإِسْلاَمِ أَعْظَمَ فِی نَفْسِی مِنْ صِدْقِی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَئِذٍ أَنْ لاَ أَکُونَ کَذَبْتُہُ فَأَہْلِکَ کَمَا ہَلَکَ الَّذِینَ کَذَبُوہُ فَإِنَّ اللَّہَ قَالَ لِلَّذِینَ کَذَبُوہُ حِینَ نَزَلَ الْوَحْیُ شَرَّ مَا قَالَ لأَحَدٍ قَالَ اللَّہُ تَبَارَک وَتَعَالَی { سَیَحْلِفُونَ بِاللَّہِ لَکُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَیْہِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْہُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْہُمْ إِنَّہُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ جَزَائً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ یَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْہُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْہُمْ فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَرْضَی عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ } [التوبۃ ٩٥-٩٦]
قَالَ کَعْبٌ وَکُنَّا تَخَلَّفْنَا أَیُّہَا الثَّلاَثَۃُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِکَ الَّذِینَ قَبِلَ مِنْہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ حَلَفُوا لَہُ فَبَایَعَہُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَمْرَنَا حَتَّی قَضَی اللَّہُ فِیہِ فَبِذَلِکَ قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی { وَعَلَی الثَّلاَثَۃِ الَّذِینَ خُلِّفُوا } [التوبۃ ١١٨] وَلَیْسَ الَّذِی ذَکَرَ اللَّہُ تَخَلُّفَنَا عَنِ الْغَزْوِ وَإِنَّمَا ہُوَ تَخْلِیفُہُ إِیَّانَا وَإِرْجَاؤُہُ أَمْرَنَا مِمَّنْ حَلَفَ وَاعْتَذَرَ فَقَبِلَ مِنْہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ ۔[صحیح۔ متفق علیہ ]
کَانَ مِنْ خَبَرِی حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ أَنِّی لَمْ أَکُنْ قَطُّ أَقْوَی وَلاَ أَیْسَرَ مِنِّی حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْہُ فِی تِلْکَ الْغَزْوَۃِ وَاللَّہِ مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِی قَبْلَہَا رَاحِلَتَانِ قَطُّ حَتَّی جَمَعْتُہُمَا تِلْکَ الْغَزْوَۃَ وَلَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُرِیدُ غَزْوَۃَ یَغْزُوہَا إِلاَّ وَرَّی بِغَیْرِہَا حَتَّی کَانَتْ تِلْک الْغَزْوَۃُ غَزَاہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی حَرٍّ شَدِیدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِیدًا وَمَفَازًا وَعَدُوًّا کَثِیرًا فَجَلَّی لِلْمُسْلِمِینَ أَمْرَہَمْ لِیَتَأَہَّبُوا أُہْبَۃَ عَدُوِّہِمْ وَأَخْبَرَہُمْ بِوَجْہِہِ الَّذِی یُرِیدُہُ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَثِیرٌ لاَ یَجْمَعُہُمْ کِتَابٌ حَافِظٌ یُرِیدُ الدِّیوَانَ ۔
قَالَ کَعْبٌ : فَمَا رَجُلٌ یُرِیدُ أَنْ یَتَغَیَّبَ إِلاَّ ظَنَّ أَنْ سَیَخْفَی لَہُ مَا لَمْ یَنْزِلْ فِیہِ وَحْیٌّ مِنَ اللَّہِ وَغَزَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تِلْکَ الْغَزْوَۃَ حِینَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلاَلُ فَتَجَہَّزَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَالْمُسْلِمُونَ مَعَہُ وَطَفِقْتُ أَغْدُو لِکَیْ أَتَجَہَّزَ مَعَہُمْ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا وَأَقُولُ فِی نَفْسِی إِنِّی قَادِرٌ عَلَی ذَلِکَ إِذَا أَرَدْتُہُ فَلَمْ یَزَلْ یَتَمَادَی بِی حَتَّی اسْتَحَرَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَالْمُسْلِمُونَ مَعَہُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَہَازِی شَیْئًا فَقُلْتُ أَتَجَہَّزُ بَعْدَہُ یَوْمًا أَوْ یَوْمَیْنِ ثُمَّ أَلْحَقُہُمْ فَغَدَوْتُ بَعْدَ أَنْ فَصَلُوا لأَتَجَہَّزَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا ثُمَّ غَدَوْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا فَلَمْ یَزَلْ ذَلِکَ یَتَمَادَی بِی حَتَّی أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ وَہَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِکَہُمْ وَلَیْتَنِی فَعَلْتُ فَلَمْ یُقَدَّرْ لِی ذَلِکَ فَکُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِی النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَطُفْتُ فِیہِمْ أَحْزَنَنِی أَنِّی لاَ أَرَی إِلاَّ رَجُلاً مَغْمُوصًا مِنَ النِّفَاقِ أَوْ رَجُلاً مِمَّنْ عَذَرَ اللَّہُ مِنَ الضُّعَفَائِ فَلَمْ یَذْکُرْنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی بَلَغَ تَبُوکَ قَالَ وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْقَوْمِ بِتَبُوکَ : مَا فَعَلَ کَعْبٌ؟ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ یَا رَسُولَ اللَّہِ حَبَسَہُ بُرْدَاہُ یَنْظُرُ فِی عِطْفَیْہِ ۔ فَقَالَ لَہُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : بِئْسَمَا قُلْتَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا عَلِمْنَا إِلاَّ خَیْرًا فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -
قَالَ کَعْبٌ : فَلَمَّا بَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدْ تَوَجَّہَ قَافِلاً مِنْ تَبُوکَ حَضَرَنِی ہَمِّی وَطَفِقْتُ أَتَذَکَّرُ الْکَذِبَ وَأَقُولُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِہِ غَدًا وَأَسْتَعِینُ عَلَی ذَلِکَ بِکُلِّ ذِی رَأْیٍ مِنْ أَہْلِی فَلَمَّا قِیلَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّی الْبَاطِلُ وَعَرَفْتُ أَنِّی لاَ أَخْرُجُ مِنْہُ أَبَدًا بِشَیْئٍ فِیہ کَذِبٌ فَأَجْمَعْتُ صِدْقَہُ ۔
وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَادِمًا وَکَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّی فِیہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِکَ جَائَ الْمُخَلَّفُونَ فَطَفِقُوا یَعْتَذِرُونَ إِلَیْہِ وَیَحْلِفُونَ لَہُ وَکَانُوا بِضْعَۃً وَثَمَانِینَ رَجُلاً فَقَبِلَ مِنْہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلاَنِیَتَہُمْ وَبَایَعَہُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ وَیَکِلُ سَرَائِرَہُمْ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ۔
فَجِئْتُہُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَیْہِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ : تَعَالَ ۔ فَجِئْتُ أَمْشِی حَتَّی جَلَسْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ : مَا خَلَّفَکَ أَلَمْ تَکُنِ ابْتَعْتَ ظَہْرَکَ ؟ فَقُلْتُ : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی وَاللَّہِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَیْرِکَ مِنْ أَہْلِ الدُّنْیَا لَرَأَیْتُ أَنْ سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِہِ بِعُذْرٍ وَلَقَدْ أُعْطِیتُ جَدَلاً وَلَکِنْ وَاللَّہِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُکَ الْیَوْمَ حَدِیثًا کَاذِبًا تَرْضَی بِہِ عَنِّی لَیُوشِکَنَّ اللَّہُ أَنْ یُسْخِطَکَ عَلَیَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُکَ حَدِیثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَیَّ فِیہِ إِنِّی لأَرْجُو عَفْوَ اللَّہِ لاَ وَاللَّہِ مَا کَانَ لِی مِنْ عُذْرٌ وَاللَّہِ مَا کُنْتُ قَطُّ أَقْوَی وَلاَ أَیْسَرَ مِنِّی حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْکَ ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا ہَذَا فَقَدْ صَدَقَ قُمْ حَتَّی یَقْضِیَ اللَّہُ فِیکَ ۔
فَقُمْتُ وَسَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ فَقَالُوا : لاَ وَاللَّہِ مَا عَلِمْنَاکَ کُنْتَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ ہَذَا عَجَزْتَ أَنْ لاَ تَکُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَا اعْتَذَرَ إِلَیْہِ الْمُخَلَّفُونَ قَدْ کَانَ کَافَِیکَ ذَنْبَکَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَکَ فَوَاللَّہِ مَا زَالُوا یُؤَنِّبُونِی حَتَّی أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُکَذِّبَ نَفْسِی ثُمَّ قُلْتُ : ہَلْ لَقِیَ ہَذَا مَعِی أَحَدٌ؟ قَالُوا : نَعَمْ رَجُلاَنِ قَالاَ مِثْلَمَا قُلْتَ وَقِیلَ لَہُمَا مِثْلَمَا قِیلَ لَکَ ۔ فَقُلْتُ : مَنْ ہُمَا ؟ قَالُوا : مُرَارَۃُ بْنُ الرَّبِیعِ الْعَمْرِیُّ وَہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ الْوَاقِفِیُّ فَذَکَرُوا لِی رَجُلَیْنِ صَالِحَیْنِ قَدْ شَہِدَا بَدْرًا فِیہِمَا أُسْوَۃٌ فَمَضَیْتُ حِینَ ذَکَرُوہُمَا لِی۔
وَنَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ کَلاَمِنَا أَیُّہَا الثَّلاَثَۃُ مِنْ بَیْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْہُ فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ وَتَغَیَّرُوا لَنَا حَتَّی تَنَکَّرَتْ فِی نَفْسِی الأَرْضُ فَمَا ہِیَ الَّتِی أَعْرِفُ فَلَبِثْنَا عَلَی ذَلِکَ خَمْسِینَ لَیْلَۃً فَأَمَّا صَاحِبَایَ فَاسْتَکَانَا وَقَعَدَا فِی بُیُوتِہِمَا وَأَمَّا أَنَا فَکُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَہُمْ وَکُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْہَدُ الصَّلاَۃَ مَعَ الْمُسْلِمِینَ وَأَطُوفُ فِی الأَسْوَاقِ وَلاَیُکَلِّمُنِی أَحَدٌ وَآتِی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ فِی مَجْلِسِہِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ فَأُسَلِّمُ عَلَیْہِ فَأَقُولُ فِی نَفْسِی ہَلْ حَرَّکَ شَفَتَیْہِ بِرَدِّ السَّلاَمِ عَلَیَّ أَمْ لاَ ثُمَّ أُصَلِّی فَأُسَارِقُہُ النَّظَرَ فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَی صَلاَتِی نَظَرَ إِلَیَّ فَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَہُ أَعْرَضَ عَنِّی حَتَّی إِذَا طَالَ عَلَیَّ ذَلِکَ مِنْ جَفْوَۃِ الْمُسْلِمِینَ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِی قَتَادَۃَ وَہُوَ ابْنُ عَمِّی وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَیَّ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَوَاللَّہِ مَا رَدَّ عَلَیَّ السَّلاَمَ فَقُلْتُ لَہُ : یَا أَبَا قَتَادَۃَ أَنْشُدُکَ اللَّہَ ہَلْ تَعْلَمُنِی أُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ قَالَ فَسَکَتَ فَعُدْتُ لَہُ فَنَشَدْتُہُ فَسَکَتَ قَالَ فَعُدْتُ لَہُ فَنَاشَدْتُہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَفَاضَتْ عَیْنَایَ وَتَوَلَّیْتُ حَتَّی تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ قَالَ فَبَیْنَا أَنَا أَمْشِی بِسُوقِ الْمَدِینَۃِ إِذَا نَبَطِیٌّ مِنْ أَنْبَاطِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ یَبِیعُہُ بِالْمَدِینَۃِ یَقُولُ مَنْ یَدُلُّ عَلَی کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ فَطَفِقَ النَّاسُ یُشِیرُونَ لَہُ حَتَّی إِذَا جَائَ نِی دَفَعَ إِلَیَّ کِتَابًا مِنْ مَلِکِ غَسَّانَ وَکُنْتُ کَاتِبًا فَإِذَا فِیہِ : أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِی أَنَّ صَاحِبَکَ قَدْ جَفَاکَ وَلَمْ یَجْعَلْکَ اللَّہُ بِدَارِ ہَوَانٍ وَلاَ مَضْیَعَۃٍ فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِیکَ ۔ فَقُلْتُ حِینَ قَرَأْتُہَا : وَہَذَا أَیْضًا مِنَ الْبَلاَئِ فَتَیَمَّمْتُ بِہِ التَّنُّورَ فَسَجَرْتُہُ بِہَا
حَتَّی إِذَا مَضَتْ لَنَا أَرْبَعُونَ لَیْلَۃً مِنَ الْخَمْسِینَ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَأْمُرُکَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَکَ ۔ فَقُلْتُ : أُطَلِّقْہَا ؟ أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ بِہَا ؟ فَقَالَ : لاَ بَلِ اعْتَزِلْہَا فَلاَ تَقْرَبَنَّہَا وَأَرْسَلَ إِلَی صَاحِبَیَّ بِمِثْلِ ذَلِکَ فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِی : الْحَقِی بِأَہْلِکِ فَکُونِی عِنْدَہُمْ حَتَّی یَقْضِیَ اللَّہُ ہَذَا الأَمْرَ ۔ قَالَ کَعْبٌ : فَجَائَ تِ امْرَأَۃُ ہِلاَلِ بْنِ أُمَیَّۃَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ ہِلاَلَ بْنَ أُمَیَّۃَ شَیْخٌ ضَائِعٌ لَیْسَتْ لَہُ خَادِمٌ فَہَلْ تَکْرَہُ أَنْ أَخْدُمَہُ ۔ قَالَ : لاَ وَلَکِنْ لاَ یَقْرَبَنَّکِ ۔ قَالَتْ : إِنَّہُ وَاللَّہِ مَا بِہِ حَرَکَۃٌ إِلَی شَیْئٍ وَإِنَّہُ مَا زَالَ یَبْکِی مُذْ کَانَ مِنْ أَمْرِہِ مَا کَانَ إِلَی یَوْمِی ہَذَا فَقَالَ لِی بَعْضُ أَہْلِی : لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی امْرَأَتِکَ کَمَا أَذِنَ لِہِلاَلِ بْنِ أُمَیَّۃَ تَخْدُمُہُ فَقُلْتُ : وَاللَّہِ لاَ أَسْتَأْذِنُ فِیہَا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَا یُدْرِینِی مَا یَقُولُ لِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنِ اسْتَأْذَنْتُہُ فِیہَا وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ۔
فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِکَ عَشْرَ لَیَالٍ حَتَّی کَمُلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَیْلَۃً مِنْ حِینِ نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ کَلاَمِنَا فَلَمَّا صَلَّیْتُ صَلاَۃَ الْفَجْرَ صُبْحَ خَمْسِینَ لَیْلَۃً وَأَنَا عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِنَا فَبَیْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَی الْحَالِ الَّتِی ذَکَرَ اللَّہُ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَیَّ نَفْسِی وَضَاقَتْ عَلَیَّ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَی عَلَی جَبَلِ سَلْعٍ یَا کَعْبُ بْنَ مَالِکٍ أَبْشِرْ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّہُ قَدْ جَائَ الْفَرَجُ وَأَذِنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِتَوْبَۃِ اللَّہِ عَلَیْنَا حِینَ صَلَّی صَلاَۃَ الْفَجْرِ فَذَہَبَ النَّاسُ یُبَشِّرُونِی وَذَہَبَ قِبَلَ صَاحِبَیَّ مُبَشِّرُونَ وَرَکَضَ رَجُلٌ إِلَیَّ فَرَسًا وَسَعَی سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَی عَلَی الْجَبَلِ وَکَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ إِلَیَّ مِنَ الْفَرَسِ فَلَمَّا جَائَ نِی الَّذِی سَمِعْتُ صَوْتَہُ یُبَشِّرُنِی نَزَعَتُ ثَوْبَیَّ فَکَسَوْتُہُمَا إِیَّاہُ بِبُشْرَاہُ وَوَاللَّہِ مَا أَمْلِکُ غَیْرَہُمَا یَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَیْنِ فَلَبِسْتُہُمَا وَانْطَلَقْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَتَلَقَّانِی النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا یُہَنِّئُونِی بِالتَّوْبَۃِ یَقُولُونَ لِتَہْنِکَ تَوْبَۃُ اللَّہِ عَلَیْکَ حَتَّی دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَقَامَ إِلَیَّ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ یُہَرْوِلُ حَتَّی صَافَحَنِی وَہَنَّأَنِی مَا قَامَ إِلَیَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ غَیْرُہُ وَلاَ أَنْسَاہَا لِطَلْحَۃَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ یَبْرُقُ وَجْہُہُ مِنَ السُّرُورِ : أَبْشِرْ بِخَیْرِ یَوْمٍ مَرَّ عَلَیْکَ مُذْ وَلَدَتْکَ أُمُّکَ ۔ قُلْتُ : أَمِنْ عِنْدِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ ؟ قَالَ : لاَ بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی۔
وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بُشِّرَ بِبِشَارَۃً یَبْرُقُ وَجْہُہُ حَتَّی کَأَنَّہُ قِطْعَۃُ قَمَرٍ وَکَذَلِکَ یُعْرَفُ ذَلِکَ مِنْہُ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَی الرَّسُولِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمْسِکْ عَلَیْکَ بَعْضَ مَالِکَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ ۔ فَقُلْتُ : فَإِنِّی أُمْسِکُ سَہْمِی الَّذِی بِخَیْبَرَ ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا نَجَّانِی بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَنْ لاَ أُحَدِّثَ إِلاَّ صِدْقًا مَا بَقِیتُ فَوَاللَّہِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ابْتَلاَہُ اللَّہُ فِی صِدْقِ الْحَدِیثِ مُذْ حَدَّثْتُ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَحْسَنَ مِمَّا ابْتَلاَنِی مَا تَعَمَّدْتُ مُذْ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی یَوْمِی ہَذَا کَذِبًا وَإِنِّی لأَرْجُو أَنْ یَحْفَظَنِی اللَّہُ فِیمَا بَقِیَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ { لَقَدْ تَابَ اللَّہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ الَّذِینَ اتَّبَعُوہُ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیغُ قُلُوبُ فَرِیقٍ مِنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَئُ وفٌ رَحِیمٌ وَعَلَی الثَّلاَثَۃِ الَّذِینَ خُلِّفُوا حَتَّی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ أَنْفُسُہُمْ وَظَنُّوا أَنْ لاَ مَلْجَأَ مِنَ اللَّہِ إِلاَّ إِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوبُوا إِنَّ اللَّہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ } [التوبۃ ١١٧-١١٩] فَوَاللَّہِ مَا أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیَّ مِنْ نِعْمَۃٍ بَعْدَ أَنْ ہَدَانِی لِلإِسْلاَمِ أَعْظَمَ فِی نَفْسِی مِنْ صِدْقِی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَئِذٍ أَنْ لاَ أَکُونَ کَذَبْتُہُ فَأَہْلِکَ کَمَا ہَلَکَ الَّذِینَ کَذَبُوہُ فَإِنَّ اللَّہَ قَالَ لِلَّذِینَ کَذَبُوہُ حِینَ نَزَلَ الْوَحْیُ شَرَّ مَا قَالَ لأَحَدٍ قَالَ اللَّہُ تَبَارَک وَتَعَالَی { سَیَحْلِفُونَ بِاللَّہِ لَکُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَیْہِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْہُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْہُمْ إِنَّہُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ جَزَائً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ یَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْہُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْہُمْ فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَرْضَی عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ } [التوبۃ ٩٥-٩٦]
قَالَ کَعْبٌ وَکُنَّا تَخَلَّفْنَا أَیُّہَا الثَّلاَثَۃُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِکَ الَّذِینَ قَبِلَ مِنْہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ حَلَفُوا لَہُ فَبَایَعَہُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَمْرَنَا حَتَّی قَضَی اللَّہُ فِیہِ فَبِذَلِکَ قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی { وَعَلَی الثَّلاَثَۃِ الَّذِینَ خُلِّفُوا } [التوبۃ ١١٨] وَلَیْسَ الَّذِی ذَکَرَ اللَّہُ تَخَلُّفَنَا عَنِ الْغَزْوِ وَإِنَّمَا ہُوَ تَخْلِیفُہُ إِیَّانَا وَإِرْجَاؤُہُ أَمْرَنَا مِمَّنْ حَلَفَ وَاعْتَذَرَ فَقَبِلَ مِنْہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ ۔[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٧٢) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : کچھ منافقین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں اس طرح کرتے کہ جب آپ غزوہ کے لیے نکلتے تو پیچھے رہ جاتے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں بیٹھ کر خوش ہوتے تھے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آتے تو یہ لوگ عذر کرتے اور قسم اٹھاتے اور چاہتے کہ اللہ کے رسول ان کی تعریف کریں ایسے کام پر جو انھوں نے نہیں کیا۔ تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : { لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ } [آل عمران ١٨٨] ” ان لوگوں کو ہرگز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہرگز خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے راز کھول دیے اور ان کا جاسوسوں کو خبریں دینا بھی ظاہر کردیا اور ان کا یہ چاہنا کہ آپ کے ساتھیوں کو جھوٹ کا سہارا لے کر فتنہ میں ڈال دیں اور بری خبریں پھیلا کر اور آپ کے ساتھیوں کو آپ کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کی ترغیب دلا کر اور اللہ نے خبر دی کہ وہ ان کا اس نیت کے ساتھ جانا ناپسند کرتا ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کے بارے میں پتہ چل جائے تو ان کو مسلمانوں کے غزوہ میں شریک نہ کیا جائے کیونکہ وہ خود مسلمانوں کے لیے نقصان کا باعث ہیں۔ پھر اس کی مزید تاکید اس قول سے ہوتی ہے { فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِھِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ } [التوبۃ ٨١]” پیچھے رہنے والے اللہ کے رسول کی مخالفت میں بیٹھ کر خوش ہوتے ہیں۔ انھوں نے یہاں تک پڑھا : { فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ ۔ } [التوبۃ ٨٣]” پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے راز کھول دیے اور ان کا جاسوسوں کو خبریں دینا بھی ظاہر کردیا اور ان کا یہ چاہنا کہ آپ کے ساتھیوں کو جھوٹ کا سہارا لے کر فتنہ میں ڈال دیں اور بری خبریں پھیلا کر اور آپ کے ساتھیوں کو آپ کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کی ترغیب دلا کر اور اللہ نے خبر دی کہ وہ ان کا اس نیت کے ساتھ جانا ناپسند کرتا ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کے بارے میں پتہ چل جائے تو ان کو مسلمانوں کے غزوہ میں شریک نہ کیا جائے کیونکہ وہ خود مسلمانوں کے لیے نقصان کا باعث ہیں۔ پھر اس کی مزید تاکید اس قول سے ہوتی ہے { فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِھِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ } [التوبۃ ٨١]” پیچھے رہنے والے اللہ کے رسول کی مخالفت میں بیٹھ کر خوش ہوتے ہیں۔ انھوں نے یہاں تک پڑھا : { فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ ۔ } [التوبۃ ٨٣]” پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ “
(١٧٨٧٢) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوحَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُنَافِقِینَ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ إِذَا خَرَجَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی الْغَزْوِ تَخَلَّفُوا عَنْہُ وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِہِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اعْتَذَرُوا إِلَیْہِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا فَنَزَلَتْ فِیہِم { لاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَیُحِبُّونَ أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا فَلاَ تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِنَ الْعَذَابِ } [آل عمران ١٨٨] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ وَابْنِ عَسْکَرٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَأَظْہَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَسْرَارَہُمْ وَخَبَرَ السَّمَّاعِینَ لَہُمْ وَابْتَغَائَ ہُمْ أَنْ یَفْتِنُوا مَنْ مَعَہُ بِالْکَذِبِ وَالإِرْجَافِ وَالتَّخْذِیلِ لَہُمْ فَأَخْبَرَ أَنَّہُ کَرِہَ انْبِعَاثَہُمْ إِذْ کَانُوا عَلَی ہَذِہِ النِّیَّۃِ فَکَانَ فِیہَا مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ اللَّہَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ أَمَرَ أَنْ یُمْنَعَ مَنْ عُرِفَ بِمَا عُرِفُوا بِہِ مِنْ أَنْ یَغْزُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ لأَنَّہُ ضَرَرٌ عَلَیْہِمْ ثُمَّ زَادَ فِی تَأْکِیدِ بَیَانِ ذَلِکَ بِقَوْلِہِ { فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِہِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللَّہِ } [التوبۃ ٨١] قَرَأَ إِلَی قَوْلِہِ { فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِینَ } [التوبۃ ٨٣]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَأَظْہَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَسْرَارَہُمْ وَخَبَرَ السَّمَّاعِینَ لَہُمْ وَابْتَغَائَ ہُمْ أَنْ یَفْتِنُوا مَنْ مَعَہُ بِالْکَذِبِ وَالإِرْجَافِ وَالتَّخْذِیلِ لَہُمْ فَأَخْبَرَ أَنَّہُ کَرِہَ انْبِعَاثَہُمْ إِذْ کَانُوا عَلَی ہَذِہِ النِّیَّۃِ فَکَانَ فِیہَا مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ اللَّہَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ أَمَرَ أَنْ یُمْنَعَ مَنْ عُرِفَ بِمَا عُرِفُوا بِہِ مِنْ أَنْ یَغْزُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ لأَنَّہُ ضَرَرٌ عَلَیْہِمْ ثُمَّ زَادَ فِی تَأْکِیدِ بَیَانِ ذَلِکَ بِقَوْلِہِ { فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِہِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللَّہِ } [التوبۃ ٨١] قَرَأَ إِلَی قَوْلِہِ { فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِینَ } [التوبۃ ٨٣]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٧٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ دین کو فاجر آدمی کے ذریعے بھی تقویت دے دیتے ہیں۔
(١٧٨٧٣) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلُّوَیْہِ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ بْنِ مَنِیعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ الدِّینَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৮০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٧٤) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم منافقین سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور ان کا گناہ ان پر ہے۔ یہ منقطع ہے اور اگر یہ صحیح ہو تو یہ ان منافقین کے بارے میں ہے جن کے بارے میں علم نہیں کہ یہ مدد سے ہاتھ کھینچنے پر اکساتے ہیں یا یہ بری باتیں پھیلاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
(١٧٨٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : نَسْتَعِینُ بِقُوَّۃِ الْمُنَافِقِینَ وَإِثْمُہُ عَلَیْہِمْ ۔ وَہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ فَإِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا وَرَدَ فِی مُنَافِقِینَ لَمْ یُعْرَفُوا بِالتَّخْذِیلِ وَالإِرْجَافِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف۔ عبدالملک بن عبید من صغار التابعین مجہول الحال ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৮১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٧٥) حبہ بن جوین فرماتے ہیں کہ ہم سلمان (رض) کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے اور ہم دشمن کے سامنے تھے تو سلمان نے کہا : یہ کون ہیں ؟ انھوں نے کہا : یہ مشرکین ہیں۔ پھر انھوں نے کہا : یہ کون ہیں تو انھوں نے کہا : مؤمنین ہیں تو حبہ بن جو ین کہتے ہیں : سلمان (رض) نے کہا : یہ مشرکین ہیں اور یہ مؤمنین ہیں اور منافقین۔ اللہ مومنوں کو مضبوط کرے گا منافقین کی قوت سے اور منافقوں کو کامیاب کرے گا مومنوں کی دعوت کی وجہ سے۔
(١٧٨٧٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ حَبَّۃَ بْنِ جُوَیْنٍ قَالَ : کُنَّا مَعَ سَلْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی غَزَاۃٍ وَنَحْنُ مُصَافُّو الْعَدُوِّ فَقَالَ : مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالُوا : الْمُشْرِکُونَ ۔ قَالَ : مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالُوا : الْمُؤْمِنُونَ ۔ قَالَ فَقَالَ : ہَؤُلاَئِ الْمُشْرِکُونَ وَہَؤُلاَئِ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُنَافِقُونَ فَیُؤَیِّدُ اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ بِقُوَّۃِ الْمُنَافِقِینَ وَیَنْصُرُ اللَّہُ الْمُنَافِقِینَ بِدَعْوَۃِ الْمُؤْمِنِینَ ۔ [ضعیف۔ حبۃ بن جو ین ضعیف الحدیث ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৮২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حکمران جن لوگوں سے کسی بھی حال میں نہیں لڑ سکتا
(١٧٨٧٦) حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ غزوات میں منافقین کے ذریعہ تمہاری مدد کی جائے گی۔
(١٧٨٧٦) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأُشْنَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ یَعْنِی غُنْدَرًا حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلِمَۃَ عَنْ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِنَّکُمْ سَتُعَانُونَ فِی غَزْوِکُمْ بِالْمُنَافِقِینَ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৮৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے مدد حاصل کرنے کا بیان
(١٧٨٧٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف نکلے تو حرہ الوبرہ کے مقام پر آدمی ملا۔ وہ جرأت اور بہادری و دلیری میں مشہور تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی اس کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ اس نے آپ کے پاس آ کر کہا : میں آپ کے ساتھ ہونا چاہتا ہوں۔ آپ نے اس سے پوچھا : ” کیا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : ” واپس جا میں مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔ “ پھر آگے چلے۔ ایک آدمی اور ملا۔ اس نے بھی پہلے آدمی کی طرح کہا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے وہی سوال کیا جو پہلے سے کیا تھا۔ اس نے کہا : نہیں تو آپ نے اس کو بھی واپس جانے کو کہا اور فرمایا : ” میں مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔ “ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : وہ چلا گیا پھر بیداء کے مقام پر ایک آدمی ملا اس نے بھی پہلے آدمیوں کی طرح کہا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” کیا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہے ؟ “ اس نے ہاں میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : ” چلو۔ “
امام شافعی فرماتے ہیں : جن کو واپس بھیجا گیا شائد ان کے اسلام لانے کی امید سے تھا اور اس میں قائد کے لیے وسعت ہے۔
بنو قینقاع کے یہودیوں سے بدر کے بعد جنگ ہوئی ہے اور صفوان بن امیہ آپ کے ساتھ حنین کی جنگ میں شریک تھا اور یہ فتح مکہ کے بعد ہوئی ہے اور اس وقت صفوان بن امیہ مشرک تھا۔
شیخ فرماتے ہیں : مغازی والوں کے ہاں صفوان بن امیہ کا شرک کی حالت میں جنگ میں شریک ہونا تو مشہور ہے۔ یہ پہلے گزر گیا ہے اور اس کا غزوہ بنو قینقاع میں شریک ہونا یہ میں نے حسن بن عمارہ کی حدیث کے سوا کہیں اور نہیں پایا اور یہ حدیث ضعیف ہے۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو قینقاع کے یہودیوں سے مدد لی اور ان کو کچھ مال دیا، لیکن ان کا حصہ مقرر نہیں کیا۔
امام شافعی فرماتے ہیں : جن کو واپس بھیجا گیا شائد ان کے اسلام لانے کی امید سے تھا اور اس میں قائد کے لیے وسعت ہے۔
بنو قینقاع کے یہودیوں سے بدر کے بعد جنگ ہوئی ہے اور صفوان بن امیہ آپ کے ساتھ حنین کی جنگ میں شریک تھا اور یہ فتح مکہ کے بعد ہوئی ہے اور اس وقت صفوان بن امیہ مشرک تھا۔
شیخ فرماتے ہیں : مغازی والوں کے ہاں صفوان بن امیہ کا شرک کی حالت میں جنگ میں شریک ہونا تو مشہور ہے۔ یہ پہلے گزر گیا ہے اور اس کا غزوہ بنو قینقاع میں شریک ہونا یہ میں نے حسن بن عمارہ کی حدیث کے سوا کہیں اور نہیں پایا اور یہ حدیث ضعیف ہے۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو قینقاع کے یہودیوں سے مدد لی اور ان کو کچھ مال دیا، لیکن ان کا حصہ مقرر نہیں کیا۔
(١٧٨٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الْفُضَیْلِ بْنِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نِیَارٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قِبَلَ بَدْرٍ فَلَمَّا کَانَ بِحَرَّۃِ الْوَبَرَۃِ أَدْرَکَہُ رَجُلٌ قَدْ کَانَ یُذْکَرُ مِنْہُ جُرْأَۃٌ وَنَجْدَۃٌ فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ رَأَوْہُ فَلَمَّا أَدْرَکَہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ جِئْتُ لأَتَّبِعَکَ وَأُصِیبَ مَعَکَ ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِینَ بِمُشْرِکٍ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَضَی حَتَّی إِذَا کَانَتِ الشَّجَرَۃُ أَدْرَکَہُ الرَّجُلُ فَقَالَ لَہُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّۃٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّۃٍ قَالَ لاَ قَالَ فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِینَ بِمُشْرِکٍ قَالَتْ فَرَجَعَ ثُمَّ أَدْرَکَہُ بِالْبَیْدَائِ فَقَالَ لَہُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّۃٍ : تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : فَانْطَلِقْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : لَعَلَّہُ رَدَّہُ رَجَائَ إِسْلاَمِہِ وَذَلِکَ وَاسِعٌ لِلإِمَامِ وَقَدْ غَزَا بِیَہُودَ بَنِی قَیْنُقَاعٍ بَعْدَ بَدْرٍ وَشَہِدَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ مَعَہُ حُنَیْنًا بَعْدَ الْفَتْحِ وَصَفْوَانُ مُشْرِکٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَمَّا شُہُودُ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ مَعَہُ حُنَیْنًا وَصَفْوَانُ مُشْرِکٌ فَإِنَّہُ مَعْرُوفٌ فِیمَا بَیْنَ أَہْلِ الْمَغَازِی وَقَدْ مَضَی بِإِسْنَادِہِ ۔ وَأَمَّا غَزْوُہُ بِیَہُودِ بَنِی قَیْنُقَاعَ فَإِنِّی لَمْ أَجِدْہُ إِلاَّ مِنْ حَدِیثِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ وَہُوَ ضَعِیفٌ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : اسْتَعَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِیَہُودِ قَیْنُقَاعَ فَرَضَخَ لَہُمْ وَلَمْ یُسْہِمْ لَہُمْ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : لَعَلَّہُ رَدَّہُ رَجَائَ إِسْلاَمِہِ وَذَلِکَ وَاسِعٌ لِلإِمَامِ وَقَدْ غَزَا بِیَہُودَ بَنِی قَیْنُقَاعٍ بَعْدَ بَدْرٍ وَشَہِدَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ مَعَہُ حُنَیْنًا بَعْدَ الْفَتْحِ وَصَفْوَانُ مُشْرِکٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَمَّا شُہُودُ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ مَعَہُ حُنَیْنًا وَصَفْوَانُ مُشْرِکٌ فَإِنَّہُ مَعْرُوفٌ فِیمَا بَیْنَ أَہْلِ الْمَغَازِی وَقَدْ مَضَی بِإِسْنَادِہِ ۔ وَأَمَّا غَزْوُہُ بِیَہُودِ بَنِی قَیْنُقَاعَ فَإِنِّی لَمْ أَجِدْہُ إِلاَّ مِنْ حَدِیثِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ وَہُوَ ضَعِیفٌ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : اسْتَعَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِیَہُودِ قَیْنُقَاعَ فَرَضَخَ لَہُمْ وَلَمْ یُسْہِمْ لَہُمْ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৮৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے مدد حاصل کرنے کا بیان
(١٧٨٧٨) ابو حمید ساعدی (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ کے لیے نکلے۔ جب ثنیۃ الوداع سے آگے گئے تو ایک لشکر دیکھا تو آپ نے پوچھا : ” یہ کون ہیں ؟ “ لوگوں نے کہا : یہ بنو قینقاع کے لوگ ہیں اور وہ عبداللہ بن سلام کا قبیلہ ہے تو آپ نے پوچھا : ” کیا وہ اسلام لے آئے ہیں ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں بلکہ وہ اپنے دین پر ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ان سے کہو واپس جائیں ہم مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔ سعید بن منذر مجہول الحال ہے۔
(١٧٨٧٨) وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ عَمْرٍو الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی السِّینَانِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی إِذَا خَلَّفَ ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ إِذَا کَتِیبَۃٌ قَالَ : مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالُوا : بَنِی قَیْنُقَاعَ وَہُوَ رَہْطُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ سَلاَمٍ ۔ قَالَ : وَأَسْلَمُوا ؟ قَالُوا : لاَ بَلْ ہُمْ عَلَی دِینِہِمْ ۔ قَالَ : قُلْ لَہُمْ فَلْیَرْجِعُوا فَإِنَّا لاَ نَسْتَعِینُ بِالْمُشْرِکِینَ ۔ ہَذَا الإِسْنَادُ أَصَحُّ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৮৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے مدد حاصل کرنے کا بیان
(١٧٨٧٩) خبیب بن عبدالرحمن اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی غزوہ کے لیے نکلے۔ میں آپ کے پاس آیا۔ ابھی میں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا کہ ہم نے کہا : ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم لڑائی میں جائے اور ہم نہ جائیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” کیا تم اسلام قبول کرچکے ہو ؟ “ ہم نے کہا : نہیں تو آپ نے فرمایا : ” ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لیں گے۔ “ پھر ہم نے اسلام قبول کیا اور آپ کے ساتھ لڑائی میں گئے۔ میں نے ایک آدمی کو مارا اور ایک آدمی نے مجھے ضرب لگائی اور میں نے اس کی بیٹی سے شادی کی۔ وہ کہتی تھی : تہی دست نہ کر اس آدمی کو جس نے تجھے یہ جواہر اور موتیوں کا ہار دیا میں اس کو کہتا تو ایسے آدمی کو تہی دست نہ کر جس نے تیرے باپ کو آگ کی طرف جلدی بھیج دیا۔ خبیب بن عبدالرحمن کے دادا کا نام خبیب بن یساف یا اساف تھا کہا جاتا ہے کہ اس کو صحبت رسول حاصل ہے۔
عبدالرحمن بن خبیب بن یساف مجہول ہے۔
عبدالرحمن بن خبیب بن یساف مجہول ہے۔
(١٧٨٧٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُکْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی بَعْضِ غَزَوَاتِہِ فَأَتَیْتُہُ أَنَا وَرَجُلٌ قَبْلَ أَنْ نُسْلِمَ فَقُلْنَا : إِنَّا نَسْتَحِی أَنْ یَشْہَدَ قَوْمُنَا مَشْہَدًا فَلاَ نَشْہَدُہُ قَالَ : أَسْلَمْتُمَا ؟ ۔ قُلْنَا : لاَ ۔ قَالَ : فَإِنَّا لاَ نَسْتَعِینُ بِالْمُشْرِکِینَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ ۔ فَأَسْلَمْنَا وَشَہِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَتَلْتُ رَجُلاً وَضَرَبَنِی الرَّجُلُ ضَرْبَۃً فَتَزَوَّجْتُ ابْنَتَہُ فَکَانَتْ تَقُولُ لاَ عَدِمْتَ رَجُلاً وَشَّحَکَ ہَذَا الْوِشَاحَ فَقُلْتُ لاَ عَدِمْتِ رَجُلاً عَجَّلَ أَبَاکِ إِلَی النَّارِ ۔ [ضعیف ]
جَدُّہُ خُبَیْبُ بْنُ یَسَافٍ وَیُقَالُ إِسَافٍ لَہُ صُحْبَۃٌ۔
جَدُّہُ خُبَیْبُ بْنُ یَسَافٍ وَیُقَالُ إِسَافٍ لَہُ صُحْبَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৮৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین سے مدد حاصل کرنے کا بیان
(١٧٨٨٠) شیبانی فرماتے ہیں کہ سعد بن مالک (رض) نے یہود کے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر لڑائی کی اور ان کو مال بھی دیا۔
(١٧٨٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُہَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ عَنْ وَکِیعٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَزَا بِقَوْمٍ مِنَ الْیَہُودِ فَرَضَخَ لَہُمْ ۔ [ضعیف۔ رجالہ کلہم ثقات الا ان الشیبانی عن سعد بن مالک مرسل ]
তাহকীক: