আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৭৮৮৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کن مشرکوں سے شروع کیا جائے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا ہے : { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ } [التوبۃ ١٢٣]” ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں تمہارے قریب ہیں۔ “
(١٧٨٨١) ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لڑائی کا ارادہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہاد ان دشمنوں سے شروع کیا جن سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پہلے قریبی مشرکین سے لڑنے کا حکم دیا تھا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر دشمن کی حالت مختلف ہو یعنی بعض بعض سے زیادہ ضرر کا باعث ہوں اور زیادہ خوف کا باعث ہوں تو سپہ سالار لڑائی اس دشمن سے پہلے کرے گا جس سے خدشہ زیادہ ہو، اگرچہ وہ گھر کے لحاظ سے دور ہو اور یہ ضرورت کے وقت ہوگا۔
فرمایا : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی کہ حارث بن ابی ضرار لشکر جمع کررہا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر رات کو حملہ کردیا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اردگرد دشمن تھے جو حارث بن ابی ضرار سے قریب تھے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر دشمن کی حالت مختلف ہو یعنی بعض بعض سے زیادہ ضرر کا باعث ہوں اور زیادہ خوف کا باعث ہوں تو سپہ سالار لڑائی اس دشمن سے پہلے کرے گا جس سے خدشہ زیادہ ہو، اگرچہ وہ گھر کے لحاظ سے دور ہو اور یہ ضرورت کے وقت ہوگا۔
فرمایا : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی کہ حارث بن ابی ضرار لشکر جمع کررہا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر رات کو حملہ کردیا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اردگرد دشمن تھے جو حارث بن ابی ضرار سے قریب تھے۔
(١٧٨٨١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَہَیَّأَ لِلْحَرْبِ فَقَامَ فِیمَا أَمَرَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ مِنْ جِہَادِ عَدُوِّہِ وَقِتَالِ مَنْ أَمَرَہُ بِہِ مِمَّنْ یَلِیہِ مِنْ مُشْرِکِی الْعَرَبِ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنِ اخْتَلَفَ حَالُ الْعَدُوِّ فَکَانَ بَعْضُہُمْ أَنْکَی مِنْ بَعْضٍ أَوْ أَخْوَفَ مِنْ بَعْضٍ فَلْیَبْدَإِ الإِمَامُ بِالْعَدُوِّ الأَخْوَفِ أَوِ الأَنْکَی وَإِنْ کَانَتْ دَارُہُ أَبَعْدَ إِنْ شَائَ اللَّہُ وَتَکُونُ ہَذِہِ بِمَنْزِلَۃِ ضَرُورَۃٍ
قَالَ وَقَدْ بَلَغَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی ضِرَارٍ أَنَّہُ یَجْمَعُ لَہُ فَأَغَارَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہِ وَقُرْبَہُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْہُ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنِ اخْتَلَفَ حَالُ الْعَدُوِّ فَکَانَ بَعْضُہُمْ أَنْکَی مِنْ بَعْضٍ أَوْ أَخْوَفَ مِنْ بَعْضٍ فَلْیَبْدَإِ الإِمَامُ بِالْعَدُوِّ الأَخْوَفِ أَوِ الأَنْکَی وَإِنْ کَانَتْ دَارُہُ أَبَعْدَ إِنْ شَائَ اللَّہُ وَتَکُونُ ہَذِہِ بِمَنْزِلَۃِ ضَرُورَۃٍ
قَالَ وَقَدْ بَلَغَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی ضِرَارٍ أَنَّہُ یَجْمَعُ لَہُ فَأَغَارَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہِ وَقُرْبَہُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْہُ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৮৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کن مشرکوں سے شروع کیا جائے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا ہے : { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ } [التوبۃ ١٢٣]” ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں تمہارے قریب ہیں۔ “
(١٧٨٨٢) عبداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی کہ بنو مصطلق والے لشکر تیار کر رہے ہیں اور ان کی قیادت ام المؤمنین حضرت جویریہ (رض) کا باپ حارث بن ابی ضرار کررہا ہے تو آپ نکلے۔ جب مریسیع نامی کنویں پر گئے یہ بنو مصطلق کے کنوؤں میں سے ایک تھا۔ انھوں نے آپ کے ساتھ لڑائی کی تیاری کی اور لوگوں نے ایک دوسرے کے قریب ہونا شروع کیا۔ پھر لڑائی کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق کو شکست دی۔ کچھ ان میں سے قتل ہوئے اور ان کے بچے مال اور عورتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زائد حاصل کیا اور قرید کے ساحل کی طرف سے ان پر حملہ کیا تھا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : یہ چھ ہجری کو ہوا تھا۔
(١٧٨٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَلَغَہُ أَنَّ بَنِی الْمُصْطَلِقِ یَجْمَعُونَ لَہُ وَقَائِدُہُمْ الْحَارِثُ بْنُ أَبِی ضِرَارٍ أَبُو جُوَیْرِیَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَسَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی نَزَلَ بِالْمُرَیْسِیعِ مَائٍ مِنْ مِیَاہِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَأَعَدُّوا لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَتَزَاحَفَ النَّاسُ فَاقْتَتَلُوا فَہَزَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ مِنْہُمْ وَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَبْنَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ وَنِسَائَ ہُمْ وَأَقَامَ عَلَیْہِ مِنْ نَاحِیَۃِ قُدَیْدٍ إِلَی السَّاحِلِ ۔
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ غَزَاہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی شَعْبَانَ سَنَۃَ سِتٍّ ۔ [ضعیف ]
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ غَزَاہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی شَعْبَانَ سَنَۃَ سِتٍّ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৮৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کن مشرکوں سے شروع کیا جائے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا ہے : { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ } [التوبۃ ١٢٣]” ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں تمہارے قریب ہیں۔ “
(١٧٨٨٣) ابن عون کہتے ہیں : میں نافع کو سوال لکھ کر بھیجا کہ قتال (لڑائی) سے دعا کیا ہے ؟ انھوں نے لکھا : یہ ابتداء اسلام تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق پر شب خون مارا (رات کو حملہ کیا) اور وہ بھی شب خون مارنے والے تھے جبکہ ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا تو لڑائی کے اہل لوگوں کو قتل کردیا گیا اور بچوں کو قیدی بنایا گیا۔ اس دن جویریہ (رض) کو زخم بھی آیا تھا۔
امام شافعی فرماتے ہیں : جب یہ خبر آئی کہ خالد بن سفیان بن نبی ح لشکر تیار کررہا ہے تو اس طرف ابن انیس (رض) کو بھیجا گیا۔ انھوں نے اس کو قتل کردیا جبکہ اس سے قریب بھی دشمن موجود تھے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : جب یہ خبر آئی کہ خالد بن سفیان بن نبی ح لشکر تیار کررہا ہے تو اس طرف ابن انیس (رض) کو بھیجا گیا۔ انھوں نے اس کو قتل کردیا جبکہ اس سے قریب بھی دشمن موجود تھے۔
(١٧٨٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُلَیْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الدُّعَائِ قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ فَکَتَبَ إِنَّمَا کَانَ ذَاکَ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُہُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَہُمْ وَسَبَی سَبْیَہُمْ وَأَصَابَ یَوْمَئِذٍ أَحْسِبُہُ قَالَ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ حَدَّثَنِی بِہَذَا الْحَدِیثِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِی ذَلِکَ الْجَیْشِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبَلَغَہُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْیَانَ بْنِ نُبَیْحٍ یَجْمَعُ لَہُ فَأَرْسَلَ ابْنَ أُنَیْسٍ فَقَتَلَہُ وَقُرْبَہُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْہُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبَلَغَہُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْیَانَ بْنِ نُبَیْحٍ یَجْمَعُ لَہُ فَأَرْسَلَ ابْنَ أُنَیْسٍ فَقَتَلَہُ وَقُرْبَہُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْہُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৯০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کن مشرکوں سے شروع کیا جائے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا ہے : { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ } [التوبۃ ١٢٣]” ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں تمہارے قریب ہیں۔ “
(١٧٨٨٤) حضرت عبداللہ بن انیس (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے خالد بن سفیان کی طرف بھیجا۔ وہ عرنہ اور عرفات کی طرف تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جاؤ اسے قتل کرو۔ “ یہ کہتے ہیں : میں نے اس کو دیکھا اس وقت عصر کی نماز کا وقت آگیا۔ میں نے سوچا میرے اور اس کے درمیان معاملہ میں نماز کے مؤخر ہونے کا خدشہ ہے تو میں نماز کے لیے نکلا۔ میں اس طرف اشارہ کیا جب میں اس کے قریب ہوگیا تو اس نے مجھے کہا : تو کون ہے ؟ میں نے کہا : عرب ہوں۔ مجھے خبر ملی ہے کہ تو اس شخص کے خلاف لشکر جمع کررہا ہے تو میں بھی اسی سلسلہ میں تیرے پاس آیا ہوں۔ اس نے کہا : میں یہ کام کررہا ہوں تو میں کچھ دیر اس کے ساتھ چلا جب میں نے اس پر موقع پایا تو اپنی تلوار سے اس پر حملہ کردیا حتیٰ کہ وہ مرگیا۔
(١٧٨٨٤) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُنَیْسٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی خَالِدِ بْنِ سُفْیَانَ الْہُذَلِیِّ وَکَانَ نَحْوَ عُرَنَۃَ وَعَرَفَاتٍ فَقَالَ : اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ ۔ قَالَ فَرَأَیْتُہُ وَحَضَرَتْ صَلاَۃُ الْعَصْرِ فَقُلْتُ إِنِّی لأَخَافُ أَنْ یَکُونَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ مَا أَنْ أُؤَخِّرَ الصَّلاَۃَ فَانْطَلَقْتُ أَمْشِی وَأَنَا أُصَلِّی أُومِئُ إِیمَائً نَحْوَہُ فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْہُ قَالَ لِی : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ بَلَغَنِی أَنَّکَ تَجْمَعُ لِہَذَا الرَّجُلِ فَجِئْتُکَ فِی ذَاکَ قَالَ إِنِّی لَفِی ذَاکَ فَمَشَیْتُ مَعَہُ سَاعَۃً حَتَّی إِذَا أَمْکَنَنِی عَلَوْتُہُ بِسَیْفِی حَتَّی بَرَدَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৯১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کی پہرہ داری کی ابتداء کن اطراف سے کی جائے
(١٧٨٨٥) حضرت سلمان فارسی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو بندہ ایک دن اور رات کو اللہ کے راستہ میں پہرہ دیتا ہے اس کو ایک ماہ کے روزوں اور قیام کا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی پہرہ دیتے ہوئے مرجائے تو اس کا یہ اجر جاری رہتا ہے اور اس کا رزق جاری رکھا جاتا ہے اور اس کو فتنوں سے محفوظ کردیا جاتا ہے۔ “
(١٧٨٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ : ہِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مُوسَی الْقُرَشِیِّ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ شُرَحْبِیلَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ رَابَطَ یَوْمًا وَلَیْلَۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَانَ لَہُ أَجْرُ صِیَامِ شَہْرٍ وَقِیَامِہِ وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا جَرَی لَہُ مِثْلُ الأَجْرِ وَأُجْرِیَ عَلَیْہِ الرِّزْقُ وَأُومِنَ الْفَتَّانَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مُوسَی الْقُرَشِیِّ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ شُرَحْبِیلَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ رَابَطَ یَوْمًا وَلَیْلَۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَانَ لَہُ أَجْرُ صِیَامِ شَہْرٍ وَقِیَامِہِ وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا جَرَی لَہُ مِثْلُ الأَجْرِ وَأُجْرِیَ عَلَیْہِ الرِّزْقُ وَأُومِنَ الْفَتَّانَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৯২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کی پہرہ داری کی ابتداء کن اطراف سے کی جائے
(١٧٨٨٦) حضرت سلمان خیر (رض) سے بھی اسی طرح روایت ہے۔
(١٧٨٨٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَیْحٍ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ السَّمْطِ عَنْ سَلْمَانَ الْخَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَحْوَہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ۔[صحیح۔ مسلم ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ۔[صحیح۔ مسلم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৯৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کی پہرہ داری کی ابتداء کن اطراف سے کی جائے
(١٧٨٨٧) حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دن اللہ کے لیے پہرہ دینا ساری دنیا سے بہتر ہے اور اللہ کے راستہ میں ایک بار سفر کرنا صبح یا شام کو یہ بھی دنیا اور جو اس پر ہے اس سے بہتر ہے اور ایک کوڑے کے برابر جگہ جنت میں اگر کسی کے لیے ہو تو وہ بھی ساری دنیا سے بہتر ہے۔
(١٧٨٨٧) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : رِبَاطُ یَوْمٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا عَلَیْہَا وَالرَّوْحَۃُ یَرُوحُہَا الْعَبْدُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوِ الْغَدْوَۃُ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا عَلَیْہَا وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا عَلَیْہَا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُنِیرٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ ہَاشِمٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُنِیرٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ ہَاشِمٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৯৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کی پہرہ داری کی ابتداء کن اطراف سے کی جائے
(١٧٨٨٨) عثمان بن عفان (رض) کے غلام ابو صالح فرماتے ہیں کہ میں نے منبر پر عثمان بن عفان (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ایک حدیث تم سے چھپائی ہے جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے اس خوف سے چھپائی ہے کہ تم سب مجھے چھوڑ کر نہ چلے جاؤ۔ پھر مجھے خیال آیا کہ میں بیان کرتا ہوں تاکہ ہر بندہ اختیار کرے اس کو جو اس کو اچھا لگے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا ” اللہ کے راستہ میں ایک دن کا پہرہ دوسرے مقام پر ہزار دن کے پہرے سے بہتر ہے۔ “ ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے۔
(١٧٨٨٨) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِیلٍ : زُہْرَۃُ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ مَوْلَی عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُولُ : إِنِّی کُنْتُ کَتَمْتُکُمْ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَرَاہِیَۃَ تَفَرُّقِکُمْ عَنِّی ثُمَّ بَدَا لِی أَنْ أُحَدِّثُکُمُوہُ لِیَخْتَارَ امْرُؤٌ مِنْکُمْ لِنَفْسِہِ مَا بَدَا لَہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : رِبَاطُ یَوْمٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ یَوْمٍ فِیمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَنَازِلِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৯৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سپہ سالار کا دشمن کو روکنے کے لیے اس کے آنے سے پہلے قلعہ، خندق اور دوسری رکاوٹیں تیار کرنا
(١٧٨٨٩) سہل بن سعد ساعدی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آئے، ہم خندق کھود رہے تھے اور مٹی کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر نکال رہے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
” اے اللہ ! نہیں ہے کوئی اچھی زندگی مگر آخرت کی بہتر زندگی اے اللہ ! بخش دے مہاجرین اور انصار کو۔ “
” اے اللہ ! نہیں ہے کوئی اچھی زندگی مگر آخرت کی بہتر زندگی اے اللہ ! بخش دے مہاجرین اور انصار کو۔ “
(١٧٨٨٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلاَئً وَأَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی قِرَائَ ۃً قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ أَخْبَرَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ نَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَی أَکْتَافِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اللَّہُمَّ لاَ عَیْشَ إِلاَّ عَیْشَ الآخِرَہْ فَاغْفِرْ لِلْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৯৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سپہ سالار کا دشمن کو روکنے کے لیے اس کے آنے سے پہلے قلعہ، خندق اور دوسری رکاوٹیں تیار کرنا
(١٧٨٩٠) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ مہاجرین و انصار مدینہ کے ارد گرد خندق کھود رہے تھے اور اپنی کمر پر مٹی اٹھا کر نکال رہے تھے اور کہتے تھے : ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسلام پر بیعت کی جب تک باقی رہیں گے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جواب دیتے تھے :
اے اللہ ! کوئی بھلائی نہیں ہے مگر آخرت کی بھلائی۔ اے اللہ ! انصار و مہاجرین میں برکت ڈال۔
انس (رض) فرماتے ہیں : ان کو دو ٹب جو دیے جاتے اور سالن بنایا جاتا جو بدبودار ہوتا تھا اور وہ حلق میں اٹک جاتا تھا اور اس کی بو اچھی نہ تھی وہ لوگوں کے سامنے رکھ دیا جاتا تھا۔
اے اللہ ! کوئی بھلائی نہیں ہے مگر آخرت کی بھلائی۔ اے اللہ ! انصار و مہاجرین میں برکت ڈال۔
انس (رض) فرماتے ہیں : ان کو دو ٹب جو دیے جاتے اور سالن بنایا جاتا جو بدبودار ہوتا تھا اور وہ حلق میں اٹک جاتا تھا اور اس کی بو اچھی نہ تھی وہ لوگوں کے سامنے رکھ دیا جاتا تھا۔
(١٧٨٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ صُہَیْبٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ الْمُہَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ یَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ حَوْلَ الْمَدِینَۃِ وَیَنْقُلُونَ التُّرَابَ عَلَی مُتُونِہِمْ وَیَقُولُونَ :
نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدَا عَلَی الإِسْلاَمِ مَا بَقِینَا أَبَدَا
قَالَ وَیَقُولُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ یُجِیبُہُمْ :
اللَّہُمَّ لاَ خَیْرَ إِلاَّ خَیْرَ الآخِرَہْ فَبَارِکْ فِی الأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہْ
قَالَ : وَیُؤْتَوْنَ بِمِلْئِ جَفْنَتَیْنِ شَعِیرًا فَیُصْنَعُ لَہُمْ إِہَالَۃٌ سَنِخَۃٍ وَہِیَ بَشِعَۃٌ فِی الْحَلْقِ وَلَہَا رِیحٌ مُنْکَرَۃٌ فَیُوضَعُ بَیْنَ یَدَیِ الْقَوْمِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ۔[صحیح۔ متفق علیہ ]
نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدَا عَلَی الإِسْلاَمِ مَا بَقِینَا أَبَدَا
قَالَ وَیَقُولُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ یُجِیبُہُمْ :
اللَّہُمَّ لاَ خَیْرَ إِلاَّ خَیْرَ الآخِرَہْ فَبَارِکْ فِی الأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہْ
قَالَ : وَیُؤْتَوْنَ بِمِلْئِ جَفْنَتَیْنِ شَعِیرًا فَیُصْنَعُ لَہُمْ إِہَالَۃٌ سَنِخَۃٍ وَہِیَ بَشِعَۃٌ فِی الْحَلْقِ وَلَہَا رِیحٌ مُنْکَرَۃٌ فَیُوضَعُ بَیْنَ یَدَیِ الْقَوْمِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ۔[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৯৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام پر واجب ہے کہ وہ خود لڑائی پر جائے یا لشکروں کو ہر سال روانہ کرے تاکہ مسلمانوں کی بہتر نگہداشت ہو سکے اور ایک پورا سال جہاد بند بھی نہ رہے مگر کسی عذر کی وجہ سے
(١٧٨٩١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اس شخص کو ضمانت دیتا ہے جو اللہ کے راستہ میں نکلا اللہ پر ایمان کی حالت میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرتا ہو اس بات کی کہ اس کو جنت میں داخل کرے گا یا اس کو واپس لائے گا جب وہ واپس اپنے گھر کی طرف آئے گا تو وہ اجر اور غنیمت پانے والا ہوگا مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میری امت پر گراں نہ ہوتا تو میں کسی لڑائی میں پیچھے نہ رہتا۔
(١٧٨٩١) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : تَضَمَّنَ اللَّہُ لِمَنْ خَرَجَ فِی سَبِیلِہِ لاَ یُخْرِجُہُ إِلاَّ إِیمَانًا بِہِ وَتَصْدِیقًا بِرَسُولِہِ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ یُرْجِعَہُ إِذَا رَجَعَ إِلَی مَنْزِلِہِ نَائِلاً مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی مَا تَخَلَّفْتُ خِلاَفَ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِیرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : تَضَمَّنَ اللَّہُ لِمَنْ خَرَجَ فِی سَبِیلِہِ لاَ یُخْرِجُہُ إِلاَّ إِیمَانًا بِہِ وَتَصْدِیقًا بِرَسُولِہِ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ یُرْجِعَہُ إِذَا رَجَعَ إِلَی مَنْزِلِہِ نَائِلاً مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی مَا تَخَلَّفْتُ خِلاَفَ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِیرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৯৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام پر واجب ہے کہ وہ خود لڑائی پر جائے یا لشکروں کو ہر سال روانہ کرے تاکہ مسلمانوں کی بہتر نگہداشت ہو سکے اور ایک پورا سال جہاد بند بھی نہ رہے مگر کسی عذر کی وجہ سے
(١٧٨٩٢) ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : ” میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور قیامت تک موجود ہوگا۔ “
(١٧٨٩٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لاَ تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی یُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَغَیْرِہِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৯৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سپہ سالار کچھ مسلمانوں کو اپنے ساتھ محاذ پر لے کر جائے گا اور کچھ کو گھروں میں چھوڑے گا جو گھروں کی حفاظت کریں
(١٧٨٩٣) حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی (رض) کو پیچھے چھوڑا تو حضرت علی (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا آپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کا میرے ساتھ وہ مقام ہو جو مقام ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
(١٧٨٩٣) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَلَّفَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُخَلِّفُنِی فِی النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ ؟ فَقَالَ : أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی غَیْرَ أَنَّہُ لاَ نَبِیَّ بَعْدِی ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯০০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سپہ سالار کچھ مسلمانوں کو اپنے ساتھ محاذ پر لے کر جائے گا اور کچھ کو گھروں میں چھوڑے گا جو گھروں کی حفاظت کریں
(١٧٨٩٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر میں تھے تو سباع بن عرفطہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا۔
(١٧٨٩٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ حَدَّثَنِی خُثَیْمُ بْنُ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی خَیْبَرَ فَاسْتَخْلَفَ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَۃَ عَلَی الْمَدِینَۃِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯০১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سپہ سالار کچھ مسلمانوں کو اپنے ساتھ محاذ پر لے کر جائے گا اور کچھ کو گھروں میں چھوڑے گا جو گھروں کی حفاظت کریں
(١٧٨٩٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں اپنی غیر موجودگی میں ابو رہم کلثوم بن حصین بن عبید بن خلف الغفاری کو عامل مقرر کیا تھا۔
(١٧٨٩٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَضَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِسَفَرِہِ إِلَی مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ وَاسْتَعْمَلَ عَلَی الْمَدِینَۃِ أَبَا رُہْمٍ کُلْثُومَ بْنَ الْحُصَیْنِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ خَلَفٍ الْغِفَارِیَّ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯০২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سپہ سالار کچھ مسلمانوں کو اپنے ساتھ محاذ پر لے کر جائے گا اور کچھ کو گھروں میں چھوڑے گا جو گھروں کی حفاظت کریں
(١٧٨٩٦) حضرت ابو سعید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو لحیان کی طرف وفد بھیجا اور فرمایا : ” ہر دو آدمیوں میں سے ایک جہاد کے لیے نکلے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیٹھنے والوں کو کہا : ” جو جہاد پر جانے والے کا اس کے گھر اور مال میں عمدہ طریقہ سے نائب بنا اس کو جہاد پر جانے والے کے اجر کے نصف کے برابر اجر ملے گا۔
(١٧٨٩٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ إِلَی بَنِی لِحْیَانَ وَقَالَ : لِیَخْرُجْ مِنْ کُلِّ رَجُلَیْنِ رَجُلٌ ۔ ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ : أَیُّکُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِی أَہْلِہِ وَمَالِہِ بِخَیْرٍ کَانَ لَہُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯০৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سپہ سالار کچھ مسلمانوں کو اپنے ساتھ محاذ پر لے کر جائے گا اور کچھ کو گھروں میں چھوڑے گا جو گھروں کی حفاظت کریں
(١٧٨٩٧) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو لحیان کی طرف وفد روانہ کیا اور فرمایا : ” ہر دو آدمیوں میں سے ایک لازمی جہاد پر جائے اور اجر دونوں میں برابر ہوگا۔
(١٧٨٩٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَعِیدٍ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ بَعْثًا إِلَی بَنِی لِحْیَانَ مِنْ ہُذَیْلٍ قَالَ : لِیَنْبَعِثْ مِنْ کُلِّ رَجُلَیْنِ أَحَدُہُمَا وَالأَجْرُ بَیْنَہُمَا۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ یَحْیَی وَمِنْ حَدِیثِ عَبْدِالْوَارِثِ عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَعِیدٍ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ بَعْثًا إِلَی بَنِی لِحْیَانَ مِنْ ہُذَیْلٍ قَالَ : لِیَنْبَعِثْ مِنْ کُلِّ رَجُلَیْنِ أَحَدُہُمَا وَالأَجْرُ بَیْنَہُمَا۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ یَحْیَی وَمِنْ حَدِیثِ عَبْدِالْوَارِثِ عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯০৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٨٩٨) حضرت سلمہ بن اکوع (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوا اور جو آپ نے لشکر روانہ کیے ان میں سے بھی ساتھ میں میں شریک تھا کبھی ہم پر سپہ سالار ابوبکر ہوتے اور کبھی اسامہ بن زید (رض) ۔ ایک حدیث میں نو لشکروں کا ذکر ہے۔
(١٧٨٩٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَکِّیُّ ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَۃَ بْنَ الأَکْوَعِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَخَرَجْتُ فِیمَا یَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ سَبْعَ غَزَوَاتٍ مَرَّۃً عَلَیْنَا َبُو بَکْرٍ وَمَرَّۃً عَلَیْنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ قُتَیْبَۃَ وَقَالَ مُحَمَّدٌ فِی الثَّانِیَۃِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَکِّیِّ ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَۃَ بْنَ الأَکْوَعِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَخَرَجْتُ فِیمَا یَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ سَبْعَ غَزَوَاتٍ مَرَّۃً عَلَیْنَا َبُو بَکْرٍ وَمَرَّۃً عَلَیْنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ قُتَیْبَۃَ وَقَالَ مُحَمَّدٌ فِی الثَّانِیَۃِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَکِّیِّ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯০৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٨٩٩) حضرت سلمہ بن اکوع (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سات اور زید بن حارثہ کے ساتھ نو غزوات میں شریک ہوا۔ حضرت زید بن حارثہ (رض) کو آپ نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا۔
(١٧٨٩٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْکَجِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ یَزِیدَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَمَعَ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ تِسْعَ غَزَوَاتٍ کَانَ یُؤَمِّرُہُ عَلَیْنَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯০৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩٠٠) حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمرو بن عاص (رض) کو لشکر کا امیر بنا کر بھیجا۔ جبکہ لشکر میں ابوبکر و عمر (رض) بھی تھے۔ جب جنگ کے مقام پر پہنچے تو حضرت عمرو (رض) نے لشکر کو حکم دیا کہ آگ نہ جلائیں حضرت عمر (رض) غصہ ہوئے اور ان کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوبکر (رض) نے روک دیا اور ان کو کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو امیر اسی لیے بنایا ہے کیونکہ وہ امور جنگ جانتے ہیں تو حضرت عمر (رض) رک گئے۔
(١٧٩٠٠) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قِرَائَ ۃً قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فِی سَرِیَّۃٍ فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَلَمَّا انْتَہَوْا إِلَی مَکَانِ الْحَرْبِ أَمَرَہُمْ عَمْرٌو أَنْ لاَ یُنَوِّرُوا نَارًا فَغَضِبَ عُمَرُ وَہَمَّ أَنْ یَأْتِیَہُ فَنَہَاہُ أَبُو بَکْرٍ وَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ لَمْ یَسْتَعْمِلْہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْکَ إِلاَّ لِعِلْمِہِ بِالْحَرْبِ فَہَدَأَ عَنْہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [حسن لغیرہ ]
তাহকীক: