আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৭৯০৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩٠١) حضرت ابو ملیح سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن زیاد معقل بن یسار کی تیمار داری کے لیے گئے تو حضرت معقل (رض) نے ان سے کہا : میں تجھ کو ایسی حدیث سنا رہا ہوں، اگر میری موت قریب نہ ہوتی تو میں نہ بتاتا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مسلمانوں کا والی ہو اور وہ ان کے لیے جدوجہد نہ کرے اور ان کی خیر خواہی نہ کرے وہ اپنی قوم کے ساتھ جنت میں نہیں جائے گا۔
(١٧٩٠١) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ : أَنَّ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ زِیَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی مَرَضِہِ فَقَالَ لَہُ مَعْقِلٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنِّی مُحَدِّثُکَ بِحَدِیثٍ لَوْلاَ أَنِّی فِی الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْکَ بِہِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَا مِنْ أَمِیرٍ یَلِی أَمْرَ الْمُسْلِمِینَ ثُمَّ لاَ یَجْہَدُ لَہُمْ وَلاَ یَنْصَحُ إِلاَّ لَمْ یَدْخُلْ مَعَہُمُ الْجَنَّۃَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی غَسَّانَ وَغَیْرِہِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ ہِشَامٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯০৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩٠٢) حضرت عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار مزنی کی عیادت کے لیے گئے۔ اس مرض میں ہی آپ فوت ہوگئے تھے۔ حضرت معقل بن یسار (رض) نے کہا : میں ایک حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے اور انھوں نے کہا : اگر مجھے علم ہوتا کہ میری زندگی ابھی باقی ہے تو میں یہ حدیث نہ بیان کرتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس بندے کو اللہ کسی قوم کا نگران بنا دے اور وہ اپنی قوم کو دھوکا دے تو وہ جب بھی مرے گا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔

سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی لشکر کو روانہ کرتے اور ان کا امیر مقرر کرتے تو اس کو خاص تقویٰ کی نصیحت کرتے اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کی نصیحت کرتے۔
(١٧٩٠٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْہَبِ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : عَادَ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ زِیَادٍ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ الْمُزَنِیَّ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ فَقَالَ مَعْقِلٌ : إِنِّی مُحَدِّثُکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ بِی حَیَاۃً مَا حَدَّثْتُکَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَا مِنْ عَبْدٍ یَسْتَرْعِیہِ اللَّہُ رَعِیَّۃً یَمُوتُ یَوْمَ یَمُوتُ وَہُوَ غَاشٌّ لِرَعِیَّتِہِ إِلاَّ حَرَّمَ اللَّہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ۔ وَرُوِّینَا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی سَرِیَّۃٍ أَوْ جَیْشٍ أَوْصَاہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ بِتَقْوَی اللَّہِ وَبِمَنْ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯০৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩٠٣) ابو اسحاق کے والد کہتے ہیں کہ ہم جریر بن عبداللہ کے ساتھ تھے۔ ہمیں بھوک لاحق ہوئی تو جریر بن عبداللہ (رض) نے حضرت معاویہ (رض) کو خط لکھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان لکھا کہ ” جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔ “ تو معاویہ نے لکھا کہ وہ لوٹ آئیں اور معاویہ نے ان کو مال دیا۔ ابو اسحاق کہتے ہیں : میں نے اس میں سے ایک چادر پائی تھی۔
(١٧٩٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنَّا مَعَ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ فِی غَزْوَۃٍ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَۃٌ فَکَتَبَ جَرِیرٌ إِلَی مُعَاوِیَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ لاَ یَرْحَمِ النَّاسَ لاَ یَرْحَمْہُ اللَّہُ ۔ قَالَ : وَکَتَبَ مُعَاوِیَۃُ أَنْ یَقْفُلُوا قَالَ وَمَتَّعَہُمْ ۔ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَأَنَا أَدْرَکْتُ قَطِیفَۃً مِمَّا مَتَّعَہُمْ ۔[صحیح۔ بدون القصہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯১০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩٠٤) حضرت جریر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ اس پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔
(١٧٩٠٤) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لاَ یَرْحَمُ اللَّہُ مَنْ لاَ یَرْحَمُ النَّاسَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯১১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩٠٥) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر مہربانی کرو تو آسمان والا تم پر مہربان ہوگا۔
(١٧٩٠٥) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ بْنِ حَبِیبِ بْنِ مِہْرَانَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی قَابُوسٍ مَوْلًی لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : الرَّاحِمُونَ یَرْحَمُہُمُ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا مَنْ فِی الأَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَنْ فِی السَّمَائِ ۔ [صحیح لغیرہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯১২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩٠٦) حضرت ابو عثمان نہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے بنو اسد کے آدمی کے ذمہ ایک کام لگایا۔ جب وہ کام کر کے واپس آیا تو اس وقت حضرت عمر کے پاس ان کا کوئی بچہ لایا گیا تو انھوں نے اس کو بوسہ دیا تو اس نے کہا کہ کیا آپ اس کو بوسہ دیتے ہیں ! میں نے کبھی کسی بچے کو بوسہ نہیں دیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم لوگوں کے معاملہ میں مہربانی کم ہے ہمارا کام واپس کر دے اور آئندہ کبھی ہمارے لیے کام نہ کرنا۔
(١٧٩٠٦) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ قَالَ : اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجُلاً مِنْ بَنِی أَسَدٍ عَلَی عَمَلٍ فَجَائَ یَأْخُذُ عَہْدَہُ قَالَ فَأُتِیَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِبَعْضِ وَلَدِہِ فَقَبَّلَہُ قَالَ : أَتُقَبِّلُ ہَذَا ؟ مَا قَبَّلْتُ وَلَدًا قَطُّ ۔ فَقَالَ عُمَرُ : فَأَنْتَ بِالنَّاسِ أَقَلُّ رَحْمَۃً ہَاتِ عَہْدَنَا لاَ تَعْمَلْ لِی عَمَلاً أَبَدًا۔[حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯১৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩٠٧) حضرت ابو فراس فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس گیا، وہ لوگوں کو وعظ کر رہے تھے کہ اے لوگو ! مجھ پر ایسا زمانہ گزرا ہے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا وہ قرآن پڑھتے تھے بدلہ اللہ کی رضا اور اجر چاہتے تھے۔ پھر میں تصور کرتا ہوں کہ بعد والوں میں ایک قوم ہوگی جو قرآن پڑھے گی مگر لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اور بدلہ میں دنیا کا مال حاصل کرنے کے لیے۔ خبردار تلاوت قرآن سے اللہ کی رضا طلب کرو۔ خبردار ! اپنے اعمال سے اللہ کو راضی کرو۔ خبردار ! ہم تم کو جانتے ہیں۔ جب وحی نازل ہو رہی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان موجود تھے۔ اللہ نے ہمیں تمہارے بارے میں خبریں دے دی تھیں۔ اب وحی ختم ہوگئی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے اور ہم جانتے ہیں جو تم کو کہتے ہیں۔ خبردار ! جس میں ہم بھلائی دیکھتے ہیں اور بھلا خیال کرتے ہیں اور اس کو پسند کرتے ہیں اور جس میں برائی دیکھتے اس کو برا سمجھتے ہیں اور اس پر ناراض ہوتے ہیں اور تمہارے راز اللہ اور تمہارے درمیان ہے۔ خبردار ! ہم عمال کو بھیجتے ہیں تاکہ وہ تم کو دین اور سنت سکھائیں اس لیے نہیں بھیجتے کہ وہ تمہاری پیٹھ پر ماریں او نہ اس لیے کہ وہ تمہارا مال لے لیں۔ خبردار اگر کسی کو ان باتوں میں شک ہو تو وہ ہم تک پہنچائے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے میں اس سے بدلہ لوں گا تو حضرت عمرو بن عاص کھڑے ہو کر کہنے لگے : اے امیر المؤمنین ! اگر آپ کسی عامل کو بھیجیں اور وہ ادب سکھانے کے لیے کسی کو مارے تو کیا اس سے بھی بدلہ لیں گے تو عمر (رض) نے فرمایا : ہاں اللہ کی قسم میں اس سے بھی بدلہ لوں گا۔ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود کو قصاص کے لیے پیش کرتے تھے۔ خبردار ! مسلمانوں کو مار کر ذلیل نہ کرو۔ ان کے حقوق غصب نہ کرو، ان کو گھر جانے سے روک کر فتنہ میں مبتلا نہ کرو اور دشوار گزار جگہ اتار کر مسلمانوں کو ہلاک نہ کرو۔
(١٧٩٠٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی فِرَاسٍ قَالَ : شَہِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّہُ قَدْ أَتَی عَلَیَّ زَمَانٌ وَأَنَا أَرَی أَنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ یُرِیدُ بِہِ اللَّہَ وَمَا عِنْدَہُ فَیُخَیَّلُ إِلَیَّ بِأَخَرَۃٍ أَنَّ قَوْمًا قَرَأُوہُ یُرِیدُونَ بِہِ النَّاسَ وَیُرِیدُونَ بِہِ الدُّنْیَا أَلاَ فَأَرِیدُوا اللَّہَ بِقِرَائَ تِکُمْ أَلاَ فَأَرِیدُوا اللَّہَ بِأَعْمَالِکُمْ أَلاَ إِنَّمَا کُنَّا نَعْرِفُکُمْ إِذْ یَتَنَزَّلُ الْوَحْیُ وَإِذِ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَیْنَ أَظْہُرِنَا وَإِذْ نَبَّأَنَا اللَّہُ مِنْ أَخْبَارِکُمْ فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْیُ وَذَہَبَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَإِنَّمَا نَعْرِفُکُمْ بِمَا أَقُولُ لَکُمْ أَلاَ مَنْ رَأَیْنَا مِنْہُ خَیْرًا ظَنَنَّا بِہِ خَیْرًا وَأَحْبَبْنَاہُ عَلَیْہِ وَمَنْ رَأَیْنَا مِنْہُ شَرًّا ظَنَنَّا بِہِ شَرًّا وَأَبْغَضْنَاہُ عَلَیْہِ سَرَائِرُکُمْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ أَلاَ إِنَّمَا أَبْعَثُ عُمَّالِی لِیُعَلِّمُوکُمْ دِینَکُمْ وَلِیُعَلِّمُوکُمْ سُنَّتَکُمْ وَلاَ أَبْعَثُہُمْ لِیَضْرِبُوا ظُہُورَکُمْ وَلاَ لِیَأْخُذُوا أَمْوَالَکُمْ أَلاَ فَمَنْ رَابَہُ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ فَلْیَرْفَعْہُ إِلَیَّ فَوَالَّذِی نَفْسُ عُمَرَ بِیَدِہِ لأُقِصَّنَّ مِنْہُ ۔ فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنْ بَعَثْتَ عَامِلاً مِنْ عُمَّالِکَ فَأَدَّبَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ رَعِیَّتِہِ فَضَرَبَہُ إِنَّکَ لَمُقِصُّہُ مِنْہُ ۔

قَالَ : نَعَمْ وَالَّذِی نَفْسُ عُمَرَ بِیَدِہِ لأُقِصَّنَّ مِنْہُ وَقَدْ رَأَیْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُقِصُّ مِنْ نَفْسِہِ أَلاَ لاَ تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِینَ فَتُذِلُّوہُمْ وَلاَ تَمْنَعُوہُمْ حُقُوقَہُمْ فَتُکْفِرُوہُمْ وَلاَ تُجَمِّرُوہُمْ فَتَفْتِنُوہُمْ وَلاَ تُنْزِلُوہُمُ الْغِیَاضَ فَتُضَیِّعُوہُمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯১৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩٠٨) حضرت عمر (رض) نے حضرت انس بن مالک (رض) سے پوچھا : جب تم کسی شہر کا محاصرہ کرتے ہو تو کیا طریقہ اختیار کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا : ہم شہر کی طرف ایک آدمی کو شہر کی طرف بھیجتے ہیں اور اسے چمڑے کی ڈھال دیتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اگر اسے پتھر پھینک کر مالا جائے تو ؟ عرض کیا : پھر وہ مرجائے گا تو آپ (رض) نے فرمایا : تو حضرت عمر (رض) نے کہا : مجھے اللہ کی قسم ! ایک مسلمان کا ضیاع چار ہزار لڑائی کے قابل آدمیوں کے شہر کی فتح کے بدلہ میں بھی پسند نہیں ہے۔
(١٧٩٠٨) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنِی الثَّقَفِیُّ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَأَلَہُ إِذَا حَاصَرْتُمُ الْمَدِینَۃَ کَیْفَ تَصْنَعُونَ ؟ قَالَ : نَبْعَثُ الرَّجُلَ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَنَصْنَعُ لَہُ ہَنَۃً مِنْ جُلُودٍ ۔ قَالَ : أَرَأَیْتَ إِنْ رُمِیَ بِحَجَرٍ ۔ قَالَ : إِذًا یُقْتَلَ ۔ قَالَ : فَلاَ تَفْعَلُوا فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا یَسُرُّنِی أَنْ تَفْتَتِحُوا مَدِینَۃً فِیہَا أَرْبَعَۃُ آلاَفِ مُقَاتِلٍ بِتَضْیِیعِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯১৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩٠٩) حضرت زید بن اسلم کے والد فرماتے ہیں : مسلمانوں پر ایک ایسا سال آیا جس میں گھی کی قیمت بڑھ گئی اور حضرت عمر (رض) پیٹ کی خرابی کی وجہ سے زیتون کھاتے تھے اور یحییٰ کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) تیل کھاتے تھے۔ جب وہ کم ہوگیا تو انھوں نے کہا : اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک لوگ نہ کھائیں۔ جبکہ آپ پیٹ کے بولنے کی وجہ سے تیل کھایا کرتے تھے۔ ابن مکرم کی روایت میں ہے کہ عمر (رض) نے پیٹ کو مخاطب کر کے کہا : جتنا چاہے بول اللہ کی قسم تو اس وقت تک گھی نہیں کھائے گا جب تک لوگ نہ کھائیں گے۔ پھر انھوں نے مجھے کہا : اس کی گرمی کو آگ سے ختم کرو میں آپ کے لیے اس کو پکاتا تھا اور آپ کھاتے تھے۔
(١٧٩٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ وَیَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ سَنَۃٌ غَلاَ فِیہَا السَّمْنُ فَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْکُلُ الزَّیْتَ فَیُقَرْقِرُ بَطْنَہُ ۔ رِوَایَۃِ یَحْیَی قَالَ : وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْکُلُہُ فَلَمَّا قَلَّ قَالَ لاَ آکُلُہُ حَتَّی یَأْکُلَہُ النَّاسُ ۔ قَالَ : فَکَانَ یَأْکُلُ الزَّیْتَ فَیُقَرْقِرُ بَطْنَہُ ۔ قَالَ ابْنُ مُکْرَمٍ فِی رِوَایَتِہِ فَقَالَ : قَرْقِرْ مَا شِئْتَ فَوَاللَّہِ لاَ تَأْکُلُ السَّمْنَ حَتَّی یَأْکُلَہُ النَّاسُ ثُمَّ قَالَ لِی : اکْسِرْ حَرَّہُ عَنِّی بِالنَّارِ فَکُنْتُ أَطْبُخُہُ لَہُ فَیَأْکُلُہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯১৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩١٠) حضرت حفصہ اور ابن مطیع اور عبداللہ بن عمر (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور آپ سے کہا کہ اگر آپ اچھا کھانا کھائیں تو یہ آپ کو حق کا کام کرنے کے لیے مضبوط کرے گا تو حضرت عمر (رض) نے کہا : کیا تم سب کی یہی رائے ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں تو آپ نے فرمایا : میں جانتا ہوں تم میرے خیر خواہ ہو لیکن میں اپنے دونوں ساتھیوں کے راستہ کو چھوڑ دوں اور اگر میں نے ان کا طریقہ چھوڑ دیا تو میں قیامت کے دن ان کو نہیں پا سکوں گا۔ لوگوں پر تنگی کا سال آیا تو حضرت عمر (رض) نے پورا سال گھی نہیں کھایا اور نہ بھنا ہوا موٹا گوشت حتیٰ کہ لوگ جان میں آگئے اور ترو تازہ ہوگئے۔
(١٧٩١٠) حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ طَاوُسٍ وَعِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ : أَنَّ حَفْصَۃَ وَابْنَ مُطِیعٍ وَعَبْدَاللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَلَّمُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالُوا لَوْ أَکَلْتَ طَعَامًا طَیِّبًا کَانَ أَقْوَی لَکَ عَلَی الْحَقِّ قَالَ : أَکُلُّکُمْ عَلَی ہَذَا الرَّأْیِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ۔ قَالَ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّہُ لَیْسَ مِنْکُمْ إِلاَّ نَاصِحٌ وَلَکِنْ تَرَکْتُ صَاحِبَیَّ عَلَی جَادَّۃٍ فَإِنْ تَرَکْتُ جَادَّتَہُمَا لَمْ أُدْرِکْہُمَا فِی الْمَنْزِلِ ۔ قَالَ : وَأَصَابَ النَّاسَ سَنَۃٌ فَمَا أَکَلَ عَامَئِذٍ سَمْنًا وَلاَ سَمِینًا حَتَّی أَحْیَا النَّاسُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯১৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩١١) حضرت سائب بن یزید (رض) فرماتے ہیں : قحط کے سال مسلمانوں کو سخت فاقے لاحق ہوئے۔ ایک دن حضرت عمر (رض) اپنی سواری پر سوار تھے تو انھوں نے اس کی لید میں جو کا ایک دانہ دیکھا تو کہا : اللہ کی قسم ! میں اس پر سوار نہیں ہوں گا حتیٰ کہ لوگوں کی حالت بہتر ہوجائے۔
(١٧٩١١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ یَزِیدَ الْہُذَلِیُّ قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ یَزِیدَ یَقُولُ : لَمَّا کَانَتِ الرَمَادَۃُ أَصَابَ النَّاسُ جُوعًا شَدِیدًا فَلَمَّا کَانَ ذَاتَ یَوْمٍ رَکِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَابَّۃً لَہُ فَرَأَی فِی رَوْثِہَا شَعِیرًا فَقَالَ : وَاللَّہِ لاَ أَرْکَبُہَا حَتَّی یَحْسُنَ حَالُ النَّاسِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯১৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩١٢) ابو عثمان نہدی فرماتے ہیں : عتبہ بن قرفہ نے کچھ حلوہ حضرت عمر (رض) کو آذر بائی جان سے بھیجا تو آپ نے قاصد سے پوچھا : کیا مسلمان اس سے سیر ہوگئے ہیں ؟ تو اس نے کہا : نہیں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے یہ نہیں چاہیے اور عتبہ کو لکھا کہ یہ تیری کوشش و محنت سے نہیں ہے نہ تیرے ماں باپ کی کوشش سے ہے۔ پہلے ان مسلمانوں کو سیر کر جو تیرے پاس ہیں اپنے گھر اتنا دے جتنا تو نے اپنے گھر کے لیے رکھا ہے۔
(١٧٩١٢) وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ : أَنَّ عُتْبَۃَ بْنَ فَرْقَدٍ بَعَثَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ أَذَرْبَیْجَانَ بِخَبِیصٍ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَیَشْبَعُ الْمُسْلِمُونَ فِی رِحَالِہِمْ مِنْ ہَذَا فَقَالَ الرَّسُولُ اللَّہُمَّ لاَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ أُرِیدُہُ وَکَتَبَ إِلَی عُتْبَۃَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ کَدِّکَ وَلاَ مِنْ کَدِّ أَبِیکَ وَلاَ مِنْ کَدِّ أُمِّکَ فَأَشْبِعْ مَنْ قِبَلَکَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِی رِحَالِہِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْہُ فِی رَحْلِکَ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ فَذَکَرَہُ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯১৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩١٣) عبدالرحمن بن شماسہ فرماتے ہیں : میں عائشہ (رض) کے پاس گیا۔ انھوں نے پوچھا : کن لوگوں میں سے ہے ؟ میں نے کہا : مصری ہوں تو آپ نے پوچھا : تم نے اپنی لڑائیوں میں ابن جریج کو کیسا پایا ؟ میں نے کہا : وہ اچھا امیر ہے۔ جنگ میں جس کا گھوڑا یا اونٹ کام آیا۔ وہ اس کا بدلہ اونٹ سے دیتا ہے اور اگر کسی کا غلام کام آیا (مارا گیا) تو وہ بدلہ میں اس کو غلام دیتا ہے تو عائشہ (رض) نے کہا : اس کا میرے بھائی کو قتل کرنا مجھے حدیث بیان کرنے سے نہیں روکتا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے۔ آپ نے فرمایا : اے وہ شخص جو مسلمانوں کے معاملات کا وارث ہو کسی طرح بھی ممکن ہو ان پر نرمی کرے تو اے اللہ ! اس پر نرمی کر اور جو ان پر مشقت کا ذریعہ بن جائے اے اللہ ! تو اس پر مشقت ڈال دے۔
(١٧٩١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ حَرْمَلَۃَ الْمِصْرِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتْ مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَہْلِ مِصْرَ ۔ قَالَتْ : کَیْفَ وَجَدْتُمُ ابْنَ حُدَیْجٍ فِی غَزَاتِکُمْ ہَذِہِ ؟ قُلْتُ : خَیْرَ أَمِیرٍ مَا یَنْفَقُ لِرَجُلٍ مِنَّا فَرَسٌ وَلاَ بَعِیرٌ إِلاَّ أَبْدَلَ لَہُ مَکَانَہُ بَعِیرًا وَلاَ غُلاَمٌ إِلاَّ أَبْدَلَ لَہُ مَکَانَہُ غُلاَمًا۔ فَقَالَتْ : إِنَّہُ لاَ یَمْنَعُنِی قَتْلُہُ أَخِی أَنْ أُحَدِّثَکُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : اللَّہُمَّ مَنْ وَلِیَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِی شَیْئًا فَرَفَقَ بِہِمْ فَارْفُقْ بِہِ وَمَنْ شَقَّ عَلَیْہِمْ فَاشْقُقْ عَلَیْہِ ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَسَّانَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ حَرْمَلَۃَ الْحَضْرَمِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَحْوَہُ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯২০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے معاملات میں حکمران کی ذمہ داری

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حکمران کو چاہیے کہ وہ سالار لشکر ایسے آدمی کو بنائے جو دین میں مضبوط اور بہادر ہو اور اچھے وقار والا ہو، جنگی معاملات کو جانتا ہو، گہری نظر رکھنے والا ہو، جنگ کے معاملات میں جلد باز نہ ہو،
(١٧٩١٤) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : جس وقت طائف والوں کا محاصرہ کیا گیا اور نتیجتاً کچھ حاصل نہ ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہم انشاء اللہ کل واپس جائیں گے “ تو مسلمانوں نے کہا : کیسے واپس جائیں ہم کامیاب تو ہوئے نہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” صبح لڑائی کے لیے تیار رہو “ صبح انھوں نے ان پر حملہ کیا تو ان کو زخم لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہم کل واپس جائیں گے “ تو لوگوں نے اس کو پسند کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیے۔
(١٧٩١٤) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعْنِی حِینَ حَاصَرَ أَہْلَ الطَّائِفَ فَلَمْ یَنَلْ مِنْہُمْ شَیْئًا إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّہُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ کَیْفَ نَذْہَبُ وَلَمْ نَفْتَحْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : فَاغْدُوا لِلْقِتَالِ ۔ فَغَدَوْا عَلَیْہِمْ فَأَصَابَتْہُمْ جِرَاحَۃٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ۔ فَأَعْجَبَہُمْ ذَلِکَ قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯২১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھلائیوں میں سے ایک کی امید رکھتے ہوئے خود کو لڑائی کے لیے پیش کرنے والا

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : انصار کے ایک آدمی نے حفاظتی ہتھیار کے بغیر ہی مشرکین کے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ یہ بدر کا موقع تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں خیر کی خبر دی تھی تو
(١٧٩١٥) حضرت انس بن مالک (رض) بدر کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین قریب ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جنت کی طرف بڑھو وہ جنت جس کی چوڑائی (عرض) زمین اور آسمان کے درمیان فاصلے کے برابر ہے۔ عمر بن حمام انصاری (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا اس کا عرض (چوڑائی) آسمان و زمین کے درمیانی خلا کے برابر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ! “ تو عمیر نے کہا : واہ واہ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” تو نے واہ واہ کیوں کہا “ تو عمیر نے کہا کہ صرف اس امید کی وجہ سے کہ میں ان میں سے ہو جاؤں : تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تو ان میں سے ہے۔ “ اس نے اپنی پوٹلی سے کھجوریں نکال کر کھانا شروع کیں۔ پھر کہا : اگر ان کھجوروں کو کھانے تک میں مزید رکا تو یہ لمبی زندگی ہوگی، اسی وقت کھجوروں کو پھینکا اور دشمن سے لڑا حتیٰ کہ شہید ہوگیا۔
(١٧٩١٥) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ یَعْنِی ابْنَ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ شَیْئًا مِنْ قِصَّۃِ بَدْرٍ قَالَ : فَدَنَا الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُومُوا إِلَی جَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ۔ قَالَ یَقُولُ عُمَیْرُ بْنُ الْحُمَامِ الأَنْصَارِیُّ : یَا رَسُولَ اللَّہِ عَرْضُہَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : بَخٍ بَخٍ ۔

قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا یَحْمِلُکَ عَلَی قَوْلِکَ بَخٍ بَخٍ ؟ ۔ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ رَجَاہَ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِہَا قَالَ : فَإِنَّکَ مِنْ أَہْلِہَا ۔ قَالَ : فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِہِ فَجَعَلَ یَأْکُلُ مِنْہُنَّ ثُمَّ قَالَ : لَئِنْ أَنَا حَیِیتُ حَتَّی آکُلَ تَمَرَاتِی ہَذِہِ إِنَّہَا لَحَیَاۃٌ طَوِیلَۃٌ۔ قَالَ : فَرَمَی بِمَا کَانَ مَعَہُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَہُمْ حَتَّی قُتِلَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی النَّضْرِ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی النَّضْرِ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯২২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھلائیوں میں سے ایک کی امید رکھتے ہوئے خود کو لڑائی کے لیے پیش کرنے والا

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : انصار کے ایک آدمی نے حفاظتی ہتھیار کے بغیر ہی مشرکین کے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ یہ بدر کا موقع تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں خیر کی خبر دی تھی تو
(١٧٩١٦) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اگر آج میں قتل کردیا جاؤں تو کہاں ہوگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جنت میں “ اس نے اپنے سے کھجوریں پھینکیں اور دشمن سے لڑا اور شہید ہوگیا۔
(١٧٩١٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ أُحُدٍ : أَرأَیْتَ إِنْ قُتِلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیْنَ أَنَا ؟ قَالَ : فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَأَلْقَی تُمَیْرَاتٍ کُنَّ فِی یَدِہِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔

أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯২৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھلائیوں میں سے ایک کی امید رکھتے ہوئے خود کو لڑائی کے لیے پیش کرنے والا

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : انصار کے ایک آدمی نے حفاظتی ہتھیار کے بغیر ہی مشرکین کے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ یہ بدر کا موقع تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں خیر کی خبر دی تھی تو
(١٧٩١٧) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : انس بن مالک کے چچا نضر بن انس بدر کی لڑائی سے غائب رہے۔ جب وہ آئے تو کہا کہ میں پہلی لڑائی سے غائب ہوا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین سے لڑی ہے۔ اگر میں حاضر ہوتا تو اللہ دیکھتا کہ میں کیا کرتا۔

جب احد کا موقعہ آیا تو مسلمانوں نے اس کو ظاہر کردیا اور اس کے کام کو دیکھ لیا۔ اس نے کہا : اے اللہ ! میں مشرکوں کے ارادہ سے بری ہوں اور مسلمان جو کریں میں ان کو معذور سمجھتا ہوں۔ پھر وہ اپنی تلوار لے کر نکلے اور سعد بن معاذ (رض) سے ملے۔ ان کو رسول اللہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھے احد سے آگے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔ جنت کی خوشبو کتنی پیاری ہے۔ سعد (رض) کہتے ہیں : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا جو اس نے کیا۔ ہم نے اس کو مقتولین میں پایا۔ ان کو اسی سے اوپر زخم آئے تھے جس میں تلوار نیزہ اور تیر سب کے زخم تھے۔ ان کا مثلہ کردیا گیا تھا ان کی بہن نے ان کی انگلی کے پورے سے پہچانا تھا۔ انس (رض) کہتے ہیں : ہم کہا کرتے تھے کہ آیت { مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ } [الأحزاب ٢٣] ” مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انھوں نے عہد کیا تھا۔ “ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں : میری کتاب میں اسی طرح ہے مگر صحیح نضر بن انس کی بجائے انس بن نضر ہے۔
(١٧٩١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ عَمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ : غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالِ قَاتَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمُشْرِکِینَ لَئِنِ أَشْہَدَنِی اللَّہُ قِتَالاً لَیَرَیَنَّ اللَّہُ مَا أَصْنَعُ ۔

فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ انْکَشَفَ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَبْرَأُ إِلَیْکَ مِمَّا جَائَ بِہِ ہَؤُلاَئِ یَعْنِی الْمُشْرِکِینَ وَأَعْتَذَرُ إِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ ہَؤُلاَئِ یَعْنِی الْمُسْلِمِینَ ثُمَّ مَشَی بِسَیْفِہِ فَلَقِیَہُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ : أَیْ سَعْدُ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنِّی لأَجِدُ رِیحَ الْجَنَّۃِ دُونَ أُحُدٍ وَاہًا لِرِیحِ الْجَنَّۃِ ۔

قَالَ سَعْدٌ : فَمَا اسْتَطَعْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا صَنَعَ فَوَجَدْنَاہُ بَیْنَ الْقَتْلَی وَبِہِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ جِرَاحَۃً مِنْ ضَرْبَۃٍ بِسَیْفٍ وَطَعْنَۃٍ بِرُمْحٍ وَرَمْیَۃٍ بِسَہْمٍ وَقَدْ مَثَّلُوا بِہِ حَتَّی عَرَفَتْہُ أُخْتُہُ بِبَنَانِہِ ۔

قَالَ أَنَسٌ : کُنَّا نَقُولُ أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ } [الأحزاب ٢٣] فِیہِ وَفِی أَصْحَابِہِ ۔ کَذَا فِی کِتَابِی وَالصَّوَابُ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ حُمَیْدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯২৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھلائیوں میں سے ایک کی امید رکھتے ہوئے خود کو لڑائی کے لیے پیش کرنے والا

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : انصار کے ایک آدمی نے حفاظتی ہتھیار کے بغیر ہی مشرکین کے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ یہ بدر کا موقع تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں خیر کی خبر دی تھی تو
(١٧٩١٨) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ احد کے میدان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سات انصار اور دو قریشی اکیلے رہ گئے۔ جب کافروں نے آپ کو گھیرے میں لے لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” کون ہے جوان کو روکے اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ “ انصار میں سے ایک آگے آیا دشمن سے لڑا اور شہید ہوگیا۔ انھوں نے پھر گھیرا تنگ کیا تو آپ نے فرمایا : ” جو ان کو روکے گا اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ “ دوسرا انصاری آگے بڑھا اور لڑ کر شہید ہوگیا۔ اس طرح ساتوں انصاری شہید ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ “
(١٧٩١٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَطَّابِ بْنِ عُمَرَ الأَنْصَارِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ شَبِیبٍ الْمَعْمَرِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أُفْرِدَ یَوْمَ أُحُدٍ فِی سَبْعَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَرَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ فَلَمَّا رَہَقُوہُ قَالَ : مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنَّا وَلَہُ الْجَنَّۃُ أَوْ ہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ ؟ ۔ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ثُمَّ رَہَقُوہُ أَیْضًا فَقَالَ : مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنَّا وَلَہُ الْجَنَّۃُ أَوْ ہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ ؟ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ فَلَمْ یَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی قُتِلَ السَّبْعَۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِصَاحِبَیْہِ : مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯২৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھلائیوں میں سے ایک کی امید رکھتے ہوئے خود کو لڑائی کے لیے پیش کرنے والا

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : انصار کے ایک آدمی نے حفاظتی ہتھیار کے بغیر ہی مشرکین کے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ یہ بدر کا موقع تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں خیر کی خبر دی تھی تو
(١٧٩١٩) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : وہ یمامہ کی لڑائی کے دن ثابت بن قیس بن شماس کے پاس سے گزرے وہ مہندی لگا رہے تھے۔ میں نے کہا : آپ کو خبر نہیں کہ مسلمانوں پر کیا لاحق ہوگیا اور آپ یہاں ہیں۔ وہ مسکرائے اور کہا بھتیجے ابھی چلتے ہیں انھوں نے ہتھیار پہنے اور گھوڑے پر سوار ہوئے صفوں تک پہنچ گئے اور کہا افسوس ہے ان پر اور ان کے خون پر اور دشمن سے کہا : افسوس ہے ان پر اور جس کی یہ عبادت کرتے ہیں۔ انھوں نے ان کا راستہ چھوڑ دیا یا کہا کہ ان کے گھوڑے کا راستہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ گھمسان کی جنگ میں پہنچ گئے اور حملہ کیا لڑائی کی اور شہید ہوگئے۔
(١٧٩١٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَازِعِ قَالَ سَمِعْتُ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ بَعْضِ بَنِی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ أُرَاہُ ثُمَامَۃَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَرَرْتُ یَوْمَ الْیَمَامَۃَ بِثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَہُوَ یَتَحَنَّطُ فَقُلْتُ : یَا عَمِّ أَمَّا تَرَی مَا یَلْقَی الْمُسْلِمُونَ أَیْ وَأَنْتَ ہَا ہَنُا ؟ قَالَ : فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ : الآنَ یَا ابْنَ أَخِی۔ فَلَبِسَ سِلاَحَہُ وَرَکِبَ فَرَسَہُ حَتَّی أَتَی الصَّفَّ فَقَالَ أُفٍّ لِہَؤُلاَئِ وَلِمَا یَصْنَعُونَ وَقَالَ لِلْعَدِوِّ أُفٍّ لِہَؤُلاَئِ وَلِمَا یَعْبُدُونَ خَلُّوا عَنْ سَبِیلِہِ أَوْ قَالَ سَنَنِہِ یَعْنِی فَرَسَہُ حَتَّی أَصْلَی بِحَرِّہَا فَحَمَلَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔ [صحیح لغیرہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯২৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھلائیوں میں سے ایک کی امید رکھتے ہوئے خود کو لڑائی کے لیے پیش کرنے والا

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : انصار کے ایک آدمی نے حفاظتی ہتھیار کے بغیر ہی مشرکین کے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ یہ بدر کا موقع تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں خیر کی خبر دی تھی تو
(١٧٩٢٠) ثابت بنانی سے روایت ہے کہ عکرمہ بن ابی جہل ایک لڑائی میں ایک دن پیدل چلنے لگے تو خالد بن ولید نے کہا : ایسا نہ کر تیرا قتل مسلمانوں پر گراں ہوگا۔ انھوں نے کہا : میرا راستہ چھوڑ دیں۔ اے خالد (رض) ! آپ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دینے میں مجھ سے آگے ہیں جبکہ میں اور میرا باپ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑے دشمن تھے وہ چلے اور شہید ہوگئے۔
(١٧٩٢٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ : أَنَّ عِکْرِمَۃَ بْنَ أَبِی جَہْلٍ تَرَجَّلَ یَوْمَ کَذَا فَقَالَ لَہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ قَتْلَکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ شَدِیدٌ۔ فَقَالَ : خَلِّ عَنِّی یَا خَالِدُ فَإِنَّہُ قَدْ کَانَتْ لَکَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَابِقَۃٌ وَإِنِّی وَأَبِی کُنَّا مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَمَشَی حَتَّی قُتِلَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক: