আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৭৯২৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھلائیوں میں سے ایک کی امید رکھتے ہوئے خود کو لڑائی کے لیے پیش کرنے والا
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : انصار کے ایک آدمی نے حفاظتی ہتھیار کے بغیر ہی مشرکین کے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ یہ بدر کا موقع تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں خیر کی خبر دی تھی تو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : انصار کے ایک آدمی نے حفاظتی ہتھیار کے بغیر ہی مشرکین کے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ یہ بدر کا موقع تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں خیر کی خبر دی تھی تو
(١٧٩٢١) محمد بن سیرین (رض) فرماتے ہیں : مسلمان ایک باغ کے پاس پہنچے جس کا دروازہ بند تھا اور اس باغ میں مشرکین تھے تو براء بن مالک (رض) ایک ڈھال پر بیٹھ گئے اور کہا کہ مجھے اپنے نیزوں سے اوپر اٹھاؤ اور مجھے ان کی طرف ڈال دو تو انھوں نے اپنے نیزوں سے اٹھایا اور باغ کی دوسری طرف ڈال دیا۔ جب تک انھوں نے اس کو پایا تو وہ ان کے دس آدمی قتل کرچکے تھے۔
(١٧٩٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَعْوَرُ أَخْبَرَنِی السَّرِیُّ بْنُ یَحْیَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ الْمُسْلِمِینَ انْتَہَوْا إِلَی حَائِطٍ قَدْ أُغْلِقَ بَابُہُ فِیہِ رِجَالٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَجَلَسَ الْبَرَائُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی تُرْسٍ فَقَالَ : ارْفَعُونِی بِرِمَاحِکُمْ فَأَلْقُونِی إِلَیْہِمْ فَرَفَعُوہُ بِرِمَاحِہِمْ فَأَلْقُوہُ مِنْ وَرَائِ الْحَائِطِ فَأَدْرَکُوہُ قَدْ قَتَلَ مِنْہُمْ عَشَرَۃً ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯২৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو بھلائیوں میں سے ایک کی امید رکھتے ہوئے خود کو لڑائی کے لیے پیش کرنے والا
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : انصار کے ایک آدمی نے حفاظتی ہتھیار کے بغیر ہی مشرکین کے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ یہ بدر کا موقع تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں خیر کی خبر دی تھی تو
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : انصار کے ایک آدمی نے حفاظتی ہتھیار کے بغیر ہی مشرکین کے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ یہ بدر کا موقع تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں خیر کی خبر دی تھی تو
(١٧٩٢٢) ابوبکر بن ابی موسیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دشمن حاضر ہوا تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” جنت تلواروں کے سائے میں ہے “ ایک آدمی اٹھا وہ پراگندہ حالت میں تھا۔ اس نے کہا : اے ابو موسیٰ ! تو نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہتے ہوئے سنا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا۔ ان کو سلام کیا اور اپنی تلوار کی میان کو توڑا اور دشمن پر زور دار حملہ کیا اور شہید ہوگیا۔ [صحیح۔ مسلم)
(١٧٩٢٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِیُّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ کَانَ بِحَضْرَۃِ الْعَدُوِّ قَالَ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : الْجَنَّۃُ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّیُوفِ ۔ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْہَیْئَۃِ فَقَالَ : یَا أَبَا مُوسَی أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ ہَذَا ؟ قَالَ : اللَّہُمَّ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَی أَصْحَابِہِ فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ ثُمَّ کَسَرَ جَفْنَ سَیْفِہِ وَشَدَّ عَلَی الْعَدُوِّ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯২৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ کا بیان
(١٧٩٢٣) حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں : آیت { وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ “ نفقہ (خرچ) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
حضرت اعمش (رض) فرماتے ہیں : یہ آیت فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کے بارے میں ہے۔
حضرت اعمش (رض) فرماتے ہیں : یہ آیت فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کے بارے میں ہے۔
(١٧٩٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ قَالَ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] فِی النَّفَقَۃِ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ النَّضْرِ بْنِ شُمَیْلٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَقَالَ غَیْرُہُ عَنِ الأَعْمَشِ فِی ہَذَا قَالَ : ہُوَ تَرْکُ النَّفَقَۃِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ [صحیح۔ بخاری ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ کا بیان
(١٧٩٢٤) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ کے قول : { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } [البقرۃ ١٩٥]” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ “ کے بارے میں کہتے ہیں : ہرگز کوئی یہ نہ کہے کہ میرے پاس اللہ کے راستہ میں دینے کو کچھ نہیں۔ اگر اس پاس ایک نیزہ ہو تو اس کے ساتھ تیاری کرے { وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥]” اور ہاتھوں کو ہلاکت میں طرف مت ڈالو۔ “
(١٧٩٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ مَوْلَی أُمِّ ہَانِئٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ { وَأَنْفِقُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ } [البقرۃ ١٩٥] الآیَۃَ قَالَ یَقُولُ : لاَ یَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ لاَ أَجِدُ شَیْئًا إِنْ لَمْ یَجِدْ إِلاَّ مِشْقَصًا فَلْیَجْہَزْ بِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ { وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ کا بیان
(١٧٩٢٥) حضرت اسلم ابو عمران کہتے ہیں : ہم قسطنطنیہ میں تھے۔ اس وقت امیر عقبہ بن عامر تھے اور شام میں ایک اور آدمی امیر تھا جس کا نام فضالہ بن عبید تھا۔ روم سے ایک بڑا لشکر نکلا۔ ہم نے ان کے لیے صف بندی کی۔ ایک مسلمان نے رومیوں پر حملہ کیا۔ وہ ان کے پاس داخل ہوا پھر باہر آیا تو لوگ اس کو چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے : اس نے خود کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔ ابوایوب الانصاری (رض) کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ یہ کچھ انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جب دین کی عزت اور مدد گار زیادہ ہوگئے تو ہم بعض ساتھیوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوشیدہ رکھ کر بات کی کہ ہمارے مال ضائع ہوگئے ہیں، اگر ہم وہاں ہوں ان کی اصلاح ہو سکے تو اللہ نے ہماری سوچ کی تریدید اس قول سے کی ہے : { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ ہلاکت اس میں تھی جو ہم ارادہ کیا کہ اپنے اموال کی اصلاح کے لیے وہیں رہیں۔ ہمیں جہاد کا حکم دیا گیا۔ پھر ابوایوب وفات تک جہاد میں مشغول رہے۔
(١٧٩٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ عَنْ حَیْوَۃَ بْنِ شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ حَدَّثَنِی أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ قَالَ : کُنَّا بِالْقُسْطُنْطِینَۃِ وَعَلَی أَہْلِ مِصْرَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ وَعَلَی أَہْلِ الشَّأْمِ رَجُلٌ یُرِیدُ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ فَخَرَجَ مِنَ الْمَدِینَۃِ صَفٌّ عَظِیمٌ مِنَ الرُّومِ فَصَفَفْنَا لَہُمْ فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی الرُّومِ حَتَّی دَخَلَ فِیہِمْ ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَصَاحَ النَّاسُ إِلَیْہِ فَقَالُوا : سُبْحَانَ اللَّہِ أَلْقَی بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ فَقَامَ أَبُو أَیُّوبَ الأَنْصَارِیُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّکُمْ لَتُأَوِّلُونَ ہَذِہِ الآیَۃَ عَلَی ہَذَا التَّأْوِیلِ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِینَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ إِنَّا لَمَّا أَعَزَّ اللَّہُ دِینَہُ وَکَثُرَ نَاصِرُوہُ فَقُلْنَا فِیمَا بَیْنَنَا بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ فَلَوْ أَقْمَنَا فِیہَا فَأَصْلَحْنَا مَا ضَاعَ مِنْہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ یَرُدُّ عَلَیْنَا مَا ہَمَمْنَا بِہِ فَقَالَ { وَأَنْفِقُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] فَکَانَتِ التَّہْلُکَۃُ فِی الإِقَامَۃِ الَّتِی أَرَدْنَا أَنْ نُقِیمَ فِی أَمْوَالِنَا نُصْلِحُہَا فَأُمِرْنَا بِالْغَزِو فَمَا زَالَ أَبُو أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ حَتَّی قَبَضَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ کا بیان
(١٧٩٢٦) حضرت براء بن عازب (رض) سے ایک آدمی نے کہا : میں نے ایک ہزار کے لشکر پر حملہ کیا، کیا یہ ہلاکت سے ہے ؟ برائ (رض) نے کہا : نہیں ہلاکت یہ ہے کہ بندہ گناہ کرے پھر اس میں ڈوب جائے اور کہے : مجھے معاف نہیں کیا جائے گا۔
(١٧٩٢٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَحْمِلُ عَلَی الْکَتِیبَۃِ بِالسَّیْفِ فِی أَلْفٍ مِنَ التَّہْلُکَۃِ ذَاکَ ۔ قَالَ : لاَ إِنَّمَا التَّہْلُکَۃُ أَنْ یُذْنِبَ الرَّجُلُ الذَّنْبَ ثُمَّ یُلْقِی بِیَدَیْہِ ثُمَّ یَقُولُ لاَ یُغْفِرُ لِی۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ کا بیان
(١٧٩٢٧) حضرت نعمان بن بشیر (رض) آیت : { وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] کے بارے میں فرماتے ہیں : جب بندہ گناہ کرے تو وہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالے اور ہرگز نہ کہے کہ مجھے معافی نہیں ہے بلکہ اس کو چاہیے وہ معافی مانگے اور اللہ کی طرف رجوع کرے اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے۔
(١٧٩٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَسْقَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ { وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] قَالَ : یَقُولُ إِذَا أَذْنَبَ أَحَدُکُمْ فَلاَ یُلْقِیَنَّ بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ وَلاَ یَقُولَنَّ لاَ تَوْبَۃَ لِی وَلَکِنْ لِیَسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَلْیَتُبْ إِلَیْہِ فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِیمٌ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ کا بیان
(١٧٩٢٨) حضرت مدرک بن عوف احمسی حضرت عمر (رض) کے پاس بیٹھے تھے۔ لوگوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا جس نے نہاوند کی لڑائی کے دن اپنی جان کا سودا کیا تو مدرک نے کہا : اے امیر المومنین ! یہ میرے ماموں تھے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : لوگ غلط کہتے ہیں بلکہ اس نے اپنے نفس کے بدلہ میں آخرت کا سودا کیا ہے۔
(١٧٩٢٨) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسٍ ہُوَ ابْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ مُدْرِکِ بْنِ عَوْفٍ الأَحْمَسِیِّ : أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرُوا رَجُلاً شَرَی نَفْسَہُ یَوْمَ نَہَاوَنْدَ فَقَالَ ذَاکَ وَاللَّہِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ خَالِی زَعَمَ النَّاسُ أَنَّہُ أَلْقَی بِیَدَیْہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَذَبَ أُولَئِکَ بَلْ ہُوَ مِنَ الَّذِینَ اشْتَرُوْا الآخِرَۃَ بِالدُّنْیَا۔ کَذَا فِی رِوَایَۃِ یَعْلَی۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ کا بیان
(١٧٩٢٩) حضرت حصین بن عوف کہتے ہیں : جب حضرت عمر (رض) کو نعمان بن مقرن کے قتل کی خبر دی گئی اور کہا گیا کہ کچھ دوسرے لوگوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جن کو ہم نہیں جانتے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : اللہ ان کو جانتا ہے تو حصین بن نے کہا کہ ایک آدمی نے اپنے نفس کا سودا کیا ہے۔ احمس کے ایک آدمی نے کہا جس کو مالک بن عوف کہا جاتا ہے کہ یہ میرا ماموں ہے۔ اے امیرالمومنین ! لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : لوگ غلط کہتے ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کے بدلہ آخرت کا سودا کیا ہے۔ قیس کہتے ہیں : مقتول عوف بن ابی حیضہ تھا جبکہ یعقوب کہتے ہیں : مالک زیادہ انسب ہے۔
(١٧٩٢٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : لَمَّا أُخْبِرَ عُمَرُ بِقَتْلِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَقِیلَ أُصِیبَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَآخَرُونَ لاَ نَعْرِفُہُمْ قَالَ : وَلَکِنَّ اللَّہَ یَعْرِفُہُمْ قَالَ وَرَجُلٌ شَرَی نَفْسَہُ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَحْمَسَ یُقَالُ لَہُ مَالِکُ بْنُ عَوْفٍ : ذَاکَ خَالِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ زَعَمَ نَاسٌ أَنَّہُ أَلْقَی بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ ۔ فَقَالَ عُمَرُ : کَذَبَ أُولَئِکَ بَلْ ہُوَ مِنَ الَّذِینَ اشْتَرُوا الآخِرَۃَ بِالدُّنْیَا۔ قَالَ قَیْسٌ وَالْمَقْتُولُ عَوْفُ بْنُ أَبِی حَیَّۃَ وَہُوَ أَبُو شِبْلٍ قَالَ یَعْقُوبُ مَالِکٌ أَشْبَہُ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ کا بیان
(١٧٩٣٠) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ایک بندہ کے معاملہ میں تعجب کیا۔ وہ جہاد پر گیا اس کے ساتھیوں کو شکست ہوئی وہ جان گیا اس کے ساتھ کیا ہوگا۔ وہ لوٹا حتیٰ کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتے ہیں : میرے بندے کو دیکھو میرے پاس جو ہے اس کی امید کی وجہ سے وہ لوٹا اور میری شفقت کی وجہ سے حتی کہ قتل کردیا گیا۔
(١٧٩٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃ أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ مُرَّۃَ الْہَمْدَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ غَزَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَانْہَزَمَ أَصْحَابُہُ فَعَلِمَ مَا عَلَیْہِ فَرَجَعَ حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ فَیَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلاَئِکَتِہِ انْظُرُوا إِلَی عَبْدِی رَجَعَ رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ ۔ [منکر ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃ أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ مُرَّۃَ الْہَمْدَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ غَزَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَانْہَزَمَ أَصْحَابُہُ فَعَلِمَ مَا عَلَیْہِ فَرَجَعَ حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ فَیَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلاَئِکَتِہِ انْظُرُوا إِلَی عَبْدِی رَجَعَ رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ ۔ [منکر ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا
(١٧٩٣١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے دن اپنے خیمے میں تھے اور کہہ رہے تھے : ” اے اللہ ! میں تجھے تیرا وعدہ یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ “ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا : اے اللہ کے رسول ! کافی ہوگیا۔ آپ نے اللہ کے سامنے بہت اصرار کرلیا ہے۔ وہ اس وقت ذرہ پہنے ہوئے تھے اور خیمے سے باہر آئے اور یہ آیات پڑھ رہے تھے : { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ۔ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ ۔ } [القمر ٤٥-٤٦] ” عن قریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے۔ بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔ “
(١٧٩٣١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِی الْحَسَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ شَاہِینَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ خَالِدٍ یَعْنِی الْحَذَّائَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ وَہُوَ فِی قُبَّۃٍ لَہُ یَوْمَ بَدْرٍ : أَنْشُدُکَ عَہْدَکَ وَوَعْدَکَ اللَّہُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ ہَذَا الْیَوْمِ أَبَدًا ۔ فَأَخَذَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِیَدِہِ فَقَالَ : حَسْبُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَی رَبِّکَ وَہُوَ فِی الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَہُوَ یَقُولُ { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ أَدْہَی وَأَمَرُّ } [القمر ٤٥-٤٦] ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاہِینَ ۔ [صحیح۔ بخاری ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا
(١٧٩٣٢) حضرت زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا جب آپ چٹان پر چڑھنے کے لیے گئے اس وقت آپ نے دو زرہیں پہنی ہوئی تھیں۔ آپ چٹان پر چڑھ نہ سکے تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ نیچے بیٹھے۔ پھر آپ چٹان کے اوپر چڑھ گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” طلحہ نے واجب کرلیا “ یعنی جنت کو۔
(١٧٩٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً وَقِرَائَ ۃً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ ذَہَبَ لِیَنْہَضَ إِلَی الصَّخْرَۃِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدْ ظَاہَرَ بَیْنَ دِرْعَیْنِ فَلَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یَنْہَضَ إِلَیْہَا فَجَلَسَ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ تَحْتَہُ فَنَہَضَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی اسْتَوَی عَلَیْہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَوْجَبَ طَلْحَۃُ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا
(١٧٩٣٣) حضرت سائب بن یزید (رض) نے فرمایا ہے کہ احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو زرہیں پہنی ہوئی تھیں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نمودار ہوئے۔
(١٧٩٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ظَاہَرَ یَوْمَ أُحُدٍ بَیْنَ دِرْعَیْنِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৪০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا
(١٧٩٣٤) حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) فرماتے ہیں : احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو زرہیں پہن کر نمودار ہوئے تھے۔
(١٧٩٣٤) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِیُّ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ وَہُوَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ قَالَ إِبْرَاہِیمُ وَجَدْتُ فِی کِتَابِی عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی تَیْمٍ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ظَاہَرَ بَیْنَ دِرْعَیْنِ یَوْمَ أُحُدٍ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৪১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا
(١٧٩٣٥) اس مذکورہ حدیث کو بشر بن سری نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔
(١٧٩٣٥) وَرَوَاہُ بِشْرُ بْنُ السَّرِیِّ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ عَمَّنْ حَدَّثَہُ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِیِّ فَذَکَرَہُ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৪২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے لیے نکلنا اور جس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے
اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
(١٧٩٣٦) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : آیت { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } [النساء ٩٥] ایمان والوں میں بیٹھ رہنے والے برابر نہیں ہیں بدر میں جانے والے اور نہ جانے والے افراد کے بارے میں ہے جب غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا تو عبداللہ بن جحش اسعدی، عبداللہ بن شریح یا شریح بن مالک بن ربیعہ بن خباب وہ ابن ام مکتوم (رض) ہیں۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نابینا ہیں کیا ہمارے لیے رخصت ہے تو یہ آیت نازل ہوئی : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ }{ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً } مومنوں میں بیٹھ رہنے والے بغیر عذر کے جانے والوں کے برابر نہیں ہے اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجہ میں فضیلت دی ہے۔ یہ وہ بیٹھ رہنے والے ہیں جن کا کوئی عذر نہیں ہے : { فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ عَلَی لْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا ۔ } { دَرَجٰتٍ مِّنْہُ } [النساء ٩٥-٩٦] ” اللہ نے مجاہدین کو اجر عظیم دے کر بیٹھنے والوں پر فضیلت دی ہے “ ان بیٹھنے والوں پر جو بغیر عذر کے بیٹھ رہتے ہیں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ واضح ہے کہ جب اللہ نے بغیر تکلیف کے بیٹھنے والوں سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے تو وہ گناہ گار نہیں ہیں، پیچھے رہنے کی وجہ سے۔ اللہ نے نکلنے کے بارے میں اپنے اس قول میں واضح کیا جب نکلنے کا حکم دیا { اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا } [التوبۃ ٤١] ” نکلو ہلکے اور بوجھل “ اور فرمایا : { اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } [التوبۃ ٣٩] ” اگر تم نہ نکلو تو تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ “ اور فرمایا : { وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ } [التوبۃ ١٢٢] ” اور ممکن نہیں ہے کہ مومن سب کے سب نکل جائیں۔ سو ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ کیوں نہ نکلے۔ “ اللہ نے یہاں بتایا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے اور واضح کردیا کہ اگر سب کے سب یک بارگی پیچھے رہیں تو سب گناہ گار ہوں گے پیچھے رہنے کی وجہ سے۔ اللہ کے اس فرمان کی روشنی میں { اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } [التوبۃ ٣٩] ” اگر تم نہ نکلو تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ واضح ہے کہ جب اللہ نے بغیر تکلیف کے بیٹھنے والوں سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے تو وہ گناہ گار نہیں ہیں، پیچھے رہنے کی وجہ سے۔ اللہ نے نکلنے کے بارے میں اپنے اس قول میں واضح کیا جب نکلنے کا حکم دیا { اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا } [التوبۃ ٤١] ” نکلو ہلکے اور بوجھل “ اور فرمایا : { اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } [التوبۃ ٣٩] ” اگر تم نہ نکلو تو تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ “ اور فرمایا : { وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ } [التوبۃ ١٢٢] ” اور ممکن نہیں ہے کہ مومن سب کے سب نکل جائیں۔ سو ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ کیوں نہ نکلے۔ “ اللہ نے یہاں بتایا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے اور واضح کردیا کہ اگر سب کے سب یک بارگی پیچھے رہیں تو سب گناہ گار ہوں گے پیچھے رہنے کی وجہ سے۔ اللہ کے اس فرمان کی روشنی میں { اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } [التوبۃ ٣٩] ” اگر تم نہ نکلو تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ “
(١٧٩٣٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْکَرِیمِ أَنَّہُ سَمِعَ مِقْسَمًا مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } [النساء ٩٥] عَنْ بَدْرٍ وَالْخَارِجُونَ إِلَی بَدْرٍ لَمَّا نَزَلَتْ غَزْوَۃُ بَدْرٍ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَحْشٍ الأَسَدِیُّ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ شُرَیْحٍ أَوْ شُرَیْحُ بْنُ مَالِکِ بْنِ رَبِیعَۃَ بْنِ ضِبَابٍ ہُوَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ إِنَّا أَعْمَیَانِ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَہَلْ لَنَا رُخْصَۃٌ فَنَزَلَتْ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ } { فَضَّلَ اللَّہُ الْمُجَاہِدِینَ ۔۔۔۔ عَلَی الْقَاعِدِینَ دَرَجَۃً } فَہَؤُلاَئِ الْقَاعِدُونَ غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ { وَفَضَّلَ اللَّہُ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ أَجْرًا عَظِیمًا دَرَجَاتٍ مِنْہُ } [النساء ٩٥-٩٦] عَلَی الْقَاعِدِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ ۔ أَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ أَوَّلَ الْحَدِیثِ دُونَ سِیَاقَتِہِ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ۔ [صحیح۔ بخاری ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَبَیِّنٌ إِذْ وَعَدَ اللَّہُ الْقَاعِدِینَ غَیْرَ أُولِی الضَّرَرِ الْحُسْنَی أَنَّہُمْ لاَ یَأْثَمُونَ بِالتَّخَلُّفِ وَأَبَانَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ فِی قَوْلِہِ فِی النَّفِیرِ حِینَ أَمَرَ بِالنَّفِیرِ { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً } [التوبۃ ٤١] وَقَالَ {إِلاَّ تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا أَلِیمًا } [التوبۃ ٣٩] وَقَالَ { وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنْفِرُوا کَافَّۃً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِنْہُمْ طَائِفَۃٌ} [التوبۃ ١٢٢] فَأَعْلَمَہُمْ أَنَّ فَرْضَہُ الْجِہَادَ عَلَی الْکِفَایَۃِ مِنَ الْمُجَاہِدِینَ وَأَبَانَ أَنْ لَوْ تَخَلَّفُوا مَعًا أَثِمُوا مَعًا بِالتَّخَلُّفِ لِقَوْلِہِ تَعَالَی {إِلاَّ تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا أَلِیمًا } [التوبۃ ٣٩]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَبَیِّنٌ إِذْ وَعَدَ اللَّہُ الْقَاعِدِینَ غَیْرَ أُولِی الضَّرَرِ الْحُسْنَی أَنَّہُمْ لاَ یَأْثَمُونَ بِالتَّخَلُّفِ وَأَبَانَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ فِی قَوْلِہِ فِی النَّفِیرِ حِینَ أَمَرَ بِالنَّفِیرِ { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً } [التوبۃ ٤١] وَقَالَ {إِلاَّ تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا أَلِیمًا } [التوبۃ ٣٩] وَقَالَ { وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنْفِرُوا کَافَّۃً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِنْہُمْ طَائِفَۃٌ} [التوبۃ ١٢٢] فَأَعْلَمَہُمْ أَنَّ فَرْضَہُ الْجِہَادَ عَلَی الْکِفَایَۃِ مِنَ الْمُجَاہِدِینَ وَأَبَانَ أَنْ لَوْ تَخَلَّفُوا مَعًا أَثِمُوا مَعًا بِالتَّخَلُّفِ لِقَوْلِہِ تَعَالَی {إِلاَّ تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا أَلِیمًا } [التوبۃ ٣٩]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৪৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے لیے نکلنا اور جس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے
اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
(١٧٩٣٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ آیت : { اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } [التوبۃ ٣٩]” اگر تم نہ نکلو تو تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ “ اور یہ فرمایا : { مَا کَانَ لِاَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَ مَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِاَنْ یَّتَخَلَّوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہ } { یَعْمَلُوْنَ ۔ } تک [التوبۃ ١٢٠۔ ١٢١] ” مدینہ والوں کا اور ان کے اردگرد جو دیہاتی ہیں ان کا حق نہ تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیچھے رہتے۔ “ ان دونوں آیات کو آئندہ آنے والی آیت نے منسوخ کردیا ہے۔ وہ یہ ہے : { وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ } [التوبۃ ١٢٢]” اور ممکن نہیں ہے کہ مومن سب کے سب نکل جائیں سو ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ کیوں نہ نکلے “
(١٧٩٣٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ النَّحْوِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ {إِلاَّ تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا أَلِیمًا } [التوبۃ ٣٩] { وَمَا کَانَ لأَہْلِ الْمَدِینَۃِ وَمَنْ حَوْلَہُمْ مِنَ الأَعْرَابِ أَنْ یَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ } إِلَی قَوْلِہِ { یَعْمَلُونَ } [التوبۃ ١٢٠۔ ١٢١] نَسَخَتْہَا الآیَۃُ الَّتِی تَلِیہَا { وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنْفِرُوا کَافَّۃً } [التوبۃ : ١٢٢] ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৪৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے لیے نکلنا اور جس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے
اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
(١٧٩٣٨) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَکُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ } [النساء ٧١] ” اے ایمان والو ! اپنے بچاؤ کا سامان پکڑو۔ پھر دستوں کی صورت میں نکلو۔ “ ابن عباس کہتے ہیں : ثبات کا معنی جماعت ہے اے ایمان والو ! { اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا ۔ } [النساء ٧١]” یا اکٹھے ہو کر نکلو۔ “ اور فرمایا { اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا } [التوبۃ ٤١] ” نکلو ہلکے اور بوجھل “ اور فرمایا : { اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } [التوبۃ ٣٩] ” اگر تم نہ نکلو تو تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ “ پھر ان آیات کو منسوخ کردیا اور فرمایا : { وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا } [التوبۃ ١٢٢] ” اور ممکن نہیں ہے کہ مومن سب کے سب نکل جائیں “ اور فرمایا : ایک گروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ محاذ پر اور ایک پیچھے رہتا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہنے والے دین کی سمجھ رکھنے والے ہیں اور وہ قوم کو ڈراتے ہیں جب ان کے پاس آتے ہیں تاکہ وہ ڈرتے رہیں اس بارے میں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ یہ فرائض اور حدود کے معاملہ میں ہے۔
(١٧٩٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی { خُذُوا حِذْرَکُمْ فَانْفِرُوا ثُبَاتٍ } [النساء ٧١] عُصَبًا { أَوِ انْفِرُوا جَمِیعًا } [النساء ٧١] وَقَالَ { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً } [التوبۃ ٤١] وَقَالَ {إِلاَّ تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا أَلِیمًا } [التوبۃ ١٢٢] ثُمَّ نَسَخَ ہَذِہِ الآیَاتِ فَقَالَ { وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِیَنْفِرُوا کَافَّۃً } [التوبۃ ١٢٢] قَالَ فَتَغْزُو طَائِفَۃٌ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَتُقِیمُ طَائِفَۃٌ قَالَ فَالْمَاکِثُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ہُمُ الَّذِینَ یَتَفَقَّہُونَ فِی الدِّینِ وَیُنْذِرُونَ قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْہِمْ مِنَ الْغَزْوِ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنْ کِتَابِہِ وَفَرَائِضِہِ وَحُدُودِہِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৪৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے لیے نکلنا اور جس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے
اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
(١٧٩٣٩) حضرت زید بن خالد جہنی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس نے ایک غازی کو تیار کیا اللہ کے راستہ کے لیے گویا اس نے خود جہاد کیا اور جو غازی کے گھر کا قائم مقام بنا بھلائی کے ساتھ گویا اس نے بھی جہاد کیا۔
(١٧٩٣٩) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی رَجُلٌ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ جَہَّزَ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَہُ فِی أَہْلِہِ بِخَیْرٍ فَقَدْ غَزَا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَأَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ بخاری ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৪৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے لیے نکلنا اور جس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے
اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
(١٧٩٤٠) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو لحیان کی طرف وفد بھیجا اور فرمایا : ” ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی نکلے۔ “ پھر قاعدین (بیٹھنے والوں) سے کہا : جو بھی جہاد پر جانے والے کا قائم مقام بنے اس کے گھر بار میں بھلائی سے تو اس کو جہاد پر جانے والے کے اجر کے آدھے کے برابر اجر دیا جاتا ہے۔
(١٧٩٤٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ إِلَی بَنِی لِحْیَانَ وَقَالَ : لِیَخْرُجْ مِنْ کُلِّ رَجُلَیْنِ رَجُلٌ ۔ ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ : أَیُّکُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِی أَہْلِہِ وَمَالِہِ بِخَیْرٍ کَانَ لَہُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
তাহকীক: