আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৭৯৪৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے لیے نکلنا اور جس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے

اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
(١٧٩٤١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو جہاد کیے بغیر مرگیا اور اس کے دل میں جہاد کی خواہش بھی پیدا نہیں ہوئی وہ نفاق کی ایک نشانی پر مرے گا۔
(١٧٩٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِیمٍ بِمَرْوٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا وُہَیْبُ بْنُ الْوَرْدِ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سُمَیٍّ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَغْزُ وَلَمْ یُحَدِّثْ نَفْسَہُ بِغَزْوٍ مَاتَ عَلَی شُعْبَۃٍ مِنَ النِّفَاقِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَہْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৪৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے لیے نکلنا اور جس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے

اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
(١٧٩٤٢) حضرت ابو امامہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے جہاد نہ کیا اور نہ غازی کو تیار کیا اور مجاہد کے گھر کا قائم مقام نہ بنا بھلائی کے ساتھ اللہ اس کو مصیبت میں مبتلا کرے گا۔ یزید کہتے ہیں : یہ قیامت سے پہلے ہوگا۔
(١٧٩٤٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَقَرَأْتُہُ عَلَی یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ رَبِّہِ الْجُرْجُسِیِّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْقَاسِمِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ لَمْ یَغْزُ أَوْ لَمْ یُجَہِّزْ غَازِیًا أَوْ یَخْلُفْ غَازِیًا فِی أَہْلِہِ بِخَیْرٍ أَصَابَہُ اللَّہُ بِقَارِعَۃٍ ۔ قَالَ یَزِیدُ فِی حَدِیثِہِ : قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৪৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے لیے نکلنا اور جس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے

اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
(١٧٩٤٣) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قبیلہ کے لوگوں کو جہاد پر جانے کا کہا تو وہ بوجھل ہوئے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا } [التوبۃ ٣٩] ” اگر تم نہ نکلو تو تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ “ اور فرمایا : عذاب کی شکل یہ کہ ان سے بارش کو روک دیا جاتا ہے۔
(١٧٩٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا نَجْدَۃُ بْنُ نُفَیْعٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اسْتَنْفَرَ حَیًّا مِنَ الْعَرَبِ فَتَثَاقَلُوا فَنَزَلَتْ {إِلاَّ تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا أَلِیمًا } [التوبۃ ٣٩] قَالَ : کَانَ عَذَابَہُمْ حَبْسُ الْمَطَرِ عَنْہُمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے لیے نکلنا اور جس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے

اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
(١٧٩٤٤) حضرت ابو قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا اور اس میں جہاد کا ذکر کیا اور فرض کے علاوہ کسی چیز کو اس پر افضل قرار نہیں دیا۔ یہ اس کی دلیل ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے کیونکہ اس کو فرض میں سے درجہ میں کم رکھا گیا ہے۔
(١٧٩٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْجِہَادَ فَلَمْ یُفَضِّلْ عَلَیْہِ شَیْئًا إِلاَّ الْمَکْتُوبَۃَ ۔

(ق) ہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ فَرْضٌ عَلَی الْکِفَایَۃِ حَیْثُ فَضَّلَ عَلَیْہِ الْمَکْتُوبَۃَ بِعَیْنِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح۔ الطیالسی ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے لیے نکلنا اور جس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے

اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
(١٧٩٤٥) حضرت عبداللہ بن عون نے نافع کو لکھا کہ ابن عمر (رض) غزوات میں کیوں نہ گئے تو انھوں نے جواب میں لکھا کہ ان کے بیٹے جہاد پر جاتے اور وہ ان کے بعد ذمہ داری ادا کرتے تھے اور وہ حضرت عمر (رض) کی وصیت کی وجہ سے پیچھے رہتے تھے کیونکہ ان کے بچے چھوٹے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) جہاد فی سبیل اللہ کو نماز فرض کے علاوہ باقی تمام اعمال سے افضل قرار دیتے تھے۔
(١٧٩٤٥) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّائُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ مَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْغَزْوِ ؟ قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیَّ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یُغْزِی وَلَدَہُ وَیَحْمِلُ عَلَی الظَّہْرِ وَمَا أَقْعَدَہُ عَنِ الْغَزْوِ إِلاَّ وَصَایَا عُمَرَ وَصِبْیَانٌ صِغَارٌ وَإِنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَرَی الْجِہَادَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَفْضَلَ الأَعْمَالِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے لیے نکلنا اور جس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے

اللہ فرماتے ہیں : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔۔۔} [النساء ٩٥]” ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے جو کسی تکلیف والے نہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے
(١٧٩٤٦) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں، جبکہ امام ابو داؤد کہتے ہیں : حسن بن علی نے اس کو بیان کیا ہے کہ جماعت کی طرف سے ایک آدمی کا سلام کہنا کافی ہے اور بیٹھنے والوں میں سے بھی ایک کا جواب کافی ہے۔
(١٧٩٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْجُدِّیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَفَعَہُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ قَالَ : یُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَۃِ إِذَا مَرُّوا أَنْ یُسَلِّمَ أَحَدُہُمْ وَیُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ یَرُدَّ أَحَدُہُمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بتوں کے پجاری مشرکوں کے ساتھ آپ کا طریقہ کار

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ } [التوبۃ ٥] ” پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل
(١٧٩٤٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھے جہاد کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ لوگ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں اور جس نے کلمہ پڑھ لیا۔ اس نے اپنا مال جان ہم سے بچا لیا ہے مگر اسلام کے حقوق کی ادائیگی میں اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ “
(١٧٩٤٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّی نَفْسَہُ وَمَالَہُ إِلاَّ بِحَقِّہِ وَحِسَابُہُ عَلَی اللَّہِ ۔ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بتوں کے پجاری مشرکوں کے ساتھ آپ کا طریقہ کار

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ } [التوبۃ ٥] ” پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل
(١٧٩٤٨) محرز بن ابی ہریرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو مشرکین سے برأت کے اعلان کے لیے بھیجا تو میں بھی ان کے ساتھ تھا اور میں اعلان کرتا تھا حتی کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ میں نے اپنے والد سے کہا : ابو کسی چیز کا اعلان کر رہے ہو ؟ تو انھوں نے کہا : ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اعلان کریں کہ جنت میں صرف مومن جائیں گے اور جس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی معاہدہ ہے اس کی مدت چار ماہ ہے۔ جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہیں اور اب کوئی بیت اللہ کا طواف ننگی حالت میں نہ کرے گا اور نہ کوئی مشرک اس سال کے بعد طواف کرے گا یا کہا : آج کے دن کے بعد کوئی مشرک طواف نہیں کرے گا۔
(١٧٩٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ مُحَرِّرِ بْنِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنْتُ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَیْثُ بَعَثَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِبَرَائَ ۃَ إِلَی الْمُشْرِکِینَ وَکُنْتُ أَنَادِی حَتَّی صَحَلَ صَوْتِی قُلْتُ : یَا أَبِی بِأَیِّ شَیْئٍ کُنْتَ تُنَادِی ؟ قَالَ : أُمِرْنَا أَنْ نُنَادِیَ أَنَّہُ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَمَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَہْدٌ فَأَجَلُہُ إِلَی أَرْبَعَۃِ أَشْہُرٍ فَإِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ فَإِنَّ اللَّہَ بَرِیئٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَرَسُولُہُ وَلاَ یَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ عُرْیَانٌ وَلاَ یَطُوفَنَّ بِالْکَعْبَۃِ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ أَوْ بَعْدَ الْیَوْمِ مُشْرِکٌ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل کتاب کے ساتھ آپ کا طریقہ کار

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ۔۔۔} [التوبۃ ٢٩]” لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حر
(١٧٩٤٩) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب لشکر پر امیر بناتے تھے تو اس کو تقویٰ کی نصیحت کرتے اور مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت کرتے اور پھر کہا : ” اس کا نام لے کر جہاد کرو اور اس کے راستہ میں لڑائی کرو۔ جو اللہ کے انکاری ہوں ان سے لڑائی کرو، ان کو قتل کرو، دھوکا نہ دو ، غداری نہ کرو، مثلہ نہ کرو، بچوں کو قتل نہ کرو۔ جب دشمن سے ملو تو ان کو تین شرائط میں سے کسی ایک کے قبول کرنے کی دعوت دیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک کو قبول کرلیں تو قبول کرو اور اپنا ہاتھ ان سے روک لو۔ ان کو اسلام کی دعوت دو اگر قبول کریں تو تم قبول کرو اور ان سے رک جاؤ۔ پھر ان کو اپنے گھروں سے مہاجرین کے گھروں کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دیں اور ان کو بتائیں کہ اگر وہ اس طرح کریں گے تو ان کو وہ ملے گا جو مہاجرین کو ملے گا اور ان کی ذمہ داری وہی ہوگی جو مہاجرین کی ہے۔ اگر وہ اپنے گھروں سے مہاجرین کی طرف منتقل نہ ہونا چاہیں تو ان کو بتاؤ کہ ان کی حیثیت دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوگی۔ اللہ کے احکامات ان پر جاری کیے جائیں گے جو دیہاتیوں پر جاری ہوتے ہیں۔ ان کو مال فیٔ اور مال غنیمت سے کچھ ان کو نہیں ملے گا۔ ہاں اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد پر جائیں۔ اگر اس کا انکار کریں تو ان سے جزیہ طلب کریں۔ اگر وہ جزیہ دیں تو اپنا ہاتھ ان سے روک لیں۔ اگر اس کو بھی نہ مانیں تو اللہ سے ان کے مقابلہ میں مدد طلب کریں اور ان سے قتال کریں۔
(١٧٩٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ بْنِ خَالِدٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی جَیْشٍ أَوْصَاہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ بِتَقْوَی اللَّہِ وَبِمَنْ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا ثُمَّ قَالَ : اغْزُوا بِاسْمِ اللَّہِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ قَاتِلُوا مَنْ کَفَرَ بِاللَّہِ اغْزُوا وَلاَ تَغُلُّوا وَلاَ تَغْدِرُوا وَلاَ تُمَثِّلُوا وَلاَ تَقْتُلُوا وَلِیدًا وإِذَا لَقِیتَ عَدُوَّکَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَادْعُہُمْ إِلَی إِحْدَی ثَلاَثِ خِصَالٍ أَوْ خِلاَلٍ فَأَیَّتُہُمْ مَا أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ادْعُہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ فِإِنْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمَ ثُمَّ ادْعُہُمْ مِنَ التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ إِلَی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ وَأَخْبِرْہُمْ إِنْ ہُمْ فَعَلُوا ذَلِکَ فَلَہُمْ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ وَعَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِینَ فَإِنْ ہُمْ أَبَوْا أَنْ یتَحَوَّلُوا مِنْ دَارِہِمْ إِلَی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّہُمْ یَکُونُونَ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ یَجْرِی عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللَّہِ الَّذِی یَجْرِی عَلَی الْعَرَبِ وَلاَ یَکُونُ لَہُمْ مِنَ الْفَیْئِ وَلاَ مِنَ الْغَنِیمَۃِ شَیْئٌ إِلاَّ أَنْ یُجَاہِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ فَإِنْ أَبَوْا فَسَلْہُمْ إِعْطَائَ الْجِزْیَۃِ فَإِنْ فَعَلُوا فَکُفَّ عَنْہُمْ فَإِنْ ہُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّہِ وَقَاتِلْہُمْ ۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثَ وَتَمَامُ الْحَدِیثِ یَرِدُ إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ یَحْیَی بْنِ آدَمَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں مشرک دشمن کا مال اس کے قاتل کا ہوگا

مال فیٔ اور مال غنیمت کی تقسیم کے ابواب میں اس کے متعلق گزر گیا ہے یہاں ہم کچھ حصہ ذکر کرتے ہیں۔
(١٧٩٥٠) ابو قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ حنین کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو مقتول کے بارے میں دلیل دے دے کہ اس نے قتل کیا ہے تو اس سے لیا گیا مال قاتل کا ہوگا۔ “ ابو قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے جن کو قتل کیا تھا ان پر گواہی تلاش کررہا تھا۔ مجھے کوئی نہ ملا جو میرے حق میں گواہی دے۔ میں بیٹھ گیا پھر معاملہ مجھ پر کھل گیا۔ میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذکر کیا تو ایک آدمی نے مجلس میں سے کہا کہ اس مقتول کا اسلحہ میرے پاس ہے تو آپ نے فرمایا : اس کو اس معاملہ میں راضی کرو۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : اس کو بکری کا چھوٹا بچہ بھی قریش کی طرف سے نہیں دیا جائے گا اور اس نے اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑا جو اللہ اور اس کے لیے لڑتا تھا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب علم ہو تو اس کو میری طرف ادا کردیا تو میں اس سے خرید لیا۔ یہ پہلا مال تھا جو میں نے اپنے لیے جمع کیا ہے۔ ابو عمرو اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور مال مجھے دے دیا۔
(١٧٩٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ أَبِی مُحَمَّدٍ مَوْلَی أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ حُنَیْنٍ : مَنْ أَقَامَ بَیِّنَۃً عَلَی قَتِیلٍ فَلَہُ سَلَبُہُ ۔ فَقُمْتُ لأَلْتَمِسَ بَیِّنَۃً عَلَی قَتِیلِی فَلَمْ أَرَ أَحَدًا یَشْہَدُ لِی فَجَلَسْتُ ثُمَّ بَدَا لِی فَذَکَرْتُ أَمْرَہُ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِہِ : سِلاَحُ ہَذَا الْقَتِیلِ الَّذِی یَذْکُرُ عِنْدِی قَالَ فَأَرْضِہِ مِنْہُ ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَلاَّ لاَ یُعْطِہِ أُصَیْبَغَ مِنْ قُرَیْشٍ وَیَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّہِ یُقَاتِلُ عَنِ اللَّہِ وَرَسُولِہِ ۔ قَالَ : فَعَلِمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَدَّاہُ إِلَیَّ فَاشْتَرَیْتُ مِنْہُ خِرَافًا فَکَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُہُ ۔ وَقَالَ أَبُو عَمْرٍو فِی رِوَایَتِہِ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَدَّاہُ إِلَیَّ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ عَلَی اللَّفْظِ الأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ الْبُخَارِیُّ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ عَنِ اللَّیْثِ : فَقَامَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَدَّاہُ إِلَیَّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت اس کے لیے ہے جو جنگ میں شامل ہو
(١٧٩٥١) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جن اہل علم سے میں ملا ہوں ان میں سے اکثر سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ابوبکر (رض) نے فرمایا : غنیمت اس کے لیے جو واقعہ میں حاضر ہوا۔
(١٧٩٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ : مَعْلُومٌ عِنْدَ غَیْرِ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِیتُ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالرِّدَۃِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ إِنَّمَا الْغَنِیمَۃُ لِمَنْ شَہِدَ الْوَقْعَۃَ ۔ [صحیح۔ شافعی ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت اس کے لیے ہے جو جنگ میں شامل ہو
(١٧٩٥٢) حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضرت عکرمہ بن ابی جہل (رض) کو زیاد بن لبید اور مہاجر بن ابی امیہ کی مدد کے لیے پانچ سو مسلمانوں کے ساتھ روانہ کیا۔ ان کو لشکر ملا وہ یمن میں نجیر کے علاقہ کو فتح کرچکے تھے تو زیاد بن لبید نے ان کو مال غنیمت میں شامل کیا وہ بدر کی غنیمت میں شامل ہونے والوں میں سے تھے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : زیاد نے یہ معاملہ ابوبکر (رض) کو لکھا تو حضرت ابوبکر (رض) نے جواب دیا کہ غنیمت اس کے لیے ہے جو واقعہ میں موجود تھا۔ وہ عکرمہ کے لیے غنیمت سے کچھ حصہ خیال نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ واقعہ میں موجود نہیں تھے تو زیاد نے اپنے ساتھیوں سے اس بارے میں بات کی تو انھوں نے دل کی خوشی سے ان کو شریک کرنے کا کہا رضاکارانہ طور پر۔
(١٧٩٥٢) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ حِکَایَۃً عَنْ أَبِی یُوسُفَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَ عِکْرِمَۃَ بْنَ أَبِی جَہْلٍ فِی خَمْسَمِائَۃٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مَدَدًا لِزِیَادِ بْنِ لَبِیدٍ وَلِلْمُہَاجِرِ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ فَوَافَقَہُمُ الْجُنْدُ قَدِ افْتَتَحُوا النُّجَیْرَ بِالْیَمَنِ فَأَشْرَکَہُمْ زِیَادُ بْنُ لَبِیدٍ وَہُوَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا فِی الْغَنِیمَۃِ ۔ [ضعیف ]

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَإِنَّ زِیَادًا کَتَبَ فِیہِ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا الْغَنِیمَۃُ لِمَنْ شَہِدَ الْوَقْعَۃَ وَلَمْ یَرَ لِعِکْرَمَۃَ شَیْئًا لأَنَّہُ لَمْ یَشْہَدِ الْوَقْعَۃَ فَکَلَّمَ زِیَادٌ أَصْحَابَہُ فَطَابُوا أَنْفَسًا بِأَنْ أَشْرَکُوا عِکْرِمَۃَ وَأَصْحَابَہُ مُتَطَوِّعِینَ عَلَیْہِمْ وَہَذَا قَوْلُنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت اس کے لیے ہے جو جنگ میں شامل ہو
(١٧٩٥٣) طارق بن شہاب کہتے ہیں : اہل بصر نے اہل نہاوند سے جنگ لڑی۔ ان کو اہل کوفہ کے ذریعہ مدد ملی اور ان پر امیر عمار بن یاسر (رض) تھے۔ دشمن پر غلبہ پانے کے بعد وہ عمار کے پاس آئے اور اہل کوفہ نے غنیمت کا مال طلب کیا جبکہ بصرہ والے اہل کوفہ کو مال غنیمت سے حصہ نہیں دینا چاہتے تھے۔ بنو تمیم کے ایک آدمی نے عمار بن یاسر (رض) سے کہا : کیا آپ ہمیں بھی غنیمت کے مال میں شریک کریں گے ؟ عمار (رض) کے کان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں کاٹ دیے گئے تھے تو انھوں نے حضرت عمر (رض) کی طرف لکھا تو حضرت عمر (رض) نے جواب دیا کہ غنیمت اس کی ہے جو واقعہ میں موجود ہو۔
(١٧٩٥٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِہَابٍ یَقُولُ : إِنَّ أَہْلَ الْبَصْرَۃِ غَزَوْا أَہْلَ نَہَاوَنْدَ فَأَمَدُّوہُمْ بِأَہْلِ الْکُوفَۃِ وَعَلَیْہِمْ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَقَدِمُوا عَلَیْہِمْ بَعْدَ مَا ظَہَرُوا عَلَی الْعَدُوِّ فَطَلَبَ أَہْلُ الْکُوفَۃِ الْغَنِیمَۃَ وَأَرَادَ أَہْلُ الْبَصْرَۃِ أَنْ لاَ یَقْسِمُوا لأَہْلِ الْکُوفَۃِ مِنَ الْغَنِیمَۃِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ لِعَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ : أَیُّہَا الأَجْدَعُ تُرِیدُ أَنْ تُشَارِکَنَا فِی غَنَائِمِنَا۔ قَالَ : وَکَانَتْ أُذُنُ عَمَّارٍ جُدِعَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَکَتَبُوا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ إِلَیْہِمْ عُمَرُ إِنَّ الْغَنِیمَۃَ لِمَنْ شَہِدَ الْوَقْعَۃَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৬০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت اس کے لیے ہے جو جنگ میں شامل ہو
(١٧٩٥٤) طارق بن شہاب احمسی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے لکھا کہ غنیمت میں اس کا حصہ ہے جو واقعہ میں شریک ہو۔
(١٧٩٥٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ الأَحْمَسِیُّ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّ الْغَنِیمَۃَ لِمَنْ شَہِدَ الْوَقْعَۃَ ۔ ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৬১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت اس کے لیے ہے جو جنگ میں شامل ہو
(١٧٩٥٥) حضرت عمر (رض) نے سعد بن ابی وقاص کو لکھا : آپ کی مدد کے لیے کچھ لوگ بھیج رہا ہوں۔ ان میں سے جو مقتولین کے اکھڑنے سے پہلے پہنچ جائیں ان کو غنیمت میں شریک کرو۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ حضرت عمر (رض) سے ثابت نہیں ہے۔ اگر ثابت ہوجائے تو ہم جلدی قبول کریں گے۔ پھر ابو یوسف کی مخالفت ذکر کی ہے جو عمر (رض) کی اس حدیث کے ساتھ ہے۔

شیخ فرماتے ہیں : یہ منقطع ہے، اس کا راوی مجالد ضعیف ہے۔ طارق بن شہاب والی حدیث کی سند صحیح ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس میں کچھ ثابت ہے جو ابوبکر و عمر (رض) سے منقول روایت کے موافق ہے مگر مجھے اچھی طرح یاد نہیں تھا۔

شیخ فرماتے ہیں : شاید ان کی مراد ابوہریرہ کی حدیث ہے جس میں ابان بن سعید بن عاص کا واقعہ ہے۔ جب ان کے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ خیبر کو فتح کرچکے ۔ تھے آپ نے ان کو حصہ نہیں دیا۔ یہ پہلے کتاب القسم میں گزر گیا ہے اور جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے۔
(١٧٩٥٥) وَأَمَّا الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ حِکَایَۃً عَنْ أَبِی یُوسُفَ عَنِ الْمُجَالِدِ عَنْ عَامِرٍ وَزِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَدْ أَمْدَدْتُکَ بِقَوْمٍ فَمَنْ أَتَاکَ مِنْہُمْ قَبْلَ أَنْ تَتَفَقَّأَ الْقَتْلَی فَأَشْرِکْہُ فِی الْغَنِیمَۃِ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَہَذَا غَیْرُ ثَابِتٍ عَنْ عُمَرَ وَلَوْ ثَبَتَ عَنْہُ کُنَّا أَسْرَعَ إِلَی قَبُولِہِ مِنْہُ ثُمَّ ذَکَرَ مُخَالَفَۃَ أَبِی یُوسُفَ حَدِیثَ عُمَرَ ہَذَا۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَہُوَ مُنْقَطِعٌ وَرَاوِیہِ مُجَالِدٌ وَہُوَ ضَعِیفٌ وَحَدِیثُ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ إِسْنَادُہُ صَحِیحٌ لاَ شَکَّ فِیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - شَیْئٌ یَثْبُتُ فِی مَعْنَی مَا رُوِیَ عَنْ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا لاَ یَحْضُرْنِی حَفِظُہُ ۔

قَالَ الشَّیْخُ : إِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ حَدِیثَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی قِصَّۃِ أَبَانَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ حِینَ قَدِمَ مَعَ أَصْحَابِہِ عَلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِخَیْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَہَا فَلَمْ یَقْسِمْ لَہُمْ وَقَدْ مَضَی ذَلِکَ بِأَسَانِیدِہِ مَعَ سَائِرِ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ فِی کِتَابِ الْقَسْمِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৬২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غنیمت اس کے لیے ہے جو جنگ میں شامل ہو
(١٧٩٥٦) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں۔ غنیمت کا مال اس کا ہے جو واقعہ میں موجود ہو۔
(١٧٩٥٦) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیدٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قِرَائَ ۃً حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا حُصَیْنُ بْنُ مُخَارِقٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ بَخْتَرِیٍّ الْعَبْدِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الْغَنِیمَۃُ لِمَنْ شَہِدَ الْوَقْعَۃَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৬৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی والے علاقہ میں لشکر ہو اور ایک گروہ کو اردگرد کسی علاقہ میں روانہ کریں اس گروہ کو یا لشکر کو مال غنیمت حاصل ہو تو کیا کیا جائے
(١٧٩٥٧) حضرت ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کی لڑائی سے فارغ ہوئے تو آپ نے ابو عامر کو ایک دستے کا امیر بنا کر اوطاس کی جانب روانہ کیا درید بن صبہ کی طرف۔ انھوں نے اس کو پایا اور وہ قتل ہوا۔ اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دی۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ابو عامر حنین کی جنگ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لشکر میں تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنے کچھ پیروکاروں کے ساتھ بھیجا۔ یہ ایک لشکر تھا۔ ہر گروہ دوسرے کا مددگار تھا۔ جب لشکر کی یہ حیثیت ہو تو جس کو بھی غنیمت ملے تو لشکر اور علیحدہ گروہ دونوں اس میں شریک ہوں گے۔
(١٧٩٥٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ حُنَیْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَی جَیْشٍ إِلَی أَوْطَاسٍ فَلَقِیَ دُرَیْدَ بْنِ الصِّمَّۃِ فَقُتِلَ دُرَیْدٌ وَہَزَمَ اللَّہُ أَصْحَابَہُ ۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَبُو عَامِرٍ کَانَ فِی جَیْشِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَعَہُ بِحُنَیْنٍ فَبَعَثَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی اتِّبَاعِہِمْ وَہَذَا جَیْشٌ وَاحِدٌ کُلُّ فِرْقَۃٍ مِنْہُ رِدْئٌ لِلأُخْرَی وَإِذَا کَانَ الْجَیْشُ ہَکَذَا فَلَوْ أَصَابَ الْجَیْشُ شَیْئًا دُونَ السَّرِیَّۃِ أَوِ السَّرِیَّۃُ شَیْئًا دُونَ الْجَیْشِ کَانُوا فِیہِ شُرَکَائَ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৬৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی والے علاقہ میں لشکر ہو اور ایک گروہ کو اردگرد کسی علاقہ میں روانہ کریں اس گروہ کو یا لشکر کو مال غنیمت حاصل ہو تو کیا کیا جائے
(١٧٩٥٨) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح کے موقع پر خطبہ میں کہا تھا : ” مسلمانوں کو دوسروں پر فوقیت ہے اور مسلمانوں میں سے کمزور ترین آدمی کی ضمان کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ دور والوں کو ان پر لوٹایا جائے گا اور فوجی دفاعی دستوں کو ان کے بیٹھنے کی جگہ پر لوٹایا جائے گا۔ عمرو کی روایت میں ہے کہ عقل مندوں کو کمزوروں پر لوٹایا جائے گا اور سبقت لے جانے والوں کو بیٹھنے والوں پر لوٹایا جائے گا۔
(١٧٩٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَ فِیہِ : وَالْمُسْلِمُونَ یَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ یَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ یَرُدُّ عَلَیْہِمْ أَقْصَاہُمْ تَرُدُّ سَرَایَاہُمْ عَلَی قَعَدَتِہِمْ ۔ وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرٍو فَقَالَ : یَرُدُّ مُشِدُّہُمْ عَلَی مُضْعِفِہِمْ وَمُتَسَرِّعِہِمْ عَلَی قَاعِدِہِمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৬৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑ سوار اور پیدل کا حصہ
(١٧٩٥٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آدمی اور گھوڑے کے لیے تین حصہ مقرر کیے : ایک آدمی کے لیے اور دو گھوڑے کے لیے۔
(١٧٩٥٩) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَسْہَمَ لِلرَّجُلِ وَلِفَرَسِہِ ثَلاَثَۃَ أَسْہُمٍ سَہْمًا لَہُ وَسَہْمَیْنِ لِفَرَسِہِ ۔

أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عُبَیْدِ اللَّہِ کَمَا مَضَی فِی کِتَابِ الْقَسْمِ وَقَدْ مَضَتِ سَائِرُ الأَخْبَارِ فِی ہَذَا الْبَابِ فِیہِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৬৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کی فضیلت کا بیان
(١٧٩٦٠) کلثوم بن اقمر فرماتے ہیں : ہمارے اندر گھوڑوں کی تعریب کرنے والا پہلا شخص منیذر وداعی تھا۔ یہ حضرت عمر (رض) کی طرف سے شام کے بعض علاقوں کا امیر تھا۔ اس نے دشمن کو تلاش کیا۔ گھوڑے مل گئے اور غیر عربی گھوڑے بےبس ہوگئے۔ اس نے گھوڑوں کے لیے حصہ مقرر کیا اور غیر عربی گھوڑوں کو چھوڑ دیا اور حضرت عمر (رض) کو لکھا تو حضرت نے جواب دیا کہ تیرا خیال اچھا ہے تو یہ طریقہ بن گیا۔ امام شافعی کہتے ہیں : اس بارے میں ہمارا خیال ہے کہ عربی غیر عربی گھوڑوں کو اور جس گھوڑے کی ماں عربی اور باپ غیر عربی یا اس کے الٹ ہو سب کو برابر رکھا جائے گا اور اگر ہم اس طرح برقرار رکھتے تو ہم مخالفت نہ کرتے۔
(١٧٩٦٠) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ شَرِیکٍ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ الْعَبْدِیِّ عَنْ کُلْثُومِ بْنِ الأَقْمَرِ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ عَرَّبَ الْعِرَابَ رَجُلٌ مِنَّا یُقَالُ لَہُ مُنَیْذِرٌ الْوَادِعِیُّ کَانَ عَامِلاً لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی بَعْضِ الشَّامِ فَطَلَبَ الْعَدُوَّ فَلَحِقَتِ الْخَیْلُ وَتَقَطَّعَتِ الْبَرَاذِینُ فَأَسْہَمَ لِلْخَیْلِ وَتَرَکَ الْبَرَاذَیْنَ وَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نِعِمَّا رَأَیْتَ فَصَارَتْ سُنَّۃً ۔ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ۔ ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِی نَذْہَبُ إِلَیْہِ مِنْ ہَذَا تَسْوِیَۃٌ بَیْنَ الْخَیْلِ وَالْعِرَابِ وَالْبَرَاذِینِ وَالْمَقَارِیفِ وَلَوْ کُنَّا نُثْبِتُ مِثْلَ ہَذَا مَا خَالَفْنَاہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক: