আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৭৯৬৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کی فضیلت کا بیان
(١٧٩٦١) حبیب بن مسلمہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عربی کو عربی النسل قرار دیا اور حقیر کو حقیر سمجھا اور مکحول سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے دن دوغلی نسل کے گھوڑے کو حقیر قرار دیا اور عربی گھوڑے کو عربی کے لیے اور عربی گھوڑے کو دو حصے اور دوغلے کو ایک حصہ دیا۔
(١٧٩٦١) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ہَنْبَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی أَحْمَدَ الْجُرْجَانِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ جَارِیَۃَ عَنْ حَبِیبِ بْنِ مَسْلَمَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَرَّبَ الْعَرَبِیَّ وَہَجَّنَ الْہَجِینَ ۔ کَذَا رَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ أَبِی أَحْمَدَ الْجُرْجَانِیُّ سَاکِنُ حِمْصَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ خَالِدٍ مَوْصُولاً ۔ وَرَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ حَمَّادٍ مُنْقَطِعًا وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ وَزَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِی بِشْرٍ وَہُوَ الْعَلاَئُ عَنْ مَکْحُولٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ہَجَّنَ الْہَجَیْنَ یَوْمَ خَیْبَرَ وَعَرَّبَ الْعَرَبِیَّ لِلْعَرَبِیِّ سَہْمَانِ وَلِلْہَجَیْنِ سَہْمٌ۔ وَہَذَا مُنْقَطِعٌ وَلاَ تَقُومُ بِہِ الْحُجَّۃُ ۔ [منکر ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৬৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کی فضیلت کا بیان
(١٧٩٦٢) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوغلی نسل کے گھوڑوں کو کچھ نہیں دیا اور اس کو خالص عربی النسل گھوڑے سے کم دیا دوغلی نسل کا گھوڑا البرذون البطیٔ ہے۔
(١٧٩٦٢) وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ آخَرُ مُسْنَدٌ بِإِسْنَادٍ ضَعِیفٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بِلاَلٍ الأَشْعَرِیُّ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَۃَ عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ عَنِ الْبَہِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یُعْطِ الْکَوْدَنَ شَیْئًا وَأَعْطَی دُونَ سَہْمِ الْعِرَابَ ۔ وَالْکَودَنُ الْبِرْذَوْنُ الْبَطِیئُ ۔ أَبُو بِلاَلٍ الأَشْعَرِیُّ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৬৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کی فضیلت کا بیان
(١٧٩٦٣) حضرت عروہ بن ابی جعد (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دی گئی ہے اور غنیمت بھی ان کی پیشانیوں میں رکھ دی گئی ہے تو اس میں دلالت ہے کہ غنیمتوں کو گھوڑوں کی جنس سے متعلق کیا گیا ہے تو دوغلی نسل کے گھوڑے بھی اصل میں گھوڑوں کی نسل سے ہیں۔
(١٧٩٦٣) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی السَّفَرِ وَحُصَیْنٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : الْخَیْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِی الْخَیْلِ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ فَذَکَرَہُ ۔ وَفِیہِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ عَلَّقَ الْمَغْنَمَ بِجِنْسِ الْخَیْلِ وَالْبَرَاذِینُ مِنْ جُمْلَۃِ الْخَیْلِ ۔

وَرُوِّینَا عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الْبَرَاذِینِ ہَلْ فِیہَا صَدَقَۃٌ فَقَالَ وَہَلْ فِی الْخَیْلِ مِنْ صَدَقَۃٌ۔

[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کے دو حصے ہیں
(١٧٩٦٤) حضرت زبیر بن عوام (رض) غنیمت کے مال کے چار حصہ بناتے تھے : ایک حصہ اپنے لیے، دو گھوڑے کے لیے، ایک اپنے قریبیوں کے لیے اور اپنی ماں صفیہ کا حصہ خیبر کے دن کا۔ ابن عیینہ یحییٰ بن عباد کے ذکر کرنے سے ڈرتے تھے جبکہ حفاظ اس کو یحییٰ بن عباد سے نقل فرماتے ہیں۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اس سند سے کہ زبیر خیبر میں آئے۔ آپ نے ان کے لیے پانچ حصے مقرر کیے۔ ایک ان کا اور چار ان کے گھوڑے کے۔ اوزاعی نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ یہ مکحول سے منقطع ہے اور ہشام بن عروہ حریص تھے کہ زبیر کے دو گھوڑوں کے لیے زیادہ کیا جائے۔ یہ زیادہ اشبہ ہے جب کہ مکحول مخالف ہیں۔ اگرچہ اس کی حدیث مقطوع ہے۔ اس سے دلیل نہیں لی جائے گی۔ وہ حدیث مکحول کی حدیث کی طرح ہی ہے لیکن ہم اہل مغازی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ان میں سے کسی نے بھی یہ روایت نہیں کی کہ آپ نے دو گھوڑوں کا حصہ مقرر کیا ہو جبکہ اس میں اختلاف نہیں ہے کہ آپ خیبر میں تین گھوڑوں کے ساتھ گئے تھے۔ 1 سکب 2 ظرب 3 مرتجز آپ نے ان میں سے صرف ایک کا حصہ لیا تھا۔
(١٧٩٦٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ : أَنَّ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَضْرِبُ فِی الْمَغْنَمِ بِأَرْبَعَۃِ أَسْہِمٍ سَہْمٌ لَہُ وَسَہْمَیْنِ لِفَرَسِہِ وَسَہْمٌ فِی ذِی الْقُرْبَی سَہْمُ أُمِّہِ صَفِیَّۃَ یَعْنِی یَوْمَ خَیْبَرَ ۔ قَالَ : وَکَانَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ یَہَابُ أَنْ یَذْکُرَ یَحْیَی بْنَ عَبَّادٍ وَالْحُفَّاظُ یَرْوُونَہُ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ ۔

قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِنَحْوِہِ وَہُوَ مَعَ ذِکْرِ یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ فِیہِ مُرْسَلٌ وَقَدْ وَصَلَہُ سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ۔ [ضعیف ]

قَالَ الشَّافِعِیُّ بِالإِسْنَادِ الَّذِی مَضَی وَرَوَی مَکْحُولٌ : أَنَّ الزُّبَیْرَ حَضَرَ خَیْبَرَ فَأَسْہَمَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَمْسَۃَ أَسْہُمٍ سَہْمٌ لَہُ وَأَرْبَعَۃُ أَسْہُمٍ لِفَرَسَیْہِ ۔ فَذَہَبَ الأَوْزَاعِیُّ إِلَی قَبُولِ ہَذَا عَنْ مَکْحُولٍ مُنْقَطِعًا وَہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ أَحْرَصُ لَوْ زِیدَ الزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِفَرَسَیْنِ أَنْ یَقُولَ بِہِ وَأَشْبَہُ إِذْ خَالَفَہُ مَکْحُولٌ أَنْ یَکُونَ أَثْبَتَ فِی حَدِیثِ أَبِیہِ مِنْہُ لِحِرْصِہِ عَلَی زِیَادَتِہِ وَإِنْ کَانَ حَدِیثُہُ مَقْطُوعًا لاَ تَقُومُ بِہِ حُجَّۃٌ فَہُوَ کَحَدِیثِ مَکْحُولٍ وَلَکِنَّا ذَہَبْنَا إِلَی أَہْلِ الْمَغَازِی فَقُلْنَا إِنَّہُمْ لَمْ یَرْوُوا أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَسْہَمَ لِفَرَسَیْنِ وَلَمْ یَخْتَلِفُوا أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَضَرَ خَیْبَرَ بِثَلاَثَۃِ أَفْرَاسٍ لِنَفْسِہِ السَّکْبِ وَالظَّرِبِ وَالْمُرْتَجِزِ وَلَمْ یَأْخُذْ مِنْہَا إِلاَّ لِفَرَسٍ وَاحِدٍ ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ قَدْ رُوِّینَا حَدِیثَ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ فِی کِتَابِ الْقَسْمِ مِنْ حَدِیثِ مُحَاضِرٍ مَوْصُولاً ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے کے دو حصے ہیں
(١٧٩٦٥) یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر بن عوام کے لیے خیبر کے دن چار حصے مقرر کیے تھے : ایک حصہ ان کا اور ایک ان کے قریبی کا صفیہ بنت عبدالمطلب زبیر کی ماں کا اور دو حصے گھوڑے کے۔
(١٧٩٦٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : ضَرَبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَامَ خَیْبَرَ لِلزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بِأَرْبَعَۃِ أَسْہُمٍ سَہْمًا لَہُ وَسَہْمًا لِذِی الْقُرْبَی لِصَفِیَّۃَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أُمِّ الزُّبَیْرِ وَسَہْمَیْنِ لِلْفَرَسِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لڑائی میں عورتیں بچے اور غلام شریک ہوں
(١٧٩٦٦) نجدہ بن عامر نے حضرت عبداللہ بن عباس کو خط لکھا کہ مجھے بتاؤ وہ کون سے رشتہ دار ہیں جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے ان کو مال فیٔ میں سے دیا جائے گا جو اللہ نے رسول کو بغیر جنگ کے عطا کیا ہے اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہوگی، کیا مشرکین کے بچوں کو قتل کیا جائے گا ؟ اگر عورتوں اور غلام جنگ میں جائیں تو کیا ان کے لیے حصہ مقرر ہے ؟ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ یہ اس میں مبتلا ہوجائے تو میں نہ لکھتا تو انھوں نے لکھا، میں وہاں موجود تھا کہ رشتے داروں سے مراد ہمارے نزدیک صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رشتہ دار ہیں جبکہ ہماری قوم نے اس کا انکار بھی کیا ہے۔ رہے مشرکین کے بچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی بچے کو قتل نہیں کیا تو تم بھی قتل نہ کرو۔ ہاں اگر تم جان لو جو خضر نے جانا تھا جس بچے کو اس نے قتل کیا تھا اور یتیمی کی آخری مدت احتلام کا آنا یا سمجھداری کا پتہ چلنا ہے تو اس کی یتیمی ختم ہوگئی۔ اب ان کا مال ان کو دے دو اور اگر عورتیں اور بچے جنگ میں جائیں تو ان کے لیے مقرر حصہ تو نہیں ہے ہاں ان کو غنیمت میں سے کچھ تحفۃً دے دو ۔
(١٧٩٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الأُمَوِیُّ وَأَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ قَیْسًا وَہُوَ ابْنُ سَعْدٍ یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ : أَنَّ نَجْدَۃَ بْنَ عَامِرٍ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنِ اکْتُبْ إِلَیَّ مَنْ ذَوُو الْقُرْبَی الَّذِینَ ذَکَرَہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَرَضَ لَہُمْ فِیمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ وَمَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ وَہَلْ یُقْتَلُ صِبْیَانُ الْمُشْرِکِینَ وَہَلْ لِلنِّسَائِ وَالْعَبِیدِ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ مِنْ سَہْمٍ مَعْلُومٍ ۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَوْلاَ أَنِّی أَخَافُ أَنْ یَقَعَ فِی شَیْئٍ مَا کَتَبْتُ إِلَیْہِ فَکَتَبَ إِلَیْہِ وَأَنَا شَاہِدٌ أَمَّا ذَوُو الْقُرْبَی فَإِنَّا کُنَّا نَرَی أَنَّہُمْ قَرَابَۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَبَی ذَلِکَ عَلَیْنَا قَوْمُنَا وَأَمَّا صِبْیَانُ الْمُشْرِکِینَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَقْتُلْ مِنْہُمْ أَحَدًا فَلاَ تَقْتُلْ إِلاَّ أَنْ تَعْلَمَ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلاَمِ الَّذِی قَتَلَہُ وَأَمَّا مَا سَأَلْتَ عَنِ انْقِضَائِ یُتْمِ الْیَتِیمِ فَإِذَا بَلَغَ الْحُلُمَ وَأُونِسَ مِنْہُ رُشْدُہُ فَقَدِ انْقَضَی یُتْمُہُ فَادْفَعْ إِلَیْہِ مَالَہُ وَأَمَّا النِّسَائُ وَالْعَبِیدُ فَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ سَہْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ وَلَکِنْ یُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لڑائی میں عورتیں بچے اور غلام شریک ہوں
(١٧٩٦٧) یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ نے اس کی طرف خط لکھا تھا۔ میں یہ بھی تھا کہ یتیم کب یتیمی کی عمر سے نکل جاتا ہے اور اس کا حق مال فیٔ میں ثابت ہوجاتا ہے تو عبداللہ بن عباس نے ان کو لکھا کہ بالغ ہونے پر یتیم کی یتیمی ختم ہوجاتی ہے اور مال فیٔ میں اس کا حق ثابت ہوجاتا ہے۔
(١٧٩٦٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّیِّبِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَکِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ أَبِی جَعْفَرٍ وَالزُّہْرِیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ قَالَ : فِیمَا کَتَبَ إِلَیْہِ نَجْدَۃُ فِی کِتَابِہِ ذَلِکَ یَسْأَلُہُ عَنِ الْیَتِیمِ مَتَی یَخْرُجُ مِنَ الْیُتْمِ وَیَقَعُ حَقُّہُ فِی الْفَیْئِ فَکَتَبَ إِلَیْہِ : إِنَّہُ إِذَا احْتَلَمَ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْیُتْمِ وَوَقَعَ حَقُّہُ فِی الْفَیْئِ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لڑائی میں عورتیں بچے اور غلام شریک ہوں
(١٧٩٦٨) ابو لحمہ کے غلام عمیر فرماتے ہیں کہ میں اپنے سرداروں کے ساتھ خیبر میں موجود تھا۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میرے بارے میں بات کی تو انھوں نے مجھے حکم دیا، مجھے تلوار پہنائی گئی، میں اس کو کھینچ رہا تھا، میرے بارے میں خبر دی گئی کہ میں غلام ہوں اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے مال میں کچھ ردی مال دینے کا حکم دیا۔
(١٧٩٦٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَنِی عُمَیْرٌ مَوْلَی آبِی اللَّحْمِ قَالَ : شَہِدْتُ خَیْبَرَ مَعَ سَادَتِی فَکَلَّمُوا فِیَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَمَرَ بِی فَقُلِّدْتُ سَیْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّہُ فَأُخْبِرَ أَنِّی مَمْلُوکٌ فَأَمَرَ لِی بِشَیْئٍ مِنْ خُرْثِیِّ الْمَتَاعِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر لڑائی میں عورتیں بچے اور غلام شریک ہوں
(١٧٩٦٩) خالد بن معدان اور مکحول فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑ سوار کے گھوڑے کے دو حصے اور سوار کا ایک حصہ مقرر کیا۔ اس طرح اس کے تین حصے ہوگئے اور پیدل کو ایک حصہ ملا اور آپ نے عورتوں اور بچوں کے لیے بھی حصہ مقرر کیا۔
(١٧٩٦٩) وَأَمَّا الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الدِّمَشْقِیِّ عَنْ مَکْحُولٍ وَخَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالاَ : أَسْہَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِلْفَارِسِ لِفَرَسِہِ سَہْمَیْنِ وَلِصَاحِبِہِ سَہْمًا فَصَارَ لَہُ ثَلاَثَۃُ أَسْہُمٍ وَلِلرَّاجِلِ سَہْمًا وَأَسْہَمَ لِلنِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ ۔ فَہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ وَحَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْصُولٌ صَحِیحٌ فَہُوَ أَوْلَی وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی سے مشرکوں کے خلاف مدد لے کر ان کو تھوڑا سا مال عطیہ دینا
(١٧٩٧٠) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قینقاع کے یہود سے مدد لی اور ان کو اس کا بدلہ کچھ مال عطیۃً دیا لیکن ان کو حصہ مقرر کر کے نہیں دیا۔ یہ پہلے بھی بیان ہوچکی ہے۔
(١٧٩٧٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ أَبُو یُوسُفَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : اسْتَعَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِیَہُودِ قَیْنُقَاعَ فَرَضَخَ لَہُمْ وَلَمْ یُسْہِمْ لَہُمْ ۔

(ج) تَفَرَّدَ بِہَذَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ وَہُوَ مَتْرُوکٌ وَلَمْ یَبْلُغْنَا فِی ہَذَا حَدِیثٌ صَحِیحٌ۔ وَقَدْ رُوِّینَا قَبْلَ ہَذَا فِی کَرَاہِیَۃِ الاِسْتِعَانَۃِ بِالْمُشْرِکِینَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی سے مشرکوں کے خلاف مدد لے کر ان کو تھوڑا سا مال عطیہ دینا
(١٧٩٧١) زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ یہودی لوگوں کو ساتھ ملا کر جہاد کیا ہے اور ان کا حصہ بھی مقرر کیا ہے۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منقطع ہے اس لیے حجت نہیں ہے۔

شیخ فرماتے ہیں : فطیہ حارثی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کے دس یہودیوں کو ساتھ لے کر خیبر کی طرف گئے اور ان کے لیے مسلمانوں کی طرح حصہ بھی مقرر کیا۔ یہ بھی منقطع ہے۔
(١٧٩٧١) فَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَزَا بِنَاسٍ مِنَ الْیَہُودِ فَأَسْہَمَ لَہُمْ فَہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ مُنْقَطَعًا۔ [ضعیف۔ منقطع ]

قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالْحَدِیثُ الْمُنْقَطِعُ عِنْدَنَا لاَ یَکُونُ حُجَّۃً ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرَوَی الْوَاقِدِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی سَبْرَۃَ عَنْ فُطَیْرٍ الْحَارِثِیِّ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِعَشَرَۃٍ مِنَ الْیَہُودِ مِنْ یَہُودِ الْمَدِینَۃِ إِلَی خَیْبَرَ فَأَسْہَمَ لَہُمْ کَسُہْمَانِ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَہَذَا مُنْقَطِعٌ وَإِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٧٢) ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے لڑائی سے پہلے دعا کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے لکھا : یہ ابتداء اسلام میں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق پر شب خون مارا (رات کو حملہ کیا) وہ بھی حملہ کرنے کے لیے تیار تھے ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا۔ ان کے لڑائی کے قابل لوگوں کو قتل کردیا گیا اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور اس دن جویریہ کو تکلیف لاحق ہوئی تھی۔
(١٧٩٧٢) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُلَیْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الدُّعَائِ قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ فَکَتَبَ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُہُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَہُمْ وَسَبَی سَبْیَہُمْ وَأَصَابَ یَوْمَئِذٍ قَالَ یَحْیَی أَحْسَبُہُ قَالَ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَحَدَّثَنِی ہَذَا الْحَدِیثَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِی ذَلِکَ الْجَیْشِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٧٣) ابو صرمہ نے ابو سعید خدری سے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ ہم نے معززین عرب کو قیدی بنایا اور اپنے گھر سے دوری طویل ہو رہی تھی اور ہم چاہتے تھے کہ کچھ مال دے کر فائدہ حاصل کریں اور عزل کریں تو ہم نے کہا : ہم عزل کریں جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان میں موجود ہیں اور ہم ان سے سوال نہ کریں۔ ہم نے سوال کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم پر کوئی حرج نہیں اگر نہ کرو جس جان کے پیدا ہونے کا اللہ نے لکھ دیا کہ وہ پیدا ہونے والی ہے قیامت تک وہ پیدا ہو کر رہے گی۔

اس میں دلیل ہے کہ آپ نے مدینہ آنے سے پہلے مال غنیمت کو تقسیم کیا ہے جیسا کہ امام اوزاعی اور امام شافعی ; کا موقف ہے۔ ابو یوسف (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بنو مصطلق کو فتح کیا اور ان پر غالب ہوئے تو ان کا علاقہ دار السلام میں شامل ہوگیا اور آپ نے ولید بن عقبہ کو ان سے زکوۃ وصول کرنے کے لیے روانہ کیا تھا۔

امام شافعی (رح) نے ابو یوسف کا رد کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر حملہ کیا جبکہ وہ اپنے جانوروں میں مشغول تھے۔ ان کے قیدیوں کو قتل کیا گیا اور مالوں کو اور قیدیوں کو تقسیم کیا گیا۔ یہ ان کے علاقہ میں پانچ ہجری میں ہوا جبکہ وہ اس کے کافی عرصہ بعد مسلمان ہوئے۔ پھر آپ نے ولید بن عقبہ کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور یہ دس ہجری کا وقت ہے اور جب آپ ان سے فارغ ہو کر لوٹے تو وہ ابھی دشمن کا علاقہ تھا۔

شیخ (رض) فرماتے ہیں : یہ پانچ ہجری کو ہوا اسی طرح عروہ اور ابن شہاب کہتے ہیں۔
(١٧٩٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ وَہَذَا حَدِیثُہُ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِیعَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزَ أَنَّہُ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَۃَ عَلَی أَبِی سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ أَبُو صِرْمَۃَ فَقَالَ : یَا أَبَا سَعِیدٍ ہَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَذْکُرُ الْعَزْلَ ؟ قَالَ : نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَزْوَۃَ الْمُصْطَلِقِ فَسَبَیْنَا کَرَائِمَ الْعَرَبِ وَطَالَتْ عَلَیْنَا الْعُزْبَۃُ وَرَغِبْنَا فِی الْفِدَائِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَیْنَ أَظْہُرِنَا فَلاَ نَسْأَلُہُ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : لاَ عَلَیْکُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا مَا کَتَبَ اللَّہُ خَلْقَ نَسَمَۃً ہِیَ کَائِنَۃٌ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ سَتَکُونُ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَقُتَیْبَۃَ ۔ وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ قَسَمَ بَیْنَہُم غَنَائِمَہُمْ قَبْلَ الرُّجُوعِ إِلَی الْمَدِینَۃِ کَمَا قَالَ الأَوْزَاعِیُّ والشَّافِعِیُّ ۔ قَالَ أَبُو یُوسُفَ : افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِلاَدَ بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَظَہَرَ عَلَیْہِمْ فَصَارَتْ بِلاَدُہُمْ دَارَ الإِسْلاَمِ وَبَعَثَ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ یَأْخُذُ صَدَقَاتِہِمْ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

قَالَ الشَّافِعِیُّ مُجِیبًا لَہُ عَنْ ذَلِکَ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہِمْ وَہُمْ غَارُّونَ فِی نَعَمِہِمْ فَقَتَلَہُمْ وَسَبَاہُمْ وَقَسَمَ أَمْوَالَہُمْ وَسَبْیَہُمْ فِی دَارِہِمْ سَنَۃَ خَمْسٍ وَإِنَّمَا أَسْلَمُوا بَعْدَہَا بِزَمَانٍ وَإِنَّمَا بَعَثَ إِلَیْہِمُ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ مُصَدِّقًا سَنَۃَ عَشْرٍ وَقَدْ رَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْہُمْ وَدَارُہُمْ دَارُ حَرْبٍ

قَالَ الشَّیْخُ أَمَّا قَوْلُہُ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ سَنَۃَ خَمْسٍ فَکَذَلِکَ قَالَہُ عُرْوَۃُ وَابْنُ شِہَابٍ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৮০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٧٤) ابن شہاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بنو مصطلق اور بنو لحیان کے غزوات شعبان پانچ ہجری کو ہوئے ہیں۔ یہ ابن اسحاق کی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں چھ ہجری بتایا گیا ہے۔
(١٧٩٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَعْقُوبُ وَحَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فِی ذِکْرِ مَغَازِی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : ثُمَّ قَاتَلَ بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَبَنِی لِحْیَانَ فِی شَعْبَانَ مِنْ سَنَۃِ خَمْسٍ ۔ وَہَذَا أَصَحُّ مِمَّا رُوِیَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ سَنَۃَ سِتٍّ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৮১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٧٥) ولید بن عقبہ کے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجنے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب ان کے پاس ان کے آنے کی خبر آتی تو وہ خوش ہوتے اور اس کا استقبال کرنے کے لیے نکلتے۔ تاکہ اللہ کے رسول کے قاصد کا استقبال کریں جب ولید (رض) کو بتایا کہ وہ استقبال کے لیے آتے ہیں تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! انھوں نے زکوۃ کو روک لیا ہے۔ آپ ناراض ہوئے۔ ابھی آپ ان سے لڑائی کا سوچ رہے تھے کہ بنو مصطلق کا وفد آگیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ کا قاصد آدھا سفر کر کے واپس چلا گیا ہے۔ ہم ڈرے کہ اس کا لوٹنا آپ کے کسی خط کی وجہ سے کسی غصہ کی وجہ سے جو آپ کو ہم پر آیا ہو اور ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے چھپا رہے تھے اور ان پر حملہ کا ارادہ رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا عذر نازل فرما دیا۔ فرمایا : { یاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۔۔۔} [الحجرات ٦] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کرلو۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو ۔ پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔ “
(١٧٩٧٥) وَأَمَّا بَعْثُہُ الْوَلِیدَ مُصَدِّقًا فَفِیمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِیَّۃَ حَدَّثَنِی عَمِّی الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِیَّۃَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی عَطِیَّۃَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ إِلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ لِیَأْخُذَ مِنْہُمُ الصَّدَقَاتِ وَإِنَّہُ لَمَّا أَتَاہُمُ الْخَبَرُ فَرِحُوا وَخَرَجُوا لِیَتَلَقَّوْا رَسُولَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَإِنَّہُ لَمَّا حُدِّثَ الْوَلِیدُ أَنَّہُمْ خَرَجُوا یَتَلَقَّوْنَہُ رَجَعَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ بَنِی الْمُصْطَلِقِ قَدْ مَنَعُوا الصَّدَقَۃَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ ذَلِکَ غَضَبًا شَدِیدًا فَبَیْنَمَا ہُوَ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ أَنْ یَغْزُوہُمْ إِذْ أَتَاہُ الْوَفْدُ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ رَسُولَکَ رَجَعَ مِنْ نِصْفِ الطَّرِیقِ وَإِنَّا خَشِینَا أَنْ یَکُونَ إِنَّمَا رَدَّہُ کِتَابٌ جَائَ ہُ مِنْکَ لِغَضَبٍ غَضِبْتَہُ عَلَیْنَا وَإِنَّا نَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْ غَضِبِ اللَّہِ وَغَضِبِ رَسُولِہِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اسْتَغْشَہُمْ وَہَمَّ بِہِمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عُذْرَہُمْ فِی الْکِتَابِ فَقَالَ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوا عَلَی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ } [الحجرات ٦] ۔ [ضعیف جدًا ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৮২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٧٦) مجاہد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ انھوں نے تحائف لے کر ان کا استقبال کیا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹ گئے اور کہا کہ بنو مصطلق نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا ہے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { یاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ جَائَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍِ فَتَبَیَّنُوْا } [الحجرات ٦] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کرلو “

شیخ نے فرمایا : جس سے دلیل لی گئی کہ یہ غزوہ بنی مصطلق کے کافی عرصہ بعد ہوا ہے اور یہ مدت تقریباً دس سال ہے جیسا کہ امام شافعی (رح) نے ذہن میں رکھا وہ یہ ہے کہ ولید بن عقبہ فتح مکہ کے وقت بچے تھے جبکہ فتح مکہ آٹھ ہجری میں ہوا ہے اور آپ نے اس کو اس وقت بھیجا تھا جب وہ جوان ہوگئے تھے۔
(١٧٩٧٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ إِلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ لَیُصَدِّقَہُمْ فَتَلَقَّوْہُ بِالْہَدِیَّۃِ فَرَجَعَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لَہُ إِنَّ بَنِی الْمُصْطَلِقِ قَدْ أَجْمَعُوا لَکَ لِیُقَاتِلُوکَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {إِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا } [الحجرات ٦] الآیَۃَ ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَالَّذِی یُسْتَدَلُّ بِہِ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ بَعْدَ غَزْوَۃِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ بِمُدَّۃٍ کَثِیرَۃٍ وَیُشْبِہُ أَنْ یَکُونْ سَنَۃَ عَشْرٍ کَمَا حَفِظَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنَّ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ کَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ صَبِیًّا وَذَلِکَ سَنَۃَ ثَمَانٍ وَلاَ یَبْعَثُہُ مُصَدِّقًا إِلاَّ بَعْدَ أَنْ یَصِیرَ رَجُلاً ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৮৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٧٧) ولید بن عقبہ (رض) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ کے پاس لاتے آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ مجھے بھی لایا گیا میرے سر پر زعفران کی خوشبو لگائی گئی تھی۔ جب آپ نے مجھے دیکھا تو مجھے نہ چھوا۔ آپ نے زعفرانی خوشبو کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا جو میری ماں نے لگایا تھا۔
(١٧٩٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِی مُوسَی الْہَمْدَانِیِّ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَکَّۃَ جَعَلَ أَہْلُ مَکَّۃَ یَأْتُونَہُ بِصِبْیَانِہِمْ فَیَمْسَحُ رُئُ وسَہُمْ وَیَدْعُو لَہُمْ فَجِیئَ بِی إِلَیْہِ وَقَدْ خُلِّقْتُ بِالْخَلُوقِ فَلَمَّا رَآنِی لَمْ یَمَسَّنِی وَلَمْ یَمْنَعْہُ مِنْ ذَلِکَ إِلاَّ الْخَلُوقُ الَّذِی خَلَّقَتْنِی أُمِّی۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৮৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٧٨) ولید بن عقبہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا باقی حدیث پہلی سند والی ہے۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں : یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس نے ایک دن پاخانہ کیا۔ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناپسند کیا۔ پھر اس کو نہ چھوا اور نہ اس کے لیے دعا کی۔ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکت سے منع کیا گیا کیونکہ آپ کو اس کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔
(١٧٩٧٨) وَحَدَّثَنَا بِذَلِکَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا فَیَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّیُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْکِلاَبِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الْہَمْدَانِیِّ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَکَّۃَ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ ۔ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَقَدْ رُوِیَ أَنَّہُ سَلَحَ یَوْمَئِذٍ فَتَقَذَّرَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلَمْ یَمَسَّہُ وَلَمْ یَدْعُ لَہُ وَمُنِعَ بَرَکَۃَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِسَابِقِ عِلْمِ اللَّہِ فِیہِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৮৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٧٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی۔ پھر آپ سوار ہوئے اور فرمایا : ” اللہ اکبر خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے لوگوں کی یہ صبح بہت بری ہے۔ “ وہ نکلے گلیوں میں چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے : محمد اور اس کا لشکر۔ حماد کہتے ہیں : خمیس لشکر کو کہتے ہیں۔ آپ نے ان پر غلبہ حاصل کیا اور جوانوں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا۔ صفیہ دحیہ کلبی کے حصہ میں آئی۔ پھر اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصہ میں دے دیا گیا۔ آپ نے اس سے نکاح کیا اور آزادی کو حق مہر قرار دیا۔ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا : کیا تو نے انس سے پوچھا تھا کہ آپ نے مہر کیا رکھا تو انھوں نے کہا : آپ نے اس کا مہر اس کے نفس کی آزادی رکھا تھا تو وہ مسکرا دیے۔
(١٧٩٧٩) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْحَجَبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - صَلَّی الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ رَکِبَ فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَیْبَرُ إِنَا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ ۔ فَخَرَجُوا یَسْعَوْنَ فِی السِّکَکِ وَہُمْ یَقُولُونَ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ ۔ قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ حَمَّادٌ : وَالْخَمِیسُ الْجَیْشُ فَظَہَرَ عَلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَۃَ وَسَبَی الذَّرَارِیَّ فَصَارَتْ صَفِیَّۃُ لِدِحْیَۃَ الْکَلْبِیِّ ثُمَّ صَارَتْ صَفِیَّۃُ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ تَزَوَّجَہَا وَجَعَلَ صَدَاقَہَا عِتْقَہَا۔ قَالَ عَبْدُ الْعَزِیزِ لِثَابِتٍ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْہَرَہَا ؟ فَقَالَ : أَمْہَرَہَا نَفْسَہَا۔ فَتَبَسَّمَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৮৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٨٠) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : تقسیم میں صفیہ دحیہ کلبی (رض) کے حصہ میں آئی۔ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس کی تعریف کرنے لگے اور وہ کہتے تھے : ہم نے قیدیوں میں اس جیسا نہیں دیکھا۔ آپ نے دحیہ کی طرف قاصد بھیجا اور ان کو صفیہ کے بدلہ میں کچھ دیا اور اس کو میرے مال کی طرف بھیجا اور کہا کہ اس کا معاملہ درست کرو۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر سے نکلے۔ جب وہ پیچھے رہ گیا تو آپ نے پڑواؤ کیا۔ آپ کا خیمہ لگایا گیا۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا : جس کے پاس زائد مال ہو وہ لائے تو لوگ چیزیں لانا شروع ہوئے۔ کھجوریں ، ستو، گھی لایا گیا۔ جب یہ ایک کھانے کا بڑا ڈھیر بن گیا تو اس میں سے کھانے لگے اور وہ اپنے پہلوں میں جمع پانی سے پینے لگے جو آسمانی بارش سے جمع ہوا تھا۔ یہ اللہ کے رسول کی طرف سے ولیمہ تھا جو صفیہ سے نکاح پر کیا گیا تھا۔ پھر ہم نکلے حتیٰ کہ ہم نے مدینہ کی دیواروں کو دیکھنا شروع کیا۔ ہم ان کی طرف چلے ہم نے اپنی سواریوں کو اٹھایا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اپنی سواری کو اٹھایا اور صفیہ آپ کے پیچھے تھیں۔ آپ اس کو پیچھے بٹھایا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری پھسل گئی۔ آپ اور صفیہ گرگئے۔ ہم میں سے کسی نے آپ کی طرف نہیں دیکھا نہ صفیہ کی طرف دیکھا حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر پردہ کردیا۔ پھر ہم آپ کے پاس آئے تو آپ نے کہا : ہمیں چوٹ نہیں آئی۔ جب ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو آپ کی بیویوں کی ہمسائیاں نکلیں۔ وہ اس کو دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں اور اس کی جلدی پر خوش ہو رہی تھیں۔

اس میں دلیل ہے کہ آپ نے خیبر کی غنیمت کو خیبر ہی میں تقسیم کیا تھا۔ ابو یوسف کہتے ہیں : جب خیبر کو فتح کرلیا گیا تو وہ دارالسلام بن گیا اور آپ نے کجھوروں پر ان کو عامل مقرر کیا تھا۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مجھے علم نہیں کہ وہاں کوئی ایک بھی مسلمان تھا۔ آپ نے صرف یہود سے مصالحت کی تھی۔ وہ اپنے دین پر قائم ہیں اور خیبر کے ارد گرد علاقہ بھی دشمن کا علاقہ ہے۔
(١٧٩٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَہْزٌ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : صَارَتْ صَفِیَّۃُ لِدِحْیَۃَ فِی مَقْسَمِہِ وَجَعَلُوا یَمْدَحُونَہَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَیَقُولُونَ مَا رَأَیْنَا فِی السَّبْیِ مِثْلَہَا قَالَ فَبَعَثَ إِلَی دِحْیَۃَ فَأَعْطَاہُ بِہَا مَا أَرَادَ ثُمَّ دَفَعَہَا إِلَی أُمِّی فَقَالَ : أَصْلِحِیہَا ۔

قَالَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ خَیْبَرَ حَتَّی جَعَلَہَا فِی ظَہْرِہِ نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَیْہَا الْقُبَّۃَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ : مَنْ کَانَ عِنْدَہُ فَضْلُ زَادٍ فَلْیَأْتِنَا بِہِ ۔ قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَجِیئُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِیقِ وَفَضْلِ السَّمْنِ حَتَّی جَعَلُوا مِنْ ذَلِکَ سَوَادًا حَیْسًا فَجَعَلُوا یَأْکُلُونَ مِنْ ذَلِکَ الْحَیْسِ وَیَشْرَبُونَ مِنْ حِیَاضٍ إِلَی جَنْبِہِمْ مِنْ مَائِ السَّمَائِ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ وَکَانَتْ تِلْکَ وَلِیمَۃَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہَا

قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی إِذَا رَأَیْنَا جُدُرَ الْمَدِینَۃِ مَشَیْنَا إِلَیْہَا فَرَفَعْنَا مَطِیَّتَنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَطِیَّتَہُ قَالَ وَصَفِیَّۃُ خَلْفَہُ قَدْ أَرْدَفَہَا فَعَثَرَتْ مَطِیَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ قَالَ فَلَیْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یَنْظُرُ إِلَیْہِ وَلاَ إِلَیْہَا حَتَّی قَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَسْتُرُہَا قَالَ فَأَتَیْنَاہُ فَقَالَ : لَمْ نُضَرَّ ۔ قَالَ فَدَخَلْنَا الْمَدِینَۃَ فَخَرَجَ جَوَارِی نِسَائِہِ یَتَرَائَیْنَہَا وَیَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِہَا۔ لَفْظُ حَدِیثِ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ہَاشِمٍ ۔

وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی وُقُوعِ قِسْمَۃِ غَنِیمَۃِ خَیْبَرَ بِخَیْبَرَ قَالَ أَبُو یُوسُفَ إِنَّہَا حِینَ افْتَتَحَہَا صَارَتْ دَارَ إِسْلاَمٍ وَعَامَلَہُمْ عَلَی النَّخْلِ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ : أَمَّا خَیْبَرُ فَمَا عَلِمْتُہُ کَانَ فِیہَا مُسْلِمٌ وَاحِدٌ مَا صَالِحَ إِلاَّ الْیَہُودَ وَہُمْ عَلَی دِینِہِمْ وَمَا حَوْلَ خَیْبَرَ کُلُّہُ دَارُ حَرْبٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক: