আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৭৯৮৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٨١) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : اے لوگو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں سے اس بات پر معاملہ طے کیا کہ ہم جب چاہیں گے ان کو نکال دیں گے۔ جس کا کوئی مال ہو وہ اس کو تابع کرلے۔ میں یہود کو نکال رہا ہوں پھر آپ نے ان کو نکال دیا۔
(١٧٩٨١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی نَافِعٌ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ عَامَلَ یَہُودَ خَیْبَرَ عَلَی أَنَّا نُخْرِجُہُمْ إِذَا شِئْنَا فَمَنْ کَانَ لَہُ مَالٌ فَلْیَلْحَقْ بِہِ فَإِنِّی مُخْرِجٌ یَہُودَ فَأَخْرَجَہُمْ ۔ [صحیح۔ احمد ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৮৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٨٢) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے عمرہ کے علاوہ چار عمرے کیے باقی سب ذی القعدہ میں تھے ایک عمرہ حدیبیہ میں یا حدیبیہ کی صلح کے موقع پر ذی القعدہ میں ہوا اور ایک عمرہ آئندہ سال اور ایک جعرانہ سے لوٹنے پر جب آپ حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے آئے تھے اور ایک عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ابراہیم کی حدیث ہے جبکہ حسن نے بالضبط عمرۃ من الحدیبیۃ کہا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ آپ نے حنین کے مقام پر ہی غنیمت کا مال بھی تقسیم کیا تھا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابو یوسف نے جو دلیل لی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کا مال غنیمت مدینہ میں پہنچ کر تقسیم کیا اور جو حدیث میں ثابت ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان اور طلحہ (رض) کے لیے بدر کا حصہ رکھا جبکہ وہ بدر میں نہیں آئے۔ اگر اسی طرح ہے تو یہ سنت کے مخالف ہے کیونکہ امام یا امیر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو غنیمت سے کچھ دے جبکہ وہ اس میں شامل نہ رہا ہو اور وہ مددگار نہ رہا ہو جبکہ یہ اس طرح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی غنیمتیں سبر نامی جگہ پر تقسیم کیں جو صفراء کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی ہے اور بدر کے قریب ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابو یوسف نے جو دلیل لی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کا مال غنیمت مدینہ میں پہنچ کر تقسیم کیا اور جو حدیث میں ثابت ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان اور طلحہ (رض) کے لیے بدر کا حصہ رکھا جبکہ وہ بدر میں نہیں آئے۔ اگر اسی طرح ہے تو یہ سنت کے مخالف ہے کیونکہ امام یا امیر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو غنیمت سے کچھ دے جبکہ وہ اس میں شامل نہ رہا ہو اور وہ مددگار نہ رہا ہو جبکہ یہ اس طرح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی غنیمتیں سبر نامی جگہ پر تقسیم کیں جو صفراء کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی ہے اور بدر کے قریب ہے۔
(١٧٩٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ الْبَغَوِیُّ وَأَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ وَالْحَسَنُ النَّسَوِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ کُلُّہُنَّ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ إِلاَّ الَّتِی فِی حَجَّتِہِ عُمْرَۃٌ فِی الْحُدَیْبِیَۃِ أَوْ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ وَعُمْرَۃٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَعُمْرَۃٌ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ حَیْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَیْنٍ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ وَعُمْرَۃٌ مَعَ حَجَّتِہِ ۔ ہَذَا حَدِیثُ إِبْرَاہِیمَ وَقَالَ الْحَسَنُ : عُمْرَۃٌ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ ۔ وَقَالَ أَبُو یَعْلَی : عُمْرَتُہُ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہُدْبَۃَ ۔ وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَیْنٍ بِہَا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَأَمَّا مَا احْتَجَّ بِہِ أَبُو یُوسُفَ مِنْ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَقْسِمْ غَنَائِمَ بَدْرٍ حَتَّی وَرَدَ الْمَدِینَۃَ وَمَا ثَبَتَ مِنَ الْحَدِیثِ بِأَنْ قَالَ وَالدَّلِیلُ عَلَی ذَلِکَ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَسْہَمَ لِعُثْمَانَ وَطَلْحَۃَ وَلَمْ یَشْہَدَا بَدْرًا فَإِنْ کَانَ کَمَا قَالَ فَہُوَ یُخَالِفُ سُنَّۃَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأَنَّہُ یَزْعُمُ أَنَّہُ لَیْسَ لِلإِمَامِ أَنْ یُعْطِیَ أَحَدًا لَمْ یَشْہَدِ الْوَقْعَۃَ وَلَمْ یَکُنْ مَدَدًا وَلَیْسَ کَمَا قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَنَائِمَ بَدْرٍ بِسَبْرٍ شِعْبٍ مِنْ شِعَابِ الصَّفْرَائِ قَرِیبٌ مِنْ بَدْرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَأَمَّا مَا احْتَجَّ بِہِ أَبُو یُوسُفَ مِنْ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَقْسِمْ غَنَائِمَ بَدْرٍ حَتَّی وَرَدَ الْمَدِینَۃَ وَمَا ثَبَتَ مِنَ الْحَدِیثِ بِأَنْ قَالَ وَالدَّلِیلُ عَلَی ذَلِکَ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَسْہَمَ لِعُثْمَانَ وَطَلْحَۃَ وَلَمْ یَشْہَدَا بَدْرًا فَإِنْ کَانَ کَمَا قَالَ فَہُوَ یُخَالِفُ سُنَّۃَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأَنَّہُ یَزْعُمُ أَنَّہُ لَیْسَ لِلإِمَامِ أَنْ یُعْطِیَ أَحَدًا لَمْ یَشْہَدِ الْوَقْعَۃَ وَلَمْ یَکُنْ مَدَدًا وَلَیْسَ کَمَا قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَنَائِمَ بَدْرٍ بِسَبْرٍ شِعْبٍ مِنْ شِعَابِ الصَّفْرَائِ قَرِیبٌ مِنْ بَدْرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৮৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٨٣) ابن اسحاق کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے۔ جب آپ درے سے نکلے جس کو صفراء کہا جاتا ہے تو آپ اس سے ٹیلے کی طرف نکلے جس کو سبر کہا جاتا ہے۔ یہ بدر سے ایک رات کی مسافت کے برابر دوری پر ہے یا اس بھی زیادہ۔ پھر آپ نے اس ٹیلے کے پاس مال غنیمت کو تقسیم کیا۔
(١٧٩٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : وَمَضَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ مَضِیقٍ یُقَالَ لَہُ الصَّفْرَائُ خَرَجَ مِنْہُ إِلَی کَثِیبٍ یُقَالُ لَہُ سَبْرٌ عَلَی مَسِیرَۃِ لَیْلَۃٍ مِنْ بَدْرٍ أَوْ أَکْثَرَ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - النَّفْلَ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی ذَلِکَ الْکَثِیبِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٨٤) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین سو پندرہ نفوس کے ساتھ بدر کی طرف نکلے جیسے طالوت نکلا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے دعا کی جب نکلے تو آپ نے کہا : ” اے اللہ ! یہ بغیر سواری کے ننگے پاؤں ہیں۔ اے اللہ ! تو ان کو سوار کر دے۔ اے اللہ ! یہ ننگے بدن ہیں ان کو پہنا۔ اے اللہ ! یہ بھوکے ہیں تو ان کو سیر کر دے۔ اللہ نے ان کو بدر کے دن فتح دی۔ وہ واپس آئے تو ہر آدمی ایک یا دو اونٹ لے کر آیا۔ انھوں نے پہنا اور سیر ہوئے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عبادہ بن صامت کی روایت کے مطابق بدر کی غنیمتیں جو مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ یہ سورة انفال کی آیت کے نزول سے پہلے کا واقع ہے۔ جب انھوں اختلاف کیا تو اللہ نے یہ ان سے چھین لیا { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ } [الأنفال ١] ” وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عبادہ بن صامت کی روایت کے مطابق بدر کی غنیمتیں جو مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ یہ سورة انفال کی آیت کے نزول سے پہلے کا واقع ہے۔ جب انھوں اختلاف کیا تو اللہ نے یہ ان سے چھین لیا { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ } [الأنفال ١] ” وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
(١٧٩٨٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمَانَ الْجُعْفِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی حُیَیٌّ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَرَجَ یَوْمَ بَدْرٍ بِثَلاَثِمِائَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ مِنَ الْمُقَاتِلَۃِ کَمَا خَرَجَ طَالُوتُ فَدَعَا لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ خَرَجَ فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنَّہُمْ حُفَاۃٌ فَاحْمِلْہُمْ اللَّہُمَّ إِنَّہُمْ عُرَاۃٌ فَاکْسُہُمُ اللَّہُمَّ إِنَّہُمْ جِیَاعٌ فَأَشْبِعْہُمْ ۔ فَفَتَحَ اللَّہُ لَہُمْ یَوْمَ بَدْرٍ فَانْقَلَبُوا وَمَا مِنْہُمْ رَجُلٌ إِلاَّ وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَیْنِ وَاکْتَسَوْا وَشَبِعُوا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَانَتْ غَنَائِمُ بَدْرٍ کَمَا رَوَی عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ غَنِمَہَا الْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الآیَۃُ فِی سُورَۃِ الأَنْفَالِ فَلَمَّا تَشَاحُّوا عَلَیْہَا انْتَزَعَہَا اللَّہُ مِنْ أَیْدِیہِمْ بِقَوْلِہِ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } [الأنفال ١] الآیَۃَ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَانَتْ غَنَائِمُ بَدْرٍ کَمَا رَوَی عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ غَنِمَہَا الْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الآیَۃُ فِی سُورَۃِ الأَنْفَالِ فَلَمَّا تَشَاحُّوا عَلَیْہَا انْتَزَعَہَا اللَّہُ مِنْ أَیْدِیہِمْ بِقَوْلِہِ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } [الأنفال ١] الآیَۃَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٨٥) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف نکلے۔ دشمن سے آمنا سامنا ہوا۔ جب اللہ نے دشمن کو شکست دے دی تو مسلمان کے ایک لشکر نے دشمن کا پیچھا کیا۔ وہ ان کو قتل کرتا تھا اور ایک دستہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیرے میں لیے ہوئے تھا۔ ایک دستہ مال غنیمت اور لشکر پر قبضہ کررہا تھا۔ جب دشمن کا تعاقب کرنے والے لوٹے تو انھوں نے کہا : غنیمت ہمارے لیے ہیں کیونکہ ہم نے دشمن کا تعاقب کیا ہے اور ہمارے ذریعہ اللہ نے ان کو بھگا دیا اور ان کو شکست دی۔ جنہوں نے آپ کو گھیرے میں لے رکھا تھا انھوں نے کہا : تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو ؟ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیرے رکھا کہ کہیں ان کو دشمن کو نقصان نہ پہنچائے اور جنہوں نے مال غنیمت اور لشکر پر قبضہ کیا انھوں نے کہا : تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں۔ ہم نے اس پر قبضہ کیا اور اس کی حفاظت کی ہے تو اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل کی : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ } [الأنفال ١] ” وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ کچھ دیر بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت کو ان میں برابر تقسیم کردیا۔
(١٧٩٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی الأَشْدَقِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی بَدْرٍ فَلَقِیَ بِہَا الْعَدُوَّ فَلَمَّا ہَزَمَہُمُ اللَّہُ اتَّبَعَتْہُمْ طَائِفَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَقْتُلُونَہُمْ وَأَحْدَقَتْ طَائِفَۃٌ بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَۃٌ عَلَی النَّہْبِ وَالْعَسْکَرِ فَلَمَّا رَجَعَ الَّذِینَ طَلَبُوا الْعَدُوَّ قَالُوا لَنَا النَّفْلُ نَحْنُ طَلَبْنَا الْعَدُوَّ وَبِنَا نَفَاہُمُ اللَّہُ وَہَزَمَہُمْ وَقَالَ الَّذِینَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ مِنَّا بَلْ ہُوَ لَنَا نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یَنَالَہُ مِنَ الْعَدُوِّ غِرَّۃٌ وَقَالَ الَّذِینَ اسْتَوْلَوْا عَلَی الْعَسْکَرِ وَالنَّہْبِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ مِنَّا بَلْ ہُوَ لَنَا نَحْنُ اسْتَوْلَیْنَا عَلَیْہِ وَأَحْرَزْنَاہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی رَسُولِہِ عَلَیْہِ السَّلاَمُ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } [الأنفال ١] الآیَۃَ فَقَسَمَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَیْنَہُمْ عَنْ فَوَاقٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٨٦) حضرت ابو امامہ باہلی (رض) نے عبادہ بن صامت سے انفال کے بارے میں سوال کیا، اس کے آخر میں ہے کہ جب ہم نے اختلاف کیا اور ہمارا رویہ برا ہوگیا تو اللہ نے ہمارے ہاتھوں سے چھین لیا اور اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دیا۔ آپ نے اس کو لوگوں میں برابر تقسیم کردیا۔ یہ اللہ سے ڈر میں تھا اور اللہ اور رسول کی اطاعت میں لوگوں کے درمیان صلح کا طریقہ تھا۔ اللہ فرماتے ہیں : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ } [الأنفال ١]” وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔
ابن اسحاق کہتے ہیں : میں نے زہری (رض) سے سنا ہے، سورة انفال مکمل بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : غنیمت کا سارا مال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تھا۔ آپ نے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا اور اس میں آٹھ ایسے گروہ شامل کیے جو غزوہ میں موجود نہ تھے۔ جن کا تعلق مہاجرین و انصار سے تھا ایک مقام پر سات یا آٹھ کا ذکر ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں : میں نے زہری (رض) سے سنا ہے، سورة انفال مکمل بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : غنیمت کا سارا مال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تھا۔ آپ نے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا اور اس میں آٹھ ایسے گروہ شامل کیے جو غزوہ میں موجود نہ تھے۔ جن کا تعلق مہاجرین و انصار سے تھا ایک مقام پر سات یا آٹھ کا ذکر ہے۔
(١٧٩٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی الأَشْدَقِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ قَالَ : سَأَلَتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ الأَنْفَالِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ قَالَ فِی آخِرِہِ فَلَمَّا اخْتَلَفْنَا وَسَائَ تْ أَخْلاَقُنَا انْتَزَعَہُ اللَّہُ مِنْ أَیْدِینَا فَجَعَلَہُ إِلَی رَسُولِہِ فَقَسَمَہُ عَلَی النَّاسِ عَنْ بَوَائٍ فَکَانَ فِی ذَلِکَ تَقْوَی اللَّہِ وَطَاعَتُہُ وَطَاعَۃُ رَسُولِہِ وَصَلاَحُ ذَاتِ الْبَیْنِ یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّہَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ } [الأنفال ١]
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الزُّہْرِیَّ یَقُولُ : أُنْزِلَتْ سُورَۃُ الأَنْفَالِ بِأَسْرِہَا فِی أَہْلِ بَدْرٍ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَکَانَتْ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کُلَّہَا خَالِصًا وَقَسَمَہَا بَیْنَہُمْ وَأَدْخَلَ مَعَہُمْ ثَمَانِیَۃَ نَفَرٍ لَمْ یَشْہَدُوا الْوَقْعَۃَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ سَبْعَۃً أَوْ ثَمَانِیَۃً ۔
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الزُّہْرِیَّ یَقُولُ : أُنْزِلَتْ سُورَۃُ الأَنْفَالِ بِأَسْرِہَا فِی أَہْلِ بَدْرٍ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَکَانَتْ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کُلَّہَا خَالِصًا وَقَسَمَہَا بَیْنَہُمْ وَأَدْخَلَ مَعَہُمْ ثَمَانِیَۃَ نَفَرٍ لَمْ یَشْہَدُوا الْوَقْعَۃَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ سَبْعَۃً أَوْ ثَمَانِیَۃً ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٨٧) عروہ بن زبیر (رض) جنگ بدر میں جانے اور نہ جانے والوں کا ذکر کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ میں حاضر ہونے والوں کے لیے حصہ مقرر کیا اور جو غیر حاضر تھے ان میں سے عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس کو حصہ دیا۔ وہ اپنی بیوی رقیہ (رض) کی بیماری کی وجہ سے مدینہ میں رہے تھے۔ آپ نے ان کو ان کا حصہ دیا تو انھوں نے کہا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور میرا ثواب تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا ثواب بھی اور طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب یہ شام میں تھے۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر بات کی تو آپ ان کو بھی حصہ دیا تو انھوں نے ثواب کا مطالبہ کیا تو آپ نے کہا : تیرا ثواب بھی تجھے ملے گا۔
اور سعید بن زید عن عمرو بن نفیل یہ بھی شام سے آئے جب آپ مدینہ لوٹ چکے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حصہ دیا اور اجر وثواب کے بارے میں بھی کہا کہ ملے گا۔ یہ تینوں مہاجرین میں سے تھے اور انصار میں سے ابو لبابہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر کی طرف گئے۔ آپ نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ آپ نے ان کو بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن حاطب کو بھی آپ نے مدینہ بھیج دیا تھا۔ اس کو بھی حصہ دیا تھا۔ عاصم بن عدی بھی نکلے تھے مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو واپس کردیا تھا اور ان کو حصہ بھی دیا اور خوات بن جبیر بن نعمان کو بھی بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن صمہ جو کہ روحاء کے مقام پر زخمی ہوگئے تھے۔ آپ نے ان کو بھی حصہ دیا۔ ان سب کا تذکرہ محمد بن اسحاق بن یسار اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی کیا ہے مگر حارث بن حاطب کو مدینہ کی طرف واپس بھیجنے کا تذکرہ نہیں کیا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : آپ نے ان کو اپنے مال سے دیا اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : { وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ } [الأنفال ٤١] ” اور جان لو کہ بیشک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لیے ہے۔ “ یہ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔
اور سعید بن زید عن عمرو بن نفیل یہ بھی شام سے آئے جب آپ مدینہ لوٹ چکے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حصہ دیا اور اجر وثواب کے بارے میں بھی کہا کہ ملے گا۔ یہ تینوں مہاجرین میں سے تھے اور انصار میں سے ابو لبابہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر کی طرف گئے۔ آپ نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ آپ نے ان کو بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن حاطب کو بھی آپ نے مدینہ بھیج دیا تھا۔ اس کو بھی حصہ دیا تھا۔ عاصم بن عدی بھی نکلے تھے مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو واپس کردیا تھا اور ان کو حصہ بھی دیا اور خوات بن جبیر بن نعمان کو بھی بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن صمہ جو کہ روحاء کے مقام پر زخمی ہوگئے تھے۔ آپ نے ان کو بھی حصہ دیا۔ ان سب کا تذکرہ محمد بن اسحاق بن یسار اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی کیا ہے مگر حارث بن حاطب کو مدینہ کی طرف واپس بھیجنے کا تذکرہ نہیں کیا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : آپ نے ان کو اپنے مال سے دیا اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : { وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ } [الأنفال ٤١] ” اور جان لو کہ بیشک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لیے ہے۔ “ یہ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔
(١٧٩٨٧) أَخْبَرَنَاہُ أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ وَحَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ فِی تَسْمِیَۃِ مَنْ شَہِدَ بَدْرًا وَلَمْ یَشْہَدْہَا ثُمَّ ضَرَبَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمِہِ فَمِمَّنْ لَمْ یَشْہَدْہَا وَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ تَخَلَّفَ بِالْمَدِینَۃِ عَلَی امْرَأَتِہِ رُقَیَّۃَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَکَانَتْ وَجِعَۃً فَضَرَبَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمِہِ قَالَ وَأَجْرِی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : وَأَجْرُکَ ۔
وَطَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ کَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَیْمِ بْنِ مُرَّۃَ قَالَ کَانَ بِالشَّامِ فَقَدِمَ فَکَلَّمَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ قَالَ وَأَجْرِی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : وَأَجْرُکَ ۔
وَسَعِیدُ بْنُ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بَعْدَ مَا رَجَعَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی الْمَدِینَۃِ فَضَرَبَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمِہِ فَقَالَ وَأَجْرِی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : وَأَجْرُکَ ۔
فَہَؤُلاَئِ الثَّلاَثَۃِ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَأَمَّا مِنَ الأَنْصَارِ فَأَبُو لُبَابَۃَ خَرَجَ زَعَمُوا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی بَدْرٍ فَأَمَّرَہُ عَلَی الْمَدِینَۃِ وَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ رَجَعَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - زَعَمُوا إِلَی الْمَدِینَۃِ وَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ وَخَرَجَ عَاصِمُ بْنُ عَدِیٍّ فَرَدَّہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمٍ مَعَ أَہْلِ بَدْرٍ وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ النُّعْمَانِ ضَرَبَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمِہِ فِی أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّۃِ کُسِرَ بِالرَّوْحَائِ فَضَرَبَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمٍ ۔ وَذَکَرَہُمْ أَیْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ وَذَکَرَہُمْ أَیْضًا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرِ الْحَارِثَ بْنَ حَاطِبٍ فِی الرَّدِ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَإِنَّمَا أَعْطَاہُمْ مِنْ مَالِہِ وَإِنَّمَا نَزَلَتْ { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ } [الأنفال ٤١] بَعْدَ غَنِیمَۃِ بَدْرٍ ۔
وَطَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ کَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَیْمِ بْنِ مُرَّۃَ قَالَ کَانَ بِالشَّامِ فَقَدِمَ فَکَلَّمَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ قَالَ وَأَجْرِی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : وَأَجْرُکَ ۔
وَسَعِیدُ بْنُ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بَعْدَ مَا رَجَعَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی الْمَدِینَۃِ فَضَرَبَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمِہِ فَقَالَ وَأَجْرِی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : وَأَجْرُکَ ۔
فَہَؤُلاَئِ الثَّلاَثَۃِ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَأَمَّا مِنَ الأَنْصَارِ فَأَبُو لُبَابَۃَ خَرَجَ زَعَمُوا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی بَدْرٍ فَأَمَّرَہُ عَلَی الْمَدِینَۃِ وَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ رَجَعَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - زَعَمُوا إِلَی الْمَدِینَۃِ وَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ وَخَرَجَ عَاصِمُ بْنُ عَدِیٍّ فَرَدَّہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمٍ مَعَ أَہْلِ بَدْرٍ وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ النُّعْمَانِ ضَرَبَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمِہِ فِی أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّۃِ کُسِرَ بِالرَّوْحَائِ فَضَرَبَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمٍ ۔ وَذَکَرَہُمْ أَیْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ وَذَکَرَہُمْ أَیْضًا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرِ الْحَارِثَ بْنَ حَاطِبٍ فِی الرَّدِ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَإِنَّمَا أَعْطَاہُمْ مِنْ مَالِہِ وَإِنَّمَا نَزَلَتْ { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ } [الأنفال ٤١] بَعْدَ غَنِیمَۃِ بَدْرٍ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٨٨) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سورة انفال کے بارے میں بات کی تو انھوں نے فرمایا : یہ بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن جحش اور ابن حضرمی کے واقعہ جو دلیل لی جاتی ہے یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے اور ان آیات کے نزول سے پہلے کا ہے جبکہ ان کا واقعہ حرمت والے مہینوں کے آخر میں ہوا تو انھوں نے اس میں توقف کیا یہاں تک یہ آیت نازل ہوئی : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ} [البقرۃ ٢١٧] ” یہ تجھ سے حرمت والے مہینے میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے کہ اس میں لڑنا بہت بڑا ہے۔ “ اور امام اوزاعی کو اختلاف کرنے کے لیے کوئی راستہ نہیں۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ابن جحش کا قصہ جندب بن عبداللہ کی روایت میں ذکر ہوگیا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن جحش اور ابن حضرمی کے واقعہ جو دلیل لی جاتی ہے یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے اور ان آیات کے نزول سے پہلے کا ہے جبکہ ان کا واقعہ حرمت والے مہینوں کے آخر میں ہوا تو انھوں نے اس میں توقف کیا یہاں تک یہ آیت نازل ہوئی : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ} [البقرۃ ٢١٧] ” یہ تجھ سے حرمت والے مہینے میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے کہ اس میں لڑنا بہت بڑا ہے۔ “ اور امام اوزاعی کو اختلاف کرنے کے لیے کوئی راستہ نہیں۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ابن جحش کا قصہ جندب بن عبداللہ کی روایت میں ذکر ہوگیا ہے۔
(١٧٩٨٨) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : سُورَۃُ الأَنْفَالِ ۔ قَالَ : نَزَلَتْ فِی أَہْلِ بَدْرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ ہُشَیْمٍ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَأَمَّا مَا احْتُجَّ بِہِ مِنْ وَقْعَۃِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشٍ وَابْنِ الْحَضْرَمِیِّ فَذَلِکَ قَبْلَ بَدْرٍ وَقَبْلَ نُزُولِ الآیَۃِ وَکَانَتْ وَقْعَتُہُمْ فِی آخِرِ یَوْمٍ مِنَ الشَّہْرِ الْحَرَامِ فَتَوَقَّفُوا فِیمَا صَنَعُوا حَتَّی نَزَلَتْ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ} [البقرۃ ٢١٧] وَلَیْسَ مِمَّا خَالَفَ فِیہِ الأَوْزَاعِیُّ بِسَبِیلٍ ۔
قَالَ الشَّیْخ قَدْ ذَکَرْنَا قِصَّۃَ ابْنِ جَحْشٍ مِنْ رِوَایَۃِ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ ہُشَیْمٍ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَأَمَّا مَا احْتُجَّ بِہِ مِنْ وَقْعَۃِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشٍ وَابْنِ الْحَضْرَمِیِّ فَذَلِکَ قَبْلَ بَدْرٍ وَقَبْلَ نُزُولِ الآیَۃِ وَکَانَتْ وَقْعَتُہُمْ فِی آخِرِ یَوْمٍ مِنَ الشَّہْرِ الْحَرَامِ فَتَوَقَّفُوا فِیمَا صَنَعُوا حَتَّی نَزَلَتْ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ} [البقرۃ ٢١٧] وَلَیْسَ مِمَّا خَالَفَ فِیہِ الأَوْزَاعِیُّ بِسَبِیلٍ ۔
قَالَ الشَّیْخ قَدْ ذَکَرْنَا قِصَّۃَ ابْنِ جَحْشٍ مِنْ رِوَایَۃِ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٨٩) حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن جحش (رض) کو کھجوروں کے باغ کی طرف بھیجا اور کہا : ” تم وہاں رہو اور قریش کے بارے میں خبر دو ۔ “ آپ نے ان کو قتال کا حکم نہیں دیا تھا اور یہ حرمت والے مہینے کا واقعہ ہے اور ان کو ایک خط دیا اس سے پہلے کہ ان کو بتاتے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں اور کہا : ” اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جاؤ اور دو دن سفر کے بعد اس کو کھولنا اور دیکھنا میں نے تم کو کیا حکم دیا ہے اور اس پر عمل کرنا اور اپنے ساتھیوں کو اپنے ساتھ جانے پر مجبور نہ کرنا۔ “ جب انھوں نے دو دن سفر کرلیا تو خط کو کھولا اس میں تھا ” سفر جاری رکھو حتیٰ کہ کھجور کے باغ میں جاؤ اور جو قریش کے بارے میں تم کو پتہ چلے اس کی ہمیں خبر دو ۔ “
انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا سننا اور سن کر اطاعت کرنا ضروری ہے جو شہادت کا متلاشی ہے میرے ساتھ چلے۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے چلوں گا جو اس کو ناپسند کرے وہ واپس جاسکتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو تمہیں مجبور کرنے سے منع کیا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ چلے جب دو دریاؤں کے پاس پہنچے تو سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ گم ہوگیا وہ اس کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے۔ لوگ نکل گئے حتیٰ کہ کھجور کے باغ میں پہنچ گئے تو ان کے پاس سے عمرو بن حضرمی اور حکم بن کیسان عثمان اور مغیرہ گزرے۔ آخری دونوں عبداللہ کے بیٹے تھے۔ ان کے پاس مال تجارت بھی تھا۔ وہ طائف سے چمڑہ اور منقیٰ لائے تھے۔ جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو واقد بن عبداللہ نے ان کی نگرانی کی۔ انھوں نے اپنا سر منڈوایا ہوا تھا۔ جب انھوں نے دیکھا تو کہا : ان سے کوئی خوف نہیں ہے، یہ عمرہ کرنے والے ہیں تو ان لوگوں نے رجب کے آخری دن مشورہ کیا کہ اگر تم ان کو قتل کرتے ہو تو یہ حرمت کا مہینہ ہے اور اگر ان کو چھوڑو گے تو یہ لوگ آج رات حرم میں داخل ہوجائیں اور تمہارے لیے ان کا قتل ممنوع ہوگا لہٰذا لوگوں نے ان کو قتل کرنے پر اتفاق کیا۔ عمرو بن حضرمی کو واقد بن عبداللہ تیمی نے تیر مار کر قتل کردیا اور عثمان بن عبداللہ نے حکم بن کیسان کو قیدی بنا لیا جبکہ مغیرہ بھاگ گیا اور یہ لوگ اس کو نہ پکڑ سکے۔ انھوں نے قافلہ کو لیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے تو آپ نے ان سے کہا : ” اللہ کی قسم ! میں نے تم کو حرمت والے مہینے میں قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔ “ آپ نے قافلے اور اسیروں کو روکے رکھا۔ ان سے کچھ نہ لیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی باز پرس کی تو وہ نادم ہوئے اور انھوں نے خیال کیا کہ وہ ہلاک ہوگئے اور مسلمانوں نے ان کی سرزنش کی۔ جب قریش کو یہ خبر ملی تو انھوں نے کہا کہ محمد نے حرمت والے مہینے میں خون بہایا اور بندوں کو اس میں قید کیا اور مہینے کی حرمت کو پامال کیا ہے تو اللہ نے یہ آیات نازل کردیں : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ کُفْرٌ بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ اِخْرَاجُ اَھْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِ وَ الْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] ” تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے : اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستہ سے روکنا اور کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا (جرم) ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑا ہے۔ “ اللہ نے کہہ دیا کہ اللہ کا انکار کرنا قتال سے بڑا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قافلہ کو پکڑ لیا اور اسیروں پر فدیہ لگایا تو مسلمانوں نے کہا : کیا آپ اس کو ہمارے لیے غزوہ خیال کرتے ہیں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ جٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ } [البقرۃ ٢١٨] ” بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ “ یہ لوگ آٹھ تھے اور نویں ان کے امیر عبداللہ بن جحش تھے۔
انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا سننا اور سن کر اطاعت کرنا ضروری ہے جو شہادت کا متلاشی ہے میرے ساتھ چلے۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے چلوں گا جو اس کو ناپسند کرے وہ واپس جاسکتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو تمہیں مجبور کرنے سے منع کیا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ چلے جب دو دریاؤں کے پاس پہنچے تو سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ گم ہوگیا وہ اس کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے۔ لوگ نکل گئے حتیٰ کہ کھجور کے باغ میں پہنچ گئے تو ان کے پاس سے عمرو بن حضرمی اور حکم بن کیسان عثمان اور مغیرہ گزرے۔ آخری دونوں عبداللہ کے بیٹے تھے۔ ان کے پاس مال تجارت بھی تھا۔ وہ طائف سے چمڑہ اور منقیٰ لائے تھے۔ جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو واقد بن عبداللہ نے ان کی نگرانی کی۔ انھوں نے اپنا سر منڈوایا ہوا تھا۔ جب انھوں نے دیکھا تو کہا : ان سے کوئی خوف نہیں ہے، یہ عمرہ کرنے والے ہیں تو ان لوگوں نے رجب کے آخری دن مشورہ کیا کہ اگر تم ان کو قتل کرتے ہو تو یہ حرمت کا مہینہ ہے اور اگر ان کو چھوڑو گے تو یہ لوگ آج رات حرم میں داخل ہوجائیں اور تمہارے لیے ان کا قتل ممنوع ہوگا لہٰذا لوگوں نے ان کو قتل کرنے پر اتفاق کیا۔ عمرو بن حضرمی کو واقد بن عبداللہ تیمی نے تیر مار کر قتل کردیا اور عثمان بن عبداللہ نے حکم بن کیسان کو قیدی بنا لیا جبکہ مغیرہ بھاگ گیا اور یہ لوگ اس کو نہ پکڑ سکے۔ انھوں نے قافلہ کو لیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے تو آپ نے ان سے کہا : ” اللہ کی قسم ! میں نے تم کو حرمت والے مہینے میں قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔ “ آپ نے قافلے اور اسیروں کو روکے رکھا۔ ان سے کچھ نہ لیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی باز پرس کی تو وہ نادم ہوئے اور انھوں نے خیال کیا کہ وہ ہلاک ہوگئے اور مسلمانوں نے ان کی سرزنش کی۔ جب قریش کو یہ خبر ملی تو انھوں نے کہا کہ محمد نے حرمت والے مہینے میں خون بہایا اور بندوں کو اس میں قید کیا اور مہینے کی حرمت کو پامال کیا ہے تو اللہ نے یہ آیات نازل کردیں : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ کُفْرٌ بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ اِخْرَاجُ اَھْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِ وَ الْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] ” تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے : اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستہ سے روکنا اور کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا (جرم) ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑا ہے۔ “ اللہ نے کہہ دیا کہ اللہ کا انکار کرنا قتال سے بڑا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قافلہ کو پکڑ لیا اور اسیروں پر فدیہ لگایا تو مسلمانوں نے کہا : کیا آپ اس کو ہمارے لیے غزوہ خیال کرتے ہیں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ جٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ } [البقرۃ ٢١٨] ” بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ “ یہ لوگ آٹھ تھے اور نویں ان کے امیر عبداللہ بن جحش تھے۔
(١٧٩٨٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَبْدَ اللَّہِ بْنَ جَحْشٍ إِلَی نَخْلَۃَ فَقَالَ لَہُ : کُنْ بِہَا حَتَّی تَأْتِیَنَا بِخَبَرٍ مِنْ أَخْبَارِ قُرَیْشٍ ۔ وَلَمْ یَأْمُرْہُ بِقِتَالٍ وَذَلِکَ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَکَتَبَ لَہُ کِتَابًا قَبْلَ أَنْ یُعْلِمَہُ أَیْنَ یَسِیرُ فَقَالَ : اخْرُجْ أَنْتَ وَأَصْحَابُکَ حَتَّی إِذَا سِرْتَ یَوْمَیْنِ فَافْتَحْ کِتَابَکَ وَانْظُرْ فِیہِ فَمَا أَمَرْتُکَ بِہِ فَامْضِ لَہُ وَلاَ تَسْتَکْرِہَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِکَ عَلَی الذَّہَابِ مَعَکَ ۔ فَلَمَّا سَارَ یَوْمَیْنِ فَتَحَ الْکِتَابَ فَإِذَا فِیہِ : أَنِ امْضِ حَتَّی تَنْزِلَ نَخْلَۃَ فَتَأْتِیَنَا مِنْ أَخْبَارِ قُرَیْشٍ بِمَا یَصِلُ إِلَیْکَ مِنْہُمْ ۔ فَقَالَ لأَصْحَابِہِ حِینَ قَرَأَ الْکِتَابَ : سَمْعٌ وَطَاعَۃٌ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ لَہُ رَغْبَۃٌ فِی الشَّہَادَۃِ فَلْیَنْطَلِقْ مَعِی فَإِنِّی مَاضٍ لأَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَنْ کَرِہَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَلْیَرْجِعْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدْ نَہَانِی أَنْ أَسْتَکْرِہَ مِنْکُمْ أَحَدًا فَمَضَی مَعَہُ الْقَوْمُ حَتَّی إِذَا کَانَ بِبَحْرَانِ أَضَلَّ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ وَعُتْبَۃُ بْنُ غَزْوَانَ بَعِیرًا لَہُمَا کَانَا یَعْتَقِبَانِہِ فَتَخَلَّفَا عَلَیْہِ یَطْلُبَانِہِ وَمَضَی الْقَوْمُ حَتَّی نَزَلُوا نَخْلَۃَ فَمَرَّ بِہِمْ عَمْرُو بْنُ الْحَضْرَمِیِّ وَالْحَکَمُ بْنُ کَیْسَانَ وَعُثْمَانُ وَالْمُغِیرَۃُ ابْنَا عَبْدِ اللَّہِ مَعَہُمْ تِجَارَۃٌ قَدِمُوا بِہَا مِنَ الطَّائِفِ أَدَمٌ وَزَبِیبٌ فَلَمَّا رَآہُمُ الْقَوْمُ أَشْرَفَ لَہُمْ وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَکَانَ قَدْ حَلَقَ رَأْسَہُ فَلَمَّا رَأَوْہُ حَلِیقًا قَالُوا عَمَّارٌ لَیْسَ عَلَیْکُمْ مِنْہُمْ بَأْسٌ وَائْتَمَرَ الْقَوْمُ بِہِمْ یَعْنِی أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی آخِرِ یَوْمٍ مِنْ رَجَبٍ فَقَالُوا : لَئِنْ قَتَلْتُمُوہُمْ إِنَّکُمْ لَتَقْتُلُونَہُمْ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَلَئِنْ تَرَکْتُمُوہُمْ لَیَدْخُلُنَّ فِی ہَذِہِ اللَّیْلَۃِ الْحَرَمَ فَلْیَمْتَنِعُنَّ مِنْکُمْ فَأَجْمَعَ الْقَوْمُ عَلَی قَتْلِہِمْ فَرَمَی وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التَّمِیمِیُّ عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِیِّ بِسَہْمٍ فَقَتَلَہُ وَاسْتَأْسَرَ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَالْحَکَمَ بْنَ کَیْسَانَ وَہَرَبَ الْمُغِیرَۃُ فَأَعْجَزَہُمْ وَاسْتَاقُوا الْعِیرَ فَقَدِمُوا بِہَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لَہُمْ : وَاللَّہِ مَا أَمَرْتُکُمْ بِالْقِتَالِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ ۔ فَأَوْقَفَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الأَسِیرَیْنِ وَالْعِیرَ فَلَمْ یَأْخُذْ مِنْہَا شَیْئًا فَلَمَّا قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا قَالَ أُسْقِطَ فِی أَیْدِیہِمْ وَظَنُّوا أَنْ قَدْ ہَلَکُوا وَعَنَّفَہُمْ إِخْوَانُہُمْ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَقَالَتْ قُرَیْشٌ حِینَ بَلَغَہُمْ أَمْرُ ہَؤُلاَئِ قَدْ سَفَکَ مُحَمَّدٌ الدَّمَ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَأَخَذَ فِیہِ الْمَالَ وَأَسَرَ فِیہِ الرِّجَالَ وَاسْتَحَلَّ الشَّہْرَ الْحَرَامَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی فِی ذَلِکَ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِیلِ اللَّہِ وَکُفْرٌ بِہِ والْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَہْلِہِ مِنْہُ أَکْبَرُ عِنْدَ اللَّہِ وَالْفِتْنَۃُ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] یَقُولُ الْکُفْرُ بِاللَّہِ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ فَلَمَّا نَزَلَ ذَلِکَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْعِیرَ وَفَدَی الأَسِیرَیْنِ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ أَتَطْمَعُ لَنَا أَنْ تَکُونَ غَزْوَۃً فَأَنْزَلَ اللَّہُ فِیہِمْ {إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا } [البقرۃ ٢١٨] إِلَی قَوْلِہِ { أُولَئِکَ یَرْجُونَ رَحْمَۃَ اللَّہِ } [البقرۃ ٢١٨] إِلَی آخِرِ الآیَۃِ وَکَانُوا ثَمَانِیَۃً وَأَمِیرُہُمُ التَّاسِعُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَحْشٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا
(١٧٩٩٠) موسیٰ بن عقبہ عبداللہ بن جحش کے اسی واقعہ کو نقل فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بدر کے معرکہ سے دو ماہ پہلے رجب میں پیش آیا اور اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ یہ واقعہ عنیمتوں کی تقسیم کے بارے میں نازل ہونے والی آیت سے پہلے کا ہے۔
(١٧٩٩٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ فَذَکَرَ قِصَّۃَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشٍ بِمَعْنَی ہَذَا قَالَ وَذَلِکَ فِی رَجَبٍ قَبْلَ بَدْرٍ بِشَہْرَیْنِ وَفِی ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ قَبْلَ نُزُولِ الآیَۃِ فِی الْغَنَائِمِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کا کھانے کا انتظام کرنا اور جانوروں کے لیے چارہ حاصل کرنا
(١٧٩٩١) عبداللہ بن مغفل فرماتے ہیں : ہم نے خیبر کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ اسی اثناء میں ایک آدمی نے ایک تھیلی پھینکی۔ میں نے وہ پکڑ لی جب پلٹا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سامنے تھے تو مجھے حیا آیا۔
(١٧٩٩١) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْرَزِ : مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِیلٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِیُّ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ عَنْ شُعْبَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مُحَاصِرِی خَیْبَرَ فَرَمَی إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فَأَخَذْتُہُ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَاسْتَحْیَیْتُ مِنْہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مُحَاصِرِی خَیْبَرَ فَرَمَی إِنْسَانٌ بِجِرَابٍ فَأَخَذْتُہُ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَاسْتَحْیَیْتُ مِنْہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کا کھانے کا انتظام کرنا اور جانوروں کے لیے چارہ حاصل کرنا
(١٧٩٩٢) عبداللہ بن مغفل (رض) فرماتے ہیں کہ چربی کی ایک تھیلی لٹکائی گئی۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور اپنے قبضہ میں لے لیا اور کہا : یہ میری ہے کسی کو اس میں سے نہیں دوں گا۔ جب میں پلٹا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سامنے پایا تو مجھے شرم آئی۔
سلیمان کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ تیری ہے۔ “ جبکہ شعبہ کی روایت میں نہیں ہے۔
سلیمان کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ تیری ہے۔ “ جبکہ شعبہ کی روایت میں نہیں ہے۔
(١٧٩٩٢) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَسُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ الْقَیْسِیُّ کِلاَہُمَا عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ الْعَدَوِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْمُغَفَّلِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : دُلِّیَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ یَوْمَ خَیْبَرَ فَأَخَذْتُہُ فَالْتَزَمْتُہُ فَقُلْتُ ہَذَا لِی لاَ أُعْطِی أَحَدًا مِنْہُ شَیْئًا فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَاسْتَحْیَیْتُ مِنْہُ
قَالَ سُلَیْمَانُ فِی حَدِیثِہِ وَلَیْسَ فِی حَدِیثِ شُعْبَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : ہُوَ لَکَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ أَبِی دَاوُدَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح ]
قَالَ سُلَیْمَانُ فِی حَدِیثِہِ وَلَیْسَ فِی حَدِیثِ شُعْبَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : ہُوَ لَکَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ أَبِی دَاوُدَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کا کھانے کا انتظام کرنا اور جانوروں کے لیے چارہ حاصل کرنا
(١٧٩٩٣) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ غزوات میں ہمیں شہد اور پھل ملتے تھے ہم ان کو کھالیتے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہیں لاتے تھے۔ بخاری کی روایت میں شہد اور انگور کا ذکر ہے۔
(١٧٩٩٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ وَہُوَ ابْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کُنَّا نُصِیبُ فِی الْمَغَازِی الْعَسَلَ وَالْفَاکِہَۃَ فَنَأْکُلُہُ وَلاَ نَرْفَعُہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ حَمَّادٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : الْعَسَلَ وَالْعِنَبَ ۔ [صحیح ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ حَمَّادٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : الْعَسَلَ وَالْعِنَبَ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০০০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کا کھانے کا انتظام کرنا اور جانوروں کے لیے چارہ حاصل کرنا
(١٧٩٩٤) حماد بن زید کہتے ہیں : غزوات میں ہمیں جو شہد یا گھی ملتا ہم اس کو کھالیتے تھے۔
(١٧٩٩٤) وَرَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : کُنَّا نَأْتِی الْمَغَازِیَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَنُصِیبُ الْعَسَلَ وَالسَّمْنَ فَنَأْکُلُہُ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْبَاقِی بْنُ قَانِعٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ فَذَکَرَہُ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০০১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کا کھانے کا انتظام کرنا اور جانوروں کے لیے چارہ حاصل کرنا
(١٧٩٩٥) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایک لشکر غنیمت میں شہد اور کھانا لایا تو اس میں سے خمس نہیں لیا گیا۔
(١٧٩٩٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا الزُّبَیْرِیُّ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَمْزَۃَ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ جَیْشًا غَنِمُوا فِی زَمَانِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - طَعَامًا وَعَسَلاً فَلَمْ یُؤْخَذْ مِنْہُمُ الْخُمُسُ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০০২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کا کھانے کا انتظام کرنا اور جانوروں کے لیے چارہ حاصل کرنا
(١٧٩٩٦) عثمان بن حکم جزامی نے یہ روایت نافع سے نقل کی ہے اور ابن عمر (رض) کا ذکر نہیں کیا کہ نافع کہتے ہیں : ایک لشکر نے غنیمت کا مال حاصل کیا۔
(١٧٩٩٦) وَرَوَاہُ عُثْمَانُ بْنُ الْحَکَمِ الْجُذَامِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ جَیْشًا غَنِمُوا دُونَ ذِکْرِ ابْنِ عُمَرَ فِیہِ
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُثْمَانُ بْنُ الْحَکَمِ الْجُذَامِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَذَکَرَہُ مُرْسَلاً ۔ [منکر ]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عُثْمَانُ بْنُ الْحَکَمِ الْجُذَامِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَذَکَرَہُ مُرْسَلاً ۔ [منکر ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০০৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کا کھانے کا انتظام کرنا اور جانوروں کے لیے چارہ حاصل کرنا
(١٧٩٩٧) محمد بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ مجھے مسجد والوں نے ابن ابی اوفی کی طرف بھیجا کہ میں ان سے دریافت کروں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے کھانوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا تو میں ان کے پاس آیا اور سوال کیا تو میں نے کہا : کیا خمس نکالا تھا ؟ تو انھوں نے فرمایا : نہیں کیونکہ وہ اس سے کم تھا اور ہم ضرورت کے مطابق اس سے لے لیتے تھے۔
(١٧٩٩٧) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا الشَّیْبَانِیُّ وَأَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی الْمُجَالِدِ قَالَ : بَعَثَنِی أَہْلُ الْمَسْجِدِ إِلَی ابْنِ أَبِی أَوْفَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَسْأَلُہُ مَا صَنَعَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی طَعَامِ خَیْبَرَ فَأَتَیْتُہُ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ فَقُلْتُ : ہَلْ خَمَّسَہُ ؟ قَالَ : لاَ کَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِکَ وَکَانَ أَحَدُنَا إِذَا أَرَادَ مِنْہُ شَیْئًا أَخَذَ مِنْہُ حَاجَتَہُ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০০৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کا کھانے کا انتظام کرنا اور جانوروں کے لیے چارہ حاصل کرنا
(١٧٩٩٨) ابو برزہ اسلمی کہتے ہیں : عرب کہا کرتے تھے کہ جو روٹی کھائے کا وہ موٹا ہوجائے گا۔ جب ہم نے خیبر فتح کیا اور ہم نے ان کو قتل کردیا اور ان کا کھانا لے لیا۔ میں اس پر بیٹھ گیا اور اس سے سیر ہو کر کھایا۔ پھر میں اپنے جسم کو دیکھا کرتا تھا کہ کیا موٹا ہوا ہوں۔
(١٧٩٩٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُؤَمَّلُ بْنُ ہِشَامٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَتِ الْعَرَبُ تَقُولُ مَنْ أَکَلَ الْخُبْزَ سَمِنَ فَلَمَّا فَتَحْنَا خَیْبَرَ أَجْہَضْنَاہُمْ عَنْ خُبْزَۃٍ لَہُمْ فَقَعَدْتُ عَلَیْہَا فَأَکَلْتُ مِنْہَا حَتَّی شَبِعْتُ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ فِی عِطْفَیَّ ہَلْ سَمِنْتُ ۔ کَذَا قَالَ عَنْ یُونُسَ وَقَالَ غَیْرُہُ عَنْ أَیُّوبَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০০৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کا کھانے کا انتظام کرنا اور جانوروں کے لیے چارہ حاصل کرنا
(١٧٩٩٩) سلمان کے خادم سوید کہتے کہ ان کو لڑائی میں ٹوکری ملی۔ وہ انھوں نے سلمان (رض) کو دی تو انھوں نے اس کو کھولا تو اس میں سفید کھانا اور پنیر تھا تو سلمان نے اس سے کھایا۔
(١٧٩٩٩) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ سُوَیْدٍ خَادِمِ سَلْمَانَ : أَنَّہُ أَصَابَ سَلَّۃً یَعْنِی فِی غَزْوِہِمْ فَقَرَّبَہَا إِلَی سَلْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَفَتَحَہَا فَإِذَا فِیہَا حُوَّارَی وَجُبْنٌ فَأَکَلَ سَلْمَانُ مِنْہَا۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০০৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دار الحرب میں طعام کی خریدو فروخت کا حکم
(١٨٠٠٠) خالد بن دریک کہتے ہیں : میں نے محیریز سے پوچھا : کیا روم کے علاقہ میں طعام اور جانوروں کے چارہ وغیر فروخت ہوسکتے ہیں تو انھوں نے کہا : میں فضالہ بن عبید سے سنا وہ کہتے تھے : کچھ لوگ مجھے میرے دین سے پھسلانا چاہتے ہیں۔ یہ نہیں ہوگا حتیٰ کہ مجھے موت آجائے۔ میں محمد اور اس کے ساتھیوں سے ملوں۔ مال غنیمت میں سے جو کوئی روم کے علاقہ میں خریدو فروخت کرے گا غلے اور طعام کی اس میں اللہ کا خمس بھی ہے اور مسلمانوں کا مال فیٔ بھی ہے۔
(١٨٠٠٠) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ حَدَّثَنِی أَسِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ خَالِدِ بْنِ الدُّرَیْکِ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ مُحَیْرِیزٍ عَنْ بَیْعِ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ بِأَرْضِ الرُّومِ فَقَالَ سَمِعْتُ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : إِنَّ رِجَالاً یُرِیدُونَ أَنْ یُزِیلُونِی عَنْ دِینِی وَاللَّہِ لاَ یَکُونُ ذَلِکَ حَتَّی أَلْقَی مُحَمَّدًا - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابَہُ مَنْ بَاعَ طَعَامًا أَوْ عَلَفًا بِأَرْضِ الرُّومِ مِمَّا أَصَابَ مِنْہَا بِذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ فَفِیہِ خُمُسُ اللَّہِ وَفَیْئُ الْمُسْلِمِینَ ۔ [صحیح ]
তাহকীক: