আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮০০৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دار الحرب میں طعام کی خریدو فروخت کا حکم
(١٨٠٠١) فضالہ بن عبید (رض) فرماتے ہیں : کچھ لوگ مجھے میرے دین سے پھیرنا چاہتے ہیں اور اللہ کی قسم ! میں مرنے تک اسی پر رہنے کی امید کرتا ہوں۔ کوئی بھی چیز جس کو سونے یا چاندی کے بدلہ میں فروخت کیا جائے اس میں اللہ کا خمس اور مسلمانوں کا حصہ ہے۔
(١٨٠٠١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ حَدَّثَنِی خَالِدُ بْنُ دُرَیْکٍ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ إِنَّ نَاسًا یُرِیدُونَ أَنْ یَسْتَزِلُّونِی عَنْ دِینِی وَإِنِّی وَاللَّہِ لأَرْجُو أَنْ لاَ أَزَالَ عَلَیْہِ حَتَّی أَمُوتَ مَا کَانَ مِنْ شَیْئٍ بِیعَ بِذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ فَفِیہِ خُمُسُ اللَّہِ وَسِہَامُ الْمُسْلِمِینَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০০৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دار الحرب میں طعام کی خریدو فروخت کا حکم
(١٨٠٠٢) ہانی بن کلثوم فرماتے ہیں : شام کو فتح کرنے کے بعد لشکر کے امیر نے عمر (رض) کو لکھا : ہم نے طعام کی کثرت اور مویشیوں کے چارہ کی کثرت والے علاقہ کو فتح کیا ہے۔ میں آپ کے حکم کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا، لہٰذا آپ ہمارے لیے احکامات لکھ دیں تو حضرت عمر (رض) نے لکھا : لوگوں کو کھانے سے اور چارہ حاصل کرنے سے نہ روکو اور جو چیز سونے چاندی کے عوض فروخت کی جائے اس میں خمس بھی ہوگا مسلمانوں کا حصہ بھی ہوگا۔
(١٨٠٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُقْبِلِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ عَنْ ہَانِئِ بْنِ کُلْثُومٍ : أَنَّ صَاحِبَ جَیْشِ الشَّامِ حِینَ فُتِحَتِ الشَّامُ کَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّا فَتَحْنَا أَرْضًا کَثِیرَۃَ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ فَکَرِہْتُ أَنْ أَتَقَدَّمَ فِی شَیْئٍ مِنْ ذَلِکَ إِلاَّ بِأَمْرِکَ فَاکْتُبْ إِلَیَّ بِأَمْرِکَ فِی ذَلِکَ فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ دَعِ النَّاسَ یَأْکُلُونَ وَیَعْلِفُونَ فَمَنْ بَاعَ شَیْئًا بِذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ فَفِیہِ خُمُسُ اللَّہِ وَسِہَامُ الْمُسْلِمِینَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০০৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دارالحرب میں کھانا وغیرہ باقی بچ جائے
(١٨٠٠٣) عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں : ہم نے قنسرین شہر کا شرحبیل بن سمط کے ساتھ مل کر محاصرہ کیا۔ جب اس کو فتح کرلیا تو ہمیں غنیمت کا مال ملا اور جانور (بکریاں اور گائے) بھی ملے تو انھوں نے اس کا کچھ حصہ ہمیں تقسیم کر کے دے دیا۔ باقی ماندہ کو مال غنیمت میں داخل کردیا۔ میں نے معاذ بن جبل (رض) کے پاس اس کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خیبر کی جنگ میں تھے۔ آپ مال غنیمت کا ایک حصہ ہمارے درمیان تقسیم کیا اور باقی کو مال غنیمت میں داخل کردیا۔
(١٨٠٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یَحْیَی بْنِ حَمْزَۃَ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ الْعَزِیزِ شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ الأُرْدُنِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ : رَابَطْنَا مَدِینَۃَ قِنَّسْرِینَ مَعَ شُرَحْبِیلَ بْنِ السِّمْطِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا فَتَحَہَا أَصَابَ فِیہَا غَنَمًا وَبَقَرًا فَقَسَمَ فِینَا طَائِفَۃً مِنْہَا وَجَعَلَ بَقِیَّتَہَا فِی الْمَغْنَمِ فَلَقِیتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَحَدَّثْتُہُ فَقَالَ مُعَاذٌ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِخَیْبَرَ فَأَصَبْنَا فِیہَا غَنَمًا فَقَسَمَ فِینَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - طَائِفَۃً وَجَعَلَ بَقِیَّتَہَا فِی الْمَغْنَمِ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دارالحرب میں کھانا وغیرہ باقی بچ جائے
(١٨٠٠٤) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے دن فرمایا : ” کھاؤ اور جانوروں کے لیے حاصل کرو اور اٹھا کر نہ لے جاؤ۔ “
(١٨٠٠٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِیلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْفُضَیْلِ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَشْجَعِیِّ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ خَیْبَرَ : کُلُوا وَاعْلِفُوا وَلاَ تَحْتَمِلُوا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دارالحرب میں کھانا وغیرہ باقی بچ جائے
(١٨٠٠٥) عبیداللہ بن عمر نے مذکورہ روایت کو ہی نقل کیا ہے مگر مرسل ہے۔
(١٨٠٠٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَذَکَرَہٗ مُرْسَلاً ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دارالحرب میں کھانا وغیرہ باقی بچ جائے
(١٨٠٠٦) عبدالرحمن کے مولی قاسم اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم غزوات میں گوشت کھاتے تھے اور تقسیم نہیں کرتے تھے۔ جب ہم گھروں کو آتے تو ہماری تھیلیاں اس سے بھری ہوتی تھیں۔
(١٨٠٠٦) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ الْحَافِظُ ، أَنْبَأَ أَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ الحافظ، انبأ أبو عبد اللہ محمد بن یعقوب الحافظ، ثنا یحییٰ بن محمد بن یحییٰ، ثنا مسدد، ثنا ہشیم، أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ ابْنَ حَرْشَفٍ الأَزْدِیَّ حَدَّثَہُ عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : کُنَّا نَأْکُلُ الْجَزْرَ فِی الْغَزْوِ وَلاَ نَقْسِمُہُ حَتَّی إِنْ کُنَّا لَنَرْجِعُ إِلَی رِحَالِنَا وَأَخْرِجَتُنَا مِنْہُ مُمْلأَۃٌ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دارالحرب میں کھانا وغیرہ باقی بچ جائے
(١٨٠٠٧) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بعض لوگوں سے روایت بیان کی گئی ہے جس طرح میں کہتا ہوں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دی ہے کہ دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت کھالیں، لیکن اس میں سے کچھ نہ نکالو۔ اگر یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہوجائے تو اس کی موجودگی میں دوسری کوئی دلیل نہیں ہے اور اگر یہ ثابت نہ ہو کیونکہ اس میں ایک مجہول ہے اور اسی طرح جن راویوں نے اس کا اعلال بیان کیا ہے اس میں بھی مجہول ہے۔

شیخ فرماتے ہیں : امام شافعی کی اول سے مراد حدیث واقدی ہے اور دوسری وہ جو ہم نے بعد میں ذکر کی ہے۔
(١٨٠٠٧) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ یُرْوَی مِنْ حَدِیثِ بَعْضِ النَّاسِ مِثْلَمَا قُلْتُ مِنْ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَذِنَ لَہُمْ أَنْ یَأْکُلُوا فِی بِلاَدِ الْعَدُوِّ وَلاَ یَخْرُجُوا بِشَیْئٍ مِنَ الطَّعَامِ فَإِنْ کَانَ مِثْلَ ہَذَا یَثْبُتُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلاَ حُجَّۃَ لأَحَدٍ مَعَہُ وَإِنْ کَانَ لاَ یَثْبُتُ لأَنَّ فِی رِجَالِہِ مَنْ یُجْہَلُ فَکَذَلِکَ فِی رِجَالِ مَنْ رُوِی عَنْہُ إِحْلاَلُہُ مَنْ یُجْہَلُ ۔ [صحیح ]

قَالَ الشَّیْخُ وَکَأَنَّہُ أَرَادَ بِالأَوَّلِ حَدِیثَ الْوَاقِدِیِّ وَأَرَادَ بِالثَّانِی مَا ذَکَرْنَا بَعْدَہُ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دارالحرب میں کھانا وغیرہ باقی بچ جائے
(١٨٠٠٨) ابو حمزہ عطار نے حسن سے سوال کیا : اے ابو سعید ! میں ایسا آدمی ہوں جس کی تجارت کا مقام (ابلہ) کی جگہ ہے۔ میں اپنا کھانے بھر لیتا ہوں۔ پھر دشمن کے علاقہ میں جاتا ہوں اور وہاں خشک اور تر کھجور کھاتا ہوں۔ اس کو آپ کیسا دیکھتے ہو ؟ تو حسن نے کہا : ہم عبدالرحمن بن سمرہ کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی بھی موجود تھے۔ جب وہ پھلوں کی طرف چڑھتے تو اس سے کھالیتے تھے مگر خراب نہیں کرتے تھے اور نہ ساتھ اٹھاتے تھے۔
(١٨٠٠٨) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ الْعَطَّارُ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ : یَا أَبَا سَعِیدٍ إِنِّی امْرُؤٌ مَتْجَرِی بِالأُبُلَّۃِ وَإِنِّی أَمْلأُ بَطْنِی مِنَ الطَّعَامِ فَأَصْعَدُ إِلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ فَآکُلُ مِنْ تَمْرِہِ وَبُسْرِہِ فَما تَرَی ؟

قَالَ الْحَسَنُ : غَزَوْتُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانُوا إِذَا صَعِدُوا إِلَی الثِّمَارِ أَکَلُوا مِنْ غَیْرِ أَنْ یُفْسِدُوا أَوْ یَحْمِلُوا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے طعام سے تقسیم سے پہلے لینا منع ہے
(١٨٠٠٩) رافع بن خدیج (رض) فرماتے ہیں : ہم ذی الحلیفہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ لوگوں کو شدید بھوک لگی۔ ہمیں کچھ اونٹ اور بکریاں ملیں۔ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکر کے آخر میں تھے تو لوگوں نے جلدی کی اور انھوں نے جانور ذبح کیا اور ہنڈیاں چڑھا دیں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو آپ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو ہنڈیاں الٹا دیں گئیں۔ پھر آپ ان کو تقسیم کیا، ایک اونٹ کے برابر دس بکریاں رکھی گئیں۔
(١٨٠٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ عَنْ جَدِّہِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِذِی الْحُلَیْفَۃِ فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ فَأَصَبْنَا إِبِلاً وَغَنَمًا وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی أُخْرَیَاتِ النَّاسِ فَعَجِلُوا فَذَبَحُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ فَدُفِعَ إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُکْفِئَتْ ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِیرٍ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے طعام سے تقسیم سے پہلے لینا منع ہے
(١٨٠١٠) انصار کا ایک آدمی کہتا ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر پر نکلے۔ لوگوں کو مسلسل کام کی وجہ سے کھانے کی سخت حاجت ہوئی۔ ان کو کچھ بکریاں مال غنیمت میں ملیں ان لوگوں نے ان میں سے کچھ لیا اور اس وقت ہنڈیاں پک رہی تھیں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو آپ اپنے گھوڑے پر چل رہے تھے اور اپنی کمان سے ہنڈیوں کو الٹا رہے تھے اور گوشت میں مٹی ملا رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا : ” لوٹی ہوئی مردار سے زیادہ حلال نہیں ہے “ یا فرمایا : ” مردار لوٹی ہوئی چیز سے زیادہ حلال نہیں ہے۔ “ یعنی یہ دونوں حرام ہیں۔
(١٨٠١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی سَفَرٍ فَأَصَابَ النَّاسَ حَاجَۃٌ شَدِیدَۃٌ وَجَہْدٌ فَأَصَابُوا غَنَمًا فَانْتَہَبُوہَا وَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِی إِذْ جَائَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَمْشِی عَلَی فَرَسِہِ فَأَکْفَأَ قُدُورَنَا بِقَوْسِہِ ثُمَّ جَعَلَ یُرَمِّلُ اللَّحْمَ بِالتُّرَابِ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ النُّہْبَۃَ لَیْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ الْمَیْتَۃِ ۔ أَوْ : إِنَّ الْمَیْتَۃَ لَیْسَتَ بِأَحَلَّ مِنَ النُّہْبَۃِ ۔ الشَّکُّ مِنْ ہَنَّادٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اجازت کے بغیر مال غنیمت سے اسلحہ وغیرہ لینا
(١٨٠١١) رویفع بن ثابت انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کے دن فرمایا : ” جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنا پانی غیر کے بچے کو نہ پلائے اور وہ جو اللہ پر آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ غنیمت کے مال سے کوئی جانور نہ لے۔ اگر لے اور اس کو بوڑھا کر دے پھر بھی وہ اس کو غنیمت کے مال میں واپس کرے گا اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ غنیمت سے کچھ لباس نہ پہنے۔ اگر لے کر اس کو بوسیدہ بھی کر دے تو وہ اس کو غنیمت کے مال میں واپس کرے گا۔
(١٨٠١١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْمُقْرِئُ وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ الْمِصْرِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ سُلَیْمٍ التُّجِیبِیِّ عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ السَّبَئِیِّ عَنْ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ قَالَ عَامَ حُنَیْنٍ : مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلاَ یَسْقِیَنَّ مَائَ ہُ وَلَدَ غَیْرِہِ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلاَ یَأْخُذَنَّ دَابَّۃً مِنَ الْمَغَانِمِ فَیَرْکَبَہَا حَتَّی إِذَا نَقَضَہَا رَدَّہَا فِی الْمَغَانِمِ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلاَ یَلْبَسَنَّ شَیْئًا مِنَ الْمَغَانِمِ حَتَّی إِذَا أَخْلَقَہُ رَدَّہُ فِی الْمَغَانِمِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اجازت کے بغیر مال غنیمت سے اسلحہ وغیرہ لینا
(١٨٠١٢) عبداللہ بن شقیق بلقین کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ اس وقت آپ قریٰ کی وادی میں تھے۔ اس نے غنیمت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے۔ باقی چار حصے لشکر کے لیے ہیں۔ اس نے کہا : کیا کسی کو کسی پر فوقیت ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں حتیٰ کہ وہ تیر جس کو تم اپنے پہلو سے نکالو، اس میں بھی تم اپنے بھائی سے زیادہ حق نہیں رکھتے۔
(١٨٠١٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ وَخَالِدٍ وَالزُّبَیْرِ بْنِ الْخِرِّیتِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقَیْنِ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ بِوَادِی الْقُرَی فَقُلْتُ : مَا تَقُولُ فِی الْغَنِیمَۃِ ؟ قَالَ : لِلَّہِ خُمُسُہَا وَأَرْبَعَۃُ أَخْمَاسٍ لِلْجَیْشِ ۔ قُلْتُ : فَمَا أَحَدٌ أَوْلَی بِہِ مِنْ أَحَدٍ ؟ قَالَ : لاَ وَلاَ السَّہْمُ تَسْتَخْرِجُہُ مِنْ جَنْبِکَ لَیْسَ أَنْتَ أَحَقَّ بِہِ مِنْ أَخِیکَ الْمُسْلِمِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضرورت کے وقت مال غنیمت کے استعمال میں رخصت ہے
(١٨٠١٣) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : میں ابو جہل کے پاس پہنچا، وہ نیم مردہ حالت میں تھا۔ اس کے سر پر خود تھا اور اس کے پاس عمدہ تلوار تھی اور میری تلوار ہلکی تھی۔ میں اپنی تلوار سے اس کے سر پر مارا اس وقت مجھے مکہ میں اس کا مجھے مارنا یاد آیا۔ میں نے اتنا مارا کہ اس کا ہاتھ کمزور ہوگیا۔ میں نے اس کی تلوار پکڑ لی۔ اس نے سر اٹھایا اور کہا : شکست کس کو ہوئی ؟ کیا ہمیں یا ان کو اور مجھے کہا : کیا تو مکہ میں ہمارا چرواہا نہیں تھا۔ عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے اس کو قتل کردیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اس کو قتل کردیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے کیا تو نے اس کو قتل کیا ہے ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دفعہ مجھ سے قسم لی۔ پھر میرے ساتھ گئے۔ پھر ان کے لیے بددعا کی۔
(١٨٠١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْمَعْمَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ وَہُوَ صَرِیعٌ وَعَلَیْہِ بَیْضَۃٌ وَمَعَہُ سَیْفٌ جَیِّدٌ وَمَعِی سَیْفٌ رَدِیٌّ فَجَعَلْتُ أَنْقُفُ رَأْسَہُ بِسَیْفِی وَأَذْکُرُ نَقْفًا کَانَ یَنْقُفُ رَأْسِی بِمَکَّۃَ حَتَّی ضَعُفَتْ یَدُہُ فَأَخَذْتُ سَیْفَہُ فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ : عَلَی مَنْ کَانَتِ الدَّبْرَۃُ ؟ أَکَانَتْ لَنَا أَوْ عَلَیْنَا أَلَسْتَ رُوَیْعِیَنَا بِمَکَّۃَ ؟ قَالَ فَقَتَلْتُہُ ثُمَّ أَتَیْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُلْتُ : قَتَلْتُ أَبَا جَہْلٍ ۔ قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: آللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ قَتَلْتَہُ ؟ فَاسْتَحْلَفَنِی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَامَ مَعِی إِلَیْہِمْ فَدَعَا عَلَیْہِمْ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضرورت کے وقت مال غنیمت کے استعمال میں رخصت ہے
(١٨٠١٤) عبداللہ (رض) کہتے ہیں : میں ابو جہل کے پاس آیا، وہ مقتولین میں نیم مردہ پڑا تھا۔ میرے پاس پرانی تلوار تھی۔ میں نے اس کو اپنی تلوار سے مارنا شروع کردیا وہ کچھ نہیں کر رہی تھی۔ اس نے میری طرف دیکھا اور کہا : کیا تو مکہ میں ہمارا چرواہا نہیں تھا اسی اثناء میں اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو اس کی تلوار سے قتل کردیا۔ پھر میں جلدی جلدی آیا اور آپ کو خبر دی تو آپ نے فرمایا : کیا تو نے اس کو قتل کیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں تو آپ نے مجھ سے تین قسمیں لیں۔ میں نے قسمیں دیں۔ آپ نے کہا : چلو مجھے اس کو دکھاؤ۔ آپ نکلے تو میں نے ان کو دکھایا تو آپ نے فرمایا : یہ اس امت کا فرعون ہے۔
(١٨٠١٤) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ وَہُوَ فِی الْقَتْلَی صَرِیعٌ وَمَعِی سَیْفٌ رَثٌّ فَجَعَلْتُ أَضْرِبُہُ بِسَیْفِی فَلَمْ یَعْمَلْ شَیْئًا قَالَ وَنَظَرَ إِلَیَّ فَقَالَ : أَرُوَیْعِینَا بِمَکَّۃَ ؟ فَوَقَعَ سَیْفُہُ فَأَخَذْتُہُ فَضَرَبْتُہُ بِہِ حَتَّی قَتَلْتُہُ ثُمَّ جِئْتُ أَشْتَدُّ حَتَّی أَخْبَرْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : أَنْتَ قَتَلْتَہُ ؟ ۔ قُلْتُ : نَعَمْ حَتَّی اسْتَحْلَفَنِی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَحَلَفْتُ لَہُ ثُمَّ قَالَ : انْطَلِقْ فَأَرِنِیہِ ۔ فَانْطَلَقَ فَأَرَیْتُہُ إِیَّاہُ فَقَالَ : کَانَ ہَذَا فِرْعَوْنَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ ۔

(ت) وَرَوَاہُ الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ بِمَعْنَاہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضرورت کے وقت مال غنیمت کے استعمال میں رخصت ہے
(١٨٠١٥) حضرت براء بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ مسیلمہ سے لڑائی کے دن میں ایک طاقتور آدمی سے ملا جس کو یمامہ کا گدھا کہا جاتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں عمدہ تلوار تھی۔ میں نے اس کی ٹانگوں پر مارا گویا کہ مجھ سے خطا ہوگئی۔ اس کی ٹانگیں اکھڑ گئیں اور وہ گدی کے بل گرگیا۔ میں نے اس کی تلوار کو پکڑا اور اپنی تلوار کو میان میں رکھا میں اس کو ایک ہی وار سے قتل کردیا پھر میں نے اس کی تلوار کو پھنک دیا اور میں نے اپنی تلوار پکڑ لی۔
(١٨٠١٥) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ بَرَائِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَقِیتُ یَوْمَ مُسَیْلِمَۃَ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ حِمَارُ الْیَمَامَۃِ رَجُلاً جَسِیمًا بِیَدِہِ سَیْفٌ أَبْیَضُ فَضَرَبْتُ رِجْلَیْہِ فَکَأَنَّمَا أَخْطَأْتُہُ فَانْقَعَرَ فَوَقَعَ عَلَی قَفَاہُ فَأَخَذْتُ سَیْفَہُ وَأَغْمَدْتُ سَیْفِی فَمَا ضَرَبْتُ بِہِ إِلاَّ ضَرْبَۃً حَتَّی انْقَطَعَ فَأَلْقَیْتُہُ وَأَخَذْتُ سَیْفِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب امیر کسی قوم پر غلبہ پائے تو وہاں تین دن قیام کرلے
(١٨٠١٦) ابو طلحہ (رض) فرماتے ہیں : جب آپ کسی قوم پر غلبہ حاصل کرتے تو پسند کرتے کہ وہاں تین دن قیام کیا جائے۔
(١٨٠١٦) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً وَقِرَائَ ۃً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا غَلَبَ عَلَی قَوْمٍ أَحَبَّ أَنْ یُقِیمَ بِعَرْصَتِہِمْ ثَلاَثًا۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ رَوْحٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَتَابَعَہُ مُعَاذٌ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب قوم کے بچوں کے ساتھ کیا معاملہ ہو
(١٨٠١٧) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : جب بنوقریظہ نے سعد بن معاذ کو اپنا ثالث بنایا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پیغام بھیجا، وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب وہ مسجد کے قریب آئے تو آپ نے فرمایا : ” اپنے سردار یا اپنے اچھے کی طرف اٹھو۔ “ آپ نے فرمایا : ان لوگوں نے آپ کو ثالث بنایا ہے تو انھوں نے کہا : میں ان کے متعلق یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ لڑائی کے قابل لوگوں کو قتل کردیا جائے اور بچوں کو قیدی بنایا جائے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے مالک (اللہ) کے فیصلہ کے ساتھ فیصلہ کیا ہے۔
(١٨٠١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحَمَّامِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ بْنَ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ بَنِی قُرَیْظَۃَ لَمَّا نَزَلُوا عَلَی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرْسَلَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَجَائَ عَلَی حِمَارٍ فَلَمَّا کَانَ قَرِیبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُومُوا إِلَی سَیِّدِکُمْ أَوْ إِلَی خَیْرِکُمْ ۔ فَقَالَ : إِنَّ ہَؤُلاَئِ نَزَلُوا عَلَی حُکْمِکَ ۔ قَالَ : فَإِنِّی أَحْکُمُ فِیہِمْ أَنْ یُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ وَتُسْبَی ذَرَارِیُّہُمْ ۔ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : حَکَمْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ وَرُبَّمَا قَالَ حَکَمْتَ بِحُکْمِ اللَّہِ ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب قوم کے بچوں کے ساتھ کیا معاملہ ہو
(١٨٠١٨) سعد بن معاذ نے بنی قریظہ کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان میں سے بالغوں کو قتل کیا جائے اور مال اور بچوں کو مال غنیمت کے طور پر تقسیم کیا جائے۔ یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ذکر کی گئی تو آپ نے فرمایا : سعد نے وہ فیصلہ کیا جو اللہ نے سات آسمانوں پر کیا ہے۔
(١٨٠١٨) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الأَسَدِیُّ الْحَافِظُ بِہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَیْزِیلَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِیُّ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَکَمَ عَلَی بَنِی قُرَیْظَۃَ أَنْ یُقْتَلَ مِنْہُمْ کُلُّ مِنْ جَرَتْ عَلَیْہِ الْمُوسَی وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُہُمْ وَذَرَارِیُّہُمْ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : لَقَدْ حَکَمَ الْیَوْمَ فِیہِمْ بِحُکْمِ اللَّہِ الَّذِی حَکَمَ بِہِ مِنْ فَوْقَ سَبْعِ سَمَوَاتٍ ۔ [صحیح لغیرہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب قوم کے بچوں کے ساتھ کیا معاملہ ہو
(١٨٠١٩) عطیہ قرظی فرماتے ہیں : میں بھی بنی قریظہ میں سے تھا جس کے زیر ناف بال تھے، اس کو قتل کیا گیا اور جس کے بال نہ تھے اس کو چھوڑ دیا گیا۔ میں اس وقت بغیر بال کے تھا۔
(١٨٠١٩) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَطِیَّۃَ الْقُرَظِیُّ قَالَ : کُنْتُ فِیہِمْ فَکَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ یُنْبِتْ تُرِکَ فَکُنْتُ فِیمَنْ لَمْ یُنْبِتْ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب قوم کے بچوں کے ساتھ کیا معاملہ ہو
(١٨٠٢٠) عظیہ قرظی فرماتے ہیں : سعد بن معاذ نے جن کے متعلق فیصلہ کیا تھا ان میں میں بھی تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگجوؤں کے بارے میں قتل کا حکم دیا اور بچوں کو قیدی بنایا گیا۔ لوگ مجھے لائے، وہ مجھے بھی قتل کرنے والے تھے۔ انھوں نے میرا ستر کھولا تو میرے زیر ناف بال نہیں تھے (میں بالغ نہیں تھا) تو انھوں نے مجھے قیدیوں میں رکھا۔
(١٨٠٢٠) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَطِیَّۃَ الْقُرَظِیُّ قَالَ : کُنْتُ فِیمَنْ حَکَمَ فِیہِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ وَتُسْبَی ذَرَارِیُّہُمْ قَالَ فَجَائُ وا بِی وَلاَ أُرَانِی إِلاَّ سَیَقْتُلُونَنِی فَکَشَفُوا عَانَتِی فَوَجَدُوہَا لَمْ تُنْبِتْ فَجَعَلُونِی فِی السَّبْیِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক: