আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮০২৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٢١) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لڑائی کی۔ آپ نے بنو نضیر کو جلا وطن کردیا اور قریظہ والوں کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا۔ اس کے بعد بنو قریظہ نے بھی لڑائی کی۔ آپ نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں، بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا اور ان کو چھوڑ دیا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مل گئے۔ آپ نے ان کو امن دیا انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ آپ نے مدینہ کے یہودیوں کو جلا وطن کردیا۔ ان بنی قینقاع جو کہ عبداللہ بن سلام کی قوم کے لوگ تھے اور بنی حارثہ کے یہود تھے اور ہر یہودی جو مدینہ میں تھا اس کو جلا وطن کردیا۔
(١٨٠٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِیلَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ یَہُودَ بَنِی النَّضِیرِ وَقُرَیْظَۃِ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَنِی النَّضِیرِ وَأَقَرَّ قُرَیْظَۃَ وَمَنَّ عَلَیْہِمْ حَتَّی حَارَبَتْ قُرَیْظَۃُ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَتَلَ رِجَالَہُمْ وَقَسَمَ نِسَائَ ہُمْ وَأَوْلاَدَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ إِلاَّ بَعْضَہُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَآمَنَہُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَہُودَ الْمَدِینَۃِ بَنِی قَیْنُقَاعَ وَہُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ سَلاَمٍ وَیَہُودَ بَنِی حَارِثَۃَ وَکُلَّ یَہُودِیٍّ بِالْمَدِینَۃِ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٢٢) حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ بعد میں آنے والے لوگ تنگ دست ہوجائیں گے تو میں جو بھی علاقہ فتح ہوتا تو اس کو تقسیم کردیتا جس طرح رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔
(١٨٠٢٢) وَأَمَّا مَا قَالَ فِی خَیْبَرَ فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ : حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَوْلاَ آخِرُ النَّاسِ مَا فُتِحَتْ عَلَیْہِمْ قَرْیَۃٌ إِلاَّ قَسَمْتُہَا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْبَرَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٢٣) ابن عون فرماتے ہیں : میں نے نافع کو لڑائی سے پہلے دعوت کے بارے میں سوال لکھ کر بھیجا انھوں نے کہا : دعوت دینا اسلام کی بنیاد ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو مصطلق پر شب خون مارا کیونکہ وہ بھی اس کے لیے تیار تھے۔ اس وقت جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا۔ آپ نے جنگجوؤں کو قتل کیا، بچوں کو قیدی بنایا اور اسی دن آپ کو حضرت جویریہ بنت حارث ملی تھیں۔
(١٨٠٢٣) وَأَمَّا مَا قَالَ فِی وِلْدَانِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الدُّعَائِ قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ الدُّعَائُ فِی أَصْلِ الإِسْلاَمِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُہُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَہُمْ وَسَبَی سَبْیَہُمْ وَأَصَابَ یَوْمَئِذٍ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ

حَدَّثَنِی بِہَذَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِی ذَلِکَ الْجَیْشِ ۔

وَفِی رِوَایَۃِ یَزِیدَ إِنَّمَا ذَلِکَ بَعْدَ الدُّعَائِ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ وَالْبَاقِی سَوَائٌ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنِ ابْنِ أَبِی عَدِیٍّ ۔

وَقَدْ مَضَی فِی حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : غَزَوْنَا الْمُصْطَلِقَ فَسَبَیْنَا کَرَائِمَ الْعَرَبِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لاَ عَلَیْکُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٢٤) عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ ہوازن کے وفد نے رسول اللہ سے اپنے مال و قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو رسول اللہ نے فرمایا : مجھے اور میرے ساتھیوں کو سچی بات زیادہ محبوب ہے۔ تمہیں دونوں میں سے ایک چیز کا اختیار ہے (مال یا قیدی) اور میں تمہیں مہلت دیتا ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف سے واپسی پر دس راتوں کی مہلت دی۔ جب انھیں یقین ہوگیا کہ آپ صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انھوں نے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی تعریف فرمائی جس کا وہ اصل حق دار تھا پھر فرمایا : امابعد ! تمہارے بھائی توبہ کر کے آگئے ہیں میں ان کے قیدی واپس کرنا چاہتا ہوں۔ جو تم میں سے دل کی خوشی سے یہ کام کرنا چاہتا ہے تو کرلے اور جو کوئی ان کا عوض لینا چاہے تو ہم پہلے مال فیٔ سے اس کا بدل واپس کردیں گے تو لوگوں نے کہا : ہم نے دل کی خوشی سے واپس کردیے، اے اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیں معلوم نہ ہوسکا کون اجازت دیتا ہے اور کون نہیں۔ تم اپنے سرداروں کو بتاؤ، وہ ہمیں خبر دیں تو لوگوں نے اپنے چوہدریوں سے بات کی تو انھوں نے رسول اللہ کو بتایا کہ لوگوں نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ یہ حدیث مجھے ہوازن کے قیدیوں کے بارے میں پہنچی۔

(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑا، بعض سے کچھ بھی نہ لیا اور بعض کو قتل بھی کروا دیا۔ رسول اللہ نے بدر کے دو قیدیوں کو قتل کروایا۔ عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث۔
(١٨٠٢٤) وَأَمَّا مَا قَالَ فِی ہَوَازِنَ فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ وَہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِی ابْنُ أَخِی ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَمِّہِ قَالَ وَزَعَمَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ أَخْبَرَاہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَامَ حِینَ جَائَ ہُ وَفْدُ ہَوَازِنَ مُسْلِمِینَ فَسَأَلُوہُ أَنْ یَرُدَّ إِلَیْہِمْ أَمْوَالَہُمْ وَسَبْیَہُمْ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَعِی مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِیثِ إِلَیَّ أَصْدَقُہُ فَاخْتَارُوا إِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ إِمَّا السَّبْیَ وَإِمَّا الْمَالَ وَقَدِ اسْتَأْنَیْتُ بِکُمْ وَکَانَ أَنْظَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً حِینَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَیْرُ رَادٍّ إِلَیْہِمْ إِلاَّ إِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْیَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الْمُسْلِمِینَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَتَکُمْ قَدْ جَائُ وا تَائِبِینَ وَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَیْہِمْ سَبْیَہُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یُطَیِّبَ ذَلِکَ فَلْیَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَکُونَ عَلَی حَظِّہِ حَتَّی نُعْطِیَہُ إِیَّاہُ مِنْ أَوَّلِ مَا یُفِیئُ اللَّہُ عَلَیْنَا ۔ فَقَالَ النَّاسُ : قَدْ طَیَّبْنَا ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّا لاَ نَدْرِی مَنْ أَذِنَ مِنْکُمْ مِمَّنْ لَمْ یَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّی یَرْفَعَ إِلَیْنَا عُرَفَاؤُکُمْ ۔ فَرَجَعَ النَّاسُ فَکَلَّمَہُمْ عُرَفَاؤُہُمْ فَرَجَعُوا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرُوہُ أَنَّہُمْ قَدْ طَیَّبُوا وَأَذِنُوا ہَذَا الَّذِی بَلَغَنِی عَنْ سَبْیِ ہَوَازِنَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَسَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَہْلَ بَدْرٍ فَمِنْہُمْ مَنْ مَنَّ عَلَیْہِ بِلاَ شَیْئٍ أَخَذَہُ مِنْہُ وَمِنْہُمْ مَنْ أَخَذَ مِنْہُ فِدْیَۃً وَمِنْہُمْ مَنْ قَتَلَہُ وَکَانَ الْمَقْتُولاَنِ بَعْدَ الإِسَارِ یَوْمَ بَدْرٍ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِی مُعَیْطٍ وَالنَّضْرُ بْنُ الْحَارِثِ ۔[صحیح۔ بخاری ٤٣١٩]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٢٥) امام شافعی (رح) اہل مغازی سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نضر بن حارث عبدری کو بدر کے دن دیہات یا اثیل کے مقام پر باندھ کر قتل کردیا یہی سلوک عقبہ بن ابی معیط کے ساتھ کیا گیا۔
(١٨٠٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَدَدٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ قُرَیْشٍ وَغَیْرِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْمَغَازِی : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَسَرَ النَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ الْعَبْدَرِیَّ یَوْمَ بَدْرٍ وَقَتَلَہُ بِالْبَادِیَۃِ أَوِ الأَثِیلِ صَبْرًا وَأَسَرَ عُقْبَۃَ بْنَ أَبِی مُعَیْطٍ یَوْمَ بَدْرٍ فَقَتَلَہُ صَبْرًا۔ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الْقَسْمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ صَاحِبِ الْمَغَازِی۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٢٦) محمد بن یحییٰ بن سہل بن ابی حثمہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ عرق ظبیہ نامی جگہ پر جب رسول اللہ کے پاس قیدی لائے گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عاصم بن ثابت بن ابی افلح کو حکم دیا وہ عقبہ بن ابی معیط کی گردن جدا کردیں۔ عقبہ بن ابی معیط نے کہا : ان کے درمیان سے مجھے کیوں قتل کیا جا رہا ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : اللہ اور رسول کی دشمنی کی وجہ سے تو عقبہ نے کہا : اے محمد ! آپ مجھے میری قوم کے آدمیوں میں شمار کرتے ہوئے ان جیسا سلوک کریں۔ اگر ان کو قتل یا احسان کریں تو میرے ساتھ بھی یہ سلوک کرلینا۔ اے احمد ! بچوں کا کون ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کے لیے آگ ہے۔ اے عاصم بن عون ! اس کی گردن تن سے جدا کر دو تو انھوں نے اس کا سر قلم کردیا۔
(١٨٠٢٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سَہْلِ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا أَقْبَلَ بِالأُسَارَی حَتَّی إِذَا کَانَ بِعَرْقِ الظُّبْیَۃِ أَمَرَ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِی الأَقْلَحِ أَنْ یَضْرِبَ عُنُقَ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ فَجَعَلَ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِی مُعَیْطٍ یَقُولُ : یَا وَیْلاَہُ عَلاَمَ أُقْتَلُ مِنْ بَیْنَ ہَؤُلاَئِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: لِعَدَاوَتِکَ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ ۔ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ مَنُّکَ أَفْضَلُ فَاجْعَلْنِی کَرَجُلٍ مِنْ قَوْمِی إِنْ قَتَلْتَہُمْ قَتَلْتَنِی وَإِنْ مَنَنْتَ عَلَیْہِمْ مَنَنْتَ عَلَیَّ وَإِنْ أَخَذْتَ مِنْہُمُ الْفِدَائَ کُنْتُ کَأَحَدِہِمْ یَا مُحَمَّدُ مَنْ لِلصِّبْیَۃِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : النَّارُ یَا عَاصِمُ بْنَ ثَابِتٍ قَدِّمْہُ فَاضْرِبْ عُنُقَہُ ۔ فَقَدَّمَہُ فَضَرَبَ عُنُقَہُ ۔ [ضعیف جدًا ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٢٧) ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب ضحاک بن قیس نے مسروق کو عامل بنانا چاہا تو عمارہ بن عقبہ نے کہا کہ کیا آپ حضرت عثمان کے قاتلوں میں سے کسی کو عامل بنانا چاہتے ہیں تو مسروق نے عمارہ سے کہا کہ ہمیں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ جو بات ہمارے دلوں میں پختہ ہے یہ ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے کہا تھا : بچوں کا کون ہے ؟ فرمایا : آگ۔ میں تیرے لیے وہ پسند کرتا ہوں جو تیرے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پسند فرمایا۔
(١٨٠٢٧) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلاَّبُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : أَرَادَ الضَّحَّاکُ بْنُ قَیْسٍ أَنْ یَسْتَعْمِلَ مَسْرُوقًا فَقَالَ لَہُ عُمَارَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ أَتَسْتَعْمِلُ رَجُلاً مِنْ بَقَایَا قَتَلَۃِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ مَسْرُوقٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ فِی أَنْفُسِنَا مَوْثُوقَ الْحَدِیثِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ أَبِیکَ قَالَ : مَنْ لِلصِّبْیَۃِ ؟ قَالَ : النَّارُ ۔ قَدْ رَضِیتُ لَکَ مَا رَضِیَ لَکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٢٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابو عزہ جمحی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر فدیہ کے احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔ اس کی بیٹیوں کی وجہ سے اور وعدہ لیا کہ آئندہ وہ لڑائی کے لیے نہ آئیں۔ لیکن اس نے وعدہ خلافی کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن اسے قتل کروا دیا۔ مشرکین کا کوئی اور شخص قیدی نہ تھا۔ ابو عزہ جمحی نے کہا : اے محمد ! آپ میری بیٹیوں کی وجہ سے احسان فرمائیں۔ میں آئندہ قتال کے لیے نہ آؤں گا۔ آپ نے فرمایا : مکہ جانے کے بہانے چاپلوسی مت کرو۔ پھر تم کہو گے : میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو مرتبہ دھوکا دیا ہے۔ پھر آپ نے حکم فرمایا تو اس کی گردن تن سے جدا کردی گئی۔
(١٨٠٢٨) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَانَ مِنَ الْمَمْنُونِ عَلَیْہِمْ بِلاَ فِدْیَۃٍ أَبُو عَزَّۃَ الْجُمَحِیُّ تَرَکَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِبَنَاتِہِ وَأَخَذَ عَلَیْہِ عَہْدًا أَنْ لاَ یُقَاتِلَہُ فَأَخْفَرَہُ وَقَاتَلَہُ یَوْمَ أُحُدٍ فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ لاَ یَفْلِتَ فَمَا أُسِرَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ رَجُلٌ غَیْرُہُ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ امْنُنْ عَلَیَّ وَدَعْنِی لِبَنَاتِی وَأُعْطِیکَ عَہْدًا أَنْ لاَ أَعُودَ لِقِتَالِکَ ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تَمْسَحُ عَلَی عَارِضَیْکَ بِمَکَّۃَ تَقُولُ قَدْ خَدَعْتُ مُحَمَّدًا مَرَّتَیْنَ ۔ فَأَمَرَ بِہِ فَضُرِبَتْ عُنُقُہُ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ فَذَکَرَہُ ۔

وَقَدْ رُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ غَیْرِ الشَّافِعِیِّ فِی کِتَابِ الْقَسْمِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٢٩) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدری قیدی ابو عزہ عبداللہ بن عمرو بن عمیر جمحی شاعر کو احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ میری پانچ بچیاں ہیں ان کی وجہ سے میرے اوپر احسان کریں تو آپ نے احسان کردیا۔ ابو عزہ نے کہا : نہ تو خود آپ کے خلاف آؤں گا اور نہ ہی تعداد کو زیادہ کروں گا تو رسول اللہ نے چھوڑ دیا۔ جب قریشی غزوہ احد کے لیے نکلے تو صفوان بن امیہ نے ابو عزہ سے نکلنے کا مطالبہ کردیا تو ابو عزہ نے کہا : میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ لڑنے کا پختہ عہد کیا ہوا ہے تو صفوان بن امیہ نے اس کی بیٹیوں کی پرورش کا ذمہ لیا۔ اگر وہ قتل کردیا گیا۔ اگر زندہ رہا تو بہت زیادہ مال دیا جائے گا تو جب غزوہ احد میں وہ قریشیوں کے ساتھ نکلا تو یہ اکیلا قیدی بنایا گیا تو اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے زبردستی لایا گیا آپ میرے اوپر بچیوں کی وجہ سے احسان کریں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا وہ وعدہ کہاں گیا ؟ تو نے کہا کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دو مرتبہ مذاق کیا ہے۔

(ب) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن ایک بل سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا، اے عاصم بن ثابت ! اس کی گردن تن سے جدا کر دو تو انھوں نے اس کا سر قلم کردیا۔

(ج) امام شافعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثمامہ بن اثال کو قیدی بنایا تو احسان کر کے چھوڑ دیا تو ثمامہ بن اثال نے اسلام قبول کرلیا۔ پھر اس کا اسلام اچھا ہوگیا۔
(١٨٠٢٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہْمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : أَمَّنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنَ الأُسَارَی یَوْمَ بَدْرٍ أَبَا عَزَّۃَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُمَیْرٍ الْجُمَحِیَّ وَکَانَ شَاعِرًا وَکَانَ قَالَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَا مُحَمَّدُ إِنَّ لِی خَمْسَ بَنَاتٍ لَیْسَ لَہُنَّ شَیْئٌ فَتَصَدَّقْ بِی عَلَیْہِنَّ فَفَعَلَ وَقَالَ أَبُو عَزَّۃَ : أُعْطِیکَ مَوْثِقًا أَنْ لاَ أُقَاتِلَکَ وَلاَ أُکَثِّرَ عَلَیْکَ أَبَدًا فَأَرْسَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمَّا خَرَجَتْ قُرَیْشٌ إِلَی أُحُدٍ جَائَ ہُ صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ فَقَالَ : اخْرُجْ مَعَنَا۔ فَقَالَ : إِنِّی قَدْ أَعْطَیْتُ مُحَمَّدًا مَوْثِقًا أَنْ لاَ أُقَاتِلَہُ ۔ فَضَمِنَ صَفْوَانُ أَنْ یَجْعَلَ بَنَاتِہِ مَعَ بَنَاتِہِ إِنْ قُتِلَ وَإِنْ عَاشَ أَعْطَاہُ مَالاً کَثِیرًا فَلَمْ یَزَلْ بِہِ حَتَّی خَرَجَ مَعَ قُرَیْشٍ یَوْمَ أُحُدٍ فَأُسِرَ وَلَمْ یُؤْسَرْ غَیْرُہُ مِنْ قُرَیْشٍ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا أُخْرِجْتُ کَرْہًا وَلِی بَنَاتٌ فَامْنُنْ عَلَیَّ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَیْنَ مَا أَعْطَیْتَنِی مِنَ الْعَہْدِ وَالْمِیثَاقِ لاَ وَاللَّہِ لاَ تَمْسَحُ عَارِضَیْکَ بِمَکَّۃَ تَقُولُ سَخِرْتُ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَیْنَ ۔

قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ یُلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَیْنَ یَا عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ قَدِّمْہُ فَاضْرِبْ عُنُقَہُ ۔ فَقَدَّمَہُ فَضَرَبَ عُنُقَہُ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : ثُمَّ أَسَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَامَۃُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِیَّ بَعْدُ فَمَنَّ عَلَیْہِ ثُمَّ عَادَ ثُمَامَۃُ بْنُ أُثَالٍ بَعْدُ فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلاَمُہُ ۔ [ضعیف جدًا ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٣٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا۔ وہ دستہ ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر کے لایا جو یمامہ کے علاقے کا رئیس تھا۔ انھوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے اور اس سے دریافت کیا : اے ثمامہ ! تیرا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب دیا : میرا حال اچھا ہے اگر مجھے قتل کردیں تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور اگر آپ احسان کریں گے تو احسان کا شکریہ ادا ہوگا اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو طلب کریں جتنا چاہتے ہو مال مل جائے گا۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔ جب دوسرا دن ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے حال دریافت کیا : ثمامہ تمہارا کیا ذہن ہے ؟ اس نے جواب دیا : اگر آپ احسان کریں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احسان کا شکریہ ادا کیا جائے گا۔ اگر آپ قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جتنا مال چاہتے ہیں اتنا ہی دیا جائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے پھر چھوڑ کر چلے گئے۔ جب تیسرا دن ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا تو اس نے وہی جواب دیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ثمامہ کو کھول دو ۔ چنانچہ وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں گیا، غسل کیا۔ پھر مسجد میں داخل ہوا اور اس نے اقرار کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے محمد ! اللہ کی قسم روئے زمین پر کوئی چہرہ ایسا نہ تھا مجھے آپ کے چہرے سے زیادہ برا لگتا ہو مگر اب آپ کا چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب لگتا ہے۔ اللہ کی قسم ! آپ کے شہر سے زیادہ برا مجھے کوئی شہر نہیں لگتا تھا مگر اب مجھے آپ کا شہر تمام شہروں سے زیادہ اچھا لگتا ہے اور آپ کے لشکر نے مجھے اس وقت گرفتار کیا جب میں عمرہ ادا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اب آپ کی کیا رائے ہے ؟ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے خوشخبری دی اور کہا : جاؤ عمرہ ادا کرو۔ جب وہ مکہ آیا تو کسی کہنے والے نے کہا : تو صابی ہوگیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں میں تو رسول اللہ کے اسلام میں داخل ہوگیا ہوں۔ اللہ کی قسم ! تمہارے پاس یمامہ کی گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا جب تک اس کے بارے میں رسول اللہ اجازت نہ دیں گے۔
(١٨٠٣٠) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْلاً نَحْوَ أَرْضِ نَجْدٍ فَجَائَ تْ بِرَجُلٍ یُقَالُ لَہُ ثُمَامَۃُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِیُّ سَیِّدُ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ فَرَبَطُوہُ بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا عِنْدَکَ یَا ثُمَامَۃُ ؟ ۔ قَالَ : عِنْدِی یَا مُحَمَّدُ خَیْرٌ إِنْ تَقْتُلْنِی تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاکِرٍ وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْہُ مَا شِئْتَ فَتَرَکَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی کَانَ مِنَ الْغَدِ ثُمَّ قَالَ : مَا عِنْدَکَ یَا ثُمَامَۃُ ؟ ۔ فَقَالَ : عِنْدِی مَا قُلْتُ لَکَ ۔ فَرَدَّہَا عَلَیْہِ ثُمَّ أَتَاہُ الْیَوْمَ الثَّالِثَ فَرَدَّہَا عَلَیْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَطْلِقُوا ثُمَامَۃَ ۔ فَخَرَجَ ثُمَامَۃُ إِلَی نَخْلٍ قَرِیبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ مِنَ الْمَائِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ یَا مُحَمَّدُ وَاللَّہِ مَا کَانَ عَلَی وَجْہِ الأَرْضِ وَجْہٌ أَبْغَضُ إِلَیَّ مِنْ وَجْہِکَ وَقَدْ أَصْبَحَ وَجْہُکَ أَحَبُّ الْوُجُوہِ إِلَیَّ وَوَاللَّہِ مَا کَانَ دِینٌ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ دِینِکَ وَقَدْ أَصْبَحَ دِینُکَ أَحَبَّ الأَدْیَانِ إِلَیَّ وَوَاللَّہِ مَا کَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ بَلَدِکَ وَقَدْ أَصْبَحَ بَلَدُکَ أَحَبَّ الْبُلْدَانِ کُلَّہَا إِلَیَّ وَإِنْ خَیْلَکَ أَخَذَتْنِی وَأَنَا أُرِیدُ الْعُمْرَۃَ فَمَاذَا تَرَی فَبَشَّرَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَمَرَہُ أَنْ یَعْتَمِرَ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ لَہُ رِجَالٌ بِمَکَّۃَ أَصَبَوْتَ یَا ثُمَامَۃُ فَقَالَ لاَ وَاللَّہِ مَا صَبَوْتُ وَلَکِنِّی أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَوَاللَّہِ لاَ تَأْتِیکُمْ حَبَّۃُ حِنْطَۃٍ مِنَ الْیَمَامَۃِ حَتَّی یَأْذَنَ فِیہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٣١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ثمامہ بن اثال حنفی کے اسلام کا واقعہ پیش آیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ سے دعا فرمائی جس وقت آپ کے لیے کوئی واقعہ پیش آیا کہ اللہ آپ کو غلبہ عطا فرما دے اور وہ ابھی مشرک ہی تھا۔ آپ نے اس کے قتل کا ارادہ فرمایا اور ثمامہ حالت شرک میں عمرہ کی غرض سے مدینہ میں سے گزر رہا تھا کہ صحابہ نے پکڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دربار میں پیش کردیا۔ آپ کے حکم سے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے اور پوچھا : اے ثمامہ ! کیا حال ہے ؟ کیا اللہ نے تیرے اوپر غلبہ دے دیا ہے ؟ اس نے کہا : اے محمد ! اگر تو مجھے قتل کر دے تو ایسے شخص کو قتل کرو گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معاف کریں گے تو معافی کا شکریہ ادا کیا جائے گا۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال چاہتے ہیں تو مال بھی دیا جائے گا۔ اسے اس حالت میں چھوڑ کر رسول اللہ چلے گئے۔ دوسرے دن پھر آئے اور پوچھا : تیرا کیا حال ہے ثمامہ ! اس نے کہا : میرا حال اچھا ہے اے محمد ! اگر مجھے قتل کردیں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ معاف کردیں تو معاف کرنے کا شکریہ ادا ہوگا۔ اگر مال طلب کرو تو دیا جائے گا۔ رسول اللہ پھر چلے گئے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم مسکین بیٹھ کر ثمامہ کے خون کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ اللہ کی قسم ثمامہ کے خون کی بجائے اس کے مقابلہ میں موٹے تازے اونٹ فدیہ میں زیادہ بہتر رہیں گے۔ پھر صبح کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے اور پوچھا : ثمامہ کیا حال ہے ؟ اس نے کہا : میرا حال اچھا ہے اے محمد ! اگر قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ معاف کردیں تو معاف کرنے کا شکریہ ادا ہوگا۔ اگر مال طلب کرو گے تو مال بھی دیا جائے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ثمامہ کو رہا کر دو ۔ اے ثمامہ ! میں نے تجھے معاف کردیا۔ پھر ثمامہ نے مدینہ کے کسی باغ میں غسل کر کے اپنے کپڑوں اور جسم کو پاک کیا اور واپس آیا تو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے۔ اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ میرے نزدیک برا نہ تھا، آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین میرے لیے برا نہ تھا اور آپ کے شہر سے زیادہ برا کوئی شہر مجھے نہیں لگتا تھا۔ پھر اس نے کہا : اب آپ کے چہرہ سے بڑھ کر کوئی چہرہ محبوب نہیں، آپ کے دین سے بڑھ کر کوئی دین اچھا نہیں لگتا اور آپ کے شہر سے بڑھ کر کوئی شہر اچھا نہیں لگتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ کے رسول ! میں اپنی قوم کے دین پر ہی عمرہ کے لیے نکلا تھا، آپ میرے عمرہ کے بارہ میں خوشخبری دیں۔ اللہ آپ پر رحمت فرمائے۔ آپ نے خوشخبری بھی دی اور طریقہ بھی سکھایا۔ وہ عمرہ کی غرض سے نکلے۔ جب وہ مکہ آئے تو قریشیوں نے ان سے آپ کے دین کے بارہ میں سنا تو کہنے لگے کہ ثمامہ بےدین ہوگیا ہے۔ انھوں نے ثمامہ کو غصہ دلایا۔ ثمامہ کہنے لگے : میں بےدین نہیں ہوا، میں نے اسلام قبول کیا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لایا۔ اللہ کی قسم ! تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے گا (اور یمامہ سرسبز جگہ تھی) ۔ جب تک میں ہوں لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اجازت دے دیں۔ وہ اپنے شہر واپس چلے گئے۔ جا کر مکہ کا غلہ روک دیا یہاں تک کہ قریش مشکل میں پڑگئے۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی رشتہ داریوں کا واسطہ دے کر سوال کیا کہ آپ ثمامہ کو خط لکھیں کہ وہ غلہ روانہ کر دے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثمامہ کو غلہ روانہ کرنے کا حکم صادر فرما دیا۔
(١٨٠٣١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ الْمَقْبُرِیُّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ إِسْلاَمُ ثُمَامَۃَ بْنِ أُثَالٍ الْحَنَفِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَعَا اللَّہَ حِینَ عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَا عَرَضَ لَہُ أَنْ یُمَکِّنَہُ اللَّہُ مِنْہُ وَکَانَ عَرَضَ لَہُ وَہُوَ مُشْرِکٌ فَأَرَادَ قَتْلَہُ فَأَقْبَلَ ثُمَامَۃُ مُعْتَمِرًا وَہُوَ عَلَی شِرْکِہِ حَتَّی دَخَلَ الْمَدِینَۃَ فَتَحَیَّرَ فِیہَا حَتَّی أُخِذَ وَأُتِیَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَمَرَ بِہِ فَرُبِطَ إِلَی عَمُودٍ مِنْ عُمُدِ الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا لَکَ یَا ثُمَامَ ہَلْ أَمْکَنَ اللَّہُ مِنْکَ ؟ ۔ قَالَ : وَقَدْ کَانَ ذَلِکَ یَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتَلْ تَقْتَلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاکِرٍ وَإِنْ تَسْأَلْ مَالاً تُعْطَہْ فَمَضَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَتَرَکَہُ حَتَّی إِذَا کَانَ الْغَدُ مَرَّ بِہِ فَقَالَ : مَا لَکَ یَا ثُمَامَ ؟ ۔ فَقَالَ : خَیْرًا یَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاکِرٍ وَإِنْ تَسْأَلْ مَالاً تُعْطَہْ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَعَلْنَا الْمَسَاکِینَ نَقُولُ بَیْنَنَا مَا یُصْنَعُ بِدَمِ ثُمَامَۃَ وَاللَّہِ لأُکْلَۃٌ مِنْ جَزُورٍ سَمِینَۃٍ مِنْ فِدَائِہِ أَحَبُّ إِلَیْنَا مِنْ دَمِ ثُمَامَۃَ فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ مَرَّ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا لَکَ یَا ثُمَامَ ؟ ۔ فَقَالَ : خَیْرًا یَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاکِرٍ وَإِنْ تَسْأَلْ مَالاً تُعْطَہْ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَطْلِقُوہُ فَقَدْ عَفَوْتَ عَنْکَ یَا ثُمَامَ ۔ فَخَرَجَ ثُمَامَۃُ حَتَّی أَتَی حَائِطًا مِنْ حِیطَانِ الْمَدِینَۃِ فَاغْتَسَلَ فِیہِ وَتَطَہَّرَ وَطَہَّرَ ثِیَابَہُ ثُمَّ جَائَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ فِی أَصْحَابِہِ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ وَاللَّہِ لَقَدْ کُنْتَ وَمَا وَجْہٌ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ وَجْہِکَ وَلاَ دِینٌ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ دِینِکَ وَلاَ بَلَدٌ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ بَلَدِکَ ثُمَّ لَقَدْ أَصْبَحْتَ وَمَا وَجْہٌ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ وَجْہِکَ وَلاَ دِینٌ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ دِینِکَ وَلاَ بَلَدٌ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ بَلَدِکَ وَإِنِّی أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ قَدْ خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا وَأَنَا عَلَی دِینِ قَوْمِی فَیَسَّرَنِی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْکَ فِی عُمْرَتِی فَیَسَّرَہُ وَعَلَّمَہُ فَخَرَجَ مُعْتَمِرًا فَلَمَّا قَدِمَ مَکَّۃَ وَسَمِعَتْہُ قُرَیْشٌ یَتَکَلَّمُ بِأَمْرِ مُحَمَّدٍ مِنَ الإِسْلاَمِ قَالُوا صَبَأَ ثُمَامَۃُ فَأَغْضَبُوہُ فَقَالَ إِنِّی وَاللَّہِ مَا صَبَوْتُ وَلَکِنِّی أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ مُحَمَّدًا وَآمَنْتُ بِہِ وَایْمُ الَّذِی نَفْسُ ثُمَامَۃَ بِیَدِہِ لاَ تَأْتِیکُمْ حَبَّۃٌ مِنَ الْیَمَامَۃِ وَکَانَتْ رِیفَ مَکَّۃَ مَا بَقِیتُ حَتَّی یَأْذَنَ فِیہَا مُحَمَّدٌ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَانْصَرَفَ إِلَی بَلَدِہِ وَمَنَعَ الْحَمْلَ إِلَی مَکَّۃَ حَتَّی جُہِدَتْ قُرَیْشٌ فَکَتَبُوا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَسْأَلُونَہُ بِأَرْحَامِہِمْ أَنْ یَکْتُبَ إِلَی ثُمَامَۃَ یُخَلِّی إِلَیْہِمْ حَمْلَ الطَّعَامِ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٣٢) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : آپ مجھے زبیر یہودی ہبہ کردیں تاکہ بعاث کے احسان کا بدلہ دیا جاسکے، جو اس نے میرے اوپر کیا تھا۔ آپ نے ہبہ کردیا۔ حضرت ثابت زبیر سے پوچھتے ہیں : کیا مجھے پہچانتے ہو ؟ اس نے کہا : ہاں ! کیا کوئی شخص اپنے بھائی کو نہ پہچانے گا ؟ تو ثابت فرمانے لگے : میں تیرے بعاث کے دن کے احسان کا بدلہ دینا چاہتا ہوں۔ زبیر یہودی نے کہا : بدلہ دو ۔ معزز انسان کسی معزز کا بدلہ دیتا ہے۔ ثابت کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے مجھے ہبہ فرما دیا تھا۔ میں نے اپنے قیدی کو آزاد کردیا تو زبیر نے کہا : میری بیوی، بچے تو زبیر نے واپس آ کر کہا کہ رسول اللہ نے تیری بیوی، بچے بھی واپس کردیے ہیں۔ زبیر کہنے لگا : میرا باغ جس پر میرے گھر والوں کی گزراں تھی تو حضرت ثابت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے تو آپ نے وہ بھی ہبہ کردیا تو ثابت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرا اہل و عیال، مال واپس کردیا مسلمان ہو جاؤ، محفوظ ہو جاؤ گے تو زبیر نے کہا : میرے دو ساتھیوں کا کیا بنا ؟ اس نے اپنی قوم کے اشخاص کا تذکرہ کیا۔ ثابت فرماتے ہیں : ان کے قتل سے فراغت حاصل کرلی گئی ہے۔ شاید کہ اللہ نے آپ کو بھلائی کے لیے باقی رکھا ہے تو زبیر نے کہا : میں اللہ کا واسطہ دے کر اے ثابت سوال کرتا ہوں کہ آپ میرے احسان کا بدلہ تب ادا کرسکیں گے جب مجھے بھی میرے ساتھیوں کے ساتھ ملا دیں۔ کیونکہ ان کے بعد میری زندگی اچھی نہیں ہے تو ثابت نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا تو زبیر کے قتل کا حکم دے دیا گیا۔ (ب) موسیٰ بن عقبہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس دن بوڑھا اور نابینا تھا۔
(١٨٠٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُلاَثَۃَ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : وَأَقْبَلَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : ہَبْ لِی الزَّبِیرَ الْیَہُودِیَّ أَجْزِیہِ بِیَدٍ کَانَتْ لَہُ عِنْدِی یَوْمَ بُعَاثٍ فَأَعْطَاہُ إِیَّاہُ فَأَقْبَلَ ثَابِتٌ حَتَّی أَتَاہُ فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہَلْ تَعْرِفُنِی ؟ فَقَالَ : نَعَمْ وَہَلْ یُنْکِرُ الرَّجُلُ أَخَاہُ ؟ قَالَ ثَابِتٌ : أَرَدْتُ أَنْ أَجْزِیَکَ الْیَوْمَ بِیَدٍ لَکَ عِنْدِی یَوْمَ بُعَاثٍ ۔ قَالَ : فَافْعَلْ فَإِنَّ الْکَرِیمَ یَجْزِی الْکَرِیمَ ۔ قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ قَدْ سَأَلْتُکَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَوَہَبَکَ لِی فَأَطْلَقَ عَنْہُ إِسْارَہُ ۔ فَقَالَ الزَّبِیرُ : لَیْسَ لِی قَائِدٌ وَقَدْ أَخَذْتُمُ امْرَأَتِی وَبَنِیَّ ۔ فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَی الزَّبِیرِ فَقَالَ : رَدَّ إِلَیْکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - امْرَأَتَکَ وَبَنِیکَ ۔ فَقَالَ الزَّبِیرُ : حَائِطٌ لِی فِیہِ أَعْذُقٌ لَیْسَ لِی وَلاَ لأَہْلِی عَیْشٌ إِلاَّ بِہِ ۔ فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَوَہَبَہُ لَہُ فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَی الزَّبِیرِ فَقَالَ : قَدْ رَدَّ إِلَیْکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَہْلَکَ وَمَالَکَ فَأَسْلِمْ تَسْلَمْ ۔ قَالَ : مَا فَعَلَ الْجَلِیسَانِ ؟ وَذَکَرَ رِجَالَ قَوْمِہِ قَالَ ثَابِتٌ : قَدْ قُتِلُوا وَفُرِغَ مِنْہُمْ وَلَعَلَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنْ یَکُونَ أَبْقَاکَ لَخَیْرٍ ۔ قَالَ الزَّبِیرُ : أَسْأَلُکَ بِاللَّہِ یَا ثَابِتُ وَبِیَدِی الْخَضِیمِ عِنْدَکَ یَوْمَ بُعَاثٍ إِلاَّ أَلْحَقْتَنِی بِہِمْ فَلَیْسَ فِی الْعَیْشِ خَیْرٌ بَعْدَہُمْ ۔ فَذَکَرَ ذَلِکَ ثَابِتٌ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَمَرَ بِالزَّبِیرِ فَقُتِلَ ۔

وَذَکَرَہُ أَیْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَذَکَرَ أَنَّہُ الزَّبِیرُ بْنُ بَاطَا الْقُرَظِیُّ وَذَکَرَہُ أَیْضًا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ وَذَکَرَ أَنَّہُ کَانَ یَوْمَئِذٍ کَبِیرًا أَعْمَی۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٣٣) محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدری قیدیوں کے بارے میں فرمایا : اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا تو وہ مجھ سے ان بدبودار اشخاص کے بارے میں کلام کرتا تو اس کی وجہ سے میں ان کو رہا کردیتا۔
(١٨٠٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِالْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ لأُسَارَی بَدْرٍ : لَوْ کَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِیٍّ حَیًّا فَکَلَّمَنِی فِی ہَؤُلاَئِ النَّتْنَی لَخَلَّیْتُہُمْ لَہُ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣١٣٩-٤٠٢٤]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৪০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٣٤) ثابت حضرت انس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ مکہ کے اسی افراد نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) پر جبل تنعیم سے اتر کر نماز فجر کے وقت حملہ کا ارادہ کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں پکڑ کر معاف کردیا۔ قرآن نازل ہوا : { وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ } [الفتح ٢٤] ” کہ اللہ نے ان کے ہاتھوں سے تمہیں بچایا اور تمہارے ہاتھوں سے ان کو مکہ کی وادی میں محفوظ رکھا تمہارے غلبہ حاصل کرلینے کے بعد۔ “
(١٨٠٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرُوَیْہِ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ سَلاَّمٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ ثَمَانِینَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ ہَبَطُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابِہِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِیمِ عِنْدَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ فَأَخَذَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَعَفَا عَنْہُمْ قَالَ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ { وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ } [الفتح ٢٤]

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ عَنْ حَمَّادٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٨٠٨]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৪১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٣٥) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ پڑاؤ فرمایا تو لوگ کانٹے دار درختوں کے سایہ کی تلاش میں نکلے۔ لوگوں نے اپنا اسلحہ درختوں پر لٹکا دیا۔ ایک دیہاتی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار پکڑ کر سونت کر کہنے لگا : آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ۔ دیہاتی نے تلوار رکھ دی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو بلایا اور دیہاتی کی حرکت کی خبر دی وہ آپ کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے اسے سزا نہ دی۔
(١٨٠٣٥) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَزَلَ مَنْزِلاً وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِی الْعِضَاہِ یَسْتَظِلُّونَ تَحْتَہَا فَعَلَّقَ النَّاسُ سِلاَحَہُمْ فِی شَجَرَۃٍ فَجَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی سَیْفِہِ فَأَخَذَہُ فَسَلَّہُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی ؟ وَالنَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : اللَّہُ ۔ فَشَامَ الأَعْرَابِیُّ السَّیْفَ فَدَعَا النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَصْحَابَہُ وَأَخْبَرَہُمْ بِصَنِیعِ الأَعْرَابِیِّ وَہُوَ جَالِسٌ إِلَی جَنْبِہِ لَمْ یُعَاقِبْہُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৪২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٣٦) قتادہ اس کی مثل ذکر کرتے ہیں کہ عرب کی ایک قوم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا سے قتل کرنے کی سازش کی تو انھوں نے اس دیہاتی کو بھیجا۔ پھر یہ آیت تلاوت کی : { اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ ھَمَّ قَوْمٌ} [المائدۃ ١١] ” تم اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب ایک قوم نے (ہلاک) کرنے کا قصد کیا تھا۔ “
(١٨٠٣٦) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ أَخْبَرَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ ۔ قَالَ مَعْمَرٌ وَکَانَ قَتَادَۃُ یَذْکُرُ نَحْوَ ہَذَا وَیَذْکُرُ أَنَّ قَوْمًا مِنَ الْعَرَبِ أَرَادُوا أَنْ یَفْتِکُوا بِالنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَرْسَلُوا ہَذَا الأَعْرَابِیَّ وَیَتْلُو { وَاذْکُرُوا نِعْمَۃَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ ہَمَّ قَوْمٌ} [المائدۃ ١١] الآیَۃَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৪৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٣٧) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ثقیف بنو عقیل کے حلیف تھے تو بنو ثقیف نے دو صحابہ کو قیدی بنا لیا اور صحابہ کرام (رض) نے بنو عقیل کے آدمی کو قید کرلیا اور جکڑ دیا۔ اسی حالت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے تو اس نے آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! آپ اس کے پاس آئے اور پوچھا : کیا بات ہے ؟ اس نے کہا : آپ نے مجھے کس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا ہے ؟ اور کیوں کر حج کرنے والوں کو گرفتار کرتے ہو ؟ آپ نے فرمایا : یہ بڑی بات ہے تو اپنے حلیف بنو ثقیف کے جرم کی وجہ سے پکڑا گیا ہے۔ پھر آپ چلے گئے۔ اس نے آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! آپ رحیم رقیق القلب تھے، واپس آئے۔ آپ نے پوچھا : تیری کیا حالت ہے ؟ اس نے کہا : میں مسلمان ہوں۔ آپ نے فرمایا : یہ بات تو تب کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا تو مکمل فلاح پا لیتا۔ آپ پھر چلے۔ اس نے آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! پھر آپ اس کے پاس آئے اور پوچھا : تیری کیا حالت ہے ؟ اس نے کہا : میں بھوکا ہوں، کھانا کھلاؤ، پیاسا ہوں پانی پلاؤ ! فرمایا : یہ تیری ضرورت ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ دو صحابہ کے عوض اس کو چھوڑا گیا۔
(١٨٠٣٧) وَأَمَّا الْمُفَادَاۃُ بِالنَّفْسِ فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ بْنِ وَاقِدٍ الْکِلاَبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَتْ ثَقِیفُ حُلَفَائَ لِبَنِی عُقَیْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِیفُ رَجُلَیْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلاً وَأَصَابُوا مَعَہُ الْعَضْبَائَ فَأَتَی عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ فِی الْوَثَاقِ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ فَأَتَاہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ ۔ فَقَالَ : بِمَ أَخَذْتَنِی وَبِمَ أَخَذْتَ سَابِقَ الْحَاجِّ ؟ فَقَالَ إِعْظَامًا لِذَاکَ : أُخِذْتَ بِجَرِیرَۃِ حُلَفَائِکَ ثَقِیفَ ۔ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْہُ فَنَادَاہُ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ ۔ قَالَ : وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَحِیمًا رَقِیقًا فَرَجَعَ إِلَیْہِ فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ فَقَالَ : إِنِّی مُسْلِمٌ۔ قَالَ : لَوْ قُلْتَہَا وَأَنْتَ تَمْلِکُ أَمْرَکَ أَفْلَحْتَ کُلَّ الفَلاَحِ ۔ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْہُ فَنَادَاہُ یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ ۔ فَأَتَاہُ فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ فَقَالَ : إِنِّی جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِی وَظَمْآنُ فَاسْقِنِی قَالَ : ہَذِہِ حَاجَتُکَ ۔ قَالَ : فَفُدِیَ بِالرَّجُلَیْنِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَیْرِہِ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٦٤]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৪৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٣٨) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کے دو آدمیوں کے فدیے میں مشرکین کا ایک آدمی دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کے دو آدمی لیے اور مشرکین کا ایک آدمی دیا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(١٨٠٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَمِّہِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَدَی رَجُلَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَعْطَی رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِکِینَ قَالَ سُفْیَانُ یَعْنِی أَخَذَ رَجُلَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَعْطَی رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِکِینَ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৪৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٣٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں (ان کی اکثر احادیث حضرت عمر (رض) سے ہیں) : جب بدر کا دن تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تمہارا ان قیدیوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) فرمانے لگے : اے اللہ کے نبی ! یہ ہمارے چچا کے بیٹے، خاندان کے لوگ اور ہمارے بھائی ہیں، اگر ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیں ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور مشرکین کے خلاف مالی قوت بھی حاصل ہوجائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے ابن خطاب ! تیرا کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی میری رائے ابوبکر والی نہیں ہے بلکہ یہ کفر کے سردار ہیں ان کے سر تن سے جدا کر دو لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کی رائے کو قبول فرمایا، میری رائے قبول نہ کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فدیہ لے لیا۔ جب صبح ہوئی تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا، دیکھتا ہوں کہ ابوبکر (رض) اور آپ بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے بتائیں آپ اور ابوبکر کو کس چیز نے رونے پر مجبور کردیا ؟ اگر رونے کی وجہ ہو تو میں بھی رو لوں یا پھر تم دونوں کے رونے کی وجہ سے رو لوں۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات نے آپ کے ساتھیوں کو میرے سامنے پیش کیا اور اس درخت سے قریب تر اللہ کا عذاب پیش کیا گیا تو اللہ نے قرآن نازل فرمایا : { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَ اللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ } [الانفال ٦٧] ” کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ خون بہالے۔ تم دنیا کا ارادہ کرتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ رکھتا ہے۔ “ (ب) عکرمہ بن عمارہ نے کچھ اضافہ فرمایا ہے : { فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا } [الانفال ٦٧] ” اللہ نے غنیمتیں ان کے لیے حلال قرار دیں۔ “
(١٨٠٣٩) وَأَمَّا الْمُفَادَاۃُ بِالْمَالِ فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ أَبِی زُمَیْلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَکَانَ أَکْثَرُ حَدِیثِہِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ قَالَ : مَا تَرَوْنَ فِی ہَؤُلاَئِ الأُسَارَی ؟ ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِیرَۃِ وَالإِخْوَانِ غَیْرَ أَنَّا نَأْخُذُ مِنْہُمُ الْفِدَائَ لِیَکُونَ لَنَا قُوَّۃً عَلَی الْمُشْرِکِینَ وَعَسَی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَہْدِیَہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ وَیَکُونُوا لَنَا عَضُدًا۔ قَالَ : فَمَاذَا تَرَی یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ ۔ قُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا أَرَی الَّذِی رَأَی أَبُو بَکْرٍ وَلَکِنْ ہَؤُلاَئِ أَئِمَّۃُ الْکُفْرِ وَصَنَادِیدُہُمْ فَقَرِّبْہُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَہُمْ قَالَ فَہَوِیَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَلَمْ یَہْوَ مَا قُلْتُ أَنَا فَأَخَذَ مِنْہُمُ الْفِدَائَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَإِذَا ہُوَ وَأَبُو بَکْرٍ قَاعِدَانِ یَبْکِیَانِ فَقُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَخْبِرْنِی مِنْ أَیْ شَیْئٍ تَبْکِی أَنْتَ وَصَاحِبُکَ ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُکَائً بَکَیْتُ وَإِلاَّ تَبَاکَیْتُ لِبُکَائِکُمَا قَالَ : الَّذِی عَرَضَ عَلَیَّ أَصْحَابُکَ لَقَدْ عُرِضَ عَلَیَّ عَذَابُکُمْ أَدْنَی مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ ۔ وَشَجَرَۃٌ قَرِیبَۃٌ حِینَئِذٍ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللَّہُ یُرِیدُ الآخِرَۃَ } [الانفال ٦٧] الآیَۃَ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ زَادَ إِلَی قَوْلِہِ { فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَیِّبًا } [الانفال ٦٩] فَأَحَلَّ اللَّہُ الْغَنِیمَۃَ لَہُمْ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الْقَسْمِ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٦٣]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৪৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٤٠) عبیدہ حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدری قیدیوں کے بارے میں فرمایا : اگر تم قتل کرنا یا فدیہ لینا چاہو اور فدیہ سے فائدہ اٹھاؤ اور اتنی تعداد میں تمہارے ساتھی شہید کیے جائیں گے۔ فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس ان ستر میں سے آخری تھے جو یمامہ کے دن شہید کیے گئے۔

(ب) برلسی نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ ابن عرعرہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ معاملہ ازہر پر پیش کیا تو اس نے انکار کردیا بلکہ وہ کہتے ہیں کہ عبیدہ حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں۔
(١٨٠٤٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْبُرُلُّسِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَرْعَرَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَرْعَرَۃَ حَدَّثَنَا أَزْہَرُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِیدَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الأُسَارَی یَوْمَ بَدْرٍ : إِنْ شِئْتُمْ قَتَلْتُمُوہُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ فَادَیْتُمُوہُمْ وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِالْفِدَائِ وَاسْتُشْہِدَ مِنْکُمْ بِعِدَّتِہِمْ ۔ قَالَ فَکَانَ آخِرَ السَّبْعِینَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ قُتِلَ یَوْمَ الْیَمَامَۃِ زَادَ الْبُرُلُّسِیُّ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ ابْنُ عَرْعَرَۃَ : رَدَدْتُ ہَذَا عَلَی أَزْہَرَ فَأَبَی إِلاَّ أَنْ یَقُولَ عَبِیدَۃُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক: