আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮০৪৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٤١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیدیوں کے فدیہ میں جاہلیت کے چار سو لیے۔
(١٨٠٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُاللَّہِ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَکْرَاوِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَنْبَسِ عَنْ أَبِی الشَّعْثَائِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی فِدَائِ الأُسَارَی أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ أَرْبَعَمِائَۃٍ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৪৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٤٢) ابن اسحاق بدر کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ابو وداعہ سہمی بدری قیدی تھا۔ اس کے بیٹے نے اپنے باپ کو چار ہزار درہموں میں حاصل کیا۔ قریشیوں نے اس کے اور اپنے قیدیوں کے فدیے روانہ کیے۔ مکرز بن حفص سہیل بن عمرو کا فدیہ لے کر آیا۔ اس نے کہا : سہیل کی جگہ مجھے قید کرلو۔ جب اس کا فدیہ آئے گا مجھے چھوڑ دینا۔ صحابہ (رض) نے سہیل کو چھوڑ کر مکرز کو قید کر لیا۔۔۔ راوی کہتے ہیں : تمام قوم نے اپنے قیدیوں کا فدیہ دیا، جتنے پر وہ راضی ہوئے اور بدر قیدیوں میں سے سب سے زیادہ فدیہ عباس بن عبدالمطلب کا تھا۔ یہ مالدر آدمی تھا۔ اس نے ایک سو اوقیہ سونا ادا کیا تھا۔
(١٨٠٤٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ بَدْرٍ قَالَ : وَکَانَ فِی الأُسَارَی أَبُو وَدَاعَۃَ السَّہْمِیُّ فَقَدِمَ ابْنُہُ الْمُطَّلِبُ الْمَدِینَۃَ فَأَخَذَ أَبَاہُ بِأَرْبَعَۃِ آلاَفِ دِرْہَمٍ فَانْطَلَقَ بِہِ ثُمَّ بَعَثَتْ قُرَیْشٌ فِی فِدَائِ الأُسَارَی فَقَدِمَ مِکْرَزُ بْنُ حَفْصٍ فِی فِدَائِ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ اجْعَلُوا رِجْلِی مَکَانَ رِجْلِہِ وَخَلُّوا سَبِیلَہُ حَتَّی یَبْعَثَ إِلَیْکُمْ بِفِدَائِہِ فَخَلُّوا سَبِیلَ سُہَیْلٍ وَحَبَسُوا مِکْرَزًا قَالَ فَفَدَی کُلُّ قَوْمٍ أَسِیرَہُمْ بِمَا رَضُوا قَالَ وَکَانَ أَکْثَرُ الأُسَارَی یَوْمَ بَدْرٍ فِدَائً الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَذَلِکَ لأَنَّہُ کَانَ رَجُلاً مُوسِرًا فَافْتَدَی نَفْسَہُ بِمِائَۃِ أُوقِیَّۃِ ذَہَبٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৪৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغلوب کے بالغ مردوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : امیر کو اختیار ہے کہ اگر بتوں کے پجاری اسلام نہ لائیں تو امیر ان کو قتل کرسکتا ہے اور اہل کتاب جزیہ دیں یا امیر ان پر احسان کرے یا مال بطور فدیہ دیں یا ان کے بدلہ میں مسلمان قیدیوں کو چھ
(١٨٠٤٣) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ انصاری لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی۔ انھوں نے کہا : آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ معاف کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تم ایک درہم بھی نہیں چھوڑو گے۔
(١٨٠٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا الْقَبَّانِیُّ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ شِہَابٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رِجَالاً مِنَ الأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا : ائْذَنْ لَنَا فَلْنَتْرُکْ لاِبْنِ أُخْتِنَا الْعَبَّاسِ فِدَائَ ہُ فَقَالَ : وَاللَّہِ لاَ تَذَرُونَ دِرْہَمًا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ وَسَائِرُ الأَحَادِیثِ فِی ہَذَا الْبَابِ قَدْ مَضَتْ فِی کِتَابِ الْقَسْمِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٥٣٧- ٣٠٤٩-٤٠١٨]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ وَسَائِرُ الأَحَادِیثِ فِی ہَذَا الْبَابِ قَدْ مَضَتْ فِی کِتَابِ الْقَسْمِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٥٣٧- ٣٠٤٩-٤٠١٨]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٤٤) حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دو باتیں یاد رکھی ہیں : 1 اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کو فرض کیا ہے۔ جب تم قتل کرو تو احسن انداز سے اور جب تم ذبح کرو تب بھی احسن انداز سے ذبح کرو اور اپنی چھری کو تیز کر کے اپنے ذبیحہ کو راحت دو ۔
(١٨٠٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ ثِنْتَانِ حَفِظْتُہُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِنَّ اللَّہَ کَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَۃَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْیُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَہُ وَلْیُرِحْ ذَبِیحَتَہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٥٥]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٥٥]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٤٥) عبداللہ بن یزید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مثلہ اور ڈاکے سے منع فرمایا ہے۔
(١٨٠٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الْمُثْلَۃِ وَالنُّہْبَی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ وَغَیْرِہِ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٥٥١٦١]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ وَغَیْرِہِ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٥٥١٦١]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٤٦) سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کو لشکر یا سریے کا امیر مقرر فرماتے تو اللہ سے ڈرنے اور مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت فرماتے۔ پھر فرماتے : اللہ کا نام لے کر غزوہ کرو اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرو اور خدا کے منکروں سے جہاد کرو۔ غزوہ کرو ! خیانت، دھوکا ، مثلہ اور غلام کو قتل نہ کرو۔
(١٨٠٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ حَدَّثَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ شُعْبَۃَ بْنِ الْحَجَّاج عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ الأَسْلَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ بُرَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی جَیْشٍ أَوْ سَرِیَّۃٍ أَمَرَہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ بِتَقْوَی اللَّہِ وَمَنْ مَعَہُ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ خَیْرًا ثُمَّ قَالَ : اغْزُوا بِاسْمِ اللَّہِ فَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَقَاتِلُوا مَنْ کَفَرَ بِاللَّہِ اغْزُوا وَلاَ تَغُلُّوا وَلاَ تَغْدِرُوا وَلاَ تُمَثِّلُوا وَلاَ تَقْتُلُوا وَلِیدًا ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٣١]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٤٧) ہباج بن عمران رجمعی کہتے ہیں کہ میرے والد کا غلام بھاگ گیا۔ انھوں نے کہا : اگر میں نے اسے پکڑ لیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا۔ جب غلام قابو میں آگیا تو مجھے عمران بن حصین سے پوچھنے کے لیے روانہ کردیا تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ سے سنا، آپ خطبہ میں صدقہ کی ترغیب فرماتے اور مثلہ سے منع کرتے تھے۔ کہتے ہیں میں نے سمرہ کی طرف بھیجا۔ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ صدقہ پر ابھارتے اور مثلہ سے منع فرماتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کے پاؤں کاٹ ڈالے، آنکھوں میں سیخ گرم کر کے پھیرے۔ حضرت انس اور ایک شخص دونوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں، پھر اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا تو اس میں صدقہ پر ابھارا اور مثلہ سے منع فرمایا۔
(١٨٠٤٧) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ ہَیَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِیِّ : أَنَّ غُلاَمًا لأَبِیہِ أَبَقَ فَجَعَلَ لِلَّہِ عَلَیْہِ إِنْ قَدَرَ عَلَیْہِ لَیَقْطَعَنَّ یَدَہُ فَلَمَّا قَدَرَ عَلَیْہِ بَعَثَنِی إِلَی عِمْرَانَ بْنِ حَصِینٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ إِنِّی سَمِعْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَحُثُّ فِی خُطْبَتِہِ عَلَی الصَّدَقَۃِ وَیَنْہَی عَنِ الْمُثْلَۃِ ۔
قَالَ وَبَعَثَنِی إِلَی سَمُرَۃَ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَحُثُّ عَلَی الصَّدَقَۃِ وَیَنْہَی عَنِ الْمُثْلَۃِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ قَدْ قَطَعَ أَیْدِیَ الَّذِینَ اسْتَاقُوا لِقَاحَہُ وَأَرْجُلَہُمْ وَسَمَلَ أَعْیُنَہُمْ فَإِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَرَجُلاً رَوَیَا ہَذَا عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ رَوَیَا فِیہِ أَوْ أَحَدُہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَخْطُبْ بَعْدَ ذَلِکَ خُطْبَۃً إِلاَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَۃِ وَنَہَی عَنِ الْمُثْلَۃِ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَہَذِہِ الزِّیَادَۃُ فِی حَدِیثِ أَنَسٍ ۔ [صحیح ]
قَالَ وَبَعَثَنِی إِلَی سَمُرَۃَ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَحُثُّ عَلَی الصَّدَقَۃِ وَیَنْہَی عَنِ الْمُثْلَۃِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ قَدْ قَطَعَ أَیْدِیَ الَّذِینَ اسْتَاقُوا لِقَاحَہُ وَأَرْجُلَہُمْ وَسَمَلَ أَعْیُنَہُمْ فَإِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَرَجُلاً رَوَیَا ہَذَا عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ رَوَیَا فِیہِ أَوْ أَحَدُہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَخْطُبْ بَعْدَ ذَلِکَ خُطْبَۃً إِلاَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَۃِ وَنَہَی عَنِ الْمُثْلَۃِ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَہَذِہِ الزِّیَادَۃُ فِی حَدِیثِ أَنَسٍ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٤٨) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ عرینہ قبیلہ کے لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ انھیں آب و ہوا موافق نہ آئی تو رسول اللہ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو صدقہ کے اونٹوں کے دودھ اور پیشاب پیو۔ انھوں نے ایسا کیا تو تندرست ہوگئے۔ پھر انھوں نے چرواہوں کو قتل کیا اور مرتد ہوگئے اور رسول اللہ کے اونٹ بھی لے گئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پتہ چلا تو ان کا پیچھا کیا، جب پکڑ کر ان کو لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ہاتھ، پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں پھروا دیں اور ان کو پتھریلی زمین میں پھینک دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
(ب) عبدالوہاب حمید سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ تم ان کے پیشاب پیو کا ذکر ہے یا نہیں۔
(ب) عبدالوہاب حمید سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ تم ان کے پیشاب پیو کا ذکر ہے یا نہیں۔
(١٨٠٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ أَنَسٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ وَحُمَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَیْنَۃَ قَدِمُوا َلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمَدِینَۃَ فَاجْتَوَوْہَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَی إِبِلِ الصَّدَقَۃِ فَتَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِہَا وَأَبْوَالِہَا ۔ فَفَعَلُوا فَصَحُّوا ثُمَّ مَالُوا عَلَی الرِّعَائِ فَقَتَلُوہُمْ وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَعَثَ فِی إِثْرِہِمْ فَأُتِیَ بِہِمْ فَقَطَعَ أَیْدِیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَسَمَلَ أَعْیُنَہُمْ وَتَرَکَہُمْ فِی الْحَرَّۃِ حَتَّی مَاتُوا۔
لَفْظُ حَدِیثِ ہُشَیْمٍ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الْوَہَّابِ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ لاَ أَحْفَظُ : اشْرَبُوا أَبْوَالَہَا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ وَحُمَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَیْنَۃَ قَدِمُوا َلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمَدِینَۃَ فَاجْتَوَوْہَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَی إِبِلِ الصَّدَقَۃِ فَتَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِہَا وَأَبْوَالِہَا ۔ فَفَعَلُوا فَصَحُّوا ثُمَّ مَالُوا عَلَی الرِّعَائِ فَقَتَلُوہُمْ وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَعَثَ فِی إِثْرِہِمْ فَأُتِیَ بِہِمْ فَقَطَعَ أَیْدِیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَسَمَلَ أَعْیُنَہُمْ وَتَرَکَہُمْ فِی الْحَرَّۃِ حَتَّی مَاتُوا۔
لَفْظُ حَدِیثِ ہُشَیْمٍ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الْوَہَّابِ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ لاَ أَحْفَظُ : اشْرَبُوا أَبْوَالَہَا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٤٩) حضرت انس بن مالک (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں۔۔۔ حمید کی حدیث کے ہم معنیٰ ہے کہ عکل قبیلہ کا گروہ تھا اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مثلہ سے منع فرما دیا۔
(١٨٠٤٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَعْنَی حَدِیثِ حُمَیْدٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : نَفَرٌ مِنْ عُکْلٍ قَالَ فَنَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الْمُثْلَۃِ بَعْدَ ذَلِکَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٥٠) حضرت انس بن مالک اس حدیث کو نقل فرماتے ہیں، اس میں اضافہ ہے کہ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مثلہ سے منع فرما دیا۔
(١٨٠٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِہَذَا الْحَدِیثِ زَادَ ثُمَّ نَہَی عَنِ الْمُثْلَۃِ بَعْدَ ذَلِکَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٥١) قتادہ حضرت انس بن مالک (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ عکل و عرینہ کا گروہ۔۔۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا۔۔۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خبر ملی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بعد صدقہ پر ابھارتے اور مثلہ سے منع فرماتے تھے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : علی بن حسین حضرت انس بن مالک کی اونٹنیوں والوں کی حدیث کا انکار کرتے تھے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : علی بن حسین حضرت انس بن مالک کی اونٹنیوں والوں کی حدیث کا انکار کرتے تھے۔
(١٨٠٥١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَہْطًا مِنْ عُکْلٍ وَعُرَیْنَۃَ فَذَکَرَ ہَذَا الْحَدِیثَ ۔
قَالَ قَتَادَۃُ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یَحُثُّ فِی خِطْبَتِہِ بَعْدَ ذَلِکَ عَلَی الصَّدَقَۃِ وَیَنْہَی عَنِ الْمُثْلَۃِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَکَانَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ یُنْکِرُ حَدِیثَ أَنَسٍ فِی أَصْحَابِ اللِّقَاحِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
قَالَ قَتَادَۃُ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یَحُثُّ فِی خِطْبَتِہِ بَعْدَ ذَلِکَ عَلَی الصَّدَقَۃِ وَیَنْہَی عَنِ الْمُثْلَۃِ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَکَانَ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ یُنْکِرُ حَدِیثَ أَنَسٍ فِی أَصْحَابِ اللِّقَاحِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٥٢) حضرت جعفر اپنے والد علی بن حسین سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! رسول اللہ نے آنکھوں میں سلائیاں نہیں پھیریں، صرف ہاتھ اور پاؤں کاٹے ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں : حضرت انس بن مالک اور ابن عمر کی روایات صحیح ثابت ہیں۔ ان میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیریں ہیں تو کسی کے انکار کردینے سے کیا حاصل۔
شیخ فرماتے ہیں : حضرت انس بن مالک اور ابن عمر کی روایات صحیح ثابت ہیں۔ ان میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیریں ہیں تو کسی کے انکار کردینے سے کیا حاصل۔
(١٨٠٥٢) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی یَحْیَی عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ مَا سَمَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَیْنًا وَلاَ زَادَ أَہْلَ اللِّقَاحِ عَلَی قَطْعِ أَیْدِیہُمْ وَأَرْجُلِہُمْ ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدِیثُ أَنَسٍ حَدِیثٌ ثَابِتٌ صَحِیحٌ وَمَعَہُ رِوَایَۃُ ابْنِ عُمَرَ وَفِیہِمَا جَمِیعًا أَنَّہُ سَمَلَ أَعْیُنَہُمْ فَلاَ مَعْنَی لإِنْکَارِ مَنْ أَنْکَرَ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدِیثُ أَنَسٍ حَدِیثٌ ثَابِتٌ صَحِیحٌ وَمَعَہُ رِوَایَۃُ ابْنِ عُمَرَ وَفِیہِمَا جَمِیعًا أَنَّہُ سَمَلَ أَعْیُنَہُمْ فَلاَ مَعْنَی لإِنْکَارِ مَنْ أَنْکَرَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٥٣) قتادہ حضرت انس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ عرینہ قبیلے کا گروہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ابن سیرین فرماتے ہیں کہ یہ حدود نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
(ب) ہشام قتادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ چرواہوں کے ساتھ انھوں نے یہ سلوک کیا تھا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرینہ کے گروہ کے ساتھ کیا تھا۔
(ب) ہشام قتادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ چرواہوں کے ساتھ انھوں نے یہ سلوک کیا تھا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرینہ کے گروہ کے ساتھ کیا تھا۔
(١٨٠٥٣) فَالأَحْسَنُ حَمْلُہُ عَلَی النَّسْخِ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَہْطًا مِنْ عُرَیْنَۃَ قَدِمُوا عَلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔
قَالَ قَتَادَۃُ وَحَدَّثَنِی ابْنُ سِیرِینَ أَنَّ ہَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ ۔
وَفِی رِوَایَۃِ ہِشَامٍ عَنْ قَتَادَۃَ مَا دَلَّ عَلَی ہَذَا أَوْ حَمْلِہِ عَلَی أَنَّہُ فَعَلَ بِہِمْ مَا فَعَلُوا بِالرِّعَائِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
قَالَ قَتَادَۃُ وَحَدَّثَنِی ابْنُ سِیرِینَ أَنَّ ہَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ ۔
وَفِی رِوَایَۃِ ہِشَامٍ عَنْ قَتَادَۃَ مَا دَلَّ عَلَی ہَذَا أَوْ حَمْلِہِ عَلَی أَنَّہُ فَعَلَ بِہِمْ مَا فَعَلُوا بِالرِّعَائِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৬০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٥٤) سلیمان تیمی حضرت انس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیریں؛ کیونکہ انھوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔
(١٨٠٥٤) وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ یَعْنِی ابْنَ إِبْرَاہِیمَ الْمَرْوَزِیَّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ غَیْلاَنَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مِہْرَانَ وَأَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ قَالاَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَہْلٍ الأَعْرَجُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنَّمَا سَمَلَ أَعْیُنَ أُولَئِکَ لأَنَّہُمْ سَمَلُوا أَعْیُنَ الرُّعَاۃِ ۔
لَفْظُ حَدِیثِ الأَعْرَجِ ۔
وَفِی رِوَایَۃِ الْمَرْوَزِیِّ : إِنَّمَا سَمَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَعْیُنَہُمْ لأَنَّہُمْ سَمَلُوا أَعْیُنَ الرُّعَاۃِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَہْلٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٦٧١]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مِہْرَانَ وَأَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ قَالاَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَہْلٍ الأَعْرَجُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنَّمَا سَمَلَ أَعْیُنَ أُولَئِکَ لأَنَّہُمْ سَمَلُوا أَعْیُنَ الرُّعَاۃِ ۔
لَفْظُ حَدِیثِ الأَعْرَجِ ۔
وَفِی رِوَایَۃِ الْمَرْوَزِیِّ : إِنَّمَا سَمَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَعْیُنَہُمْ لأَنَّہُمْ سَمَلُوا أَعْیُنَ الرُّعَاۃِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَہْلٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٦٧١]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৬১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک قیدیوں کو مثلہ کیے بغیر قتل کرنے کا بیان
(١٨٠٥٥) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا مثلہ صرف اس لیے کیا؛ کیونکہ انھوں نے چرواہوں کا مثلہ کیا تھا۔
(١٨٠٥٥) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ جَعْفَرٍ الرُّصَافِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعِیدٍ الْقُرَشِیُّ عَنْ جَدِّہِ الْحَسَنِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ حَصِینِ بْنِ مُخَارِقٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنَّمَا مَثَّلَ بِہِمْ لأَنَّہُمْ مَثَّلُوا بِالرَّاعِی۔
[صحیح۔ تقدم قبلہ ]
[صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৬২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کو قیدی بنانے کے بعد باندھ کر نشانہ بنانے سے منع کیا گیا ہے
(١٨٠٥٦) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی ذی روح چیز کو نشانہ بازی کے لیے نہ باندھو۔
(١٨٠٥٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لاَ تَتَّخِذُوا شَیْئًا فِیہِ الرُّوحُ غَرَضًا ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৬৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کو قیدی بنانے کے بعد باندھ کر نشانہ بنانے سے منع کیا گیا ہے
(١٨٠٥٧) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) مدینہ کے کسی راستہ پر نکلے۔ انھوں نے دیکھا کہ بچے مرغی کو باندھ کر نشانہ بازی کر رہے ہیں۔ جب بچوں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو دیکھا تو فرار ہوگئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) غصے ہوئے اور پوچھا : یہ کس نے کیا ؟ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیوان کا مثلہ کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
(١٨٠٥٧) وَرَوَاہُ الْمِنْہَالُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا الْمِنْہَالُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا خَرَجَ فِی طَرِیقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ فَرَأَی غِلْمَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَۃً یَرْمُونَہَا فَلَمَّا رَأَوْہُ فَرُّوا فَغَضِبَ وَقَالَ : مَنْ فَعَلَ ہَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدْ لَعَنَ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَیَوَانِ ۔
ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الشَّوَاہِدِ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الشَّوَاہِدِ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৬৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کو قیدی بنانے کے بعد باندھ کر نشانہ بنانے سے منع کیا گیا ہے
(١٨٠٥٨) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا گزر قریشی بچوں کے پاس سے ہوا۔ وہ ایک پرندے کو باندھ کر نشانہ بازی کر رہے تھے لیکن تمام کے نشانے خطا تھے۔ جب انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو دیکھا تو بکھر گئے تو ابن عمر (رض) نے پوچھا : یہ کس نے کیا ؟ اللہ اس پر لعنت فرمائے جس نے کیا؛ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذی روح چیز پر نشانے بازی کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
(١٨٠٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوعَمْرٍو الْحِیرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُویَعْلَی حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : مَرَّ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِفِتْیَانٍ مِنْ قُرَیْشٍ وَقَدْ نَصَبُوا طَیْرًا وَہُمْ یَرْمُونَہُ وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّیْرِ کُلَّ خَاطِئَۃٍ مِنْ نَبْلِہِمْ فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : مَنْ فَعَلَ ہَذَا لَعَنَ اللَّہُ مَنْ فَعَلَ ہَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَیْئًا فِیہِ الرُّوحُ غَرَضًا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ أَبِی عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ أَبِی عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৬৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کو قیدی بنانے کے بعد باندھ کر نشانہ بنانے سے منع کیا گیا ہے
(١٨٠٥٩) ابو ایوب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چوپائے کو باندھنے سے منع فرمایا ہے۔ ایوب کہتے ہیں : اگر مرغی بھی ہو تو میں نہیں باندھوں گا۔
(١٨٠٥٩) أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ تِعْلَی عَنْ أَبِی أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَہَی عَنْ صَبْرِ الدَّابَّۃِ قَالَ أَبُو أَیُّوبَ لَوْ کَانَتْ دَجَاجَۃً مَا صَبَرْتُہَا۔ [صحیح لغیرہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৬৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کو قیدی بنانے کے بعد باندھ کر نشانہ بنانے سے منع کیا گیا ہے
(١٨٠٦٠) حضرت ابو ایوب (رض) فرماتے ہیں : ہم نے عبدالرحمن بن خالد بن ولید کے ساتھ ایک جنگ لڑی۔ ہم نے رومی سرزمین پر پڑاؤ کیا۔ کہتے ہیں کہ ابو ایوب نے ایک مسجد بنائی۔ ہم شام کے وقت جا کر ان کی مجلس میں بیٹھ کر ان کی باتوں سے فائدہ حاصل کرتے، کہتے ہیں : ایک شام میں ان کے ساتھ تھا کہ ایک شخص آیا۔ اس نے کہا کہ امیر المؤمنین کے پاس چار گاؤخر لائے گئے تو انھوں نے انھیں باندھنے کا حکم دیا اور تیر اندازی کر کے انھیں ہلاک کردیا گیا تو ابو ایوب گھبرا کر کھڑے ہوئے اور عبدالرحمن بن خالد کے پاس آئے اور فرمانے لگے : آپ نے ان کو باندھا تھا ؟ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ نے چوپائے کو باندھنے سے منع فرمایا تھا۔ میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے یہ یہ ہو اگرچہ میں ایک مرغی ہی کو کیوں نہ باندھو تو عبدالرحمن بن خالد نے ان کی جگہ اپنے چار غلام آزاد کروا دیے۔ ابو زرعہ عبید بن یعلیٰ فرماتے ہیں کہ وہ فلسطین کے تھے ان کا گھر عسقلان میں تھا۔
(١٨٠٦٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ تِعْلَی عَنْ أَبِی أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَدْرَبْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَہُوَ أَمِیرُ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ عَلَی الدُّرُوبِ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلَنَا مِنْ أَرْضِ الرُّومِ فَأَقَمْنَا بِہِ قَالَ وَکَانَ أَبُو أَیُّوبَ قَدِ اتَّخَذَ مَسْجِدًا فَکُنَّا نَرُوحُ وَنَجْلِسُ إِلَیْہِ وَیُصَلِّی لَنَا وَنَسْتَمْتِعُ مِنْ حَدِیثِہِ قَالَ فَوَاللَّہِ إِنَّا لَعَشِیَّۃً مَعَہُ إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ أُتِیَ الآنَ الأَمِیرُ بِأَرْبَعَۃِ أَعْلاَجٍ مِنَ الرُّومِ فَأَمَرَ بِہِمْ أَنْ یُصْبَرُوا فَرُمُوا بِالنَّبْلِ حَتَّی قُتِلُوا فَقَامَ أَبُو أَیُّوبَ فَزِعًا حَتَّی جَائَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدٍ فَقَالَ أَصَبَرْتَہُمْ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَنْہَی عَنْ صَبْرِ الدَّابَّۃِ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِی کَذَا وَکَذَا وَإِنِّی صَبَرْتُ دَجَاجَۃً قَالَ فَدَعَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ بِغِلْمَانٍ لَہُ أَرْبَعَۃٍ فَأَعْتَقَہُمْ مَکَانَہُمْ ۔ قَالَ أَبُو زُرْعَۃَ عُبَیْدُ بْنُ تِعْلَی مِنْ أَہْلِ فِلَسْطِینِ مَنْزِلُہُ عَسْقَلاَنُ ۔
وَرَوَاہُ أَیْضًا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرٍ ۔ [صحیح لغیرہ۔ بدون القصۃ ]
وَرَوَاہُ أَیْضًا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرٍ ۔ [صحیح لغیرہ۔ بدون القصۃ ]
তাহকীক: