আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮০৬৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کو قیدی بنانے کے بعد باندھ کر نشانہ بنانے سے منع کیا گیا ہے
(١٨٠٦١) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں سے قتل سے زیادہ محفوظ اہل ایمان ہوں گے۔
(١٨٠٦١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی وَزِیَادُ بْنُ أَیُّوبَ قَالاَ أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ عَنْ شِبَاکٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ ہُنَیِّ بْنِ نُوَیْرَۃَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَۃً أَہْلُ الإِیمَانِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৬৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کو قیدی بنانے کے بعد آگ سے جلانے کی ممانعت
(١٨٠٦٢) سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار، ایوب اور عمار وہنی کو دیکھا، وہ سب اکٹھے تھے۔ انھوں نے ان لوگوں کے بارے مذاکرہ کیا جن کو حضرت علی (رض) نے جلا دیا تھا۔

(ب) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں : اگر میں ہوتا تو انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول کی وجہ سے نہ جلاتا کہ تم اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کی وجہ سے قتل کردیتا کہ جو مرتدہو جائے (اپنا دین بدل لے ) اسے قتل کر دو ۔ عمار کہتے ہیں : ان کو جلایا نہ گیا تھا بلکہ ان کے لیے گڑھے کھودے گئے جن کے اندر سوراخ کردیے گئے پھر ان پر دھواں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ عمرو نے کہا : شاعر نے کہا ہے، (ترجمہ) تو مجھے جیسے چاہے موت کے آگے ڈال دے، جب کہ تو نے مجھے دو گڑھوں میں نہ ڈالا ہو جب انھوں نے لکڑیوں اور آگ کو اکٹھا کردیا ہو تو پھر موت فوراً آتی ہے دیر نہیں کرتی۔
(١٨٠٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ : رَأَیْتُ عَمْرَو بْنَ دِینَارٍ وَأَیُّوبَ وَعَمَّارَ الدُّہْنِیَّ اجْتَمَعُوا فَتَذَاکَرُوا الَّذِینَ حَرَّقَہُمْ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَحَدَّثَ أَیُّوبُ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ بَلَغَہُ قَالَ : لَوْ کُنْتُ أَنَا مَا حَرَّقْتُہُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّہِ ۔ وَلَقَتَلْتُہُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ بَدَّلَ دِینَہُ فَاقْتُلُوہُ ۔ فَقَالَ عَمَّارٌ : لَمْ یُحَرِّقْہُمْ وَلَکِنْ حَفَرَ لَہُمْ حَفَائِرَ وَخَرَقَ بَعْضُہَا إِلَی بَعْضٍ ثُمَّ دَخَّنَ عَلَیْہِمْ حَتَّی مَاتُوا فَقَالَ عَمْرٌو قَالَ الشَّاعِرُ

لِتَرْمِ بِیَ الْمَنَایَا حَیْثُ شَائَ تْ



إِذَا لَمْ تَرْمِ بِی فِی الْحُفْرَتَیْنِ

إِذَا مَا أَجَّجُوا حَطَبًا وَنَارًا



ہُنَاکَ الْمَوْتُ نَقْدًا غَیْرَ دَیْنِ

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ دُونَ قَوْلِ عَمَّارٍ وَعَمْرٍو۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৬৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کو قیدی بنانے کے بعد آگ سے جلانے کی ممانعت
(١٨٠٦٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کسی لشکر میں بھیجا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم دو فلاں قریشیوں کو پاؤ تو آگ سے جلا دینا۔ پھر جب جانے لگے تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تمہیں فلاں فلاں کو آگ سے جلانے کا حکم دیا تھا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ رب العزت ہی دے سکتے ہیں۔ اگر تم انھیں پالو تو قتل کردینا۔
(١٨٠٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الإِیَادِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ النَّصِیبِیُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ حَدَّثَنِی بُکَیْرٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ بُکَیْرٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی بَعْثٍ وَقَالَ : إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا ۔ لِرَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ : فَأَحْرِقُوہُمَا بِالنَّارِ ۔ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ : إِنِّی کُنْتُ أَمَرْتُکُمْ أَنْ تُحَرِّقُوا فُلاَنًا وَفُلاَنًا بِالنَّارِ وَإِنَّ النَّارَ لاَ یُعَذِّبُ بِہَا إِلاَّ اللَّہُ فَإِنْ وَجَدْتُمُوہُمَا فَاقْتُلُوہُمَا ۔

لَفْظُہُمَا سَوَائٌ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠١٦]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کو قیدی بنانے کے بعد آگ سے جلانے کی ممانعت
(١٨٠٦٤) حمزہ بن عمرو اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو بھیجا کہ اگر فلاں فلاں کو پاؤ تو آگ سے جلا دینا۔ جب وہ جانے لگا تو آپ نے بلایا اور فرمایا : آگ کا عذاب آگ کا رب ہی دے سکتا ہے۔
(١٨٠٦٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَنَّ زِیَادَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ أَخْبَرَہُ أَنَّ حَنْظَلَۃَ بْنَ عَلِیٍّ أَخْبَرَہُ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ رَجُلاً فَقَالَ : إِنْ أَصَبْتَ فُلاَنًا أَوْ فُلاَنًا فَأَحْرِقُوہُ بِالنَّارِ ۔ فَلَمَّا وَلَّی دَعَاہُ فَقَالَ : إِنَّہُ لاَ یُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلاَّ رَبُّہَا ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کو قیدی بنانے کے بعد آگ سے جلانے کی ممانعت
(١٨٠٦٥) محمد بن حمزہ اسلمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک لشکر کا امیر بنایا۔ کہتے ہیں : میں اس لشکر میں گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم فلاں کو پالو تو آگ سے جلا دینا۔ میں جانے لگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی۔ میں آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم فلاں کو پالو تو قتل کردینا جلانا نہ، کیونکہ آگ کا عذاب اس کا رب ہی دے سکتا ہے۔

(ب) اسامہ بن زید کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے گھروں سمیت جلانے کا حکم دیا اور طائف پر منجنیق کا نصب کرنا ہمارے قول کے مخالف نہیں ہے۔ وہ صرف مشرکین سے قتال کے بارے میں ہے، جب وہ رکنے والے نہ ہوں اور مشرکین کو جلانے کی نفی اس وقت ہے جب وہ قیدی ہوں۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ شکار کو باندھ کر نہ مارا جائے۔ پھر مرغی کو تیر مارنے کی ممانعت ہے جو باندھی نہ بھی گئی ہو۔
(١٨٠٦٥) وَرَوَاہُ مُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِیُّ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ قَالَ وَحَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَۃَ الأَسْلَمِیُّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَمَّرَہُ عَلَی سَرِیَّۃٍ قَالَ فَخَرَجْتُ فِیہَا وَقَالَ : إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا فَأَحْرِقُوہُ بِالنَّارِ فَوَلَّیْتُ فَنَادَانِی فَرَجَعْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ : إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا فَاقْتُلُوہُ وَلاَ تُحَرِّقُوہُ فَإِنَّہُ لاَ یُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلاَّ رَبُّ النَّارِ ۔

وَأَمَّا حَدِیثُ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ حَیْثُ أَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یُحَرِّقَ عَلَی أُبْنَی وَمَا رُوِیَ فِی نَصْبِ الْمَنْجَنِیقِ عَلَی الطَّائِفِ فَغَیْرُ مُخَالِفٍ لِمَا قُلْنَا إِنَّمَا ہُوَ فِی قِتَالِ الْمُشْرِکِینَ مَا کَانُوا مُمْتَنِعِینَ وَمَا رُوِیَ مِنَ النَّہْیِ فِی الْمُشْرِکِینَ إِذَا کَانُوا مَأْسُورِینَ

وَشَبَّہَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ بِرَمْیِ الصَّیْدِ مَا دَامَ عَلَی الاِمْتِنَاعِ ثُمَّ النَّہْیِ عَنْ رَمْیِ الدَّجَاجَۃِ الَّتِی لَیْسَتَ بِمُمْتَنِعَۃٍ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی پر غلام کے احکام جاری ہوں گے اگرچہ قید کے بعد اسلام قبول کر بھی لے
(١٨٠٦٦) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ صحابہ نے بنو عقیل کا ایک شخص قیدی بنا کر باندھ کر پتھریلی زمین میں پھینک دیا۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے۔ ہم بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ آپ ایک گدھے پر سوار تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نیچے ایک چادر تھی تو اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ اس نے کہا : مجھے کیونکر پکڑا گیا ہے ؟ اور حج کی طرف جانے والے کو کیوں پکڑا گیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو پکڑا گیا ہے تیرے حلیف بنو ثقیف کے جرم کی پاداش میں اور بنو ثقیف نے دو صحابہ کو قیدی بنا لیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو چھوڑ کر چل دیے۔ اس نے پھر آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر رحم آگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ اس نے کہا : میں تو مسلمان ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو اس وقت یہ بات کہہ دیتا جب تو آزار تھا تو ہر طرح سے کامیاب ہوجاتا ۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو چھوڑ کر چل دیے تو اس نے آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آگئے۔ اس نے کہا : میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلاؤ۔ راوی کہتے ہیں : میرا گمان ہے : اس نے کہا : میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تیری ضرورت ہے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے عوض اپنے دو آدمیوں کو رہا کروایا جس کو بنو ثقیف نے قید کرلیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اونٹنی بھی لے لی۔
(١٨٠٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ الثَّقَفِیِّ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلاً مِنْ بَنِی عُقَیْلٍ فَأَوْثَقُوہُ فَطَرَحُوہُ فِی الْحَرَّۃِ فَمَرَّ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَنَحْنُ مَعَہُ أَوْ قَالَ أَتَی عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی حِمَارٍ وَتَحْتَہُ قَطِیفَۃٌ فَنَادَاہُ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ ۔ قَالَ : فِیمَ أُخِذْتُ وَفِیمَ أُخِذَتْ سَابِقَۃُ الْحَاجِّ ؟ قَالَ : أُخِذْتَ بِجَرِیرَۃِ حُلَفَائِکُمْ ثَقِیفَ ۔ وَکَانَتْ ثَقِیفُ قَدْ أَسَرَتْ رَجُلَیْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَتَرَکَہُ وَمَضَی فَنَادَاہُ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ فَرَحِمَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَرَجَعَ إِلَیْہِ فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ فَقَالَ : إِنَّہُ مُسْلِمٌ۔ قَالَ : لَوْ قُلْتَہَا وَأَنْتَ تَمْلِکُ أَمْرَکَ أَفْلَحْتَ کُلَّ الفَلاَحِ ۔ قَالَ : فَتَرَکَہُ وَمَضَی فَنَادَاہُ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ فَرَجَعَ إِلَیْہِ فَقَالَ : إِنِّی جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِی قَالَ وَأَحْسِبُہُ قَالَ : وَإِنِّی عَطْشَانُ فَاسْقِنِی۔ قَالَ : ہَذِہِ حَاجَتُکَ ۔ قَالَ فَفَدَاہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالرَّجُلَیْنِ اللَّذَیْنِ أَسَرَتْہُمَا ثَقِیفُ وَأَخَذَ نَاقَتَہُ تِلْکَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٦٤١]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا
(١٨٠٦٧) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق، ہوازن جو عرب کے قبیلے تھے ان کو غلام بنانے کے بعد احسان کر کے آزاد فرمایا۔ اہل علم کا اس بارے میں اختلاف ہے۔ بعض کا گمان ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ہوازن کے قیدی چھوڑے تو فرمایا : اگر عرب کے کوئی مکمل قیدی ہوتے تو وہ قبیلہ ہوازن کے لوگ تھے لیکن قید کے بعد فدیہ ہونا تھا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جس نے اس حدیث کو ثابت کیا ہے ان کے نزدیک عرب کے باشندے کو غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے۔
(١٨٠٦٧) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ : قَدْ سَبَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہَوَازِنَ وَقَبَائِلَ مِنَ الْعَرَبِ وَأَجْرَی عَلَیْہِمُ الرِّقَّ حَتَّی مَنَّ عَلَیْہِمْ بَعْدُ فَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ بِالْمَغَازِی فَزَعَمَ بَعْضُہُمْ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا أَطْلَقَ سَبْیَ ہَوَازِنَ قَالَ : لَوْ کَانَ تَامَّ عَلَی أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ سَبْیٌ لَتَمَّ عَلَی ہَؤُلاَئِ وَلَکِنَّہُ إِسَارٌ وَفِدَائٌ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَمَنْ ثَبَّتَ ہَذَا الْحَدِیثَ زَعَمَ أَنَّ الرِّقَّ لاَ یَجْرِی عَلَی عَرَبِیٍّ بِحَالٍ وَہَذَا قَوْلُ الزُّہْرِیِّ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَالشَّعْبِیِّ وَیُرْوَی عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا
(١٨٠٦٨) شعبی حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ عربی کو غلام نہیں بنایا جائے گا۔

(ب) زہری سعید بن مسیب سے نقل فرماتے ہیں کہ غلام لونڈی سے نکاح کرسکتا ہے۔ اس کی اولاد غلام ہوگی۔ عربی بھی لونڈی سے نکاح کرسکتا ہے لیکن اس کی اولاد کو غلام نہ بنایا جائے گا اس کے ذمہ ان کی قیمت ادا کرنا ہے۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہے بلکہ عربی و عجمی دونوں برابر ہیں جہاں عجمی پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا وہاں عربی پر بھی ہوگا۔

شیخ فرماتے ہیں : امام شافعی (رح) نے قدیم قول کو نقل کیا ہے کہ معاذ بن جبل (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ حنین کے دن آپ نے فرمایا : اگر عرب میں سے کسی پر غلام کا اثبات آج کے بعد ہوسکتا تو یہ لوگ تھے لیکن یہ تو قید اور فدیہ دینا ہے۔
(١٨٠٦٨) قَالَ الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی الْغَسَّانِیِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ رَجُلٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ یُسْتَرَقُّ عَرَبِیٌّ۔

قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ فِی الْمَوْلَی یَنْکِحُ الأَمَۃَ : یُسْتَرَقُّ وَلَدُہُ ۔ وَفِی الْعَرَبِیِّ یَنْکِحُ الأَمَۃَ : لاَ یُسْتَرَقُّ وَلَدُہُ عَلَیْہِ قِیمَتُہُمْ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ وَمَنْ لَمْ یُثْبِتِ الْحَدِیثَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ذَہَبَ إِلَی أَنَّ الْعَرَبَ وَالْعَجَمَ سَوَائٌ وَإِنَّہُ یَجْرِی عَلَیْہِمُ الرِّقُّ حَیْثُ جَرَی عَلَی الْعَجَمِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ

قَالَ الرَّبِیعُ وَبِہِ یَأْخُذُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَمَّا الرِّوَایَۃُ فِیہِ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَإِنَّمَا ذَکَرَہَا الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ عَنْ مُحَمَّدٍ ہُوَ ابْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِیُّ عَنْ مُوسَی بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ السَّلُولِیِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ یَوْمَ حُنَیْنٍ : لَوْ کَانَ ثَابِتًا عَلَی أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ سِبَائٌ بَعْدَ الْیَوْمِ لَثَبَتَ عَلَی ہَؤُلاَئِ وَلَکِنْ إِنَّمَا ہُوَ إِسَارٌ وَفِدَائٌ ۔

وَہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِمِثْلِہِ ۔

وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ فِیہِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا
(١٨٠٦٩) شعبی فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب نے خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمانے لگے : عربی انسان کسی کی ملکیت نہیں ہوتا اور ہم کسی شخص کے احسان کے بارے میں جھگڑا کرنے والے نہیں ہیں لیکن ہم اس کی پانچ اونٹ قیمت مقرر کردیں گے۔

ابو عبید کہتے ہیں : جب کوئی کسی کے ہاتھ غلام ہو تو ہم بلا قیمت نہ لیں گے کیونکہ وہ اس کا محافظ ہے اور غلام بھی رہنے نہ دیں گے کیونکہ وہ عربی ہے۔ لیکن غلام بنانے والے کو پانچ اونٹ قیمت ادا کی جائے گی اور عربی اپنے نسب کی جانب واپس لوٹ جائے گا۔
(١٨٠٦٩) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِالرَّحْمَن السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُوعُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ أَبِی حَصِینٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : لَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَیْسَ عَلَی عَرَبِیٍّ مِلْکٌ وَلَسْنَا بِنَازِعِی مِنْ یَدِ رَجُلٍ شَیْئًا أَسْلَمَ عَلَیْہِ وَلَکِنَّا نُقَوِّمُہُمُ الْمِلَّۃَ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ ۔

قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ یَقُولُ ہَذَا الَّذِی فِی یَدِہِ السَّبْیُ لاَ نَنْزِعُہُ مِنْ یَدِہِ بِلاَ عِوَضٍ لأَنَّہُ أَسْلَمَ عَلَیْہِ وَلاَ نَتْرُکُہُ مَمْلُوکًا وَہُوَ مِنَ الْعَرَبِ وَلَکِنَّہُ قَوَّمَ قِیمَتُہُ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ لِلَّذِی سَبَاہُ وَیَرْجِعُ إِلَی نَسَبِہِ عَرَبِیًّا کَمَا کَانَ ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ مُنْقَطِعَۃٌ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا
(١٨٠٧٠) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ہر غلام کے عوض کچھ فدیہ مقرر فرمایا۔ عربی غلام کے بدلے جانور۔ یہ فیصلہ ان کے بارے میں فرمایا جس نے عرب لونڈیوں سے شادی کر رکھی تھی۔
(١٨٠٧٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ہُوَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَضَ فِی کُلِّ سَبْیٍ فُدِیَ مِنَ الْعَرَبِ سِتَّۃَ فَرَائِضَ وَإِنَّہُ کَانَ یَقْضِی بِذَلِکَ فِیمَنْ تَزَوَّجَ الْوَلاَئِدَ مِنَ الْعَرَبِ ۔

وَہَذَا أَیْضًا مُرْسَلٌ إِلاَّ أَنَّہُ جَیِّدٌ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا
(١٨٠٧١) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ کسی عرب کی لونڈی بھاگ گئی جو وادی قریٰ سے جا کر اس قبیلہ کو مل گئی جس سے بھاگ کرگئی تھی تو بنو عذرہ کے ایک شخص نے اس سے شادی کرلی تو وہ حاملہ ہوگئی۔ پھر مالک کو اس کا پتہ چلا تو وہ لونڈی اور اس کے بچے کو لے گیا تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عذرہ کے شخص کے لیے بچے کا فیصلہ فرمایا اور اس پر ہر ایک کے عوض ایک غلام ڈالا اور شہر والوں پر ایک غلام کی قیمت چھ دینار یا دو سو دینار مقرر فرمائی اور دیہاتی پر چھ فرائض۔

شیخ فرماتے ہیں : یہ وطی کے شبہ کی بنا پر ہے کیونکہ بچہ آزاد ہوگا۔ اس کے ذمہ قیمت ہے لونڈی والے کے لیے اور حضرت عمر (رض) اس اثر کو زائل کرنے کے لیے قیمت مقرر فرماتے تھے۔ لیکن بنو مصطلق و ہوازن پر غلام کا اطلاق کیا گیا جو صحیح ثابت ہے لیکن بعد میں احسان کر کے شرافت کی بنا پر غلامی سے آزادی دی گئی۔
(١٨٠٧١) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ مَنِیعٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : أَبَقَتْ أَمَۃٌ لِبَعْضِ الْعَرَبِ فَوَقَعَتْ بِوَادِی الْقُرَی فَانْتَہَتْ إِلَی الْحَیِّ الَّذِینَ أَبَقَتْ مِنْہُمْ فَتَزَوَّجَہَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی عُذْرَۃَ فَنَثَرَتْ لَہُ بَطْنَہَا ثُمَّ عَثَرَ عَلَیْہَا سَیِّدُہَا فَاسْتَاقَہَا وَوَلَدَہَا فَقَضَی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِلْعُذْرِیِّ یَعْنِی قَضَی لَہُ بِوَلَدِہِ وَقَضَی عَلَیْہِ بِالْغُرَّۃِ لِکُلِّ وَصِیفٍ وَصِیفٌ وَلِکُلِّ وَصِیفَۃٍ وَصِیفَۃٌ وَجَعَلَ ثَمَنَ الْغُرَّۃِ إِذَا لَمْ تُوجَدْ عَلَی أَہْلِ الْقُرَی سِتِّینَ دِینَارًا أَوْ سَبْعَمِائَۃِ دِرْہَمٍ وَعَلَی أَہْلِ الْبَادِیَۃِ سِتَّ فَرَائِضَ ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا وَرَدَ فِی وَطْئِ الشُّبْہَۃِ فَیَکُونُ الْوَلَدُ حُرًّا وَعَلَیْہِ قِیمَتُہُ لِصَاحِبِ الْجَارِیَۃِ وَکَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَأَی الْقِیمَۃَ بِمَا نُقِلَ فِی ہَذَا الأَثَرِ إِنْ ثَبَتَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَجَرَیَانُ الرِّقِّ عَلَی سَبَایَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہَوَازِنَ صَحِیحٌ ثَابِتٌ وَالْمَنُّ عَلَیْہِمْ بِإِطْلاَقِ السَّبَایَا تَفَضُلٌ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا
(١٨٠٧٢) ابن محیریز فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو ابو سعید خدری کو دیکھاـ۔ میں نے ان کے پاس بیٹھ کر عزل کے بارے میں سوال کیا تو ابو سعید فرمانے لگے : ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ بنو مصطلق کے لیے گئے تو ہم نے عربوں کی لونڈیاں حاصل کیں۔ ہمیں عورت کی خواہش بھی تھی اور عورت سے جدا رہنا مشکل ہوگیا تھا اور ہم فدیہ کو بھی محبوب چاہتے تھے تو ہم نے عزل کا ارادہ کیا۔ پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں بغیر پوچھے عزل نہیں کریں گے۔ پہلے پوچھیں گے ؟ ہم نے پوچھ لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کرلو لیکن جس جان نے کائنات میں آنا ہے وہ آکر ہی رہے گی۔
(١٨٠٧٢) وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَیْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبَایَا مِنْ سَبْیِ الْعَرَبِ فَاشْتَہَیْنَا النِّسَائَ وَاشْتَدَّتْ عَلَیْنَا الْعُزْبَۃُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَائَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ ثُمَّ قُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَیْنَ أَظْہُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَہُ عَنْ ذَلِکَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : مَا عَلَیْکُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَۃٍ کَائِنَۃٍ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ وَہِیَ کَائِنَۃٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا
(١٨٠٧٣) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق کی لونڈیاں تقسیم فرمائیں تو جویریہ بنت حارث ثابت بن قیس بن شماس یا اس کے چچا کے بیٹے کے حصہ میں آئی۔ اس نے مکاتبت کرلی۔ وہ ایک شرمیلی باحیا عورت تھی جسے کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا تو اس عورت نے اپنے آپ کو روک لیا اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی مکاتبت کے بارے میں مدد کا سوال کردیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے اس کو اچھا نہ جانا۔ میں نے کہا : آپ بھی اس طرح اس سے محسوس کریں جیسے میں نے کیا۔ جب وہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : میں جویریہ بنت حارث ہوں اپنی قوم کے سردار کی بیٹی۔ میرے اوپر پریشانی آئی ہے جو آپ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ میں نے مکاتبت کی ہے جس میں آپ میری مدد فرمائیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اس سے بھی بہتر، میں تیری کتابت ادا کر کے تجھ سے شادی کرلوں۔ اس نے کہا : ہاں ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کرلیا۔ جب لوگوں کو پتہ چلا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے شادی کرلی ہے تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سسرال بنو مصطلق کے سو افراد کو آزاد کردیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : مجھے علم نہیں کہ اس عورت سے بڑھ کر کوئی عورت اپنی قوم کے لیے برکت کا باعث بنی ہو۔
(١٨٠٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَبَایَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَقَعَتْ جُوَیْرِیَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِی السَّہْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوْ لاِبْنِ عَمٍّ لَہُ فَکَاتَبَتْہُ عَلَی نَفْسِہَا وَکَانَتِ امْرَأَۃً حُلْوَۃً مُلاَحَۃً لاَ یَرَاہَا أَحَدٌ إِلاَّ أَخَذَتْ بِنَفْسِہِ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَسْتَعِینُہُ فِی کِتَابَتِہَا۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَوَاللَّہِ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَیْتُہَا فَکَرِہْتُہَا وَقُلْتُ سَیَرَی مِنْہَا مِثْلَمَا رَأَیْتُ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا جُوَیْرِیَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ سَیِّدُ قَوْمِہِ وَقَدْ أَصَابَنِی مِنَ الْبَلاَئِ مَا لَمْ یَخْفَ عَلَیْکَ وَقَدْ کَاتَبْتُ عَلَی نَفْسِی فَأَعِنِّی عَلَی کِتَابَتِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَوْ خَیْرٌ مِنْ ذَلِکَ أُؤَدِّی عَنْکِ کِتَابَتَکِ وَأَتَزَوَّجُکِ ۔ فَقَالَتْ : نَعَمْ ۔ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَلَغَ النَّاسَ أَنَّہُ قَدْ تَزَوَّجَہَا فَقَالُوا أَصْہَارُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہِ عَلَیْہ وَآلِہِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلُوا مَا کَانَ فِی أَیْدِیہِمْ مِنْ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَلَقَدْ أُعْتِقَ بِہَا مِائَۃُ أَہْلِ بَیْتٍ مِنْ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَۃً أَعْظَمَ بَرَکَۃً مِنْہَا عَلَی قَوْمِہَا مِنْہَا۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৮০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا
(١٨٠٧٤) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہمیں قبیلہ ہوازن سے مال اور لونڈیاں میسر آئیں۔ لیکن ہوازن کے لوگ جعرانہ نامی جگہ پر مسلمان ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملے۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے مال اور افراد واپس کردیں، جو پریشانی ہمیں آئی ہے آپ پر پوشیدہ بھی نہیں ہے۔ آپ ہمارے اوپر احسان کریں جیسے اللہ نے آپ پر احسان فرمایا ہے۔ ان کے خطیب زہیر بن صرد کھڑے ہوئے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لونڈیوں میں آپ کی خالائیں، پھوپھیاں اور بچپن میں آپ کی پرورش کرنے والیاں بھی موجود ہیں۔ اس نے لمبی کلام کی اور اشعار پڑھے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں عورتیں اور اولاد پسند ہے یا مال ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ہمارے حسب و نسب اور مال میں اختیار دیا ہے۔ ہمیں عورتیں اور مال زیادہ محبوب ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں ہیں وہ سب تمہارا ہے۔ جس وقت میں لوگوں کو نماز پڑھاؤں تو وہاں کھڑے ہو کر کہہ دینا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسلمانوں کی جانب سفارشی بناتے ہیں یا مسلمانوں کو رسول اللہ کے پاس سفارشی پیش کرتے ہیں اپنے بیٹوں اور عورتوں کے بارے میں۔ عنقریب میں تمہیں عطا کر دوں گا اور تمہارے لیے سفارش بھی کروں گا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی تو وہ کھڑے ہوئے اور جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا تھا کہہ دیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں ہے وہ تمہارا ہے اور مہاجرین و انصار کہنے لگے : جو ہمارا ہے وہ بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے اور اقرع بن حابس نے کہہ دیا کہ میں اور بنو تمیم نہ دیں گے۔ اس طرح عباس بن مرداس سلمی نے بھی کہہ دیا لیکن بنو سلیم کہنے لگے : ہمارا حصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہی ہے اور عیینہ بن بدر نے بھی انکار کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اپنا حق روک لیا وہ بھی ان کی عورتیں اور بچے واپس کردیں ہم پہلے مال فیٔ سے اس کو ہر انسان کے عوض چھ اونٹ عطا کریں گے۔
(١٨٠٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِحُنَیْنٍ فَلَمَّا أَصَابَ مِنْ ہَوَازِنَ مَا أَصَابَ مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَسَبَایَاہُمْ أَدْرَکَہُ وَفْدُ ہَوَازِنَ بِالْجِعْرَانَۃِ وَقَدْ أَسْلَمُوا فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ لَنَا أَصْلٌ وَعَشِیرَۃٌ وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلاَئِ مَا لَمْ یَخْفَ عَلَیْکَ فَامْنُنْ عَلَیْنَا مَنَّ اللَّہُ عَلَیْکَ وَقَامَ خَطِیبُہُمْ زُہَیْرُ بْنُ صُرَدَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا فِی الْحَظَائِرِ مِنَ السَّبَایَا خَالاَتُکَ وَعَمَّاتُکَ وَحَوَاضِنُکَ اللاَّتِی کُنَّ یَکْفُلْنَکَ وَذَکَرَ کَلاَمًا وَأَبْیَاتًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : نِسَاؤُکُمْ وَأَبْنَاؤُکُمْ أَحَبُّ إِلَیْکُمْ أَمْ أَمْوَالُکُمْ ؟ ۔ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ خَیَّرْتَنَا بَیْنَ أَحْسَابِنَا وَبَیْنَ أَمْوَالِنَا أَبْنَاؤُنَا وَنِسَاؤُنَا أَحَبُّ إِلَیْنَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا مَا کَانَ لِی وَلِبَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَہُوَ لَکُمْ وَإِذَا أَنَا صَلَّیْتُ بِالنَّاسِ فَقُومُوا وَقُولُوا إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللَّہِ إِلَی الْمُسْلِمِینَ وَبِالْمُسْلِمِینَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ فِی أَبْنَائِنَا وَنِسَائِنَا سَأُعْطِیکُمْ عِنْدَ ذَلِکَ وَأَسْأَلُ لَکُمْ ۔ فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالنَّاسِ الظُّہْرَ قَامُوا فَقَالُوا مَا أَمَرَہُمْ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا مَا کَانَ لِی وَلِبَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَہُوَ لَکُمْ ۔ وَقَالَ الْمُہَاجِرُونَ : وَمَا کَانَ لَنَا فَہُوَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ وَقَالَتِ الأَنْصَارُ وَمَا کَانَ لَنَا فَہُوَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِیمٍ فَلاَ ۔ فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ السُّلَمِیُّ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَیْمٍ فَلاَ ۔ فَقَالَتْ بَنُو سُلَیْمٍ : بَلْ مَا کَانَ لَنَا فَہُوَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ وَقَالَ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَۃَ فَلاَ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ أَمْسَکَ مِنْکُمْ بِحَقِّہِ فَلَہُ بِکُلِّ إِنْسَانٍ سِتَّۃُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ فَیْئٍ نُصِیبُہُ فَرُدُّوا إِلَی النَّاسِ نِسَائَ ہُمْ وَأَبْنَائَ ہُمْ ۔

وَحَدِیثُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ فِی سَبْیِ ہَوَازِنَ قَدْ مَضَی۔ [حسن۔ بدون قول صرد ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৮১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا
(١٨٠٧٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بنو تمیم کے بارے تین باتیں سنیں : 1 میں بنو تمیم سے اس کے بعد بغض نہ رکھوں گا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے ذمہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنا نذر تھی۔ جب بلعنبر سے قیدی بنائے گئے اور ان کو لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عائشہ اگر تجھے اچھا لگے کہ تو اپنی نذر پوری کرے تو ان لوگوں سے غلام کو آزاد کر دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اسماعیل کی اولاد سے شمار فرمایا اور جب صدقہ کے اونٹ لائے گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی خوبصورتی کو دیکھا تو فرمایا : یہ جانور میری قوم کے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں پر لڑائیوں میں وہ سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔
(١٨٠٧٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِیُّ حَدَّثَنَا مَسْلَمَۃُ بْنُ عَلْقَمَۃَ الْمَازِنِیُّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : ثَلاَثٌ سَمِعْتُہُنَّ لِبَنِی تَمِیمٍ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لاَ أُبْغِضُ بَنِی تَمِیمٍ بَعْدَہُنَّ أَبَدًا کَانَ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا نَذْرٌ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ فَسُبِیَ سَبْیٌ مِنْ بَلْعَنْبَرٍ فَلَمَّا جِیئَ بِذَاکَ السَّبْیِ قَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنْ سَرَّکِ أَنْ تَفِی بِنَذْرِکِ فَأَعْتِقِی مُحَرَّرًا مِنْ ہَؤُلاَئِ ۔ فَجَعَلَہُمْ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ وَجِیئَ بِنَعَمٍ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَۃِ فَلَمَّا رَآہُ رَاعَہُ حُسْنُہُ قَالَ فَقَالَ : ہَذَا نَعَمُ قَوْمِی ۔ فَجَعَلَہُمْ قَوْمَہُ قَالَ وَقَالَ : ہُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالاً فِی الْمَلاَحِمِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ۔

[صحیح۔ مسلم ٢٥٢٥]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৮২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا
(١٨٠٧٦) ابن مغفل فرماتے ہیں کہ خولان سے لونڈیاں آئیں اور حضرت عائشہ (رض) کے ذمہ اسماعیل کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنا تھا۔ یمن سے غلام آئے۔ حضرت عائشہ (رض) نے آزاد کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرما دیا۔ میرا خیال ہے کہ پھر مضر قبیلہ کے غلام آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنو عنبر سے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔
(١٨٠٧٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ مُغَفَّلٍ : أَنَّ سَبْیًا مِنْ خَوْلاَنَ قَدِمَ وَکَانَ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا رَقَبَۃٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ فَقَدِمَ سَبْیٌ مِنَ الْیَمَنِ فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ فَنَہَاہَا النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقِدَمَ سَبْیٌ مِنْ مُضَرَ أَحْسِبُہُ قَالَ مِنْ بَنِی الْعَنْبَرِ فَأَمَرَہَا أَنْ تُعْتِقَ ۔

(ت) تَابَعَہُ شُعْبَۃُ عَنْ عُبَیْدٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৮৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی سے بھاگنا اور ایک کا دو کے مقابلہ میں ڈٹ جانا اللہ کا فرمان : { یٰٓا أَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَارَ ۔ } [الأنفال ١٥] ” اے ایمان والو ! جب تم کفار سے ملو تو پھر پیٹھ پھیر
(١٨٠٧٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات ہلاک کردینے والی اشیاء سے بچو۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ کیا ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تذکرہ فرمایا اور ان میں سے ایک چیز یہ ہے کہ لڑائی کے دن بھاگ جانا۔
(١٨٠٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ہُوَ ابْنُ حَمْدَانَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الأُوَیْسِیُّ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِی الْغَیْثِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا ہُنَّ ؟ فَذَکَرَہُنَّ وَذَکَرَ فِیہِنَّ التَّوَلِّی یَوْمَ الزَّحْفِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الأُوَیْسِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৮৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی سے بھاگنا اور ایک کا دو کے مقابلہ میں ڈٹ جانا اللہ کا فرمان : { یٰٓا أَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَارَ ۔ } [الأنفال ١٥] ” اے ایمان والو ! جب تم کفار سے ملو تو پھر پیٹھ پھیر ک
(١٨٠٧٨) حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت کا سوال کرو۔ لیکن جب دشمن سے ملاقات ہوجائے تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
(١٨٠٧٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ وَکَانَ کَاتِبًا لَہُ قَالَ کَتَبَ إِلَیْہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی أَوْفَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَائَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّہَ الْعَافِیَۃَ فَإِذَا لَقِیتُمُوہُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّیُوفِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৮৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی سے بھاگنا اور ایک کا دو کے مقابلہ میں ڈٹ جانا اللہ کا فرمان : { یٰٓا أَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَارَ ۔ } [الأنفال ١٥] ” اے ایمان والو ! جب تم کفار سے ملو تو پھر پیٹھ پھیر ک
(١٨٠٧٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : { اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٥] ” اگر تمہارے بیس افراد صبر کرنے والے ہوں تو دو سو افراد پر غالب آئیں گے۔ “ یہ فرض کیا گیا کہ بیس افراد دو سو افراد کے مقابلے سے نہ بھاگیں۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٦] ” اب اللہ نے تم سے تخفیف فرما دی ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تمہارے اندر کمزوری ہے۔ اگر تمہارے سو افراد ہوں گے تو وہ دو سو افراد پر غالب آجائیں گے۔ “ یعنی ایک سو افراد دو سو کے مقابلہ سے راہ فرار اختیار نہ کریں۔
(١٨٠٧٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {إِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٥] فَکُتِبَ عَلَیْہِمْ أَنْ لاَ یَفِرَّ الْعِشْرُونَ مِنَ الْمِائَتَیْنِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { الآنَ خَفَّفَ اللَّہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِیکُمْ ضَعْفًا فَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٦] فَخَفَّفَ عَنْہُمْ وَکَتَبَ عَلَیْہِمْ أَنْ لاَ یَفِرَّ مِائَۃٌ مِنْ مِائَتَیْنِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٤٥٦٢]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৮৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی سے بھاگنا اور ایک کا دو کے مقابلہ میں ڈٹ جانا اللہ کا فرمان : { یٰٓا أَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَارَ ۔ } [الأنفال ١٥] ” اے ایمان والو ! جب تم کفار سے ملو تو پھر پیٹھ پھیر ک
(١٨٠٨٠) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : { اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٥] ” اگر تمہارے بیس افراد صبر کرنے والے ہوں تو دو سو افراد پر غالب آئیں گے۔ “ فرماتے ہیں کہ ان پر فرض قرار دے دیا گیا کہ ایک شخص دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے اور نہ کوئی قوم ان جیسے افراد سے بھاگے۔ یہ لوگوں پر شاق گزرا تو یہ آیت نازل ہوئی : { اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٦] ” اب اللہ نے تم سے تخفیف فرما دی ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تمہارے اندر کمزوری ہے۔ اگر تمہارے سو افراد ہوں گے تو وہ دو سو افراد پر غالب آجائیں گے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص دو کے مقابلہ سے نہ بھاگے اور کوئی قوم اپنی سے دگنی تعداد کے مقابلہ سے راہ فرار اختیار نہ کرے۔

عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : اتنی مدد میں کمی ہے جتنی تعداد میں چھوڑ دے دی گئی۔

(ب) عبداللہ بن مبارک کی روایت میں ہے کہ مسلمانوں پر شاق گزرا جب یہ مقرر کردیا گیا کہ ایک دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے تو تخفیف کا حکم آگیا، فرمایا : { اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ } ” اب اللہ نے تمہارے لیے تخفیف فرما دی ہے صبر میں کمی کی مقدار کے مطابق۔ “
(١٨٠٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ النَّضْرِ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ ہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الزُّبَیْرُ بْنُ الْخِرِّیتِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : نَزَلَتْ {إِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٥] قَالَ : فُرِضَ عَلَیْہِمْ أَنْ لاَ یَفِرَّ رَجُلٌ مِنْ عَشَرَۃٍ وَلاَ قَوْمٌ مِنْ عَشْرِ أَمْثَالِہِمْ فَجَہَدَ ذَلِکَ النَّاسَ وَشَقَّ عَلَیْہِمْ فَنَزَلَتْ { الآنَ خَفَّفَ اللَّہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِیکُمْ ضَعْفًا فَإِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ } [الأنفال ٦٦] قَالَ : فَأُمِرُوا أَنْ لاَ یَفِرَّ رَجُلٌ مِنْ رَجُلَیْنٍ وَلاَ قَوْمٌ مِنْ مِثْلَیْہِمْ ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَنَقَصَ مِنَ النَّصْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ مِنَ الْعِدَّۃِ ۔

ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ عَفَّانَ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ : فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ حِینَ فُرِضَ أَنْ لاَ یَفِرَّ وَاحِدٌ مِنْ عَشَرَۃٍ فَجَائَ التَّخْفِیفُ فَقَالَ { الآنَ خَفَّفَ اللَّہُ عَنْکُمْ } [الأنفال ٦٦] الآیَۃَ فَلَمَّا خَفَّفَ اللَّہُ عَنْہُمْ مِنَ الْعِدَّۃِ نَقَصَ مِنَ الصَّبْرِ بِقَدْرِ مَا خَفَّفَ عَنْہُمْ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ السُّلَمِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٤٦٥٣]
tahqiq

তাহকীক: