আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৭৭২৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعثت اور وحی کی ابتدا کا بیان
(١٧٧٢١) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کی ابتداء نیند کی حالت میں اچھے خوابوں سے ہوئی اور جو بھی آپ خواب دیکھتے وہ حالت بیداری میں صبح کی روشنی کی طرح پورا ہوجاتا۔ پھر آپ کو تنہائی اچھی لگنے لگی اور غار حرا میں اکیلے رہنے لگے اور کئی راتوں تک وہاں عبادت کرتے۔ اس سے پہلے پہلے جب تک کہ آپ کے دل میں گھر آنے کا شوق پیدا ہوتا اور اس کام کے لیے اپنے ساتھ زاد راہ لے جاتے۔ پھر جب (زاد راہ ختم ہوجاتا) تو اتنا ہی زاد راہ پھر حضرت خدیجہ (رض) سے لے جاتے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی غار حرا میں تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اچانک وحی آگئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا : پڑھیے ! آپ نے فرمایا : میں تو پڑھا (لکھا) نہیں ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھ کو پکڑ کر ایسا دبایا کہ میں بےطاقت ہوگیا۔ پھر انھوں نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے میں نے کہا کہ میں تو پڑھ نہیں سکتا۔ پھر انھوں نے مجھے پکڑ لیا اور دوسری بار زور سے دبایا کہ میں بےسکت ہوگیا۔ پھر انھوں نے مجھے چھوڑا اور کہا : پڑھ، میں نے کہا : (کیسے پڑھوں) میں تو پڑھا (لکھا) نہیں ہوں۔ پھر انھوں نے مجھے پکڑ لیا اور تیسری بار پھر زور سے بھینچا حتیٰ کہ میری طاقت نے جواب دے دیا۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا : پڑھیے { اِقْرأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ اِقْرَأْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ } [العلق ١-٤]” اس پروردگار کے نام سے پڑھ جس نے (تمام چیزیں) بنائیں۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آیات سن کر لوٹے اور آپ کا دل (ڈر کے مارے) کانپ رہا تھا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ (رض) کے پاس آئے اور کہا : ” مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھا دو ۔ “ انھوں نے کمبل اوڑھا دیا حتیٰ کہ آپ سے خوف جاتا رہا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خدیجہ (رض) سے کہا : اے خدیجہ ! مجھے کیا ہوگیا ہے اور پورا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ مجھے اپنی جان کے بارے میں ڈر ہے۔ حضرت خدیجہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : ہرگز نہیں آپ خوش ہو جاؤ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور سچ بات بیان کرتے ہیں اور ناتواؤں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور جن کا کوئی کمانے والا نہیں ہوتا ان کے لیے کماتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں اور حادثوں (اور جھگڑوں) میں حق کی مدد کرتے ہیں۔ پھر حضرت خدیجہ (رض) آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی جو حضرت خدیجہ کے چچا زاد بھائی تھے اور وہ بت پرستی چھوڑ کر جاہلیت کے زمانے میں عیسائی بن گئے تھے اور وہ کتاب کو عربی زبان میں لکھتے تھے اور انجیل جو اللہ نے ان سے لکھوانا چاہی عربی میں لکھتے تھے اور وہ بوڑھے ضعیف ہو کر اندھے ہوگئے تھے تو انھیں حضرت خدیجہ (رض) نے کہا : اے میرے چچا (زاد بھائی) ! اپنے بھتیجے سے کی بات تو سنو ! حضرت ورقہ بن نوفل نے کہا : اے میرے بھتیجے ! (کہو) تم نے کیا دیکھا ہے ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو دیکھا تھا وہ ان سے بیان کیا تو ورقہ بن نوفل نے آپ سے کہا : یہ وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا گیا۔ کاش ! میں اس وقت نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کو آپ کی قوم جلا وطن کرتی۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کیا وہ مجھ کو نکال دیں گے۔ ورقہ نے کہا : ہاں ! (بےشک وہ آپ کو نکال دیں گے) جب کبھی کسی شخص نے ایسی بات کہی جیسی آپ کہتے ہو تو لوگ اس کے دشمن بن گئے اور اگر میں آپ کے اس دن کو پالوں تو میں تمہاری پوری قوت سے مدد کروں گا۔ “
(١٧٧٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاہِرِ : أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَخْبَرَتْہُ قَالَتْ : کَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃَ فِی النَّوْمِ فَکَانَ لاَ یَرَی رُؤْیَا إِلاَّ جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَیْہِ الْخَلاَئُ فَکَانَ یَخْلُو بِغَارِ حِرَائٍ فَیَتَحَنَّثُ فِیہِ وَہُوَ التَّعَبُّدُ اللَّیَالِیَ أُولاَتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ یَرْجِعَ إِلَی أَہْلِہِ وَیَتَزَوَّدُ لِذَلِکَ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی خَدِیجَۃَ فَتُزَوِّدُہُ بِمِثْلِہَا حَتَّی فَجَئَہُ الْحَقُّ وَہُوَ فِی غَارِ حِرَائٍ فَجَائَ ہُ الْمَلَکُ فَقَالَ : اقْرَأْ ۔ فَقَالَ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ۔ قَالَ : فَأَخَذَنِی فَغَطَّنِی حَتَّی بَلَغَ مِنِّی الْجَہْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِی فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِی فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتَّی بَلَغَ مِنِّی الْجَہْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِی فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِی فَغَطَّنِی الثَّالِثَۃَ حَتَّی بَلَغَ مِنِّی الْجَہْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِی فَقَالَ { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّکَ الأَکْرَمُ الَّذِی عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ } [العلق ١-٤] ۔
فَرَجَعَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَرْجُفُ بَوَادِرُہُ حَتَّی دَخَلَ عَلَی خَدِیجَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ : زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی ۔ فَزَمَّلُوہُ حَتَّی ذَہَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ ثُمَّ قَالَ لِخَدِیجَۃَ : أَیْ خَدِیجَۃُ مَا لِی ؟ ۔ وَأَخْبَرَہَا الْخَبَرَ قَالَ : لَقَدْ خَشِیتُ عَلَی نَفْسِی ۔ قَالَتْ لَہُ خَدِیجَۃُ : کَلاَّ أَبْشِرْ فَوَاللَّہِ لاَ یُخْزِیکَ اللَّہُ أَبَدًا وَاللَّہِ إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِینُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ
فَانْطَلَقَتْ بِہِ خَدِیجَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا حَتَّی أَتَتْ بِہِ وَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ قُصَیٍّ وَہُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِیجَۃَ ابْنِ أَخِی أَبِیہَا وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیَّ وَیَکْتُبُ مِنَ الإِنْجِیلِ بِالْعَرَبِیَّۃِ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَکْتُبَ وَکَانَ شَیْخًا کَبِیرًا قَدْ عَمِیَ فَقَالَتْ لَہُ خَدِیجَۃُ : أَیْ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِیکَ ۔ قَالَ وَرَقَۃُ بْنُ نَوْفَلٍ : ابْنَ أَخِی مَاذَا تَرَی ؟ فَأَخْبَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَبَرَ مَا رَأَی فَقَالَ لَہُ وَرَقَۃُ : ہَذَا النَّامُوسُ الَّذِی أُنْزِلَ عَلَی مُوسَی یَا لَیْتَنِی فِیہَا جَذَعًا یَا لَیْتَنِی أَکُونُ حَیًّا حِینَ یُخْرِجُکَ قَوْمُکَ ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَوَمُخْرِجِیَّ ہُمْ ؟ ۔ قَالَ وَرَقَۃُ : نَعَمْ لَمْ یَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِہِ إِلاَّ عُودِیَ وَإِنْ یُدْرِکْنِی یَوْمُکَ أَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا۔
رَوَاہُ مُسْلِم فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یُونُسَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
فَرَجَعَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَرْجُفُ بَوَادِرُہُ حَتَّی دَخَلَ عَلَی خَدِیجَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ : زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی ۔ فَزَمَّلُوہُ حَتَّی ذَہَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ ثُمَّ قَالَ لِخَدِیجَۃَ : أَیْ خَدِیجَۃُ مَا لِی ؟ ۔ وَأَخْبَرَہَا الْخَبَرَ قَالَ : لَقَدْ خَشِیتُ عَلَی نَفْسِی ۔ قَالَتْ لَہُ خَدِیجَۃُ : کَلاَّ أَبْشِرْ فَوَاللَّہِ لاَ یُخْزِیکَ اللَّہُ أَبَدًا وَاللَّہِ إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِینُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ
فَانْطَلَقَتْ بِہِ خَدِیجَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا حَتَّی أَتَتْ بِہِ وَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ قُصَیٍّ وَہُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِیجَۃَ ابْنِ أَخِی أَبِیہَا وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیَّ وَیَکْتُبُ مِنَ الإِنْجِیلِ بِالْعَرَبِیَّۃِ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَکْتُبَ وَکَانَ شَیْخًا کَبِیرًا قَدْ عَمِیَ فَقَالَتْ لَہُ خَدِیجَۃُ : أَیْ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِیکَ ۔ قَالَ وَرَقَۃُ بْنُ نَوْفَلٍ : ابْنَ أَخِی مَاذَا تَرَی ؟ فَأَخْبَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَبَرَ مَا رَأَی فَقَالَ لَہُ وَرَقَۃُ : ہَذَا النَّامُوسُ الَّذِی أُنْزِلَ عَلَی مُوسَی یَا لَیْتَنِی فِیہَا جَذَعًا یَا لَیْتَنِی أَکُونُ حَیًّا حِینَ یُخْرِجُکَ قَوْمُکَ ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَوَمُخْرِجِیَّ ہُمْ ؟ ۔ قَالَ وَرَقَۃُ : نَعَمْ لَمْ یَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِہِ إِلاَّ عُودِیَ وَإِنْ یُدْرِکْنِی یَوْمُکَ أَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا۔
رَوَاہُ مُسْلِم فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یُونُسَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭২৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعثت اور وحی کی ابتدا کا بیان
(١٧٧٢٢) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ نے فرمایا : پھر کچھ دیر مجھ سے وحی کا توقف ہوگیا اور اسی دوران میں ایک بار (راستے میں) جا رہا تھا۔ اتنے میں میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، آنکھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان میں ایک کرسی پر (معلق) بیٹھا ہے۔ میں یہ دیکھ کر ڈر گیا حتیٰ کہ میں زمین کی طرف جھکا اور میں گھر کو لوٹا اور ان سے کہا : مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھا دو کمبل اوڑھا دو ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : { یاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ۔ قُمْ فَاَنذِرْ ۔ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ ۔ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ ۔ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ ۔ وَلاَ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ ۔ } [المدثر ١-٦]” اے کپڑا اوڑھنے والے ! کھڑا ہوجا اور لوگوں کو ڈرا اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ اور ناپاکی کو چھوڑ دے اور احسان کر کے زیادہ لینے کی خواہش نہ کر۔ “
(١٧٧٢٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَقُولُ أَخْبَرَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : فَتَرَ الْوَحْیُ عَنِّی فَبَیْنَمَا أَنَا أَمْشِی سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَائِ فَرَفَعْتُ بَصَرِی قِبَلَ السَّمَائِ فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِی جَائَ نِی بِحِرَائٍ قَاعِدٌ عَلَی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ فَجُثِثْتُ مِنْہُ فَرَقًا حَتَّی ہَوَیْتُ إِلَی الأَرْضِ فَجِئْتُ أَہْلِی فَقُلْتُ لَہُمْ زَمِّلُونِی زَمِّلُونِی فَزَمَّلُونِی فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبُّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ } [المدثر ١-٥] ۔ قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ : وَالرُّجْزُ الأَوْثَانُ ۔ قَالَ : ثُمَّ حَمِیَ الْوَحْیُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭২৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعثت اور وحی کی ابتدا کا بیان
(١٧٧٢٣) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پھر ایک مدت کے لیے مجھ پر وحی کا نزول بند ہوگیا۔ اس کے بعد اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔
(١٧٧٢٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ عَقِیلٍ ہُوَ الْخُسْرَوْجَرْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی أَخْبَرَنِی عُقَیْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ یَقُولُ أَخْبَرَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْیُ عَنِّی فَتْرَۃً ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ شُعَیْبٍ ۔[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৩০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعثت اور وحی کی ابتدا کا بیان
(١٧٧٢٤) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ قرآن مجید میں جس چیز کا پہلے نزول ہوا، وہ { اِقْرأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۔ }[العلق ١] ہے۔
(١٧٧٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدِ ابْنُ الشَّرْقِیِّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : إِنَّ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ } [العلق ١] [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৩১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض کی ابتداء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوئی۔ پھر لوگوں پر اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ رسالت میں اپنی قوم سے تکالیف پہنچیں ان کا اختصار کے ساتھ بیان
(١٧٧٢٥) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : { وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ } کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے اور ان میں سے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخلص جماعت ہے ان کو بھی تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور صفا (پہاڑی) پر چڑھ کر آپ نے ( (وَا صَبَاحَاہْ ) ) کی زور دار آواز سے بلایا تو لوگوں نے کہا : یہ کون بلانے والا ہے (بعض) نے کہا ” محمد “ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تمام لوگ جمع ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی فلاں ! اے بنی فلاں ! اے بنی عبد مناف ! اے بنی عبدالمطلب ! تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے ایک لشکر آ رہا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے۔ انھوں نے کہا : ہم نے کبھی بھی آپ کو جھوٹا نہیں پایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک میں تمہیں آنے والے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہوں “ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ابو لہب نے کہا تو ہلاک ہوجائے، کیا اسی کام کے لیے تو نے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورة کو نازل کیا { تَبَّتْ یَدَا أَبِی لَہَبٍ } [اللہب ١] ” ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ خود بھی ہلاک ہوگیا۔ “ اسی طرح اعمش نے آخر سورة تک تلاوت کی۔
(١٧٧٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الأَقْرَبِینَ } [الشعراء ٢١٤] وَرَہْطَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِینَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی صَعِدَ عَلَی الصَّفَا فَہَتَفَ : وَاصَبَاحَاہُ ۔ فَقَالُوا : مَنْ ہَذَا الَّذِی یَہْتِفُ ؟ قَالُوا : مُحَمَّدٌ۔ قَالَ : فَاجْتَمَعُوا إِلَیْہِ فَقَالَ : یَا بَنِی فُلاَنٍ یَا بَنِی فُلاَنٍ یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَرَأَیْتُکُمْ لَوْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ خَیْلاً تَخْرُجُ بِسَفْحِ ہَذا الْجَبَلِ أَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ ؟ ۔ قَالُوا : مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ کَذِبًا۔ قَالَ : فَإِنِّی نَذِیرٌ لَکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیدٍ ۔ قَالَ فَقَالَ أَبُو لَہَبٍ : تَبًّا لَکَ مَا جَمَعْتَنَا إِلاَّ لِہَذَا۔ ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { تَبَّتْ یَدَا أَبِی لَہَبٍ } [اللہب ١] وَقَدْ تَبَّ کَذَا قَرَأَ الأَعْمَشُ إِلَی آخِرِ السُّورَۃِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مُوسَی عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ ۔[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৩২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض کی ابتداء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوئی۔ پھر لوگوں پر اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ رسالت میں اپنی قوم سے تکالیف پہنچیں ان کا اختصار کے ساتھ بیان
(١٧٧٢٦) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی : { وَاَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنْ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ } [الشعراء ٢١٤- ٢١٥] تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے جان لیا کہ اگر اس کے ساتھ میں نے اپنی قوم سے ابتدا کی تو میں وہ چیز دیکھوں گا جسے میں ناپسند کرتا ہوں اور اس لیے میں اس کے بیان کرنے سے خاموش رہا۔ میرے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انھوں نے کہا کہ اے محمد ! اگر آپ نے اپنے رب کے اس حکم کو پورا نہ کیا تو وہ آپ کو عذاب دے گا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جمع ہونے کا اور ڈرانے کا قصہ بیان کیا۔
(١٧٧٢٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - { وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الأَقْرَبِینَ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ } [الشعراء ٢١٤- ٢١٥] قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : عَرَفْتُ أَنِّی إِنْ بَادَأْتُ بِہَا قَوْمِی رَأَیْتُ مِنْہُمْ مَا أَکْرَہُ فَصَمَتُّ عَلَیْہَا فَجَائَ نِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ إِنَّکَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَکَ بِہِ رَبُّکَ عَذَّبَکَ رَبُّکَ ۔ ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّۃً فِی جَمْعِہِمْ وَإِنْذَارِہِ إِیَّاہُمْ ۔[ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৩৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض کی ابتداء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوئی۔ پھر لوگوں پر اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ رسالت میں اپنی قوم سے تکالیف پہنچیں ان کا اختصار کے ساتھ بیان
(١٧٧٢٧) حضرت ربیعہ بن عباد دولی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ ذی الحجاز میں لوگوں کے پیچھے ان کے گھروں میں جاتے اور ان کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے اور آپ کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا جو لوگوں کو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ اے لوگو ! یہ تمہیں تمہارے آباء و اجداد کے دین کے متعلق دھوکے میں نہ ڈال دے۔ میں نے کہا : یہ کون ہے ؟ انھوں نے کہا : یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابو لہب ہیں۔
(١٧٧٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبَّادٍ الدُّؤَلِیِّ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِذِی الْمَجَازِ یَتْبَعُ النَّاسَ فِی مَنَازِلِہِمْ یَدْعُوہُمْ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَوَرَائَ ہُ رَجُلٌ وَہُوَ یَقُولُ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ لاَ یَغُرَّنَّکُمْ عَنْ دِینِکُمْ وَدِینِ آبَائِکُمْ ۔ قُلْتُ : مَنْ ہَذَا ؟ قَالُوا : عَمُّہُ أَبُو لَہَبٍ ۔ [صحیح لغیرہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৩৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض کی ابتداء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوئی۔ پھر لوگوں پر اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ رسالت میں اپنی قوم سے تکالیف پہنچیں ان کا اختصار کے ساتھ بیان
(١٧٧٢٨) عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے سوال کیا اور کہا کہ مجھے مشرکین کی سب سے زیادہ سخت تکلیف بیان کریں جو انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچائی۔ انھوں نے کہا کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے آپ کی گردن میں کپڑا لپیٹ کر زور سے دبایا تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) آئے اور انھوں نے اس کے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور کیا اور کہا : ( (اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَ قَدْ جَائَ کُمْ بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَّبِّکُمْ ) ) ” کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ اس پر تمہارے رب کی طرف سے دلائل بھی لایا ہے ؟ “
(١٧٧٢٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبِرْنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ قَالَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیُّ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ : حَدِّثْنِی بِأَشَدِّ شَیْئٍ صَنَعَہُ الْمُشْرِکُونَ بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : أَقْبَلَ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِی مُعَیْطٍ وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُصَلِّی عِنْدَ الْکَعْبَۃِ فَلَوَی ثَوْبَہُ فِی عُنُقِہِ فَخَنَقَہُ خَنْقًا شَدِیدًا فَأَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِمَنْکِبَیْہِ فَدَفَعَہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ (أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَنْ یَقُولَ رَبِّیَ اللَّہُ وَقَدْ جَائَ کُمْ بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَبِّکُمْ ) أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ ۔[صحیح۔ اخرجہ البخاری ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৩৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض کی ابتداء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوئی۔ پھر لوگوں پر اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ رسالت میں اپنی قوم سے تکالیف پہنچیں ان کا اختصار کے ساتھ بیان
(١٧٧٢٩) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے کہ مشرکین اپنی مجالس میں جمع ہو کر دیکھنے لگے۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا : کیا تم اس ریا کار کی طرف نہیں دیکھتے ہو تم میں سے کون آل فلاں کے اونٹ کی طرف جائے گا اور اس کی گوبر، خون اور اوجھڑی لائے اور پھر ان کے سجدے میں جانے کا انتظار کرے اور جب وہ سجدے میں چلا جائے تو اس کے کندھوں کے درمیان میں رکھ دے تو قوم کا سب سے زیادہ بدبخت انسان اٹھا اور وہ اوجھڑی وغیرہ لے آیا اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے میں گئے تو اس بدبخت نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کندھوں کے درمیان میں رکھ دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے میں ہی ٹھہرے رہے تو وہ یہ منظر دیکھ کر ہنسنے لگے حتیٰ کہ شدید ہنسی کی وجہ سے ان کا بعض بعض پر گرنے لگ گیا تو ایک جانے والا حضرت فاطمہ (رض) کی طرف گیا اور وہ اس وقت بچی تھیں تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ اوجڑی دور کی اور پھر ان کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ختم کرلی تو تین دفعہ کہا : اے اللہ ! قریش کو پکڑ لے، پھر ان لوگوں کے نام لے کر دعا کی : اے اللہ ! عمرو بن حشام، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید ان سب کو پکڑ لے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے بدر کے دن ان سب کو (میدان میں) گرے ہوئے دیکھا، پھر ان کو بدر کے کنویں میں گھسیٹ کر پھینک دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اصحاب قلیب (کنویں والوں) پر لعنت بھی مسلط کردی گئی۔
(١٧٧٢٩) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَمَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَائِمٌ یُصَلِّی عِنْدَ الْکَعْبَۃِ وَجَمْعُ قُرَیْشٍ فِی مَجَالِسِہِمْ یَنْظُرُونَ إِذْ قَالَ قَائِلٌ مِنْہُمْ أَلاَ تَنْظُرُونَ إِلَی ہَذَا الْمُرَائِی أَیُّکُمْ یَقُومُ إِلَی جَزُورِ آلِ فُلاَنٍ فَیَعْمِدُ إِلَی فَرْثِہَا وَدَمِہَا وَسَلاَہَا فَیَجِیئُ بِہِ ثُمَّ یُمْہِلُہُ حَتَّی إِذَا سَجَدَ وَضَعَہُ بَیْنَ کَتِفَیْہِ فَانْبَعَثَ أَشْقَاہَا فَجَائَ بِہِ فَلَمَّا سَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَضَعَہُ بَیْنَ کَتِفَیْہِ وَثَبَتَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَاجِدًا وَضَحِکُوا حَتَّی مَالَ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ مِنَ الضَّحِکِ فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ إِلَی فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَہِیَ جُوَیْرِیَۃُ فَأَقْبَلَتْ تَسْعَی حَتَّی أَلْقَتْہُ عَنْہُ وَأَقْبَلَتْ عَلَیْہِمْ تَسُبُّہُمْ فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الصَّلاَۃَ قَالَ : اللَّہُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْشٍ ۔ ثَلاَثًا ثُمَّ سَمَّی : اللَّہُمَّ عَلَیْکَ بِعَمْرِو بْنِ ہِشَامٍ وَبِعُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ وَشَیْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ وَالْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ وَأُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ وَعُمَارَۃَ بْنِ الْوَلِیدِ ۔ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : وَاللَّہِ لَقَدْ رَأَیْتُہُمْ صَرْعَی یَوْمَ بَدْرٍ یُسْحَبُونَ إِلَی قَلِیبِ بَدْرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَأُتْبِعَ أَصْحَابُ الْقَلِیبِ لَعْنَۃً ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی وَأَخْرَجَہُ ہُوَ وَمُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৩৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض کی ابتداء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوئی۔ پھر لوگوں پر اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ رسالت میں اپنی قوم سے تکالیف پہنچیں ان کا اختصار کے ساتھ بیان
(١٧٧٣٠) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نگرانی کی جاتی تھی حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی : { یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ وَ اللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ } [المائدۃ ٦٧] ” اے رسول ! جو آپ کی طرف آپ کے رب نے نازل کیا ہے اس کی تبلیغ کیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنے رب کے پیغام کو نہ پہنچایا اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچانے والا ہے تو آپ نے اپنا سر اپنے خیمے سے نکال کر کہا : اے لوگو ! اب تم چلے جاؤ، اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے قتل سے بچائے گا کہ وہ آپ کو قتل کریں جب تک کہ آپ اس چیز کی تبلیغ کرتے رہیں گے جو چیز آپ کی طرف نازل کی گئی ہے تو آپ نے اس چیز کی تبلیغ کی جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا تو قوم نے اس پر آپ کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ { فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِئِ یْنَ ۔ } [الحجر ٩٤-٩٥]” پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جا رہا ہے کھول کر بیان کریں اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجیے آپ سے جو لوگ مسخرا پن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں۔ “
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے قتل سے بچائے گا کہ وہ آپ کو قتل کریں جب تک کہ آپ اس چیز کی تبلیغ کرتے رہیں گے جو چیز آپ کی طرف نازل کی گئی ہے تو آپ نے اس چیز کی تبلیغ کی جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا تو قوم نے اس پر آپ کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ { فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِئِ یْنَ ۔ } [الحجر ٩٤-٩٥]” پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جا رہا ہے کھول کر بیان کریں اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجیے آپ سے جو لوگ مسخرا پن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں۔ “
(١٧٧٣٠) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُحْرَسُ حَتَّی نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللَّہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ } [المائدۃ ٦٧] فَأَخْرَجَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَأْسَہُ مِنَ الْقُبَّۃِ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ انْصَرَفُوا فَقَدْ عَصَمَنِی اللَّہُ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ الْہِلاَلِیِّ فَقَالَ لَہُمْ : أَیُّہَا النَّاسُ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : یَعْصِمُکَ مِنْ قَتْلِہِمْ أَنْ یَقْتُلُوکَ حَتَّی تُبَلِّغَ مَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ فَبَلَّغَ مَا أُمِرَ بِہِ فَاسْتَہْزَأَ بِہِ قَوْمٌ فَنَزَلَ عَلَیْہِ { فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرْ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِینَ إِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَہْزِئِینَ } [الحجر ٩٤-٩٥]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُحْرَسُ حَتَّی نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللَّہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ } [المائدۃ ٦٧] فَأَخْرَجَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَأْسَہُ مِنَ الْقُبَّۃِ فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ انْصَرَفُوا فَقَدْ عَصَمَنِی اللَّہُ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ الْہِلاَلِیِّ فَقَالَ لَہُمْ : أَیُّہَا النَّاسُ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : یَعْصِمُکَ مِنْ قَتْلِہِمْ أَنْ یَقْتُلُوکَ حَتَّی تُبَلِّغَ مَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ فَبَلَّغَ مَا أُمِرَ بِہِ فَاسْتَہْزَأَ بِہِ قَوْمٌ فَنَزَلَ عَلَیْہِ { فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرْ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِینَ إِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَہْزِئِینَ } [الحجر ٩٤-٩٥]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৩৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض کی ابتداء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوئی۔ پھر لوگوں پر اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ رسالت میں اپنی قوم سے تکالیف پہنچیں ان کا اختصار کے ساتھ بیان
(١٧٧٣١) حضرت ابن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے اس قول : { اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ ۔ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ سے مذاق کرنے والے یہ لوگ تھے : ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث زہری، اسود بن مطلب، ابو زمعہ بنی اسد بن عبدالعزی، حارث بن عیطل اسہمی اسی اور عاص بن وائل۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل (علیہ السلام) سے ان لوگوں کی شکایت بیان کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو ولید، ابو عمرو بن مغیرہ کو دکھایا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کے ہاتھ کی موٹی رگ کی طرف اشارہ کیا تو آپ نے کہا : ” تو نے کیا کیا ؟ “ اس نے کہا کہ آپ کی اس سے کفایت کی گئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اسود بن مطلب دکھایا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور آپ نے کہا : تو نے کیا کیا ؟ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ (ان کے شر سے اور ایذاء سے) بچا لیے گئے ہیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اسود بن عبد یغوث الزہری دکھایا تو انھوں نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تو انھوں نے کہا کہ آپ اس سے بچا لیے گئے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حارث بن عیطل سہمی کو دکھایا تو انھوں نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا تو آپ نے فرمایا : اس کے ساتھ کیا کیا ؟ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محفوظ کردیے گئے ہیں۔ پھر عاص بن وائل گزرا تو انھوں نے اس کے قدم کی خالی جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا کیا ؟ انھوں نے کہا : آپ بےفکر ہوجائیں (اور ان کا انجام دیکھیں) اس کے بعد ولید بن مغیرہ بنی خزاعہ کے ایک آدمی کے قریب سے گزرا جو اپنے تیر کے پھالے کو درست کررہا تھا اور یہ تیر ولید ابن مغیرہ کی رگ میں لگا اور اسے کاٹ دیا اور رہا اسود ابن مطلب وہ اندھا ہوگیا تو بعض لوگ اس کے بارے میں کہتے کہ وہ ایسے اندھا ہوا ہے اور بعض کہتے ہیں : وہ ببول کے درخت کے نیچے اترا اور اپنے بیٹوں سے کہنے لگا : مجھے بچاؤ ! میں مرگیا، وہ کہنے لگے : ہمیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جس سے آپ کو بچائیں۔ وہ یہی الفاظ کہتا رہا : وہ دیکھو ! وہ مجھے مار رہا ہے۔ اسے مجھ سے دور کرو۔ وہ میری آنکھوں میں کانٹے چبھو رہا ہے۔ وہ کہتے : ہمیں تو کوئی چیز نظر نہیں آرہی۔ اس کی یہی حالت رہی حتی کہ آنکھوں سے اندھا ہوگیا اور رہا : اسود بن عبد یغوث زہری تو اس کے سر میں دانے نکلے اور وہ انہی دانوں کے ساتھ مرگیا۔ اور اسی طرح حارث بن عیطل کے پیٹ میں زرد رنگ کا پانی (پیپ وغیرہ) پڑگئی کہ اس کا پائخانہ اس کے منہ سے نکل آیا اور وہ بھی اسی سے مرگیا اور رہا عاص بن وائل تو اس کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا کہ اس (گستاخ) کے سر میں کانٹا لگا جو پورے سر میں پھیل گیا اور وہ اسی سے مرگیا اور بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ اپنے گدھے پر سوار ہو کر طائف کی طرف جانے لگا۔ راستے میں گدھا اسے لے کر کانٹے دار بوٹی میں بیٹھ گیا تو اسے اس کے پاؤں کے تلوے میں کانٹا لگا اور وہ کانٹا ہی اس کی موت کا سبب بن گیا۔ (اور یہ ملعون بھی مرگیا) ۔
(١٧٧٣١) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَزِینٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِیَاسٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَہْزِئِینَ } [الحجر ٩٥] قَالَ : الْمُسْتَہْزِئُونَ الْوَلِیدُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ وَالأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ یَغُوثَ الزُّہْرِیُّ وَالأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ أَبُو زَمْعَۃَ مِنْ بَنِی أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی وَالْحَارِثُ بْنُ عَیْطَلٍ السَّہْمِیُّ وَالْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ ۔ فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ شَکَاہُمْ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَرَاہُ الْوَلِیدَ أَبَا عَمْرِو بْنِ الْمُغِیرَۃِ فَأَوْمَأَ جِبْرِیلُ إِلَی أَبْجَلِہِ فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ ؟ ۔ قَالَ : کُفِیتَہُ ۔ ثُمَّ أَرَاہُ الأَسْوَدَ بْنَ الْمُطَّلِبِ فَأَوْمَأَ جِبْرِیلُ إِلَی عَیْنَیْہِ فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ ؟ ۔ قَالَ : کُفِیتَہُ ثُمَّ أَرَاہُ الأَسْوَدَ بْنَ عَبْدِ یَغُوثَ الزُّہْرِیَّ فَأَوْمَأَ إِلَی رَأْسِہِ فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ ؟ ۔ قَالَ : کُفِیتَہُ ۔ ثُمَّ أَرَاہُ الْحَارِثَ بْنَ عَیْطَلٍ السَّہْمِیَّ فَأَوَمَأَإِلَی رَأْسِہِ فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ کُفِیتَہُ وَمَرَّ بِہِ الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ فَأَوْمَأَ إِلَی أَخْمَصِہِ فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ ؟ ۔ قَالَ : کُفِیتَہُ ۔ فَأَمَّا الْوَلِیدُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ فَمَرَّ بِرَجُلٍ مِنْ خُزَاعَۃَ وَہُوَ یَرِیشُ نَبْلاً لَہُ فَأَصَابَ أَبْجَلَہُ فَقَطَعَہَا وَأَمَّا الأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ فَعَمِیَ فَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ عَمِیَ ہَکَذَا وَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ نَزَلَ تَحْتَ سَمُرَۃٍ فَجَعَلَ یَقُولُ : یَا بَنِیَّ أَلاَ تَدْفَعُونَ عَنِّی قَدْ قُتِلْتُ ۔ فَجَعَلُوا یَقُولُونَ : مَا نَرَی شَیْئًا۔ وَجَعَلَ یَقُولُ یَا بَنِیَّ أَلاَ تَمْنَعُونَ عَنِّی قَدْ ہَلَکْتُ ہَا ہُوَ ذَا أُطْعَنُ بِالشَّوْکِ فِی عَیْنِی فَجَعَلُوا یَقُولُونَ مَا نَرَی شَیْئًا۔ فَلَمْ یَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی عَمِیَتْ عَیْنَاہُ وَأَمَّا الأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ یَغُوثَ الزُّہْرِیُّ فَخَرَجَ فِی رَأْسِہِ قُرُوحٌ فَمَاتَ مِنْہَا وَأَمَّا الْحَارِثُ بْنُ عَیْطَلٍ فَأَخَذَہُ الْمَائُ الأَصْفَرُ فِی بَطْنِہِ حَتَّی خَرَجَ خُرْؤُہُ مِنْ فِیہِ فَمَاتَ مِنْہَا وَأَمَّا الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ فَبَیْنَمَا ہُوَ کَذَلِکَ یَوْمًا إِذَ دَخَلَ فِی رَأْسِہِ شِبْرِقَۃٌ حَتَّی امْتَلأَتْ مِنْہَا فَمَاتَ مِنْہَا وَقَالَ غَیْرُہُ فَرَکِبَ إِلَی الطَّائِفِ عَلَی حِمَارٍ فَرَبَضَ بِہِ عَلَی شِبْرِقَۃٍ فَدَخَلَتْ فِی أَخْمَصِ قَدَمِہِ شَوْکَۃٌ فَقَتَلَتْہُ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৩৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض کی ابتداء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوئی۔ پھر لوگوں پر اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ رسالت میں اپنی قوم سے تکالیف پہنچیں ان کا اختصار کے ساتھ بیان
(١٧٧٣٢) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ قریش نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لیے سونا بنا دے تو تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھا دیکھ لو تم ایسا ہی کرو گے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ! (ہم ایمان لے آئیں گے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی تو آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور آ کر کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتے ہیں اور ساتھ فرماتے ہیں کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہتے ہیں تو صفا کو سونا بنادیں گے اور پھر اس کے بعد بھی میں جس نے کفر کیا تو میں اس کو ایسا سخت عذاب دوں گا کہ مخلوق میں سے کسی ایک کو بھی ایسا عذاب نہ دوں گا اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اے اللہ) تو توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دے (صفا کو سونا نہ بنا) ۔
(١٧٧٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ عِمْرَانَ أَبِی الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَتْ قُرَیْشٌ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ادْعُ رَبَّکَ أَنْ یَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَہَبًا وَنُؤْمِنَ بِکَ ۔ قَالَ : أَتَفْعَلُونَ ؟ ۔ قَالُوا : نَعَمْ فَدَعَا فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ یَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلاَمَ وَیَقُولُ : إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ الصَّفَا ذَہَبًا فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ عَذَّبْتُہُ عَذَابًا لاَ أُعَذِّبُہُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِینَ وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَہُمْ بَابَ التَّوْبَۃِ وَالرَّحْمَۃِ قَالَ : بَلْ بَابَ التَّوْبَۃِ وَالرَّحْمَۃِ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৩৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض کی ابتداء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوئی۔ پھر لوگوں پر اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ رسالت میں اپنی قوم سے تکالیف پہنچیں ان کا اختصار کے ساتھ بیان
(١٧٧٣٣) حضرت ابو عالیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنْ الرُّسُلِ } [الأحقاف ٣٥] ” آپ بھی ایسے ہی صبر کیجیے جیسے رسولوں میں سے اولواعزم رسولوں نے صبر کیا “ اولو العزم رسول یہ ہیں : نوح، ہود، ابراہیم ۔ اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ آپ بھی صبر کریں جس طرح انھوں نے صبر کیا اور وہ تین تھے اور چوتھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا : { اِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْکِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَکُمْ وَ شُرَکَآئَ کُمْ ثُمَّ لَا یَکُنْ اَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمَّۃً ثُمَّ اقْضُوْٓا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ ۔ } [یونس ٧١] ” اے میری قوم ! اگر تم کو میرا رہنا اور احکام الٰہی سے نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا اللہ ہی پر بھروسہ ہے۔۔۔ تم نے میرے ساتھ جو کچھ کرنا ہے کر گزرو اور مجھ کو مہلت نہ دو “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو بھرپور جواب دیتے ہوئے ان پر جدائی کا مقام واضح کردیا اور اسی طرح ہود (علیہ السلام) نے بھی ان کو جواب دیا : جب انھوں نے آپ سے یہ کہا تھا : { اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰیکَ بَعْضُ اٰلِھَتِنَا بِسُوْئٍ } [ہود ٥٤] ” بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آگیا ہے “ تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ بن جاؤ کہ میں ہوں اور تم سب مل کر میرے حق میں بدی کرلو اور میں نے نقطہ انفصال واضح کرتے ہوئے انھیں منہ توڑ جواب دیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : { قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْ اِبْرٰہِیْمَ۔۔۔} [الممتحنۃ ٤] ”(مسلمانو ! تمہارے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بیزار ہیں “ اور ان پر اپنی بات کو واضح کردیا اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : { اِنِّیْ نُھِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدَعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ۔۔۔} [الأنعام ٥٦] ” آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان کی عبادت کروں جن کو تم لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔ “ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے قریب کھڑے ہوئے اور مشرکین پر اس آیت کریمہ کو پڑھنے لگے اور اپنا نقطہ انفصال ان پر واضح کردیا۔
(١٧٧٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ عِیسَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ التَّمِیمِیِّ عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ } [الأحقاف ٣٥] نُوحٌ وَہُودٌ وَإِبْرَاہِیمُ أُمِرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یَصْبِرَ کَمَا صَبَرَ ہَؤُلاَئِ فَکَانُوا ثَلاَثَۃً وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَابِعُہُمْ قَالَ نُوحٌ {إِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکُمْ مَقَامِی وَتَذْکِیرِی بِآیَاتِ اللَّہِ } [یونس ٧١] إِلَی آخِرِہَا فَأَظْہَرَ لَہُمُ الْمُفَارَقَۃَ وَقَالَ ہُودٌ حِینَ قَالُوا {إِنْ نَقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاکَ بَعْضُ آلِہَتِنَا بِسُوئٍ } [ہود ٥٤] الآیَۃَ فَأَظْہَرَ لَہُمُ الْمُفَارَقَۃَ وَقَالَ إِبْرَاہِیمُ { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِی إِبْرَاہِیمَ } [الممتحنۃ ٤] إِلَی آخِرِ الآیَۃِ فَأَظْہَرَ لَہُمُ الْمُفَارَقَۃَ وَقَالَ مُحَمَّدٌ {إِنِّی نُہِیتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِینَ تَدَعُونَ مِنْ دُونَ اللَّہِ } [الأنعام ٥٦] فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عِنْدَ الْکَعْبَۃِ یَقْرَؤُہَا عَلَی الْمُشْرِکِینَ فَأَظْہَرَ لَہُمُ الْمُفَارَقَۃَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৪০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کی اجازت کا بیان
(١٧٧٣٤) ام المؤمنین حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب ہم پر مکہ تنگ ہوگیا اور اصحابِ رسول کو طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے اپنے دین پر عمل کرنے سے آزمائشوں اور فتنوں کو دیکھا اور یہ کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے دفاع سے قاصر ہیں کیونکہ درمیان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم اور آپ کے چچا رکاوٹ بنے ہوئے تھے اور آپ اپنے ساتھیوں کی تکلیفوں میں بےبس ہوگئے تو آپ نے ان سے کہا کہ حبشہ کی سر زمین میں ان کا بادشاہ اپنے پاس کسی پر ظلم نہیں ہونے دیتا لہٰذا تم ان کے شہر میں چلے جاؤ۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے متبادل تمہارے لیے اور راستہ نہ نکال دے۔ پھر ہم آہستہ آہستہ یہاں سے نکلے حتیٰ کہ ہم حبشہ میں جمع ہوگئے اور ہم اچھے گھر اور اچھے پڑوس میں تھے۔ وہاں ظلم و زیادتی کا ڈر بھی نہ تھا۔ پھر لمبی حدیث بیان کی۔
(١٧٧٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہَا قَالَتْ : لَمَّا ضَاقَتْ عَلَیْنَا مَکَّۃُ وَأُوذِیَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَفُتِنُوا وَرَأَوْا مَا یُصِیبُہُمْ مِنَ الْبَلاَئِ وَالْفِتْنَۃِ فِی دِینِہِمْ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لاَ یَسْتَطِیعُ دَفْعَ ذَلِکَ عَنْہُمْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی مَنْعَۃٍ مِنْ قَوْمِہِ وَعَمِّہِ لاَ یَصِلُ إِلَیْہِ شَیْئٌ مِمَّا یَکْرَہُ مَمَّا یَنَالُ أَصْحَابَہُ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ مَلِکًا لاَ یُظْلَمُ أَحَدٌ عِنْدَہُ فَالْحَقُوا بِبِلاَدِہِ حَتَّی یَجْعَلَ اللَّہُ لَکُمْ فَرَجًا وَمَخْرَجًا مِمَّا أَنْتُمْ فِیہِ ۔ فَخَرَجْنَا إِلَیْہَا أَرْسَالاً حَتَّی اجْتَمَعْنَا بِہَا فَنَزَلْنَا ِخَیْرِ دَارٍ إِلَی خَیْرِ جَارٍ أَمِنَّا عَلَی دِینِنَا وَلَمْ نَخْشَ مِنْہُ ظُلْمًا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৪১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کی اجازت کا بیان
(١٧٧٣٥) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مکہ) میں دس سال ٹھہرے اور موسم حج میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حاجیوں کے پیچھے ان کے گھروں میں جاتے جو مجنہ اور عکاظ میں تھے اور اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منیٰ میں بھی ان کے گھروں میں جاتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : جو مجھے ٹھکانا دے گا اور میری مدد کرے گا حتیٰ کہ میں اللہ کے پیغامات کی تبلیغ کروں اور ان کو لوگوں تک پہنچا دوں تو اس کے لیے جنت ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ٹھکانا اور مدد کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہوا حتی کہ مضر اور یمن سے کوئی آدمی آتا تو اس کی قوم اور اس کے عزیز و اقارب کے لوگ اسے کہتے کہ قریش کے ایک جوان سے بچنا اور اس سے ملاقات نہ کرنا۔ وہ لوگوں کے گھروں میں جا کر ان کو اللہ کے دین کی دعوت دیتا ہے اور لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف انگلیوں سے اشارے کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ میں منتخب فرمایا اور ہم میں سے کوئی آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور وہ آپ پر ایمان لے آیا اور آپ اسے قرآن کی تعلیم دیتے۔ پھر وہ آدمی اپنے گھر لوٹا تو اس کے اسلام کی وجہ سے اس کے اہل و عیال بھی اسلام قبول کرلیتے حتیٰ کہ یثرب (مدینہ) میں کوئی ایسا گھر نہیں تھا جس میں مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور یہ لوگ اسلام کی تبلیغ کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے ہمیں چنا اور ہم ستر آدمیوں نے اکٹھے ہو کر مشاورت کی اور کہا کہ آپ کو کب تک مکہ کے پہاڑوں میں دھکیلا جائے گا اور کب تک آپ خوف کی زندگی ان پہاڑوں میں گزاریں گے۔ اس کے بعد ہم نے وہاں سے کوچ کیا اور موسم حج میں آپ سے ملاقات کی تو آپ نے شعب عقبہ میں ہمارے ساتھ ملاقات کا وعدہ کیا حتیٰ کہ ہم اس میں ایک ایک اور دو دو ہو کر داخل ہوئے حتیٰ کہ ہم سب اکٹھے ہوگئے اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم آپ کی کس بات پر بیعت کریں تو آپ نے فرمایا : تم میری بیعت اطاعت و فرمان برداری پر کرو۔ خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی اور خوش حالی اور تنگ دستی میں خرچ کرنے پر اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے پر اور اللہ کے دین کی دعوت دینے یا عمل کرنے پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرنے پر اور اس بات پر کہ اگر میں تمہارے پاس یثرب آؤں تو تم نے میری مدد کرنی ہے اور تم نے مجھے بھی اس چیز سے بچانا جس چیز سے تم اپنے آپ کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولادوں کو بچاتے ہو تو ایسی صورت میں تمہارے لیے جنت ہے۔ “
ہم نے کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں اور ہم بیعت کے لیے اٹھے تو حضرت سعد بن زرارہ نے جو ان ستر آدمیوں میں سب سے کم عمر تھے سوائے میرے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے : ” اہل یثرب ذرا ٹھہر جاؤ ! ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اونٹوں کے کلیجے مار کر (یعنی لمبا چوڑا سفر کر کے) اس یقین کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں آج آپ کو یہاں سے لے جانے کا معنی ہے سارے عرب سے دشمنی، تمہارے چیدہ سرداروں کا قتل اور تلواروں کی مار۔ لہٰذا اگر یہ سب کچھ برداشت کرسکتے ہو تب تو انھیں لے چلو اور تمہارا اجر اللہ پر ہے اور اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو انھیں ابھی سے چھوڑ دو ۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قابل قبول عذر ہوگا۔ “ تو لوگوں نے بیک آواز کہا ” سعد بن زرارہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ ! اللہ کی قسم ! ہم اس بیعت کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک ایک کر کے اٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے بیعت لی اور اس کے عوض جنت کی بشارت دی۔
ہم نے کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں اور ہم بیعت کے لیے اٹھے تو حضرت سعد بن زرارہ نے جو ان ستر آدمیوں میں سب سے کم عمر تھے سوائے میرے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے : ” اہل یثرب ذرا ٹھہر جاؤ ! ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اونٹوں کے کلیجے مار کر (یعنی لمبا چوڑا سفر کر کے) اس یقین کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں آج آپ کو یہاں سے لے جانے کا معنی ہے سارے عرب سے دشمنی، تمہارے چیدہ سرداروں کا قتل اور تلواروں کی مار۔ لہٰذا اگر یہ سب کچھ برداشت کرسکتے ہو تب تو انھیں لے چلو اور تمہارا اجر اللہ پر ہے اور اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہے تو انھیں ابھی سے چھوڑ دو ۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قابل قبول عذر ہوگا۔ “ تو لوگوں نے بیک آواز کہا ” سعد بن زرارہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ ! اللہ کی قسم ! ہم اس بیعت کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک ایک کر کے اٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے بیعت لی اور اس کے عوض جنت کی بشارت دی۔
(١٧٧٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ : مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَبِثَ عَشْرَ سِنِینَ یَتْبَعُ الْحَاجَّ فِی مَنَازِلِہِمْ فِی الْمَوَاسِمِ بِمَجِنَّۃَ وَعُکَاظٍ وَمَنَازِلِہِمْ بِمِنًی : مَنْ یُئْوِینِی وَیَنْصُرُنِی حَتَّی أَبَلِّغَ رِسَالاَتِ رَبِّی وَلَہُ الْجَنَّۃُ ؟ ۔ فَلَمْ یَجِدْ أَحَدًا یُئْوِیہِ وَیَنْصُرُہُ حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَیَدْخُلُ ضَاحِیَۃً مِنْ مُضَرَ وَالْیَمَنِ فَیَأْتِیہِ قَوْمُہُ أَوْ ذُو رَحِمِہِ فَیَقُولُونَ : احْذَرْ فَتَی قُرَیْشٍ لاَ یُصِیبُکَ یَمْشِی بَیْنَ رِحَالِہِمْ یَدْعُوہُمْ إِلَی اللَّہِ یُشِیرُونَ إِلَیْہِ بِأَصَابِعِہِمْ حَتَّی یَبْعَثَنَا اللَّہُ مِنْ یَثْرِبَ فَیَأْتِیہِ الرَّجُلُ مِنَّا فَیُؤْمِنُ بِہِ وَیُقْرِئُہُ الْقُرْآنَ فَیَنْقَلِبُ إِلَی أَہْلِہِ فَیُسْلِمُونَ بِإِسْلاَمِہِ حَتَّی لَمْ یَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ یَثْرِبَ إِلاَّ فِیہَا رَہْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یُظْہِرُونَ الإِسْلاَمَ ثُمَّ یَبْعَثُنَا اللَّہُ فَائْتَمَرْنَا وَاجْتَمَعْنَا سَبْعِینَ رَجُلاً مِنَّا فَقُلْنَا حَتَّی مَتَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُطْرَدُ فِی جِبَالِ مَکَّۃَ وَیُخَالُ أَوْ قَالَ وَیُخَافُ ۔
فَرَحَلْنَا حَتَّی قَدِمْنَا عَلَیْہِ الْمَوْسِمَ فَوَعَدَنَا شِعْبَ الْعَقَبَۃِ فَاجْتَمَعْنَا فِیہِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَیْنِ حَتَّی تَوَافَیْنَا فِیہِ عِنْدَہُ فَقُلْنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلَی مَا نُبَایِعُکَ ؟ قَالَ : تُبَایِعُونِی عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی النَّشَاطِ وَالْکَسَلِ وَعَلَی النَّفَقَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَعَلَی الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ وَأَنْ تَقُولُوا فِی اللَّہِ لاَ یَأْخُذُکُمْ فِی اللَّہِ لَوْمَۃُ لاَئِمٍ وَعَلَی أَنْ تَنْصُرُونِی إِنْ قَدِمْتُ عَلَیْکُمْ یَثْرِبَ وَتَمْنَعُونِی مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ وَأَزْوَاجَکُمْ وَأَبْنَائَ کُمْ وَلَکُمُ الْجَنَّۃُ ۔
فَقُلْنَا : نُبَایِعُکَ فَأَخَذَ بِیَدِہِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَۃَ وَہُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِینَ رَجُلاً إِلاَّ أَنَا فَقَالَ : رُوَیْدًا یَا أَہْلَ یَثْرِبَ إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَیْہِ أَکْبَادَ الْمَطِیِّ إِلاَّ وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّہُ رَسُولُ اللَّہِ وَأَنَّ إِخْرَاجَہُ الْیَوْمَ مُفَارَقَۃُ الْعَرَبِ کَافَّۃً وَقَتْلُ خِیَارِکُمْ وَأَنْ تَعُضَّکُمُ السُّیُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَی عَضِّ السُّیُوفِ وَقَتْلِ خِیَارِکُمْ وَمُفَارَقَۃِ الْعَرَبِ کَافَّۃً فَخُذُوہُ وَأَجْرُکُمْ عَلَی اللَّہِ وَإِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِکُمْ خِیفَۃً فَذَرُوہُ فَہُوَ أَعْذَرُ لَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ ۔
فَقَالُوا : أَخِّرْ عَنَّا یَدَکَ یَا أَسْعَدُ بْنَ زُرَارَۃَ فَوَاللَّہِ لاَ نَذَرُ ہَذِہِ الْبَیْعَۃَ وَلاَ نَسْتَقِیلُہَا فَقُمْنَا إِلَیْہِ رَجُلاً رَجُلاً یَأْخُذُ عَلَیْنَا شَرْطَہُ وَیُعْطِینَا عَلَی ذَلِکَ الْجَنَّۃَ ۔ [حسن۔ حدیث حاکم ]
فَرَحَلْنَا حَتَّی قَدِمْنَا عَلَیْہِ الْمَوْسِمَ فَوَعَدَنَا شِعْبَ الْعَقَبَۃِ فَاجْتَمَعْنَا فِیہِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَیْنِ حَتَّی تَوَافَیْنَا فِیہِ عِنْدَہُ فَقُلْنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلَی مَا نُبَایِعُکَ ؟ قَالَ : تُبَایِعُونِی عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی النَّشَاطِ وَالْکَسَلِ وَعَلَی النَّفَقَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَعَلَی الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ وَأَنْ تَقُولُوا فِی اللَّہِ لاَ یَأْخُذُکُمْ فِی اللَّہِ لَوْمَۃُ لاَئِمٍ وَعَلَی أَنْ تَنْصُرُونِی إِنْ قَدِمْتُ عَلَیْکُمْ یَثْرِبَ وَتَمْنَعُونِی مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ وَأَزْوَاجَکُمْ وَأَبْنَائَ کُمْ وَلَکُمُ الْجَنَّۃُ ۔
فَقُلْنَا : نُبَایِعُکَ فَأَخَذَ بِیَدِہِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَۃَ وَہُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِینَ رَجُلاً إِلاَّ أَنَا فَقَالَ : رُوَیْدًا یَا أَہْلَ یَثْرِبَ إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَیْہِ أَکْبَادَ الْمَطِیِّ إِلاَّ وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّہُ رَسُولُ اللَّہِ وَأَنَّ إِخْرَاجَہُ الْیَوْمَ مُفَارَقَۃُ الْعَرَبِ کَافَّۃً وَقَتْلُ خِیَارِکُمْ وَأَنْ تَعُضَّکُمُ السُّیُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَی عَضِّ السُّیُوفِ وَقَتْلِ خِیَارِکُمْ وَمُفَارَقَۃِ الْعَرَبِ کَافَّۃً فَخُذُوہُ وَأَجْرُکُمْ عَلَی اللَّہِ وَإِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِکُمْ خِیفَۃً فَذَرُوہُ فَہُوَ أَعْذَرُ لَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ ۔
فَقَالُوا : أَخِّرْ عَنَّا یَدَکَ یَا أَسْعَدُ بْنَ زُرَارَۃَ فَوَاللَّہِ لاَ نَذَرُ ہَذِہِ الْبَیْعَۃَ وَلاَ نَسْتَقِیلُہَا فَقُمْنَا إِلَیْہِ رَجُلاً رَجُلاً یَأْخُذُ عَلَیْنَا شَرْطَہُ وَیُعْطِینَا عَلَی ذَلِکَ الْجَنَّۃَ ۔ [حسن۔ حدیث حاکم ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৪২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کی اجازت کا بیان
(١٧٧٣٦) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : { وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا ۔ } [الاسراء ٨٠]” اور اس طرح دعا کریں کہ اے میرے پروردگار ! مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ اور مددگار مقرر فرما۔ “
(١٧٧٣٦) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِی ظَبْیَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَکَّۃَ فَأُمِرَ بِالْہِجْرَۃِ وَأُنْزِلَ عَلَیْہِ { وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِی مُدْخَلَ صَدَقٍ وَأَخْرِجْنِی مَخْرَجَ صَدْقٍ وَاجَعَلْ لِی مِنْ لَدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیرًا } [الاسراء ٨٠] ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৪৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کی اجازت کا بیان
(١٧٧٣٧) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں سے فرمایا : ” مجھے تمہارا مقام ہجرت دکھایا گیا ہے، یہ لاوے کی دو پہاڑیوں کے درمیان واقع ایک نخلستانی علاقہ ہے۔ “ اس کے بعد لوگوں نے مدینہ کی جانب ہجرت کی۔ عام مہاجرین حبشہ بھی مدینہ ہی آگئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے بھی سفر مدینہ کے لیے ساز و سامان تیار کرلیا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : ذرا رکے رہو، کیونکہ توقع ہے مجھے بھی اجازت دے دی جائے گی۔ ابوبکر (رض) نے کہا : میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فدا ! کیا آپ کو اس پر امید ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! اس کے بعد ابوبکر (رض) رکے رہے تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر کریں۔ ان کے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ انھیں بھی چار ماہ تک ببول کے پتوں کا خوب چارہ کھلایا۔
(١٧٧٣٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ حَدَّثَنَا جَدِّی عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ یَوْمَئِذٍ بِمَکَّۃَ لِلْمُسْلِمِینَ : قَدْ رَأَیْتُ دَارَ ہِجْرَتِکُمْ أُرِیتُ سَبَخَۃً ذَاتَ نَخْلٍ بَیْنَ لاَبَتَیْنِ وَہُمَا الْحَرَّتَانِ ۔ فَہَاجَرَ مَنْ ہَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِینَۃِ حِینَ ذَکَرَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَرَجَعَ إِلَی الْمَدِینَۃِ بَعْضُ مِنْ کَانَ ہَاجَرَ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ مِنْ الْمُسْلِمِینَ وَتَجَہَّزَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُہَاجِرًا فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : عَلَی رِسْلِکِ فَإِنِّی أَرْجُو أَنْ یُؤْذَنَ لِی ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَتَرْجُو ذَلِکَ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ فَحَبَسَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَفْسَہُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِصَحَابَتِہِ وَعَلَفَ رَاحِلَتَیْنِ عِنْدَہُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ بِطُولِہِ مِنْ حَدِیثِ عُقَیْلٍ وَیُونُسَ عَنِ الزُّہْرِیِّ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٢٩٨]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৪৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کی اجازت کا بیان
(١٧٧٣٨) حضرت براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس آنے والے (یعنی مدینہ میں) حضرت مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم (رض) تھے۔ وہ دونوں قرآن کریم کی تعلیم دیتے تھے، پھر عمار بن یاسر، بلال اور سعد (رض) آئے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے بیسویں نمبر پر حضرت عمر بن خطاب (رض) آئے۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو اہل مدینہ نے اتنی خوشی منائی کہ میں نے اس سے پہلے اتنا خوش ہوتے ہوئے انھیں نہیں دیکھا۔ حتی کہ میں لڑکوں اور بچوں کو دیکھا کہ وہ مدینے کی گلیوں میں دوڑتے ہوئے یہ آواز بلند کر رہے تھے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ میں تشریف لائے تو میں نے { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } [الأعلی ١] اور اس جیسی مفصل سورتیں پڑھ لی تھیں۔
(١٧٧٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُوالْوَلِیدِ : ہِشَامُ بْنُ عَبْدِالْمَلِکِ الْبَاہِلِیُّ وَأَبُوعُمَرَ : حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُوإِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : کَانَ أَوَّلُ مِنْ قَدِمَ عَلَیْنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُصْعَبَ بْنَ عُمَیْرٍ وَابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَا یَقْرَآنِ الْقُرْآنَ ثُمَّ جَائَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ وَبِلاَلٌ وَسَعْدٌ ثُمَّ جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی عِشْرِینَ یَعْنِی مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ جَائَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَمَا رَأَیْتُ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ فَرِحُوا بِشَیْئٍ قَطُّ فَرَحَہُمْ بِہِ حَتَّی رَأَیْتُ الْوَلاَئِدَ وَالصِّبْیَانَ یَسْعَوْنَ فِی الطَّرِیقِ یَقُولُونَ جَائَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - جَائَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ فَمَا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ حَتَّی قَرَأْتُ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } [الأعلی ١] فِی سُوَرٍ مِثْلِہَا مِنَ الْمُفَصَّلِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ ۔ [صحیح۔ بخاری ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৪৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتال کرنے کی اجازت کا بیان
(١٧٧٣٩) حضرت عروہ بن زبیر (رض) نے فرمایا کہ مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پیچھے حضرت اسامہ بن زید (رض) کو بٹھایا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر کیا حتیٰ کہ ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا اور یہ اس کے اسلام لانے سے پہلے کا واقعہ ہے اور اسی طرح اس مجلس کے اندر مسلمان، مشرکین، بت پرست اور یہودی سب شریک تھے اور مسلمانوں میں سے عبداللہ بن رواحہ (رض) بھی تھے۔ جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپالی اور پھر کہا : ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انھیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کو قرآن مجید کی تلاوت بھی سنائی۔ عبداللہ بن ابی بن سلول بولا : میاں میں ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہوں اور اگر وہ چیز جو تو کہتا ہے حق ہے تو ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو، اپنے گھر جاؤ اور ہم سے جو تمہارے پاس آئے اس سے بیان کرو، اس پر حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں، کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں میں تو تو میں میں ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کردیتے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں برابر خاموش کرتے رہے اور جب وہ خاموش ہوگئے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر بیٹھ کر حضرت سعد بن عبادہ (رض) کے یہاں گئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا کہ اے سعد ! تم نے نہیں سنا کہ ابو حباب نے آج کیا بات کہی ؟ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یوں یوں باتیں کہی ہیں۔ حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! اسے معاف کردیجیے اور درگزر فرمائیے، اس ذات کی قسم جس نے کتاب کو نازل فرمایا : اللہ تعالیٰ نے وہ حق آپ کو عطا فرمایا ہے جو عطاء فرمانا تھا۔ اس بستی (مدینہ منورہ) کے لوگ (آپ کی تشریف آوری سے پہلے) اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کردیا جو اس نے آپ کو عطاء فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہوگیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا تو اسے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاف کردیا اور آپ کے اصحاب (رض) بھی مشرکین اور اہل کتاب کو معاف کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا اور وہ ان کی تکلیفوں پر صبر کیا کرتے تھے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ } [آل عمران ١٨٦] ” اور تمہیں ضرور ضرور ان لوگوں کی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرک لوگوں کی تکلیف دہ باتیں سننا پڑیں گی اور اگر تم نے صبر کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے “ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰی یَاْتِیِ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ۔} ” اہل کتاب کے بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر میں لوٹا دیں اپنی طرف سے حسد کرتے ہوئے اور حق واضح ہوجانے کے بعد۔ پس ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرتے رہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم آجائے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عفو درگزر سے کام لیتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے بارے میں اجازت دے دی اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کی لڑائی لڑی تو اس میں اللہ تعالیٰ نے کفارِ قریش کے بڑے بڑے سرداروں کو قتل کروا دیا تو عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ اب یہ غالب آجائیں گے۔ لہٰذا انھوں نے آپ کی اسلام پر بیعت کرلی۔
(١٧٧٣٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ : الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَکِبَ عَلَی حِمَارٍ عَلَی إِکَافٍ عَلَی قَطِیفَۃٍ فَدَکِیَّۃٍ وَأَرْدَفَ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ وَرَائَ ہُ یَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ فِی بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَۃِ بَدْرٍ فَسَارَ حَتَّی مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِیہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ ابْنُ سَلُولَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یُسْلِمَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ فَإِذَا فِی الْمَجِلِسِ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُشْرِکِینَ عَبَدَۃِ الأَوْثَانِ وَالْیَہُودِ وَفِی الْمُسْلِمِینَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوَاحَۃَ فَلَمَّا غَشِیَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَۃُ الدَّابَّۃِ خَمَّرَ ابْنُ أُبَیٍّ أَنْفَہُ بِرِدَائِہِ ثُمَّ قَالَ : لاَ تُغَبِّرُوا عَلَیْنَا۔ فَسَلَّمَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاہُمْ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَرَأَ عَلَیْہِمُ الْقُرْآنَ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ ابْنُ سَلُولَ أَیُّہَا الْمَرْئُ إِنَّہُ لاَ أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ إِنْ کَانَ حَقًّا فَلاَ تُؤْذِینَا بِہِ فِی مَجْلِسِنَا ارْجِعْ إِلَی رَحْلِکَ فَمَنْ جَائَ کَ فَاقْصُصْ عَلَیْہِ ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوَاحَۃَ : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ فَاغْشَنَا بِہِ فِی مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِکَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِکُونَ وَالْیَہُودُ حَتَّی کَادُوا یَتَثَاوَرُونَ فَلَمْ یَزَلِ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُخَفِّضُہُمْ حَتَّی سَکَتُوا
ثُمَّ رَکِبَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَابَّتَہُ فَسَارَ حَتَّی دَخَلَ عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَیَا سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ ؟ ۔ یُرِیدُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُبَیٍّ قَالَ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اعْفُ عَنْہُ وَاصْفَحْ فَوَالَّذِی أَنْزَلَ الْکِتَابَ لَقَدْ جَائَ اللَّہُ بِالْحَقِّ الَّذِی أَنْزَلَ عَلَیْکَ وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَہْلُ ہَذِہِ الْبُحَیْرَۃِ عَلَی أَنْ یُتَوِّجُوہُ فَیُعَصِّبُوہُ فَلَمَّا رَدَّ اللَّہُ ذَلِکَ بِالْحَقِّ الَّذِی أَعْطَاکَ شَرِقَ بِذَلِکَ فَذَلِکَ فَعَلَ بِہِ مَا رَأَیْتَ فَعَفَا عَنْہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَکَانَ وَأَصْحَابُہُ یَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِکِینَ وَأَہْلِ الْکِتَابَ کَمَا أَمَرَہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَیَصْبِرُونَ عَلَی الأَذَی قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِینَ أَشْرَکُوا أَذًی کَثِیرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنْ ذَلِکَ مِنْ عَزَمِ الأُمُورِ } [آل عمران ١٨٦] وَقَالَ اللَّہُ { وَدَّ کَثِیرٌ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّونَکُمْ مِنْ بَعْدِ إِیمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِہِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّی یَأْتِیَ اللَّہُ بِأَمْرِہِ إِنَّ اللَّہَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ} [البقرۃ ١٠٩] وَکَانَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَتَأَوَّلُ فِی الْعَفْوِ مَا أَمَرَ اللَّہُ بِہِ حَتَّی أَذِنَ لَہُ فِیہِمْ فَلَمَّا غَزَا النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَدْرًا فَقَتَلَ اللَّہُ بِہِ مَنْ قَتَلَ مِنْ صَنَادِیدَ کُفَّارِ قُرَیْشٍ قَالَ ابْنُ أُبَیِّ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَعَہُ مِنْ عَبَدَۃِ الأَوْثَانِ : ہَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّہَ فَبَایَعُوا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی الإِسْلاَمِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ مَعْمَرٍ وَعُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
ثُمَّ رَکِبَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَابَّتَہُ فَسَارَ حَتَّی دَخَلَ عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَیَا سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ ؟ ۔ یُرِیدُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُبَیٍّ قَالَ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ اعْفُ عَنْہُ وَاصْفَحْ فَوَالَّذِی أَنْزَلَ الْکِتَابَ لَقَدْ جَائَ اللَّہُ بِالْحَقِّ الَّذِی أَنْزَلَ عَلَیْکَ وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَہْلُ ہَذِہِ الْبُحَیْرَۃِ عَلَی أَنْ یُتَوِّجُوہُ فَیُعَصِّبُوہُ فَلَمَّا رَدَّ اللَّہُ ذَلِکَ بِالْحَقِّ الَّذِی أَعْطَاکَ شَرِقَ بِذَلِکَ فَذَلِکَ فَعَلَ بِہِ مَا رَأَیْتَ فَعَفَا عَنْہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَکَانَ وَأَصْحَابُہُ یَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِکِینَ وَأَہْلِ الْکِتَابَ کَمَا أَمَرَہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَیَصْبِرُونَ عَلَی الأَذَی قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِینَ أَشْرَکُوا أَذًی کَثِیرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنْ ذَلِکَ مِنْ عَزَمِ الأُمُورِ } [آل عمران ١٨٦] وَقَالَ اللَّہُ { وَدَّ کَثِیرٌ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّونَکُمْ مِنْ بَعْدِ إِیمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِہِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّی یَأْتِیَ اللَّہُ بِأَمْرِہِ إِنَّ اللَّہَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ} [البقرۃ ١٠٩] وَکَانَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَتَأَوَّلُ فِی الْعَفْوِ مَا أَمَرَ اللَّہُ بِہِ حَتَّی أَذِنَ لَہُ فِیہِمْ فَلَمَّا غَزَا النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَدْرًا فَقَتَلَ اللَّہُ بِہِ مَنْ قَتَلَ مِنْ صَنَادِیدَ کُفَّارِ قُرَیْشٍ قَالَ ابْنُ أُبَیِّ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَعَہُ مِنْ عَبَدَۃِ الأَوْثَانِ : ہَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّہَ فَبَایَعُوا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی الإِسْلاَمِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ مَعْمَرٍ وَعُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৪৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتال کرنے کی اجازت کا بیان
(١٧٧٤٠) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب اہل مکہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نکالا تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ( (إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُون) ) پڑھا اور کہا کہ انھوں نے اپنے نبی کو نکال دیا ہے تو یہ ضرور ضرور ہلاک ہوجائیں گے۔ ابن عباس (رض) نے کہا کہ پھر یہ آیت نازل ہوئی : { اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرٌ ۔} [الحج ٣٩] ” اجازت دی گئی ہے ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی گئی (جنگ کرنے کی) کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقیناً ان کی مدد کرنے پر اللہ تعالیٰ قادر ہے۔ “ حضرت ابن عباس (رض) اسے ( (اُذُنُ ) ) کی قرآت سے پڑھتے تھے اور ابوبکر صدیق (رض) نے کہا کہ میں نے جان لیا کہ اس سے مراد قتال ہے اور ابن عباس (رض) نے کہا کہ سب سے پہلے قتال کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
(١٧٧٤٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِینِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أَخْرَجَ أَہْلُ مَکَّۃَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ أَخْرَجُوا نَبِیَّہُمْ لَیَہْلِکُنَّ
قَالَ فَنَزَلَتْ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَأَنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} [الحج ٣٩] وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقْرَأُہَا { أُذُنٌ} [التوبۃ ٦١] قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیق رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَلِمْتُ أَنَّہَا قِتَالٌ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَہِیَ أَوَّلُ آیَۃٍ نَزَلَتْ فِی الْقِتَالِ ۔ [صحیح ]
قَالَ فَنَزَلَتْ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَأَنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} [الحج ٣٩] وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقْرَأُہَا { أُذُنٌ} [التوبۃ ٦١] قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیق رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَلِمْتُ أَنَّہَا قِتَالٌ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَہِیَ أَوَّلُ آیَۃٍ نَزَلَتْ فِی الْقِتَالِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক: