আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪০৫ টি
হাদীস নং: ৬৬৬৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے اپنے خاوند کو غسل دینے کا بیان
(٦٦٦٤) سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جسے اس کی بیوی نے غسل دیا اور وہ اپنے پرانے کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ وہ کہتی ہیں : ایسا ابوبکر (رض) کے ساتھ کیا گیا۔ انھیں غسل ان کی بیوی اسماء بنت عمیس نے دیا اور کفن انھیں کپڑوں میں دیا گیا جو انھوں نے پرانے کرلیے تھے۔
(۶۶۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((رَحِمَ اللَّہُ رَجُلاً غَسَّلَتْہُ امْرَأَتُہُ ، وَکُفِّنَ فِی أَخْلاَقِہِ))۔ قَالَتْ : فَفُعِلَ ذَلِکَ بِأَبِی بَکْرٍ غَسَّلَتْہُ امْرَأَتُہُ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَیْسٍ الأَشْجَعِیَّۃُ وَکُفِّنَ فِی ثِیَابِہِ الَّتِی کَانَ یَبْتَذِلُہَا۔ ہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ۔ [باطل]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৬৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے اپنے خاوند کو غسل دینے کا بیان
(٦٦٦٥) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ اگر میں کسی بات کا استقبال (قبول) کرتی ہوں تو اس سے پیچھے نہیں ہٹتی ۔ نہیں غسل دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے علاوہ کسی نے۔
شیخ کہتے ہیں کہ انھوں نے اس پر قسم اٹھائی اور قسم صرف اس بات پر اٹھائی جاتی ہے جو درست ہو۔
شیخ کہتے ہیں کہ انھوں نے اس پر قسم اٹھائی اور قسم صرف اس بات پر اٹھائی جاتی ہے جو درست ہو۔
(۶۶۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لَوْ کُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِیَّ -ﷺ- غَیْرُ نِسَائِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ فَتَلَہَّفَتْ عَلَی ذَلِکَ وَلاَ یُتَلَہَّفُ إِلاَّ عَلَی مَا یَجُوزُ۔ [حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ فَتَلَہَّفَتْ عَلَی ذَلِکَ وَلاَ یُتَلَہَّفُ إِلاَّ عَلَی مَا یَجُوزُ۔ [حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৬৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مسلمان قریبی مشرک کو غسل دے ، جنازے کے ساتھ جائے اور اسے دفن کرے مگر جنازہ نہ پڑے
(٦٦٦٦) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے کہا : آپ کا بوڑھا گمراہ بزرگ فوت ہوچکا ہے ، یعنی میرا باپ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو جلدی جا اور کوئی نیا کام نہ ہوجائے یہاں تک کہ میں آؤں ۔ پھر میں اس کے پاس آیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا تو میں نے اسے غسل دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے دعائیں کیں جو مجھے بہت ہی پسند ہیں حتیٰ کہ ان سے بڑھ کر زمین کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کرسکتی۔
ابو الیمان ہوزنی کہتے ہیں : جب ابو طالب فوت ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور جنازے کی ایک طرف چلنے لگے ۔ ابن عوف کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کنارے پر چلنے لگے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے تھے : تیری صلہ رحمی نے تجھے نیک کردیا اور تو نے اچھا بدلہ حاصل کیا مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی قبر پر کھڑے نہ ہوئے۔
ابو الیمان ہوزنی کہتے ہیں : جب ابو طالب فوت ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور جنازے کی ایک طرف چلنے لگے ۔ ابن عوف کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کنارے پر چلنے لگے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے تھے : تیری صلہ رحمی نے تجھے نیک کردیا اور تو نے اچھا بدلہ حاصل کیا مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی قبر پر کھڑے نہ ہوئے۔
(۶۶۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطَ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنِ دُکَیْنٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّکَ الشَّیْخُ الضَّالُّ قَدْ مَاتَ یَعْنِی أَبَاہُ قَالَ : ((اذْہَبْ فَوَارِہِ ، وَلاَ تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّی تَأْتِیَنِی))۔ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ لَہُ فَأَمَرَنِی فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ دَعَا لِی بِدَعَوَاتٍ مَا یَسُرُّنِی مَا عَلَی الأَرْضِ بِہِنَّ مِنْ شَیْئٍ ۔
وَرَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ بَقِیَّۃَ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِی الْمُغِیرَۃِ کِلاَہُمَا عَنْ صَفْوَانَ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ الْہَوْزَنِیِّ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ أَبُو طَالِبٍ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَارِضُ جَنَازَتَہُ قَالَ ابْنُ عَوْفٍ فَجَعَلَ یَمْشِی مُجَانِبًا لَہَا وَیَقُولُ : ((بَرَّتْکَ رَحِمٌ وَجُزِیتَ خَیْرًا))۔ وَلَم یَقُمْ عَلَی قَبْرِہِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ ابو داؤد]
وَرَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ بَقِیَّۃَ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِی الْمُغِیرَۃِ کِلاَہُمَا عَنْ صَفْوَانَ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ الْہَوْزَنِیِّ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ أَبُو طَالِبٍ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَارِضُ جَنَازَتَہُ قَالَ ابْنُ عَوْفٍ فَجَعَلَ یَمْشِی مُجَانِبًا لَہَا وَیَقُولُ : ((بَرَّتْکَ رَحِمٌ وَجُزِیتَ خَیْرًا))۔ وَلَم یَقُمْ عَلَی قَبْرِہِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৬৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مسلمان قریبی مشرک کو غسل دے ، جنازے کے ساتھ جائے اور اسے دفن کرے مگر جنازہ نہ پڑے
(٦٦٦٧) سعد بن جبیر کہتے ہیں ـ؛ایک آدمی عبداللہ بن عباس کے پاس آیا اور کہا کہ میرے والد نصرانیت پر فوت ہوگئے۔ فرمایا : اسے خوشبو لگا پھر اسے دفن کر دے۔ پھر : کہا { مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ وَلَوْ کَانُوا أُولِی قُرْبَی }[التوبۃ : ١١٣] کہ نہیں ہے لائق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور نہ ہ یاہل ایمان کو کہ وہ استغفار کریں مشرکین کیلئے اگرچہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں “۔
(۶۶۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی سِنَانٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنَّ أَبِی مَاتَ نَصْرَانِیًّا فَقَالَ : اغْسِلْہُ وَکَفِّنْہُ وَحَنِّطْہُ ، ثُمَّ ادْفِنْہُ ، ثُمَّ قَالَ {مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ وَلَوْ کَانُوا أُولِی قُرْبَی} [التوبۃ: ۱۱۳] الآیَۃَ۔ [صحیح۔ النسائی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৬৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو غسل دینے سے غسل واجب نہیں
(٦٦٦٨) عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ تمہارے مرنے والوں میں تم پر غسل نہیں ہے جب تم انھیں غسل دو ۔
دوسری روایت میں ہے کہ اپنے مردوں کو ناپاک نہ جانو۔ بیشک مسلم مردہ ہو یا زندہ وہ ناپاک نہیں ہوتا۔
دوسری روایت میں ہے کہ اپنے مردوں کو ناپاک نہ جانو۔ بیشک مسلم مردہ ہو یا زندہ وہ ناپاک نہیں ہوتا۔
(۶۶۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ یَعْنِی ابْنَ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لَیْسَ عَلَیْکُمْ فِی مَیِّتِکُمْ غُسْلٌ إِذَا غَسَّلْتُمُوہُ۔
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عَطَائٍ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ وَرُوِّینَا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا : لاَ تُنَجِّسُوا مَوْتَاکُمْ فَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَیْسَ بِنَجَسٍ حَیًّا وَلاَ مَیِّتًا۔
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَۃَ وَقَدْ مَضَی جَمِیعُ ذَلِکَ فِی کِتَابِ الطَّہَارَۃِ۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عَطَائٍ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ وَرُوِّینَا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا : لاَ تُنَجِّسُوا مَوْتَاکُمْ فَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَیْسَ بِنَجَسٍ حَیًّا وَلاَ مَیِّتًا۔
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَۃَ وَقَدْ مَضَی جَمِیعُ ذَلِکَ فِی کِتَابِ الطَّہَارَۃِ۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৬৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کا بیان جو مردوں کے ساتھ مرجائے لیکن ان کے ساتھ کوئی عورت نہ ہو
(٦٦٦٩) مکحول سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی عورت مردوں کے ساتھ فوت ہوجائے اور اس کے علاوہ ان کے ساتھ دوسری عورت نہ ہو یا پھر مرد اکیلا عورتوں کے ساتھ ہو اور ان کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی دوسرا مرد نہ ہو تو اس صورت میں ان دونوں کو تمیم کروا کے دفن کر دو اور وہ اس کے حکم میں ہیں جن کے پاس پانی نہ ہو۔
سنان بن غرفہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص جو عورتوں کے ساتھ اکیلا تھا اور وہ فوت ہوگیا یا ایسے ہی عورت مردوں کے ساتھ اور اس کا کوئی محرم ساتھ نہیں تو ان کو مٹی کے ساتھ تمیم کروا یا جائے گا اور غسل نہیں دیا جائے گا۔
سنان بن غرفہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص جو عورتوں کے ساتھ اکیلا تھا اور وہ فوت ہوگیا یا ایسے ہی عورت مردوں کے ساتھ اور اس کا کوئی محرم ساتھ نہیں تو ان کو مٹی کے ساتھ تمیم کروا یا جائے گا اور غسل نہیں دیا جائے گا۔
(۶۶۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ یَعْنِی ابْنَ عَیَّاشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَہْلٍ عَنْ مَکْحُولٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا مَاتَتِ الْمَرْأَۃُ مَعَ الرِّجَالِ لَیْسَ مَعَہُمُ امْرَأَۃٌ غَیْرُہَا ، وَالرَّجُلُ مَعَ النِّسَائِ لَیْسَ مَعَہُنَّ رَجُلٌ غَیْرُہُ فَإِنَّہُمَا یَتَیَمَّمَانِ وَیُدْفَنَانِ وَہُمَا بِمَنْزِلَۃِ مَنْ لاَ یَجِدِ الْمَائَ))۔ ہَذَا مُرْسَلٌ۔
وَرُوِیَ عَنْ سِنَانِ بْنِ غَرَفَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الرَّجُلِ یَمُوتُ مَعَ النِّسَائِ وَالْمَرْأَۃِ تَمُوتُ مَعَ الرِّجَالِ لَیْسَ لِوَاحِدٍ مِنْہُمَا مَحْرَمًا یَتَیَمَّمَانِ بِالصَّعِیدِ وَلاَ یُغَسَّلاَنِ۔ [منکر۔ ابو داؤد]
وَرُوِیَ عَنْ سِنَانِ بْنِ غَرَفَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الرَّجُلِ یَمُوتُ مَعَ النِّسَائِ وَالْمَرْأَۃِ تَمُوتُ مَعَ الرِّجَالِ لَیْسَ لِوَاحِدٍ مِنْہُمَا مَحْرَمًا یَتَیَمَّمَانِ بِالصَّعِیدِ وَلاَ یُغَسَّلاَنِ۔ [منکر۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اس عورت کا بیان جو مردوں کے ساتھ مرجائے لیکن ان کے ساتھ کوئی عورت نہ ہو
(٦٦٧٠) نافع عبداللہ بن عمر (رض) سے بیان کرتے ہیں اس عورت کے بارے میں جو مردوں کے ساتھ مرجائے اور ان کے ساتھ دوسری عورت نہ ہو تو کپڑوں میں ہی دفن کردی جائے گی۔
(۶۶۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ یَعْنِی ابْنَ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ مَطَرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی الْمَرْأَۃِ تَمُوتُ مَعَ الرِّجَالِ لَیْسَ مَعَہُمُ امْرَأَۃٌ قَالَ : تُرْمَسُ فِی ثِیَابِہَا۔
وَیُذْکَرُ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ : تَیَمَّمُ بِالصَّعِیدِ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ : یُصَبُّ عَلَیْہَا الْمَائُ مِنْ فَوْقِ الثِّیَابِ وَکَذَا قَالَ عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ۔ [ضعیف]
وَیُذْکَرُ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ : تَیَمَّمُ بِالصَّعِیدِ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ : یُصَبُّ عَلَیْہَا الْمَائُ مِنْ فَوْقِ الثِّیَابِ وَکَذَا قَالَ عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ آدمی کو تین کپڑوں میں کفن دینا جس میں قمیض اور پگڑی نہ ہو سنت ہے
(٦٦٧١) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفن دیا گیا تین سفید کپڑوں میں جو ” سحولیہ ‘ تھے ۔ جس میں قمیض اور عمامہ نہیں تھا۔
ثوری کی روایت میں ہے کہ سیدہ نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفن دیا گیا روئی کے تین کپڑوں میں جو (سحو لیہ) تھے۔
ثوری کی روایت میں ہے کہ سیدہ نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفن دیا گیا روئی کے تین کپڑوں میں جو (سحو لیہ) تھے۔
(۶۶۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ الْمُلاَئِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ جَمِیعًا عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کُفِّنَ فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابِ بِیضٍ سَحُولِیَّۃٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلاَ عِمَامَۃٌ۔ لَفْظُ حَدِیثِ مَالِکٍ وَفِی رِوَایَۃِ الثَّوْرِیِّ قَالَتْ : کُفِّنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ سَحُولٍ کُرْسُفٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلاَ عِمَامَۃٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَعَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ البخاری]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ الْمُلاَئِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ جَمِیعًا عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کُفِّنَ فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابِ بِیضٍ سَحُولِیَّۃٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلاَ عِمَامَۃٌ۔ لَفْظُ حَدِیثِ مَالِکٍ وَفِی رِوَایَۃِ الثَّوْرِیِّ قَالَتْ : کُفِّنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ سَحُولٍ کُرْسُفٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلاَ عِمَامَۃٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَعَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ آدمی کو تین کپڑوں میں کفن دینا جس میں قمیض اور پگڑی نہ ہو سنت ہے
(٦٦٧٢) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفن دیا گیا تین کپڑوں میں جو (سحو لیہ) تھے اور سفید تھے۔ ان میں قمیض اور عمامہ شامل نہیں تھا۔
(۶۶۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : کَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کُفِّنَ فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ سَحُولِیَّۃٍ بِیضٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلاَ عِمَامَۃٌ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ المسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ آدمی کو تین کپڑوں میں کفن دینا جس میں قمیض اور پگڑی نہ ہو سنت ہے
(٦٦٧٣) سیدہ عائشہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی بیان کرتی ہیں کہ جب ابوبکر (رض) کی بیماری شدت اختیار کرگئی تو میں رودی اس غم و پریشانی کی وجہ سے اور میں نے کہا : جس کے آنسو ہمیشہ گرتے رہتے تھے آج وہ خود یکبارگی پچھاڑ دیا گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں : ابوبکر (رض) کچھ ہوش میں آئے تو گویا ہوئے کہ بات ایسے نہیں جیسے تو کہہ رہی ہے ، اے میری بیٹی ! لیکن یہ تو { جَائَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیدُ } موت کا وقت آچکا ہے اور یہ اس کی بےہوشیاں ہیں جس سے میں بھاگ نہیں سکتا۔ پھر انھوں نے کہا : کس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے۔ کہتی ہیں : میں نے کہا : پیر کے دن ۔ پھر انھوں نے کہا : آج کونسا دن ہے ؟ میں نے کہا : پیر کا دن تو ابوبکر (رض) نے کہا : بیشک میں امید کرتا ہوں ، میرے اور اس کے درمیان ایک رات ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ابوبکر (رض) منگل کی رات فوت ہوئے اور صبح ہونے سے پہلے دفن کردیے گئے اور انھوں نے یہ کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا ؟ وہ کہتی ہیں : ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین کپڑوں میں کفن دیا جو سحولیہ تھے اور سفید تھے ، ان میں قمیض اور عمامہ نہیں تھا ۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے کہا : میرے کپڑوں کو دھو ڈالو اور انھیں زعفران لگا دینا یا (کستوری) اور ان کے ساتھ مجھے کفن دے دینا ۔ نئے کپڑے کے زیادہ محتاج زندہ لوگ ہیں۔ بیشک وہ تو مہلت کیلئے تھے۔
(۶۶۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : لَمَّا اشْتَدَّ مَرَضُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَکَیْتُ وَأُغْمِیَ عَلَیْہِ فَقُلْتُ : مَنْ لاَ یَزَالُ دَمْعُہُ مُقَنَّعًا فَإِنَّہُ مَرَّۃً مَدْفُوقٌ قَالَتْ : فَأَفَاقَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : لَیْسَ کَمَا قُلْتِ یَا بُنَیَّۃُ وَلَکِنْ {جَائَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیدُ} ثُمَّ قَالَ : أَیُّ یَوْمٍ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ یَوْمُ الاِثْنَیْنِ۔ قَالَتْ فَقَالَ : فَأَیُّ یَوْمٍ ہَذَا؟ قُلْتُ: یَوْمُ الاِثْنَیْنِ قَالَ : فَإِنِّی أَرْجُو مِنَ اللَّہِ مَا بَیْنِی وَبَیْنَ اللَّیْلِ۔ قَالَتْ: فَمَاتَ لَیْلَۃَ الثُّلاَثَائِ فَدُفِنَ قَبْلَ أَنْ یُصْبِحَ۔ قَالَتْ وَقَالَ: فِی کَمْ کَفَّنْتُمْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَتْ: کُنَّا کَفَّنَاہُ فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ سَحُولِیَّۃٍ جُدُدٍ بِیضٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلاَ عِمَامَۃٌ۔ قَالَتْ فَقَالَ لِی:اغْسِلُوا ثَوْبِی ہَذَا وَبِہِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ أَوْ مَشْقٍ، وَاجْعَلُوا مَعَہ ثَوْبَیْنِ جَدِیدَیْنِ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ إِنَّہُ خَلِقٌ۔ فَقَالَ لَہَا : الْحَیُّ أَحْوَجُ إِلَی الْجَدِیدِ مِنَ الْمَیِّتِ إِنَّمَا ہُوَ لِلْمُہْلَۃِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ بِمَعْنَاہُ مِنْ حَدِیثِ وُہَیْبٍ عَنْ ہِشَامٍ دُونَ مَا فِی صَدْرِہِ مِنْ بُکَائِ عَائِشَۃَ وَقَوْلِہَا وَقِرَائَتِہِ الآیَۃَ۔ [صحیح۔ البخاری]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ بِمَعْنَاہُ مِنْ حَدِیثِ وُہَیْبٍ عَنْ ہِشَامٍ دُونَ مَا فِی صَدْرِہِ مِنْ بُکَائِ عَائِشَۃَ وَقَوْلِہَا وَقِرَائَتِہِ الآیَۃَ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ آدمی کو تین کپڑوں میں کفن دینا جس میں قمیض اور پگڑی نہ ہو سنت ہے
(٦٦٧٤) ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ کتنے کپڑوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفن دیا گیا ؟ انھوں نے کہا : تین کپڑوں میں اور وہ بھی سحو لیہ تھے۔
(۶۶۷۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَ أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ فِی کَمْ کُفِّنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَتْ : فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ سَحُولِیَّۃٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ایسی خبر کا ذکر جو اس کے مخالف ہے جو ہم نے آپ کے کفن کے بارے بیان کی ہے
(٦٦٧٥) عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین نجرانی کپڑوں میں کفن دیا گیا ۔ ایک ثوبان کا حلہ تھا اور ایک وہ قمیض جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفات پائی تھی۔ عثمان کہتے ہیں : تین کپڑوں میں حلہ حمراء اور وہ قمیض جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے۔
(۶۶۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کُفِّنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ نَجْرَانِیَّۃٍ ، الْحُلَّۃُ ثَوْبَانِ وَقَمِیصُہُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ ، وَقَالَ عُثْمَانُ فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ حُلَّۃٌ حَمْرَائُ وَقَمِیصُہُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ -ﷺ-۔
ہَکَذَا رَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ مُرْسَلاً۔ [منکر۔ أخرجہ ابو داؤد]
ہَکَذَا رَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ مُرْسَلاً۔ [منکر۔ أخرجہ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ایسی خبر کا ذکر جو اس کے مخالف ہے جو ہم نے آپ کے کفن کے بارے بیان کی ہے
(٦٦٧٦) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و دو سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا اور ایک یمنی چادر میں۔
(۶۶۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کُفِّنَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی ثَوْبَیْنِ أَبْیَضَیْنِ وَبُرْدِ حِبَرَۃٍ۔ کَذَا رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلاً [ضعیف۔ أخرجہ احمد]
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلاً [ضعیف۔ أخرجہ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ایسی خبر کا ذکر جو اس کے مخالف ہے جو ہم نے آپ کے کفن کے بارے بیان کی ہے
(٦٦٧٧) حضرت علی بن حسین کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ دو صحاری کپڑے تھے اور ایک یمنی چادر تھی جس میں لکیریں تھیں۔
(۶۶۷۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ قَالَ : کُفِّنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ ثَوْبَیْنِ صَحَارِیَّیْنِ وَبُرْدِ حِبَرَۃٍ أُدْرِجَ فِیہَا إِدْرَاجًا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن سعد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ سیدہ عائشہ (رض) کے بیان میں اشتباہ کا سبب
(٦٦٧٨) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا جو ” سحولیۃ “ تھے اور وہ کرسف (روئی) سے تھے۔ جن میں قمیض اور عمامہ نہیں تھا لیکن جو حلہ ہے اس میں لوگوں کو اشتباہ ہوا ہے کیونکہ وہ حلہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کفن کیلئے خریدا گیا تھا مگر اسے چھوڑ دیا گیا جو عبداللہ بن ابی بکر نے لیا اور انھوں نے کہا : اسے میں اپنے لیے رکھوں گا تاکہ میں اس میں کفن دیا جاؤں۔ پھر انھوں نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ کو اپنے نبی کیلئے پسند ہوتا تو ضرور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس میں کفن دیا جاتا۔ سو نہوں نے اسے بیچ دیا اور اس کی قیمت کو صدقہ کردیا۔
(۶۶۷۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُا قَالَتْ : کُفِّنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ بِیضٍ سَحُولِیَّۃٍ مِنْ کُرْسُفٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلاَ عِمَامَۃٌ ، فَأَمَّا الْحُلَّۃُ فَإِنَّمَا شُبِّہَ عَلَی النَّاسِ فِیہَا أَنَّہَا اشْتُرِیَتْ لَہُ حُلَّۃٌ لِیُکَفَّنَ فِیہَا فَتُرِکَتِ الْحُلَّۃُ فَأَخَذَہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ فَقَالَ : لأَحْبِسَنَّہَا لِنَفْسِی حَتَّی أُکَفَّنَ فِیہَا ثُمَّ قَالَ : لَوْ رَضِیَہَا اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِیِّہِ -ﷺ- لَکَفَّنَہُ فِیہَا فَبَاعَہَا وَتَصَدَّقَ بِثَمَنِہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ۔
وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ بِإِسْنَادِہِ قَالَتْ : کُفِّنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی بُرْدَیْنِ حِبَرَۃٍ کَانَا لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ وَلُفَّ فِیہِمَا ثُمَّ نُزِعَا عَنْہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
وَفِیہِ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ إِنَّمَا أَمْسَکَہُمَا لِنَفْسِہِ لأَنَّہُمَا کَانَا لَہُ وَرِوَایَۃُ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ عَنْ ہِشَامٍ أَیْضًا تَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ ۔ [صحیح۔ مسلم]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُا قَالَتْ : کُفِّنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ بِیضٍ سَحُولِیَّۃٍ مِنْ کُرْسُفٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلاَ عِمَامَۃٌ ، فَأَمَّا الْحُلَّۃُ فَإِنَّمَا شُبِّہَ عَلَی النَّاسِ فِیہَا أَنَّہَا اشْتُرِیَتْ لَہُ حُلَّۃٌ لِیُکَفَّنَ فِیہَا فَتُرِکَتِ الْحُلَّۃُ فَأَخَذَہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ فَقَالَ : لأَحْبِسَنَّہَا لِنَفْسِی حَتَّی أُکَفَّنَ فِیہَا ثُمَّ قَالَ : لَوْ رَضِیَہَا اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِیِّہِ -ﷺ- لَکَفَّنَہُ فِیہَا فَبَاعَہَا وَتَصَدَّقَ بِثَمَنِہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ۔
وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ بِإِسْنَادِہِ قَالَتْ : کُفِّنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی بُرْدَیْنِ حِبَرَۃٍ کَانَا لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ وَلُفَّ فِیہِمَا ثُمَّ نُزِعَا عَنْہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
وَفِیہِ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ إِنَّمَا أَمْسَکَہُمَا لِنَفْسِہِ لأَنَّہُمَا کَانَا لَہُ وَرِوَایَۃُ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ عَنْ ہِشَامٍ أَیْضًا تَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ ۔ [صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৭৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ سیدہ عائشہ (رض) کے بیان میں اشتباہ کا سبب
(٦٦٧٩) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یمنی حلے میں لپیٹا گیا جو عبداللہ بن ابی بکر کا تھا۔ پھر وہ اتار لیا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں عمامہ اور قمیض نہیں تھے۔ عبداللہ نے وہ حلہ اٹھایا اور کہا : مجھے اس میں کفن دیا جائے ۔ پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس میں کفن نہیں دیا گیا ، کیا میں اس میں کفن دیا جاؤں۔ پھر اسے صدقہ کردیا۔
(۶۶۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : أُدْرِجَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی حُلَّۃٍ یَمَنِیَّۃٍ کَانَتْ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ثُمَّ نُزِعَتْ عَنْہُ وَکُفِّنَ فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ سَحُولِیَّۃٍ یَمَانِیَۃٍ لَیْسَ فِیہَا عِمَامَۃٌ وَلاَ قَمِیصٌ فَرَفَعَ عَبْدُ اللَّہِ الْحُلَّۃَ وَقَالَ أُکَفَّنُ فِیہَا ثُمَّ قَالَ : لم یُکَفَّنْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأُکَفَّنُ فِیہَا فَتَصَدَّقَ بِہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ۔ [صحیح۔ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ۔ [صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ سیدہ عائشہ (رض) کے بیان میں اشتباہ کا سبب
(٦٦٨٠) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین سفید یمنی کپڑوں میں غسل دیا گیا، ان میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔ انھیں کہا گیا کہ لوگوں کا گمان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حبری چادر میں کفن دیا گیا ! تو آپ نے فرمایا : وہ لائی گئی تھی لیکن اس میں کفن نہیں دیا گیا۔
(۶۶۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ وَأَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ وَابْنُ عُیَیْنَۃَ وَابْنُ إِدْرِیسَ وَعَبْدَۃُ وَوَکِیعٌ کُلُّہُمْ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ وَہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کُفِّنَ فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ بِیضٍ یَمَانِیَۃٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلاَ عِمَامَۃٌ قَالَ فَقِیلَ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِنَّہُمْ یَزْعُمُونَ أَنَّہُ قَدْ کَانَ کُفِّنَ فِی بُرْدِ حِبَرَۃٍ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : قَدْ جَائُ وا بِبُرْدِ حِبَرَۃٍ وَلَمْ یُکَفِّنُوہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ سیدہ عائشہ (رض) کے بیان میں اشتباہ کا سبب
(٦٦٨١) سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حبری کپڑے میں لپیٹا گیا۔ پھر اسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہٹا لیا گیا۔ قاسم کہتے ہیں : اس کا باقی حصہ ہمارے پاس ہے۔ شیخ کہتے ہیں : جسے عبداللہ بن ابی بکر نے بیچا اور اس کی قیمت صدقہ کردی۔ وہ حلہ تھا جو ثوبان کے پاس تھا اور قاسم نے کہا : اس کا بقایا ہمارے پاس ہے۔ ان کا خیال ہے : یہ وہی کپڑا ہے جس میں کفن دیا گیا ۔ سو سیدہ عائشہ (رض) نے اس کی وضاحت کی کہ ان کے پاس دو کپڑے لائے گئے ، حلہ اور ایک یمنی چادر تھی جس میں کفن نہ دیا گیا بلکہ روئی کے تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا جس میں قمیض اور عمامہ نہیں تھا۔
(۶۶۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللَّہِ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہَا قَالَتْ : أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ثَوْبِ حِبَرَۃٍ ، ثُمَّ أُخِّرَ عَنْہُ۔
قَالَ الْقَاسِمُ : إِنَّ بَقَایَا ذَلِکَ الثَّوْبِ عِنْدَنَا بَعْدُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ فَالَّذِی بَاعَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَتَصَدَّقَ بِثَمَنِہِ ہُوَ الْحُلَّۃُ وَالْحُلَّۃُ عِنْدَہُمْ ثَوْبَانِ وَالَّذِی قَالَ الْقَاسِمُ إِنَّ بَقَایَاہُ عِنْدَنَا ہُوَ الثَّوْبُ الثَّالِثُ الَّذِی زَعَمُوا أَنَّہُ کُفِّنَ فِیہَا وَفِیہِ فَبَیَّنَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بَیَانًا شَافِیًا أَنَّہُ أُتِیَ بِالثَّوْبَیْنِ اللَّذَیْنِ کَانُوا یُسَمُّونَہُمَا حُلَّۃً وَبِبُرْدِ حِبَرَۃٍ فَلَمْ یُکَفَّنْ فِیہَا وَکُفِّنَ فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ بِیضٍ کُرْسُفٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلاَ عِمَامَۃٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد]
قَالَ الْقَاسِمُ : إِنَّ بَقَایَا ذَلِکَ الثَّوْبِ عِنْدَنَا بَعْدُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ فَالَّذِی بَاعَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَتَصَدَّقَ بِثَمَنِہِ ہُوَ الْحُلَّۃُ وَالْحُلَّۃُ عِنْدَہُمْ ثَوْبَانِ وَالَّذِی قَالَ الْقَاسِمُ إِنَّ بَقَایَاہُ عِنْدَنَا ہُوَ الثَّوْبُ الثَّالِثُ الَّذِی زَعَمُوا أَنَّہُ کُفِّنَ فِیہَا وَفِیہِ فَبَیَّنَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بَیَانًا شَافِیًا أَنَّہُ أُتِیَ بِالثَّوْبَیْنِ اللَّذَیْنِ کَانُوا یُسَمُّونَہُمَا حُلَّۃً وَبِبُرْدِ حِبَرَۃٍ فَلَمْ یُکَفَّنْ فِیہَا وَکُفِّنَ فِی ثَلاَثَۃِ أَثْوَابٍ بِیضٍ کُرْسُفٍ لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلاَ عِمَامَۃٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ایک کپڑے میں کفن کے جواز کا بیان
(٦٦٨٢) حضرت خباب بن ارت کہتے ہیں : ہم نے ہجرت کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اللہ کی راہ میں اللہ تعالیٰ رضا جوئی کیلئے ۔ ہمارا اجر اللہ پر واجب ہوگیا ۔ ہم میں سے وہ بھی تھے جو اس اجر کا فائدہ اٹھائے بغیر چل دیے ۔ ان میں سے ایک مصعب (رض) بن عمیر تھے، جو احد کے دن شہید کردیے گئے ۔ ہم نے ایک موٹی چادر کے بغیر کوئی کپڑا نہ پایا جس میں ہم انھیں کفن دیتے ۔ سو ہم جب اسے ان کے چہرے پر رکھتے یعنی سر پر ڈالتے تو ان کے پاؤں نکل آتے اور جب پاؤں پر ڈالتے تو سر ننگا ہوجاتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” اس کو سر پر ڈال دو اور اس کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو ۔ پھر انھوں نے کہا : ہم میں سے وہ بھی ہیں جن کا پھل تیار ہوچکا ہے اور وہ اسے توڑ رہے ہیں۔
(۶۶۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ الْوَرَّاقُ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ قَالَ : ہَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی سَبِیلِ اللَّہِ نَبْتَغِی وَجْہَ اللَّہِ فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَی اللَّہِ ، فَمِنَّا مَنْ مَضَی لَمْ یَأْکُلْ مِنْ أَجْرِہِ شَیْئًا مِنْہُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ یُوجَدْ لَہُ شَیْء ٌ یُکَفَّنُ فِیہِ إِلاَّ نَمِرَۃً فَکُنَّا إِذَا وَضَعْنَاہَا عَلَی رَأْسِہِ خَرَجَتْ رِجْلاَہُ ، وَإِذَا وَضَعْنَاہَا عَلَی رِجْلَیْہِ خَرَجَ رَأْسُہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ضَعُوہَا مِمَّا یَلِی رَأْسَہُ ، وَاجْعَلُوا عَلَی رِجْلَیْہِ مِنَ الإِذْخِرِ))۔ قَالَ : وَمِنَّا مَنْ أَیْنَعَتْ لَہُ ثَمَرَتُہُ فَہُوَ یَہْدِبُہَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ الْوَرَّاقُ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ قَالَ : ہَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی سَبِیلِ اللَّہِ نَبْتَغِی وَجْہَ اللَّہِ فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَی اللَّہِ ، فَمِنَّا مَنْ مَضَی لَمْ یَأْکُلْ مِنْ أَجْرِہِ شَیْئًا مِنْہُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ یُوجَدْ لَہُ شَیْء ٌ یُکَفَّنُ فِیہِ إِلاَّ نَمِرَۃً فَکُنَّا إِذَا وَضَعْنَاہَا عَلَی رَأْسِہِ خَرَجَتْ رِجْلاَہُ ، وَإِذَا وَضَعْنَاہَا عَلَی رِجْلَیْہِ خَرَجَ رَأْسُہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ضَعُوہَا مِمَّا یَلِی رَأْسَہُ ، وَاجْعَلُوا عَلَی رِجْلَیْہِ مِنَ الإِذْخِرِ))۔ قَالَ : وَمِنَّا مَنْ أَیْنَعَتْ لَہُ ثَمَرَتُہُ فَہُوَ یَہْدِبُہَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ایک کپڑے میں کفن کے جواز کا بیان
(٦٦٨٣) سعد بن ابراہیم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں : عبد الرحمن بن عوف کے پاس کھانا لایا گیا اور وہ روزے سے تھے تو انھوں نے کہا : مصعب بن عمیر (رض) شہید کردیے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے اور انھیں ایسی چادر میں کفن دیا گیا کہ اگر اس سے سر کو ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہوجاتے اور اگر قدم ڈھانپے جاتے تو سر ننگا ہوجاتا۔ میرا خیال ہے انھوں نے یہ بھی کہا : حضرت حمزہ (رض) شہید کیے گئے اور وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ پھر ہمارے لیے دنیا فراخ کردی گئی یا انھوں نے کہا : ہمیں دنیادی گئی جس قدر دی گئی اور ہمیں ڈر ہونے لگا کہ ہماری بھلائیاں ہمارے لیے جلد عطا کردی گئی ہیں اور وہ رونا شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔
(۶۶۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أُتِیَ بِطَعَامٍ وَکَانَ صَائِمًا فَقَالَ : قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی وَکُفِّنَ فِی بُرْدَۃٍ إِنْ غُطِّیَ رَأْسُہُ بَدَتْ رِجْلاَہُ ، وَإِنْ غُطِّیَ رِجْلاَہُ بَدَا رَأْسُہُ قَالَ وَأُرَاہُ قَالَ وَقُتِلَ حَمْزَۃُ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی ، ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْیَا أَوْ قَالَ أُعْطِینَا مِنَ الدُّنْیَا مَا أُعْطِینَا وَقَدْ خَشِینَا أَنْ تَکُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا وَجَعَلَ یَبْکِی حَتَّی تَرَکَ الطَّعَامَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ بخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ بخاری]
তাহকীক: