আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪০৫ টি
হাদীস নং: ৬৬৮৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ایک کپڑے میں کفن کے جواز کا بیان
(٦٦٨٤) حضرت زبیر (رض) سے روایت ہے کہ احد کے دن جب مشرک واپس پلٹے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سائیڈ پر بیٹھ گئے۔ اسی اثناء میں ایک عورت آئی جو مقتولین کا جائزہ لے رہی تھی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت ‘ عورت ! جب میں نے اسے پر کھا تو وہ میری ماں صفیہ (رض) تھی ۔ میں نے کہا : امی جان واپس چلی جائیں تو انھوں نے میرے سینے پر تھپڑ مارا اور کہا : تیرے لیے امین نہ ہو۔ میں نے کہا : پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کا عزم کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، پھر انھوں نے مجھے دو کپڑے دیے اور کہا کہ میرے بھائی کو ان میں کفن دو ۔ زبیر کہتے ہیں : ہم نے حضرت حمزہ کے پہلو میں ایک انصاری صحابی کی میت کو دیکھا جس پر کفن نہیں تھا تو ہم نے اپنے دل میں کچھ پریشانی و اضطراب پایا کہ ہم حمزہ (رض) کو تو دو کپڑوں میں کفن دیں اور ان کے پہلو میں انصاری پر کفن نہ ہو۔ زبیر کہتے ہیں : ہم نے ان دونوں میں قرعہ ڈالا نئے کپڑوں کیلئے۔ پھر ہم نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو اس کپڑے میں کفن دیا جو اس کے حصے میں آیا۔
(۶۶۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَہْدِیٍّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ قَالَ أَنْبَأَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِکُونَ یَوْمَ أُحُدٍ جَلَسَ النَّبِیُّ -ﷺ- نَاحِیَۃً وَجَائَ تِ امْرَأَۃٌ تَؤُمُّ الْقَتْلَی فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃُ ۔ فَلَمَّا تَوَسَّمْتُہَا إِذَا ہِیَ أُمِّی صَفِیَّۃُ فَقُلْتُ : یَا أُمَّہْ ارْجِعِی فَلَدَمَتْ فِی صَدْرِی وَقَالَتْ : لاَ أَرْضَ لَکَ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَعْزِمُ عَلَیْکِ۔ قَالَ : فَأَعْطَتْنِی ثَوْبَیْنِ فَقَالَتْ : کَفِّنُوا فِی ہَذَیْنِ أَخِی۔ قَالَ : فَوَجَدْنَا إِلَی جَنْبِ حَمْزَۃَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ لَیْسَ لَہُ کَفَنٌ فَوَجَدْنَا فِی أَنْفُسِنَا غَضَاضَۃً أَنْ نُکَفِّنَ حَمْزَۃَ فِی ثَوْبَیْنِ وَالأَنْصَارِیُّ إِلَی جَنْبِہِ لَیْسَ لَہُ کَفَنٌ قَالَ فَأَقْرَعْنَا بَیْنَہُمَا فِی أَجْوَدِ الثَّوْبَیْنِ فَکَفَّنَا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا فِی الثَّوْبِ الَّذِی طَارَ لَہُ۔ [جید۔ أخرجہ احمد]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ قَالَ أَنْبَأَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِکُونَ یَوْمَ أُحُدٍ جَلَسَ النَّبِیُّ -ﷺ- نَاحِیَۃً وَجَائَ تِ امْرَأَۃٌ تَؤُمُّ الْقَتْلَی فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃُ ۔ فَلَمَّا تَوَسَّمْتُہَا إِذَا ہِیَ أُمِّی صَفِیَّۃُ فَقُلْتُ : یَا أُمَّہْ ارْجِعِی فَلَدَمَتْ فِی صَدْرِی وَقَالَتْ : لاَ أَرْضَ لَکَ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَعْزِمُ عَلَیْکِ۔ قَالَ : فَأَعْطَتْنِی ثَوْبَیْنِ فَقَالَتْ : کَفِّنُوا فِی ہَذَیْنِ أَخِی۔ قَالَ : فَوَجَدْنَا إِلَی جَنْبِ حَمْزَۃَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ لَیْسَ لَہُ کَفَنٌ فَوَجَدْنَا فِی أَنْفُسِنَا غَضَاضَۃً أَنْ نُکَفِّنَ حَمْزَۃَ فِی ثَوْبَیْنِ وَالأَنْصَارِیُّ إِلَی جَنْبِہِ لَیْسَ لَہُ کَفَنٌ قَالَ فَأَقْرَعْنَا بَیْنَہُمَا فِی أَجْوَدِ الثَّوْبَیْنِ فَکَفَّنَا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا فِی الثَّوْبِ الَّذِی طَارَ لَہُ۔ [جید۔ أخرجہ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قمیض میں کفن دینے کا جواز، اگر ہم اس کو اختیار کریں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے اختیار کی گئی تھی
(٦٦٨٥) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن ابی کی قبر کے پاس آئے ۔ اس کے بعد جب اسے قبر میں ڈال دیا گیا تھا۔ سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو اسے نکالا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اپنا لعاب مبارک اس پر ڈالا اور اپنی قمیض اسے پہنائی اور اللہ زیادہ جانتا ہے۔
(۶۶۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ وَأَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : أَتَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَبْرَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُبَیٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَہُ ، فَأَمَرَ بِہِ فَأُخْرِجَ فَوَضَعَہُ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، أَوْ فَخِذَیْہِ فَنَفَثَ عَلَیْہِ مِنْ رِیقِہِ ، وَأَلْبَسَہُ قَمِیصَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَالِکِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَالِکِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قمیض میں کفن دینے کا جواز، اگر ہم اس کو اختیار کریں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے اختیار کی گئی تھی
(٦٦٨٦) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں : عباس بن عبد المطلب مدینے میں تھا ۔ انصاریوں نے اسے پہنانے کیلئے کپڑا تلاش کیا تو انھوں نے کوئی قمیض نہ پائی جو اسے پوری آئے سوائے عبداللہ بن ابی (منافق) کی قمیض کے تو پھر انھوں نے وہی قمیض اسے پہنا دی۔
سفیان یہ بات بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے وہ بدلا دینے کی بناء پر کیا جو اس نے کیا تھا (عباس کو قمیض پہنائی)
سفیان یہ بات بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے وہ بدلا دینے کی بناء پر کیا جو اس نے کیا تھا (عباس کو قمیض پہنائی)
(۶۶۸۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ: لَمَّا کَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ بِالْمَدِینَۃِ طَلَبَتْ لَہُ الأَنْصَارُ ثَوْبًا یَکْسُونَہُ فَلَمْ یَجِدُوا قَمِیصًا یَصْلُحُ عَلَیْہِ إِلاَّ قَمِیصَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُبَیٍّ فَکَسَوْہُ إِیَّاہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِیِّ عَنْ سُفْیَانَ وَقَدْ قِیلَ : إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَصَدَ بِمَا فَعَلَ مُکَافَأَتَہُ بِمَا صَنَعَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِیِّ عَنْ سُفْیَانَ وَقَدْ قِیلَ : إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَصَدَ بِمَا فَعَلَ مُکَافَأَتَہُ بِمَا صَنَعَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قمیض میں کفن دینے کا جواز، اگر ہم اس کو اختیار کریں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے اختیار کی گئی تھی
(٦٦٨٧) اسحاق کہتے ہیں : ہمیں حدیث بیان کی سفیان نے ایسی ہی حدیث اور سفیان نے یہ اضافی بات کہی کہ شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قمیض اس لیے پہنائی کہ اس کا بدلہ ہو۔
(۶۶۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ نَاجِیَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ
وَزَادَ قَالَ سُفْیَانُ : فَلَعَّلَ النَّبِیَّ -ﷺ- جَازَاہُ بِذَلِکَ الْقَمِیصِ۔ [صحیح۔ البخاری
وَزَادَ قَالَ سُفْیَانُ : فَلَعَّلَ النَّبِیَّ -ﷺ- جَازَاہُ بِذَلِکَ الْقَمِیصِ۔ [صحیح۔ البخاری
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قمیض میں کفن دینے کا جواز، اگر ہم اس کو اختیار کریں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے اختیار کی گئی تھی
(٦٦٨٨) عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول فوت ہوا تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور سوال کیا کہ میرے ابا کو کفن دینے کے لیے اپنی قمیض دیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دے دی ۔ پھر اس نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازہ پڑھ دیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازے پڑھانے کیلئے کھڑے ہوگئے تو عمر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قمیض کو پکڑ لیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ اس کا جنازہ پڑھائیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منع کیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے اور یہ آیت تلاوت کی : { اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِینَ مَرَّۃً فَلَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَہُمْ } [التوبۃ : ٨٠] کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اور اگر آپ ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تب بھی انھیں معاف نہیں کرے گا اور ” شاید میں ستر سے بھی زیادہ کروں “ تو عمر (رض) نے کہا : وہ منافق ہے۔ کہتے ہیں : تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا جنازہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ { وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَی قَبْرِہِ }[التوبۃ : ٨٤] کہ آئندہ آپ ان میں سے کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھیں گے اور نہ ہی کبھی ان کی قبر پر کھڑے ہونا۔
(۶۶۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیِّ بْنِ سَلُولَ جَائَ ابْنُہُ عَبْدُاللَّہِ بْنُ عَبْدِاللَّہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَہُ أَنْ یُعْطِیَہُ قَمِیصَہُ یُکَفِّنُ فِیہِ أَبَاہُ فَأَعْطَاہُ، ثُمَّ سَأَلَہُ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِیُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُصَلِّی عَلَیْہِ وَقَدْ نَہَاکَ اللَّہُ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّمَا خَیَّرَنِی اللَّہُ فَقَالَ {اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِینَ مَرَّۃً فَلَنْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَہُمْ} [التوبۃ: ۸۰] وَسَأَزِیدُ عَلَی سَبْعِینَ))۔ قَالَ : إِنَّہُ مُنَافِقٌ قَالَ فَصَلَّی عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَی قَبْرِہِ} [التوبۃ: ۸۴] الآیَۃَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی مُوسَی وَغَیْرِہِ عَنْ یَحْیَی الْقَطَّانِ۔
[صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی مُوسَی وَغَیْرِہِ عَنْ یَحْیَی الْقَطَّانِ۔
[صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৮৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قمیض میں کفن دینے کا جواز، اگر ہم اس کو اختیار کریں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے اختیار کی گئی تھی
(٦٦٨٩) عبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ میت کو قمیض پہنائی جائے گی اور تہہ بند بھی اور تیسرے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے گا۔ اگر صرف ایک ہی کپڑا ہو تو اسی میں کفن دیا جائے گا۔
نافع (رض) سے یہ بیان کیا گیا کہ ان کے عبداللہ بن عمرو بن عاص کے دو بیٹے فوت ہوگئے تو عبداللہ بن عمر (رض) نے انھیں پانچ کپڑوں میں کفن دیا جس میں پگڑی ، قمیض اور تین غلاف تھے۔
نافع (رض) سے یہ بیان کیا گیا کہ ان کے عبداللہ بن عمرو بن عاص کے دو بیٹے فوت ہوگئے تو عبداللہ بن عمر (رض) نے انھیں پانچ کپڑوں میں کفن دیا جس میں پگڑی ، قمیض اور تین غلاف تھے۔
(۶۶۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُوأَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّہُ قَالَ: الْمَیِّتُ یُقَمَّصُ وَیُؤَزَّرُ وَیُلَفُّ بِالثَّوْبِ الثَّالِثِ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ إِلاَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ کُفِّنَ فِیہِ۔ وَہَذَا مَوْقُوفٌ۔
وَرُوِّینَا عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنًا لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ مَاتَ فَکَفَّنَہُ ابْنُ عُمَرَ فِی خَمْسَۃِ أَثْوَابٍ عِمَامَۃٌ وَقَمِیصٌ وَثُلاَثُ لَفَائِفَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک]
وَرُوِّینَا عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنًا لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ مَاتَ فَکَفَّنَہُ ابْنُ عُمَرَ فِی خَمْسَۃِ أَثْوَابٍ عِمَامَۃٌ وَقَمِیصٌ وَثُلاَثُ لَفَائِفَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ کفن میں سفید کپڑے کو مستحب جاننا
(٦٦٩٠) سمرہ بن جندب کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سفید کپڑے پہنا کرو بیشک وہ پاکیزہ صاف شفاف ہوتے ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔
(۶۶۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِیُّ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ وَالْحَکَمِ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ أَبِی شَبِیبٍ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْبَسُوا الثِّیَابَ الْبَیَاضَ فَإِنَّہَا أَطْیَبُ وَأَطْہَرُ وَکَفِّنُوا فِیہَا مَوْتَاکُمْ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ معنی تخریجہ فی ۵۹۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ کفن میں سفید کپڑے کو مستحب جاننا
(٦٦٩١) سمرۃ بن جندب بیان کرتے ہیں کہ بیشک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سفیدی کو اپنے لیے لازم کرلو۔ تمہارے زندوں کو چاہیے کہ وہ اسے پہنیں اور اس میں اپنے مردوں کو کفن دیں۔ بیشک وہ تمہارے بہترین لباس میں سے ہے۔
(۶۶۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُالْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : ((عَلَیْکُمْ بِالْبَیَاضِ فَلْیَلْبَسْہُ أَحْیَاؤُکُمْ وَکَفِّنُوا فِیہِ مَوْتَاکُمْ فَإِنَّہُ مِنْ خَیْرِ لِبَاسِکُمْ))۔ وَقَدْ رُوِّینَاہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی کِتَابِ الْجُمُعَۃِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ انظر قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے یمنی چادر کو پسند کیا اور جس کے سوت کو رنگنے کے بعد کپڑ ابنالیا گیا
(٦٦٩٢) حضرت جابر (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : جب تم میں سے کوئی فوت ہوجائے تو اسے یمنی کپڑے میں کفن دو ۔
(۶۶۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَقِیلِ بْنِ مَعْقِلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَہْبِ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا تُوُفِّیَ أَحَدُکُمْ فَوَجَدَ شَیْئًا فَلْیُکَفَّنْ فِی ثَوْبِ حِبَرَۃٍ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے یمنی چادر کو پسند کیا اور جس کے سوت کو رنگنے کے بعد کپڑ ابنالیا گیا
(٦٦٩٣) عبادہ بن صامت (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین کفن حلہ ہے اور بہترین قربانی سینگوں والے مینڈھے کی ہے ” حلہ سرخ رنگ کے دو کپڑے ہوتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا اور یہ کپڑے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا محبوب لباس تھے۔
(۶۶۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِی نَصْرٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((خَیْرُ الْکَفَنِ الْحُلَّۃُ وَخَیْرُ الأُضْحِیَّۃِ الْکَبْشُ الأَقْرَنُ))۔
قَالَ الشَّیْخُ وَالْحُلَّۃُ ہِیَ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ غَالِبًا وَالأَحَادِیثُ فِی أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کُفِّنَ فِی ثِیَابٍ بِیضٍ وَأَنَّہُ اسَتَحَبَّ الْبَیَاضَ أَصَحُّ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف جداً۔ ابو داؤد]
قَالَ الشَّیْخُ وَالْحُلَّۃُ ہِیَ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ غَالِبًا وَالأَحَادِیثُ فِی أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کُفِّنَ فِی ثِیَابٍ بِیضٍ وَأَنَّہُ اسَتَحَبَّ الْبَیَاضَ أَصَحُّ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف جداً۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ کفن کے خوبصورت ہونے کو پسند کیا گیا ہے
(٦٦٩٤) جابر بن عبداللہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کا تذکرہ کیا جو فوت ہوگیا اور وہ کفن دیا گیا جو عمدہ نہیں تھا اور رات کو اسے دفن کردیا گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈانٹا اس بات پر کہ رات ہی اسے دفن کیوں کیا گیا، تاکہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جاتی مگر یہ کہ انسان اس کی طرف مجبور کردیا جائے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے اسے چاہیے کہ وہ اچھا کفن دے۔
(۶۶۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی أَبُوالزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ خَطَبَ یَوْمًا وَذَکَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِہِ قُبِضَ وَکُفِّنَ فِی کَفَنٍ غَیْرِ طَائِلٍ ، وَقُبِرَ لَیْلاً فَزَجَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یُقْبَرَ بِاللَّیْلِ حَتَّی یُصَلَّی عَلَیْہِ إِلاَّ أَنْ یُضْطَرَّ الإِنْسَانُ إِلَی ذَلِکَ ، وَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِذَا کَفَّنَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فَلْیُحَسِّنْ کَفَنَہُ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ المسلم]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ المسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے کفن میں میانہ روی کو ترک کیا اور یہ ناپسند ہے
(٦٦٩٥) حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ کفن زیادہ قیمتی نہ بنایا جائے ۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ کفن میں قیمتی کفن نہ بناؤ ، کیونکہ وہ جلد ہی چھین لیا جائے گا۔
(۶۶۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمُحَارِبِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرٌو أَبُو مَالِکٍ الْجَنْبِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ یُغَالَی فِی کَفَنٍ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((لاَ تَغَالُوا فِی الْکَفَنِ فَإِنَّہُ یُسْلَبُ سَلْبًا سَرِیعًا))۔ [ضعیف۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے کفن میں میانہ روی کو ترک کیا اور یہ ناپسند ہے
(٦٦٩٦) ابو اسحاق صلۃ سے بیان کرتے ہیں کہ جب حذیفہ (رض) کی موت کا وقت آیا تو انھوں نے کہا : میرے لیے کفن خرید لو تو ان کے پاس ایک حلہ لایا گیا جس کی قیمت تین سوپچاس (٣٥٠) درہم تھی تو وہ کہنے لگے : مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ۔ میرے لیے صرف دو سفید کپڑے خرید لاؤ کیونکہ وہ مجھ پر نہیں چھوڑے جائیں گے مگر تھوڑی دیر کیلئے یہاں تک کہ ان سے بہتر تبدیل کردیے جائیں گے یا ان سے بدتر۔
(۶۶۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ صِلَۃَ قَالَ : لَمَّا حَضَرَ حُذَیْفَۃَ الْمَوْتُ قَالَ : ابْتَاعُوا لِی کَفَنًا قَالَ فَأُتِیَ بِحُلَّۃٍ ثَمَنَ ثَلاَثِمِائَۃٍ وَخَمْسِینَ دِرْہَمًا فَقَالَ : لاَ حَاجَۃَ لِی بِہَا اشْتَرُوا لِی ثَوْبَیْنِ أَبْیَضَیْنِ فَإِنَّہُمَا لَنْ یُتْرَکَا عَلَیَّ إِلاَّ قَلِیلاً حَتَّی أُبَدَّلَ بِہِمَا خَیْرًا مِنْہُمَا أَوْ شَرًّا مِنْہُمَا۔ [صحیح۔ الطبرانی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنی زندگی میں کفن تیار کرلیا
(٦٦٩٧) حضرت سھل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت بنی ہوئی چادر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائی جس میں حاشیہ بھی تھا۔ پھر انھوں نے کہا : کیا تم جانتے ہو یہ ” بردہ “ کیا ہے ؟ تو انھوں نے کہا :(شملہ) چادر ہے تو انھوں نے کہا : ہاں ہاں۔ وہ عورت کہنے لگی : اسے میں نے اپنے ہاتھ سے بنا ہے، میں اس لیے لائی ہوں تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہناؤں تو اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہن لیا گویا کہ آپ اس کی ضرورت محسوس کر رہے تھے۔ پھر آپ نکلے اس حال میں کہ وہ آپ کا تہبندیا چادر تھی ۔ ١ براہیم کو شک ہے ، اسے ایک آدمی نے چھوا جس کا انھوں نے اس دن نام لیا تھا اور اس نے کہا : یہ چادر کتنی اچھی ہے، کیا آپ مجھے پہنائیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں تو جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر آئے تو وہ چادر اس صحابی کو بھیج دی۔ لوگوں نے اسے کہا : اللہ کی قسم ! تو نے اچھا نہیں کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ضرورت محسوس کرتے ہوئے اسے پہنا تھا مگر تو نے وہی مانگ لی اور تو جانتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سائل کو نہیں لوٹایا کرتے تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے نہیں مانگی یہ مگر اس لیے کہ یہ میرا کفن بن جائے جب میں مرجاؤں س۔ ھل کہتے ہیں : جب وہ فوت ہوا تو وہی چادر اس کا کفن بنی۔
(۶۶۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی وَالْمَنِیعِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاہِیمَ التَّرْجُمَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَہْلٍ : أَنَّ امْرَأَۃً جَائَ تْ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِبُرْدَۃٍ مَنْسُوجَۃٍ مِنْہَا حَاشِیَتُہَا ثُمَّ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَۃُ قَالُوا : الشَّمْلَۃُ قَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ : نَسَجْتُ ہَذِہِ بِیَدِی فَجِئْتُ لأَکْسُوَکَہَا فَلَبِسَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُحْتَاجًا إِلَیْہَا فَخَرَجَ وَإِنَّہَا لإِزَارُہُ أَوْ رِدَاؤُہُ شَکَّ أَبُو إِبْرَاہِیمَ فَجَسَّہَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ لِرَجُلٍ قَدْ سَمَّاہُ یَوْمَئِذٍ فَقَالَ : مَا أَحْسَنَ ہَذِہِ الْبُرْدَۃَ اکْسُنِیہَا؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- طَوَاہَا فَأَرْسَلَ بِہَا إِلَیْہِ فَقَالَ لَہُ الْقَوْمُ : وَاللَّہِ مَا أَحْسَنْتَ لَبِسَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُحْتَاجًا إِلَیْہَا ، ثُمَّ سَأَلْتَہُ إِیَّاہَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّہُ لاَ یَرُدُّ سَائِلاً فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا سَأَلْتُہُ إِیَّاہَا إِلاَّ لِتَکُونَ کَفَنِی یَوْمَ أَمُوتُ۔ قَالَ سَہْلٌ : وَکَانَتْ کَفَنَہُ یَوْمَ مَاتَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَلَمْ یَشُکَّ فِی الإِزَارِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَلَمْ یَشُکَّ فِی الإِزَارِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو خوشبو لگانے کا بیان
(٦٦٩٨) عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی عرفات میں پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اپنی سواری پر تھا۔ اس کی سواری نے اسے گرا دیا تو وہ فوت ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ہی اس کے سر کو ڈھانپو۔ بیشک اللہ تعالیٰ اسے تلبیہ کہتے ہوئے اٹھائیں گے ۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو محرم نہ ہو اسے خوشبو لگائی جائے گی اور سر بھی ڈھانپا جائے گا کیونکہ اس سے منع احرام کی وجہ سے کیا ہے۔
(۶۶۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ وَعَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلاً کَانَ وَاقِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِعَرَفَۃَ فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِہِ قَالَ أَیُّوبُ فَوَقَصَتْہُ وَقَالَ عَمْرٌو فَأَقْعَصَتْہُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اغْسِلُوہُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَکَفِّنُوہُ فِی ثَوْبَیْنِ ، وَلاَ تُحَنِّطُوہُ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَہُ فَإِنَّ اللَّہَ یَبْعَثُہُ یُلَبِّی))۔ وَقَالَ عَمْرٌو : مُلَبِّیًا ۔ قَالَ إِسْمَاعِیلُ ہَکَذَا قَالَ مُسَدَّدٌ وَخَالَفَہُ عَارِمٌ وَسُلَیْمَانُ اتَّفَقَا عَلَی أَنَّ عَمْرًا قَالَ : یُلَبِّی ۔ وَأَنَّ أَیُّوبَ قَالَ : مُلَبِّیًا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ کَمَا مَضَی۔ وَفِیہِ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ غَیْرَ الْمُحْرِمِ یُحَنَّطُ کَمَا یُخَمَّرُ وَأَنَّ النَّہْیَ وَقَعَ لأَجْلِ الإِحْرَامِ۔ [صحیح۔ معنی تخریجہ ۶۶۳۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ کَمَا مَضَی۔ وَفِیہِ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ غَیْرَ الْمُحْرِمِ یُحَنَّطُ کَمَا یُخَمَّرُ وَأَنَّ النَّہْیَ وَقَعَ لأَجْلِ الإِحْرَامِ۔ [صحیح۔ معنی تخریجہ ۶۶۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬৯৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو خوشبو لگانے کا بیان
(٦٦٩٩) حضرت ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آدم بیمار ہوئے جس بیماری میں وہ فوت ہوئے تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا : اے میرے بیٹو ! میں بیمار ہوں اور میں بھی وہی کچھ چاہتا ہوں جو مریض چاہتا ہے اور میں جنت کا پھل چاہتا ہوں۔ وہ میرے لیے تلاش کرو۔ وہ نکلے اور زمین میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ انھیں اچانک فرشتے ملے اور کہنے لگے : اے آدم کے بیٹو ! تم کیا ارادہ کرتے ہو ؟ وہ کہنے لگے : ہم اپنے بابا جان کیلئے جنت کا پھل ڈھونڈ رہے ہیں۔ فرشتوں نے کہا : واپس پلٹ جاؤ کیونکہ تمہارے باپ کی روح قبض کرنے اور جنت کی طرف لے جانے کا حکم ملا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو فرشتوں نے آدم کی روح قبض کرلی اور وہ سب دیکھ رہے تھے ۔ انھوں نے اسے کفن دیا ۔ خوشبو لگائی اور وہ دیکھ رہے تھے اور انھوں نے آدم کی نماز جنازہ پڑھی اور وہ دیکھ رہے تھے ۔ پھر انھوں نے کہا : اے آدم کے بیٹو ! تمہارے لیے تمہارے مردوں میں یہی سنت و طریقہ ہے ۔
یونس بن عبید نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ پھر انھوں نے گڑھا کھودا اور اسے اس میں دفن کردیا۔
یونس بن عبید نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ پھر انھوں نے گڑھا کھودا اور اسے اس میں دفن کردیا۔
(۶۶۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا خَارِجَۃُ بْنُ مُصْعَبٍ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُتَیٍّ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ آدَمَ لَمَّا مَرِض مَرَضَہُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ قَالَ لِبَنِیہِ یَا بَنِیَّ إِنِّی مَرِیضٌ، وَإِنِّی أَشْتَہِی مَا یَشْتَہِی الْمَرِیضُ ، وَإِنِّی أَشْتَہِی مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ فَابْغُوا لِی مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ قَالَ فَخَرَجُوا یَسْعَوْنَ فِی الأَرْضِ فَلَقِیَتْہُمُ الْمَلاَئِکَۃُ عِیَانًا فَقَالُوا یَا بَنِی آدَمَ أَیْنَ تُرِیدُونَ؟ قَالُوا : نَبْغِی أَبَانَا مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ فَقَالَ : ارْجِعُوا فَقَدْ أُمِرَ بِقَبْضِ رُوحِ أَبِیکُمْ إِلَی الْجَنَّۃِ قَالَ فَقَبَضُوا رُوحَہُ وَہُمْ یَنْظُرُونَ وَکَفَّنُوہُ وَحَنَّطُوہُ وَہُمْ یَنْظُرُونَ ، وَصَلَّوْا عَلَیْہِ وَہُمْ یَنْظُرُونَ ثُمَّ قَالُوا : یَا بَنِی آدَمَ ہَذِہِ سُنَّتُکُمْ فِی مَوْتَاکُمْ ))
رَفَعُہُ خَارِجَۃُ بْنُ مُصْعَبٍ۔ وَوَقَفَہُ ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ وَغَیْرُہُ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ وَزَادَ فِیہِ بَعْضُہُمْ : ثُمَّ حَفَرُوا ثُمَّ دَفَنُوہُ۔ وَزَادَ: فَکَذَاکُمْ فَافْعَلُوا۔ [باطل۔ أخرجہ الحاکم]
رَفَعُہُ خَارِجَۃُ بْنُ مُصْعَبٍ۔ وَوَقَفَہُ ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ وَغَیْرُہُ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ وَزَادَ فِیہِ بَعْضُہُمْ : ثُمَّ حَفَرُوا ثُمَّ دَفَنُوہُ۔ وَزَادَ: فَکَذَاکُمْ فَافْعَلُوا۔ [باطل۔ أخرجہ الحاکم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو خوشبو لگانے کا بیان
(٦٧٠٠) حضرت ابی بن کعب حدیث بیان کرتے ہیں کہ جب آدم (علیہ السلام) کی موت کا وقت آیا۔۔۔ آگے پوری حدیث بیان کی۔
(۶۷۰۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنِی عُتَیٌّ السَّعْدِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ یُحَدِّثُ قَالَ: لَمَّا احْتُضِرَ آدَمُ فَذَکَرَہُ مَوْقُوفًا بِمَعْنَاہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو خوشبو لگانے کا بیان
(٦٧٠١) ام سلیم (رض) انس بن مالک کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب عورت فوت ہوگئی اور اسے غسل دینے کا ارادہ کیا۔۔۔ (لمبی حدیث بیان کی) اور کہا : پھر اس کے نیچے روئی کا حاشیہ بنا ، جس قدر تو بنا سکتی ہے۔ پھر اس روئی کو خوشبو میں بھگو دے ۔ پھر صاف لمبا تہہ بند لو اور اس کی کمر کے ساتھ باندھ دو جیسے کمر بند کر باندھا جاتا ہے۔ پھر اس کی رانوں کے درمیان اس سے گرہ لگاؤ اور اس کے کو لہوں کو دباؤ۔ پھر اس کے تہہ بند کی ایک طرف اس کی کمر سے گھٹنوں تک ڈال دو ۔ یہ ہے ” سفلۃ “ سے مراد۔ پھر اسے خوشبو لگاؤ اور کفن پہناؤ۔
(۶۷۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ أَمْلاَہُ عَلَیْنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ : ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ : شَیْبَانُ عَنْ لَیْثِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی بَشِیرٍ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أمِّ سُلَیْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا تُوُفِّیَتِ الْمَرْأَۃُ فَأَرَادُوا أَنْ یَغَسِّلُوہَا۔۔۔۔))۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَ : ((ثُمَّ احْشِی سَفِلَتَہَا کُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ ، ثُمَّ أَمِسِّی کُرْسُفَہَا مِنْ طِیبِہَا ، ثُمَّ خُذِی سَبَنِیَّۃً طَوِیلَۃً مَغْسُولَۃً فَارْبِطِیہَا عَلَی عَجُزِہَا کَمَا یُرْبَطُ النِّطَاقُ ، ثُمَّ اعْقِدِیہَا بَیْنَ فَخِذَیْہَا وَضُمِّی فَخِذَیْہَا، ثُمَّ أَلْقِی طَرَفَ السَّبَنِیَّۃِ مِنْ عِنْدِ عَجُزِہَا إِلَی قَرِیبٍ مِنْ رُکْبَتَیْہَا فَہَذَا بَیَانُ سَفِلَتِہَا ثُمَّ طَیِّبِیہَا وَکَفِّنِیہَا))۔
[منکر۔ الطبرانی]
[منکر۔ الطبرانی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو خوشبو لگانے کا بیان
(٦٧٠٢) حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب میت کو استنجاء کرواؤ تو طاق عدد میں کراؤ ۔ جب میڈھیاں بناؤ تو طاق اور میت کے کفن کو تین گرہیں لگاؤ۔
(۶۷۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ عَنْ قُطْبَۃَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا أَجْمَرْتُمُ الْمَیِّتَ فَأَوْتِرُوا))۔ وَرُوِیَ : ((أَجْمِرُوا کَفَنَ الْمَیِّتِ ثَلاَثًا))۔
[صحیح۔ أخرجہ احمد]
[صحیح۔ أخرجہ احمد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو خوشبو لگانے کا بیان
(٦٧٠٣) عباس بن محمد کہتے ہیں : میں نے یحییٰ بن معین سے یہ حدیث سنی اور وہ اس حدیث کو غلط تصور کرتے ہیں۔
(۶۷۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ وَذَاکَرْتُہُ یَعْنِی ہَذَا الْحَدِیثَ فَقَالَ یَحْیَی : لَمْ یَرْفَعْہُ إِلاَّ یَحْیَی بْنُ آدَمَ قَالَ یَحْیَی : وَلاَ أَظُنُّ ذَا الْحَدِیثَ إِلاَّ غَلَطًا۔ [صحیح]
তাহকীক: