আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪০৫ টি
হাদীস নং: ৬৭০৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کو خوشبو لگانے کا بیان
(٦٧٠٤) اسماء بنت ابی بکر نے اپنے گھر والوں سے کہا : میرے کپڑے کی تین تہیں لگانا اور جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے خوشبو لگانا اور میرے کفن پر خوشبو نہ رہنے دینا اور نہ ہی میرے جنازے کے ساتھ آگ لے کر جانا۔
(۶۷۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہَا قَالَتْ لأَہْلِہَا: أَجْمِرُوا ثِیَابِی إِذَا مُتُّ ثُمَّ حَنِّطُونِی ، وَلاَ تَذَرُوا عَلَی کَفَنِی حَنُوطًا وَلاَ تَتْبَعُونِی بِنَارٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ المالک]
[صحیح۔ أخرجہ المالک]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ خوشبو کے لیے کستوری اور کافور کا استعمال کرنا ام عطیہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر میں کافور لگانا یا کافور جیسی کوئی چیز۔ عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ کافور سجدے کی جگہ رکھا جائے گا۔
(٦٧٠٥) ہمام بن یحییٰ کہتے ہیں : مجھے زائدہ نے خبر دی کہ علقمہ ابن مسعود سے بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ کافور کو سجدہ کی جگہ رکھا جائے۔
(۶۷۰۵) أَخْبَرْنَاہُ أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی تَوْبَۃَ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ حَاتِمٍ الآمُلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنِی زَائِدَۃُ قَالَ سَمِعْتُ النَّخَعِیَّ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : الْکَافُورُ یُوضَعُ عَلَی مَوَاضِعِ السُّجُودِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن ابی شیبہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ خوشبو کے لیے کستوری اور کافور کا استعمال کرنا ام عطیہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر میں کافور لگانا یا کافور جیسی کوئی چیز۔ عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ کافور سجدے کی جگہ رکھا جائے گا۔
(٦٧٠٦) ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اسرائیلی عورت کا تذکرہ کیا کہ اس نے اپنی انگوٹھی کو کستوری سے بھرا ہوا تھا اور کستوری تمام خوشبوؤں میں سے بہتر خوشبو ہے۔
(۶۷۰۶) وَأَمَّا الْمِسْکُ فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خُلَیْدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَالْمُسْتَمِرِّ الأَزْدِیِّ قَالاَ سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ فَقَالَ : حَشَتْ خَاتَمَہَا مِسْکًا وَالْمِسْکُ أَطْیَبُ الطِّیبِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ خوشبو کے لیے کستوری اور کافور کا استعمال کرنا ام عطیہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر میں کافور لگانا یا کافور جیسی کوئی چیز۔ عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ کافور سجدے کی جگہ رکھا جائے گا۔
(٦٧٠٧) ابو وائل کہتے ہیں : علی (رض) کے پاس کستوری تھی۔ انھوں نے وصیت کی کہ اس کی خوشبو لگائی جائے اور علی (رض) نے کہا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمدہ خوشبو میں سے ہے۔
(۶۷۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ : کَانَ عِنْدَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِسْکٌ فَأَوْصَی أَنْ یُحَنَّطَ بِہِ قَالَ وَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ہُوَ فَضْلُ حَنُوطِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ [جید۔ أخرجہ الحاکم]
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ [جید۔ أخرجہ الحاکم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ خوشبو کے لیے کستوری اور کافور کا استعمال کرنا ام عطیہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر میں کافور لگانا یا کافور جیسی کوئی چیز۔ عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ کافور سجدے کی جگہ رکھا جائے گا۔
(٦٧٠٨) حضرت نافع (رض) کہتے ہیں : سعید بن زید فوت ہوگئے اور وہ بدری صحابی تھے۔ ام سعید نے عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا : کیا تم کستوری کی خوشبو لگاؤ گے ؟ تو انھوں نے کہا : اور کونسی خوشبو کستوری سے بہتر ہے۔ تم اپنی کستوری لاؤ تو انھوں نے وہ پکڑا دی تو راوی نے کہا : آج جیسے تم کرتے ہو ایسے نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ہم خوشبو بغلوں اور مانگ وغیرہ میں لگاتے تھے۔
(۶۷۰۸) أَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الشُّرَیْحِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أُمَیَّۃَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : مَاتَ سَعِیدُ بْنُ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ بَدْرِیًّا فَقَالَتْ أُمُّ سَعِیدٍ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَتُحَنِّطُہُ بِالْمِسْکِ فَقَالَ: وَأَیُّ طِیبٍ أُطْیَبُ مِنَ الْمِسْکِ ہَاتِی مِسْکَکِ فَنَاوَلَتْہُ إِیَّاہُ قَالَ وَلَمْ یَکُنْ یُصْنَعُ کَمَا تَصْنَعُونَ وَکُنَّا نَتَتَبَّعُ بِحَنُوطِہِ مَرَاقَّہُ وَمَغَابِنَہُ۔ [ضعیف جداً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭০৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ خوشبو کے لیے کستوری اور کافور کا استعمال کرنا ام عطیہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر میں کافور لگانا یا کافور جیسی کوئی چیز۔ عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ کافور سجدے کی جگہ رکھا جائے گا۔
(٦٧٠٩) حمید (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب انس بن مالک (رض) فوت ہوئے تو انھیں خوشبو کستوری کی لگائی گئی اور اس میں پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پسینہ ملایا گیا۔
(۶۷۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ حَمْشَاذَ أَخُو عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ جُعِلَ فِی حَنُوطِہِ مِسْکٌ فِیہِ مِنْ عَرَقِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح لغیرہٖ۔ الطبرانی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پاس جانا اور اسے بوسہ دینا
(٦٧١٠) عبد الرحمن بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی بیان کرتی ہیں کہ ابوبکر (رض) کا سنح میں جو مکان تھا وہاں سے گھوڑے پر آئے ، اس سے اترے اور مسجد میں داخل ہوگئے ۔ لوگوں سے کوئی کلام نہ کی اور عائشہ (رض) کے پاس گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قصد کیا اور وہ یمنی چادر میں لپٹے ہوئے تھے ۔ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھک گئے۔ پھر بوسہ دیا اور رو دیے۔ پھر انھوں نے کہا : میرا باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی دو موتیں وارد نہیں کرے گا سوائے اس موت کے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر لکھ دی تھی۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آچکی۔ ابن عباس فرماتے ہیں : ابوبکر (رض) نکلے تو عمر (رض) لوگوں سے کلام کر رہے تھے ۔ ابوبکر (رض) نے عمر (رض) سے کہا : بیٹھ جاؤ مگر انھوں نے انکار کردیا۔ پھر انھوں نے کہا ۔ عمر (رض) نے پھر انکار کردیا تو ابوبکر (رض) نے خطبہ دیا ۔ لوگ عمر (رض) کو چھوڑ کر ابوبکر کی طرف متوجہ ہوئے اور ابوبکر نے کہا : اے لوگو ! جو کوئی تم میں سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کیا کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوچکے ہیں اور جو کوئی تم میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ یقین جانے کہ اللہ زندہ ہے کبھی اسے موت نہیں آئے گی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۔۔۔ ٤٤ آل عمران “ نہیں ہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مگر اللہ کے رسول تحقیق ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے، سو کیا اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید کردیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔ یہ پوری آیت شاکرین تک پڑھی۔ پھر انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! لوگوں کی ایسی کیفیت تھی گویا کہ وہ یہ بات جانتے ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات بھی نازل کی ہیں مگر اسی وقت جب ابوبکر (رض) نے تلاوت کی اور لوگوں نے یہ آیت ابوبکر سے لی ۔ پھر تو ہر کوئی یہی آیت تلاوت کررہا تھا۔
(۶۷۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِیلٍ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَیُونُسُ قَالَ الزُّہْرِیُّ وَأَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَقْبَلَ عَلَی فَرَسٍ مِنْ مَسْکَنِہِ بِالسُّنْحِ حَتَّی نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ یُکَلِّمِ النَّاسَ حَتَّی دَخَلَ عَلَی عَائِشَۃَ فَتَیَمَّمَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ مُسَجًّی بِبُرْدَۃٍ حِبَرَۃٍ فَکَشَفَ عَنْ وَجْہِہِ ، وَأَکَبَّ عَلَیْہِ فَقَبَّلَہُ وَبَکَی ثُمَّ قَالَ : بِأَبِی أَنْتَ وَاللَّہِ لاَ یَجْمَعُ اللَّہُ عَلَیْکَ مَوْتَتَیْنِ أَبَدًا أَمَّا الْمَوْتَۃُ الَّتِی کَتَبَ اللَّہُ عَلَیْکَ فَقَدْ مُتَّہَا۔
قَالَ الزُّہْرِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَرَجَ وَعُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُکَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ : اجْلِسْ فَأَبَی عُمَرُ أَنْ یَجْلِسَ فَقَالَ : اجْلِسْ فَأَبَی أَنْ یَجْلِسَ فَتَشَہَّدَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَمَالَ النَّاسُ إِلَیْہِ وَتَرَکُوا عُمَرَ فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ، وَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ اللَّہَ فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ} [آل عمران: ۱۴۴] إِلَی {الشَّاکِرِینَ} قَالَ وَاللَّہِ لَکَأَنَّ النَّاسَ لَمْ یَکُونُوا یَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ ہَذِہِ الآیَۃَ إِلاَّ حِینَ تَلاَہَا أَبُو بَکْرٍ فَتَلَقَّاہَا مِنْہُ النَّاسُ فَمَا یَسْمَعُ بَشَرًا إِلاَّ یَتْلُوہَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ البخاری]
قَالَ الزُّہْرِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَرَجَ وَعُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُکَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ : اجْلِسْ فَأَبَی عُمَرُ أَنْ یَجْلِسَ فَقَالَ : اجْلِسْ فَأَبَی أَنْ یَجْلِسَ فَتَشَہَّدَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَمَالَ النَّاسُ إِلَیْہِ وَتَرَکُوا عُمَرَ فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ، وَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ اللَّہَ فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ} [آل عمران: ۱۴۴] إِلَی {الشَّاکِرِینَ} قَالَ وَاللَّہِ لَکَأَنَّ النَّاسَ لَمْ یَکُونُوا یَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ ہَذِہِ الآیَۃَ إِلاَّ حِینَ تَلاَہَا أَبُو بَکْرٍ فَتَلَقَّاہَا مِنْہُ النَّاسُ فَمَا یَسْمَعُ بَشَرًا إِلاَّ یَتْلُوہَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پاس جانا اور اسے بوسہ دینا
(٦٧١١) زید بن ثابت انصاری بیان کرتے ہیں : ام علاء جو انصاری عورت تھی جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی وہ خبر دیتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مھاجرین میں قرعہ اندازی کی تو ہمارے حصے میں عثمان بن مظعون آئے۔ ہم نے انھیں اپنے گھر میں رکھ لیا تو انھیں وہ تکلیف شروع ہوئی جس میں وہ فوت ہوگئے۔ جب وہ فوت ہوگئے انھیں غسل دیا گیا اور تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے۔ میں نے کہا : اے ابو سائب ! آپ پر اللہ کی رحمت ہو ۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت بخشی ہوگی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے اسے عزت بخشی ہے۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کسے عزت دیں گے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاں تک اس کی بات ہے تو اس کے پاس یقینی بات آچکی ہے ، اللہ کی قسم ! میں بھی اس کیلئے خیر کی توقع کرتا ہوں ویسے اللہ کی قسم میں بھی نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ کیا کریں گے۔ وہ کہتی ہیں : میں نے کہا : اللہ کی قسم ! آئندہ میں کبھی بھی کسی کو پاکیزہ نہیں کہوں گی۔
(۶۷۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنِ اللَّیْثِ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی خَارِجَۃُ بْنُ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِیُّ أَنَّ أُمَّ الْعَلاَئِ امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ بَایَعَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ أَنَّہُمُ اقْتَسَمُوا الْمُہَاجِرِینَ قُرْعَۃً یَعْنِی فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْزَلْنَاہُ فِی أَبْیَاتِنَا فَوَجِعَ وَجَعَہُ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ فَلَمَّا تُوُفِّیَ وَغُسِّلَ وَکُفِّنَ فِی ثَلاَثٍ دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَتْ فَقُلْتُ : رَحْمَۃُ اللَّہِ عَلَیْکَ أَبَا السَّائِبِ شَہَادَتِی عَلَیْکَ لَقَدْ أَکْرَمَکَ اللَّہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَمَا یُدْرِیکِ أَنَّ اللَّہَ أَکْرَمَہُ))۔ قُلْتُ : بِأَبِی أَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَمَنْ أَکْرَمَہُ اللَّہُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَّا ہُوَ فَوَاللَّہِ لَقَدْ جَائَ ہُ الْیَقِینُ ، وَاللَّہِ إِنِّی لأَرْجُو لَہُ الْخَیْرَ ، وَاللَّہِ مَا أَدْرِی وَأَنَا رَسُولُ اللَّہِ مَاذَا یُفْعَلُ بِی))۔ فَقَالَتْ : وَاللَّہِ إِنِّی لاَ أُزَکِّی أَحَدًا بَعْدَہُ أَبَدًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَقَالَ : وَکُفِّنَ فِی أَثْوَابِہِ وَفِی آخِرِہِ قَالَتْ : فَوَاللَّہِ لاَ أُزَکِّی بَعْدَہُ أَبَدًا۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ عُقَیْلٍ : مَا یُفْعَلُ بِہِ۔ وَتَابَعَہُ شُعَیْبٌ وَعَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَمَعْمَرٌ۔
وَیُذْکَرُ عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّہُ قَالَ ہَذَا الْقَوْلَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ عَلَیْہِ {إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا} الآیَۃَ۔
[صحیح۔ البخاری]
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ عُقَیْلٍ : مَا یُفْعَلُ بِہِ۔ وَتَابَعَہُ شُعَیْبٌ وَعَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَمَعْمَرٌ۔
وَیُذْکَرُ عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّہُ قَالَ ہَذَا الْقَوْلَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ عَلَیْہِ {إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا} الآیَۃَ۔
[صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پاس جانا اور اسے بوسہ دینا
(٦٧١٢) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عثمان بن مظعون کے پاس آئے اور وہ فوت ہوچکے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔ پھر آپ اس پر جھک گئے اور اسے بوسہ دیا اور آپ رو دیے یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ آپ کے آنسو رخساروں پر بہہ رہے تھے۔
(۶۷۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَاصِمٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- دَخَلَ عَلَی عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَہُوَ مَیِّتٌ فَکَشَفَ عَنْ وَجْہِہِ ثُمَّ أَکَبَّ عَلَیْہِ فَقَبَّلَہُ ثُمَّ بَکَی حَتَّی رَأَیْتُ الدُّمُوعَ تَسِیلُ عَلَی وَجْنَتَیْہِ۔ [ضعیف۔ ترمذی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ میت کے پاس جانا اور اسے بوسہ دینا
(٦٧١٣) حضرت جابربن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ جب میرا باپ غزوہ احد میں فوت ہوگیا تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا رہا تھا اور رو رہا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی مجھے اس سے منع کرتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے منع نہیں کرتے تھے اور میری پھوپھی رو رہی تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تو نہ رو، یا فرمایا : تجھے کیا چیز رلا رہی ہے۔ فرشتے اس پر اپنے پروں سے سایہ کیے ہوئے تھے حتیٰ کہ انھوں نے اپنے پر ہٹا لیے ہیں۔
(۶۷۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْبَاغَنْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : لَمَّا قُتِلَ أَبِی یَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَبْکِی وَأَکْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْہِہِ وَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ -ﷺ- یَنْہَوْنِی عَنْ ذَلِکَ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- لاَ یَنْہَانِی عَنْ ذَلِکَ وَجَعَلَتْ عَمَّتِی تَبْکِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تَبْکِی أَوْ مَا یُبْکِیکِ مَا زَالَتِ الْمَلاَئِکَۃُ تُظِلُّہُ بِأَجْنِحَتِہَا حَتَّی رَفَعُوہُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ کفن کے کھلنے کے ڈر سے اسے گرہ لگانا اور جب قبر میں داخل کیا جائے تو کھول دینا
(٦٧١٤) معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نعیم بن مسعود کو قبر میں رکھا اور اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا دیا۔
(۶۷۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : طَلْحَۃُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا خَلَفٌ یَعْنِی ابْنَ خَلِیفَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ أَظُنُّہُ سَمِعَہُ مِنْ مَوْلاَہُ وَمَوْلاَہُ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ : لَمَّا وَضَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- نُعَیْمَ بْنَ مَسْعُودٍ فِی الْقَبْرِ نَزَعَ الأَخِلَّۃَ بِفِیہِ۔ قَوْلُہُ أَظُنُّہُ أَحْسَبُہُ مِنْ قَوْلِ الدُّورِیِّ۔
وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مُوسَی وَسُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْعَتَکِیِّ أَنَّ خَلَفَ بْنَ خَلِیفَۃَ حَدَّثَہُمْ عَنْ أَبِیہِ قَالَ بَلَغَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف جداً۔ ابن ابی شیبہ]
وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مُوسَی وَسُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْعَتَکِیِّ أَنَّ خَلَفَ بْنَ خَلِیفَۃَ حَدَّثَہُمْ عَنْ أَبِیہِ قَالَ بَلَغَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف جداً۔ ابن ابی شیبہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ کفن کے کھلنے کے ڈر سے اسے گرہ لگانا اور جب قبر میں داخل کیا جائے تو کھول دینا
(٦٧١٥) سمرۃ (رض) کے بھیجتے عثمان بیان کرتے ہیں کہ سمرۃ (رض) کا بیٹا فوت ہوگیا تو انھوں نے مجھے کہا : میرے ساتھ اس کی قبر تک چل ۔ جب تو اسے لحد میں رکھے تو کہنا :” بِسمِ اللّٰہِ وعلٰی سَنَّۃِ رَسُولِ اللّٰہ “ پھر تو کھول دے اس کے سر کی گرہ اور پاؤں کی گرہ کو۔
(۶۷۱۵) أَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَنَّ أَبَا الْوَلِیدِ أَخْبَرَہُمْ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُثْمَانُ ابْنُ أَخِی سَمُرَۃَ قَالَ : مَاتَ ابْنٌ لِسَمُرَۃَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَقَالَ : انْطَلِقْ بِہِ إِلَی حُفْرَتِہِ فَإِذَا وَضَعْتَہُ فِی لَحْدِہِ فَقُلْ بِسْمِ اللَّہِ وَعَلَی سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ أَطْلِقْ عُقَدَ رَأْسِہِ وَعُقَدَ رِجْلَیْہِ ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحارث]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ لحد بنانا سنت ہے
(٦٧١٦) عامر بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ بیشک سعد بن ابی وقاص نے اپنے اس مرض میں کہا جس میں وہ فوت ہوگئے تھے، میرے لیے تم لحد بنانا اور اس پر اینٹیں نصب کرنا جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے کیا گیا۔
(۶۷۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ قَالُوا حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمِسْوَرِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی ہَلَکَ فِیہِ : الْحَدُوا لِی لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَیَّ اللَّبِنَ نَصْبًا کَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ لحد بنانا سنت ہے
(٦٧١٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ ارادہ کیا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے قبر کھو دیں تو ابو عبیدہ (رض) بن جراع اہل مکہ کیلئے صندوقی قبر بناتے تھے اور ابو طلحہ زید بن سھل اہل مدینہ کے لیے بغلی قبر بناتے تھے تو عباس نے آدمیوں کو بلایا اور ان کو گردنوں سے انھیں پکڑا ۔ ایک سے کہا : تو ابو عبید ہ کی طرف جا اور دوسرے سے کہا : تو ابو طلحہ کی طرف جا اور کہا : اے اللہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے ان دونوں میں سے جسے چاہے لے آ، جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیقبر کو کھودے تو ابو طلحہ کے ساتھی نے اسے پا لیا اور اسے لے آیا اور ابو عبیدہ کے ساتھی نے عبیدہ کو نہ پایا تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے لحد تیار کی گئی۔
(۶۷۱۷) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَرَادَوا أَنْ یَحْفِرُوا لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ یَضْرَحُ لأَہْلِ مَکَّۃَ ، وَکَانَ أَبُو طَلْحَۃَ : زَیْدُ بْنُ سَہْلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَلْحَدُ لأَہْلِ الْمَدِینَۃِ فَدَعَا الْعَبَّاسُ رَجُلَیْنِ فَأَخَذَ بِأَعْنَاقِہِمَا فَقَالَ : اذْہَبْ أَنْتَ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ ، وَاذْہَبْ أَنْتَ إِلَی أَبِی طَلْحَۃَ : اللَّہُمَّ خِرْ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَیُّہُمَا جَائَ حَفَرَ لَہُ فَوَجَدَ صَاحِبُ أَبِی طَلْحَۃَ أَبَا طَلْحَۃَ فَجَائَ بِہِ وَلَمْ یَجِدْ صَاحِبُ أَبِی عُبَیْدَۃَ أَبَا عُبَیْدَۃَ فَلُحِدَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ مُخْتَصَرًا۔
[ضعیف۔ ابن ماجہ]
[ضعیف۔ ابن ماجہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ لحد بنانا سنت ہے
(٦٧١٨) حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لحد (بغلی قبر) ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر ہمارے غیر کے لئے۔
(۶۷۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَکَّامُ بْنُ سَلْمٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَیْرِنَا))۔
وَرُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ مَرْفُوعًا۔ [حسن لغیرہٖ۔ ابو داؤد]
وَرُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ مَرْفُوعًا۔ [حسن لغیرہٖ۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ لحد بنانا سنت ہے
(٦٧١٩) حضرت جرید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لحد ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر ہمارے غیر کے لیے ہے۔
(۶۷۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَیْرٍ أَبِی الْیَقْظَانِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَیْرِنَا))۔
کَذَا رَوَاہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ وَرَوَاہُ وَکِیعٌ وَالْفِرْیَابِیُّ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَیْرٍ لَمْ یَذْکُرُوا فِیہِ مُسْلِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ۔ [حسن لغیرہٖ۔ ابن ماجہ]
کَذَا رَوَاہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ وَرَوَاہُ وَکِیعٌ وَالْفِرْیَابِیُّ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَیْرٍ لَمْ یَذْکُرُوا فِیہِ مُسْلِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ۔ [حسن لغیرہٖ۔ ابن ماجہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چٹائی کا بیان
(٦٧٢٠) ابوجمرہ (رض) کہتے ہیں : میں نے ابن عباس سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر میں سرخ چٹائی داخل کی گئی۔
(۶۷۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ: أُدْخِلَ فِی قَبْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَطِیفَۃٌ حَمْرَائُ۔ [صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چٹائی کا بیان
(٦٧٢١) وکیع اسی معنی میں روایت شعبہ سے بیان کرتے ہیں۔
(۶۷۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنْ شُعْبَۃَ بِمَعْنَاہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ وَکِیعٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ وَکِیعٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چٹائی کا بیان
(٦٧٢٢) عبداللہ بن عباس کہتے ہیں : سرخ رنگ کی گھاس تھی اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قبر میں رکھا گیا اس کمبل (چٹائی) کو لایا گیا جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہنتے یا بچھاتے اور اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کردیا گیا اور کہا : اللہ کی قسم ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اسے کوئی نہیں پہن سکتا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دفن کردیا گیا۔ سو اس روایت میں اگر ثبوت ہے تو اس بات کا کہ قبر میں اسے نہیں بچھایا گیا سنت کی اتباع کرتے ہوئے ۔ یزید بن اصم ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ قبر میں میت کے نیچے کپڑا بچھانے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۶۷۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وَقَدْ کَانَ شُقْرَانُ حِینَ وَضَعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی حُفْرَتِہِ أَخَذَ قَطِیفَۃً قَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَلْبَسُہَا وَیَفْرِشُہَا فَدَفَنَہَا مَعَہُ فِی الْقَبْرِ وَقَالَ وَاللَّہِ لاَ یَلْبَسُہَا أَحَدٌ بَعْدَکَ فَدُفِنَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ فَفِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ إِنْ کَانَتْ ثَابِتَۃً دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُمْ لَمْ یَفْرِشُوہَا فِی الْقَبْرِ اسْتِعْمَالاً لِلسُّنَّۃِ فِی ذَلِکَ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَجْعَلَ تَحْتَ الْمَیِّتِ ثَوْبًا فِی الْقَبْرِ۔ [ضعیف۔ معنی تخریجہ ۶۷۱۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مردوں کیلئے قبلے کی طرف منہ کرنا
(٦٧٢٣) عبید بن عمیر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع میں فرمایا : خبردار ! اللہ کے دوست نمازی ہیں جو پانچوں نمازیں قائم کرتے ہیں جو ان پر فرض کی گئی ہیں اور رمضان کے روزے رکھتے ہیں اجر وثواب کی نیت سے، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ان پر فرض ہیں اور اپنے مال کی زکوۃ دیتے ہیں ثواب کی امید سے اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔ پھر ایک آدمی نے سوال کیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! کبیرہ گناہ کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ نو (٩) ہیں : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور مومن کو بلاوجہ قتل کرنا اور میدان جنگ سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، پاکدامنہ پر تہمت لگانا، مسلم والدین کی نافرمانی کرنا، بیت الحرام کو حلال کرنا جبکہ وہ تمہارے زندوں اور مردوں کا قبلہ ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں مرتا وہ شخص جو یہ کبیرہ گناہ نہیں کرتا اور وہ نماز قائم کرتا ہے، زکوۃ دیتا ہے تو ہوگا وہ اپنے گھر کے دروازے پر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جس کے دروازے کے پاٹ سونے کے ہوں گے۔
(۶۷۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ الْقَاضِی إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ : عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ حَدَّثَہُ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : ((أَلاَ إِنَّ أَوْلِیَائَ اللَّہِ الْمُصَلُّونَ مَنْ یُقِمِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ الَّتِی کُتِبْنَ عَلَیْہِ وَیَصُومُ رَمَضَانَ یَحْتَسِبُ صَوْمَہُ یَرَی أَنَّہُ عَلَیْہِ حَقٌّ ، وَیُعْطِی زَکَاۃَ مَالِہِ یَحْتَسِبُہَا ، وَیَجْتَنِبُ الْکَبَائِرَ الَّتِی نَہَی اللَّہُ عَنْہَا))۔ ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً سَأَلَہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا الْکَبَائِرُ؟ فَقَالَ : ((ہُنَّ تِسْعٌ الشِّرْکُ إِشْرَاکٌ بِاللَّہِ ، وَقَتْلُ نَفْسٍ مُؤْمِنٍ بِغَیْرِ حَقٍّ ، وَفِرَارٌ یَوْمَ الزَّحْفِ ، وَأَکَلُ مَالُ الْیَتِیمِ ، وَأَکْلُ الرِّبَا ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَۃِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ الْمُسْلِمَیْنِ ، وَاسْتِحْلاَلُ الْبَیْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِکُمْ أَحْیَائً وَأَمْوَاتًا ، ثُمَّ قَالَ : لاَ یَمُوتُ رَجُلٌ لَمْ یَعْمَلْ ہَؤُلاَئِ الْکَبَائِرَ ، وَیُقِیمُ الصَّلاَۃَ ، وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ إِلاَّ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی دَارٍ أَبْوَابُہَا مَصَارِیعُ مِنْ ذَہَبٍ))۔ سَقَطَ مِنْ کِتَابِی أَوْ مِنْ کِتَابِ شَیْخِی السِّحْرُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم]
তাহকীক: