আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪০৫ টি

হাদীস নং: ৬৭২৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ مردوں کیلئے قبلے کی طرف منہ کرنا
(٦٧٢٤) طبیلہ بن علی کہتے ہیں : میں نے ابن عمر سے سوال کیا : مجھے کبیرہ گناہوں کے بارے میں حدیث بیان کرو۔ وہ کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کبائر اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور پاکدامنہ پر تہمت لگانا ہے تو میں نے کہا : کیا کسی کو قتل کرنا تو انھوں نے کہا : ہاں تیرے نہ چاہنے پر بھی اور مومنہ نفس کا قتل کرنا میدان جنگ سے بھاگنا اور یتیم کا مال کھانا، مسلم والدین کی نافرمانی کرنا، بیت الحرام میں لڑائی کرنا حالانکہ وہ تمہارے زندوں اور مردوں کا قبلہ ہے۔

حسن عمر بن خطاب (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کعبے کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اللہ کی قسم ! یہ تو صرف پتھر ہیں جنہیں اللہ نے ہمارے زندوں کے قبلے کے طور نصب کیا ہے اور ہم اپنے مردوں کو اس کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
(۶۷۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَرُّوذِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ طَیْسَلَۃَ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَہُوَ فِی أَصْلِ الأَرَاکِ یَوْمَ عَرَفَۃَ وَہُوَ یَنْضَحُ عَلَی رَأْسِہِ الْمَائَ وَوَجْہِہِ فَقُلْتُ لَہُ یَرْحَمُکَ اللَّہُ حَدِّثْنِی عَنِ الْکَبَائِرِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْکَبَائِرُ الإِشْرَاکُ بِاللَّہِ ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَۃِ))۔ فَقُلْتُ : أَقَتْلُ الدَّمِ؟ قَالَ : ((نَعَمْ وَرَغْمًا ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَۃِ ، وَالْفِرَارُ یَوْمَ الزَّحْفِ وَأَکَلُ مَالِ الْیَتِیمِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ الْمُسْلِمَیْنِ ، وَإِلْحَادٌ بِالْبَیْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتَکُمْ أَحْیَائً وَأَمْوَاتًا))

وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ ذَکَرَ الْکَعْبَۃَ فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا ہِیَ إِلاَّ أَحْجَارٌ نَصَبَہَا اللَّہُ قِبْلَۃً لأَحْیَائِنَا وَنُوَجِّہُ إِلَیْہَا مَوْتَانَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن جریر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭২৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اذخر قبور کے سوراخ کو بند کرنے کیلئے ہے
(٦٧٢٥) حضرت ابو ہریرہ (رض) حدیث بیان کرتے ہیں حرم مکہ کے بارے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمانا کہ اس کے درخت کو نہ کاٹا جائے اور نہ ہی اس کے کانٹے کو نکالا جائے۔ وہ کہتے ہیں : عباس بن عبد المطلب نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مگر ” اذخر “ بیشک ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں ڈالتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مگر اذخر نہیں مگر اذخر نہیں۔
(۶۷۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی حَرَمِ مَکَّۃَ وَقَوْلِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((لاَ یُعْضَدُ شَجَرَہَا ، وَلاَ یُخْتَلَی شَوْکُہَا))۔ قَالَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّا نَجْعَلَہُ فِی مَسَاکِنِنَا ، وَقُبُورِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِلاَّ الإِذْخِرَ إِلاَّ الإِذْخِرَ))۔

أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَصَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭২৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ اذخر قبور کے سوراخ کو بند کرنے کیلئے ہے
(٦٧٢٦) ابو امامہ (رض) کہتے ہیں : جب ام کلثوم بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی قبر میں رکھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیہَا نُعِیدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرَی } [طٰہ : ٥٥] ۔ ” بِسْمِ اللّٰہِ وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُولِ اللّٰہِ “ اور جب اس پر اس کی لحد بنائی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف کھجور کے گا بےکو پھینک رہے تھے اور کہہ رہے تھے : اینٹوں کے خلال کو بند کرو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں مگر زندہ لوگوں کے دلوں کو اسی سے سکون ہوتا ہے۔

اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خالی جگہ کو مٹی سے بندکرو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان : لیکن یہ تو نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان لیکن اس سے زندوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتی ہیں۔
(۶۷۲۶) وَرَوَی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَزِیدَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ : لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ کُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : (({مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیہَا نُعِیدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرَی} [طٰہ: ۵۵] بِسْمِ اللَّہِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ))۔ فَلَمَّا بَنَی عَلَیْہَا لَحْدَہَا طَفِقَ یَطْرَحُ إِلَیْہِمُ الْجَبُوبَ وَیَقُولُ : ((سُدُّوا خِلاَلَ اللَّبِنِ)) ثُمَّ قَالَ ((أَمَا إِنَّ ہَذَا لَیْسَ بِشَیْئٍ وَلَکِنَّہُ یُطَیِّبُ نَفْسَ الْحَیِّ))۔

وَہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ زَحْرٍ فَذَکَرَہُ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِی سَدِّ الْفُرْجَۃِ بِالْمَدَرَۃِ وَقَوْلُہُ : ((أَمَا إِنَّہَا لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ وَلَکِنَّہَا تَقَرُّ بِعَیْنِ الْحَیِّ))۔ عَنْ مَکْحُولٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔ [منکر۔ أخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭২৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر میں مٹی کا ڈالنا کسی اور ہاتھوں سے
(٦٧٢٧) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کی قسم ! ہمیں آپ کے دفن کا کوئی پتہ نہ چلا یہاں تک کہ ہم نے بدھ کی رات کے وسط میں پھاؤڑوں کی آواز سنی۔
(۶۷۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَتْنِی فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ امْرَأَۃُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَأَدْخَلَتْنِی عَلَیْہَا قَالَ حَتَّی سَمِعْتُہُ مِنْہَا عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : وَاللَّہِ مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِی فِی جَوْفِ لَیْلَۃِ الأَرْبِعَائِ ۔ [ضعیف۔ أخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭২৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر میں مٹی کا ڈالنا کسی اور ہاتھوں سے
(٦٧٢٨) انس (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ اس مرض میں بیمار ہوئے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے ۔ سیدہ فاطمہ (رض) نے اپنے سینے سے ان کی ٹیک لگائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بےہوشیاں طاری ہوگئیں اور فاطمہ (رض) نے کہنا شروع کردیا : ” ہائے ! میرے ابا جان کو کتنی تکلیف ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ا :ٓج کے بعد آپ کے ابا جان کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔ سو جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے اور دفن کردیے گئے تو مجھے فاطمہ نے کہا : اے انس ! کیا تمہارے دلوں نے پسند کرلیا کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مٹی ڈالو۔
(۶۷۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَرَضَہُ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ أَسْنَدَتْہُ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِلَی صَدْرِہَا فَجَعَلَ یَتَغَشَّاہُ الْکَرْبُ فَقَالَتْ : وَاکَرْبَ أَبَتَاہُ فَقَالَ : ((إِنَّہُ لَیْسَ عَلَی أَبِیکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ))۔ فَلَمَّا قُبِضَ وَدُفِنَ قَالَتْ لِی فَاطِمَۃُ : یَا أَنَسَ أَطَابَتْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ حَمَّادٌ إِنَّمَا حَفِظَ أَطَابَتْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ تَحْثُوا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭২৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر میں مٹی کا ڈالنا کسی اور ہاتھوں سے
(٦٧٢٩) ہشام بن سعد زیاد سے اور وہ ابو المنذر سے بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبر میں تین چلو مٹی کے پھینکے۔
(۶۷۲۹) وَفِیمَا ذَکَرَ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مَنِیعٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زِیَادٍ عَنْ أَبِی الْمُنْذِرِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حَثَا فِی قَبْرٍ ثَلاَثًا۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف۔ الطبرانی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৩০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر میں مٹی کا ڈالنا کسی اور ہاتھوں سے
(٦٧٣٠) عامر بن ربیعہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، جب عثمان بن مظعون کو دفن کیا گیا۔ آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور چار تکبیرات کہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے تین مرتبہ مٹی ڈالی اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبر پر کھڑے تھے۔
(۶۷۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ حَفْصٍ الْمَدَایِنِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ یَعْنِی الْعُمَرِیَّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِاللَّہِ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- حِینَ دُفِنَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَصَلَّی عَلَیْہِ وَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا وَحَثَا بِیَدَیْہِ ثَلاَثَ حَثَیَاتٍ مِنَ التُّرَابِ وَہُوَ قَائِمٌ عَلَی الْقَبْرِ۔

إِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ إِلاَّ أَنَّ لَہُ شَاہِدًا مِنْ جِہَۃِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً وَیُرْوَی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرْفُوعًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف جداً۔ أخرجہ الدار قطنی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৩১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر میں مٹی کا ڈالنا کسی اور ہاتھوں سے
(٦٧٣١) ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک ایسا آدمی فوت ہوا جس نے کوئی نیکی نہیں کی تھی سوائے مٹی کے تین چلوؤں کے جو اس نے قبر پر ڈالے تھے سو اس کے سارے (تمام) گناہ معاف کردیے گئے۔
(۶۷۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ حِمْیَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الأَلْہَانِیِّ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ : تُوُفِّیَ رَجُلٌ فَلَمْ یُصَبْ لَہُ حَسَنَۃٌ إِلاَّ ثَلاَثَ حَثَیَاتٍ حَثَاہَا فِی قَبْرٍ فَغُفِرَتْ لَہُ ذُنُوبُہُ۔ وَہَذَا مَوْقُوفٌ حَسَنٌ فِی ہَذَا الْبَابِ۔ [ضعیف۔ سنن الکبری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৩২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر میں مٹی کا ڈالنا کسی اور ہاتھوں سے
(٦٧٣٢) عمیر بن سعید کہتے ہیں کہ علی (رض) نے یزید بن مکفف کی نماز جنازہ پڑھی اور اس میں چار تکبیرات کہیں اور پھر اس کی قبر پر مٹی پھینکی۔
(۶۷۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : صَلَّی عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی یَزِیدَ بْنِ مُکَفِّفٍ فَکَبَّرَ أَرْبَعًا قَالَ ثُمَّ حَثَا فِی قَبْرِہِ التُّرَابَ۔ [صحیح۔ سنن الکبریٰ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৩৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر میں مٹی کا ڈالنا کسی اور ہاتھوں سے
(٦٧٣٣) عمیربن سعید بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے علی (رض) کو دیکھا کہ ابن مکفف کی قبر میں تین چلو (ہاتھ بھر) مٹی کے ڈالے۔
(۶۷۳۳) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّہُ رَأَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قَبْرِ ابْنِ مُکَفِّفٍ حَثَا ثِنْتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৩৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر میں مٹی کا ڈالنا کسی اور ہاتھوں سے
(٦٧٣٤) علی بن زید بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے جب زید بن ثابت کو دفن کیا، اس کی قبرپرمٹی ڈالی ۔ پھر انھوں نے کہا : یوں علم دفن کیا جاتا ہے۔ تو میں نے یہ بات علی بن حسین کو بیان کی تو انھوں نے کہا : ابن عباس تو اللہ کی قسم ! کمال ہیں اللہ کی قسم اس کے ساتھ بہت سا علم دفن کردیا گیا۔
(۶۷۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ : أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمَّا دَفَنَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَثَا عَلَیْہٍ التُّرَابَ ثُمَّ قَالَ : ہَکَذَا یُدْفَنُ الْعِلْمُ ۔ فَحَدَّثْتُ بِہِ عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ فَقَالَ : وَابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّہِ قَدْ دُفِنَ بِہِ عِلْمٌ کَثِیرٌ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الحاکم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৩৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر پر مٹی زیادہ نہ ڈالی جائے کہ وہ اونچی ہوجائے
(٦٧٣٥) سلیمان بن موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا کہ قبر پر عمارت تعمیر کی جائے یا اس پر زیادہ مٹی ڈالی جائے یا اسے پختہ کیا جائے۔

نیز جابر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی قبر پر زیادہ مٹی نہ ڈالی جائے۔
(۶۷۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ

وَعَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی أَنْ یُبْنَی عَلَی الْقَبْرِ أَوْ یُزَادَ عَلَیْہِ أَوْ یُجَصَّصَ۔

(ت) وَرَوَاہُ أَبَانُ بْنُ أَبِی عَیَّاشٍ عَنِ الْحَسَنِ وَأَبِی نَضْرَۃَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((وَلاَ یُزَادُ عَلَی حَفِیرَتِہِ التُّرَابُ))۔ وَفِی الْحَدِیثِ الأَوَّلِ کِفَایَۃٌ۔ أَبَانُ ضَعِیفٌ۔ وَرُوِیَ کَمَا۔ [صحیح۔ المسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৩৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر پر مٹی زیادہ نہ ڈالی جائے کہ وہ اونچی ہوجائے
(٦٧٣٦) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لحد بنائی گئی اور س پر کچی اینٹیں نصب کی گئیں۔۔۔ آگے پوری حدیث بیان کی اور کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک قریباً ایک بالشت زمین سے اونچی کی گئی جیسے میں نے دیکھا۔
(۶۷۳۶) أَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أُلْحِدَ لَہُ لَحْدًا ، وَنُصِبَ عَلَیْہِ اللَّبِنُ نَصَبًا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ وَرُفِعَ قَبْرُہُ مِنَ الأَرْضِ نَحْوًا مِنْ شِبْرٍ کَذَا وَجَدْتُہُ۔ [منکر۔ أخرجہ ابن حبان]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৩৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر پر مٹی زیادہ نہ ڈالی جائے کہ وہ اونچی ہوجائے
(٦٧٣٧) جعفر بن محمد اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر پر پانی چھڑکا گیا اور اس پر چمکنے والے پتھر ڈالے گئے اور قبر کو ایک بالشت کے برابر بلند کیا گیا۔
(۶۷۳۷) وَقَد أَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- رُشَّ عَلَی قَبْرِہِ الْمَائُ ، وَوُضِعَ عَلَیْہِ حَصْبَائُ مِنْ حَصْبَائِ الْعَرْصَۃِ ، وَرُفِعَ قَبْرُہُ قَدْرَ شِبْرٍ۔ وَہَذَا مُرْسَلٌ وَرَوَاہُ الْوَاقِدِیُّ بِإِسْنَادٍ لَہُ عَنْ جَابِرٍ وَذَلِکَ یَرِدُ۔ [حسن۔ مرسل]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৩৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر پر مٹی زیادہ نہ ڈالی جائے کہ وہ اونچی ہوجائے
(٦٧٣٨) ثمامہ بن شفی کہتے ہیں : ہم معاویہ (رض) کے دور میں ایک غزوے پر نکلے ۔ ان صحراؤں کی طرف اور فضالہ بن عبید ہم پر عامل تھے۔ میرے چچا کا بیٹا فوت ہوگیا جسے نافع بن عبد کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں : فضالہ اس کی قبر پر کھڑے ہوئے ۔ جب اسے ہم نے دفن کرلیا تو کہا : اس سے مٹی کم کرو کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں قبریں برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
(۶۷۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ شُفَیٍّ قَالَ : خَرَجْنَا غُزَاۃً فِی زَمَنِ مُعَاوِیَۃَ إِلَی ہَذِہِ الدُّرُوبِ وَعَلَیْنَا فَضَالَۃُ بْنُ عُبَیْدٍ فَتُوُفِّیَ ابْنُ عَمٍّ لِی یُقَالُ لَہُ نَافِعُ بْنُ عَبْدٍ قَالَ فَقَامَ فَضَالَۃُ فِی حُفْرَتِہِ فَلَمَّا دَفَنَّاہُ قَالَ : خَفِّفُوا عَنْہُ التُّرَابَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَأْمُرُنَا بِتَسْوِیَۃِ الْقُبُورِ۔ [حسن۔ أخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৩৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر پر پانی چھڑکنے اور اس پر کنکریاں ڈالنے کا بیان
(٦٧٣٩) حضرت جعفر بن لحد اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں قبر پر پانی چھڑکا گیا۔
(۶۷۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ الرَّشَّ عَلَی الْقَبْرِ کَانَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৪০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر پر پانی چھڑکنے اور اس پر کنکریاں ڈالنے کا بیان
(٦٧٤٠) جعفر بن لحد اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابراہیم (بیٹے) کی قبر پر پانی چھڑکا اور اس پر کنکریاں ڈالیں۔ شافعی کہتے ہیں : سنگریزے صرف برابر قبر پر ہی ٹھہرسکتے ہیں۔
(۶۷۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- رَشَّ عَلَی قَبْرِ إِبْرَاہِیمَ ابْنِہِ وَوَضَعَ عَلَیْہِ حَصْبَائَ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالْحَصْبَائُ لاَ تَثْبُتُ إِلاَّ عَلَی قَبْرٍ مُسَطَّحٍ۔ [ضعیف جداً۔ أخرجہ الشافعی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৪১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر پر پانی چھڑکنے اور اس پر کنکریاں ڈالنے کا بیان
(٦٧٤١) عبداللہ بن محمد بن عمر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکا اور وہ پہلی قبر تھی جس پر پانی چھڑکا گیا اور جب اس کے دفن سے فارغ ہوئے تو کہا :” سَلَامٌ عَلَیْکُمْ “ اور میں نہیں جانتا اس کے سوا کو کہ انھوں اس پر ہاتھوں سے مٹی ڈالی۔
(۶۷۴۱) وَفِیمَا ذَکَرَ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَشَّ عَلَی قَبْرِ إِبْرَاہِیمَ ، وَأَنَّہُ أَوَّلُ قَبْرٍ رُشَّ عَلَیْہِ ، وَأَنَّہُ قَالَ حِینَ دَفَنَ وَفَرَغَ مِنْہُ : سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ ۔ وَلاَ أَعْلَمُہُ إِلاَّ قَالَ : حَثَا عَلَیْہِ بِیَدِہِ

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৪২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر پر پانی چھڑکنے اور اس پر کنکریاں ڈالنے کا بیان
(٦٧٤٢) عبداللہ بن محمد بن عمر بیان کرتے ہیں ان کے باپ نے کہا : بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بیٹے کی قبر پر پانی چھڑکا اور وہ کہتے ہیں : اس کے سوا میں نہیں جانتا مگر یہ کہ اپنے ہاتھوں سے اس پر مٹی بھی ڈالی۔
(۶۷۴۲) وَأَنْبَأَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ إِجَازَۃً أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِیُّ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَشَّ عَلَی قَبْرِ ابْنِہِ قَالَ وَلاَ أَعْلَمُہُ إِلاَّ قَالَ : وَحَثَا عَلَیْہِ بِیَدِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৪৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر پر پانی چھڑکنے اور اس پر کنکریاں ڈالنے کا بیان
(٦٧٤٣) حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر پر پانی چھڑکا گیا اور جس نے اس پر پانی چھڑکا تھا وہ بلال بن رباح تھا۔ انھوں نے مشکیزے کے ساتھ قبر کی دائیں طرف سے سر کی جانب سے شروع کیا یہاں تک کہ وہ پاؤں تک پہنچے۔ پھر پانی دیوار کی طرف پھینکا کیونکہ وہ دیوار کی طرف سے گھوم نہیں سکتے تھے۔
(۶۷۴۳) وَرَوَی مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ ابْنِ أَبِی عَوْنٍ عَنْ أَبِی عَتِیقٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : رُشَّ عَلَی قَبْرِ النَّبِیِّ -ﷺ- الْمَائُ رَشًّا۔ قَالَ : وَکَانَ الَّذِی رَشَّ الْمَائَ عَلَی قَبْرِہِ بِلاَلُ بْنُ رَبَاحٍ بِقِرْبَۃٍ بَدَأَ مِنْ قِبَلِ رَأْسَہِ مِنْ شِقِّہِ الأَیْمَنِ حَتَّی انْتَہَی إِلَی رِجْلَیْہِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِالْمَائِ إِلَی الْجِدَارِ لَمْ یَقْدِرْ عَلَی أَنْ یَدُورَ مِنَ الْجِدَارِ۔

أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ یَعْنِی ابْنَ بُطَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہْمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف جداً۔ ابن سعد]
tahqiq

তাহকীক: