আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪০৫ টি

হাদীস নং: ৬৭৪৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ پتھر کے ساتھ قبر پر نشان لگانا یا کسی اور چیز سے
(٦٧٤٤) حضرت مطلب بیان کرتے ہیں : جب عثمان بن مظعون فوت ہوئے تو ان کے جنازے کو نکالا گیا اور انھیں دفن کیا گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ پتھر لائے ۔ وہ اسے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ۔ پھر آپ اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اپنے بازوں سے کپڑا ہٹایا ۔ کثیر کہتے ہیں : مطلب نے کہا : اس نے کہا جس نے مجھے خبر دی : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گویا میں آپ کے بازوؤں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کپڑا ہٹایا۔ پھر اسے اٹھایا اور اس کے سر کے پاس رکھا اور فرمایا : تاکہ اس سے میرے بھائی کی قبر پہنچانی جائے اور جو اس کے اہل میں سے فوت ہو اس کے پاس دفن کیا جائے۔
(۶۷۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بِمَعْنَاہُ عَنْ کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ الْمَدَنِیِّ عَنِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أُخْرِجَ بِجَنَازَتِہِ فَدُفِنَ أَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- رَجُلاً أَنْ یَأْتِیَہُ بِحَجَرٍ فَلَمْ یَسْتَطِعْ حَمْلَہُ فَقَامَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَیْہِ قَالَ کَثِیرٌ قَالَ الْمُطَّلِبُ قَالَ الَّذِی یُخْبِرُنِی ذَلِکَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی بَیَاضِ ذِرَاعَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ حَسَرَ عَنْہَا ، ثُمَّ حَمَلَہَا فَوَضَعَہَا عِنْدَ رَأْسِہِ وَقَالَ : ((لِیُعْلَمَ بِہَا قَبْرُ أَخِی وَأَدْفِنَ إِلَیْہِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَہْلِی))۔

[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৪৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر سے فارغ ہونے یا اسے چھپانے کے بعد واپس پلٹا اور جو اس کے انتظار میں بیٹھا رہا اس کے لیے کیا اجر ہے
(٦٧٤٥) حضرت ابو ہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو شخص جنازے میں حاضر ہوا اتنی دیر کہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے اس کیلئے ایک قیراط (بڑے پہاڑ کی مانند) اجر ہے۔

سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر جنازہ پڑھ کر پلٹ جایا کرتے تھے مگر انھیں ابوہریرہ (رض) کی حدیث کا علم ہوا تو انھوں نے کہا : آپ نے ہمارے بہت سے قیراط ضائع کردیے۔
(۶۷۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاہِرِ وَہَارُونُ بْنُ سَعِیدٍ الأَیْلِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سَہْلٍ الدَّبَّاسُ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِیبِ بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ شَہِدَ الْجَنَازَۃَ حَتَّی یُصَلِّیَ عَلَیْہَا فَلَہُ قِیرَاطٌ، وَمَنْ شَہِدَہَا حَتَّی تُدْفَنَ کَانَ لَہُ قِیرَاطَانِ))۔ قِیلَ وَمَا الْقِیرَاطَانِ؟ قَالَ: ((مِثْلُ الْجَبَلَیْنِ الْعَظِیمَیْنِ))۔

انْتَہَی حَدِیثُ شَبِیبٍ زَادَ ابْنُ وَہْبٍ فِی رِوَایَتِہِ عَنْ یُونُسَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یُصَلِّی عَلَیْہَا ثُمَّ یَنْصَرِفُ فَلَمَّا بَلَغَہُ حَدِیثُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : لَقَدْ ضَیَّعْنَا قَرَارِیطَ کَثِیرَۃً۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ شَبِیبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ وَہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ وَذَکَرَ الزِّیَادَۃِ فِی رِوَایَۃِ حَرْمَلَۃَ وَہَارُونَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৪৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر سے فارغ ہونے یا اسے چھپانے کے بعد واپس پلٹا اور جو اس کے انتظار میں بیٹھا رہا اس کے لیے کیا اجر ہے
(٦٧٤٦) حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کیلئے ایک قیراط ہے اور جو دفن سے فارغ ہونے کے انتظار میں بیٹھا رہا اس کیلئے دو قیراط۔ انھوں نے کہا : دو قیراط کیا ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ دو بڑے پہاڑوں کے مانند ہیں۔

عبد الاعلیٰ بیان کرتے ہیں یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوا جائے ۔ معمر کہتے ہیں : حتیٰ کہ اسے لحد میں رکھ نہ دیا جائے۔
(۶۷۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ صَلَّی عَلَی جَنَازَۃٍ فَلَہُ قِیرَاطٌ ، وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّی یُفْرَغَ فَلَہُ قِیرَاطَانِ))۔ قَالُوا : وَمَا الْقِیرَاطَانِ؟ قَالَ : ((مِثْلُ الْجَبَلَیْنِ الْعَظِیمَیْنِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی وَقَالَ : حَتَّی یُفْرَغَ مِنْہَا ۔

وَرَوَاہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فَقَالَ : ((حَتَّی تُوضَعَ فِی اللَّحْدِ))۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৪৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر سے فارغ ہونے یا اسے چھپانے کے بعد واپس پلٹا اور جو اس کے انتظار میں بیٹھا رہا اس کے لیے کیا اجر ہے
(٦٧٤٧) حضرت ابو ہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس نے اس کے جنازے کی دفن ہونے تک اتباع کی اور دوسری حدیث میں ہے جب تک اس سے فارغ نہ ہوا جائے (اتنی دیر ساتھ رہا اس کیلئے دو قیراط ہیں) ۔
(۶۷۴۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ أَبِی الْعَبَّاسِ الزَّوْزَنِیُّ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّبَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَذَکَرَہُ

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ وَرَوَاہُ عُقَیْلٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی رِجَالٌ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : ((وَمَنِ اتَّبَعَہَا حَتَّی تُدْفَنَ))۔

وَرَوَاہُ أَبُو سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ : ((حَتَّی یُفْرَغَ مِنْہَا))۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو صَالِحٍ وَالشَّعْبِیُّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح۔ نسائی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৪৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر سے فارغ ہونے یا اسے چھپانے کے بعد واپس پلٹا اور جو اس کے انتظار میں بیٹھا رہا اس کے لیے کیا اجر ہے
(٦٧٤٨) حضرت ابو ہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : جو کوئی جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے چلا ۔ پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کہ اسے دفن کردیا گیا ۔ اس کے لیے اجر وثواب کے دو قیراط ہوں گے اور جس نے جنازہ پڑھا اور پلٹ آیا تو اس کیلئے ایک قیراط ہے جو احد پہاڑ کی مانند ہے۔ پھر ابن عمر نے خباب (رض) کو بھیجا کہ سیدہ عائشہ (رض) سے ابو ہریرہ (رض) کی بات کے متعلق پوچھ کر آئے تو سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : انھوں نے سچ کہا ہے تو ابن عمر نے کہا : ہم نے اپنے لیے بہت سے قیراط کی کمی کی۔

ابوہریرہ (رض) کی اکثر روایات دفن سے فارغ ہونے کی ہیں۔
(۶۷۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصِّدِّیقِ الْمَعْرُوفُ بِخُشْنَامَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ حَدَّثَنِی أَبُو صَخْرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَۃِ فَقَالَ : یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ أَلاَ تَسْمَعُ مَا یَقُولُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ إِنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَۃٍ مِنْ بَیْتِہَا فَصَلَّی عَلَیْہَا ، ثُمَّ تَبِعَہَا حَتَّی تُدْفَنَ کَانَ لَہُ قِیرَاطَانِ مِنَ الأَجْرِ ، وَمَنْ صَلَّی عَلَیْہَا ثُمَّ رَجَعَ کَانَ لَہُ قِیرَاطٌ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ))۔ فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَی عَائِشَۃَ یَسْأَلُہَا عَنْ قَوْلِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَیْہِ فَیُخْبِرُہُ بِمَا قَالَتْ عَائِشَۃُ فَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قُبْضَۃً مِنْ حَصَاۃِ الْمَسْجِدِ یُقَلِّبُہَا فِی یَدَہِ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَیْہِ الرَّسُولُ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : صَدَقَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ۔ فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَی الَّذِی کَانَ فِی یَدَہِ الأَرْضَ ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ فَرَّطْنَا فِی قَرَارِیطٍ کَثِیرَۃٍ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنِ الْمُقْرِئِ ۔

فَأَکْثَرُ الرِّوَایَاتِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَلَی الْفَرَاغِ وَالدَّفْنِ إِلاَّ مَا رُوِّینَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ وَقَدْ خَالَفَہُ عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ وَرُوِیَ مِثْلُ مَعْنَی رِوَایَۃِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔

[صحیح۔ أخرجہ المسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৪৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر سے فارغ ہونے یا اسے چھپانے کے بعد واپس پلٹا اور جو اس کے انتظار میں بیٹھا رہا اس کے لیے کیا اجر ہے
(٦٧٤٩) حضرت ابو ہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کیلئے ایک قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ چلاحتیٰ کہ اسے قبر میں رکھ دیا گیا تو اس کیلئے دو قیراط ہیں۔
(۶۷۴۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبَدِیُّ وَبِشْرُ بْنُ ہِلاَلٍ الصَّوَّافُ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی یَعْنِیَانِ ابْنَ سَعِیدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ کَیْسَانَ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ صَلَّی عَلَی جَنَازَۃٍ فَلَہُ قِیرَاطٌ ، وَمَنِ اتَّبَعَہَا حَتَّی تُوضَعَ فِی الْقَبْرِ فَلَہُ قِیرَاطَانِ))۔ قَالَ قُلْتُ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَمَا الْقِیرَاطُ؟ قَالَ : ((مِثْلُ أُحُدٍ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَرَوَاہُ ثَوْبَانُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَعْنَی رِوَایَۃِ الْجَمَاعَۃِ۔ [صحیح۔ المسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৫০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر سے فارغ ہونے یا اسے چھپانے کے بعد واپس پلٹا اور جو اس کے انتظار میں بیٹھا رہا اس کے لیے کیا اجر ہے
(٦٧٥٠) حضرت ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کیلئے ایک قیراط ہے اور جو اس کے دفن میں شامل ہوا اس کیلئے دو قیراط ہیں جو احد پہاڑ کے برابر ایک ہوگا۔
(۶۷۵۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی عَلَی جَنَازَۃٍ فَلَہُ قِیرَاطٌ ، وَمَنْ شَہِدَ دَفْنَہَا فَلَہُ قِیرَاطَانِ الْقِیرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَسَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ وَأَبَانَ بْنِ یَزِیدَ عَنْ قَتَادَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ المسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৫১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر کا گہرا اور کشادہ کرنا مستحب ہے
(٦٧٥١) ہشام بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ انصار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس احد کے دن آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ! ہمیں زخم پہنچے اور مشقت بھی ۔ سو آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گہرے اور کشادہ کھو دو اور دو اور تین آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کرو۔ میں نے کہا : قبر میں پہلے کسے رکھیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔ وہ کہتے ہیں : میرے باپ کو دو یا ایک آدمی سے مقدم کیا گیا ہے۔
(۶۷۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ ہُوَ ابْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ حُمَیْدٍ یَعْنِی ابْنَ ہِلاَلٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : جَائَ تِ الأَنْصَارُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ أُحُدٍ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَہْدٌ فَکَیْفَ تَأْمُرُ؟ قَالَ : ((احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَاجْعَلُوا الرَّجُلَیْنِ وَالثَّلاَثَۃَ فِی الْقَبْرِ))۔ قَالُوا : أَیُّہُمْ یُقَدَّمُ فِی الْقَبْرِ؟ قَالَ : ((أَکْثَرُہُمْ قُرْآنًا))۔ فَقَالَ : فَقُدِّمَ أَبِی بَیْنَ یَدَیِ اثْنَیْنِ أَوْ قَالَ وَاحِدٍ ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৫২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر کا گہرا اور کشادہ کرنا مستحب ہے
(٦٧٥٢) سلیمان بن مغیرہ کہتے ہیں : غزوہ احد میں انصار کو زخم بھی پہنچے اور مشقت بھی کرنی پڑی ۔ انصاریوں نے یہ بات پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیان کی اور کہا کہ آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قبریں کشادہ بناؤ۔ عبداللہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں گہرے کرو۔ پھر عبداللہ نے کہا : بلکہ وہ بات ایسے ہی تھی۔
(۶۷۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ یَعْنِی عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ فَذَکَرَ إِسْنَادَہُ نَحْوَہُ قَالَ : أَصَابَ الأَنْصَارَ یَوْمَ أُحُدٍ قَرْحٌ وَجَہْدٌ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَہْدٌ فَکَیْفَ تَأْمُرُنَا؟ قَالَ : ((احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا))۔ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : وَأُرَاہُ قَالَ : ((وَأَعْمِقُوا))۔ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : بَلْ ہُوَ ہَکَذَا۔ [صحیح۔ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৫৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر کا گہرا اور کشادہ کرنا مستحب ہے
(٦٧٥٣) ہشام بن عمر کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے مقتولین کے متعلق فرمایا : ان کی قبروں کو گہرا اور اچھی طرح کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو۔
(۶۷۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی قَتْلَی أُحُدٍ : ((أَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا ، وَادْفِنُوا الاِثْنَیْنِ وَالثَّلاَثَۃَ فِی قَبْرٍ وَاحِدٍ))۔ [صحیح۔ المسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৫৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر کا گہرا اور کشادہ کرنا مستحب ہے
(٦٧٥٤) ہشام بن عامر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں : غزوہ احد میں سخت زخم آئے تو اس کی شکایت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قبریں کشادہ کرو اور خوب بناؤ اور ایک قبر میں دو تین کو دفن کرو۔
(۶۷۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : اشْتَدَّ الْجِرَاحُ یَوْمَ أُحُدٍ فَشُکِیَ ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا فِی الْقَبْرِ الاِثْنَیْنِ وَالثَّلاَثَۃَ))۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ہِلاَلٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৫৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبر کا گہرا اور کشادہ کرنا مستحب ہے
(٦٧٥٥) عاصم بن کلیب اپنے باپ سے اور وہ انصار کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے اور میں بچہ تھا جو اپنے باپ کے ساتھ تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبر کے گڑھے پر بیٹھ گئے اور گڑھا کھودنے والوں سے کہہ رہے تھے : سر کی طرف سے کشادہ کرو۔ پاؤں کی طرف سے کشادہ کرو، اس کے لیے جنت میں بہت سے خوشے ہوں گے۔

ابو عبداللہ کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے آپ کو قبر کے گڑھے پر بیٹھے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے سر کی جانب سے فراخ کرو، اس کے لیے جنت میں بہت سے خوشے ہوں گے۔
(۶۷۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ الْجَرْمِیِّ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ أَخْبَرَہُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوحَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوأَحْمَدَ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِجَنَازَۃٍ وَأَنَا غُلاَمٌ مَعَ أَبِی فَجَلَس عَلَی حُفْرَۃِ القَبْرِ وَجَعَلَ یُومِئُ إِلَی الْحَفَّارِ وَیَقُولُ : ((أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرَّأْسِ ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرِّجْلَیْنِ وَرُبَّ عِذْقٍ لَہُ فِی الْجَنَّۃِ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی حَازِمٍ

وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : فَرَأَیْتُہُ عَلَی حُفَیْرَۃِ القَبْرِ جَالِسًا فَقَالَ : ((أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِہِ فَرُبَّ عِذْقٍ لَہُ فِی الْجَنَّۃِ))۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৫৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو برابر کرنے اور سطح کے ساتھ ملانے کا بیان
(٦٧٥٦) فضالہ بن عبید بیان کرتے ہیں : ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔

ابو صالح کی ایک روایت میں ہے : ثمامہ بن شفی کہتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید کے ساتھ ارض روم میں تھے اور باقی حدیث ایسے ہی ہے جو اوپر گزری۔
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ

رَبِّ یَسِّرْ وَأَعِنْ یَا کَرِیمُ وَصَلَّی اللَّہُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَسَلَّمَ

أَخْبَرَنَا الشَّیْخُ الزَّکِیُّ الْمُزَکِّی أَبُو بَکْرٍ أَبُوالْفَتْحِ أَبُوالْقَاسِمِ: مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِالْمُنْعِمِ الْفَرَاوِیُّ النَّیْسَابُورِیُّ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ بِہَا رَحِمَہُ اللَّہُ وَإِیَّانَا وَأَجَازَ لِی جَمِیعَ مَسْمُوعَاتِہِ وَمُجِازَاتِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمَعَالِیِّ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْفَارِسِیُّ وَأَجَاَزَ لِی جَمِیعَ مَسْمُوعَاتِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَافِظُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ ح وَأَنْبَأَنِی غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَشْیَاخِی عَنْ أَبِی الْقَاسِمِ : زَاہِرِ بْنِ طَاہِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْبَیْہَقِیُّ قَالَ :

(۶۷۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سَعِیدٍ الأَیْلِیُّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا عَلِیٍّ الْہَمْدَانِیَّ حَدَّثَہُ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ بِرُوذَسَ بِأَرْضِ الرُّومِ فَتُوُفِّیَ صَاحِبٌ لَنَا فَأَمَرَ فَضَالَۃُ بِقَبْرِہِ فَسُوِّیَ ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَأْمُرُ بِتَسْوِیَتِہَا۔ لَفْظُ حَدِیثِ الرُّوذْبَارِیِّ

وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی صَالِحٍ : أَنَّ ثُمَامَۃَ بْنَ شُفَیٍّ حَدَّثَہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ والْبَاقِی سَوَائٌ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ : أَحْمَدَ بْنِ عَمْرٍو وَہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৫৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو برابر کرنے اور سطح کے ساتھ ملانے کا بیان
(٦٧٥٧) ابی ھیاج اسدی کہتے ہیں : مجھے علی بن ابی طالب (رض) نے کہا : میں تجھے اس کام پر بھیجتا ہوں جس پر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھیجا تھا۔ وہ یہ کہ تو کوئی اونچی قبر اونچی نہ چھوڑنا مگر اسے زمین کے برابر کردینا اور نہ کوئی کسی گھر میں تصویر مگر اسے مٹا دینا۔
(۶۷۵۷) حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ أَبِی ہَیَّاجٍ الأَسْدِیِّ قَالَ : قَالَ لِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَبْعَثُکَ عَلَی مَا بَعَثَنِی عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ((أَنْ لاَ تَتْرُکَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّیْتَہُ ، وَلاَ تِمْثَالاً فِی بَیْتٍ إِلاَّ طَمَسْتَہُ))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৫৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو برابر کرنے اور سطح کے ساتھ ملانے کا بیان
(٦٧٥٨) قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ (رض) کے پاس گیا اور میں نے کہا : اے امی جان ! مجھے رسول اللہ اور ان کے ساتھیوں کی قبریں دکھاؤ تو انھوں نے مجھے تین قبریں دکھائیں جو اونچی یا اوپر کو اٹھی ہوئی نہ تھیں بلکہ وہ بطحا کے سرخ میدان کی طرح تھی ۔ میں نے رسول اللہ کو سب سے آگے دیکھا اور ابوبکر (رض) کے سر کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کندھوں کے پاس اور عمر (رض) کے سر کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں کے پاس۔
(۶۷۵۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلاَنِیُّ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی فُدَیْکٍ الْمَدَنِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَانِئٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ : یَا أُمَّاہُ اکْشِفِی لِی عَنْ قَبْرِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَصَاحِبَیْہِ فَکَشَفَتْ لِی عَنْ ثَلاَثَۃِ قُبُورٍ لاَ مُشْرِفَۃٍ وَلاَ لاَطِئَۃٍ مَبْطُوحَۃٍ بِبَطْحَائِ الْعَرْصَۃِ الْحَمْرَائِ ۔ فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مُقَدَّمًا وَأَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَأْسُہُ بَیْنَ کَتِفَیِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَأْسُہُ عِنْدَ رِجْلَیِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

ہُوَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ہَانِئٍ قَالَہُ غَیْرُ وَاحِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِی فُدَیْکٍ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৫৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبروں کو برابر کرنے اور سطح کے ساتھ ملانے کا بیان
(٦٧٥٩) ابو البداء کہتے ہیں : میں مصعب بن زبیر کے ساتھ اس گھر میں داخل ہوا جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر تھی۔ میں نے ان کی قبروں کو چپٹی لکیروں کی مانند دیکھا۔
(۶۷۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ : الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِی الْبَدَّائِ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ الْبَیْتَ الَّذِی فِیہِ قَبْرُ النَّبِیِّ -ﷺ- فَرَأَیْتُ قُبُورَہُمْ مُسْتَطِیرَۃً۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৬০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبریں کوہان کی مانند ہوں
(٦٧٦٠) سفیان تمار بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک کو اونٹ کی کوہان کی مانند دیکھا۔
(۶۷۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْمُقَابِرِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ التَّمَّارُ قَالَ : رَأَیْتُ قَبْرَ النَّبِیِّ -ﷺ- مُسَنَّمًا ۔

[صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৬১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبریں کوہان کی مانند ہوں
(٦٧٦١) سفیان تمار بیان کرتے ہیں کہ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک کو اونٹ کی کوہان کی مانند دیکھا۔

عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ تب تو محمد بن قاسم کی حدیث درست ہوئی کہ ان کی قبریں بطحاء عرصہ کی طرح بچھی ہوئی تھیں اور سفیان تمار کا قبر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھنا درست ہوا کہ وہ کوہان تھا گویا کہ لمبا عرصہ گزرنے سے تبدیل ہوگئی ۔

ولیدبن عبد الملک کے دور میں اس کی دیوار گرگئی تھی بعض نے عمر بن عبد العزیز کے دور میں کہا۔ پھر اسے درست کیا گیا۔

اس باب میں قاسم بن محمد کی حدیث صحیح ہے مگر بعض اہل علم صحابہ میں سے اس زمانے میں کوہان نما بنانے کو جائز قرار دیتے ہیں اجماع کے ساتھ اور جو برابر جاتا ہے ، وہ اہل بدعت کی علامت (نشانی) بن چکی ہے اور وہ اہل بدعت کے مذہب سے بہتر ہے ابو موسیٰ کی وصیت میں بیان کیا گیا ہے کہ میری قبر پر عمار نہ بنانا اور ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں : مجھ پر خیمہ نہ لگانا اور ابوہریرہ (رض) بھی اسی طرح ہے۔
(۶۷۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا حِبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ سُفْیَانَ التَّمَّارِ : أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ رَأَی قَبْرَ النَّبِیِّ -ﷺ- مُسَنَّمًا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ۔

وَمَتَی مَا صَحَّتْ رِوَایَۃُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : قُبُورُہُمْ مَبْطُوحَۃٌ بِبَطْحَائِ الْعَرْصَۃِ۔ فَذَلِکَ یَدُلُّ عَلَی التَّسْطِیحِ

وَصَحَّتْ رُؤْیَۃُ سُفْیَانَ التَّمَّارِ قَبْرَ النَّبِیِّ -ﷺ- مُسَنَّمًا فَکَأَنَّہُ غُیِّرَ عَمَّا کَانَ عَلَیْہِ فِی الْقَدِیمِ فَقَدْ سَقَطَ جِدَارُہُ فِی زَمَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، وَقِیلَ فِی زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، ثُمَّ أُصْلِحَ ،

وَحَدِیثُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِی ہَذَا الْبَابِ أَصَحُّ وَأَوْلَی أَنْ یَکُونَ مَحْفُوظًا۔

إِلاَّ أَنَّ بَعْضَ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِنَا اسْتَحَبَّ التَّسْنِیمَ فِی ہَذَا الزَّمَانِ لِکَوْنِہِ جَائِزًا بِالإِجْمَاعِ وَأَنَّ التَّسْطِیحَ صَارَ شِعَارًا لأَہْلِ الْبِدَعِ فَلاَ یَکُونُ سَبَبًا لإِطَالَۃِ الأَلْسِنَۃِ فِیہِ وَرَمْیِہِ بِمَا ہُوَ مُنَزَّہٌ عَنْہُ مِنْ مَذَاہِبِ أَہْلِ الْبِدَعِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ البخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৬২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبروں پر عمارت نہ بنائی جائے اور نہ ہی پختہ کیا جائے
(٦٧٦٢) حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا کہ آدمی قبر پر بیٹھے یا قبر کو پختہ کیا جائے یا اس پر عمارت بنائی جائے۔
(۶۷۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ : أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- نَہَی أَنْ یَقْعُدَ الرَّجُلُ عَلَی الْقَبْرِ أَوْ یُقَصَّصَ أَوْ یُبْنَی عَلَیْہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔ [صحیح۔ المسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭৬৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ قبروں پر عمارت نہ بنائی جائے اور نہ ہی پختہ کیا جائے
(٦٧٦٣) حضرت جابر (رض) نے اس حدیث کو بیان کیا اور سلیمان بن موسیٰ نے اس میں اضافہ کیا کہ اس پر لکھا بھی نہ جائے۔
(۶۷۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی وَعَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ بِہَذَا الْحَدِیثِ زَادَ أَوْ یُزَادَ عَلَیْہِ وَزَادَ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی أَوْ أَنْ یُکْتَبَ عَلَیْہِ۔

وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی مُوسَی فِی وَصِیَّتِہِ : وَلاَ تَجْعَلُنَّ عَلَی قَبْرِی بِنَائً ۔ وَعَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : وَلاَ تَضْرِبُنَّ عَلَیَّ فُسْطَاطًا۔ وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ کَذَلِکَ۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
tahqiq

তাহকীক: