আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الجنائز - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪০৫ টি
হাদীস নং: ৬৭৬৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے غسل کا بیان
(٦٧٦٤) ام عطیہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آئے اور ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے تین پانچ سات یا اس سے زیادہ مرتبہ غسل دینا اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو اور یہ پانی اور بیری کے ساتھ دینا اور آخر میں کافور یا اس جیسی کوئی چیز لگانا ۔ جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرنا ۔ وہ کہتی ہیں : جب ہم فارغ ہوئی تو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آگاہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اپنی چادر دی اور فرمایا : یہی اسے پہنانا۔
(۶۷۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیْنَا النَّبِیُّ -ﷺ- وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَہُ فَقَالَ : اغْسِلْنَہَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّ ذَلِکَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِی الآخِرَۃِ کَافُورًا أَوْ شَیْئًا مِنْ کَافُورٍ۔ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِی۔ قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاہُ فَأَلْقَی إِلَیْنَا حِقْوَہُ فَقَالَ : أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ أَیُّوبَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیْنَا النَّبِیُّ -ﷺ- وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَہُ فَقَالَ : اغْسِلْنَہَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّ ذَلِکَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِی الآخِرَۃِ کَافُورًا أَوْ شَیْئًا مِنْ کَافُورٍ۔ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِی۔ قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاہُ فَأَلْقَی إِلَیْنَا حِقْوَہُ فَقَالَ : أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ أَیُّوبَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৬৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے غسل کا بیان
(٦٧٦٥) حضرت ام سلیم انس بن مالک کی والدہ کہتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (جب ایک عورت فوت ہوگئی اور انھوں نے اسے غسل دینا چاہا) اس کے پیٹ سے آغاز کرو اور اس کے پیٹ کو نرمی سے دبایا جائے اگر وہ حاملہ نہیں ۔ اگر وہ حاملہ ہو تو پھر حرکت نہ دینا اور جب اس کے غسل کا ارادہ کرو تو اس کے نچلے حصے سے آغاز کرو تو اس کے ستر پر پردہ کرنے والا کپڑا ڈالو ۔ پھر روئی لے کر اس کی اچھی طرح صفائی کرو ۔ پھر اپنے ہاتھ کو کپڑے کے نیچے سے داخل کرو اور روئی کے ساتھ تین مرتبہ صاف کرو وضو سے پہلے ۔ پھر اسے وضو کراؤ پانی اور بیری کے ساتھ تین مرتبہ صاف کرو وضو سے پہلے ۔ پھر اسے وضو کراؤ پانی اور بیری کے ساتھ اور چاہیے کہ ایک عورت کھڑی ہو کر پانی انڈیلے اور وہ کسی چیز سے نہ لگے اور وہ اس کے قریب کی رشتہ دار ہو وگرنہ کوئی ایسی عورت جو حفاظت کرنے والی ہو ۔ اگر وہ (قریبی رشتہ دار) چھوٹی یا کمزور ہو تو پھر اسے دوسری مسلمہ اور حفاظت کرنے والی غسل دے ۔ پس جب وہ نچلے حصے کو بیری کے پانی کے ساتھ صاف کرنے سے فارغ ہوجائے تو یہ اس کے وضو ہے۔ پھر اس کے بعد پانی اور بیری کے ساتھ تین مرتبہ غسل دے اور اس کا آغاز سب سے پہلے اس کے سر سے کرے اور ہر مرتبہ پانی اور بیری سے کرے اور اس کے بالوں کو کنگھے سے سیدھا نہ کرے۔ اگر تین مرتبہ دھونے کے بعد کوئی حدث ظاہر ہوا تو پھر اسے پانچ مرتبہ کرلے ۔ اگر پانچ کے بعد بھی کوئی وجہ نظر آتی ہے تو پھر سات مرتبہ کرے اور ہر مرتبہ طاق عدد میں ہونا چاہیے یہاں تک کہ تجھے کوئی شک نہ رے اور جب آخری تین ہوں تو اس میں کافور ملائیں اور بیری ۔ پھر اسے نئے مٹکے میں ڈالو۔ یعنی بڑے ٹپ میں پھر اسے اس میں بٹھا کر اس پر پانی بہاؤ اس کا آغاز سر سے کرو اور پاؤں تک پہنچ جاؤ۔ جب اس سے تم فارغ ہو جاؤ تو اس پر صاف کپڑا ڈالو ۔ پھر اپنے ہاتھ کو کپڑے کے پیچھے ڈالو اور اس کپڑے کو کھینچ لو۔ یہ ہے غسل کا بیان ۔ پھر اس کے نچلے حصے کو روئی سے صاف کرو۔ پھر اس کی روئی کو خوشبو لگاؤ ۔ پھر ایک لمبی چادر دھلی ہوئی لو اور اسے اس کی کمر سے باندھو جیسے کمر بند باندھا جاتا ہے۔ پھر اس کی رانوں میں گرہ لگاؤ اور اس کے کو لہوں کو دباؤ۔ پھر اس چادر کی ایک طرف کو کمر سے گھٹنوں کی طرف ڈالو۔ یہ بیان ہے سفلہ (نچلے حصے کا) ۔ پھر اسے خوشبو لگاؤ اور کفن پہناؤ اور اس کے بالوں کے تین مینڈھیاں بناؤ : ایک چھوٹی اور دو بڑی اور مردوں کی مشابہت نہ کرو اور چاہیے کہ اس کا کفن پانچ کپڑوں میں ہو۔ ان میں سے ایک وہ جو اس کی رانوں سے ملا ہو (پائجامہ) اور نہ صاف کروا سکے بالوں کو چونے کے ساتھ اور نہ ہی کسی اور چیز سے جو اس کے بالوں میں سے گرے اسے دھو ڈالو ۔ پھر اس کے سر کے بالوں کو سیدھا کرو اور سر کے بالوں کو خشبو لگاؤ اور اچھی طرح لگاؤ اور تمام کام طاق عدد میں کرو۔ اس بات کو نہیں بھولنا۔ پھر اگر تو اس کی بگ بناناچا ہے تو ایک ہی بنانا۔ یہ بیان ہے اس کے کفن اور سر کا۔ اگر کوئی پھنسی وغیرہ (چیچک) یا کوئی رنگ ہو تو کپڑے کا بڑا ٹکڑا لے کر پانی کے ساتھ صاف کر دو ۔
لیکن دوسری روایت میں ہے کہ اسے پانی میں ڈبو دو اور ہماری روایت میں یہ بھی ہے کہ ہر چیز کا پیچھا کر مگر اسے زیادہ حرکت نہ دے ۔ کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اس سے کوئی چیز نہ بہہ پڑے جس کے لوٹانے کی پھر استطاعت نہ ہو اور چاہیے کہ اس کا کفن پانچ کپڑوں میں ہو۔
ابو عیسیٰ ترمذی محمود بن غیلان سے اس اضافے سے بیان کرتے ہیں کہ اس کی اچھی صفائی کر مگر گرم پانی سے نہ دھو۔ اگر چاہو تو کفن کے بعد سات مرتبہ صفائی کرو۔
لیکن دوسری روایت میں ہے کہ اسے پانی میں ڈبو دو اور ہماری روایت میں یہ بھی ہے کہ ہر چیز کا پیچھا کر مگر اسے زیادہ حرکت نہ دے ۔ کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اس سے کوئی چیز نہ بہہ پڑے جس کے لوٹانے کی پھر استطاعت نہ ہو اور چاہیے کہ اس کا کفن پانچ کپڑوں میں ہو۔
ابو عیسیٰ ترمذی محمود بن غیلان سے اس اضافے سے بیان کرتے ہیں کہ اس کی اچھی صفائی کر مگر گرم پانی سے نہ دھو۔ اگر چاہو تو کفن کے بعد سات مرتبہ صفائی کرو۔
(۶۷۶۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ أَمَلَّہُ عَلَیْنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ : ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ : شَیْبَانُ عَنْ لَیْثِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی بَشِیرٍ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ سُلَیْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا تُوُفِّیَتِ الْمَرْأَۃُ فَأَرَادُوا أَنْ یَغْسِلُوہَا فَلْیُبْدَئُ وا بِبَطْنِہَا فَلْیُمْسَحْ بَطْنُہَا مَسْحًا رَفِیقًا إِنْ لَمْ تَکُنْ حُبْلَی ، فَإِنْ کَانَتْ حُبْلَی فَلاَ تُحَرِّکِیہَا ، فَإِذَا أَرَدْتِ غَسْلَہَا فَابْدَئِی بِسَفِلَتِہَا فَأَلْقِی عَلَی عَوْرَتِہَا ثَوْبًا سَتِیرًا ، ثُمَّ خُذِی کُرُسُفَۃً فَاغْسِلِیہَا فَأَحْسِنِی غَسْلَہَا ، ثُمَّ أَدْخِلِی یَدَکِ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ فَامْسَحِیہَا بِکُرْسُفٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَأَحْسِنِی مَسْحَہَا قَبْلَ أَنْ تُوَضِّئِیہَا ، ثُمَّ وَضِّئِیہَا بِمَائٍ فِیہِ سِدْرٌ ، وَلْتُفْرِغِ الْمَائَ امْرَأَۃٌ وَہِیَ قَائِمَۃٌ لاَ تَلِی شَیْئًا غَیْرَہُ وَلْیَلِ غَسْلَہَا أَوْلَی النَّاسِ بِہَا وَإِلاَّ فَامْرَأَۃٌ وَرِعَۃٌ ، فَإِنْ کَانَتْ صَغِیرَۃً أَوْ ضَعِیفَۃً فَلْتَغْسِلْہَا امْرَأَۃٌ أُخْرَی مُسْلِمَۃٌ وَرِعَۃٌ ، فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ غَسْلِ سَفِلَتِہَا غَسْلاً نَقِیًّا بِمَائٍ وَسِدْرٍ فَہَذَا بَیَانُ وُضُوئِہَا ، ثُمَّ اغْسِلِیہَا بَعْدَ ذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَابْدَئِی بِرَأْسِہَا قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ وَأَنْقِی کُلَّ غَسْلَۃٍ مِنَ السِّدْرِ بِالْمَائِ وَلاَ تُسَرِّحِی رَأْسَہَا بِمُشْطٍ فَإِنْ حَدَثَ مِنْہَا حَدَثٌ بَعْدَ الْغَسَلاَتِ الثَلاَثِ فَاجْعَلِیہَا خَمْسًا ، وَإِنْ حَدَثَ بَعْدَ الْخَمْسِ فَاجْعَلِیہَا سَبْعًا وَکُلُّ ذَلِکَ فَلْیَکُنْ وِتْرًا بِمَائٍ وَسِدْرٍ حَتَّی لاَ یَرِیبَکِ شَیْء ٌ ، فَإِذَا کَانَ فِی آخِرِ غَسْلَۃٍ فِی الثَّلاَثَۃِ أَوْ غَیْرِہَا فَاجْعَلِی شَیْئًا مِنْ کَافُورٍ ، وَشَیْئًا مِنْ سِدْرٍ ، ثُمَّ اجْعَلِی ذَلِکَ فِی جَرَّۃٍ جَدِیدَۃٍ ، ثُمَّ أَقْعِدِیہَا فَأَفْرِغِی عَلَیْہَا وَابْدَئِی بِرَأْسِہَا حَتَّی تَبْلُغِی رِجْلَیْہَا ، فَإِذَا فَرَغْتِ مِنْہَا فَأَلْقِی عَلَیْہَا ثَوْبًا نَظِیفًا ، ثُمَّ أَدْخِلِی یَدَکِ مِنْ وَرَائِ الثَّوْبِ فَانْزِعِیہِ عَنْہَا))۔ ہَذَا بَیَانُ الْغُسْلِ ، ((ثُمَّ احْشِی سَفِلَتَہَا کُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ ، ثُمَّ امْسَحِی کُرْسُفَہَا مِنْ طِیبِہَا ، ثُمَّ خُذِی سَبَنِیَّۃً طَوِیلَۃً مَغْسُولَۃً فَارْبِطِیہَا عَلَی عَجُزِہَا کَمَا یُرْبَطُ النِّطَاقُ ، ثُمَّ اعْقِدِیہَا بَیْنَ فَخِذَیْہَا وَضُمِّی فَخِذَیْہَا ، ثُمَّ أَلْقِی طَرَفَ السَّبَنِیَّۃِ مِنْ عِنْدِ عَجُزِہَا إِلَی قَرِیبٍ مِنْ رُکْبَتَیْہَا))۔ فَہَذَا بَیَانُ سِفْلَتِہَا ، ((ثُمَّ طَیِّبِیہَا وَکَفِّنِیہَا وَاضْفِرِی شَعْرَہَا ثَلاَثَۃَ قُرُونٍ قُصَّۃً وَقَرْنَینٍ وَلاَ تُشَبِّہِیہَا بِالرِّجَالِ وَلْیَکُنْ کَفَنُہَا خَمْسَۃَ أَثْوَابٍ إِحْدَاہُنَّ الَّذِی تُلَفُّ بِہِ فَخِذَاہَا ، وَلاَ تُنْقِصِی مِنْ شَعَرِہَا شَیْئًا یَعْنِی بِنَوْرَۃٍ وَلاَ غَیْرِہَا وَمَا سَقَطَ مِنْ شَعَرَہَا فَاغْسِلِیہِ ، ثُمَّ أَعِیدِیہِ فِی شَعْرِ رَأْسِہَا أَوْ قَالَ اغْرِزِیہِ وَطَیِّبِی شَعْرَ رَأْسِہَا وَأَحْسِنِی تَطْیِیبَہُ إِنْ شِئْتِ وَاجْعَلِی کُلَّ شَیْئٍ مِنْہَا وِتْرًا ، وَلاَ تَنْسَیْ ذَلِکَ ، فَإِنْ بَدَا لَکِ أَنْ تُجَمِّرِیہَا فِی نَعْشِہَا فَاجْعَلِیہِ نَبْذَۃً وَاحِدَۃً حَتَّی یَکُونَ وِتْرًا)) ہَذَا بَیَانُ کَفَنِہَا وَرَأْسِہَا ((وَإِنْ کَانَتْ مَجْدُورَۃً أَوْ مَخْضُوبَۃً أَوْ أشْبَاہَ ذَلِکَ فَخُذِی خِرْقَۃً وَاسِعَۃً فَاغْسِلِیہَا فِی الْمَائِ))۔
وَفِی غَیْرِ ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ ((فَاَغْمِسِیہَا فِی الْمَائِ))۔
ثُمَّ فِی رِوَایَتِنَا ((وَاجْعَلِی تَتْبَعِی کُلَّ شَیْئٍ مِنْہَا وَلاَ تُحَرِّکِیہَا فَإِنِّی أَخْشَی أَنْ یَنْفَجِرَ مِنْہَا شَیْء ٌ لاَ یُسْتَطَاعَ رَدُّہُ )) ہَذَا لَفْظُ ابْنِ خُزَیْمَۃَ
وَحَدِیثُ الصَّغَانِیِّ انْتَہَی عِنْدَ قَوْلِہِ وَلْیَکُنْ کَفَنُہَا خَمْسَۃً
رَوَاہُ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ غَیْلاَنَ فَزَادَ عِنْدَ قَوْلِہِ ((وَأَحْسِنِی تَطْیِیبَہُ وَلاَ تَغْسِلِیہِ بِمَائٍ سُخْنٍ وَأَجْمِرِیہَا بَعْدَ مَا تُکَفِّنِیہَا بِسَبْعٍ إِنْ شِئْتِ)) وَکَأَنَّہُ سَقَطَ مِنْ کِتَابِ شَیْخِی۔ [منکر۔ أخرجہ الطبرانی]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ أَمَلَّہُ عَلَیْنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ : ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ : شَیْبَانُ عَنْ لَیْثِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی بَشِیرٍ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ سُلَیْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا تُوُفِّیَتِ الْمَرْأَۃُ فَأَرَادُوا أَنْ یَغْسِلُوہَا فَلْیُبْدَئُ وا بِبَطْنِہَا فَلْیُمْسَحْ بَطْنُہَا مَسْحًا رَفِیقًا إِنْ لَمْ تَکُنْ حُبْلَی ، فَإِنْ کَانَتْ حُبْلَی فَلاَ تُحَرِّکِیہَا ، فَإِذَا أَرَدْتِ غَسْلَہَا فَابْدَئِی بِسَفِلَتِہَا فَأَلْقِی عَلَی عَوْرَتِہَا ثَوْبًا سَتِیرًا ، ثُمَّ خُذِی کُرُسُفَۃً فَاغْسِلِیہَا فَأَحْسِنِی غَسْلَہَا ، ثُمَّ أَدْخِلِی یَدَکِ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ فَامْسَحِیہَا بِکُرْسُفٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَأَحْسِنِی مَسْحَہَا قَبْلَ أَنْ تُوَضِّئِیہَا ، ثُمَّ وَضِّئِیہَا بِمَائٍ فِیہِ سِدْرٌ ، وَلْتُفْرِغِ الْمَائَ امْرَأَۃٌ وَہِیَ قَائِمَۃٌ لاَ تَلِی شَیْئًا غَیْرَہُ وَلْیَلِ غَسْلَہَا أَوْلَی النَّاسِ بِہَا وَإِلاَّ فَامْرَأَۃٌ وَرِعَۃٌ ، فَإِنْ کَانَتْ صَغِیرَۃً أَوْ ضَعِیفَۃً فَلْتَغْسِلْہَا امْرَأَۃٌ أُخْرَی مُسْلِمَۃٌ وَرِعَۃٌ ، فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ غَسْلِ سَفِلَتِہَا غَسْلاً نَقِیًّا بِمَائٍ وَسِدْرٍ فَہَذَا بَیَانُ وُضُوئِہَا ، ثُمَّ اغْسِلِیہَا بَعْدَ ذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَابْدَئِی بِرَأْسِہَا قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ وَأَنْقِی کُلَّ غَسْلَۃٍ مِنَ السِّدْرِ بِالْمَائِ وَلاَ تُسَرِّحِی رَأْسَہَا بِمُشْطٍ فَإِنْ حَدَثَ مِنْہَا حَدَثٌ بَعْدَ الْغَسَلاَتِ الثَلاَثِ فَاجْعَلِیہَا خَمْسًا ، وَإِنْ حَدَثَ بَعْدَ الْخَمْسِ فَاجْعَلِیہَا سَبْعًا وَکُلُّ ذَلِکَ فَلْیَکُنْ وِتْرًا بِمَائٍ وَسِدْرٍ حَتَّی لاَ یَرِیبَکِ شَیْء ٌ ، فَإِذَا کَانَ فِی آخِرِ غَسْلَۃٍ فِی الثَّلاَثَۃِ أَوْ غَیْرِہَا فَاجْعَلِی شَیْئًا مِنْ کَافُورٍ ، وَشَیْئًا مِنْ سِدْرٍ ، ثُمَّ اجْعَلِی ذَلِکَ فِی جَرَّۃٍ جَدِیدَۃٍ ، ثُمَّ أَقْعِدِیہَا فَأَفْرِغِی عَلَیْہَا وَابْدَئِی بِرَأْسِہَا حَتَّی تَبْلُغِی رِجْلَیْہَا ، فَإِذَا فَرَغْتِ مِنْہَا فَأَلْقِی عَلَیْہَا ثَوْبًا نَظِیفًا ، ثُمَّ أَدْخِلِی یَدَکِ مِنْ وَرَائِ الثَّوْبِ فَانْزِعِیہِ عَنْہَا))۔ ہَذَا بَیَانُ الْغُسْلِ ، ((ثُمَّ احْشِی سَفِلَتَہَا کُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ ، ثُمَّ امْسَحِی کُرْسُفَہَا مِنْ طِیبِہَا ، ثُمَّ خُذِی سَبَنِیَّۃً طَوِیلَۃً مَغْسُولَۃً فَارْبِطِیہَا عَلَی عَجُزِہَا کَمَا یُرْبَطُ النِّطَاقُ ، ثُمَّ اعْقِدِیہَا بَیْنَ فَخِذَیْہَا وَضُمِّی فَخِذَیْہَا ، ثُمَّ أَلْقِی طَرَفَ السَّبَنِیَّۃِ مِنْ عِنْدِ عَجُزِہَا إِلَی قَرِیبٍ مِنْ رُکْبَتَیْہَا))۔ فَہَذَا بَیَانُ سِفْلَتِہَا ، ((ثُمَّ طَیِّبِیہَا وَکَفِّنِیہَا وَاضْفِرِی شَعْرَہَا ثَلاَثَۃَ قُرُونٍ قُصَّۃً وَقَرْنَینٍ وَلاَ تُشَبِّہِیہَا بِالرِّجَالِ وَلْیَکُنْ کَفَنُہَا خَمْسَۃَ أَثْوَابٍ إِحْدَاہُنَّ الَّذِی تُلَفُّ بِہِ فَخِذَاہَا ، وَلاَ تُنْقِصِی مِنْ شَعَرِہَا شَیْئًا یَعْنِی بِنَوْرَۃٍ وَلاَ غَیْرِہَا وَمَا سَقَطَ مِنْ شَعَرَہَا فَاغْسِلِیہِ ، ثُمَّ أَعِیدِیہِ فِی شَعْرِ رَأْسِہَا أَوْ قَالَ اغْرِزِیہِ وَطَیِّبِی شَعْرَ رَأْسِہَا وَأَحْسِنِی تَطْیِیبَہُ إِنْ شِئْتِ وَاجْعَلِی کُلَّ شَیْئٍ مِنْہَا وِتْرًا ، وَلاَ تَنْسَیْ ذَلِکَ ، فَإِنْ بَدَا لَکِ أَنْ تُجَمِّرِیہَا فِی نَعْشِہَا فَاجْعَلِیہِ نَبْذَۃً وَاحِدَۃً حَتَّی یَکُونَ وِتْرًا)) ہَذَا بَیَانُ کَفَنِہَا وَرَأْسِہَا ((وَإِنْ کَانَتْ مَجْدُورَۃً أَوْ مَخْضُوبَۃً أَوْ أشْبَاہَ ذَلِکَ فَخُذِی خِرْقَۃً وَاسِعَۃً فَاغْسِلِیہَا فِی الْمَائِ))۔
وَفِی غَیْرِ ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ ((فَاَغْمِسِیہَا فِی الْمَائِ))۔
ثُمَّ فِی رِوَایَتِنَا ((وَاجْعَلِی تَتْبَعِی کُلَّ شَیْئٍ مِنْہَا وَلاَ تُحَرِّکِیہَا فَإِنِّی أَخْشَی أَنْ یَنْفَجِرَ مِنْہَا شَیْء ٌ لاَ یُسْتَطَاعَ رَدُّہُ )) ہَذَا لَفْظُ ابْنِ خُزَیْمَۃَ
وَحَدِیثُ الصَّغَانِیِّ انْتَہَی عِنْدَ قَوْلِہِ وَلْیَکُنْ کَفَنُہَا خَمْسَۃً
رَوَاہُ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ غَیْلاَنَ فَزَادَ عِنْدَ قَوْلِہِ ((وَأَحْسِنِی تَطْیِیبَہُ وَلاَ تَغْسِلِیہِ بِمَائٍ سُخْنٍ وَأَجْمِرِیہَا بَعْدَ مَا تُکَفِّنِیہَا بِسَبْعٍ إِنْ شِئْتِ)) وَکَأَنَّہُ سَقَطَ مِنْ کِتَابِ شَیْخِی۔ [منکر۔ أخرجہ الطبرانی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৬৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے غسل کا بیان
(٦٧٦٦) ولید بن مسلم کہتے ہیں : مجھے خبر دی شیبان ابو معاویہ نے اور انھوں نے یہی حدیث ذکر کی مختلف معانی سے اور اس میں یہ بات بیان کی گئی کہ جب تو پانچویں مرتبہ سے فارغ ہو تو میت کے مسامع میں کافور لگاؤ۔
(۶۷۶۶) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنِی شَیْبَانُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ مُقَطَّعًا بِمَعْنَاہُ وَاللَّفْظُ مُخْتِلِفٌ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَإِذَا فَرَغَتْ مِنَ الْخَمْسِ فَلْتَجْعَلِ الْکَافُورَ فِی مَسَامِعِ الْمَیِّتِ۔
[منکر۔ الطبرانی]
[منکر۔ الطبرانی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৬৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے سر کے بالوں کا گوندھنا اور تین مینڈھیاں بنانا اور پیچھے ڈالنا سنت سے ثابت ہے
(٦٧٦٧) حضرت ام عطیہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فوت ہوگئی ۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے طاق عدد تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا اگر تم کچھ ضرورت محسوس کرو تو اس سے بھی زیادہ کرلیتا اور آخر میں کافور یا کا فور جیسی کوئی چیز ملانا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرنا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف ایک چادر پھینکی اور فرمایا : یہ اسے پہناؤ اور فرمایا : اس کے سر کو پیشانی سے گوندھنا اور تین مینڈھیاں بنا کر پیچھے چھوڑ دینا۔
(۶۷۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أُسَیْدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أُمِّ الْہُذَیْلِ یَعْنِی حَفْصَۃَ بِنْتَ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ : تُوُفِّیَتِ ابْنَۃٌ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((اغْسِلْنَہَا وِتْرًا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّ ذَلِکَ ، وَاجْعَلْنَ فِی الآخِرَۃِ کَافُورًا أَوْ شَیْئًا مِنْ کَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِی))۔ قَالَتْ : فَآذَنَّاہُ قَالَتْ : فَأَلْقَی إِلَیْنَا حِقْوَہُ فَقَالَ : أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ ۔ قَالَتْ : فَضَفَرْنَا رَأْسَہَا نَاصِیَتَہَا وَقَرْنَیْہَا ثَلاَثَۃَ قُرُونٍ وَأَلْقَیْنَاہُ خَلْفَہَا۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ قَبِیصَۃَ عَنْ سُفْیَانَ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৬৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے سر کے بالوں کا گوندھنا اور تین مینڈھیاں بنانا اور پیچھے ڈالنا سنت سے ثابت ہے
(٦٧٦٨) حضرت ام عطیہ بیان کرتی ہیں کہ ہم نے تین مینڈھیوں میں اس کے سر کو تقسیم کیا۔
(۶۷۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ : مَشَطْنَاہَا ثَلاَثَۃَ قُرُونٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ہَکَذَا۔ [صحیح۔ مسلم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ہَکَذَا۔ [صحیح۔ مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৬৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے سر کے بالوں کا گوندھنا اور تین مینڈھیاں بنانا اور پیچھے ڈالنا سنت سے ثابت ہے
(٦٧٦٩) ام عطیہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی کے سر کو تین میڈھیوں کے ساتھ تقسیم کیا اور کہا : انھیں ہم کھول کے دھو دیتی تھیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں احمد اور ابن وھب سے یہ الفاظ زیادہ کیے کہ پھر تم اس کی تین مینڈھیاں بنادو ۔
(۶۷۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَنَّ أَیُّوبَ بْنَ أَبِی تَمِیمَۃَ أَخْبَرَہُ قَالَ سَمِعْتُ حَفْصَۃَ بِنْتَ سِیرِینَ تَقُولُ حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِیَّۃَ : أَنَّہُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ ابْنَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- ثَلاَثَۃَ قُرُونٍ۔ وَقَالَ : نَقَضْنَہُ فَغَسَلْنَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَزَادَ ثُمَّ جَعَلْنَہُ ثَلاَثَۃَ قُرُونٍ۔[صحیح۔ أخرجہ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَزَادَ ثُمَّ جَعَلْنَہُ ثَلاَثَۃَ قُرُونٍ۔[صحیح۔ أخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے کفن کا بیان
(٦٧٧٠) ابن سیرین کہتے ہیں : ہمیں حدیث بیان کی ام عطیہ (رض) نے ۔ وہ کہتی ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آئے اور ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ ۔ اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو تو اور یہ پانی اور بیری کے پتوں سے کرو اور آخر میں کافور ملانا ۔ جب ہم اس سے فارغ ہوئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی چادر پھینکی ہماری طرف اور فرمایا : اس میں کفن دینا اسے۔
(۶۷۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَنَّ أَیُّوبَ بْنَ أَبِی تَمِیمَۃَ أَخْبَرَہُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ سِیرِینَ یَقُولُ حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیْنَا النَّبِیُّ -ﷺ- وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَہُ فَقَالَ : ((اغْسِلْنَہَا ثَلاَثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّ ذَلِکَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِی الآخِرَۃِ کَافُورًا فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِی))۔ فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَی إِلَیْنَا حِقْوَہُ فَقَالَ : ((أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ))۔ قَالَ وَلَمْ یَزِدْ عَلَی ذَلِکَ قَالَ فَلاَ أَدْرِی أَیُّ بَنَاتِہِ ، وَزَعَمَ أَنَّ الإِشْعَارَ الْفُفْنَہَا فِیہِ قَالَ وَکَذَلِکَ کَانَ ابْنُ سِیرِینَ یَأْمُرُ بِالْمَرْأَۃِ أَنْ تُشْعَرَ لِفَافَۃً وَلاَ تُؤْزَرَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے کفن کا بیان
(٦٧٧١) ابن سیرین کہتے ہیں : جن صحابیات نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی، ان میں سے ایک ام عطیہ بھی تھیں ۔ یہ بصرہ سے آئی تھیں ۔ اپنے بیٹے کو ڈھونڈتی ہوئی مگر نہ پاسکی ۔ وہ کہتے ہیں : میں نے اس قول کے بارے میں پوچھا : ” اشعِرنھٰا “ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے کمر سے باندھ دیا جائے تو انھوں نے کہا : نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اسے اس میں لپیٹ دیں۔
ایوب کہتے ہیں کہ ابن سیرین بھی عورت کے بارے حکم دیا کرتے تھے کہ اسے غلاف کی مانند لپیٹ دیا جائے۔
ایوب کہتے ہیں کہ ابن سیرین بھی عورت کے بارے حکم دیا کرتے تھے کہ اسے غلاف کی مانند لپیٹ دیا جائے۔
(۶۷۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَیُّوبُ السَّخْتِیَانِیُّ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ سِیرِینَ یَقُولُ : کَانَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ یُقَالُ لَہَا أُمُّ عَطِیَّۃَ مِنَ اللَّوَاتِی بَایَعْنَ النَّبِیَّ -ﷺ- قَدِمَتِ الْبَصْرَۃَ تُبَادِرُ ابْنًا لَہَا فَلَمْ تُدْرِکْہُ فَحَدَّثَتْنَا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ۔
قَالَ قُلْتُ : مَا قَوْلُہُ أَشْعِرْنَہَا أَتُؤْزَرُ بِہِ قَالَ لاَ أُرَاہُ إِلاَّ أَنْ یَقُولَ الْفُفْنَہَا فِیہِ۔
قَالَ أَیُّوبُ : وَکَذَلِکَ کَانَ ابْنُ سِیرِینَ یَأْمُرُ بِالْمَرْأَۃِ أَنْ تُشْعِرَ لِفَافَۃً۔ [صحیح۔ أخرجہ الزاق]
قَالَ قُلْتُ : مَا قَوْلُہُ أَشْعِرْنَہَا أَتُؤْزَرُ بِہِ قَالَ لاَ أُرَاہُ إِلاَّ أَنْ یَقُولَ الْفُفْنَہَا فِیہِ۔
قَالَ أَیُّوبُ : وَکَذَلِکَ کَانَ ابْنُ سِیرِینَ یَأْمُرُ بِالْمَرْأَۃِ أَنْ تُشْعِرَ لِفَافَۃً۔ [صحیح۔ أخرجہ الزاق]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے کفن کا بیان
(٦٧٧٢) ابن جریج کہتے ہیں : میں نے ایوب سے کہا ” اَشْعِرْنھا “ کے معنی ہیں کہ درہ کے نیچے سے کپڑے میں لپیٹ لیا جائے۔
(۶۷۷۲) وَقَالَ ابْنُ زَنْجُویَہْ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لأَیُّوبَ : مَا قَوْلُہُ ((أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ)) أَتُؤْزَرُ بِہِ۔ قَالَ : لاَ أَظُنُّ۔ کَانَ ابْنُ سِیرِینَ یَقُولُ : تُلَفُّ بِثَوْبٍ تَحْتَ الدِّرْعِ۔ وَلاَ أُرَاہُ إِلاَّ ذَلِکَ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْمَنِیعِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ زَنْجُویَہْ فَذَکَرَہُ۔
[صحیح۔ عبد الرزاق]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْمَنِیعِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ زَنْجُویَہْ فَذَکَرَہُ۔
[صحیح۔ عبد الرزاق]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ عورت کے کفن کا بیان
(٦٧٧٣) لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ کہتی ہیں : میں بھی ان میں تھی جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی ام کلثوم کو غسل دیا جب وہ فوت ہوئیں۔ سب سے پہلی چیز جو ہمیں دی وہ چادر تھی ۔ پھر قمیض پھر اوڑھنی پھر لیٹنے والی چادر پھر اس کے بعد دوسرے کپڑے میں رکھا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دروازے کے پاس بیٹھے تھے اور تیار کیا ہوا کفن ایک ایک ہمیں دے رہے تھے۔
(۶۷۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی نُوحُ بْنُ حَکِیمٍ الثَّقَفِیُّ وَکَانَ قَارِئًا لِلْقُرْآنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عُرْوَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ یُقَالُ لَہُ دَاوُدُ قَدْ وَلَّدَتْہُ أُمُّ حَبِیبَۃَ بِنْتُ أَبِی سُفْیَانَ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنْ لَیْلَی بِنْتِ قَانِفٍ الثَّقَفِیَّۃِ قَالَتْ : کُنْتُ فِی مَنْ غَسَّلَ أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عِنْدَ وَفَاتِہَا۔ فَکَانَ أَوَّلَ مَا أَعْطَانَا الْحِقَائُ ، ثُمَّ الدِّرْعُ ، ثُمَّ الْخِمَارُ ، ثُمَّ الْمِلْحَفَۃُ ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِی الثَّوْبِ الآخَرِ قَالَتْ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جَالِسٌ عِنْدَ الْبَابِ مَعَہُ کَفَنَہَا یُنَاوِلُنَاہُ ثَوْبًا ثَوْبًا۔
[ضعیف۔ ابو داؤد]
[ضعیف۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭৪
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ایسے شخص کے متعلق جو سمندر میں فوت ہوا
(٦٧٧٤) حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ابو طلحہ نے حدیث بیان کی اور اس میں انھوں نے تذکرہ کیا کہ ایک آدمی سمندر پر سوار ہوا اور وہ فوت ہوگیا ۔ اس کے ساتھیوں نے اسے دفن کرنے کیلئے کوئی جزیرہ نہ پایا مگر سات دن بعد تو انھوں نے اسی میں اسے دفن کردیا اور وہ کچھ تبدیل نہ ہوا۔
حسن بصری کہتے ہیں کہ اسے غسل دیا جائے گا اور کفن پہنایا جائے گا اور نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔
حسن بصری کہتے ہیں کہ اسے غسل دیا جائے گا اور کفن پہنایا جائے گا اور نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔
(۶۷۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنِی حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ فَرَکِبَ الْبَحْرَ فَمَاتَ فَلَمْ یَجِدُوا لَہُ جَزِیرَۃً إِلاَّ بَعْدَ سَبْعَۃِ أَیَّامٍ فَدَفَنُوہُ فِیہَا وَلَمْ یَتَغَیَّرْ۔
وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ : یُغَسَّلُ وَیُکَفَّنُ وَیُصَلَّی عَلَیْہِ وَیُطْرَحُ فِی الْبَحْرِ۔
وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی جُعِلَ فِی زِنْبِیلٍ ثُمَّ قُذِفَ بِہِ فِی الْبَحْرِ۔ [صحیح۔ الحاکم]
وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ : یُغَسَّلُ وَیُکَفَّنُ وَیُصَلَّی عَلَیْہِ وَیُطْرَحُ فِی الْبَحْرِ۔
وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی جُعِلَ فِی زِنْبِیلٍ ثُمَّ قُذِفَ بِہِ فِی الْبَحْرِ۔ [صحیح۔ الحاکم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭৫
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جو استدلال کیا گیا ہے کہ میت کا کفن اور دیگر لوا زمات بھلائی کے ساتھ اس کے راس المال سے ادا کیے جائیں گے
(٦٧٧٥) حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ میرے پاس اور پہاڑ کے برابر سونا ہو اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کروں اور جب میں نے فوت ہونا ہے فوت ہو جاؤں اور اس میں سے دس اوقیہ سونا بھی چھوڑ جاؤں سوائے کفن کی قیمت اور قرض کی ادائیگی کے۔
(۶۷۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا یَسُرُّنِی أَنَّ لِی مِثْلَ أُحُدٍ ذَہَبًا أُنْفِقُہُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمُوتُ حِینَ أَمُوتُ وَأُخَلِّفُ عَشْرَۃَ أَوَاقٍ إِلاَّ فِی ثَمَنِ کَفَنٍ أَوْ قَضَائِ دَیْنٍ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ شاھد عنہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭৬
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جو استدلال کیا گیا ہے کہ میت کا کفن اور دیگر لوا زمات بھلائی کے ساتھ اس کے راس المال سے ادا کیے جائیں گے
(٦٧٧٦) حضرت خباب (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت کی اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے تھے تو ہمارا اجر اللہ تعالیٰ پر ثابت ہوگیا۔ سو ہم میں سے وہ بھی ہیں جو ہم سے پہلے فوت ہوگئے اور اس اجر میں سے کچھ نہ کھایا، ان میں سے مصعب بن عمیر تھے جو غزوہ احد میں شہید ہوئے ۔ انھوں نے کوئی ترکہ نہ چھوڑا سوائے ایک ٹاٹ (کمبل) کے۔ جب ہم اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے اور جب پاؤں پر ڈالتے تو سر ننگا ہوجاتا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا سر ڈھانپ دو اور اس کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو اور ہم میں سے وہ بھی ہیں جن کا پھل تیار ہوچکا اور وہ اسے توڑ رہا ہے۔
(۶۷۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ : ہَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَنَحْنُ نَبْتَغِی وَجْہَ اللَّہِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَی اللَّہِ ، فَمِنَّا مَنْ مَضَی مِنْ قَبْلُ وَلَمْ یَأْکُلْ مِنْ أَجْرِہِ شَیْئًا کَانَ مِنْہُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ یَتْرُکْ إِلاَّ نَمِرَۃً فَکُنَّا إِذَا غَطَّیْنَا رَأْسَہُ بَدَتْ رِجْلاَہُ ، وَإِذَا غَطَّیْنَا رِجْلَیْہِ بَدَا رَأْسَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((غَطُّوا رَأْسَہُ ، وَاجْعَلُوا عَلَی رِجْلَیْہِ مِنَ الإِذْخِرِ))۔ وَمِنَّا مَنْ أَیْنَعَتْ لَہُ ثَمَرَتُہُ فَہُوَ یَہْدِبُہَا۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ البخاری]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭৭
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جو استدلال کیا گیا ہے کہ میت کا کفن اور دیگر لوا زمات بھلائی کے ساتھ اس کے راس المال سے ادا کیے جائیں گے
(٦٧٧٧) ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ ابن عوف کے پاس کھانا لایا گیا تو انھوں نے کہا : مصعب بن عمیر شہید کردیے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے مگر ان کیلئے کوئی چادر نہ ملی جس میں انھیں کفن دیا جاتا اور حمزہ (رض) شہید کیے گئے یا کوئی دوسرا۔ وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ ان کیلئے صرف ایک چادر میسر آئی جس میں انھیں کفن دیا گیا۔ نہیں میں خیال کرتا مگر یہ کہ ہمارے لیے ہماری نعمتیں جلد عطا کردی گئی ہیں دنیا ہی کی زندگی میں۔
(۶۷۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ زِیَادِ ابْنِ بِنْتِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا جَدِّی أَخْبَرَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : أُتِیَ ابْنُ عَوْفٍ یَعْنِی عَبْدَ الرَّحْمَنِ بِطَعَامٍ فَقَالَ : قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَکَانَ خَیْرًا مِنِّی فَلَمْ یُوجَدْ لَہُ إِلاَّ بُرْدَۃٌ یُکَفَّنُ فِیہَا، وَقُتِلَ حَمْزَۃُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ وَکَانَ خَیْرًا مِنِّی فَلَمْ یُوجَدْ لَہُ إِلاَّ بُرْدَۃٌ یُکَفَّنُ فِیہَا۔ مَا أَظُنُّنَا إِلاَّ قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا حَسَنَاتُنَا فِی حَیَاتِنَا الدُّنْیَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَکِّیِّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ البخاری]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَکِّیِّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭৮
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ جو استدلال کیا گیا ہے کہ میت کا کفن اور دیگر لوا زمات بھلائی کے ساتھ اس کے راس المال سے ادا کیے جائیں گے
(٦٧٧٨) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ کفن اصل مال میں سے ہونا چاہیے۔
(۶۷۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ضُمَیْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عَلَیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : الْکَفَنُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ۔ [باطل۔ لسان المیزان]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৭৯
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ساقط ہونے والے بچے کے متعلق کہ اسے غسل اور کفن دیا جائے اور نماز بھی ادا کی جائے اگر وہ چیخایا اس کے زندہ ہونے کا علم ہوگیا
(٦٧٧٩) حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سوار جنازے کے پیچھے چلے گا اور پیدل چلنے والا اس کے پیچھے چلے گا ۔ اس کے آگے دائیں بائیں قریب قریب چلے گا اور ساقط ہونے والے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور اس کے والدین کیلئے دعائے مغفرت ورحمت کی جائے گی۔
(۶۷۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ یُونُسَ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ وَأَحْسَبُ أَنَّ أَہْلَ زِیَادٍ أَخْبَرُونِی أَنَّہُ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((الرَّاکِبُ یَسِیرُ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ ، وَالْمَاشِی خَلْفَہَا وَأَمَامَہَا وَعَنْ یَمِینِہَا وَعَنْ یَسَارِہَا قَرِیبًا مِنْہَا ، وَالسِّقْطُ یُصَلَّی عَلَیْہِ وَیُدْعَی لِوَالِدَیْہِ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ))۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৮০
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ساقط ہونے والے بچے کے متعلق کہ اسے غسل اور کفن دیا جائے اور نماز بھی ادا کی جائے اگر وہ چیخایا اس کے زندہ ہونے کا علم ہوگیا
(٦٧٨٠) یونس بن عبید اسی معنیٰ میں حدیث بیان کرتے ہیں مگر انھوں نے عافیت ورحمت کا تذکرہ کیا ہے۔
(۶۷۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو ہَمَّامٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : بِالْعَافِیَۃِ وَالرَّحْمَۃِ وَلَمْ یَذْکُرْ فِی الْمَاشِی خَلْفَہَا وَأَمَامَہَا۔
قَالَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَوْلُ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ وَحَدَّثَنِی بَعْضُ أَہْلِہِ أَنَّہُ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- رِوَایَۃٌ لِیُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ قَالَ الشَّیْخُ۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
قَالَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَوْلُ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ وَحَدَّثَنِی بَعْضُ أَہْلِہِ أَنَّہُ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- رِوَایَۃٌ لِیُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ قَالَ الشَّیْخُ۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৮১
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ساقط ہونے والے بچے کے متعلق کہ اسے غسل اور کفن دیا جائے اور نماز بھی ادا کی جائے اگر وہ چیخایا اس کے زندہ ہونے کا علم ہوگیا
(٦٧٨١) حضرت مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : سوار جنازے کے پیچھے اور پیدل چلنے والا قریب قریب چلے گا اور بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
(۶۷۸۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ قَالَ حَدَّثَنِی عَمِّی زِیَادُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی جُبَیْرُ بْنُ حَیَّۃَ الثَّقَفِیُّ أَنَّہُ سَمِعَ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ یَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((الرَّاکِبُ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ ، وَالْمَاشِی قَرِیبًا مِنْہَا وَالطِّفْلُ یُصَلَّی عَلَیْہِ))۔ [صحیح۔ ابو داؤد]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৮২
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ساقط ہونے والے بچے کے متعلق کہ اسے غسل اور کفن دیا جائے اور نماز بھی ادا کی جائے اگر وہ چیخایا اس کے زندہ ہونے کا علم ہوگیا
(٦٧٨٢) حضرت جابربن عبداللہ کہتے ہیں : جب بچہ چیخ مارے گا تو وارث بھی ہوگا اور اس کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی۔
(۶۷۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : إِذَا اسْتَہَلَّ الصَّبِیُّ وَرِثَ وَصُلِّیَ عَلَیْہِ۔ مَوْقُوفٌ۔ [حسن لغیرہٖ۔ شرح المعانی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭৮৩
کتاب الجنائز
পরিচ্ছেদঃ ساقط ہونے والے بچے کے متعلق کہ اسے غسل اور کفن دیا جائے اور نماز بھی ادا کی جائے اگر وہ چیخایا اس کے زندہ ہونے کا علم ہوگیا
(٦٧٨٣) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب پیدا ہونے والا بچہ چیخے گا تو نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور وارث بھی ہوگا۔
(۶۷۸۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَاضِی بِمَرْوَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الْمَکِّیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا اسْتَہَلَّ الصَّبِیُّ وَرِثَ وَصُلِّیَ عَلَیْہِ ۔
إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَکِّیُّ غَیْرُہُ أَوْثَقُ مِنْہُ وَرُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ مَرْفُوعًا۔
[صحیح لغیرہٖ۔ ابن ماجہ]
إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَکِّیُّ غَیْرُہُ أَوْثَقُ مِنْہُ وَرُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ مَرْفُوعًا۔
[صحیح لغیرہٖ۔ ابن ماجہ]
তাহকীক: