আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২৬৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلیوں پر کپڑا لپیٹ کر سجدہ کرنے کا بیان

اس سے متعلق حسن بصری (رح) کی حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ (رض) سجدہ کرتے تھے اور ان کے ہاتھ کپڑے میں ہوتے تھے۔
(٢٦٧٤) (ا) حکم سے روایت ہے کہ حضرت سعد (رض) نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو ان کے ہاتھ آستینوں میں تھے۔

ابوعبید کہتے ہیں : مستقہ سے مراد لمبے آستینوں والا کپڑا ہے۔

(ب) ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے لمبے آستینوں والے کپڑوں، چادروں اور بڑی بڑی شالوں (سبز رنگ کی چادر جو عموماً مشائخ رکھتے ہیں) میں نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں کو باہر نہیں نکالتے تھے۔
(۲۶۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ لَیْثٍ عَنِ الْحَکَمِ: أَنَّ سَعْدًا صَلَّی بِالنَّاسِ فِی مُسْتَقَۃٍ یَدَاہُ فِیہَا۔

قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ: وَالْمُسْتَقَۃُ الْفَرْوُ الطَّوِیلُ الْکُمَّیْنِ۔ وَہَذَا مُرْسَلٌ۔

وَرُوِّینَا عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ أَنَّہُ قَالَ: کَانُوا یُصَلُّونَ فِی مَسَاتِقِہِمْ وَبَرَانِسِہِمْ وَطَیَالِسِہِمْ مَا یُخْرِجُونَ أَیْدِیَہُمْ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُسْنَدٌ فِی إِسْنَادِہِ بَعْضُ الضَّعْفِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلیوں پر کپڑا لپیٹ کر سجدہ کرنے کا بیان

اس سے متعلق حسن بصری (رح) کی حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ (رض) سجدہ کرتے تھے اور ان کے ہاتھ کپڑے میں ہوتے تھے۔
(٢٦٧٥) عبدالرحمن بن عبدالرحمن بن ثابت بن صامت اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی عبداشہل کی مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے، آپ پر ایک چادر تھی جو آپ نے اوڑھ رکھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ اس کے اوپر رکھے ہوئے تھے۔ اس طرح آپ کنکریوں کی ٹھنڈک سے بچ رہے تھے۔
(۲۶۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ صَامِتٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَامَ یُصَلِّی فِی مَسْجِدِ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ وَعَلَیْہِ کِسَاء ٌ مُلْتَفٌّ بِہِ ، یَضَعُ یَدَیْہِ عَلَیْہِ یَقِیہِ بَرْدَ الْحَصَا۔

وَرُوِیَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِیفٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ماجہ ۱۰۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلیوں پر کپڑا لپیٹ کر سجدہ کرنے کا بیان

اس سے متعلق حسن بصری (رح) کی حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ (رض) سجدہ کرتے تھے اور ان کے ہاتھ کپڑے میں ہوتے تھے۔
(٢٦٧٦) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سفید چادر میں سردی کی صبح کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اس چادر کے ذریعے زمین کی سردی سے اپنے ہاتھ اور ٹانگوں کو بچاتے تھے۔
(۲۶۷۶) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنَا خَارِجَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی فِی کِسَائٍ أَبْیَضَ فِی غَدَاۃٍ بَارِدَۃٍ ، یَتَّقِی بِالْکِسَائِ بَرْدَ الأَرْضِ بِیَدِہِ وَرِجْلِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورانِ نماز کپڑوں یا بالوں کو سمیٹنا اور جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا درست نہیں
(٢٦٧٧) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سات ہڈیوں یعنی سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ کوئی اپنے کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز نہ سمیٹے۔
(۲۶۷۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُمِرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَسْجُدَ عَلَی سَبْعَۃِ أَعْظُمٍ ، وَلاَ یَکُفَّ ثَوْبًا وَلاَ شَعَرًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۲۶۴۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورانِ نماز کپڑوں یا بالوں کو سمیٹنا اور جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا درست نہیں
(٢٦٧٨) ایک دوسری سند سے بھی اسی جیسی حدیث منقول ہے مگر اس میں سبعۃ اعظم کی جگہ علی سبع کے الفاظ ہیں۔
(۲۶۷۸) وَحَدَّثَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: عَلَی سَبْعٍ ، وَأَنْ لاَ یَکُفَّ ثَوْبًا وَلاَ شَعْرًا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ قَبِیصَۃَ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورانِ نماز کپڑوں یا بالوں کو سمیٹنا اور جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا درست نہیں
(٢٦٧٩) سیدنا ابن عباس (رض) کے غلام کریب فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس (رض) نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے اپنے سر کے بالوں کو پچھلی طرف اکٹھا کر کے باندھا ہوا تھا۔ آپ (رض) اس کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور اس کے بالوں کو کھولنا شروع کردیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابن عباس (رض) کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے : آپ کو میرے سر سے کیا سروکار ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ستر کھول کر نماز پڑھے۔
(۲۶۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَیْرًا حَدَّثَہُ أَنَّ کُرَیْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَہُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْحَارِثِ یُصَلِّی وَرَأْسُہُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِہِ ، فَقَامَ وَرَائَہُ فَجَعَلَ یَحُلُّہُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا لَکَ وَرَأْسِی؟ قَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((إِنَّمَا مَثَلُ ہَذَا مَثَلُ الَّذِی یُصَلِّی وَہُوَ مَکْتُوفٌ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۴۹۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورانِ نماز کپڑوں یا بالوں کو سمیٹنا اور جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا درست نہیں
(٢٦٨٠) (ا) سعید بن ابو سعید مقبری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ابو رافع (رض) کو حسن بن علی (رض) کے پاس سے گزرتے دیکھا۔ آپ (رض) نماز ادا کر رہے تھے۔ آپ نے زلفوں کی مینڈھیاں بنا کر گردن کے پیچھے ڈال رکھی تھیں۔ ابورافع (رض) نے وہ مینڈھیاں کھول دیں۔ حضرت حسن (رض) غصہ کے عالم میں ان کی طرف مڑے تو ابورافع (رض) نے کہا : اپنی نماز جاری رکھوغصہ نہ کرو۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ یہ بالوں کی مینڈھیاں شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہیں، یعنی مینڈھیوں کا جوڑا بنانا منع ہے۔

(ب) عبدالرزاق کی حدیث میں ہے میں ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا : یہ شیطان کی بیٹھنے کی جگہ ہیں ۔

(ج) جوڑے کی کراہت کے بارے میں حضرت عمر، علی، حذیفہ اور عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایات گزر چکی ہیں۔
(۲۶۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ لِی ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیُّ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّہُ رَأَی أَبَا رَافِعٍ مَوْلَی النَّبِیِّ -ﷺ- مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ، وَحَسَنٌ یُصَلِّی قَائِمًا قَدْ غَرَزَ ضَفْرَتَہُ فِی قَفَاہُ ، فَحَلَّہُمَا أَبُو رَافِعٍ ، فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَیْہِ مُغْضَبًا ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: أَقْبِلْ عَلَی صَلاَتِکَ وَلاَ تَغْضَبْ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((ذَلِکَ کِفْلُ الشَّیْطَانِ)) ۔ یَقُولُ مَقْعَدَ الشَّیْطَانِ یَعْنِی مَغْرِزَ ضَفْرَتِہِ۔

لَفْظُ حَدِیثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَفِی حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ سَعِیدٍ وَقَالَ: ہُوَ کِفْلُ الشَّیْطَانِ ۔ یَعْنِی مَقْعَدَ الشَّیْطَانِ۔

وَرُوِّینَا فِی کَرَاہِیَۃِ ذَلِکَ عَنْ عُمَرَ وَعَلِیٍّ وَحُذَیْفَۃَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔

[ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق ۲۹۹۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے کی تسبیحات کا بیان

اس بابت پہلے حذیفہ بن یمان کی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گزر چکی ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے۔
(٢٦٨١) حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رکوع میں کہتے : سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ” پاک ہے میرا رب بہت عظمت والا “ یہ تسبیح بار بار پڑھتے۔ پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ” اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔ اے ہمارے رب ! تمام تعریفات کا مستحق تو ہی ہے۔ جب سجدہ فرماتے تو کہتے : سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی ” پاک ہے میرا رب جو بہت بلندو برتر ہے۔ “ اس جملے کو بھی بار بار دھراتے اور سجدے سے سر اٹھانے پر یہ دعا پڑھتے : رب اغفرلی ” اے اللہ ! مجھے بخش دے۔ “
(۲۶۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَزِیدَ عَنْ حُذَیْفَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَقُولُ فِی رُکُوعِہِ: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ)) ۔ یُرَدِّدُہَا فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ قَالَ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ)) ۔ فَإِذَا سَجَدَ قَالَ: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی)) ۔ یُرَدِّدُہَا وَکَانَ یَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السُّجُودِ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِی))۔

[صحیح۔ وقد تقدم برقم ۲۵۵۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے کی تسبیحات کا بیان

اس بابت پہلے حذیفہ بن یمان کی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گزر چکی ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے۔
(٢٦٨٢) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رکوع و سجود میں یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے۔ سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی ” پاک ہے تو اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ اے اللہ ! مجھے معاف کر دے “ قرآن میں اللہ نے آپ کو جو حکم دیا ہے اس پر عمل کرتے تھے۔
(۲۶۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُکْثِرُ أَنْ یَقُولَ فِی رُکُوعِہِ وَسُجُودِہِ: ((سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی))۔ یَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عُثْمَانَ عَنْ جَرِیرٍ۔

[صحیح۔ وقد تقدم برقم ۲۵۶۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے کی تسبیحات کا بیان

اس بابت پہلے حذیفہ بن یمان کی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گزر چکی ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے۔
(٢٦٨٣) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ سرورکائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رکوع و سجود میں یہ دعا پڑھتے تھے : سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلاَئِکَۃِ وَالرُّوحِ ” یعنی پاک ہے وہ اللہ جو عزت والا برکت والا ہے، فرشتوں اور روح الامین کا پروردگار ہے۔ “
(۲۶۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَقُولُ فِی سُجُودِہِ: ((سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلاَئِکَۃِ وَالرُّوحِ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے کی تسبیحات کا بیان

اس بابت پہلے حذیفہ بن یمان کی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گزر چکی ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے۔
(٢٦٨٤) حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے۔۔۔ پھر انھوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب آپ سجدہ فرماتے تو سجدے میں یہ دعا پڑھتے : اللَّہُمَّ لَکَ سَجَدْتُ ، وَبِکَ آمَنْتُ ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ ، سَجَدَ وَجْہِی لِلَّذِی خَلَقَہُ وَصَوَّرَہُ وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ ، فَتَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے ہی سجدہ کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا اور تجھ پر بھروسا کیا۔ میرا چہرہ اس ہستی کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی صورت بنائی اور اس کے کانوں اور آنکھوں کے حلقے بنائے، کتنا بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ “
(۲۶۸۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ الْمُقَدَّمِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ الْمَاجِشُونُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا قَامَ فِی الصَّلاَۃِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ: فَإِذَا سَجَدَ قَالَ: ((اللَّہُمَّ لَکَ سَجَدْتُ ، وَبِکَ آمَنْتُ ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ ، وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، سَجَدَ وَجْہِی لِلَّذِی خَلَقَہُ وَصَوَّرَہُ وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ ، فَتَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الْمُقَدَّمِیِّ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۲۵۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبولیت کی امید رکھتے ہوئے سجدوں میں زیادہ سے زیادہ دعا کرنے کا بیان
(٢٦٨٥) عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ اٹھایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرضِ وفات میں تھے۔ پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ ! کیا میں نے تیرا دین پہنچا دیا ہے ؟ آپ نے یہ کلمات تین بار کہے، پھر فرمایا : نبوت کی بشارتوں میں سے صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں ، جنہیں مومن بندہ دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔ خبردار ! بیشک مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا جب تم رکوع کرو تو اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرو اور جب تم سجدہ کرو تو اس میں زیادہ سے زیادہ دعا کرو۔ تمہاری دعا قبول کی جائے گی۔
(۲۶۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ سُحَیْمٍ مَوْلَی الْعَبَّاسِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: کَشَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- السِّتْرَ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَعْصُوبٌ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ ، فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ؟ ۔ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ: إِنَّہُ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّۃِ إِلاَّ الرُّؤْیَا یَرَاہَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَی لَہُ ، أَلاَ وَإِنِّی قَدْ نُہِیتُ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَإِذَا رَکَعْتُمْ فَعَظِّمُوا اللَّہَ ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَہِدُوا فِی الدُّعَائِ ، فَإِنَّہُ قَمِنٌ أَنْ یُسْتَجَابَ لَکُمْ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۲۵۶۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبولیت کی امید رکھتے ہوئے سجدوں میں زیادہ سے زیادہ دعا کرنے کا بیان
(٢٦٨٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی اپنے رب کے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا سجدے میں کثرت سے دعا کیا کرو۔
(۲۶۸۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ السَّرْحِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ عَنْ سُمَیٍّ مَوْلَی أَبِی بَکْرٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَکْوَانَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((أَقْرَبُ مَا یَکُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہِ وَہُوَ سَاجِدٌ ، فَأَکْثِرُوا الدُّعَائَ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۴۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبولیت کی امید رکھتے ہوئے سجدوں میں زیادہ سے زیادہ دعا کرنے کا بیان
(٢٦٨٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سجدوں میں پڑھا کرتے تھے : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہُ ، دِقَّہُ وَجِلَّہُ وَأَوَّلَہُ وَآخِرَہُ ” اے اللہ ! میرے سارے گناہ معاف فرما دے چھوٹے بڑے، اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دے۔ “ ابنِ سرح کی روایت میں علانیتہ وسرہ کا اضافہ ہے ، یعنی اعلانیہ اور پوشیدہ گناہ بھی معاف کر دے۔
(۲۶۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیَّۃَ عَنْ سُمَیٍّ مَوْلَی أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَقُولُ فِی سُجُودِہِ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہُ ، دِقَّہُ وَجِلَّہُ وَأَوَّلَہُ وَآخِرَہُ ۔ زَادَ ابْنُ السَّرْحِ: عَلاَنِیَتَہُ وَسِرَّہُ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ بْنِ السَّرْحِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۴۸۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور سجدوں کی تکمیل کا درست اندازہ
(٢٦٨٨) (ا) وہب بن مانوس سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن جبیر کو فرماتے ہوئے سنا : حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد میں نے کسی کے پیچھے آپ جیسی نماز کے مشابہ نماز نہیں پڑھی سوائے اس نوجوان کے، وہ اس سے سیدنا عمر بن عبدالعزیز کو مراد لے رہے تھے۔

فرماتے ہیں کہ ہم نے ان رکوع اور سجدوں میں دس دس تسبیحات پڑھنے (کے وقت کے برابر) کا اندازہ لگایا۔

(ب) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ احمد بن صالح (سند کے راوی ہیں) فرماتے ہیں : میں نے اس سے پوچھا کہ مانوس نام ہے یامابوس ؟ انھوں نے کہا کہ عبدالرزاق مابوس کہتے ہیں مگر میرے حافظے میں مانوس ہے۔
(۲۶۸۸) أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَابْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ کَیْسَانَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ وَہْبِ بْنِ مَانُوسٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: مَا صَلَّیْتُ وَرَائَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَشْبَہَ صَلاَۃً بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ ہَذَا الْفَتَی۔ یَعْنِی عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ: فَحَزَرْنَا فِی رُکُوعِہِ عَشْرَ تَسْبِیحَاتٍ وَفِی سُجُودِہِ عَشْرَ تَسْبِیحَاتٍ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قُلْتُ لَہُ: مَانُوسٌ أَوْ مَابُوسٌ؟ قَالَ: أَمَّا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَیَقُولُ مَابُوسٌ ، وَأَمَّا حِفْظِی فَمَانُوسٌ۔ وَہَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ قَالَ أَحْمَدُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور سجدے کی کم از کم مقدارکا بیان
(٢٦٨٩) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی رکوع کرے اور تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ کہے تو اس کا رکوع مکمل ہوجائے گا اور یہ اس کی کم سے کم تعداد ہے۔ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی کہے، اس کا سجدہ مکمل ہوجائے گا اور ہاں یہ اس کی کم سے کم تعداد ہے۔
(۲۶۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ یَزِیدَ الْہُذَلِیِّ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا رَکَعَ أَحَدُکُمْ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ رُکُوعُہُ وَذَلِکَ أَدْنَاہُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُہُ وَذَلِکَ أَدْنَاہُ))۔ [ضعیف۔ وقد تقدم برقم ۲۵۵۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور سجدے کی کم از کم مقدارکا بیان
(٢٦٩٠) سعید جریری بنی تمیم کے ایک مشہور آدمی سے ان کے والد کی روایت نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رکوع اور سجدوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : آپ اتنی دیر ٹھہرتے تھے جتنی دیر میں کوئی شخص سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ تین بار کہہ دے۔
(۲۶۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ہَارُونَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ - أَحْسَنَ الثَّنَائَ عَلَیْہِ - عَنْ أَبِیہِ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَسَأَلْتُہُ عَنْ قَدْرِ رُکُوعِہِ وَسُجُودِہِ فَقَالَ: ((قَدْرَ مَا یَقُولُ الرَّجُلُ سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ))۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدوں میں ہاتھ رکھنے کا بیان

حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھا، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان سر مبارک رکھتے۔
(٢٦٩١) (ا) سیدنا وائل بن حجرحضرمی (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے دل میں ارادہ کیا کہ میں دیکھوں گا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیسے نماز پڑھتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھائے۔ پھر رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا ، پھر جب رکوع سے سر اٹھایا تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھائے۔ پھر جب سجدہ کیا تو اپنے چہرے کو اپنے سامنے رکھا ، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔

اسی طرح عبدالواحد بن زیاد عاصم سے روایت کرتے ہیں، یعنی کندھوں کے برابر تک ہاتھ اٹھائے۔

[ضعیف۔ بہذا اللفظ۔ ولکن معناہ ثابت صحیح عند مسلم ]

(ب) رفع یدین میں اس کی موافقت سفیان بن عیینہ نے بھی کی ہے اور بشر بن مغفل وغیرہ عاصم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اپنے ہاتھ کانوں کے برابر اٹھائے اور جب آپ نے سجدہ کیا تو اپنا سر اپنے ہاتھوں کے درمیان رکھا۔
(۲۶۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جِبَالٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیِّ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ کَیْفَ یُصَلِّی؟ قَالَ: فَقَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی کَانَتَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، فَلَمَّا رَکَعَ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی کَانَتَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ وَجْہَہُ بَیْنِ یَدَیْہِ بِذَلِکَ الْمَکَانِ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ کَذَا قَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ عَاصِمٍ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ۔

وَوَافَقَہُ عَلَی ذَلِکَ فِی رَفْعِ الْیَدَیْنِ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ۔ وَقَالَ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَغَیْرُہُ عَنْ عَاصِمٍ حَذْوَ أُذُنَیْہِ وَقَالَ: فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَہُ بِذَلِکَ الْمَنْزِلِ مِنْ یَدَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدوں میں ہاتھ رکھنے کا بیان

حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھا، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان سر مبارک رکھتے۔
(٢٦٩٢) سیدنا وائل بن حجر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ کرتے تو آپ کے ہاتھ آپ کے کانوں کے برابر ہوتے۔
(۲۶۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا سَجَدَ یَکُونُ یَدَاہُ حِذَائَ أُذُنَیْہِ۔ کَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔

[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۲۶۶۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدوں میں ہاتھ رکھنے کا بیان

حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھا، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان سر مبارک رکھتے۔
(٢٦٩٣) وکیع ثوری سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کے ہاتھ آپ کے کانوں کے قریب ہوتے تھے۔
(۲۶۹۳) وَقَالَ وَکِیعٌ عَنِ الثَّوْرِیِّ بِإِسْنَادِہِ ہَذَا قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ سَجَدَ وَیَدَیْہِ قَرِیبَتَیْنِ مِنْ أُذُنَیْہِ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ۔ وَہَذَا أَوْلَی لِمُوَافَقَتِہِ رِوَایَۃِ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ وَأَصْحَابِہِ۔

[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ وہو لفظ ابن ابی شیبہ]
tahqiq

তাহকীক: