আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২৫৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٣٤) (ا) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر صدیق اور عمر فاروق (رض) کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ ان سب نے صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کیا تھا۔

(ب) حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ وہ نماز میں صرف تکبیر اولیٰ کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ پھر دوبارہ اس طرح کا کوئی کام نہ کرتے تھے (یعنی بعد میں رفع یدین نہیں کرتے تھے) ۔
(۲۵۳۴) قَالَ الشَّیْخُ: وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ یَرْفَعُوا أَیْدِیَہُمْ إِلاَّ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاَۃِ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِی إِسْرَائِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ فَذَکَرَہُ۔

(ج) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالَ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: تَفَرَّدَ بِہِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ - وَکَانَ ضَعِیفًا - عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، وَغَیْرُ حَمَّادٍ یَرْوِیہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ مُرْسَلاً عَنْ عَبْدِ اللَّہِ مِنْ فِعْلِہِ غَیْرَ مَرْفُوعٍ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ الصَّوَابُ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَکَذَلِکَ رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُرْسَلاً مَوْقُوفًا۔

وَرَوَی أَبُوبَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی التَّکْبِیرَۃِ الأُولَی مِنَ الصَّلاَۃِ ، ثُمَّ لاَ یَرْفَعُ فِی شَیْئٍ مِنْہَا۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن الجوزی فی الموضوعات ۲/۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٣٥) (ا) ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔

(ب) ایک اور سند سے سیدنا علی (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔

حضرت علی کے بارے اس طرح گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل پر اپنے عمل کو ترجیح دیں۔

زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی (رح) اپنے قول قدیم میں فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) اور ابن مسعود (رض) کی روایات ثابت نہیں کہ وہ دونوں صرف نماز کی ابتدا میں رفع یدین کرتے تھے اس کے علاوہ نہیں کرتے تھے۔

امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صرف عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ انھوں نے اس روایت کو لے لیا لیکن جو روایت عاصم نے اپنے باپ سے اور انھوں نے وائل بن حجر (رض) سے روایت لی ہے اسے چھوڑ دیا ، یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رفع یدین کیا جیسا کہ ابن عمر (رض) نے روایت کیا ہے اور اگر یہ روایت علی اور عبداللہ بن مسعود (رض) سے ثابت بھی ہوجائے تو اس میں یہ اشتباہ بھی ہوسکتا ہے کہ انھوں نے ایک ہی بار دیکھا ہو اور رفع یدین کی طرف توجہ نہ دی ہو۔

اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ ان سے یہ یادداشت چلی گئی اور ابن عمر (رض) نے اس کو یاد رکھا ہو تو اس کے لیے حجت بن سکتی ہے۔
(۲۵۳۵) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَنْزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ فَذَکَرَہُ۔

قَالَ عُثْمَانُ الدَّارِمِیُّ: فَہَذَا قَدْ رُوِیَ مِنْ ہَذَا الطَّرِیقِ الْوَاہِی عَنْ عَلِیٍّ۔

وَقَدْ رَوَی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ الأَعْرَجُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ -ﷺ- یَرْفَعُہُمَا عِنْدَ الرُّکُوعِ وَبَعْدَ مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ۔

فَلَیْسَ الظَّنُّ بِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ یَخْتَارُ فِعْلَہُ عَلَی فِعْلِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

وَلَکِنْ لَیْسَ أَبُو بَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ مِمَّنْ یُحْتَجُّ بِرِوَایَتِہِ أَوْ تَثْبُتُ بِہِ سُنَّۃٌ لَمْ یَأْتِ بِہَا غَیْرُہُ۔

قَالَ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ: وَلاَ یَثْبُتُ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ یَعْنِی مَا رَوَوْہُ عَنْہُمَا مِنْ أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یَرْفَعَانِ أَیْدِیَہُمَا فِی شَیْئٍ مِنَ الصَّلاَۃِ إِلاَّ فِی تَکْبِیرَۃِ الاِفْتِتَاحِ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَإِنَّمَا رَوَاہُ عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ۔ فَأَخَذَ بِہِ وَتَرَکَ مَا رَوَی عَاصِمٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- رَفَعَ یَدَیْہِ کَمَا رَوَی ابْنُ عُمَرَ ، وَلَوْ کَانَ ہَذَا ثَابِتًا عَنْ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ کَانَ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ رَآہُمَا مَرَّۃً أَغْفَلاَ فِیہِ رَفْعَ الْیَدَیْنِ ، وَلَوْ قَالَ قَائِلٌ ذَہَبَ عَنْہُمَا حِفْظُ ذَلِکَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَحَفِظَہُ ابْنُ عُمَرَ لَکَانَتْ لَہُ الْحُجَّۃُ۔ [صحیح۔ رجالہ کلہم ثقات]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٣٦) (ا) حصین بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ہم ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمرو بن مرۃ نے انھیں بیان کیا کہ ہم نے مسجدخضر میں نماز پڑھی تو علقمہ بن وائل نے مجھے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھایا (یعنی رفع یدین) کیا اور جب رکوع کیا تب بھی رفع یدین کیا۔ ابراہیم نے کہا : میں نہیں سمجھتا (خیال کرتا) کہ علقمہ کے والد (وائل) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس دن کے علاوہ کسی اور دن دیکھا ہو ، پس انھوں نے وہی یاد کرلیا اور عبداللہ (رض) نے ان سے اس کو یاد نہیں کیا ، پھر ابراہیم نے کہہ دیا کہ رفع یدین تو صرف نماز شروع کرنے کے وقت ہے۔

(ب) ابوبکر بن اسحق فقیہ فرماتے ہیں کہ یہ ایسی علت ہے جو اپنے سماع کو نہیں پہنچ سکتی؛ کیونکہ رفع یدین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے۔ اس کے بعد خلفائے راشدین سے، پھر صحابہ اور تابعین سے بھی ثابت ہے اور عبداللہ بن مسعود (رض) کے نسیان میں صرف رفع یدین ہی نہیں ہے کہ جس کو دوسرے صحابہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے دیکھا، بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ابن مسعود (رض) بھول گئے تھے۔ جیسا کہ آپ (رض) قرآن سے وہ چیز بھول گئے جس میں مسلمانوں نے کبھی اختلاف نہیں کیا اور وہ معوذتین ہیں۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس میں نسیان کا شکار ہوئے جس کے منسوخ اور متروک ہونے پر تمام علما کا اتفاق ہے یعنی تطبیق کرنے سے اور امام کے پیچھے دو آدمیوں کے کھڑے ہونے کی کیفیت میں نیز اس مسئلہ میں بھی انھیں نسیان ہوا، جس کے بارے میں علما میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید الاضحی کے روز صبح کی نماز اپنے وقت پر ہی پڑھی۔ اسی طرح آپ (رض) عرفہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جمع ہونے کی کیفیت میں بھی نسیان کا شکار ہوئے۔ آپ اس اتفافی مسئلہ کو بھی بھول گئے کہ نماز میں سجدے کی حالت میں کہنیوں اور بازوؤں کو زمین سے جدا رکھتے ہیں اور یہ بھی بھول گئے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس طرح { وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالأُنْثَی } [اللیل : ٣] پڑھتے تھے اور جب سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) ، درست ہے کہ وہ نماز میں اس طرح بھولے ہیں تو ممکن ہے رفع یدین بھی بھول گئے ہوں۔
(۲۵۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ حَصِینٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَی إِبْرَاہِیمَ فَحَدَّثَہُ عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ قَالَ: صَلَّیْنَا فِی مَسْجِدِ الْحَضْرَمِیِّینَ فَحَدَّثَنِی عَلْقَمَۃُ بْنُ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَفَعَ یَدَیْہِ حِینَ یَفْتَتِحُ الصَّلاَۃَ ، وَإِذَا رَکَعَ۔ فَقَالَ إِبْرَاہِیمُ: مَا أَرَی أَبَاہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِلاَّ ذَاکَ الْیَوْمَ الْوَاحِدَ ، فَحَفِظَ ذَلِکَ ، وَعَبْدُ اللَّہِ لَمْ یَحْفَظْ ذَلِکَ مِنْہُ۔ ثُمَّ قَالَ إِبْرَاہِیمُ: إِنَّمَا رَفْعُ الْیَدَیْنِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاَۃِ۔

لَفْظُ حَدِیثِ جَرِیرٌ۔

قَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ: ہَذِہِ عِلَّۃٌ لاَ تَسْوِی سَمَاعَہَا ، لأَنَّ رَفْعَ الْیَدَیْنِ قَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ عَنِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِینَ ثُمَّ عَنِ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ ، وَلَیْسَ فِی نِسْیَانِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَفْعَ الْیَدَیْنِ مَا یُوجِبُ أَنَّ ہَؤُلاَئَ الصَّحَابَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ لَمْ یَرَوْا النَّبِیَّ -ﷺ- رَفَعَ یَدَیْہِ ، قَدْ نَسِیَ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنَ الْقُرْآنِ مَا لَمْ یَخْتَلِفِ الْمُسْلِمُونَ فِیہِ بَعْدُ ، وَہِیَ الْمُعَوِّذَتَانِ ، وَنَسِیَ مَا اتَّفَقَ الْعُلَمَائُ کُلُّہُمْ عَلَی نَسْخِہِ وَتَرْکِہِ مِنَ التَّطْبِیقِ ، وَنَسِیَ کَیْفِیَّۃِ قِیَامِ اثْنَیْنِ خَلْفَ الإِمَامَ ، وَنَسِیَ مَا لَمْ یَخْتَلِفِ الْعُلَمَائُ فِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی الصُّبْحَ یَوْمَ النَّحْرِ فِی وَقْتِہَا ، وَنَسِیَ کَیْفِیَّۃَ جَمْعِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِعَرَفَۃَ ، وَنَسِیَ مَا لَمْ یَخْتَلِفِ الْعُلَمَائُ فِیہِ مِنْ وَضْعِ الْمِرْفَقِ وَالسَّاعِدِ عَلَی الأَرْضِ فِی السُّجُودِ ، وَنَسِیَ کَیْفَ کَانَ یَقْرَأُ النَّبِیُّ -ﷺ- {وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالأُنْثَی} [اللیل: ۳] وَإِذَا جَازَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ أَنْ یَنْسَی مِثْلَ ہَذَا فِی الصَّلاَۃِ خَاصَّۃً کَیْفَ لاَ یَجُوزُ مِثْلُہُ فِی رَفْعِ الْیَدَیْنِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الدار قطنی ۱/ ۲۹۱/ ۱۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٣٧) ربیع بن سلمان فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی (رض) سے پوچھا کہ رکوع کے وقت رفع یدین کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا : ابتدائے نماز میں ان کو اٹھانے کا جو معنی ہے وہی اس سے مقصود ہے۔

(پھر فرمایا :) اس میں اللہ کی عظمت کا اظہار اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی اتباع ہے اور اللہ کی طرف سے ثواب کی امید بھی ہے اور یہ صفا مروہ پر ہاتھ اٹھانے کی طرح ہے۔
(۲۵۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قُلْتُ لِلشَّافِعِیِّ: مَا مَعْنَی رَفْعِ الْیَدَیْنِ عِنْدَ الرُّکُوعِ؟ فَقَالَ: مِثْلُ مَعْنَی رَفْعِہِمَا عِنْدَ الاِفْتِتَاحِ ، تَعْظِیمًا لِلَّہِ وَسُنَّۃً مُتَّبَعَۃً یُرْجَی فِیہَا ثُوَابُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِثْلُ رَفْعِ الْیَدَیْنِ عَلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَغَیْرِہِمَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٣٨) وکیع فرماتے ہیں کہ میں نے کوفہ کی مسجد میں نماز ادا کی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، لیکن رفع یدین نہیں کر رہے۔ جب کہ عبداللہ بن مبارک (رح) ان کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے۔ عبداللہ (رح) جب بھی رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے اور ابوحنیفہ (رح) نہیں کر رہے تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو امام ابوحنیفہ (رح) نے عبداللہ (رح) سے فرمایا : اے ابوعبدالرحمن ! میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو اتنا زیادہ رفع یدین کرتا ہے گویا اڑنے لگا ہے تو عبداللہ بن مبارک (رح) نے جواب دیا : اے ابوحنیفہ ! میں نے آپ کو دیکھا، آپ نے نماز کے شروع میں رفع یدین کیا، کیا آپ اس وقت اڑنا چاہتے تھے ؟ ابوحنیفہ (رح) یہ سن کر خاموش ہوگئے۔ وکیع (رح) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ (رح) کو ابوحنیفہ (رح) کے سامنے حاضر جوابی سے زیادہ کسی کی حاضر جوابی نہیں دیکھی۔
(۲۵۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِیمٍ الصَّائِغُ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْخَطَّابِ السُّلَمِیُّ وَکَانَ رَجُلاً صَالِحًا قَالَ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ: صَلَّیْتُ فِی مَسْجِدِ الْکُوفَۃِ ، فَإِذَا أَبُو حَنِیفَۃَ قَائِمٌ یُصَلِّی ، وَابْنُ الْمُبَارَکِ إِلَی جَنْبِہِ یُصَلِّی ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّہِ یَرْفَعُ یَدَیْہِ کُلَّمَا رَکَعَ وَکُلَّمَا رَفَعَ ، وَأَبُو حَنِیفَۃَ لاَ یَرْفَعُ ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنَ الصَّلاَۃِ قَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ لِعَبْدِ اللَّہِ: یَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ رَأَیْتُکَ تُکْثِرُ رَفْعَ الْیَدَیْنِ أَرَدْتَ أَنْ تَطِیرَ؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ: یَا أَبَا حَنِیفَۃَ قَدْ رَأَیْتُکَ تَرْفَعُ یَدَیْکَ حِینَ افْتَتَحْتَ الصَّلاَۃَ ، فَأَرَدْتَ أَنْ تَطِیرَ؟ فَسَکَتَ أَبُو حَنِیفَۃَ۔ قَالَ وَکِیعٌ: فَمَا رَأَیْتُ جَوَابًا أَحْضَرَ مِنْ جَوَابِ عَبْدِ اللَّہِ لأَبِی حَنِیفَۃَ۔ [ضعیف جدا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٣٩) سلیمان بن داؤد شاذ کونی فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ امام اوزاعی اور سفیان ثوری ; منیٰ میں اکٹھے ہوئے تو اوزاعی نے ثوری سے کہا : آپ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کیوں نہیں کرتے ؟ ثوری نے کہا کہ ہمیں یزید بن ابی زیاد نے حدیث بیان کی ہے تو امام اوزاعی نے فرمایا : میں تجھے زہری عن سالم عن ابیہ عن النبی سے روایت بیان کرتا ہوں اور تو میرے سامنے یزید بن ابی یزید کی حدیث بیان کرتا ہے، حالانکہ یزید ضعیف راوی ہے اور اس کی حدیث سنت کے مخالف ہے ؟ راوی فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری کا چہرہ سرخ ہوگیا تو اوزاعی نے کہا : لگتا ہے آپ کو میری بات بری لگی ہے ؟ تو ثوری نے کہا : جی ہاں ! اوزاعی نے کہا : ہمارے ساتھ اس جگہ کھڑے ہوجاؤ، ہم ایک دوسرے پر لعنت کریں کہ ہم میں سے کون حق پر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ثوری نے جب دیکھا کہ اوزاعی غصہ ہوگئے ہیں تو وہ مسکرانے لگے۔
(۲۵۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمَیْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمَرْوَزِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ الطَّبَرِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَکُونِیُّ قَالَ سَمِعْتُ سُفْیَانَ بْنَ عُیَیْنَۃَ یَقُولُ: اجْتَمَعَ الأَوْزَاعِیُّ وَالثَّوْرِیُّ بِمِنًی ، فَقَالَ الأَوْزَاعِیُّ لِلثَّوْرِیِّ: لِمَ لاَ تَرْفَعُ یَدَیْکَ فِی خَفَضِ الرُّکُوعِ وَرَفْعِہِ؟ فَقَالَ الثَّوْرِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ۔ فَقَالَ الأَوْزَاعِیُّ: أَرْوِی لَکَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَتُعَارِضُنِی بِیَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، وَیَزِیدُ رَجُلٌ ضَعِیفُ الْحَدِیثِ ، وَحَدِیثُہُ مُخَالِفٌ لِلسُّنَّۃِ۔ قَالَ: فَاحْمَارَّ وَجْہُ سُفْیَانَ الثَّوْرِیَّ ، فَقَالَ الأَوْزَاعِیُّ: کَأَنَّکَ کَرِہْتَ مَا قُلْتُ؟ قَالَ الثَّوْرِیُّ: نَعَمْ۔ قَالَ الأَوْزَاعِیُّ: قُمْ بِنَا إِلَی الْمَقَامِ نَلْتَعِنُ أَیُّنَا عَلَی الْحَقِّ۔ قَالَ: فَتَبَسَّمَ الثَّوْرِیُّ لَمَّا رَأَی الأَوْزَاعِیَّ قَدِ احْتَدَّ۔ [موضوع الشاذ۔ کوفی کذا بان]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٤٠) ایک دوسری سند سے اس کے ہم معنی روایت بھی موجود ہے۔
(۲۵۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْذَعِیُّ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَمْدَوَیْہَ الإِشْتَیْخِنِی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ الطَّبَرِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَی رِوَایَۃِ الْمَرْوَزِیِّ۔ [موضوع۔ الطبری کذاب]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع کرتے ہوئے رفع یدین کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٥٤١) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے حتیٰ کہ وہ کندھوں کے برابر ہوجاتے، پھر جب بھی تکبیر کہتے تو ایسے ہی رفع یدین کرتے اور رکوع کرتے، پھر جب رکوع سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح رفع یدین کرتے یہاں تک کہ ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے، پھر فرماتے : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُاور سجدوں میں رفع یدین نہیں کرتے تھے، لیکن رکوع سے پہلے ہر تکبیر میں رفع یدین کرتے حتیٰ کہ آپ کی نماز مکمل ہوجاتی۔
(۲۵۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاَسَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّی الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا الزُّبَیْدِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی تَکُونَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، ثُمَّ یُکَبِّرُ وَہُمَا کَذَلِکَ فَیَرْکَعُ ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْفَعَ صُلْبَہُ رَفَعَہُمَا حَتَّی تَکُونَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ))۔ وَلاَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی السُّجُودِ وَیَرْفَعُہُمَا فِی کُلِّ تَکْبِیرَۃٍ یُکَبِّرُہَا قَبْلَ الرُّکُوعِ حَتَّی تَنْقَضِیَ صَلاَتُہُ۔

الزُّبَیْدِیُّ ہَذَا اسْمُہُ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ عَامِرٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۷۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھنے کا بیان
(٢٥٤٢) اسود اور علقمہ ; سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ بن مسعود (رض) کے گھر آئے۔ انھوں نے پوچھا : کیا ان لوگوں نے تمہارے پیچھے نماز پڑھی ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں۔ انھوں نے فرمایا : کھڑے ہوجاؤ ، نماز پڑھو۔ لیکن انھوں نے ہمیں نہ اذان کا حکم دیا نہ اقامت کا۔ ہم چلے تاکہ ان کے پیچھے کھڑے ہوں تو انھوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ہم میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کرلیا۔

جب ہم نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے تو انھوں نے ہمارے ہاتھوں پر چٹکی ماری اور اپنی ہتھیلیوں کو پھر انھیں اپنی رانوں کے درمیان رکھ دیا۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو انھوں نے فرمایا : عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے اور اس کو آخر وقت تک روک رکھیں گے۔ جب تم ان (حکمرانوں) کو دیکھو کہ وہ اس طرح کریں تو تم نماز کو اس کے وقت میں ادا کرو اور ان کے ساتھ نماز کو نفل بنا لو اور جب تم تین آدمی ہو تو اکٹھے (ایک ہی صف میں) نماز پڑھو۔ اگر تمہاری تعداد اس سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک آگے نکل جائے۔ جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے بازوں کو اپنی رانوں پر پھیلا دے۔ پھر اپنی ہتھیلیوں کو ملا کر گھٹنوں کے درمیان رکھ لے۔ عبداللہ بن مسعود (رض) نے ہمیں کر کے دکھایا ۔ پھر فرمایا کہ گویا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگلیوں کو کھلا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ ابو معاویہ کہتے ہیں : یہ عمل متروک ہوچکا ہے۔
(۲۵۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ وَعَلْقَمَۃَ قَالاَ: أَتَیْنَا عَبْدَ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ فِی دَارِہِ قَالَ: صَلَّی ہَؤُلاَئِ خَلْفَکُمْ؟ قُلْنَا: لاَ۔ فَقَالَ: قُومُوا فَصَلُّوا۔ فَلَمْ یَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلاَ إِقَامَۃٍ ، فَذَہَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَہُ ، فَأَخَذَ بِأَیْدِینَا فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ یَمِینِہِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِہِ ، فَلَمَّا رَکَعْنَا وَضَعْنَا أَیْدِیَنَا عَلَی رُکَبِنَا ، فَضَرَبَ أَیْدِیَنَا وَطَبَّقَ کَفَّیْہِ ، ثُمَّ أَدْخَلَہُمَا بَیْنَ فَخِذَیْہِ ، فَلَمَّا صَلَّیْنَا قَالَ: إِنَّہُ سَیَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ یُؤَخِّرُونَ الصَّلاَۃَ عَنْ مَوَاقِیتِہَا ، وَیَخْنُقُونَہَا إِلَی شَرَقِ الْمَوْتَی - یَعْنِی آخِرَ الْوَقْتِ - فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُمْ قَدْ فَعَلُوا ذَلِکَ فَصَلُّوا الصَّلاَۃَ لِوَقْتِہَا ، وَاجْعَلُوا صَلاَتَکُمْ مَعَہُمْ سُبْحَۃً ، وَإِذَا کُنْتُمْ ثَلاَثَۃً فَصَلُّوا جَمِیعًا ، وَإِذَا کُنْتُمْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَلْیَتَقَدَّمَکُمْ أَحَدُکُمْ ، فَإِذَا رَکَعَ أَحَدُکُمْ فَلْیَفْرِشْ ذِرَاعَیْہِ عَلَی فَخِذَیْہِ۔ ثُمَّ طَبَّقَ بَیْنَ کَفَّیْہِ وَأَرَانَا قَالَ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ: ہَذَا قَدْ تُرِکَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۵۳۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلیوں کے گھٹنوں پر رکھنے کی سنت کا بیان اور تطبیق کے منسوخ ہونے کا بیان
(٢٥٤٣) ابویعفور سے روایت ہے کہ میں نے مصعب بن سعد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے والد کے پاس نماز ادا کی تو میں نے اپنی ہتھیلیوں کو ملا کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ دیا۔ میرے والد نے مجھے اس سے روکا اور فرمایا کہ ہم بھی پہلے اس طرح کرتے تھے، بعد میں ہمیں روک دیا گیا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھیں۔
(۲۵۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی یَعْفُورٍ قَالَ سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ یَقُولُ: صَلَّیْتُ إِلَی جَنْبِ أَبِی ، فَطَبَّقْتُ بَیْنَ کَفَّیَّ ثُمَّ وَضَعْتُہُمَا بَیْنَ فَخِذَیَّ ، فَنَہَانِی أَبِی عَنْ ذَلِکَ وَقَالَ: کُنَّا نَفْعَلُ ہَذَا فَنُہِینَا عَنْہُ ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَیْدِیَنَا عَلَی الرُّکَبِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۹۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلیوں کے گھٹنوں پر رکھنے کی سنت کا بیان اور تطبیق کے منسوخ ہونے کا بیان
(٢٥٤٤) (ا) حضرت مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ دیا تو انھوں نے میرے ہاتھ پر چٹکی ماری۔ مصعب کہتے ہیں : میں نے ایک مرتبہ پھر ان کے پہلو میں نماز پڑھی تو اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھ دیا۔ انھوں نے پھر میرے ہاتھ پر چٹکی لگائی اور فرمایا : میرے پیارے بیٹے ! بیشک ہم بھی پہلے اس طرح کیا کرتے تھے ، پھر ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔

(ب) امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس کو قتیبہ وغیرہ سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ہمیں اس سے منع کردیا گیا تھا اور ہمیں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔
(۲۵۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ: عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی عُثْمَانَ الزَّاہِدُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی یَعْفُورٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: صَلَّیْتُ إِلَی جَنْبِ سَعْدٍ فَطَبَّقْتُ بِیَدَیَّ فَجَعَلْتُہُمَا بَیْنَ رُکْبَتَیَّ ، فَضَرَبَ بِیَدَیَّ -قَالَ- ثُمَّ صَلَّیْتُ مَرَّۃً أُخْرَی إِلَی جَنْبِہِ فَطَبَّقْتُ بِیَدَیَّ فَجَعَلْتُہُمَا بَیْنَ رُکْبَتَیَّ - قَالَ - فَضَرَبَ بِیَدَیَّ ، وَقَالَ: یَا بُنَیَّ إِنَّا کُنَّا نَفْعَلُ ہَذَا فَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالأَکُفِّ عَلَی الرُّکَبِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ وَزَادَ: إِنَّا نُہِینَا عَنْ ہَذَا ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالأَکُفِّ عَلَی الرُّکَبِ۔

وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلیوں کے گھٹنوں پر رکھنے کی سنت کا بیان اور تطبیق کے منسوخ ہونے کا بیان
(٢٥٤٥) سیدنا مصعب بن سعد (رح) سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے پاس نماز ادا کررہا تھا۔ جب میں نے رکوع کیا تو میں نے اس طرح کیا۔ انھوں نے اپنے ہاتھوں کو ملا کر انھیں اپنی ٹانگوں کے درمیان رکھ دیا۔ جب میرے والد نماز سے فارغ ہوئے تو انھوں نے فرمایا کہ ہم بھی اس طرح کیا کرتے تھے، لیکن بعد میں ہمیں حکم ملا کہ ہم ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔
(۲۵۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ یَعْنِی ابْنَ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: کُنْتُ أُصَلِّی إِلَی جَنْبِ أَبِی ، فَلَمَّا رَکَعْتُ قُلْتُ کَذَا - وَطَبَّقَ یَدَیْہِ بَیْنَ رِجْلَیْہِ - فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: کُنَّا نَفْعَلُ ہَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَ إِلَی الرُّکَبِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلیوں کے گھٹنوں پر رکھنے کی سنت کا بیان اور تطبیق کے منسوخ ہونے کا بیان
(٢٥٤٦) ابو عبدالرحمن سلمی سے روایت ہے کہ ہم جب رکوع کرتے تھے تو اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھ لیتے تھے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے لوگو ! تمہارے لیے سنت طریقہ یہ ہے کہ تم گھٹنوں کو پکڑ لو، لہٰذا رکوع میں گھٹنوں کو پکڑ لیا کرو۔
(۲۵۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِی حَصِینٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ قَالَ: أَقْبَلَ عُمَرُ فَقَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ سُنَّتْ لَکُمُ الرُّکَبُ فَأَمْسِکُوا بِالرُّکَبِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطیالسی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلیوں کے گھٹنوں پر رکھنے کی سنت کا بیان اور تطبیق کے منسوخ ہونے کا بیان
(٢٥٤٧) ابوعبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ ہم رکوع کرتے ہوئے اپنے ہاتھ رانوں میں رکھ لیتے تھے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : سنت طریقہ گھٹنوں کو پکڑ لینا ہے۔
(۲۵۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی حَصِینٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ قَالَ: کُنَّا إِذَا رَکَعْنَا جَعَلْنَا أَیْدِیَنَا بَیْنَ أَفْخَاذِنَا ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِنَّ مِنَ السُّنَّۃِ الأَخْذَ بِالرُّکَبِ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلیوں کے گھٹنوں پر رکھنے کی سنت کا بیان اور تطبیق کے منسوخ ہونے کا بیان
(٢٥٤٨) (ا) خیثمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا۔ چونکہ میں بھی عبداللہ بن مسعود (رض) کے شاگردوں کی طرح رکوع میں ہاتھ رانوں کے درمیان رکھ لیتا تھا۔ ایک آدمی نے کہا : آپ کو اس کام پر کس نے ترغیب دی ؟ میں نے کہا : عبداللہ بن مسعود (رض) اس طرح لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح کرتے تھے۔

اس نے کہا : عبداللہ (رض) نے سچ فرمایا، لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ عرصہ اس طرح کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نیا حکم جاری کیا۔ لہٰذا مسلمانوں کے اتفاقی مسئلے پر عمل کرو۔ راوی کہتے ہیں : جب وہ دوبارہ تشریف لائے تو تطبیق نہیں کرتے تھے۔

(ب) شیخ بیہقی فرماتے ہیں : اسی پر تمام لوگوں کا عمل ہے۔ ابو حمید ساعدی کی حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رکوع کی کیفیت ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اہل مدینہ ناسخ اور منسوخ کے بارے میں اہل کوفہ سے زیادہ جان پہچان رکھتے ہیں۔ وباللہ التوفیق
(۲۵۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ خَیْثَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَبْرَۃَ الْجُعْفِیِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَجَعَلْتُ أُطَبِّقُ کَمَا یُطَبِّقُ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّہِ وَأَرْکَعُ ، قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ: یَا عَبْدَ اللَّہِ مَا یَحْمِلُکَ عَلَی ہَذَا؟ قُلْتُ: کَانَ عَبْدُ اللَّہِ یَفْعَلُہُ ، وَذَکَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَفْعَلُہُ۔ قَالَ: صَدَقَ عَبْدُ اللَّہِ ، وَلَکِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رُبَّمَا صَنَعَ الأَمْرَ ، ثُمَّ أَحْدَثَ اللَّہُ لَہُ الأَمْرَ الآخَرَ ، فَانْظُرْ مَا اجْتَمَعَ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ فَاصْنَعْہُ۔ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ کَانَ لاَ یُطَبِّقُ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا الَّذِی صَارَ الأَمْرُ إِلَیْہِ مَوْجُودٌ فِی حَدِیثِ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ وَغَیْرِہِ فِی صِفَۃِ رُکُوعِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَفِی ذَلِکَ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ أَعْرَفُ بِالنَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]ٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع کی کیفیت کا بیان
(٢٥٤٩) محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کی ایک جماعت میں بیٹھے تھے۔ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابوحمید ساعدی (رض) نے فرمایا : میں تم سب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کو خوب یاد رکھنے والا ہوں۔ میں نے دیکھا آپ جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ دیتے تھے۔ پھر اپنی پیٹھ جھکا دیتے، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
(۲۵۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ : أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: فَذَکَرْنَا صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ أَبُو حُمَیْدٍ السَّاعِدِیُّ: أَنَا کُنْتُ أَحْفَظَکُمْ لِصَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَأَیْتُہُ إِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، وَإِذَا رَکَعَ أَمْکَنَ یَدَیْہِ مِنْ رُکْبَتَیْہِ ، ثُمَّ ہَصَرَ ظَہْرَہُ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۲۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع کی کیفیت کا بیان
(٢٥٥٠) محمد بن عمرو عامری سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کی مجلس میں تھا۔ وہ آپس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ابوحمید (رض) نے فرمایا۔۔۔ پھر انھوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما لیتے اور انگلیوں کے درمیان فاصلہ رکھتے۔ پھر اپنی کمر کو جھکاتے اور نہ تو زیادہ جھکاتے اور نہ ہی اپنے رخساروں کو ظاہر کرتے ، یعنی زیادہ اوپر نہ اٹھاتے۔
(۲۵۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو الْعَامِرِیِّ قَالَ: کُنْتُ فِی مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَذَاکَرُوا صَلاَتَہُ ، فَقَالَ أَبُو حُمَیْدٍ فَذَکَرَ بَعْضَ ہَذَا الْحَدِیثِ وَقَالَ: إِذَا رَکَعَ أَمْکَنَ کَفَّیْہِ مِنْ رُکْبَتَیْہِ ، وَفَرَّجَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ ، ثُمَّ ہَصَرَ ظَہْرَہُ غَیْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَہُ وَلاَ صَافِحٍ بِخَدِّہِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۶۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع کی کیفیت کا بیان
(٢٥٥١) عباس بن سہل حدیث فرماتے ہیں کہ ابو حمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ (رض) (ایک جگہ) جمع تھے۔ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا ذکر کیا۔ ابو حمید (رض) کہنے لگے : میں تم سب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کو زیادہ جاننے والا ہوں، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ پھر فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا گویا کہ آپ گھٹنوں کو پکڑے ہوئے تھے۔ اپنی انگلیوں کو کھول لیا اور بازو اپنے پہلو سے دور رکھے۔
(۲۵۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنِی فُلَیْحٌ حَدَّثَنِی عَبَّاسُ بْنُ سَہْلٍ قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَیْدٍ وَأَبُو أُسَیْدٍ وَسَہْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ فَذَکَرُوا صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ: أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَوَضَعَ یَدَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ کَأَنَّہُ قَابِضٌ عَلَیْہِمَا ، وَوَتَّرَ یَدَیْہِ فَجَافَی عَنْ جَنْبَیْہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۷۳۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع کی کیفیت کا بیان
(٢٥٥٢) ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کو تکبیر کے ساتھ شروع کرتے، پھر مکمل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ زیادہ اونچا رکھتے اور نہ زیادہ نیچا رکھتے۔ بلکہ سیدھا رکھتے۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
(۲۵۵۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَفْتَتِحُ الصَّلاَۃَ بِالتَّکْبِیرِ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ: وَکَانَ إِذَا رَکَعَ لَمْ یُشْخِصْ رَأْسَہُ وَلَمْ یُصَوِّبْہُ ، وَلِکَنْ بَیْنَ ذَلِکَ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۴۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع کی کیفیت کا بیان
(٢٥٥٣) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ وضو نماز کی چابی ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر (تحریمہ) ہے اور اس سے حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے اور ہر دو رکعت میں سلام (پھیرنا ہے) اور کوئی فرض نماز یا نفل نماز ایسی نہیں جس میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت نہ پڑھی جائے اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو گدھے کے طرح کو ہان نہ بنائے (یعنی رکوع میں کمر پھیلا کر اور سر جھکا کر پیٹھ سے نیچے نہ کرے) بلکہ اپنی کمر سیدھی رکھے اور جب سجدہ کرے تب بھی اپنی کمر سیدھی رکھے ، بیشک انسان سات ہڈیوں پر سجدہ کرتا ہے : اپنی پیشانی پر، دونوں ہاتھوں پر، دونوں گھٹنوں پر اور اپنے پاؤں کے اگلے حصے (انگلیوں) پر اور جب بیٹھے تو اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا رکھے اور بائیں پاؤں کو بچھا لے۔
(۲۵۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ السَّعْدِیِّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ - أُرَاہُ رَفَعَہُ شَکَّ أَبُو مُعَاوِیَۃَ - قَالَ: مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطُّہُورُ ، وَتَحْرِیمُہَا التَّکْبِیرُ ، وَتَحْلِیلُہَا التَّسْلِیمُ ، وَفِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ تَسْلِیمَۃٌ ، وَلاَ صَلاَۃَ لاَ یُقْرَأُ فِیہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَغَیْرِہَا فَرِیضَۃً أَوْ غَیْرِ فَرِیضَۃٍ ، وَإِذَا رَکَعَ أَحَدُکُمْ فَلاَ یُدَّبِحْ تَدْبِیحَ الْحِمَارِ وَلْیُقِمْ صُلْبَہُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَلْیَمُدَّ صُلْبَہُ ، فَإِنَّ الإِنْسَانَ یَسْجُدُ عَلَی سَبْعَۃِ أَعْظُمٍ: جَبْہَتِہِ وَکَفَّیْہِ وَرُکْبَتَیْہِ وَصُدُورِ قَدَمَیْہِ ، وَإِذَا جَلَسَ فَلْیُنْصِبْ رِجْلَہُ الْیُمْنَی وَلْیُخْفِضْ رِجْلَہُ الْیُسْرَی ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: