আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২৫১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥١٤) ایک دوسری سند کے ساتھ انہی سے اسی جیسی روایت منقول ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ہاتھوں کو اٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔
(۲۵۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ وَزَادَ: رَفَعَ الْیَدَیْنِ إِذَا کَبَّرَ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔

وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَأَبُو عَوَانَۃَ وَہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی وَہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ وَغَیْرُہُمْ عَنْ قَتَادَۃَ۔

[صحیح۔ وتقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥١٥) علقمہ بن وائل اور ان کے غلام دونوں نے علقمہ کے والد سیدنا وائل (رض) سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہتے ہوئے دیکھا۔ (سند کے راوی) ابو عثمان کہتے ہیں کہ ہمام نے یہ صفت بھی بیان کی کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر تک اٹھایا، پھر اپنے کپڑے میں ہاتھ لپیٹ لیے اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا ، پھر جب رکوع کا ارادہ فرمایا تو اپنے ہاتھوں کو چادر سے باہر نکالا اور ہاتھ بلند کرتے ہوئے تکبیر کہی ۔ پھر جب سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو بھی ہاتھ اٹھائے پھر دونوں ہتھیلیوں کے درمیان۔
(۲۵۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَۃَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ وَمَوْلًی لَہُمْ أَنَّہُمَا حَدَّثَاہُ عَنْ أَبِیہِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ -ﷺ- حِینَ دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ کَبَّرَ - قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: وَصَفَ ہَمَّامٌ حِیَالَ أُذُنَیْہِ - یَعْنِی رَفَعَ الْیَدَیْنِ ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِہِ ، ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنَی عَلَی یَدِہِ الْیُسْرَی ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ أَخْرَجَ یَدَیْہِ مِنَ الثَّوْبِ وَرَفَعَہُمَا فَکَبَّرَ ، فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ۔ رَفَعَ یَدَیْہِ ، فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَیْنَ کَفَّیْہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَفَّانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۸۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥١٦) (ا) حضرت وائل بن حجر حضرمی (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے دل میں سوچا کہ میں دیکھوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں ؟ (میں دیکھنے لگا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبلہ رخ ہوئے اور تکبیر کہی اور دونوں ہاتھوں کو اٹھایا حتیٰ کہ کندھوں تک لے گئے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے ساتھ پکڑ لیا۔ پھر جب رکوع کرنا چاہا تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھایا اور جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا۔ جب رکوع سے اٹھنے لگے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھایا۔ پھر جب سجدہ فرمایا تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے برابر جگہ میں رکھا۔ اس کے بعد جب (قعدہ کے لیے) بیٹھے تو بائیں ٹانگ کو بچھایا اور دائیں کو کھڑا کیا اور اپنے بائیں ران پر اپنے بائیں ہاتھ کو رکھا اور اپنی دائیں کہنی کا کنارہ داہنی ران پر رکھا، پھر دو انگلیاں بند کرلیں، درمیان والی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنایا اور شہادت والی انگلی سے اشارہ فرمایا۔

(ب) ایک روایت میں کندھوں کی بجائے کانوں کا ذکر ہے۔
(۲۵۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ یَعْنِی ابْنَ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیُّ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقُلْتُ لأَنْظُرَنَّ کَیْفَ یُصَلِّی ؟ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ، وَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی کَانَتَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَہُ بِیَمِینِہِ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی کَانَتَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، فَلَمَّا رَکَعَ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَرْفَعَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی کَانَتَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ یَدَیْہِ مِنْ وَجْہِہِ ذَلِکَ الْمَوْضِعِ ، فَلَمَّا جَلَسَ افْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرَی ، وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُسْرَی عَلَی فَخِذِہِ الْیُسْرَی ، وَوَضَعَ حَدَّ مِرْفَقَہُ الْیُمْنَی عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنَی ، وَعَقَدَ ثِنْتَیْنِ وَحَلَّقَ وَاحِدَۃً وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ۔

وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَشُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَأَبُو عَوَانَۃَ وَغَیْلاَنُ بْنُ جَامِعٍ وَأَبُو الأَحْوَصِ وَزَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ وَابْنُ عُیَیْنَۃَ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ إِلاَّ أَنَّ بَعْضَہُمْ قَالَ: حِذَائَ أُذُنَیْہِ ، وَوَافَقَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ زِیَادٍ فِی الْمَنْکِبَیْنِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٤١٧) (ا) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) قراءت { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ } سے شروع کیا کرتے تھے۔

(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ حضرات قراءت سورة فاتحہ کے ساتھ شروع کرتے تھے، پھر اس کے بعد قراءت کرتے تھے ۔ واللہ اعلم، لیکن ان کی یہ مراد نہیں کہ وہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } چھوڑ دیتے تھے۔
(۲۴۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ یَفْتَتِحُونَ الْقِرَائَ ۃَ بِ {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ}

زَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِمَا قَالَ الشَّافِعِیُّ: یَعْنِی یَبْدَئُ ونَ بِقِرَائَ ۃِ أُمِّ الْقُرْآنِ قَبْلَ مَا یَقْرَأُ بَعْدَہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ ، وَلاَ یَعْنِی أَنَّہُمْ یَتْرُکُونَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٤١٨) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ میں نے ابوبکر، عمر بن خطاب اور عثمان (رض) کے پیچھے نماز پڑھی۔ وہ سب حضرات جب نماز شروع کرتے تو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } نہیں پڑھتے تھے۔
(۲۴۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ قَالَ: قُمْتُ وَرَائَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَکُلُّہُمْ کَانَ لاَ یَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ۔ کَذَا رَوَاہُ مَالِکٌ وَخَالَفَہُ أَصْحَابُ حُمَیْدٍ فِی لَفْظِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الموطاء ۱/۸۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥١٩) ابواسماعیل محمد بن اسماعیل سلمی فرماتے ہیں کہ میں نے ابو نعمان محمد بن فضل کے پیچھے نماز پڑھی تو انھوں نے نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کیا اور رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کیا۔ میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : میں نے حماد بن زید کی اقتدا میں نماز ادا کی ۔ انھوں نے نماز شروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کیا تو میں نے ان سے اس کی بابت پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ میں نے ایوب سختیانی کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ بھی نماز شروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : میں نے عطا بن ابی رباح کو دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : میں نے عبداللہ بن زبیر (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ بھی جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو عبداللہ بن زبیر (رض) نے فرمایا : میں نے سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے پیچھے نماز پڑھی۔ وہ بھی نماز کے شروع میں اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی رفع یدین کرتے تھے۔ اس حدیث کے راوی بااعتماد ہیں۔
(۲۵۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ الزَّاہِدُ إِمْلاَئً مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ قَالَ قَالَ أَبُو إِسْمَاعِیلَ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِیُّ: صَلَّیْتُ خَلْفَ أَبِی النُّعْمَانِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ فَرَفَعَ یَدَیْہِ حِینَ افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ ، وَحِینَ رَکَعَ ، وَحِینَ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ فَرَفَعَ یَدَیْہِ حِینَ افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ ، وَحِینَ رَکَعَ ، وَحِینَ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ فَکَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ ، وَإِذَا رَکَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: رَأَیْتُ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ ، وَإِذَا رَکَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، فَکَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ ، وَإِذَا رَکَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ: صَلَّیْتُ خَلْفَ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ ، وَإِذَا رَکَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَکَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ ، وَإِذَا رَکَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ۔ رُوَاتُہُ ثِقَاتٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٢٠) (ا) سلمہ بن شبیب فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرزاق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اہل مکہ نے نماز ابن جریج سے سیکھی اور ابن جریج نے عطا سے اور عطا نے ابن زبیر سے اور ابن زبیر نے حضرت ابوبکر صدیق سے اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیکھی۔

(ب) سلمہ کہتے ہیں : مجھے احمد بن حنبل نے عبدالرزاق سے حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل امین سے سیکھی اور جبرائیل (علیہ السلام) نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سیکھی۔

عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن جریج رفع یدین کیا کرتے تھے۔
(۲۵۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَبُو جَعْفَرٍ الْکِیلِینِیُّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ شَبِیبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ یَقُولُ: أَخَذَ أَہْلُ مَکَّۃَ الصَّلاَۃَ مِنَ ابْنِ جُرَیْجٍ ، وَأَخَذَ ابْنُ جُرَیْجٍ مِنْ عَطَائٍ ، وَأَخَذَ عَطَاء ٌ مِنَ ابْنِ الزُّبَیْرِ ، وَأَخَذَ ابْنُ الزُّبَیْرِ مِنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، وَأَخَذَ أَبُو بَکْرٍ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

قَالَ سَلَمَۃُ وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَزَادَ فِیہِ: وَأَخَذَ النَّبِیُّ -ﷺ- مِنْ جِبْرِیلَ وَأَخَذَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ مِنَ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی۔ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: فَکَانَ ابْنُ جُرَیْجٍ یَرْفَعُ یَدَیْہِ۔

[صحیح۔ اخرجہ الفاکہی فی اخبار اہل مکۃ ۱/ ۱۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٢١) (ا) شعبہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حکم نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے طاؤس کو دیکھا کہ جب انھوں نے تکبیر کہی تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھایا اور رکوع کے وقت بھی اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کیا ۔ میں نے ان کے شاگردوں میں سے ایک سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ طاؤس اس حدیث کو ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں اور ابن عمر حضرت عمر (رض) سے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں۔

(ب) ابو عبداللہ حافظ کہتے ہیں کہ یہ دونوں حدیثیں حضرت عمر (رض) اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) دونوں سے منقول ہیں۔ کیونکہ ابن عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور اپنے والد کو اس طرح کرتے دیکھا ہے اور ان دونوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے۔
(۲۵۲۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الْحَافِظُ وَأَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی الأَسَدِیَّانُ بِہَمَذَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دِیزِیلَ الْہَمَذَانِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ قَالَ: رَأَیْتُ طَاوُسًا کَبَّرَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ عِنْدَ التَّکْبِیرِ ، وَعِنْدَ رُکُوعِہِ ، وَعِنْدَ رَفْعِہِ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، فَسَأَلْتُ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِہِ فَقَالَ: إِنَّہُ یُحَدِّثُ بِہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ: فَالْحَدِیثَانِ کِلاَہُمَا مَحْفُوظٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَعَلَہُ وَرَأَی أَبَاہُ فَعَلَہُ ، وَرَوَاہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

[صحیح۔ قال الزیلعی فی نصب الرایہ ۱/ ۴۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٢٢) حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور جب اپنی قراءت کرتے یا رکوع کا ارادہ فرماتے یا رکوع سے فارغ ہوتے تو ایسا ہی کرتے اور نماز کے دوران جب قعدہ کی حالت میں ہوتے تو رفع یدین نہیں فرماتے تھے اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو اسی طرح رفع یدین کرتے اور تکبیر کہتے۔

ہم یہ حدیث ابو موسیٰ اشعری، جابر بن عبداللہ انصاری، ابوہریرہ اور انس (رض) سے نقل کرچکے ہیں۔ یہ تمام صحابہ (رض) اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں۔
(۲۵۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ الْہَاشِمِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ کَبَّرَ ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، وَیَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِکَ إِذَا قَرَأَ قِرَائَ تَہُ وَأَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ ، وَیَصْنَعُہُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الرُّکُوعِ وَلاَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی شَیْئٍ مِنْ صَلاَتِہِ وَہُوَ قَاعِدٌ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَیْنِ رَفَعَ یَدَیْہِ کَذَلِکَ وَکَبَّرَ۔ (ت) وَقَدْ رُوِّینَا ہَذَا الْحَدِیثَ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیِّ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

[صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمہ ۵۸۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٢٣) (ا) محمد بن اسماعیل بخاری (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) میں سے سترہ رکوع کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ ان میں ابو قتادہ انصاری، ابو اسید ساعدی بدری، محمد بن مسلمہ بدری، سہل بن سعد ساعدی، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس اور خادم رسول انس بن مالک، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو بن عاص، عبداللہ بن زبیر بن عوام قرشی، وائل بن حجر خضرمی، مالک بن حویرث، ابو موسیٰ اشعری اور ابو حمید ساعدی انصاری ] شامل ہیں۔

(ب) شیخ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ روایت مذکورہ بالا صحابہ کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، جابر بن عبداللہ انصاری، عقبہ بن عامر جہنی اور عبداللہ بن جابر بیاضی (رض) سے بھی منقول ہیں۔
(۲۵۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَی الْبُخَارِیُّ بِنَیْسَابُورَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مَحْمُودٍ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ قَالَ: وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ سَبْعَۃَ عَشَرَ نَفْسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُمْ کَانُوا یَرْفَعُونَ أَیْدِیَہُمْ عِنْدَ الرُّکُوعِ فَمِنْہُمْ أَبُو قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ ، وَأَبُو أُسَیْدٍ السَّاعِدِیُّ الْبَدْرِیُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْبَدْرِیُّ ، وَسَہْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِیُّ ، وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَبْدُاللَّہِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ الْہَاشِمِیُّ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ خَادِمُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ الدَّوْسِیُّ، وَعَبْدُاللَّہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعَبْدُاللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ الْقُرَشِیُّ، وَوَائِلُ بْنُ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیُّ، وَمَالِکُ بْنُ الْحُوَیْرِثِ، وَأَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ ، وَأَبُوحُمَیْدٍ السَّاعِدِیُّ الأَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمْ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِّینَاہُ عَنْ ہَؤُلاَئِ وَعَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیِّ وَعُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَابِرٍ الْبَیَاضِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ أَجْمَعِینَ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری فی رفع الیدین ۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٢٤) قتادہ حسن سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ جب رکوع کرتے تو رفع یدین کرتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی رفع یدین کرتے تھے ایسے لگتا تھا کہ ان کے ہاتھ پنکھوں کی طرح ہیں۔
(۲۵۲۴) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَرْفَعُونَ أَیْدِیَہُمْ إِذَا رَکَعُوا ، وَإِذَا رَفَعُوا رُئُ وسَہُمْ مِنَ الرُّکُوعِ ، کَأَنَّمَا أَیْدِیہُمْ مَرَاوِحُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٢٥) سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے نماز میں رفع یدین کے بارے پوچھا تو انھوں نے کہا : وہ ایسی چیز ہے جس کے ذریعے آدمی اپنی نماز کو آراستہ کرتا ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کرتے۔
(۲۵۲۵) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ یُوسُفَ الأَخْرَمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ: أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِی الصَّلاَۃِ فَقَالَ: ہُوَ شَیْء ٌ یُزَیِّنُ بِہِ الرَّجُلُ صَلاَتَہُ ، کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَرْفَعُونَ أَیْدِیَہُمْ فِی الاِفْتِتَاحِ ، وَعِنْدَ الرُّکُوعِ ، وَإِذَا رَفَعُوا رُئُ وسَہُمْ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۲۴۹۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٢٦) (ا) محمد بن اسماعیل بخاری (رض) فرماتے ہیں کہ اہل مکہ کی ایک بڑی تعداد، اہل حجاز، اہل شام، اہل عراق اور بصرہ ویمن والوں کی ایک بڑی تعداد سے منقول ہے کہ وہ رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ ان میں سعید بن جبیر، عطا بن ابی رباح، مجاہد، قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ بن عمر، عمر بن عبدالعزیز، نعمان بن ابی عیاش، حسن بصری، ابن سیرین، طاؤس، مکحول، عبداللہ بن دینار، نافع، عبیداللہ بن ، عمر حسن بن مسلم، قیس بن سعد (رض) اور ان کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ شامل ہیں۔

(ب) شیخ (بیہقی)h فرماتے ہیں : ہم نے ابو قلابہ، ابو زبیر، مالک بن انس، اوزاعی، لیث بن سعد، ابن عیینہ، امام شافعی، یحییٰ بن سعید قطان، عبدالرحمن بن مہدی، عبداللہ بن مبارک، یحییٰ بن یحییٰ ، احمد بن حنبل، اسحق بن ابراہیم حنظلی (رض) اور (ملک و علاقوں کے بارے میں معلومات رکھنے والے) مختلف شہروں کے اہل العلم کی ایک بہت بڑی جماعت سے روایت نقل کی ہے۔
(۲۵۲۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَی الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالَ: وَیُرْوَی عَنْ عِدَّۃٍ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ وَأَہْلِ الْحِجَازِ وَأَہْلِ الْعِرَاقِ وَالشَّامِ وَالْبِصْرَۃِ وَالْیَمَنِ أَنَّہُمْ کَانُوا یَرْفَعُونَ أَیْدِیَہُمْ عِنْدَ الرُّکُوعِ وَرَفْعِ الرَّأْسِ مِنْہُ ، مِنْہُمْ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَعَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ وَمُجَاہِدٌ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَالنُّعْمَانُ بْنُ أَبِی عَیَّاشٍ ، وَالْحَسَنُ وَابْنُ سِیرِینَ ، وَطَاوُسٌ وَمَکْحُولٌ ، وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ دِینَارٍ وَنَافِعٌ ، وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَالْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَقَیْسُ بْنُ سَعْدٍ وَغَیْرُہُمْ عِدَّۃٌ کَثِیرَۃٌ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِّینَاہُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ وَأَبِی الزُّبَیْرِ ثُمَّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، وَالأَوْزَاعِیِّ وَاللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ وَابْنِ عُیَیْنَۃَ ، ثُمَّ عَنِ الشَّافِعِیِّ وَیَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الْقَطَّانِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ ، وَیَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیِّ ، وَعِدَّۃٍ کَثِیرَۃٍ مِنْ أَہْلِ الآثَارِ بِالْبُلْدَانِ رَحِمَہُمُ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری فی رفع الیدین ۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٢٧) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصْلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ } [الکوثر : ١۔ ٢] (یقینا ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی دیجیے) نازل ہوئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا : یہ کونسی قربانی ہے جس کے بارے میں میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے ؟ تو جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : یہ وہ (جانور وغیرہ کی) قربانی نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ جب آپ نماز کے لیے تکبیر کہو تو اس وقت رفع یدین کرو اور جب رکوع کرو یا رکوع سے سر اٹھاؤ تب بھی رفع یدین کرو ۔ یہی ہماری نماز ہے اور ان فرشتوں کی بھی نماز ہے جو سات آسمانوں میں ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رفع یدین کرنا اس جھک جانے سے ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد ہے :{ فَمَا اسْتَکَانُوا لِرَبِّہِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُونَ } [المومنون : ٧٦] ” پس نہ تو یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی۔

یہ روایت بھی نقل کردی گئی ہے، لیکن اعتماد اسی پر ہے جو گذر چکا۔
(۲۵۲۷) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلاَّبُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ أَبِی مَرْحُومٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ بْنُ حَاتِمٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ عَنِ الأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصْلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ} قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- لِجِبْرِیلَ: ((مَا ہَذِہِ النَّحِیرَۃِ الَّتِی أَمَرَنِی بِہَا رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ؟))۔ قَالَ: إِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَحِیرَۃٍ ، وَلَکِنَّہُ یَأْمُرُکَ إِذَا تَحَرَّمْتَ لِلصَّلاَۃِ أَنْ تَرْفَعَ یَدَیْکَ إِذَا کَبَّرْتَ ، وَإِذَا رَکَعْتَ ، وَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَکَ مِنَ الرُّکُوعِ ، فَإِنَّہَا صَلاَتُنَا وَصَلاَۃُ الْمَلاَئِکَۃِ الَّذِینَ فِی السَّمَوَاتِ السَّبْعِ۔ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((رَفْعُ الأَیْدِی مِنَ الاِسْتِکَانَۃِ الَّتِی قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {فَمَا اسْتَکَانُوا لِرَبِّہِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُونَ})) ۔

وَقَدْ رُوِیَ ہَذَا وَالاِعْتِمَادُ عَلَی مَا مَضَی وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقِ۔

[ضعیف جدا۔ اخرجہ ابن حبان فی المجروحین ۱/۱۷۷/۱۱۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٢٨) (ا) سیدنا براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے۔ سفیان کہتے ہیں : پھر میں کوفہ آیا تو (اپنے استاد) یزید سے ملا۔ میں نے انھیں یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا اور انھوں نے اس میں یہ اضافہ بھی کیا کہ پھر دو بار یہ کام (رفع یدین) ساری نماز میں نہیں کیا۔ میں سمجھا کہ انھوں نے اس کی تلقین کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے یزید کو یہ حدیث پہلے اس طرح بیان کرتے سنا ، پھر دوبارہ انھوں نے اس میں ثم یعود کے الفاظ کا اضافہ کیا۔

(ب) امام شافعی اور سفیان اس طرف گئے ہیں کہ یزید کو اس حدیث میں غلطی پر سمجھیں۔ کیونکہ انھیں اس حرف کی تلقین کی گئی تھی یعنی سمجھایا گیا تھا۔ لیکن انھوں نے اسے سیکھ کر ذہن نشین کرلیا۔

(ج) اسی طرح ایک اور سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔ اس میں ثم لا یعود کے الفاظ نہیں ملتے۔

(د) سفیان کہتے ہیں : جب میں کوفہ آیا تو میں نے انھیں یہ حدیث بیان کرتے سنا تو اس میں وہ ثم لا یعود کہہ رہے تھے۔ میں نے جان لیا کہ انھوں نے ان کو سکھا دیا ہے۔

(ہ) اور مجھے میرے ساتھیوں (ہم مسلک لوگوں) نے کہا کہ یزید کا حافظہ خراب ہوگیا تھا یا انھوں نے ” قدساء “ کا لفظ بولا۔

(و) حمیدی کہتے ہیں : جو اس حدیث سے دلیل پکڑتا ہے ہم اس کو اتنا ہی کہیں گے کہ اس روایت کو یزید نے روایت کیا ہے اور یزید اضافہ کرتا رہتا ہے۔
(۲۵۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ۔ قَالَ سُفْیَانُ: ثُمَّ قَدِمَتُ الْکُوفَۃَ فَلَقِیتُ یَزِیدَ ، فَسَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ بِہَذَا ، وَزَادَ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ ، قَالَ سُفْیَانُ: ہَکَذَا سَمِعْتُ یَزِیدَ یُحَدِّثْہُ ثُمَّ سَمِعْتُہُ بَعْدُ یُحَدِّثُہُ ہَکَذَا وَیَزِیدُ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَذَہَبَ سُفْیَانُ إِلَی أَنْ یُغَلِّطَ یَزِیدَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ یَقُولُ کَأَنَّہُ لُقِّنَ ہَذَا الْحَرْفَ فَتَلَقَّنَہُ ، وَلَمْ یَکُنْ یَذْکُرْ سُفْیَانُ یَزِیدَ بِالْحِفْظِ۔

کَذَلِکَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفَرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ بِمَکَّۃَ ، فَذَکَرَ ہَذَا الْحَدِیثَ لَیْسَ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔

قَالَ سُفْیَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْکُوفَۃَ سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ بِہِ فَیَقُولُ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ۔

وَقَالَ لِی أَصْحَابُنَا إِنَّ حَفْظَہُ قَدْ تَغَیَّرَ أَوْ قَالُوا قَدْ سَائَ ۔

قَالَ الْحُمَیْدِیُّ قُلْنَا لِقَائِلِ ہَذَا یَعْنِی لِلْمُحْتَجِّ بِہَذَا: إِنَّمَا رَوَاہُ یَزِیدُ ، وَیَزِیدُ یَزِیدَ۔

[صحیح۔ الا قولہ ’’ثم لم یعد‘‘ (لایعود) اخرجہ الشافعی فی مسندہ ۸۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٢٩) (ا) عثمان بن سعید دارمی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل (رح) سے اس حدیث کے بارے دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔

(ب) نیز فرمایا کہ میں نے یحییٰ بن معین کو سنا وہ یزید بن ابی زیادہ کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔

(ب) ابوسعید دارمی فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ کے قول ” انہم لقنوہ ہذہ الکلمۃ “ کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ سفیان ثوری، زہیر بن معاویہ، ہشیم اور ان کے علاوہ دیگر اہل علم نے اس قول کو نہیں کیا۔ یہ قول صرف اسی نے کیا ہے جس نے ان کے بعد سنا۔

(ج) شیخ فرماتے ہیں : اہل علم کا موقف بھی اس کی تائید کرتا ہے۔
(۲۵۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَوْسَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ قَالَ سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ: لاَ یَصِحُّ عَنْہُ ہَذَا الْحَدِیثُ۔

قَالَ وَسَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یُضَعِّفُ یَزِیدَ بْنَ أَبِی زِیَادٍ۔

قَالَ أَبُو سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ: وَمِمَّا یُحَقِّقُ قَوْلَ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ ہَذِہِ الْکَلِمَۃَ أَنَّ سُفْیَانَ الثَّوْرِیَّ وَزُہَیْرَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ وَہُشَیْمًا وَغَیْرَہُمْ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ لَمْ یَجِیئُوا بِہَا ، إِنَّمَا جَائَ بِہَا مَنْ سَمِعَ مِنْہُ بِآخِرَۃٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالَّذِی یُؤَکِّدُ مَا ذَہَبَ إِلَیْہِ ہَؤُلاَئِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم نقلہ فی التخریج السابق]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٣٠) (ا) براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز شروع فرماتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تب بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے بھی رفع یدین کرتے۔

سفیان کہتے ہیں : جب میں کوفہ آیا تو میں نے (یزید سے) یہی حدیث سنی تو انھوں نے فرمایا : جب نماز شروع کرتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے (رفع یدین کرتے تھے) ۔ پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے تو میں سمجھ گیا کہ اہل کوفہ نے ان کو سمجھایا ہے۔

(ب) شیخ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے اپنے بھائی عیسیٰ سے، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور وہ براء بن عازب سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں بھی یہی ہے کہ پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔
(۲۵۳۰) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ بِمَکَّۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ۔ قَالَ سُفْیَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْکُوفَۃَ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ ، ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔ فَظَنَنْتُ أَنَّہُمْ لَقَّنُوہُ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ الدَّیْرَعَاقُولِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَشَّارٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَخِیہِ عِیسَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ قَالَ فِیہِ: ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔

وَقِیلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْحَکَمِ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، وَقِیلَ عَنْہُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی۔

وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ وَہُوَ أَسْوَأُ حَالاً عِنْدَ أَہْلِ الْمَعْرِفَۃِ بِالْحَدِیثِ مِنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ فَذَکَرَ فَصْلاً فِی تَضْعِیفِ حَدِیثِ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ثُمَّ قَالَ: وَلَمْ یَرْوِ ہَذَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی أَحَدٌ أَقْوَی مِنْ یَزِیدَ۔ [صحیح۔ الاقولہ ثم لم یعد وقد تقدم الکلام علیہ قریبا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٣١) حضرت علقمہ (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : میں ضرور تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح نماز پڑھاؤں گا۔ پھر انھوں نے نماز پڑھائی تو اس میں صرف ایک مرتبہ (شروع میں) رفع یدین کیا۔
(۲۵۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَحْمَسِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمٍ یَعْنِی ابْنَ کُلَیْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ: لأُصَلِّیَنَّ بِکُمْ صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَصَلَّی فَلَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ إِلاَّ مَرَّۃً وَاحِدَۃً۔

[ضعیف۔ اخرجہ الترمذی ۲۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٣٢) (ا) علقمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود (رض) ) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز سکھائی۔ آپ نے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا۔ پھر جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اپنے گھٹنوں کے درمیان میں لٹکا دیا۔ علقمہ کہتے ہیں : جب یہ بات سعد کے پاس پہنچی تو انھوں نے فرمایا : میرے بھائی نے سچ کہا، پہلے ہم بھی اسی طرح کرتے تھے ۔ پھر ہمیں ہاتھ گھٹنوں کے اوپر رکھنے کا حکم دیا گیا (یعنی ان کو اوپر سے مضبوطی سے پکڑنے کا) ۔

شیخ فرماتے ہیں کہ اگر حدیث اس طرح ہو جس طرح عبداللہ بن ادریس نے روایت کی ہے تو اس میں رفع یدین دوبارہ کرنے کو بیان نہیں کیا گیا اور اگر اس طرح ہو جیسے ثوری نے روایت کیا ہے تو ابن ادر یس کی حدیث سے معلوم ہے کہ یہ کام اسلام کے ابتدائی دور میں تھا جیسا کہ ہاتھ گھٹنوں کے درمیان لٹکانا اسلام کے ابتدائی دور میں تھا۔ پھر اس کے بعد طریقے بدلتے رہے اور شریعت ارتقا کے منازل طے کرتی رہی (یعنی بتدریج احکام میں تبدیلی آتی رہی) ۔ جس نے ان کو یاد کرنا تھا یاد کرلیا اور ان کو آگے پہنچایا اب ان پر عمل کرنا ضروری ہوگیا۔
(۲۵۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الصَّلاَۃَ ، فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدْیَہِ ، فَلَمَّا رَکَعَ طَبَّقَ یَدْیَہِ بَیْنَ رُکْبَتَیْہِ۔ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِکَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِی، قَدْ کُنَّا نَفْعَلُ ہَذَا ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِہَذَا یَعْنِی الإِمْسَاکَ عَلَی الرُّکْبَتَیْنِ۔

قَالَ الشَّیْخُ: فَإِنْ کَانَ الْحَدِیثُ عَلَی مَا رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ فَقَدْ یَکُونُ عَادَ لِرَفْعِہِمَا فَلَمْ یَحْکِہِ ، وَإِنْ کَانَ عَلَی مَا رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ فَفِی حَدِیثِ ابْنِ إِدْرِیسَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی صَدْرِ الإِسْلاَمِ ، کَمَا کَانَ التَّطْبِیقُ فِی صَدْرِ الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ سُنَّتْ بَعْدَہُ السُّنَنُ ، وَشُرِّعَتْ بَعْدَہُ الشَّرَائِعُ حَفِظَہَا مَنْ حَفِظَہَا وَأَدَّاہَا فَوَجَبَ الْمَصِیرُ إِلَیْہَا ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمہ ۵۹۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٥٣٣) سفیان بن عبدالملک فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود کی حدیث کہ ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف پہلی مرتبہ رفع یدین کیا پھر دوبارہ نہیں کیا “ ثابت نہیں ہے اور میرے پاس تو رفع یدین کی حدیث ثابت ہے جس کو عبید اللہ، مالک، معمر اور ابن ابی حفصۃ نے زہری سے، انھوں نے سالم کے واسطے سے ابن عمر سے اور ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں اور میں اس میں وسعت سمجھتا ہوں۔ پھر عبداللہ بن مبارک (رح) کہنے لگے کہ احادیث کی کثرت اور ان کی اسانید کے جید ہونے کی وجہ سے میرا یہی خیال ہے۔ گویا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں رفع یدین کرتے دیکھ رہا ہوں۔
(۲۵۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَرَّاحِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَاسَوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْمُبَارَکِ یَقُولُ: لَمْ یَثْبُتْ عِنْدِی حَدِیثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَفَعَ یَدْیَہِ أَوَّلَ مُرَّۃٍ ، ثُمَّ لَمْ یَرْجِعْ۔ وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدِی حَدِیثُ رَفْعِ الْیَدَیْنِ ذَکَرَہُ عُبَیْدُ اللَّہِ وَمَالِکٌ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ قَالَ: وَأُرَاہُ وَاسِعًا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ یَرْفَعُ یَدْیَہِ فِی الصَّلاَۃِ لِکَثْرَۃِ الأَحَادِیثِ وَجَوْدَۃِ الأَسَانِیدَ۔ [صحیح۔ انظر ۲۵۳۰]
tahqiq

তাহকীক: