আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২৩৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٣٩٤) (ا) نعیم مجمر سے روایت ہے کہ میں ابوہریرہ (رض) کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ (رض) نے { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } پڑھی، پھر سورة فاتحہ کی تلاوت کی۔ جب { وَلاَ الضَّالِّینَ } پر پہنچے تو آمین کہی اور دیگر لوگوں نے بھی آمین کہی اور آپ جب بھی سجدہ کرتے تو فرماتے : اللہ اکبر اور جب بیٹھ کر کھڑے ہوتے تب بھی اللہ اکبر کہتے اور جب سلام پھیرا تو فرمانے لگے : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز کے اعتبار سے تم سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔

(ب) ابن عبدالحکم کی حدیث میں کنت مداء ابی ہریرہ کی جگہ صَلَّیْتُ وَرَائَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ کے الفاظ ہیں۔
(۲۳۹۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی وَشُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی خَالِدُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ نُعَیْمٍ الْمُجْمِرِ قَالَ: کُنْتُ وَرَائَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّی بَلَغَ {وَلاَ الضَّالِّینَ} قَالَ: آمِینَ وَقَالَ النَّاسُ آمِینَ ، وَیَقُولُ کُلَّمَا سَجَدَ: اللَّہُ أَکْبَرُ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ قَالَ: اللَّہُ أَکْبَرُ ، وَیَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنِّی لأَشْبَہُکُمْ صَلاَۃً بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔

وَفِی حَدِیثِ ابْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ: صَلَّیْتُ وَرَائَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ الْمِصْرِیُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیدَ بِہَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَہُ وَہُوَ فِی کِتَابِ الدَّارَقُطْنِیِّ وَہُوَ إِسْنَادٌ صَحِیحٌ وَلَہُ شَوَاہِدُ۔ مِنْہَا مَا۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن خزیمۃ ۶۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٣٩٥) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } پڑھتے تھے۔
(۲۳۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ خُرَّزَاذَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَیْسٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ إِذَا أَمَّ النَّاسَ قَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٣٩٦) (ا) ایک دوسری سند سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز پڑھاتے ہوئے قراءت کرتے تو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سے قراءت شروع فرماتے۔

(ب) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ یہ (بسم اللہ) کتاب اللہ کی ایک آیت ہے، اگر تم سورة فاتحہ پڑھنا چاہو تو اس (بسم اللہ) کو پڑھا کرو۔
(۲۳۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورِ بْنِ أَبِی مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا جَدِّی فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ إِذَا قَرَأَ وَہُوَ یَؤُمُّ النَّاسَ افْتَتَحَ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}

قَالَ أَبُوہُرَیْرَۃَ: ہِیَ آیَۃٌ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ عَزَّوَجَلَّ، اقْرَئُ وا إِنْ شِئْتُمْ فَاتِحَۃَ الْقُرْآنِ، فَإِنَّہَا الآیَۃُ السَّابِعَۃُ۔ ضعیف
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٣٩٧) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم اونچی آواز میں پڑھتے تھے، لیکن لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ہے۔
(۲۳۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَجْہَرُ فِی الصَّلاَۃِ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} فَتَرَکَ النَّاسُ ذَلِکَ۔ کَذَا قَالَہُ السَّرَّاجُ عَنْ عُقْبَۃَ عَنْ یُونُسَ عَنْ مِسْعَرٍ۔

وَرَوَاہُ الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ مُکْرَمٍ عَنْ یُونُسَ عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَہُوَ الصَّوَابُ۔ [ضعیف۔ قال ابن رجب فی الفتح ۵/ ۱۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٣٩٨) (ا) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرات { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کے ساتھ شروع فرماتے تھے۔

(ب) ایک دوسری حدیث میں ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } اونچی آواز میں پڑھتے تھے۔
(۲۳۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَسْتَفْتِحُ الْقِرَائَ ۃَ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}

وَرَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَیْمَانَ وَقَالَ سَمِعْتُ إِسْمَاعِیلَ بْنَ حَمَّادِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} فِی الصَّلاَۃِ یَعْنِی کَانَ یَجْہَرُ بِہَا۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ التَّمِیمِیِّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْمَاسَرْجِسِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ فَذَکَرَہُ۔ وَلَہُ شَوَاہِدُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ذَکَرْنَاہَا فِی الْخِلاَفِیاتِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٣٩٩) سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ” السبع المثانی “ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ ابن عباس نے اس کو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کے ساتھ ملا کر ٧ سات بار پڑھا ہے۔

ابن جریج کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سے عرض کیا کہ کیا آپ کو سعید بن جبیر نے ابن عباس (رض) کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کتاب اللہ کی ایک آیت ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ! اور ابن عباس (رض) نے { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کو دونوں رکعتوں میں اونچی آواز سے پڑھا۔
(۲۳۹۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِیمٍ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَیْثٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَعْقُوبَ الطَّالَقَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی السَّبْعِ الْمَثَانِی قَالَ: ہِیَ فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ قَرَأَہَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} سَبْعًا۔ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ فَقُلْتُ لأَبِی أَخْبَرَکَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} آیَۃٌ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ ثُمَّ قَالَ: قَرَأَہَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِـ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} فِی الرَّکْعَتَیْنِ جَمِیعًا۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤٠٠) سعید بن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تو انھوں نے { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } اونچی آواز میں پڑھی۔
(۲۴۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ الْمَلَکِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَجَہَرَ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤٠١) شعبی سے روایت ہے کہ میں نے علی بن ابی طالب (رض) کو دیکھا اور آپ کی اقتدا میں نماز بھی پڑھی۔ آپ (رض) { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } اونچی آواز میں پڑھتے تھے۔
(۲۴۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الزِّیقِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الزِّیقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَصَلَّیْتُ وَرَائَ ہُ فَسَمِعْتُہُ یَجْہَرُ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤٠٢) سیدنا نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سورة فاتحہ کو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کے ساتھ شروع کرتے تھے۔
(۲۴۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَأُسَامَۃَ بْنُ زَیْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ: کَانَ یَفْتَتِحُ أُمَّ الْکِتَابِ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ مَوْقُوفٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤٠٣) سیدنا نافع حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو اس کی ابتدا { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سے کرتے۔ زاہد کی روایت میں یبدا کی جگہ یقرء کے الفاظ ہیں اور انھوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) جب نماز شروع فرماتے تو سورة فاتحہ کی ابتدا میں { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } پڑھتے اور اس سورت کے شروع میں بھی بسم اللہ پڑھتے جو فاتحہ کے بعد پڑھتے۔
(۲۴۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَتِیقُ بْنُ یَعْقُوبَ الزُّبَیْرِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا عَتِیقُ بْنُ یَعْقُوبَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ وَعَنْ عَمِّہِ عُبَیْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ یَبْدَأُ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَفِی رِوَایَۃِ الزَّاہِدِ یَقْرَأُ وَزَادَ فِی رِوَایَتِہِ: وَأَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ یَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} فِی أُمِّ الْکِتَابِ وَفِی السُّورَۃِ الَّتِی تَلِیہَا وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَیُّوبُ وَابْنُ جُرَیْجٍ وَغَیْرُہُمَا عَنْ نَافِعٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الطبرانی فی الاوسط ۱/۲۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤٠٤) نافع سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نماز میں قرات کو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کے ساتھ شروع کرتے تھے۔
(۲۴۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَنَّہُ کَانَ یَفْتَتِحُ الصَّلاَۃَ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤٠٥) سعید بن جبیر حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ قرات کو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کے ساتھ شروع کیا جائے۔
(۲۴۰۵) قَالَ وَأَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ تُفْتَتَحُ الْقِرَائَ ۃُ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤٠٦) بکر بن عبد سے روایت ہے کہ سیدنا ابن زبیر (رض) نماز میں قرات کو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سے شروع کرتے تھے اور فرماتے تھے : اس کی قرات سے ان کو روکنے والی چیز تکبر ہے۔
(۲۴۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: کَانَ ابْنُ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَسْتَفْتِحُ الْقِرَائَ ۃَ فِی الصَّلاَۃِ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَیَقُولُ: مَا یَمْنَعُہُمْ مِنْہَا إِلاَّ الْکِبَرُ۔ صحیح۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤٠٧) ازرق بن قیس سے منقول ہے کہ میں نے ابن زبیر کے پیچھے نماز پڑھی۔ انھوں نے قراءت کی تو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کو اونچی آواز میں پڑھا۔
(۲۴۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ ابْنِ الزُّبَیْرِ فَقَرَأَ فَجَہَرَ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}

وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِإِسْنَادٍ صَحِیحٍ عَنْہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤٠٨) ابوبکر بن حفص کو سیدنا انس بن مالک (رض) نے خبر دی کہ کہ امیر معاویہ (رض) نے مدینہ میں ایک نماز پڑھائی تو انھوں نے بلند آواز سے قرات کی اور { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سورة فاتحہ کے ساتھ ملا کر پڑھی اور اس کے بعد والی سورة کے ساتھ نہیں پڑھی حتیٰ کہ انھوں نے یہ قرات مکمل کرلی اور رکوع و سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر نہیں کہی اور نماز مکمل کرلی۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو مہاجرین میں سے جو لوگ موجود تھے، انھوں نے جگہ جگہ سے آپ کو آوازیں دینا شروع کردیں کہ اے معاویہ ! کیا آپ نے نماز کو کم کردیا ہے یا بھول گئے ہیں ؟ پھر جب انھوں نے اس کے بعد (دوبارہ) نماز پڑھائی تو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سورة فاتحہ کے بعد والی سورت کے ساتھ بھی پڑھی اور سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر بھی کہی۔
(۲۴۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ عَنْ عَبْدِ الْمَجِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ أَنَّ أَبَا بَکْرِ بْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: صَلَّی مُعَاوِیَۃُ بِالْمَدِینَۃِ صَلاَۃً فَجَہَرَ فِیہَا بِالْقِرَائَ ۃِ فَقَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} لأُمِّ الْقُرْآنِ ، وَلَمْ یَقْرَأْ بِہَا لِلسُّورَۃِ الَّتِی بَعْدَہَا حَتَّی قَضَی تِلْکَ الْقِرَائَ ۃَ ، وَلَمْ یُکَبِّرْ حِینَ یَہْوِی حَتَّی قَضَی تِلْکَ الصَّلاَۃَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاہُ مَنْ شَہِدَ ذَلِکَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ: یَا مُعَاوِیَۃُ أَسَرَقْتَ الصَّلاَۃَ أَمْ نَسِیتَ؟ فَلَمَّا صَلَّی بَعْدَ ذَلِکَ قَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} لِلسُّورَۃِ الَّتِی بَعْدَ أُمِّ الْقُرْآنِ وَکَبَّرَ حِینَ یَہْوِی سَاجِدًا۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔

[شاذ۔ اخرجہ الشافعی فی مسندہ ۱/ ۳۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤٠٩) ابن جریج سے بھی یہ روایت منقول ہے۔ مگر اس میں یہ ہے کہ انھوں نے سورة فاتحہ کے ساتھ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } نہیں پڑھی اور نہ ہی اس کے بعد والی سورة کے ساتھ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } پڑھی۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔

اور انھوں نے مہاجرین کے لفظ کے ساتھ انصار کے لفظ کا بھی اضافہ کیا اور فرمایا کہ انھوں نے اس کے بعد جو بھی نماز پڑھی اس میں سورة فاتحہ اور اس کے بعد والی سورت کے ساتھ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } بھی پڑھی اور سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر بھی کہی۔
(۲۴۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَحْیَی الْجُرْجَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ۔ قَالَ عَلِیٌّ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: فَلَمْ یَقْرَأْ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} لأُمِّ الْقُرْآنِ وَلَمْ یُقْرَأْ بِہَا لِلسُّورَۃِ الَّتِی بَعْدَہَا ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَزَادَ الأَنْصَارَ ثُمَّ قَالَ: فَلَمْ یُصَلِّ بَعْدَ ذَلِکَ إِلاَّ قَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} لأُمِّ الْقُرْآنِ وَالسُّورَۃِ الَّتِی بَعْدَہَا وَکَبَّرَ حِینَ یَہْوِی سَاجِدًا۔ وَکَأَنَّہُ حَمَلَ لَفْظَ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ عَلَی لَفْظِ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَلَمْ یُبَیِّنْ وَلَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ عَلَی مَا رُوِّینَا وَکَذَلِکَ رَوَاہُ فِی الْمَبْسُوطِ۔ شاذ وقد تقدم فی الذی قبلہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤١٠) اسماعیل بن عبید بن رفاعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ (رض) جب مدینہ تشریف لائے تو انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی، لیکن { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } نہ پڑھی اور نہ ہی جھکتے وقت اور اٹھتے وقت تکبیر کہی۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو مہاجرین و انصار نے انھیں آواز دی : اے معاویہ ! آپ نے نماز میں کمی کی۔ بسم اللہ اور تکبیریں بلند آواز میں نہیں پڑھیں۔

چنانچہ انھوں نے ان کو دوبارہ نماز پڑھائی اور وہ چیزیں بھی ادا کیں جن پر انھوں نے عیب لگایا تھا۔
(۲۴۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنُ خُثَیْمٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ مُعَاوِیَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَصَلَّی بِہِمْ وَلَمْ یَقْرَأْ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَلَمْ یُکَبِّرْ إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ ، فَنَادَاہُ الْمُہَاجِرُونَ حِینَ سَلَّمَ وَالأَنْصَارُ: أَیْ مُعَاوِیَۃُ سَرَقْتَ صَلاَتَکَ ، أَیْنَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَأَیْنَ التَّکْبِیرُ إِذَا خَفَضْتَ وَإِذَا رَفَعْتَ؟ فَصَلَّی بِہِمْ صَلاَۃً أُخْرَی فَقَالَ ذَلِکَ فِیہَا الَّذِی عَابُوا عَلَیْہِ۔ [شاذ۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤١١) امام شافعی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ یہ سند پہلی سند سے زیادہ احفظ ہے۔
(۲۴۱۱) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مُعَاوِیَۃَ وَالْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ مِثْلَہُ أَوْ مِثْلَ مَعْنَاہُ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَأَحْسِبُ ہَذَا الإِسْنَادَ أَحْفَظُ مِنَ الإِسْنَادِ الأَوَّلِ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ ، وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ ابْنُ خُثَیْمٍ سَمِعَہُ مِنْہُمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[شاذ۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤١٢) ابن شہاب (رح) نے فرمایا : { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کا پڑھنا نماز کی سنتوں میں سے ہے، سورة فاتحہ پڑھے، پھر { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } دوسری سورت کے ساتھ بھی پڑھے۔

ابن شہاب کبھی کبھی سورة فاتحہ کے ساتھ کوئی سورة پڑھتے تو ہر سورت { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سے شروع کرتے اور فرماتے کہ مدینہ میں سب سے پہلے جس آدمی نے { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } آہستہ آواز سے پڑھی وہ عمرو بن سعید بن عاص (رض) ہیں اور وہ حیادار شخص تھے۔
(۲۴۱۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ وَنَافِعُ بْنُ یَزِیدَ قَالاَ حَدَّثَنَا عُقَیْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ: مِنْ سُنَّۃِ الصَّلاَۃِ أَنْ یَقْرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} ثُمَّ فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ ، ثُمَّ یَقْرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} ثُمَّ یَقْرَأَ سُورَۃً۔ فَکَانَ ابْنُ شِہَابٍ یَقْرَأُ أَحْیَانًا بِسُورَۃٍ مَعَ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ یَفْتَتِحُ کُلَّ سُورَۃٍ مِنْہَا بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَکَانَ یَقُولُ: أَوَّلُ مَنْ قَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} سِرًّا بِالْمَدِینَۃِ عَمْرُو بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ وَکَانَ رَجُلاً حَیِیًّا۔

وَرُوِّینَا الْجَہْرَ بِہَا عَنْ فُقَہَائِ مَکَّۃَ: عَطَائٍ وَطَاوُسٍ وَمُجَاہِدٍ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ الذہبی فی التاریخ الاسلام ۸/ ۲۳۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٤١٣) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ شیطان نے اہل قرآن سے ایک عظیم آیت { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کو اچکنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ ناممکن ہے۔
(۲۴۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ الشَّیْطَانَ اسْتَرَقَ مِنْ أَہْلِ الْقُرْآنِ أَعْظَمَ آیَۃٍ فِی الْقُرْآنِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} کَذَا کَانَ فِی کِتَابِی عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ مُنْقَطِعٌ۔
tahqiq

তাহকীক: