আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ২৩৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے
(٢٣٧٤) (ا) اور اس سند کے ساتھ زہری سے روایت ہے کہ مجھے سیدنا انس بن مالک (رض) نے خبر دی کہ حضرت حذیفہ بن یمان حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں ان کے پاس تشریف لائے، جب کہ وہ آرمینیہ اور آذربائیجان کی طرف اہل عراق کے ساتھ شریکِ جہاد تھے۔ وہ اہل عراق اور اہل شام کی سرحد پر برسرپیکار تھے تو وہاں اہل عراق اور اہل شام نے قرآن کی قراءت میں اختلاف کیا حتیٰ کہ حضرت حذیفہ (رض) کو ان کے اختلاف کا پتہ چلا تو وہ سہم گئے اور فوراً مدینہ کو عازم سفر ہوئے اور عثمان (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا : اے امیرالمومنین ! (خدارا) اس امت کی خبر لیجیے۔ اس سے پہلے کہ یہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں۔
سیدنا عثمان (رض) اس واقعہ سے حیران ہوگئے اور ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر (رض) کو پیغام بھیجا کہ وہ مصحف ارسال فرما دیں جس میں قرآن جمع کیا گیا ہے۔ سیدہ حفصہ (رض) نے وہ مصحف حضرت عثمان (رض) کو بھیج دیا۔ سیدنا عثمان (رض) نے زید بن ثابت، سعید بن عاص، عبداللہ بن زبیر اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام (رض) کو حکم دیا کہ اس قرآن کی کاپیاں تیار کریں۔ حضرت عثمان (رض) نے انھیں فرمایا کہ جب تمہارا زید بن ثابت (رض) سے قرآن کی عربی میں اختلاف ہوجائے تو اس کو لسانِ قریش میں لکھو کیونکہ قرآن انہی کی زبان اور محاورے پر نازل ہوا ہے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا حتیٰ کہ مصاحف تیار ہوگئے۔ پھر حضرت عثمان (رض) نے سیدہ حفصہ (رض) کا مصحف انھیں واپس کردیا اور مسلمانوں کے لشکروں میں سے ہر لشکر کی طرف ایک ایک مصحف روانہ کیا اور انھیں حکم دیا کہ یہ جو مصحف آپ کو بھیجا گیا ہے اس کے خلاف کوئی بھی مصحف ہو تو اس کو جلا دیا جائے اور اس دور میں مصاحف کو جلایا گیا۔
(ب) ابراہیم بن سعد سے اس طرح کی روایت منقول ہے مگر اس میں سیدہ حفصہ (رض) کا مصحف واپس لوٹانے کا ذکر نہیں ہے۔
(ج) ابن حمزہ کی روایت میں ہے کہ انھوں نے صحیفوں کو مصاحف میں لکھا، پھر ہر ملک میں ایک ایک مصحف بھیج دیا اور ان کے علاوہ باقی ہر صحیفے کی قراءت کے بارے حکم دیا کہ یا تو مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے۔
(د) امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں ابو ایمان سے اس کو روایت کیا ہے۔ ان کے علاوہ موسیٰ بن اسماعیل اور ابراہیم بن سعد سے بھی روایت کیا ہے۔ اس میں ہے :” من المومنین رجال صدقوا ما عہدوا اللہ علیہ۔ (الاحزاب : ٢٣) ” مومنوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا۔ “
سیدنا عثمان (رض) اس واقعہ سے حیران ہوگئے اور ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر (رض) کو پیغام بھیجا کہ وہ مصحف ارسال فرما دیں جس میں قرآن جمع کیا گیا ہے۔ سیدہ حفصہ (رض) نے وہ مصحف حضرت عثمان (رض) کو بھیج دیا۔ سیدنا عثمان (رض) نے زید بن ثابت، سعید بن عاص، عبداللہ بن زبیر اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام (رض) کو حکم دیا کہ اس قرآن کی کاپیاں تیار کریں۔ حضرت عثمان (رض) نے انھیں فرمایا کہ جب تمہارا زید بن ثابت (رض) سے قرآن کی عربی میں اختلاف ہوجائے تو اس کو لسانِ قریش میں لکھو کیونکہ قرآن انہی کی زبان اور محاورے پر نازل ہوا ہے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا حتیٰ کہ مصاحف تیار ہوگئے۔ پھر حضرت عثمان (رض) نے سیدہ حفصہ (رض) کا مصحف انھیں واپس کردیا اور مسلمانوں کے لشکروں میں سے ہر لشکر کی طرف ایک ایک مصحف روانہ کیا اور انھیں حکم دیا کہ یہ جو مصحف آپ کو بھیجا گیا ہے اس کے خلاف کوئی بھی مصحف ہو تو اس کو جلا دیا جائے اور اس دور میں مصاحف کو جلایا گیا۔
(ب) ابراہیم بن سعد سے اس طرح کی روایت منقول ہے مگر اس میں سیدہ حفصہ (رض) کا مصحف واپس لوٹانے کا ذکر نہیں ہے۔
(ج) ابن حمزہ کی روایت میں ہے کہ انھوں نے صحیفوں کو مصاحف میں لکھا، پھر ہر ملک میں ایک ایک مصحف بھیج دیا اور ان کے علاوہ باقی ہر صحیفے کی قراءت کے بارے حکم دیا کہ یا تو مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے۔
(د) امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں ابو ایمان سے اس کو روایت کیا ہے۔ ان کے علاوہ موسیٰ بن اسماعیل اور ابراہیم بن سعد سے بھی روایت کیا ہے۔ اس میں ہے :” من المومنین رجال صدقوا ما عہدوا اللہ علیہ۔ (الاحزاب : ٢٣) ” مومنوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا۔ “
(۲۳۷۴) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أَنَّ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ قَدِمَ عَلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِی وِلاَیَتِہِ ، وَکَانَ یَغْزُو مَعَ أَہْلِ الْعِرَاقِ قِبَلَ أَرْمِینِیَّۃَ وَأَذْرَبِیجَانَ فِی غَزْوِہِمْ ذَلِکَ الْفَرْجَ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ وَأَہْلِ الْعِرَاقِ ، فَتَنَازَعُوا فِی الْقُرْآنِ حَتَّی سَمِعَ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنَ اخْتِلاَفِہِمْ فِیہِ مَا أَذْعَرَہُ فَرَکِبَ حُذَیْفَۃُ حَتَّی قَدِمَ عَلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَدْرِکْ ہَذِہِ الأُمَّۃَ قَبْلَ أَنْ یَخْتَلِفُوا فِی الْقُرْآنِ اخْتِلاَفَ الْیَہُودِ وَالنَّصَارَی فِی الْکُتُبِ۔
فَفَزِعَ لِذَلِکَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَرْسَلَ إِلَی حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ: أَنْ أَرْسِلِی إِلَیْنَا بِالصُّحُفِ الْتِی جُمِعَ فِیہَا الْقُرْآنُ۔ فَأَرْسَلَتْ بِہَا إِلَیْہِ حَفْصَۃُ فَأَمَرَ عُثْمَانُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَسَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ أَنْ یَنْسَخُوہَا فِی الْمَصَاحِفِ ، وَقَالَ لَہُمْ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِی عَرَبِیَّۃٍ مِنْ عَرَبِیَّۃِ الْقُرْآنِ فَاکْتُبُوہَا بِلِسَانِ قُرَیْشٍ ، فَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ بِلِسَانِہِمْ۔ فَفَعَلُوا حَتَّی کُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ، ثُمَّ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَی حَفْصَۃَ ، وَأَرْسَلَ إِلَی کُلِّ جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ الْمُسْلِمِینَ بِمُصْحَفٍ وَأَمَرَہُمْ أَنْ یُحَرِّقُوا کُلَّ مُصْحَفٍ یُخَالِفُ الْمُصْحَفَ الَّذِی أُرْسِلَ بِہِ ، وَذَلِکَ زَمَانَ حُرِّقَتِ الْمَصَاحِفُ۔
لَفْظُ حَدِیثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ وَحَدِیثُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: فِی رِوَایَۃِ أَبِی الْوَلِیدِ الْحَارِثَ بْنَ ہِشَامٍ، وَقَالَ فِی رِوَایَۃِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَمْزَۃَ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ، وَلَمْ یُذْکَرَ رَدَّ الْصُحُفِ إِلَی حَفْصَۃَ فِی رِوَایَۃِ أَبِی الْوَلِیدِ ، وَذَکَرَہَا فِی رِوَایَۃِ ابْنِ حَمْزَۃَ وَقَالَ فِی آخِرِہِ: فَکَتَبُوا الصُّحُفَ فِی الْمَصَاحِفِ، فَبَعَثَ إِلَی کُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ ، وَأَمَرَ بِمَا سِوَی ذَلِکَ مِنَ الْقِرَائَ ۃِ فِی کُلِّ صَحِیفَۃٍ أَنْ تُمْحَی أَوْ تُحْرَقَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ ، وَعَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ وَقَالَ فِی الرِّوَایَتَیْنِ جَمِیعًا {مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ} [الاحزاب: ۲۳]
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۸۰۷]
فَفَزِعَ لِذَلِکَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَرْسَلَ إِلَی حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ: أَنْ أَرْسِلِی إِلَیْنَا بِالصُّحُفِ الْتِی جُمِعَ فِیہَا الْقُرْآنُ۔ فَأَرْسَلَتْ بِہَا إِلَیْہِ حَفْصَۃُ فَأَمَرَ عُثْمَانُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَسَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ أَنْ یَنْسَخُوہَا فِی الْمَصَاحِفِ ، وَقَالَ لَہُمْ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِی عَرَبِیَّۃٍ مِنْ عَرَبِیَّۃِ الْقُرْآنِ فَاکْتُبُوہَا بِلِسَانِ قُرَیْشٍ ، فَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ بِلِسَانِہِمْ۔ فَفَعَلُوا حَتَّی کُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ، ثُمَّ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَی حَفْصَۃَ ، وَأَرْسَلَ إِلَی کُلِّ جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ الْمُسْلِمِینَ بِمُصْحَفٍ وَأَمَرَہُمْ أَنْ یُحَرِّقُوا کُلَّ مُصْحَفٍ یُخَالِفُ الْمُصْحَفَ الَّذِی أُرْسِلَ بِہِ ، وَذَلِکَ زَمَانَ حُرِّقَتِ الْمَصَاحِفُ۔
لَفْظُ حَدِیثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ وَحَدِیثُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: فِی رِوَایَۃِ أَبِی الْوَلِیدِ الْحَارِثَ بْنَ ہِشَامٍ، وَقَالَ فِی رِوَایَۃِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَمْزَۃَ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ، وَلَمْ یُذْکَرَ رَدَّ الْصُحُفِ إِلَی حَفْصَۃَ فِی رِوَایَۃِ أَبِی الْوَلِیدِ ، وَذَکَرَہَا فِی رِوَایَۃِ ابْنِ حَمْزَۃَ وَقَالَ فِی آخِرِہِ: فَکَتَبُوا الصُّحُفَ فِی الْمَصَاحِفِ، فَبَعَثَ إِلَی کُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ ، وَأَمَرَ بِمَا سِوَی ذَلِکَ مِنَ الْقِرَائَ ۃِ فِی کُلِّ صَحِیفَۃٍ أَنْ تُمْحَی أَوْ تُحْرَقَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ ، وَعَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ وَقَالَ فِی الرِّوَایَتَیْنِ جَمِیعًا {مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ} [الاحزاب: ۲۳]
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۸۰۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے
(٢٣٧٥) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں قرآن میں اختلاف کیا۔ حتیٰ کہ ایک آدمی دوسرے کو کہتا : میری قرائت، تیری قرات سے بہتر ہے۔ جب حضرت عثمان (رض) کو اس کی خبر پہنچی تو انھوں نے ہم سب صحابہ کو جمع کر کے فرمایا : لوگ آج قراءت میں اختلاف کرچکے ہیں حالانکہ تم ان میں موجود ہو۔ میرا خیال ہے کہ میں انھیں ایک ہی قراءت پر جمع کر دوں۔ علی (رض) فرماتے ہیں : ہماری رائے بھی حضرت عثمان (رض) کی رائے کے موافق ہوگئی اور فرمانے لگے : جس طرح کا معاملہ عثمان (رض) کے ساتھ پیش آیا۔ اگر اس طرح میرے ساتھ ہوتا تو ضرور میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے عثمان (رض) نے کیا ہے۔
(۲۳۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ یَعْنِی ابْنَ عَلِیٍّ الْجُعْفِیَّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ وَہُوَ زَوْجُ أُخْتِ حُسَیْنٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ جِرْوَلٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِی الْقُرْآنِ عَلَی عَہْدِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَقُولُ لِلرَّجُلِ قِرَائَ تِی خَیْرٌ مِنْ قِرَائَ تِکَ۔ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِکَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَمَعَنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا الْیَوْمَ فِی الْقِرَائَ ۃِ ، وَأَنْتُمْ بَیْنَ ظَہْرَانَیْہِمْ ، فَقَدْ رَأَیْتُ أَنْ أَجْمَعَہُمْ عَلَی قِرَائَ ۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ قَالَ: فَاجْتَمَعَ رَأْیُنَا مَعَ رَأْیِہِ عَلَی ذَلِکَ قَالَ وَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: لَوْ وُلِّیْتُ مِثْلَ الَّذِی وُلِّیَ لَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِی صَنَعَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن عساکر فی تاریخ دمشق ۳۹/ ۲۴۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے
(٢٣٧٦) (ا) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عثمان (رض) سے کہا : تمہیں کس چیز نے ابھارا کہ تم نے سورة توبہ کو جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات ٢٠٠ (دو سو) کے قریب ہیں اور سورة انفال کو جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات اسی (٨٠) کے قریب ہیں ملا دیا ہے اور تم نے ان دونوں کے درمیان سطر بھی نہیں چھوڑی، جس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہو اور تم نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھا ہے ؟ تو حضرت عثمان (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وہ سورتیں نازل ہوتی تھیں جن میں فلاں فلاں چیزیں ذکر کی جاتی ہیں۔ جب آپ پر آیات نازل ہوتیں تو آپ فرماتے : ان آیات کو فلاں فلاں جگہ پر رکھو اور جب آپ پر کوئی (مکمل) سورت نازل ہوتی تو فرماتے : اس سورت کو فلاں جگہ پر رکھو (لکھو) اور سورة انفال مدینہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور سورة توبہ نزول کے اعتبار سے آخری سورتوں میں سے ہے اور اس کا موضوع بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ (یعنی ان دونوں سورتوں کا مضمون ملتا جلتا ہے، لیکن جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے اور ان کے معاملے کو واضح نہ کیا تو میں نے گمان کیا شاید یہ (توبہ) بھی اس (انفال) کا حصہ ہے، اس لیے میں نے ان دونوں کو قریب قریب رکھا اور میں نے ان کے درمیان سطر نہیں چھوڑی کہ جس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھتا اور اس کو بھی میں نے سات لمبی سورتوں میں رکھا۔
(ب) اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو بسم اللہ لکھی گئی تھی یہ مشاہدے کی بنا پر لکھی گئی ہے۔
(ج) ہم وہ روایت بھی ذکر کرچکے ہیں جو ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ یہ (بسم اللہ) سورتوں کے شروع میں ان کے نزول کی وجہ سے لکھی جاتی ہے اور نزول کے وقت یہ پتا چل جاتا تھا کہ ایک سورة ختم ہوگئی ہے اور دوسری شروع ہوچکی ہے۔
(ب) اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو بسم اللہ لکھی گئی تھی یہ مشاہدے کی بنا پر لکھی گئی ہے۔
(ج) ہم وہ روایت بھی ذکر کرچکے ہیں جو ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ یہ (بسم اللہ) سورتوں کے شروع میں ان کے نزول کی وجہ سے لکھی جاتی ہے اور نزول کے وقت یہ پتا چل جاتا تھا کہ ایک سورة ختم ہوگئی ہے اور دوسری شروع ہوچکی ہے۔
(۲۳۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَوْفُ عَنْ یَزِیدَ الْفَارِسِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قُلْتُ لِعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: مَا حَمَلَکُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَی بَرَائَ ۃَ وَہِیَ مِنَ الْمِئِینَ وَإِلَی الأَنْفَالِ وَہِیَ مِنَ الْمَثَانِی فَقَرَنْتُمْ بَیْنَہُمَا ، وَلَمْ تَجْعَلُوا بَیْنَہُمَا سَطْرًا فِیہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَوَضَعْتُمُوہَا فِی السَّبْعِ الطُّوَلِ ، مَا حَمَلَکُمْ عَلَی ذَلِکَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ مِمَّا یَنْزِلُ عَلَیْہِ مِنَ السُّوَرِ الَّتِی یُذْکَرُ فِیہَا کَذَا وَکَذَا ، فَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ الآیَاتُ یَقُولُ: ضَعُوا ہَذِہِ الآیَاتِ فِی مَوْضِعِ کَذَا وَکَذَا ۔ وَکَانَ إِذَا أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ السُّورَۃُ یَقُولُ: ضَعُوا ہَذِہِ فِی مَوْضِعِ کَذَا وَکَذَا ۔ وَکَانَتِ الأَنْفَالُ أُوَّلَ مَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ بِالْمَدِینَۃِ وَکَانَتْ بَرَائَ ۃُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ نُزُولاً ، وَکَانَتْ قِصَّتُہَا تُشْبِہُ قِصَّتَہَا ، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلَمْ یُبَیِّنْ أَمْرَہَا ، فَظَنَنْتُ أَنَّہَا مِنْہَا مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ قَرَنْتُ بَیْنَہُمَا ، وَلَمْ أَجْعَلْ بَیْنَہُمَا سَطْرًا فِیہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَوَضَعْتُہَا فِی السَّبْعِ الطُّوَلِ۔
فَفِی ہَذَا مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی مَصَاحِفِ الصَّحَابَۃِ مَعَ دِلاَلَۃِ الْمُشَاہَدَۃِ۔
وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی فَوَاتِحِ السُّورِ لِنُزُولِہَا ، وَعِنْدَ نُزُولِہَا کَانَ یُعْلَمُ انْقِضَائُ سُورَۃٍ وَابْتِدَائِ أُخْرَی۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۷۸۶]
فَفِی ہَذَا مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی مَصَاحِفِ الصَّحَابَۃِ مَعَ دِلاَلَۃِ الْمُشَاہَدَۃِ۔
وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی فَوَاتِحِ السُّورِ لِنُزُولِہَا ، وَعِنْدَ نُزُولِہَا کَانَ یُعْلَمُ انْقِضَائُ سُورَۃٍ وَابْتِدَائِ أُخْرَی۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۷۸۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے
(٢٣٧٧) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورة کے اختتام کو اس وقت نہیں پہچانتے تھے حتیٰ کہ آپ پر { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } نازل ہوتی۔
(۲۳۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ فِی کِتَابِ السُّنَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ وَابْنُ السَّرْحِ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ قُتَیْبَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یَعْرِفُ فَصْلَ السُّورَۃِ حَتَّی تَنْزِلَ عَلَیْہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}
رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۶۶۹]
رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۶۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے
(٢٣٧٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مسلمانوں کو اس وقت تک سورة کے اختتام کا علم نہ ہوتا تھا جب تک کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } نازل نہ ہوجاتی اور جب { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } نازل ہوجاتی تو وہ سمجھ لیتے کہ سورة مکمل ہوچکی ہے۔
(۲۳۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْغُزْیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: کَانَ الْمُسْلِمُونَ لاَ یَعْلَمُونَ انْقِضَائَ السُّورَۃِ حَتَّی تَنَزَّلَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} فَإِذَا نَزَلَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} عَلِمُوا أَنَّ السُّورَۃَ قَدِ انْقَضَتْ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ دُحَیْمُ بْنُ النَّعِیمِ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَصَّرَ بِہِ فَلَمْ یَذْکُرْ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ فِی إِسْنَادِہِ۔
[صحیح۔ اخرجہ اخرجہ الطحاوی فی مشکل الآثار ۳/۴۰۶]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ دُحَیْمُ بْنُ النَّعِیمِ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَصَّرَ بِہِ فَلَمْ یَذْکُرْ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ فِی إِسْنَادِہِ۔
[صحیح۔ اخرجہ اخرجہ الطحاوی فی مشکل الآثار ۳/۴۰۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے
(٢٣٧٩) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ پر (غشی) ہلکی اونگھ طاری ہوگئی۔ (اونگھ کے بعد) آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا تو پڑھا : بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الأَبْتَرُ } [الکوثر : ١۔ ٣] ” شروع اللہ رحمن ورحیم کے نام کے ساتھ بلاشبہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے، بیشک آپ کا دشمن ہی بےنام و نشاں ہوگا۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایک نہر ہے جس کا جنت میں میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ اس کے برتن (گلاس وغیرہ) ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، اس پر میری امت آئے گی ان میں سے بعض کو روکا جائے گا تو میں کہوں گا : اے اللہ ! یہ تو میرا امتی ہے۔ جواباً کہا جائے گا : آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد اس نے دین میں کیا کیا بدعات ایجاد کرلی تھیں۔
(۲۳۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ بِخُسْرَوْجِرْدَ مِنْ أُصُولِہِ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْمَرْوَزِیُّ وَدَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ بَیْنَ أَظْہُرِنَا فِی الْمَسْجِدِ إِذْ أَغْفَی إِغْفَائَ ۃً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الأَبْتَرُ} ثُمَّ قَالَ: ((ہَلْ تَدْرُونَ مَا الْکَوْثَرُ؟۔ قُلْنَا: اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ فَقَالَ: إِنَّہُ نَہْرٌ وَعَدَنِیہِ رَبِّی فِی الْجَنَّۃِ ، آنِیَتُہُ أَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْکَوَاکِبِ ، تَرِدُ عَلَیْہِ أُمَّتِی فَیُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْہُمْ فَأَقُولُ: یَا رَبِّ إِنَّہُ مِنْ أُمَّتِی ۔ فَیُقَالُ: إِنَّکَ لاَ تَدْرِی مَا أَحْدَثَ بَعْدَکَ))۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶/ ۳۰۵/ ۳۱۶۵۵]
[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶/ ۳۰۵/ ۳۱۶۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے
(٢٣٨٠) (ا) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان جلوہ افروز تھے کہ اچانک آپ پر اونگھ طاری ہوگئی، پھر (کچھ دیر بعد) آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر مبارک اٹھایا تو ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا ؟ آپ نے فرمایا : ابھی ابھی مجھ پر ایک سورة نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھنے لگے۔ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ } [الکوثر : ١]۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ ]
(ب) انہی الفاظ سے اور بھی کئی راویوں نے اس کو نقل کیا ہے اور بعض راویوں نے آنفا کا لفظ ذکر نہیں کیا ۔ اس بارے میں اہل تفسیر اور مغازی کے ہاں مشہور قول یہ ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور علی بن حجر کی حدیث کے الفاظ ان کے خلاف نہیں ہیں، شاید یہ بہتر ہو۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ ]
(ب) انہی الفاظ سے اور بھی کئی راویوں نے اس کو نقل کیا ہے اور بعض راویوں نے آنفا کا لفظ ذکر نہیں کیا ۔ اس بارے میں اہل تفسیر اور مغازی کے ہاں مشہور قول یہ ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور علی بن حجر کی حدیث کے الفاظ ان کے خلاف نہیں ہیں، شاید یہ بہتر ہو۔
(۲۳۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ بَیْنَ أَظْہُرِنَا إِذْ أَغْفَی إِغْفَائَ ۃً ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا: مَا أَضْحَکَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: نَزَلَتْ عَلَیَّ آنِفًا سُورَۃٌ ۔ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ} إِلَی آخِرِہَا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَعَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ عَلَی لَفْظِ حَدِیثِ أَبِی بَکْرٍ۔
وَعَلَی لَفْظِہِ أَیْضًا رَوَاہُ أَیْضًا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، وَرُبَّمَا لَمْ یَقُلْ بَعْضُہُمْ آنِفًا ، وَالْمَشْہُورُ فِیمَا بَیْنَ أَہْلِ التَّفْسِیرِ وَالْمَغْازِی أَنَّ ہَذِہِ السُّورَۃَ مَکِّیَّۃٌ ، وَلَفْظُ حَدِیثِ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ لاَ یُخَالِفُ قَوْلَہُمْ فَیُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ أَوْلَی۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَعَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ عَلَی لَفْظِ حَدِیثِ أَبِی بَکْرٍ۔
وَعَلَی لَفْظِہِ أَیْضًا رَوَاہُ أَیْضًا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، وَرُبَّمَا لَمْ یَقُلْ بَعْضُہُمْ آنِفًا ، وَالْمَشْہُورُ فِیمَا بَیْنَ أَہْلِ التَّفْسِیرِ وَالْمَغْازِی أَنَّ ہَذِہِ السُّورَۃَ مَکِّیَّۃٌ ، وَلَفْظُ حَدِیثِ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ لاَ یُخَالِفُ قَوْلَہُمْ فَیُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ أَوْلَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے
(٢٣٨١) (ا) ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) سے واقعہ افک سے متعلق منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے تھے، آپ نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹایا اور یہ آیت تلاوت کی : أَعُوذُ بِاللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وا بِالإِفْکِ } [النور : ١١] ۔
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے خدشہ ہے کہ استعاذہ کی زیادتی حمید کا کلام نہ ہو۔
(ج) شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ سورة شروع کرنے سے پہلے پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ آیات جو سورت کے شروع میں نہ ہوں ان سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اس میں اس کی بھی تاکید ہے جو ہم نے ابن عباس (رض) سے نقل کی ہے کہ بسم اللہ مصاحف میں تب ہی لکھی جاتی جب نازل ہوتی۔ واللہ اعلم
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے خدشہ ہے کہ استعاذہ کی زیادتی حمید کا کلام نہ ہو۔
(ج) شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ سورة شروع کرنے سے پہلے پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ آیات جو سورت کے شروع میں نہ ہوں ان سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اس میں اس کی بھی تاکید ہے جو ہم نے ابن عباس (رض) سے نقل کی ہے کہ بسم اللہ مصاحف میں تب ہی لکھی جاتی جب نازل ہوتی۔ واللہ اعلم
(۲۳۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَیْرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الأَعْرَجُ الْمَکِّیُّ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی ذِکْرِ الإِفْکِ قَالَتْ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَکَشَفَ عَنْ وَجْہِہِ وَقَالَ: ((أَعُوذُ بِالسَّمِیعِ))- أَوْ قَالَ ((أَعُوذُ بِاللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ - مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وا بِالإِفْکِ})) الآیَۃَ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَخَافُ أَنْ یَکُونَ أَمْرُ الاِسْتِعَاذَۃِ مِنْ کَلاَمِ حُمَیْدِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: فَالنَّبِیُّ -ﷺ- قَرَأَ (بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ) عِنْدَ افْتِتَاحِ سُورَۃٍ وَلَمْ یَقْرَأْہَا عِنْدَ افْتِتَاحِ آیَاتٍ لَمْ تَکُنْ أَوَّلَ سُورَۃٍ ، وَفِی ذَلِکَ تَأْکِیدٌ لَمَّا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی الْمَصَاحِفِ حَیْثُ نَزَلَتْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر۔ اخرجہ ابوداود ۷۸۳]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: فَالنَّبِیُّ -ﷺ- قَرَأَ (بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ) عِنْدَ افْتِتَاحِ سُورَۃٍ وَلَمْ یَقْرَأْہَا عِنْدَ افْتِتَاحِ آیَاتٍ لَمْ تَکُنْ أَوَّلَ سُورَۃٍ ، وَفِی ذَلِکَ تَأْکِیدٌ لَمَّا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَنَّہَا إِنَّمَا کُتِبَتْ فِی الْمَصَاحِفِ حَیْثُ نَزَلَتْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر۔ اخرجہ ابوداود ۷۸۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے
(٢٣٨٢) حضرت ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ وہ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر پڑھتے : { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ الْحَمْدُ لِلَّہِ }۔۔۔ جب سو رہ فاتحہ سے فارغ ہوئے تو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } پڑھی۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) فرماتے تھے : اگر اس کو پڑھا نہ جائے تو پھر یہ قرآن میں لکھی کیوں گئی ہے ؟
(۲۳۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِیُّ بِہَرَاۃَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی رَوَّادٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَنَّہُ کَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ کَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ الْحَمْدُ لِلَّہِ} فَإِذَا فَرَغَ قَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} قَالَ: وَکَانَ یَقُولُ لِمَ کُتِبَتْ فِی الْمُصْحَفِ إِنْ لَمْ تُقْرَأْ۔ [قوی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سورة الفاتحہ کی مکمل آیت ہے
(٢٣٨٣) عبداللہ بن ابی ملیکہ ام المومنین ام سلمہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرات کا ذکر کیا (راوی کو شک ہے کہ ذکرت کے الفاظ ہیں یا کچھ اور ہیں) آپ پڑھتے تھے : { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ، الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ، مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ } یعنی ہر آیت کو الگ الگ کر کے پڑھتے تھے۔
(۲۳۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی الأُمَوِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ: ذَکَرَتْ أَوْ کَلِمَۃً غَیْرَہَا قِرَائَ ۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} یُقَطِّعُ قِرَائَ تَہُ آیَۃً آیَۃً۔ [شاذ۔ اخرجہ احمد ۶/ ۳۵۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سورة الفاتحہ کی مکمل آیت ہے
(٢٣٨٤) ابن ابی ملیکہ سیدہ ام سلمہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرات اس طرح تھی :{ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ، الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ } یعنی ہر آیت الگ الگ کر کے پڑھتے تھے۔
(۲۳۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَنَّ قِرَائَ ۃَ النَّبِیِّ -ﷺ- کَانَتْ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} یَعْنِی کَلِمَۃً کَلِمَۃً۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ بِمَعْنَاہُ۔ وَرَوَاہُ عُمَرُ بْنُ ہَارُونَ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ فَزَادَ فِیہِ۔ [شاذ۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ بِمَعْنَاہُ۔ وَرَوَاہُ عُمَرُ بْنُ ہَارُونَ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ فَزَادَ فِیہِ۔ [شاذ۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سورة الفاتحہ کی مکمل آیت ہے
(٢٣٨٥) سیدہ ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } پڑھی اور اس کو ایک آیت شمار کیا، { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ } کو دو آیتیں، { الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کو تین آیات، { مَلِکِ یَوْمِ الدِّینِ } کو چار آیات اور اسی طرح {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ } کو پانچویں آیت اپنی پانچوں انگلیوں پر شمار کرتے تھے۔
(۲۳۸۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُونَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَرَأَ فِی الصَّلاَۃِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} فَعَدَّہَا آیَۃً {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} آیَتَیْنِ {الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} ثَلاَثَ آیَاتٍ {مَلِکِ یَوْمِ الدِّینِ} أَرْبَعَ آیَاتٍ وَقَالَ ہَکَذَا {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ} وَجَمَعَ خَمْسَ أَصَابِعِہِ۔ رَوَاہُ ابْنُ خُزَیْمَۃَ فِی کِتَابِہِ عَنِ الصَّغَانِیِّ۔ [شاذ۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سورة الفاتحہ کی مکمل آیت ہے
(٢٣٨٦) ابن جریج فرماتے ہیں : مجھے میرے والد محترم نے خبر دی کہ سعید بن جبیر نے فرمایا کہ { وَلَقَدْ آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِی } [الحجر : ٨٧] ” اور ہم نے آپ کو سات بار بار پڑھی جانے والی آیات عطا کیں “ سے مراد سورة فاتحہ ہے۔
(ب) (ابن جریج اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ مجھ پر سعید بن جبیر نے { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } تلاوت کی حتی کہ مکمل سورة فاتحہ کو ختم کیا۔ پھر فرمایا : { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } (سورة فاتحہ کی) ساتویں آیت ہے۔
(ج) سعید بن جبیر نے میرے والد سے کہا : اس سورت کو ابن عباس (رض) نے مجھ پر اسی طرح تلاوت کیا تھا، جس طرح میں نے تیرے سامنے اسے پڑھا ہے۔ پھر فرمایا : { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } (سورة فاتحہ کی) ساتویں آیت ہے۔
(د) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : اللہ نے یہ سورت تمہارے لیے ذخیرہ کر رکھی تھی، یہ اللہ نے تم سے پہلے کسی امت کے لیے نہیں اتاری۔
(ب) (ابن جریج اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ مجھ پر سعید بن جبیر نے { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } تلاوت کی حتی کہ مکمل سورة فاتحہ کو ختم کیا۔ پھر فرمایا : { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } (سورة فاتحہ کی) ساتویں آیت ہے۔
(ج) سعید بن جبیر نے میرے والد سے کہا : اس سورت کو ابن عباس (رض) نے مجھ پر اسی طرح تلاوت کیا تھا، جس طرح میں نے تیرے سامنے اسے پڑھا ہے۔ پھر فرمایا : { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } (سورة فاتحہ کی) ساتویں آیت ہے۔
(د) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : اللہ نے یہ سورت تمہارے لیے ذخیرہ کر رکھی تھی، یہ اللہ نے تم سے پہلے کسی امت کے لیے نہیں اتاری۔
(۲۳۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ۔ وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَعْوَرُ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبِی أَنَّ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ أَخْبَرَہُ فَقَالَ لَہُ {وَلَقَدْ آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِی} [الحجر: ۸۷] قَالَ: ہِیَ أُمُّ الْقُرْآنِ۔
قَالَ أَبِی: وَقَرَأَ عَلَیَّ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} حَتَّی خَتَمَہَا ثُمَّ قَالَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} الآیَۃُ السَّابِعَۃُ۔
قَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ لأَبِی: وَقَرَأَہَا عَلَیَّ ابْنُ عَبَّاسٍ کَمَا قَرَأْتُہَا عَلَیْکَ، ثُمَّ قَالَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} الآیَۃُ السَّابِعَۃُ ،
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٌ: فَذَخَرَہَا اللَّہُ لَکُمْ فَمَا أَخْرَجَہَا لأَحَدٍ قَبْلَکُمْ۔
قَالَ أَبِی: وَقَرَأَ عَلَیَّ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} حَتَّی خَتَمَہَا ثُمَّ قَالَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} الآیَۃُ السَّابِعَۃُ۔
قَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ لأَبِی: وَقَرَأَہَا عَلَیَّ ابْنُ عَبَّاسٍ کَمَا قَرَأْتُہَا عَلَیْکَ، ثُمَّ قَالَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} الآیَۃُ السَّابِعَۃُ ،
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٌ: فَذَخَرَہَا اللَّہُ لَکُمْ فَمَا أَخْرَجَہَا لأَحَدٍ قَبْلَکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سورة الفاتحہ کی مکمل آیت ہے
(٢٣٨٧) سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ابن عباس (رض) اللہ کے فرمان { وَلَقَدْ آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِی } (الحجر : ٨٧) اور ہم نے آپ کو سات، بار بار پڑھی جانے والی آیات عطا کی ہیں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ ابن عباس (رض) سے پوچھا گیا کہ ساتویں آیت کون سی ہے ؟ انھوں نے فرمایا : { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ }
(۲۳۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلَکِ بْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَلَقَدْ آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِی} قَالَ: فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ۔ قِیلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: فَأَیْنَ السَّابِعَۃُ؟ قَالَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}
وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف]
وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سورة الفاتحہ کی مکمل آیت ہے
(٢٣٨٨) سُدی عبد خیر سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) سے السبع المثانی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا : { الْحَمْدُ لِلَّہِ } (یعنی سورة فاتحہ) ۔ ان سے کہا گیا کہ سبع مثانی تو سات آیات ہیں، ساتویں کونسی ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ }
(۲۳۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ وَاصِلٍ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ قَالَ: سُئِلَ عَلِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ السَّبْعِ الْمَثَانِی؟ فَقَالَ: {الْحَمْدُ لِلَّہِ} فَقِیلَ لَہُ: إِنَّمَا ہِیَ سِتُّ آیَاتٍ۔ فَقَالَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} آیَۃٌ۔
وَرُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ۔
[ضعیف۔ اخرجہ الدار قطنی فی سننہ ۱/۳۱۳]
وَرُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ۔
[ضعیف۔ اخرجہ الدار قطنی فی سننہ ۱/۳۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سورة الفاتحہ کی مکمل آیت ہے
(٢٣٨٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ } سات آیتیں ہیں ان میں سے ایک { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } ہے۔
اور یہی سورت (فاتحہ) السبع من المثانی، قرآن عظیم، ام القرآن اور فاتحہ الکتاب کہلاتی ہے۔
اور یہی سورت (فاتحہ) السبع من المثانی، قرآن عظیم، ام القرآن اور فاتحہ الکتاب کہلاتی ہے۔
(۲۳۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِی نُوحُ بْنُ أَبِی بِلاَلٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: (({الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} سَبْعُ آیَاتٍ ، إِحْدَاہُنَّ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَہِیَ السَّبْعُ مِنَ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ وَہِیَ أُمُّ الْقُرْآنِ وَہِیَ فَاتِحَۃُ الْکِتَابِ))۔
[منکر۔ قال ابن الجوزی فی التحقیق ۱/۳۴۶]
[منکر۔ قال ابن الجوزی فی التحقیق ۱/۳۴۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سورة الفاتحہ کی مکمل آیت ہے
(٢٣٩٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم { الْحَمْدُ لِلَّہِ } پڑھو تو { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } بھی پڑھا کرو۔ یہ سورة ام القران، ام الکتاب اور السبع المثانی ہے اور { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } اس کی ایک آیت ہے۔
(۲۳۹۰) وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی نُوحُ بْنُ أَبِی بِلاَلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہُ -ﷺ- : ((إِذَا قَرَأْتُمُ {الْحَمْدُ لِلَّہِ} فَاقْرَئُ وا {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} إِنَّہَا أُمُّ الْقُرْآنِ وَأُمُّ الْکِتَابِ وَالسَّبْعُ الْمَثَانِی وَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} إِحْدَاہَا))۔
قَالَ أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ ثُمَّ لَقِیتُ نُوحًا فَحَدَّثَنِی عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِمِثْلِہِ وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔ [منکر۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
قَالَ أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ ثُمَّ لَقِیتُ نُوحًا فَحَدَّثَنِی عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِمِثْلِہِ وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔ [منکر۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سورة الفاتحہ کی مکمل آیت ہے
(٢٣٩١) محمد بن کعب سے { سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِی } [الحجر : ٨٧] کے بارے منقول ہے کہ یہ ام الکتاب (فاتحہ) ہے اور وہ { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } سمیت سات آیات ہیں۔
(۲۳۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ یَعْنِی ابْنَ فَضَالَۃَ عَنْ أَبِی صَخْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ {سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِی} قَالَ: ہِیَ أُمُّ الْکِتَابِ ، وَہِیَ سَبْعُ آیَاتٍ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ}۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٣٩٢) (ا) قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک (رض) سے کسی نے پوچھا کہ رسول اللہ کی قرات کیسی ہوتی تھی ؟ انھوں نے بتایا کہ وہ لمبا لمبا کر کے پڑھتے تھے۔ پھر انھوں نے { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کی تلاوت کی۔ { الرَّحْمَنِ } کو بھی لمبا کیا اور { الرَّحِیمِ }۔ کو بھی لمبا کیا۔
(ب) امام بخاری (رح) نے اس کو اپنی صحیح میں عمرو بن عاصم سے روایت کیا ہے اور وہ ہمام سے روایت کرتے ہیں مگر اس میں یہ ہے کہ { بِسْمِ اللَّہِ } کو لمبا کیا، پھر { الرَّحْمَنِ } کو بھی لمبا کیا اور { الرَّحِیمِ } کو بھی لمبا کیا۔ [الفاتحہ : ١]
(ب) امام بخاری (رح) نے اس کو اپنی صحیح میں عمرو بن عاصم سے روایت کیا ہے اور وہ ہمام سے روایت کرتے ہیں مگر اس میں یہ ہے کہ { بِسْمِ اللَّہِ } کو لمبا کیا، پھر { الرَّحْمَنِ } کو بھی لمبا کیا اور { الرَّحِیمِ } کو بھی لمبا کیا۔ [الفاتحہ : ١]
(۲۳۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلاَبِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ وَجَرِیرٌ قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ: کَانَتْ مَدًّا ، ثُمَّ قَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} یَمُدُّ (الرَّحْمَنِ) وَیَمُدُّ ( الرَّحِیمِ)
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ عَنْ ہَمَّامٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ یَمُدُّ {بِسْمِ اللَّہِ} وَیَمُدُّ بِ {الرَّحْمَنِ} وَیَمُدُّ بِ {الرَّحِیمِ}۔ [صحیح۔ بدون ذکر البسملۃ، اخرجہ البخاری ۵۰۴۵]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ عَنْ ہَمَّامٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ یَمُدُّ {بِسْمِ اللَّہِ} وَیَمُدُّ بِ {الرَّحْمَنِ} وَیَمُدُّ بِ {الرَّحِیمِ}۔ [صحیح۔ بدون ذکر البسملۃ، اخرجہ البخاری ۵۰۴۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم سے قرات کی ابتدا کرنے کا بیان اور جب فاتحہ اونچی پڑھی جائے تو اسے بھی اونچی آواز میں پڑھا جائے
(٢٣٩٣) قتادہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک (رض) سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قراءت کیسی ہوتی تھی ؟ انھوں نے فرمایا کہ آپ لمبا لمبا کر کے پڑھتے تھے، پھر انھوں نے ” بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم “ پڑھی بسم اللہ پر مد کی اور الرحمن کو اور الرحیم کو بھی لمبا کیا۔
(۲۳۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَیْدِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ وَجَرِیرٌ یَعْنِی ابْنَ حَازِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ: کَانَتْ مَدًّا ثُمَّ قَرَأَ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} یَمُدُّ {بِسْمِ اللَّہِ} وَیَمُدُّ {الرَّحْمَنِ} وَیَمُدُّ {الرَّحِیمِ}۔
[صحیح۔ بدون ذکر البمسلۃ، تقدم فی الذی قبلہ]
[صحیح۔ بدون ذکر البمسلۃ، تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক: