আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ২৩৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرنے کے بعد تعوذ پڑھنے کا بیان
(٢٣٥٤) (ا) ایک دوسری سند میں ابو ولید شعبہ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔ اس میں یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہم انی اعوذبک من الشیطن الرجیم۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔ “
(ب) انھوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمرو کہتے ہیں : نفخہ سے مراد تکبر ہے اور ھمزہ سے مراد دیوانگی اور نفثہ سے مراد شعر گوئی ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے ابوداؤد کی حدیث بھی اسی طرح ہے۔ اس میں حدیث کے ساتھ کچھ تشریح کا اضافہ بھی ہے مگر انھوں نے اس کو عمرو کی طرف منسوب نہیں کیا، بلکہ کہا کہ ان سے کسی نے پوچھا : ہمزہ سے کیا مراد ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : وہ غشی اور دیوانگی جو ابن آدم پر طاری ہوجاتی ہے۔ کسی نے پوچھا : نفخہ کیا ہوتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : تکبر۔ پھر کسی نے پوچھا : نَفْثُہُ سے مراد کیا ہے ؟ انھوں نے بتایا : شعر و شاعری۔
(ب) انھوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمرو کہتے ہیں : نفخہ سے مراد تکبر ہے اور ھمزہ سے مراد دیوانگی اور نفثہ سے مراد شعر گوئی ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے ابوداؤد کی حدیث بھی اسی طرح ہے۔ اس میں حدیث کے ساتھ کچھ تشریح کا اضافہ بھی ہے مگر انھوں نے اس کو عمرو کی طرف منسوب نہیں کیا، بلکہ کہا کہ ان سے کسی نے پوچھا : ہمزہ سے کیا مراد ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : وہ غشی اور دیوانگی جو ابن آدم پر طاری ہوجاتی ہے۔ کسی نے پوچھا : نفخہ کیا ہوتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : تکبر۔ پھر کسی نے پوچھا : نَفْثُہُ سے مراد کیا ہے ؟ انھوں نے بتایا : شعر و شاعری۔
(۲۳۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: ((اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ))۔
وَزَادَ قَالَ عَمْرٌو: نَفْخُہُ الْکِبْرُ ، وَہَمْزُہُ الْمُوتَۃُ ، وَنَفْثُہُ الشِّعْرُ۔
وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ مِسْعَرٍ وَشُعْبَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَۃَ یُقَالُ لَہُ عَاصِمٌ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیَّ -ﷺ- بِمَعْنَی حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ ، وَزَادَ التَّفْسِیرَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَنْسُبْہُ إِلَی عَمْرٍو، وَلَکِنْ قَالَ قِیلَ: وَمَا ہَمْزُہُ؟ قَالَ: الْمُوتَۃُ الَّتِی تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ۔ قِیلَ: وَمَا نَفْخُہُ ؟ قَالَ: الْکِبْرُ۔ قِیلَ: وَمَا نَفْثُہُ؟ قَالَ الشِّعْرُ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَشُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
وَزَادَ قَالَ عَمْرٌو: نَفْخُہُ الْکِبْرُ ، وَہَمْزُہُ الْمُوتَۃُ ، وَنَفْثُہُ الشِّعْرُ۔
وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ مِسْعَرٍ وَشُعْبَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَۃَ یُقَالُ لَہُ عَاصِمٌ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیَّ -ﷺ- بِمَعْنَی حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ ، وَزَادَ التَّفْسِیرَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَنْسُبْہُ إِلَی عَمْرٍو، وَلَکِنْ قَالَ قِیلَ: وَمَا ہَمْزُہُ؟ قَالَ: الْمُوتَۃُ الَّتِی تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ۔ قِیلَ: وَمَا نَفْخُہُ ؟ قَالَ: الْکِبْرُ۔ قِیلَ: وَمَا نَفْثُہُ؟ قَالَ الشِّعْرُ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَشُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرنے کے بعد تعوذ پڑھنے کا بیان
(٢٣٥٥) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو جب قیام کرتے تو تکبیر کہتے، پھر سبحانک اللہم وبحمدک ۔۔۔ سے نماز شروع فرماتے۔ اس کے بعد لا الٰہ الا اللّٰہ، اللہ اکبر کبیرا تین تین مرتبہ کہتے۔ اس کے بعد اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم من ہمزہ ونفخہ ونفثہ۔ ” میں شیطان مردود سے اللہ سننے والے اور جاننے والے کی پناہ میں آتا ہوں اور اس کے وسوسے، تکبر اور جادو کی پھونک سے بھی پناہ مانگتا ہوں۔ “ پھر قرات شروع فرماتے۔
(۲۳۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلاَمِ بْنُ مُطَہَّرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَلِیٍّ الرِّفَاعِیِّ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ کَبَّرَ فَذَکَرَ اسْتِفْتَاحَہُ بِسُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ ، وَبِالتَّہْلِیلِ وَالتَّکْبِیرِ بَعْدَہُ ثَلاَثًا: أَعُوذُ بِاللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ، مِنْ ہَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ ۔ ثُمَّ یَقْرَأُ۔
وَرُوِّینَاہُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا۔ [منکر۔ وقد تقدم ۲۳۴۹]
وَرُوِّینَاہُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا۔ [منکر۔ وقد تقدم ۲۳۴۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرنے کے بعد تعوذ پڑھنے کا بیان
(٢٣٥٦) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع فرماتے تو پڑھتے ۔۔۔ اور ورقا کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں سکھاتے کہ ہم یہ کہیں : اللہم انی اعوذبک من الشیطن الرجیم وہمزہ ونفخہ ونفثہ۔ ” اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے اور اس کے وسوسے سے تکبر سے اور جادو کی پھونک سے۔
عطا کہتے ہیں : ہمزہ سے مراد دیوانگی ہے اور نفثہ سے مراد شعر و شاعری اور نفخہ سے مراد کبر وتکبر ہے۔
عطا کہتے ہیں : ہمزہ سے مراد دیوانگی ہے اور نفثہ سے مراد شعر و شاعری اور نفخہ سے مراد کبر وتکبر ہے۔
(۲۳۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی ظَبْیَۃَ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہُ -ﷺ- إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ یَقُولُ ، وَفِی حَدِیثِ وَرْقَائَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا أَنْ نَقُولَ: اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ، وَہَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ ۔ قَالَ عَطَائُ : فَہَمْزُہُ الْمُوتَۃُ ، وَنَفْثُہُ الشِّعْرُ ، وَنَفْخُہُ الْکِبْرُ۔
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائٍ فَوَقَفَہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ محمد بن فضیل فی الدعاء ۱۱۹]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہُ -ﷺ- إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ یَقُولُ ، وَفِی حَدِیثِ وَرْقَائَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا أَنْ نَقُولَ: اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ، وَہَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ ۔ قَالَ عَطَائُ : فَہَمْزُہُ الْمُوتَۃُ ، وَنَفْثُہُ الشِّعْرُ ، وَنَفْخُہُ الْکِبْرُ۔
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائٍ فَوَقَفَہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ محمد بن فضیل فی الدعاء ۱۱۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرنے کے بعد تعوذ پڑھنے کا بیان
(٢٣٥٧) حضرت ابن مسعود (رض) سے منقول ہے کہ وہ نماز میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے تھے، شیطان مردود کے وسوسوں سے، اس کے تکبر سے اور اس کے جادو کی پھونک سے۔
(۲۳۵۷) حَدَّثَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَ یَتَعَوَّذُ فِی الصَّلاَۃِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ مِنْ نَفْخِہِ وَنَفْثِہِ وَہَمْزِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطیالسی ۱/ ۴۹/ ۳۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرنے کے بعد تعوذ پڑھنے کا بیان
(٢٣٥٨) اسود بن یزید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) جب نماز شروع کرتے تو کہتے : اللہ اکبر، پھر کہتے : سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ ، وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ ۔ ” اے اللہ ! تو پاک ہے اور میں تیری تعریف کے ساتھ تجھے یاد کرتا ہوں اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ “
پھر شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتے، پھر سورة فاتحہ کی قراءت کرتے جس سے قرآن کی ابتدا ہوتی ہے۔
پھر شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتے، پھر سورة فاتحہ کی قراءت کرتے جس سے قرآن کی ابتدا ہوتی ہے۔
(۲۳۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: الْعَلاَئُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ: حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَاتِبُ حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ: أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ: اللَّہُ أَکْبَرُ ثُمَّ یَقُولُ: سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ ، وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ۔ ثُمَّ یَتَعَوَّذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ثُمَّ یَقْرَأُ مَا بَدَا لَہُ مِنَ الْقُرْآنِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم ۲۳۵۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعوذ کا اونچی یا آہستہ آواز میں پڑھنے کا بیان
(٢٣٥٩) (ا) صالح بن ابو صالح سے روایت ہے کہ انھوں نے ابوہریرہ (رض) کو لوگوں کو امامت کرواتے ہوئے دیکھا۔ آپ آواز سے یہ کلمات پڑھ رہے تھے : رَبَّنَا إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اپنے دل میں تعوذ پڑھتے تھے، لہٰذا بلند یا آہستہ دونوں طرح پڑھنا درست ہے۔ بعض سورة فاتحہ سے بھی پہلے تعوذ پڑھ لیتے تھے اور یہی میرا قول ہے۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے والے باب کی روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں کہ تعوذ قراءت سے پہلے پڑھا جائے۔
(د) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ تعوذ پہلی رکعت میں پڑھا جائے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ حسن، عطا، ابراہیم نخعی کا بھی یہی قول ہے۔
(ھ) امام شافعی (رح) کا ایک قول یہ بھی ہے کہ تعوذ ہر رکعت میں سورة فاتحہ سے پہلے پڑھا جائے تو بہتر ہے۔
(و) شیخ فرماتے ہیں کہ ابن سیرین سے منقول ہے کہ وہ ہر رکعت میں تعوذ پڑھتے تھے۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اپنے دل میں تعوذ پڑھتے تھے، لہٰذا بلند یا آہستہ دونوں طرح پڑھنا درست ہے۔ بعض سورة فاتحہ سے بھی پہلے تعوذ پڑھ لیتے تھے اور یہی میرا قول ہے۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے والے باب کی روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں کہ تعوذ قراءت سے پہلے پڑھا جائے۔
(د) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ تعوذ پہلی رکعت میں پڑھا جائے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ حسن، عطا، ابراہیم نخعی کا بھی یہی قول ہے۔
(ھ) امام شافعی (رح) کا ایک قول یہ بھی ہے کہ تعوذ ہر رکعت میں سورة فاتحہ سے پہلے پڑھا جائے تو بہتر ہے۔
(و) شیخ فرماتے ہیں کہ ابن سیرین سے منقول ہے کہ وہ ہر رکعت میں تعوذ پڑھتے تھے۔
(۲۳۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ: أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَؤُمُّ النَّاسَ رَافِعًا صَوْتَہُ: رَبَّنَا إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ۔ فِی الْمَکْتُوبَۃِ إِذَا فَرَغَ مِنْ أُمِّ الْقُرْآنِ۔ زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَتَعَوَّذُ فِی نَفْسِہِ ، وَأَیَّہُمَا فَعَلَ الرَّجُلُ أَجْزَأَہُ ، وَکَانَ بَعْضُہُمْ یَتَعَوَّذُ حِینَ یَفْتَتِحُ قَبْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ ، وَبِذَلِکَ أَقُولُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَالأَحَادِیثُ فِی الْبَابِ قَبْلَہُ تَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ یَتَعَوَّذُ قَبْلَ الْقِرَائَ ۃِ
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَیَقُولُہُ فِی أَوَّلِ رَکْعَۃٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَبِہِ قَالَ الْحَسَنُ وَعَطَائُ وَإِبْرَاہِیمُ النَّخَعِیُّ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَدْ قِیلَ إِنْ قَالَہُ حِینَ یَفْتَتِحُ کُلَّ رَکْعَۃٍ قَبْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ فَہُوَ حَسَنٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَیُحْکَی عَنِ ابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُ کَانَ یَسْتَعِیذُ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَالأَحَادِیثُ فِی الْبَابِ قَبْلَہُ تَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ یَتَعَوَّذُ قَبْلَ الْقِرَائَ ۃِ
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَیَقُولُہُ فِی أَوَّلِ رَکْعَۃٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَبِہِ قَالَ الْحَسَنُ وَعَطَائُ وَإِبْرَاہِیمُ النَّخَعِیُّ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَدْ قِیلَ إِنْ قَالَہُ حِینَ یَفْتَتِحُ کُلَّ رَکْعَۃٍ قَبْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ فَہُوَ حَسَنٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَیُحْکَی عَنِ ابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُ کَانَ یَسْتَعِیذُ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر رکعت میں تعوذ کے بعد قراءت کے فرض ہونے کا بیان
(٢٣٦٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لے گئے۔ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز ادا کی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : واپس جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ آدمی واپس چلا گیا اور نماز پڑھی، پھر دوبارہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا : وعلیک السلام، لوٹ جا نماز پڑھ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی حتیٰ کہ اس نے تین بار یہ کام کیا، آخر بولا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ، میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، آپ ایسا کریں مجھے سکھلا دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ، پھر قرآن میں سے جو تجھے آسان لگے پڑھ، پھر رکوع سے سر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہوجا ، پھر اطمینان سے سجدہ کر پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ جا ، پھر اسی طرح مکمل نماز ادا کر۔
(۲۳۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاہِلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی ہُوَ ابْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی ، ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَرَدَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَیْہِ السَّلاَمَ وَقَالَ: ((ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ قَالَ: فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّی کَمَا یُصَلِّی ثُمَّ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَلَّمَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ حَتَّی فَعَلَ ذَلِکَ ثَلاَثَ مِرَارٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَیْرَ ہَذَا فَعَلِّمْنِی۔ قَالَ: ((إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَکَبِّرَ ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَیَسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِکَ فِی صَلاَتِکَ کُلِّہَا))۔
أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۹۳]
أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۹۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر رکعت میں تعوذ کے بعد قراءت کے فرض ہونے کا بیان
(٢٣٦١) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں : ” قرآن کی تلاوت کے بغیر نماز قبول نہیں ہے۔ سورة فاتحہ پڑھ لے اور اس سے زیادہ کچھ اور بھی پڑھ لے۔
(۲۳۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَعْفَرٍ أَبِی عَلِیٍّ بَیَّاعِ الأَنْمَاطِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ أُنَادِیَ: لاَ صَلاَۃَ إِلاَّ بِقُرْآنٍ ، بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَمَا زَادَ ۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۲/ ۴۲۸، ۹۵۲۵]
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۲/ ۴۲۸، ۹۵۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر رکعت میں تعوذ کے بعد قراءت کے فرض ہونے کا بیان
(٢٣٦٢) ابو معمر سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا خباب (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر وعصر کی نماز میں قراءت کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! ہم نے پوچھا : تم کس طرح جان لیتے ؟ انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک کے حرکت کرنے سے۔
(۲۳۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا یَعْلَی وَعُبَیْدُ اللَّہِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ قَالَ: سَأَلْنَا خَبَّابًا أَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الأُولَی وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ قُلْنَا: بِأَیِّ شَیْئٍ کُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِکَ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْیَتِہِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الحمیدی ۱۵۶]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الحمیدی ۱۵۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کے قراءت ہونے کا بیان
(٢٣٦٣) حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔
(۲۳۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ صحیح اخرجہ البخاری [۷۵۶]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ صحیح اخرجہ البخاری [۷۵۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کے قراءت ہونے کا بیان
(٢٣٦٤) سیدنا عبادہ بن صامت (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس آدمی کی نماز نہیں ہوتی جو سورة فاتحہ نہ پڑھے۔
اسی طرح امام شافعی (رح) اور حمیدی نے سفیان بن عیینہ سے روایت کیا ہے کہ جو سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔
اسی طرح امام شافعی (رح) اور حمیدی نے سفیان بن عیینہ سے روایت کیا ہے کہ جو سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔
(۲۳۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ قَالَ سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِیعِ یُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ))۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَالْحُمَیْدِیُّ عَنْ سُفْیَانَ لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔
[صحیح۔ وتقدم فی الذی قبلہ]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَالْحُمَیْدِیُّ عَنْ سُفْیَانَ لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔
[صحیح۔ وتقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کے قراءت ہونے کا بیان
(٢٣٦٥) (ا) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ جس نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے، تین مرتبہ فرمایا۔ راوی نے ابوہریرہ (رض) سے عرض کیا : اے ابوہریرہ ! میں کبھی امام کے پیچھے بھی تو ہوتا ہوں (تو اس وقت کیا کروں ؟ ) تو ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : اے فارسی ! تو اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز (فاتحہ) کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم کرلیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ کچھ ہے جو وہ مجھ سے مانگے، جب بندہ کہتا ہے ” الحمد للہ رب العالمین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری تعریف کی اور جب بندہ کہتا ہے : ” الرحمن الرحیم “ تو اللہ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری حمد و ثنا کی اور جب بندہ کہتا ہے : ” ملک یوم الدین “ تو اللہ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی یا فرمایا : میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کردیا اور جب بندہ عرض کرتا ہے : ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ سوال کرے۔ جب بندہ کہتا ہے : ” اہدنا الصراط المستقیم ۔ صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولاالضآلین ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔ (الفاتحۃ ١۔ ٧)
(ب) سفیان کہتے ہیں : میں علا بن عبدالرحمن کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ بیمار تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی۔
(ب) سفیان کہتے ہیں : میں علا بن عبدالرحمن کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ بیمار تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی۔
(۲۳۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنِی الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ- یَقُولُ: ((کُلُّ صَلاَۃٍ لاَ یُقْرَأُ فِیہَا بِأُمِّ الْکِتَابِ فَہِیَ خِدَاجٌ ، ثُمَّ ہِیَ خِدَاجٌ ، ثُمَّ ہِیَ خِدَاجٌ))۔ فَقَالَ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ فَإِنِّی أَکُونُ أَحْیَانًا وَرَائَ الإِمَامِ۔ قَالَ: یَا فَارِسِیُّ اقْرَأْ بِہَا فِی نَفْسِکَ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ- یَقُولُ: ((قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلاَۃَ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} قَالَ اللَّہُ: حَمِدَنِی عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} قَالَ: أَثْنَی عَلَیَّ عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} قَالَ: مَجَّدَنِی عَبْدِی أَوْ قَالَ فَوَّضَ إِلَیَّ عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ} قَالَ: ہَذِہِ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ ، فَإِذَا قَالَ {اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ صِرَاطَ الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ} فَہَذَا لِعَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))
قَالَ سُفْیَانُ: دَخَلْتُ عَلَی الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِی بَیْتَہِ وَہُوَ مَرِیضٌ فَسَأَلْتُہُ فَحَدَّثَنِی بِہَذَا الْحَدِیثِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، وَقَالَ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} ہَکَذَا رَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔
وَتَابَعَہُ عَلَی إِسْنَادِہِ شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ الْبَصْرِیُّ وَجَہْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ فَرَوَوْہُ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ وَخَالَفَہُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ فَرَوَاہُ کَمَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۳۹۵]ق
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنِی الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ- یَقُولُ: ((کُلُّ صَلاَۃٍ لاَ یُقْرَأُ فِیہَا بِأُمِّ الْکِتَابِ فَہِیَ خِدَاجٌ ، ثُمَّ ہِیَ خِدَاجٌ ، ثُمَّ ہِیَ خِدَاجٌ))۔ فَقَالَ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ فَإِنِّی أَکُونُ أَحْیَانًا وَرَائَ الإِمَامِ۔ قَالَ: یَا فَارِسِیُّ اقْرَأْ بِہَا فِی نَفْسِکَ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہُ -ﷺ- یَقُولُ: ((قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلاَۃَ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} قَالَ اللَّہُ: حَمِدَنِی عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} قَالَ: أَثْنَی عَلَیَّ عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} قَالَ: مَجَّدَنِی عَبْدِی أَوْ قَالَ فَوَّضَ إِلَیَّ عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ} قَالَ: ہَذِہِ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ ، فَإِذَا قَالَ {اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ صِرَاطَ الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ} فَہَذَا لِعَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))
قَالَ سُفْیَانُ: دَخَلْتُ عَلَی الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِی بَیْتَہِ وَہُوَ مَرِیضٌ فَسَأَلْتُہُ فَحَدَّثَنِی بِہَذَا الْحَدِیثِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، وَقَالَ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} ہَکَذَا رَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔
وَتَابَعَہُ عَلَی إِسْنَادِہِ شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ الْبَصْرِیُّ وَجَہْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ فَرَوَوْہُ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ وَخَالَفَہُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ فَرَوَاہُ کَمَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۳۹۵]ق
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کے قراءت ہونے کا بیان
(٢٣٦٦) (ا) ہشام بن زہرہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ (رض) کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نماز میں سورة فاتحہ کی تلاوت نہیں کی تو وہ نماز ناقص اور نامکمل ہے، تین مرتبہ فرمایا۔ ہشام بن زہرہ کہتے ہیں : میں نے پوچھا : اے ابوہریرہ ! کبھی کبھار میں امام کی اقتدا میں نماز ادا کررہا ہوتا ہوں ؟ تو ابوہریرہ (رض) نے میرے بازو کو پکڑا اور فرمایا : اے فارسی ! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم کرلیا ہے۔ یہ آدھی میرے لیے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے پڑھا کرو۔ جب بندہ کہتا ہے : ” الحمد للہ رب العالمین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے : ” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے :” ملک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے :” ایاک نعبد وایاک نستعین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا اور بندہ کہتا ہے : ” اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔
(ب) مذکورہ حدیث کے الفاظ قتیبہ کے ہیں اور قعنبی کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کہتا ہے : ” مالک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی اور بڑائی بیان کی ہے اور یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے پڑھا کرو۔ جب بندہ کہتا ہے : ” الحمد للہ رب العالمین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے : ” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے :” ملک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے :” ایاک نعبد وایاک نستعین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا اور بندہ کہتا ہے : ” اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔
(ب) مذکورہ حدیث کے الفاظ قتیبہ کے ہیں اور قعنبی کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کہتا ہے : ” مالک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی اور بڑائی بیان کی ہے اور یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔
(۲۳۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکِ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَی ہِشَامِ بْنَ زُہْرَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہُ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی صَلاَۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَہِیَ خِدَاجٌ ، فَہِیَ خِدَاجٌ ، فَہِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ))۔ قَالَ فَقُلْتُ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ إِنِّی أَحْیَانًا أَکُونُ وَرَائَ الإِمَامِ۔ قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِی وَقَالَ: اقْرَأْ بِہَا فِی نَفْسِکَ یَا فَارِسِیُّ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلاَۃَ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی نِصْفَیْنِ ، فَنِصْفُہَا لِی وَنِصْفُہَا لِعَبْدِی ، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اقْرَئُ وا یَقُولُ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} یَقُولُ اللَّہُ: حَمِدَنِی عَبْدِی۔ وَیَقُولُ الْعَبْدُ {الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} یَقُولُ اللَّہُ: أَثْنَی عَلَیَّ عَبْدِی۔ یَقُولُ الْعَبْدُ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} یَقُولُ اللَّہُ: مَجَّدَنِی عَبْدِی۔ یَقُولُ الْعَبْدُ {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ} فَہَذِہِ الآیَۃُ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی ، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ۔ یَقُولُ الْعَبْدُ {اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ صِرَاطَ الَّذِینَ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ} فَہَؤُلاَئِ لِعَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ قُتَیْبَۃَ وَفِی حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ: ((یَقُولُ الْعَبْدُ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: مَجَّدَنِی عَبْدِی ، وَہَذِہِ الآیَۃُ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی))۔ وَالْبَاقِی بِنَحْوِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ وَالْوَلِیدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی السَّائِبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، وَکَأَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْہُمَا جَمِیعًا ، وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ رِوَایَۃُ أَبِی أُوَیْسِ الْمَدَنِیِّ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْہُمَا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح وقد تقدم فی الذی قبلہ]
لَفْظُ حَدِیثِ قُتَیْبَۃَ وَفِی حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ: ((یَقُولُ الْعَبْدُ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ: مَجَّدَنِی عَبْدِی ، وَہَذِہِ الآیَۃُ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی))۔ وَالْبَاقِی بِنَحْوِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ وَالْوَلِیدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی السَّائِبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، وَکَأَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْہُمَا جَمِیعًا ، وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ رِوَایَۃُ أَبِی أُوَیْسِ الْمَدَنِیِّ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْہُمَا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کے قراءت ہونے کا بیان
(٢٣٦٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہ پڑھی تو وہ ناقص اور نامکمل ہے۔
(ب) عبداللہ بن زیاد بن سمعان کے واسطے سے علا نے ابوہریرہ (رض) سے بسم اللہ کے الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں۔
(ب) عبداللہ بن زیاد بن سمعان کے واسطے سے علا نے ابوہریرہ (رض) سے بسم اللہ کے الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں۔
(۲۳۶۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِیُّ الشَّیْخُ الصَّالِحُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ قَالاَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ مِنْ أَبِی وَمِنْ أَبِی السَّائِبِ جَمِیعًا وَکَانَا جَلِیسَیْنِ لأَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ
وَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی صَلاَۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَہْیَ خِدَاجٌ، ہِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ))۔
انْتَہَی حَدِیثُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَذَکَرَ أَبُو نَصْرٍ الْفَامِیُّ بَاقِیَ الْحَدِیثِ بِنَحْوِ رِوَایَۃِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ مَالِکِ۔
وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِیِّ عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی أُوَیْسٍ۔
(ب) وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زِیَادِ بْنِ سَمْعَانَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَزَادَ فِیہِ التَّسْمِیَۃَ۔
[صحیح۔ وتقدم فی الذی قبلہ]
وَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی صَلاَۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَہْیَ خِدَاجٌ، ہِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ))۔
انْتَہَی حَدِیثُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَذَکَرَ أَبُو نَصْرٍ الْفَامِیُّ بَاقِیَ الْحَدِیثِ بِنَحْوِ رِوَایَۃِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ مَالِکِ۔
وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِیِّ عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی أُوَیْسٍ۔
(ب) وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زِیَادِ بْنِ سَمْعَانَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَزَادَ فِیہِ التَّسْمِیَۃَ۔
[صحیح۔ وتقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کے قراءت ہونے کا بیان
(٢٣٦٨) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں : میں نے یہ سورة (فاتحہ) اپنے اور بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کرلی ہے۔ جب جب بندہ کہتا ہے : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میرا ذکر کیا ہے۔ پھر جب بندہ کہتا ہے : ” الحمد للہ رب العالمین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے : ” الرحمن الرحیم “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ہے، پھر جب بندہ کہتا ہے : ” مالک یوم الدین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے : ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔
(۲۳۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُوحَازِمٍ: عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُوالطَّیِّبِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدُونَ الذُّہْلِیُّ وَکَتَبَہُ لِی بِخَطِّہِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ عَنِ ابْنِ سَمْعَانَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَقُولُ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: قَسَمْتُ ہَذِہِ السُّورَۃَ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی نِصْفَیْنِ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} یَقُولُ اللَّہُ: ذَکَرَنِی عَبْدِی۔ فَإِذَا قَالَ {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} یَقُولُ اللَّہُ: حَمِدَنِی عَبْدِی۔ فَإِذَا قَالَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} یَقُولُ اللَّہُ: أَثْنَی عَلَیَّ عَبْدِی۔ فَإِذَا قَالَ {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} یَقُولُ اللَّہُ: مَجَّدَنِی عَبْدِی۔ وَإِذَا قَالَ {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ} قَالَ: ہَذَا لِعَبْدِی وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))۔ [صحیح۔ بدون البسملۃ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کے قراءت ہونے کا بیان
(٢٣٦٩) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھے تو وہ نماز نامکمل اور ناقص ہے۔
(ب) انھوں نے اس کے شروع میں ابن عیینہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا، لیکن بسم اللہ کا اضافہ کیا اور حدیث کے آخر میں ذکر کیا کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان نصف نصف ہے اور اس سورت کا آخری حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔
(ج) اس حدیث کو معتمد راویوں کی ایک جماعت نے علا بن عبدالرحمن سے نقل کیا ہے، ان میں مالک بن انس، ابن جریج، روح بن قاسم، ابن عیینہ، ابن عجلان، حسن بن حر، ابو اویس اور ان کے علاوہ متعدد اصحاب ہیں۔ ان کی سند میں اختلاف تو ہے لیکن متن پر اتفاق ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اپنی حدیث میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ذکر نہیں کیا اور ان کا اتفاق ابن سمعان کی روایت کردہ احادیث کے علاوہ باقی احادیث پر ہے جو درستگی کے زیادہ قریب ہے۔ واللہ اعلم
(ب) انھوں نے اس کے شروع میں ابن عیینہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا، لیکن بسم اللہ کا اضافہ کیا اور حدیث کے آخر میں ذکر کیا کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان نصف نصف ہے اور اس سورت کا آخری حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔
(ج) اس حدیث کو معتمد راویوں کی ایک جماعت نے علا بن عبدالرحمن سے نقل کیا ہے، ان میں مالک بن انس، ابن جریج، روح بن قاسم، ابن عیینہ، ابن عجلان، حسن بن حر، ابو اویس اور ان کے علاوہ متعدد اصحاب ہیں۔ ان کی سند میں اختلاف تو ہے لیکن متن پر اتفاق ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اپنی حدیث میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ذکر نہیں کیا اور ان کا اتفاق ابن سمعان کی روایت کردہ احادیث کے علاوہ باقی احادیث پر ہے جو درستگی کے زیادہ قریب ہے۔ واللہ اعلم
(۲۳۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَزْرَقُ یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُہْلُولٍ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ سَمْعَانَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ صَلَّی صَلاَۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِأُمِّ الْکِتَابِ فَہِیَ خِدَاجٌ))۔
فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ فِی أَوَّلِہِ ثُمَّ زَادَ التَّسْمِیَۃَ ، وَقَالَ فِی آخِرِ الْحَدِیثِ: ((فَہَذِہِ الآیَۃُ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی نِصْفَیْنِ ، وَآخِرُ السُّورَۃِ لِعَبْدِی ، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))۔
قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ: ابْنُ سَمْعَانَ ہُوَ عَبْدُاللَّہِ بْنُ زِیَادِ بْنِ سَمْعَانَ مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ۔ وَرَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ جَمَاعَۃٌ مِنَ الثِّقَاتِ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْہُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ جُرَیْجٍ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَابْنُ عُیَیْنَۃَ وَابْنُ عَجْلاَنَ وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ وَأَبُو أُوَیْسٍ وَغَیْرُہُمْ عَلَی اخْتِلاَفٍ مِنْہُمْ فِی الإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْہُمْ عَلَی الْمَتْنِ ، فَلَمْ یَذْکُرَ أَحَدٌ مِنْہُمْ فِی حَدِیثِہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَاتِّفَاقُہُمْ عَلَی خِلاَفِ مَا رَوَاہُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَی بِالصَّوَابِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ بدون البسملۃ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ فِی أَوَّلِہِ ثُمَّ زَادَ التَّسْمِیَۃَ ، وَقَالَ فِی آخِرِ الْحَدِیثِ: ((فَہَذِہِ الآیَۃُ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی نِصْفَیْنِ ، وَآخِرُ السُّورَۃِ لِعَبْدِی ، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ))۔
قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ: ابْنُ سَمْعَانَ ہُوَ عَبْدُاللَّہِ بْنُ زِیَادِ بْنِ سَمْعَانَ مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ۔ وَرَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ جَمَاعَۃٌ مِنَ الثِّقَاتِ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْہُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَابْنُ جُرَیْجٍ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَابْنُ عُیَیْنَۃَ وَابْنُ عَجْلاَنَ وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ وَأَبُو أُوَیْسٍ وَغَیْرُہُمْ عَلَی اخْتِلاَفٍ مِنْہُمْ فِی الإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْہُمْ عَلَی الْمَتْنِ ، فَلَمْ یَذْکُرَ أَحَدٌ مِنْہُمْ فِی حَدِیثِہِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَاتِّفَاقُہُمْ عَلَی خِلاَفِ مَا رَوَاہُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَی بِالصَّوَابِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ بدون البسملۃ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کے قراءت ہونے کا بیان
(٢٣٧٠) عطا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : ہر نماز میں قرات ہے، جس نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں سنایا (یعنی جہری قرات کی) ہم نے بھی آپ کو سنایا اور جس نماز میں آپ نے ہم سے چھپایا (یعنی آہستہ قرات کی) ہم نے بھی آپ سے چھپایا۔ جو سورة فاتحہ پڑھے تو وہ اسے کفایت کر جائے گی اور جو زیادہ پڑھے تو وہ افضل ہے۔
(۲۳۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ حَبِیبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَائٍ قَالَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: فِی کُلِّ صَلاَۃٍ قِرَائَ ۃٌ فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِیُّ -ﷺ- أَسْمَعْنَاکُمْ ، وَمَا أَخْفَی مِنَّا أَخْفَیْنَاہُ مِنْکُمْ ، مَنْ قَرَأَ بِأُمِّ الْکِتَابِ فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْہُ ، وَمَنْ زَادَ فَہُوَ أَفْضَلُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۲]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورة فاتحہ کے قراءت ہونے کا بیان
(٢٣٧١) (ا) قیس بن ابو حازم سے روایت ہے کہ میں نے بصرہ میں سیدنا ابن عباس کے پیچھے نماز ادا کی ۔ انھوں نے پہلی رکعت میں سورة فاتحہ اور سورة بقرہ کی ایک آیت پڑھی، پھر رکوع کیا۔ پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور اس میں سورة فاتحہ پڑھی اور سورة بقرہ کی دوسری آیت پڑھی، پھر رکوع کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ } [المزمل : ٢٠] قرآن میں سے جو آسان ہو وہ پڑھا کرو۔
(ب) علی بن عمر فرماتے ہیں : یہ سند حسن ہے اور اس میں اس شخص کے لیے دلیل ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کے اس قول { فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ } [المزمل : ٢٠] ” قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو۔ “ سے مراد سورة فاتحہ ہے۔
(ب) علی بن عمر فرماتے ہیں : یہ سند حسن ہے اور اس میں اس شخص کے لیے دلیل ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کے اس قول { فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ } [المزمل : ٢٠] ” قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو۔ “ سے مراد سورة فاتحہ ہے۔
(۲۳۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ الأَوْدِیُّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا ہُرَیْمُ بْنُ سُفْیَانَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَۃِ ، فَقَرَأَ فِی أَوَّلِ رَکْعَۃٍ بِ {الَحَمْدُ لِلَّہِ} وَأَوَّلِ آیَۃٍ مِنَ الْبَقَرَۃِ ، ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ قَامَ فِی الثَّانِیَۃِ فَقَرَأَ {الْحَمْدُ لِلَّہِ} وَالآیَۃَ الثَّانِیَۃَ مِنَ الْبَقَرَۃِ ، ثُمَّ رَکَعَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَیْنَا فَقَالَ: إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ {فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ} [المزمل: ۲۰]
قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ رَحِمَہُ اللَّہُ: ہَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ۔ (ق) وَفِیہِ حُجَّۃٌ لِمَنْ یَقُولُ إِنَّ مَعْنَی قَوْلِہِ {فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ} [المزمل: ۲۰] أَنَّ ذَلِکَ إِنَّمَا ہُوَ بَعْدَ قِرَائَ ۃِ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ رَحِمَہُ اللَّہُ: ہَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ۔ (ق) وَفِیہِ حُجَّۃٌ لِمَنْ یَقُولُ إِنَّ مَعْنَی قَوْلِہِ {فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ} [المزمل: ۲۰] أَنَّ ذَلِکَ إِنَّمَا ہُوَ بَعْدَ قِرَائَ ۃِ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے
(٢٣٧٢) سیدنا زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے مجھے جنگ یمامہ کے میدان کار زار سے واپس بلایا۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت عمر (رض) بھی تشریف فرما ہیں۔ سیدنا ابوبکر (رض) نے فرمایا : عمر (رض) میرے پاس آئے ہیں اور انھوں نے مجھے بتایا کہ یمامہ کی لڑائی میں قرآن کے قراء شہید ہوگئے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی طرح مختلف محاذوں میں قرآن کے قراء شہید ہوتے رہے تو بہت سا قرآن ضائع ہوجائے گا (جو صرف سینوں میں ہے) ۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم فرما دیں۔ میں نے عمر (رض) سے کہا کہ جو کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کیا وہ میں کیسے کروں ؟ تو عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ کام بہتر ہے اور یہ برابر مجھ سے اس کام کے لیے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ بھی اس کام کے لیے کھول دیا جس کے لیے عمر (رض) کا سینہ کھول دیا تھا اور عمر (رض) کی جو رائے تھی وہی رائے میری بھی قرار پائی۔
آپ نوجوان اور عقل مند آدمی ہیں، ہمیں آپ پر اعتبار بھی ہے اور آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وحی بھی لکھا کرتے تھے۔ لہٰذا آپ ایسا کریں کے قرآن کو تلاش کر کے اس کو اکٹھا کریں۔ زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ مجھے پہاڑ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو مجھ پر اتنا بھاری اور سخت نہ ہوتا جتنا یہ کام مشکل معلوم ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ تم لوگ ایسا کام کیوں کرو گے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کیا ؟ تو سیدنا ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : (اگرچہ نہیں کیا) مگر اللہ کی قسم ! یہ کام بہتر ہے اور وہ مسلسل مجھے اس بارے میں کہتے رہے۔ حتیٰ کہ جس طرح اللہ نے ابوبکر وعمر (رض) کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ اسی طرح میرے دل میں بھی ڈال دی اور میری رائے بھی ان کے رائے کی طرح ہوگئی۔ لہٰذا میں نے قرآن کی تلاش شروع کردی، میں اس کو کھجور کی شاخوں، باریک پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ میں نے سورة توبہ کی آخری آیت { لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ } [التوبۃ : ١٢٨]۔۔۔ حضرت خزیمہ یا ابوخزیمہ انصاری (رض) کے پاس پائی تو میں نے اس کو سورة توبہ کے ساتھ ملا لیا۔ پھر یہ مصحف سیدنا ابوبکر (رض) کی زندگی میں ان کے پاس رہا، پھر ان کے بعد حضرت عمر (رض) کے پاس رہا حتیٰ کہ وہ فوت ہوگئے۔ پھر حفصہ بنت عمر (رض) کے پاس منتقل ہوگیا۔
آپ نوجوان اور عقل مند آدمی ہیں، ہمیں آپ پر اعتبار بھی ہے اور آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وحی بھی لکھا کرتے تھے۔ لہٰذا آپ ایسا کریں کے قرآن کو تلاش کر کے اس کو اکٹھا کریں۔ زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ مجھے پہاڑ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو مجھ پر اتنا بھاری اور سخت نہ ہوتا جتنا یہ کام مشکل معلوم ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ تم لوگ ایسا کام کیوں کرو گے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کیا ؟ تو سیدنا ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : (اگرچہ نہیں کیا) مگر اللہ کی قسم ! یہ کام بہتر ہے اور وہ مسلسل مجھے اس بارے میں کہتے رہے۔ حتیٰ کہ جس طرح اللہ نے ابوبکر وعمر (رض) کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ اسی طرح میرے دل میں بھی ڈال دی اور میری رائے بھی ان کے رائے کی طرح ہوگئی۔ لہٰذا میں نے قرآن کی تلاش شروع کردی، میں اس کو کھجور کی شاخوں، باریک پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ میں نے سورة توبہ کی آخری آیت { لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ } [التوبۃ : ١٢٨]۔۔۔ حضرت خزیمہ یا ابوخزیمہ انصاری (رض) کے پاس پائی تو میں نے اس کو سورة توبہ کے ساتھ ملا لیا۔ پھر یہ مصحف سیدنا ابوبکر (رض) کی زندگی میں ان کے پاس رہا، پھر ان کے بعد حضرت عمر (رض) کے پاس رہا حتیٰ کہ وہ فوت ہوگئے۔ پھر حفصہ بنت عمر (رض) کے پاس منتقل ہوگیا۔
(۲۳۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: بَعَثَ إِلَیَّ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَقْتَلَ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ وَعِنْدَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِی فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ یَوْمَ الْیَمَامَۃِ بِقُرَّائِ الْقُرْآنِ ، وَإِنِّی أَخْشَی أَنْ یَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّائِ الْقُرْآنِ فِی الْمَوَاطِنِ کُلِّہَا ، فَیَذْہَبَ قُرْآنٌ کَثِیرٌ ، وَإِنِّی أَرَی أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ۔ قُلْتُ: کَیْفَ أَفْعَلُ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَ عُمَرُ: ہُوَ وَاللَّہِ خَیْرٌ۔ فَلَمْ یَزَلْ عُمَرُ یُرَاجِعُنِی فِی ذَلِکَ حَتَّی شَرَحَ اللَّہُ صَدْرِی لِلَّذِی شَرَحَ لَہُ صَدْرَ عُمَرُ ، وَرَأَیْتُ فِی ذَلِکَ الَّذِی رَأَی عُمَرُ۔
قَالَ زَیْدٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ: وَإِنَّکَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لاَ نَتَّہِمُکَ ، قَدْ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْیَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْہُ۔ قَالَ زَیْدٌ: فَوَاللَّہِ لَوْ کَلَّفَنِی نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا کَانَ بِأَثْقَلَ عَلَیَّ مِمَّا کَلَّفَنِی مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ۔ قُلْتُ: کَیْفَ تَفْعَلاَنِ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ أَبُو بَکْرٍ: ہُوَ وَاللَّہِ خَیْرٌ۔ فَلَمْ یَزَلْ یُرَاجِعُنِی فِی ذَلِکَ حَتَّی شَرَحَ اللَّہُ صَدْرِی لِلَّذِی شَرَحَ لَہُ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ، وَرَأَیْتُ فِی ذَلِکَ الَّذِی رَأْیًا - قَالَ - فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُہُ مِنَ الْعُسُبِ وَالرِّقَاعِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ ، فَوَجَدْتُ آخِرَ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ} [التوبۃ: ۱۲۸] إِلَیَّ آخِرَ السُّورَۃِ أَصَبْتُہَا مَعَ خُزَیْمَۃَ أَوْ أَبِی خُزَیْمَۃَ فَأَلْحَقْتُہَا فِی السُّورَۃِ ، وَکَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ حَیَاتَہُ ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَیَاتَہُ حَتَّی تَوَفَّاہُ اللَّہُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی ثَابِتٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۱۹۱]
قَالَ زَیْدٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ: وَإِنَّکَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لاَ نَتَّہِمُکَ ، قَدْ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْیَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْہُ۔ قَالَ زَیْدٌ: فَوَاللَّہِ لَوْ کَلَّفَنِی نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا کَانَ بِأَثْقَلَ عَلَیَّ مِمَّا کَلَّفَنِی مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ۔ قُلْتُ: کَیْفَ تَفْعَلاَنِ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ أَبُو بَکْرٍ: ہُوَ وَاللَّہِ خَیْرٌ۔ فَلَمْ یَزَلْ یُرَاجِعُنِی فِی ذَلِکَ حَتَّی شَرَحَ اللَّہُ صَدْرِی لِلَّذِی شَرَحَ لَہُ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ، وَرَأَیْتُ فِی ذَلِکَ الَّذِی رَأْیًا - قَالَ - فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُہُ مِنَ الْعُسُبِ وَالرِّقَاعِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ ، فَوَجَدْتُ آخِرَ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ} [التوبۃ: ۱۲۸] إِلَیَّ آخِرَ السُّورَۃِ أَصَبْتُہَا مَعَ خُزَیْمَۃَ أَوْ أَبِی خُزَیْمَۃَ فَأَلْحَقْتُہَا فِی السُّورَۃِ ، وَکَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ حَیَاتَہُ ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَیَاتَہُ حَتَّی تَوَفَّاہُ اللَّہُ ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی ثَابِتٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۱۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کی دلیل کا بیان کہ صحابہ (رض) کے مصاحف میں جو کچھ بھی جمع ہوا وہ سارا قرآن ہے اور اس میں سورة توبہ کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے
(٢٣٧٣) (ا) ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت زید (رض) سے اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
(ب) ابن شہاب نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے خارجہ بن زید نے زید بن ثابت سے یہ روایت نقل کی ہے کہ زید فرماتے ہیں : مجھے سورة احزاب کی آیت نہیں مل رہی تھی جس کو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا۔ آپ اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، لہٰذا میں نے اس کو تلاش کیا تو وہ مجھے صرف خزیمہ انصاری (رض) کے پاس سے ملی جن کی گواہی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ } [الاحزاب : ٢٣] ” مومنوں میں سے کئی ایک ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا اس کو سچ کر دکھایا، کی وجہ سے۔ــ
(ب) ابن شہاب نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے خارجہ بن زید نے زید بن ثابت سے یہ روایت نقل کی ہے کہ زید فرماتے ہیں : مجھے سورة احزاب کی آیت نہیں مل رہی تھی جس کو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا۔ آپ اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، لہٰذا میں نے اس کو تلاش کیا تو وہ مجھے صرف خزیمہ انصاری (رض) کے پاس سے ملی جن کی گواہی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ } [الاحزاب : ٢٣] ” مومنوں میں سے کئی ایک ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا اس کو سچ کر دکھایا، کی وجہ سے۔ــ
(۲۳۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَیْہِ بْنِ أَحْمَدَ الْکُشْمِیہَنِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَبِیبٍ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ وَزَادَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: وَأَخْبَرَنِی خَارِجَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: فَقَدْتُ آیَۃً مِنْ سُورَۃِ الأَحْزَابِ قَدْ کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ بِہَا ، فَالْتَمَسْتُہَا فَلَمْ أَجِدْہَا مَعَ أَحَدٍ إِلاَّ مَعَ خُزَیْمَۃَ الأَنْصَارِیِّ الَّذِی جَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَہَادَتَہُ شَہَادَۃَ رَجُلَیْنِ فِی قَوْلَ اللَّہِ تَعَالَی {مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ} [الاحزاب: ۲۳] [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۸۰۷]
তাহকীক: