আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২৩৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھنے کا بیان
(٢٣٣٤) زرعہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ میں نے ابن زبیر کو فرماتے ہوئے سنا کہ نماز میں پاؤں کو سیدھا رکھنا اور ہاتھ کو ہاتھ پر رکھنا سنت ہے۔
(۲۳۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ زُرْعَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ: صَفُّ الْقَدَمَیْنِ وَوَضْعُ الْیَدِ عَلَی الْیَدِ مِنَ السُّنَّۃِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۷۵۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٣٣٥) سیدنا وائل بن حجر (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کو روانہ ہوئے اور محراب میں داخل ہوگئے، پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنے ہاتھ بھی بلند کیے، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔
(۲۳۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُمَّہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَضَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ الْمِحْرَابَ ، ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ بِالتَّکْبِیرِ ، ثُمَّ وَضَعَ یَمِینَہُ عَلَی یُسْرَاہُ عَلَی صَدْرِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٣٣٦) حضرت وائل (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر رکھا، پھر ان دونوں کو اپنے سینے پر رکھ لیا۔
(۲۳۳۶) وَرَوَاہُ أَیْضًا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَائِلٍ: أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ -ﷺ- وَضَعَ یَمِینَہُ عَلَی شِمَالِہِ ثُمَّ وَضَعَہُمَا عَلَی صَدْرِہِ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٣٣٧) عقبہ بن صہبان سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے { فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ } [الکوثر : ٢] ” پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا معنی دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے وسط پر رکھ کر ان دونوں کو سینے پر رکھنا ہے۔
(۲۳۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدُ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَرِیشِ الْکِلاَبِیُّ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْجَحْدَرِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ صُہْبَانَ کَذَا قَالَ إِنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ} [الکوثر: ۲] قَالَ: وَضْعُ یَدِہِ الْیُمْنَی عَلَی وَسْطِ یَدَہِ الْیُسْرَی ، ثُمَّ وَضْعُہُمَا عَلَی صَدْرِہِ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم ۲۳۳۱، ۲۳۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٣٣٨) عاصم احول ایک شخص سے روایت کرتے ہیں اور وہ انس (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
(۲۳۳۸) وَقَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَرِیشِ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَہُ أَوْ قَالَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٣٣٩) ابو جوزا سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس (رض) اللہ کے اس قول فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ۔ (الکوثر : ٣) کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینے پر رکھنا ہے۔
(۲۳۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ الْبُخَارِیِّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْمُسَیَّبِ قَالَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ مَالِکٍ النُّکْرِیُّ عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ} [الکوثر: ۲] قَالَ: وَضْعُ الْیَمِینِ عَلَی الشِّمَالِ فِی الصَّلاَۃِ عِنْدَ النَّحْرِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٣٤٠) (ا) ابوزبیر سے روایت ہے کہ مجھے عطا نے حکم دیا کہ میں سعید (بن جبیر) سے پوچھوں کہ نماز میں ہاتھ کہاں ہونے چاہیں، ناف کے اوپر یا ناف سے نیچے ؟ میں نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : ناف کے اوپر ۔
(۲۳۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا زَیْدٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: أَمَرَنِی عَطَاء ٌ أَنْ أَسْأَلَ سَعِیدًا أَیْنَ تَکُونُ الْیَدَانِ فِی الصَّلاَۃِ؟ فَوْقَ السُّرَّۃِ أَوْ أَسْفَلَ مِنَ السُّرَّۃِ؟ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: فَوْقَ السُّرَّۃِ۔ یَعْنِی بِہِ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ۔

وَکَذَلِکَ قَالَہُ أَبُو مِجْلَزٍ لاَحِقُ بْنُ حُمَیْدٍ ، وَأَصَحُّ أَثَرٍ رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ أَثَرُ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَأَبِی مِجْلَزٍ۔

[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٣٤١) ابو جحیفہ (رض) حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نماز میں ہتھیلی پر ہتھیلی ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔
(۲۳۴۱) وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: تَحْتَ السُّرَّۃِ۔ وَفِی إِسْنَادِہِ ضَعْفٌ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ زَیْدٍ السُّوَائِیُّ عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: إِنَّ مِنَ السُّنَّۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَضْعَ الْکَفِّ عَلَی الْکَفِّ تَحْتَ السُّرَّۃِ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ وَرَوَاہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَمَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٣٤٢) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھا جائے۔
(۲۳۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: إِنَّ مِنْ سُنَّۃِ الصَّلاَۃِ وَضْعَ الْیَمِینِ عَلَی الشِّمَالِ تَحْتَ السُّرَّۃِ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ہَذَا ہُوَ الْوَاسِطِیُّ الْقُرَشِیُّ جَرَحَہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَالْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہُمْ۔

وَرَوَاہُ أَیْضًا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ کَذَلِکَ۔

وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ مَتْرُوکٌ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر تحریمہ کے بعد نماز شروع کرنے کا بیان
(٢٣٤٣) (ا) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو پڑھتے۔ ” میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی جانب متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا،یک سوئیسے تابع فرماں ہو کر اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقیناً میری نماز، قربانی، زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، میرے سارے گناہ بخش دے، تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ۔ تو مجھے اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کر، تیرے سوا اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں، مجھ سے برے اخلاق کو دور کر دے، تیرے سوا برے اخلاق سے دور کرنے والا کوئی نہیں۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ تمام خیر و بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور برائیوں کو تیری طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ سے التجا کرتا ہوں۔ تو برکت والا اور بلندیوں والا ہے۔ میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔ “ پھر جب آپ رکوع کرتے تو فرماتے : ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا، تیرے ہی آگے میرے کان، آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور اعضا جھکتے ہیں۔ “ جب رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو فرماتے : ” اے اللہ ! حمد و ستائش تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ آسمان و زمین اور ان کا درمیانی خلا بھر جائے اور ان کے علاوہ بھی جو تو چاہے بھر جائے۔ “ پھر جب سجدہ کرتے تو کہتے : ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا، میرا چہرہ اس ذات کے آگے سجدہ ریز ہے جس نے اس کو پیدا کیا اور اس میں کان اور خوبصورت آنکھیں بنائیں۔ اللہ برکت والا ہے جو نہایت عمدہ تخلیق کرنے والا ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشہد اور سلام کے درمیان پڑھتے۔ ” اے اللہ مجھے معاف کر دے جو پہلے کیا اور جو میں نے بعد میں کیا اور جو میں نے چھپ کر کیا اور جو میں نے علانیہ کیا اور جو میں نے زیادتی کی اور جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

(ب) عبدالعزیز کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے۔ پھر فرماتے : انا اول المسلمین ” میں پہلا مسلمان ہوں “

راوی کہتے ہیں : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے : سمع اللّٰہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد ۔۔۔ اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف بیان کی۔ اے ہمارے پروردگار ! تعریف تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ تمام آسمان اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے بھر جائے اور ان کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جو تو چاہے اور فرمایا : ” جس نے اس کی نہایت عمدہ صورت بنائی اور اس کے کانوں اور آنکھوں کے شگاف بنائے۔ اللہ بڑا بابرکت ہے جو سب سے عمدہ تخلیق کرنے والا ہے “ پھر جب سلام پھیرتے۔۔۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے دعا کا ذکر کیا ہے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ” وما اسرفت “ ذکر نہیں کیا۔

(ج) ایک دوسری سند سے وما اسرفت کے الفاظ بھی منقول ہیں۔
(۲۳۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ حَدَّثَنِی عَمِّی الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یُوسُفُ الْمَاجِشُونُ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ قَالَ: ((وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ إِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ اللَّہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّی ، وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِی ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِی فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی جَمِیعًا ، لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ ، وَاہْدِنِی لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ ، لاَ یَہْدِی لأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّی سَیِّئَہَا ، لاَ یَصْرِفُ عَنِّی سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہُ فِی یَدَیْکَ ، وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ ، أَنَا بِکَ وَإِلَیْکَ ، تَبَارَکْتَ وَتَعَالَیْتَ ، أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ))۔ فَإِذَا رَکَعَ قَالَ: ((اللَّہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ ، وَبِکَ آمَنْتُ ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ ، خَشَعَ لَکَ سَمْعِی وَبَصَرِی ، وَمُخِّی وَعِظَامِی وَعَصَبِی))۔ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ قَالَ: ((اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا ، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ))۔ فَإِذَا سَجَدَ قَالَ: ((اللَّہُمَّ لَکَ سَجَدْتُ ، وَبِکَ آمَنْتُ ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ ، سَجَدَ وَجْہِیَ لِلَّذِی خَلَقَہُ فَصَوَّرَہُ ، فَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ ، تَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ))۔ ثُمَّ یَکُونُ مِنْ آخِرِ مَا یَقُولُ بَیْنَ التَّشَہُّدِ وَالسَّلاَمِ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ))۔

لَفْظُ حَدِیثِ یُوسُفَ بْنِ یَعْقُوبَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الْعَزِیزِ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَۃَ کَبَّرَ ثُمَّ قَالَ وَقَالَ: ((وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ))۔ وَقَالَ: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ وَمِلْئَ مَا بَیْنَہُمَا ، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ))۔ وَقَالَ: ((فَصَوَّرَہُ فَأَحْسَنَ صُورَتَہُ وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ ، تَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ))۔ فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ فَذَکَرَ الدُّعَائَ ، وَلَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ: ((وَمَا أَسْرَفْتُ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، وَأَخْرَجَہُ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، وَذَکَرَ قَوْلَہُ: وَمَا أَسْرَفْتُ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱/ ۹۳، ۷۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر تحریمہ کے بعد نماز شروع کرنے کا بیان
(٢٣٤٤) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فرض نماز شروع فرماتے تو پڑھتے : ” میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کردیا جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ میں اسی کا تابع فرماں ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقیناً میری نماز، میری قربانی، میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ ! تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو پاک ہے اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں، میرے سارے گناہ بخش دے۔ تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں۔ تو مجھے اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی فرما۔ تیرے سوا اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں اور مجھ کو برے اخلاق سے دور رکھ۔ تیرے سوا برے اخلاق دور کرنے والا کوئی نہیں، میں تیرے دربار میں حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں اور سیدھی راہ پر وہی ہے جسے تو نے ہدایت بخشی۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ ہی سے التجا کرتا ہوں تو برکتوں والا اور بلندیوں والا ہے۔ میں تجھ سے معافی کا طلب گار ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع کرتے تو فرماتے : ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا۔ تو میرا رب ہے۔ میرے کان، میری آنکھیں، میرا دماغ، میری ہڈیاں اور جس حصے پر میرے قدم قائم ہیں، اے اللہ ! سب تیرے لیے ہی جھکتے ہیں تو سب جہانوں کا رب ہے۔ “

اور جب فرض نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے : ” اے ہمارے رب ! تعریف تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ تمام آسمان اور زمین بھر جائیں اور ان کے بعد ہر وہ چیز جو تو چاہے بھر جائے۔ “
(۲۳۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِیُّ وَأَنَا سَأَلْتُہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاَۃَ الْمَکْتُوبَۃَ قَالَ: ((وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفًا مُسْلِمًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ، إِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، لاَ شَرِیکَ لَہُ ، وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، اللَّہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ ، أَنْتَ رَبِّی وَأَنَا عَبْدُکَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِی وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِی ، فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی جَمِیعًا، لاَیَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، وَاہْدِنِی لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ، لاَ یَہْدِی لأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّی سَیِّئَہَا لاَ یَصْرِفُ سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ بِیَدَیْکَ ، وَالْمَہْدِیُّ مَنْ ہَدَیْتَ ، أَنَا بِکَ وَإِلَیْکَ، تَبَارَکْتَ وَتَعَالَیْتَ ، أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ))۔ قَالَ: وَکَانَ إِذَا رَکَعَ قَالَ: ((اللَّہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّی، خَشَعَ لَکَ سَمْعِی وَبَصَرِی، وَمُخِّی وَعِظَامِی، وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِہِ مِنْ قَدَمِی ، لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ))۔ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ فِی الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ قَالَ: ((اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ))۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر تحریمہ کے بعد نماز شروع کرنے کا بیان
(٢٣٤٥) حضرت علی بن ابی طالب (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھاتے۔ ْپھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ تکبیر کے بعد جب نماز شروع کرتے تو پڑھتے : ” وجہت وجہی۔۔۔ “ مکمل دعا ذکر کی اور ” وانا من المسلمین۔۔۔ “ ” اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ ! تو ہی بادشاہ ہے ، تیرے سوا معبود برحق کوئی نہیں۔ تو پاک ہے۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ “ پھر مکمل دعا ذکر کی لیکن ” واہدنی “ سے ” لبیک “ تک نہیں پڑھا، پھر ” لبیک وسعدیک انابک والیک لا منجا منک الا الیک استغفر ثم اتوب الیک “ ” اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ ہی سے امید لگائے بیٹھا ہوں۔ تیرے علاوہ کسی اور کی طرف کوئی پناہ نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں، پھر تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔ “

پھر عبدالعزیز کی حدیث جیسی حدیث ذکر کی اور عبدالعزیز کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔
(۲۳۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ الْہَاشِمِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ کَبَّرَ ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ: وَیَقُولُ حِینَ یَفْتَتِحُ الصَّلاَۃَ بَعْدَ التَّکْبِیرِ: ((وَجَّہْتُ وَجْہِیَ))۔ فَذَکَرَہُ وَقَالَ: ((وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، اللَّہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ ، سُبْحَانَکَ أَنْتَ رَبِّی ، وَأَنَا عَبْدُکَ))۔ فَذَکَرَہُ وَلَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ: ((وَاہْدِنِی))۔ إِلَی قَوْلِہِ ((لَبَّیْکَ)) ثُمَّ قَالَ: ((لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، أَنَا بِکَ وَإِلَیْکَ، لاَ مَنْجَا مِنْکَ إِلاَّ إِلَیْکَ، أَسْتَغْفِرُکَ ثُمَّ أَتُوبُ إِلَیْکَ))۔ ثُمَّ ذَکَرَ الْبَاقِیَ بِمَعْنَی حَدِیثِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَحَدِیثُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَتَمُّ۔

[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر تحریمہ کے بعد نماز شروع کرنے کا بیان
(٢٣٤٦) (ا) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو یہ پڑھتے :” تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے۔ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور برے عمل کیے، سو مجھے معاف فرما دے ۔ بیشک تیرے سوا کوئی نہیں بخش سکتا۔ میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی طرف متوجہ کردیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میںیک سوئیکے ساتھ تابع فرماں ہوا اور میں مشرکوں سے بھی نہیں ہوں۔ بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں مسلمانوں سے ہوں۔

(ب) عبدالعزیز بن ابی سلمۃ کی روایت کے الفاظ وانا اول المسلمین ہیں اور بعض روایات میں انا من المسلمین ہے۔

(ج) امام شافعی (رح) کہتے ہیں : انا اول المسلمین کی جگہ انامن المسلمین کے الفاظ ہی بہتر ہیں۔

(د) شیخ فرماتے ہیں کہ محمد بن منکدر اور فقہاء مدینہ نے اسی کا حکم دیا ہے۔

(ن) نضر بن شمیل کہتے ہیں : والشر لیس الیک کی تفسیر یہ ہے کہ شر کے ذریعے تیرا قرب حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
(۲۳۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَۃَ قَالَ: ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِی وَعَمِلْتُ سُوئً ا فَاغْفِرْ لِی ، إِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ ، وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفًا ، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، إِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، لاَ شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ ، وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ))۔

وَقَدْ حَکَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنْ ہُشَیْمٍ مِنْ غَیْرِ سَمَاعٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابَہِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ عَنْ عَلِیٍّ، فَإِنْ کَانَ مَحْفُوظًا فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ أَبُوإِسْحَاقَ سَمِعَہُ مِنْہُمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَفِی حَدِیثِ عَبْدِالْعَزِیزِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ۔ وَکَذَلِکَ فِی بَعْضِ الرِّوَایَاتِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ، وَفِی بَعْضِہَا: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: یَجْعَلُ مَکَانَ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَبِذَلِکَ أَمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ وَجَمَاعَۃٌ مِنْ فُقَہَائِ الْمَدِینَۃِ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدَ بْنَ یَعْقُوبَ یَقُولَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ ۔ تَفْسِیرُہُ: وَالشَّرُّ لاَ یُتَقَرَّبُ بِہِ إِلَیْکَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سبحانک اللہ وبحمدک سے شروع کرنے کا بیان
(٢٣٤٧) (ا) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع فرماتے تو پڑھتے :” پاک ہے تو اے اللہ اور میں تیری تعریف کے ساتھ (تجھے یاد کرتا ہوں) اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ “
(۲۳۴۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلاَئِیُّ عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَۃَ قَالَ: سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ ، وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ ہَذَا الْحَدِیثُ لَیْسَ بِالْمَشْہُورِ عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ لَمْ یَرْوِہِ إِلاَّ طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، وَقَدْ رَوَی قِصَّۃَ الصَّلاَۃِ جَمَاعَۃٌ عَنْ بُدَیْلٍ لَمْ یَذْکُرُوا فِیہِ شَیْئًا مِنْ ہَذَا۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنْ عَائِشَۃَ۔ [منکر۔ اخرجہ ابوداود ۷۷۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سبحانک اللہ وبحمدک سے شروع کرنے کا بیان
(٢٣٤٨) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے۔ پھر کہتے : ” پاک ہے تو اے اللہ اور میں تیری تعریف کے ساتھ (تجھے یاد کرتا ہوں) اور تیرا نام برکت ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ “
(۲۳۴۸) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ثُمَّ یَقُولُ: ((سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ))۔ وَہَذَا لَمْ نَکْتُبْہُ إِلاَّ مِنْ حَدِیثِ حَارِثَۃَ ابْنِ أَبِی الرِّجَالِ۔ (ج) وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ وَرُوِیَ فِی حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ

[ضعیف۔ اخرجہ ابن خزیمۃ ۴۷۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سبحانک اللہ وبحمدک سے شروع کرنے کا بیان
(٢٣٤٩) (ا) ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ پڑھتے : ” سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ ، وَتَعَالَی جَدُّکَ ، وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ پھر تین بار یہ پڑھتے ” لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ “ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ “ پھر تین بار تکبیر کہتے ” اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر “ (اللہ سب سے بڑا ہے) ” اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم من ہمزہ ونفثہ ونفخہ۔ ” میں شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں جو سننے اور جاننے والا ہے اور اس کے وسوسے سے، تکبر کی ہوا اور جادو کی پھونکار سے۔ “ جعفرکہتے ہیں : ہمزہ سے مراد دیوانگی، غشی ہے۔

اور نفثہ سے مراد اشعار وغیرہ ہیں اور نفخۃ سے مراد تکبر ہے۔

(ب) شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ ” سبحانک اللہم و بحمد سے نماز کی ابتدا کے بارے میں ابن مسعود (رض) کی حدیث بھی منقول ہے۔
(۲۳۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّائُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا وَہُوَ ابْنُ عَدِیٍّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَاسْتَفْتَحَ الصَّلاَۃَ قَالَ: ((سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ ، وَتَعَالَی جَدُّکَ ، وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ))۔ قَالَ: ثُمَّ ہَلَّلَ ثَلاَثًا: ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ))۔ ثُمَّ کَبَّرَ ثَلاَثًا: ((اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَعُوذُ بِاللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ، مِنْ ہَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ))۔ قَالَ جَعْفَرٌ: ہَمْزُہُ الْمَوْتَۃُ، وَنَفْثُہُ الشِّعْرُ، وَنَفْخُہُ الْکِبْرُ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ہَذَا الْحَدِیثُ یَقُولُونَ ہُوَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَلِیٍّ عَنِ الْحَسَنِ ، الْوَہَمُ مِنْ جَعْفَرٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَرُوِیَ فِی الاِسْتِفْتَاحِ بِسُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ حَدِیثٌ آخَرُ عَنْ لَیْثٍ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِیہِ مَرْفُوعًا ، وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔

وَرُوِیَ ذَلِکَ مَرْفُوعًا عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ ، وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَۃَ۔ وَأَصَحُّ مَا رُوِیَ فِیہِ الأَثَرُ الْمَوْقُوفُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [منکر۔ اخرجہ ابن خزیمۃ ۴۶۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سبحانک اللہ وبحمدک سے شروع کرنے کا بیان
(٢٣٥٠) اسود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے، پھر کہتے : سبحانک اللہم ” پاک ہے تو اے اللہ اور تعریف تیرے لیے ہے اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ “
(۲۳۵۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ یَعْنِی ابْنَ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ کَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ ، وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ ۔

[صحیح۔ وقد تقدم الکلام علیہ قریبا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سبحانک اللہم اور وجہت وجہی دونوں دعاؤں کو اکٹھا پڑھنے کا بیان
(٢٣٥١) جابر بن عبداللہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو کہتے : ” سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ ، وَتَعَالَی جَدُّکَ ، وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ ” پاک ہے تو اے اللہ اور تعریف تیرے لیے ہے اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ “

میں نےیک سوئیکے ساتھ اپنے آپ کو اس ذات کی جانب متوجہ کردیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بیشک میری نماز میری قربانی، میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ “
(۲۳۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ نَاجِیَۃَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ یَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ أَخْبَرَہُ

أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَخْبَرَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاَۃَ قَالَ: ((سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ ، وَتَعَالَی جَدُّکَ ، وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ ، وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ، إِنَّ صَلاَتِیَ وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، لاَ شَرِیکَ لَہُ))۔ [ضعیف۔ قال الزیلعی فی نصب الرابۃ ۲/ ۲۰۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سبحانک اللہم اور وجہت وجہی دونوں دعاؤں کو اکٹھا پڑھنے کا بیان
(٢٣٥٢) ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت منقول ہے، اس میں سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : تبارک اسمک۔۔۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔
(۲۳۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ یَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِیُّ أَبُو إِسْحَاقَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَقَالَ: تَبَارَکَ اسْمُکَ ۔ وَالْبَاقِی سَوَائٌ۔

وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَامِرٍ الأَسْلَمِیُّ - وَہُوَ ضَعِیفٌ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرنے کے بعد تعوذ پڑھنے کا بیان
(٢٣٥٣) حضرت جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع فرماتے تو تکبیر کہنے کے بعد اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا و سبحان اللہ بکرۃ واصیلا ، پھر اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم من نفخہٖ ونفثہ وہمزہ۔ ” میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔ اس کے وسوسوں سے، تکبر کی ہوا سے اور جادو کی پھنکار سے۔
(۲۳۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ سَمِعَ عَاصِمَ الْعَنَزِیَّ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمَّا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ کَبَّرَ قَالَ: ((اللَّہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا))۔ قَالَہَا ثَلاَثًا: ((وَالْحَمْدُ لِلَّہِ کَثِیرًا))۔ قَالَہَا ثَلاَثًا: ((وَسَبْحَانَ اللَّہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلاً))۔ قَالَہَا ثَلاَثًا: ((أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ، مِنْ نَفْخِہِ وَنَفْثِہِ وَہَمْزِہِ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۴/۸۲، ۱۶۸۸۲]
tahqiq

তাহকীক: