আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ২২৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام صفوں کی درستگی کے لیے کیا کلمات کہے
(٢٢٩٤) محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن سیدنا انس بن مالک (رض) کے پہلو میں نماز ادا کی تو انھوں نے مجھے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکڑی کیوں رکھی گئی ہے ؟ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے معلوم نہیں تو انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر ہاتھ رکھتے تھے اور کہتے تھے :” اس تو وا، اعدلوا صفوفکم “ برابر ہوجاؤ (سیدھے ہوجاؤ) اپنی صفوں کو سیدھا کرلو۔
(۲۲۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ صَاحِبِ الْمَقْصُورَۃِ قَالَ: صَلَّیْتُ إِلَی جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ یَوْمًا فَقَالَ: ہَلْ تَدْرِی لِمَ صُنِعَ ہَذَا الْعُودُ؟ قُلْتُ: لاَ وَاللَّہِ۔ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَضَعُ عَلَیْہِ یَدَہُ فَیَقُولُ: ((اسْتَوُوا ، اعْدِلُوا صُفُوفَکُمْ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۶۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کے بعد امام کو کوئی حاجت پیش آنے کا بیان
(٢٢٩٥) (ا) ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔ اس میں بھی محمد بن مسلم نے سیدنا انس (رض) سے مذکورہ حدیث نقل کی کہ آپ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اس لکڑی کو اپنے ہاتھ میں پکڑتے، پھر (دائیں بائیں) جھانکتے، نظر دوڑاتے اور فرماتے : برابر ہوجاؤ اپنی صفوں کو سیدھا کرلو، پھر اس (لکڑی) کو اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑتے اور پھر یہ الفاظ دہراتے : برابر ہوجاؤ صفوں کو سیدھا کرلو۔
(۲۲۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ الأَسْوَدِ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَنَسٍ بِہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ أَخَذَہُ بِیَمِینِہِ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: اعْتَدِلُوا، سَوُّوا صُفُوفَکُمْ ۔ ثُمَّ أَخَذَہُ بِیَسَارِہِ فَقَالَ: ((اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَکُمْ))۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی وَسَائِرُ السُّنَنِ فِی تَسْوِیَۃِ الصُّفُوفِ وَکَیْفِیَّتِہَا مُخَرَّجَۃٌ فِی أَبْوَابِ الإِمَامَۃِ بِمَشِیئَۃِ اللَّہِ تَعَالَی۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی وَسَائِرُ السُّنَنِ فِی تَسْوِیَۃِ الصُّفُوفِ وَکَیْفِیَّتِہَا مُخَرَّجَۃٌ فِی أَبْوَابِ الإِمَامَۃِ بِمَشِیئَۃِ اللَّہِ تَعَالَی۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کے بعد امام کو کوئی حاجت پیش آنے کا بیان
(٢٢٩٦) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نماز عشا کی اقامت ہوئی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے گفتگو فرما رہے تھے۔ آپ نے نماز شروع نہیں کی حتیٰ کہ لوگ اونگھنے لگ گئے۔
(۲۲۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ صُہَیْبٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَ قَالَ: أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- یُنَاجِی رَجُلاً فِی جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، فَمَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ حَتَّی نَامَ الْقَوْمُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۱۶]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ صُہَیْبٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَ قَالَ: أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- یُنَاجِی رَجُلاً فِی جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، فَمَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ حَتَّی نَامَ الْقَوْمُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۱۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مؤذن کے اقامت سے فارغ ہونے سے پہلے امام کے تکبیر کہنے کا بیان
(٢٢٩٧) حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت ہے کہ جب حضرت بلال (رض) قد قامت الصلاۃ کہتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیزی سے پھرتے اور تکبیر کہتے۔
(۲۲۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَہْمٍ۔ قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَزْہَرُ بْنُ جَمِیلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخٍ التَّمِیمِیُّ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أَوْفَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ إِذَا قَالَ بِلاَلٌ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ نَہَضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَکَبَّرَ۔
وَہَذَا لاَ یَرْوِیہِ إِلاَّ الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخٍ۔ (ج) وَکَانَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ یُضَعِّفُہُ۔
[منکر۔ اخرجہ ابن عدی فی الکامل ۲/۲۳۳]
وَہَذَا لاَ یَرْوِیہِ إِلاَّ الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخٍ۔ (ج) وَکَانَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ یُضَعِّفُہُ۔
[منکر۔ اخرجہ ابن عدی فی الکامل ۲/۲۳۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مؤذن کے اقامت سے فارغ ہونے سے پہلے امام کے تکبیر کہنے کا بیان
(٢٢٩٨) حضرت بلال (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : آمین کہنے میں مجھ پر سبقت نہ لے جانا۔
(۲۲۹۸) حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ بُنْدَارِ بْنِ الْحُسَیْنِ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْفَرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ عَنْ بِلاَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ: ((لاَ تَسْبِقْنِی بِآمِینَ))۔
[ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۹۳۷]
[ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۹۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مؤذن کے اقامت سے فارغ ہونے سے پہلے امام کے تکبیر کہنے کا بیان
(٢٢٩٩) (ا) ابو عثمان نہدی سے روایت ہے کہ حضرت بلال (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : مجھ سے پہلے آمین نہ کہنا۔
(۲۲۹۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو زَکَرِیَّا الْحِنَائِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ قَالَ بِلاَلٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَسْبِقْنِی بِآمِینَ ۔ کَذَا رَوَاہُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ عَاصِمٍ مُرْسَلاً۔
وَرُوِیَ بِإِسْنَادٍ ضَعِیفٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ بِلاَلٌ۔ وَلَیْسَ بِشَیْئٍ إِنَّمَا رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ الثِّقَاتِ عَنْ عَاصِمٍ دُونَ ذِکْرِ سَلْمَانَ۔ وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ عَاصِمٍ بِلَفْظٍ آخَرَ۔
[ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
وَرُوِیَ بِإِسْنَادٍ ضَعِیفٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ بِلاَلٌ۔ وَلَیْسَ بِشَیْئٍ إِنَّمَا رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ الثِّقَاتِ عَنْ عَاصِمٍ دُونَ ذِکْرِ سَلْمَانَ۔ وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ عَاصِمٍ بِلَفْظٍ آخَرَ۔
[ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مؤذن کے اقامت سے فارغ ہونے سے پہلے امام کے تکبیر کہنے کا بیان
(٢٣٠٠) (ا) ابو عثمان نہدی سے روایت ہے کہ حضرت بلال (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آمین کہنے میں مجھ سے آگے نہ نکلنا۔
(ب) حضرت بلال (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آمین کہنے میں مجھ پر سبقت نہ لے جانا۔
(ج) اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت بلال (رض) ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آمین کہنے سے پہلے آمین کہتے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آمین کہنے میں مجھ سے سبقت نہ لے جانا۔
(ب) حضرت بلال (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آمین کہنے میں مجھ پر سبقت نہ لے جانا۔
(ج) اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت بلال (رض) ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آمین کہنے سے پہلے آمین کہتے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آمین کہنے میں مجھ سے سبقت نہ لے جانا۔
(۲۳۰۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ فِی الْمُسْنَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ قَالَ بِلاَلٌ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لاَ تَسْبِقْنِی بِآمِینَ))۔
وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمٍ وَقَالَ عَنْ بِلاَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہِ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لاَ تَسْبِقْنِی بِآمِینَ))
فَیَرْجِعُ الْحَدِیثُ إِلَی أَنَّ بِلاَلاً کَأَنَّہُ کَانَ یُؤَمِّنُ قَبْلَ تَأْمِینِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لاَ تَسْبِقْنِی بِآمِینَ ۔ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمٍ وَقَالَ عَنْ بِلاَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہِ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ((لاَ تَسْبِقْنِی بِآمِینَ))
فَیَرْجِعُ الْحَدِیثُ إِلَی أَنَّ بِلاَلاً کَأَنَّہُ کَانَ یُؤَمِّنُ قَبْلَ تَأْمِینِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لاَ تَسْبِقْنِی بِآمِینَ ۔ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں تکبیر کے وقت رفع یدین کا بیان
(٢٣٠١) سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے، لیکن سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے۔
(۲۳۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْحُسَیْنِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ یُحَاذِی بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ ، وَإِذَا رَکَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، وَلاَ یَفْعَلُ ذَلِکَ فِی السُّجُودِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ وَأَخْرَجُہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وُجُوہٍ أُخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۰۳]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ وَأَخْرَجُہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وُجُوہٍ أُخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۰۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے کا بیان
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے ہیں۔ اسی طرح ایوب نافع سے اور وہ ابن عمر (رض) سے نقل کرتے ہیں۔ اسی طرح ابوحمید ساعدی کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دس اصحاب سے یہ روایت منقول ہے۔
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے ہیں۔ اسی طرح ایوب نافع سے اور وہ ابن عمر (رض) سے نقل کرتے ہیں۔ اسی طرح ابوحمید ساعدی کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دس اصحاب سے یہ روایت منقول ہے۔
(٢٣٠٢) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں تک اٹھاتے تھے اور جب رکوع کرتے یا رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی رفع یدین کرتے تھے۔
(۲۳۰۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، وَإِذَا رَکَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ۔
حَمَّادُ ہُوَ ابْنُ سَلَمَۃَ ، وَقَدِ اسْتَشْہَدَ الْبُخَارِیُّ بِذَلِکَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۹۶]
حَمَّادُ ہُوَ ابْنُ سَلَمَۃَ ، وَقَدِ اسْتَشْہَدَ الْبُخَارِیُّ بِذَلِکَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۹۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے کا بیان
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
(٢٣٠٣) محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دس صحابہ جن میں ابوقتادہ حارث بن ربعی بھی تھے کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے دونوں کندھوں تک اٹھاتے پھر تکبیر کہتے، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
اس میں یہ بھی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ رکوع میں جاتے وقت بھی اٹھائے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی اور جب دو رکعتوں سے اٹھے تب بھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک لے جاتے تھے۔
اسی طرح حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی روایت ہے ، جسے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں۔
اس میں یہ بھی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ رکوع میں جاتے وقت بھی اٹھائے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی اور جب دو رکعتوں سے اٹھے تب بھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک لے جاتے تھے۔
اسی طرح حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی روایت ہے ، جسے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں۔
(۲۳۰۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ الْبَصْرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَیْدٍ السَّاعِدِیَّ فِی عَشَرَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِیہِمْ أَبُو قَتَادَۃَ: الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِیٍّ ، فَقَالَ أَبُو حُمَیْدٍ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ ثُمَّ یُکَبِّرُ۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ ، وَوَصَفَ رَفْعَ یَدَیْہِ عِنْدَ الرُّکُوعِ ، وَعَنْدَ رَفْعِ الرَّأْسِ مِنْہُ وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ ، وَقَالَ فِی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا: حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا مَنْکِبَیْہِ۔ وَکَذَلِکَ ہُوَ فِی رِوَایَۃِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۱/۲۳۵/ ۲۴۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے کا بیان
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
(٢٣٠٤) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے یا رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے، لیکن سجدوں میں ایسا نہیں کرتے تھے اور جب دو رکعتوں سے کھڑتے ہوتے تب بھی اسی طرح رفع یدین کرتے۔
وائل بن حجر کی ایک روایت بھی اسی طرح ہے۔
وائل بن حجر کی ایک روایت بھی اسی طرح ہے۔
(۲۳۰۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِیٍّ الطَّسْتِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رِبْحِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْہَاشِمِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ مُوسَی وَہُوَ ابْنُ عُقْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ الْقُرَشِیِّ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ، وَکَانَ لاَ یَفْعَلُ ذَلِکَ فِی شَیْئٍ مِنْ سُجُودِہِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَیْنِ مِثْلَ ذَلِکَ۔ وَکَذَلِکَ ہُوَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ الترمذی۳۴۲۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے کا بیان
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
(٢٣٠٥) (ا) وائل بن حجر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو بھی اور جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تب بھی ایسے ہی کرتے۔
(ب) حضرت وائل (رض) فرماتے ہیں کہ میں صحابہ (رض) کے پاس موسم سرما میں آیا تو میں نے دیکھا کہ صحابہ اپنے ہاتھ چادروں میں بھی اٹھاتے تھے۔
(ب) حضرت وائل (رض) فرماتے ہیں کہ میں صحابہ (رض) کے پاس موسم سرما میں آیا تو میں نے دیکھا کہ صحابہ اپنے ہاتھ چادروں میں بھی اٹھاتے تھے۔
(۲۳۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُوزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ حَدَّثَنِی وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ-ﷺ- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، وَإِذَا رَکَعَ وَبَعْدَ مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ۔
قَالَ وَائِلٌ: ثُمَّ أَتَیْتُہُمْ فِی الشِّتَائِ فَرَأَیْتُہُمْ یَرْفَعُونَ أَیْدِیَہُمْ فِی الْبَرَانِسِ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ وَغَیْرُہُ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ عَاصِمٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ الشافعی فی سندہ ۱/ ۱۷۶]
قَالَ وَائِلٌ: ثُمَّ أَتَیْتُہُمْ فِی الشِّتَائِ فَرَأَیْتُہُمْ یَرْفَعُونَ أَیْدِیَہُمْ فِی الْبَرَانِسِ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ وَغَیْرُہُ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ عَاصِمٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ الشافعی فی سندہ ۱/ ۱۷۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے کا بیان
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
(٢٣٠٦) (ا) حضرت عبدالجبار بن وائل اپنے والد سیدنا وائل (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا۔ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھاتے اور اپنے ہاتھوں کے انگوٹھوں کو کانوں کی لو تک لے جاتے، پھر تکبیر کہتے۔
(ب) اس حدیث کو ثوری، شعبہ، ابو عوانہ، زائدہ بن قدامہ، بشر بن مفضل اور ایک جماعت نے عاصم بن کلیب سے روایت کیا ہے، انھوں نے اس حدیث میں کہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ اپنے کانوں کے برابر تک اٹھائے۔
شریک نے عاصم سے روایت کی ہے اور فرمایا ہے کہ اپنے ہاتھ اپنے کانوں کے برابر اٹھائے۔
(ج) اسی طرح ایک دوسری روایت جو عبدالجبار بن وائل سے، علقمہ بن وائل بن وائل سے اور ایک روایت جو مالک بن حویرث سے ثابت ہے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ حتی یحاذی بہما اذنیہ۔ یہاں تک اپنے کانوں کے برابر تک لے جاتے اور ایک دوسری روایت میں ہے : حتی یحاذی بہما فروع اذنیہ۔ حتیٰ کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کی لو تک اٹھالیتے۔
(ب) اس حدیث کو ثوری، شعبہ، ابو عوانہ، زائدہ بن قدامہ، بشر بن مفضل اور ایک جماعت نے عاصم بن کلیب سے روایت کیا ہے، انھوں نے اس حدیث میں کہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ اپنے کانوں کے برابر تک اٹھائے۔
شریک نے عاصم سے روایت کی ہے اور فرمایا ہے کہ اپنے ہاتھ اپنے کانوں کے برابر اٹھائے۔
(ج) اسی طرح ایک دوسری روایت جو عبدالجبار بن وائل سے، علقمہ بن وائل بن وائل سے اور ایک روایت جو مالک بن حویرث سے ثابت ہے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ حتی یحاذی بہما اذنیہ۔ یہاں تک اپنے کانوں کے برابر تک لے جاتے اور ایک دوسری روایت میں ہے : حتی یحاذی بہما فروع اذنیہ۔ حتیٰ کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کی لو تک اٹھالیتے۔
(۲۳۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ النَّخَعِیِّ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّہُ أَبْصَرَ النَّبِیَّ -ﷺ- حِینَ قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی کَانَتَا بِحِیَالِ مَنْکِبَیْہِ ، وَحَاذَی إِبْہَامَیْہِ أُذُنَیْہِ ثُمَّ کَبَّرَ۔
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَشُعْبَۃُ وَأَبُو عَوَانَۃَ وَزَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ فَقَالُوا فِی الْحَدِیثِ فَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی حَاذَتَا أُذُنَیْہِ وَقَالَ بَعْضُہُمْ حِذَائَ أُذُنَیْہِ۔ وَرَوَاہُ شَرِیکٌ عَنْ عَاصِمٍ وَقَالَ رَفَعَ یَدَیْہِ حِیَالَ أُذُنَیْہِ۔
وَکَذَلِکَ ہُوَ فِی الرِّوَایَۃِ الثَّابِتَۃِ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ وَائِلٍ ، وَفِی رِوَایَۃٍ ثَابِتَۃٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا أُذُنَیْہِ ، وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی ثَابِتَۃٍ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا فُرُوعَ أُذُنَیْہِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۷۲۴]
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَشُعْبَۃُ وَأَبُو عَوَانَۃَ وَزَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ فَقَالُوا فِی الْحَدِیثِ فَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی حَاذَتَا أُذُنَیْہِ وَقَالَ بَعْضُہُمْ حِذَائَ أُذُنَیْہِ۔ وَرَوَاہُ شَرِیکٌ عَنْ عَاصِمٍ وَقَالَ رَفَعَ یَدَیْہِ حِیَالَ أُذُنَیْہِ۔
وَکَذَلِکَ ہُوَ فِی الرِّوَایَۃِ الثَّابِتَۃِ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ وَائِلٍ ، وَفِی رِوَایَۃٍ ثَابِتَۃٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا أُذُنَیْہِ ، وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی ثَابِتَۃٍ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا فُرُوعَ أُذُنَیْہِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۷۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے کا بیان
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
(٢٣٠٧) (ا) حضرت مالک بن حویرث سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تکبیر (تحریمہ) کہتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کانوں کی لو تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو ایسے ہی کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی ایسے ہی کرتے۔
(ب) اسماعیل بن علیہ نے اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے۔ اس کے شروع میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے کانوں کے قریب لے گئے۔
اسی طرح ہشام دستوائی نے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔ قتادہ نے اس کی دو روایتوں میں سے ایک میں کہا کہ کانوں کی لو تک ہاتھ اٹھائے۔
شعبہ نے اسے قتادہ سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ آپ کے اپنے ہاتھ کانوں کی لو کے برابر تک لے گئے اور ایک روایت ہے کہ اپنے کندھوں کے برابر تک لے گئے۔
(ج) ان روایات میں چونکہ اختلاف ہے لہٰذا ان میں تطبیق دی جائے گی۔
پھر جس کی روایت میں اختلاف ہو اسے چھوڑ دیا جائے گا اور جس روایت پر اتفاق ہو اس کو لے لیا جائے گا۔
(د) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : چونکہ اس کی اسناد زیادہ ہیں لہٰذا اس حدیث کی تعداد بھی زیادہ ہے اور تعداد کا زیادہ ہونا حفظ سے زیادہ بہتر ہے۔
(ن) شیخ فرماتے ہیں : ان روایات کے ساتھ ساتھ یہ حضرت عمر کا عمل بھی ہے۔
(ب) اسماعیل بن علیہ نے اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے۔ اس کے شروع میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے کانوں کے قریب لے گئے۔
اسی طرح ہشام دستوائی نے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔ قتادہ نے اس کی دو روایتوں میں سے ایک میں کہا کہ کانوں کی لو تک ہاتھ اٹھائے۔
شعبہ نے اسے قتادہ سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ آپ کے اپنے ہاتھ کانوں کی لو کے برابر تک لے گئے اور ایک روایت ہے کہ اپنے کندھوں کے برابر تک لے گئے۔
(ج) ان روایات میں چونکہ اختلاف ہے لہٰذا ان میں تطبیق دی جائے گی۔
پھر جس کی روایت میں اختلاف ہو اسے چھوڑ دیا جائے گا اور جس روایت پر اتفاق ہو اس کو لے لیا جائے گا۔
(د) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : چونکہ اس کی اسناد زیادہ ہیں لہٰذا اس حدیث کی تعداد بھی زیادہ ہے اور تعداد کا زیادہ ہونا حفظ سے زیادہ بہتر ہے۔
(ن) شیخ فرماتے ہیں : ان روایات کے ساتھ ساتھ یہ حضرت عمر کا عمل بھی ہے۔
(۲۳۰۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ سَعِیدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّیْثِیِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا کَبَّرَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا فُرُوعَ أُذُنَیْہِ ، وَإِذَا رَکَعَ کَذَلِکَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ کَذَلِکَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔
وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَقَالَ فِی أَوَّلِہِ: رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یَجْعَلَہُمَا قَرِیبًا مِنْ أُذُنَیْہِ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ قَتَادَۃَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ وَقَالَ فِی الرِّوَایَۃِ الأُخْرَی إِلَی فُرُوعِ أُذُنَیْہِ ، وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ فَقَالَ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا فُرُوعَ أُذُنَیْہِ وَفِی رِوَایَۃٍ: حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ۔
وَإِذَا اخْتَلَفَتْ ہَذِہِ الرِّوَایَاتُ فَإِمَّا أَنْ یُؤْخَذَ بِالْجَمِیعِ فَیُخَیَّرَ بَیْنَہُمَا ، وَإِمَّا أَنْ تُتْرَکَ رِوَایَۃُ مَنِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَایَۃُ عَلَیْہِ ، وَیُؤْخَذَ بِرِوَایَۃِ مَنْ لَمْ یُخْتَلَفْ عَلَیْہِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: لأَنَّہَا أَثْبَتُ إِسْنَادًا ، وَأَنَّہَا حَدِیثُ عَدَدٍ ، وَالْعَدَدُ أَوْلَی بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَمَعَ رِوَایَتِہِمْ فِعْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۵۸۹]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّیْثِیِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا کَبَّرَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا فُرُوعَ أُذُنَیْہِ ، وَإِذَا رَکَعَ کَذَلِکَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ کَذَلِکَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔
وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَقَالَ فِی أَوَّلِہِ: رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یَجْعَلَہُمَا قَرِیبًا مِنْ أُذُنَیْہِ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ قَتَادَۃَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ وَقَالَ فِی الرِّوَایَۃِ الأُخْرَی إِلَی فُرُوعِ أُذُنَیْہِ ، وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ فَقَالَ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا فُرُوعَ أُذُنَیْہِ وَفِی رِوَایَۃٍ: حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ۔
وَإِذَا اخْتَلَفَتْ ہَذِہِ الرِّوَایَاتُ فَإِمَّا أَنْ یُؤْخَذَ بِالْجَمِیعِ فَیُخَیَّرَ بَیْنَہُمَا ، وَإِمَّا أَنْ تُتْرَکَ رِوَایَۃُ مَنِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَایَۃُ عَلَیْہِ ، وَیُؤْخَذَ بِرِوَایَۃِ مَنْ لَمْ یُخْتَلَفْ عَلَیْہِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: لأَنَّہَا أَثْبَتُ إِسْنَادًا ، وَأَنَّہَا حَدِیثُ عَدَدٍ ، وَالْعَدَدُ أَوْلَی بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَمَعَ رِوَایَتِہِمْ فِعْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۵۸۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے کا بیان
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
(٢٣٠٨) (ا) ابراہیم نخعی حضرت اسود سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق (رض) اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے تھے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں : اسی طرح عبداللہ بن عمر (رض) اور سیدنا ابوہریرہ (رض) بھی کیا کرتے تھے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں : اسی طرح عبداللہ بن عمر (رض) اور سیدنا ابوہریرہ (رض) بھی کیا کرتے تھے۔
(۲۳۰۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیِّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِلَی الْمَنْکِبَیْنِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَکَذَلِکَ کَانَ یَفْعَلُ عَبْدُاللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُوہُرَیْرَۃَ۔[صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۲/۷۱]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَکَذَلِکَ کَانَ یَفْعَلُ عَبْدُاللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُوہُرَیْرَۃَ۔[صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۲/۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے کا بیان
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد اور یونس بن یزید وغیرہ کی روایت اس سند سے متفق ہوجاتی ہیں۔ سالم اپنے والد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا روایت کرتے
(٢٣٠٩) حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے۔
(۲۳۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلُّوَیْہِ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی تَکُونَا حَذْوَ أُذُنَیْہِ۔
یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ غَیْرُ قَوِیٍّ۔ [ضعیف]
یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ غَیْرُ قَوِیٍّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرنے کا بیان
(٢٣١٠) (ا) حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے۔ پھر جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے تو اس طرح کرتے، پھر جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو اسی طرح کرتے اور ربنا ولک الحمد کہتے، لیکن جب سجدہ کرتے اور سجدے سے اٹھتے تو رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
(ب) مالک اور ابن عیینہ کی روایت میں ہے کہ آپ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے۔ یہ روایت شعیب کی روایت کے معنیٰ میں ہے مگر شعیب کی روایت زیادہ واضح ہے۔
(ب) مالک اور ابن عیینہ کی روایت میں ہے کہ آپ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے۔ یہ روایت شعیب کی روایت کے معنیٰ میں ہے مگر شعیب کی روایت زیادہ واضح ہے۔
(۲۳۱۰) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ الْقُرَشِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا افْتَتَحَ التَّکْبِیرَ فِی الصَّلاَۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حِینَ یُکَبِّرُ حَتَّی یَجْعَلَہُمَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، ثُمَّ إِذَا کَبِّرَ لِلرُّکُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ وَقَالَ: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ۔ وَلاَ یَفْعَلُ ذَلِکَ حِینَ یَسْجُدُ وَلاَ حِینَ یَرْفَعُ رَأْسَہُ مِنَ السُّجُودِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔
وَفِی رِوَایَۃِ مَالِکٍ وَابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ: إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ۔ وَہُوَ فِی مَعْنَی رِوَایَۃِ شُعَیْبٍ إِلاَّ أَنَّ رِوَایَۃَ شُعَیْبٍ أَبْیَنُ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۳۸]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔
وَفِی رِوَایَۃِ مَالِکٍ وَابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ: إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ۔ وَہُوَ فِی مَعْنَی رِوَایَۃِ شُعَیْبٍ إِلاَّ أَنَّ رِوَایَۃَ شُعَیْبٍ أَبْیَنُ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرنے کا بیان
(٢٣١١) عبدالرحمن مسعودی فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالجبار بن وائل سے سنا کہ مجھے میرے گھر والوں نے روایت بیان کی کہ وائل جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ تکبیر کے ساتھ رفع یدین بھی کرتے تھے اور نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھتے تھے اور سجدہ اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کرتے تھے۔
(۲۳۱۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزْازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِیلِ الْبَرْجُلاَنِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِیُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْجَبَّارِ بْنَ وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَہْلُ بَیْتِی عَنْ أَبِی وَائِلٍ: أَنَّہُ کَانَ حِینَ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَآہُ یَرْفَعُ یَدَیْہِ مَعَ التَّکْبِیرِ ، وَیَضَعُ الْیُمْنَی عَلَی الْیُسْرَی فِی الصَّلاَۃِ وَیَسْجُدَ بَیْنَ کَفَّیْہِ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَامِرٍ الْیَحْصُبِی عَنْ وَائِلٍ۔
[حسن۔ اخرجہ احمد ۴/ ۳۱۶]
[حسن۔ اخرجہ احمد ۴/ ۳۱۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت تکبیر کے ساتھ رفع یدین کرنے کا بیان
(٢٣١٢) حضرت وائل بن حجر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو بھی اٹھاتے اور رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے یا سجدہ کرتے، تب بھی رفع یدین کرتے۔
میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے۔
میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے تھے۔
(۲۳۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رِبْحٍ السَّمَّاکُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْیَحْصُبِیِّ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا کَبَّرَ رَفَعَ یَدَیْہِ مَعَ التَّکْبِیرِ ، وَإِذَا رَکَعَ وَإِذَا رَفَعَ أَوْ قَالَ سَجَدَ، وَرَأَیْتُہُ یُسَلِّمُ عَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ۔ [حسن۔ اخرجہ احمد ۱۸۳۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبیر سے پہلے ہاتھ اٹھانے کا بیان
(٢٣١٣) سالم (رح) سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے حتیٰ کہ آپ کے ہاتھ کندھوں کے برابر ہوجاتے، پھر آپ تکبیر کہتے۔ (یہ حدیث تفصیل سے گزر چکی ہے)
(۲۳۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ شِہَابٍ عَنْ سَالِمٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی تَکُونَا حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ ، ثُمَّ کَبَّرَ۔ وَسَاقَ الْحَدِیثَ۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی ۱۳۱۰]
[صحیح۔ وقد تقدم فی ۱۳۱۰]
তাহকীক: