আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২২৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے ضروری وظائف تکبیر، قرآن اور تسبیحات سیکھنے کا بیان

سیدنا ابوہریرہ (رض) سے اس شخص کے قصہ سے متعلق جس نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی تھی، منقول حدیث میں ہے کہ اس شخص نے تیسری بار کہا تھا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس س
(٢٢٧٤) سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : عربی زبان سیکھو۔
(۲۲۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ مَحْمَوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: تَعَلَّمُوا الْعَرَبِیَّۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۲۹۹۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے ضروری وظائف تکبیر، قرآن اور تسبیحات سیکھنے کا بیان

سیدنا ابوہریرہ (رض) سے اس شخص کے قصہ سے متعلق جس نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی تھی، منقول حدیث میں ہے کہ اس شخص نے تیسری بار کہا تھا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس س
(٢٢٧٥) نافع ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (رض) جب اپنے کسی بیٹے کو اعرابی غلطی کرتے دیکھتے تو اسے سرزنش فرماتے۔
(۲۲۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُمَا قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ بَعْضَ وَلَدِہِ یَلْحَنُ ضَرَبَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۲۹۹۱۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا اونچی آواز سے تکبیر کہنے کا بیان
(٢٢٧٦) (ا) سعید بن حارث سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیمار ہوگئے یا فرمایا کہ کہیں گئے ہوئے تھے تو ابوسعید خدری (رض) نے نماز پڑھائی۔ جب انھوں نے نماز شروع کی تو اونچی تکبیر کہی اور (اسی طرح) رکوع میں جاتے ہوئے بھی تکبیر کہی۔ پھر رکوع سے اٹھتے ہوئے سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور جب سجدے سے سر اٹھایا تب بھی اونچی تکبیر کہی اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوئے تب بھی تکبیر کہی حتیٰ کہ اسی طرح نماز مکمل کی۔ جب انھوں نے نماز سے سلام پھیرا تو کسی نے آپ سے کہا کہ لوگوں نے آپ کی نماز پر اعتراض کیا ہے تو آپ (رض) نکلے حتیٰ کہ منبر پر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اے لوگو ! اللہ کی قسم ! میرا خیال نہیں کہ تمہاری نماز ہوئی یا نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔

(ب) عمر بن خطاب سے منقول ہے کہ آپ لوگوں کو امامت کرواتے تو تکبیر بلندآواز سے کہتے۔
(۲۲۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: طَلْحَۃُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الصَّقَرِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اشْتَکَی أَبُو ہُرَیْرَۃَ أَوْ غَابَ فَصَلَّی أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ ، فَجَہَرَ بِالتَّکْبِیرِ حِینَ افْتَتَحَ وَحِینَ رَکَعَ ، وَبَعْدَ أَنْ قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، وَحِینَ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السُّجُودِ ، وَحِینَ سَجَدَ ، وَحِینَ رَفَعَ ، وَحِینَ قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ حَتَّی قَضَی صَلاَتَہُ عَلَی ذَلِکَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قِیلَ لَہُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَی صَلاَتِکِ۔ فَخَرَجَ حَتَّی قَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی وَاللَّہِ مَا أُبَالِی اخْتَلَفَتْ صَلاَتُکُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ ، إِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ہَکَذَا یُصَلِّی۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ صَالِحٍ عَنْ فُلَیْحِ بْنِ سُلَیْمَانَ۔

وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَ یَؤُمُّ النَّاسَ فَیَرْفَعُ صَوْتَہُ بِالتَّکْبِیرِ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۹۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی امام سے پہلے تکبیر نہ کہے
(٢٢٧٧) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ لہٰذا اس سے اختلاف نہ کرو۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا ولک الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔
(۲۲۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّمَا الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ ، فَلاَ تَخْتَلِفُوا عَلَیْہِ ، فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۸۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موذن کا امام کے نکلنے سے پہلے اقامت نہ کہنے کا بیان
(٢٢٧٨) حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا بلال (رض) سورج ڈھل جانے کے بعد اذان کہتے تھے اور اقامت اس وقت تک نہیں کہتے تھے جب تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف نہ لاتے۔ جب آپ تشریف لاتے تو بلال آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔
(۲۲۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ شَبِیبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْیَنَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ أَخْبَرَنَا سِمَاکٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ قَالَ: کَانَ بِلاَلٌ یُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتْ یَعْنِی الشَّمْسَ فَلاَ یُقِیمُ حَتَّی یَخْرُجَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَإِذَا خَرَجَ أَقَامَ الصَّلاَۃَ حِینَ یَرَاہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ شَبِیبٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۰۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موذن کا امام کے نکلنے سے پہلے اقامت نہ کہنے کا بیان
(٢٢٧٩) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ مؤذن اذان کا اور امام اقامت کا زیادہ حق دار ہے۔
(۲۲۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ أَخْبَرَنَا أَبُوعُمَرَ الْحَوْضِیُّ وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالُوا أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ ہِلاَلَ بْنَ یَسَافٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: الْمُؤَذِّنُ أَمْلَکُ بِالأَذَانِ وَالإِمَامُ أَمْلَکُ بِالإِقَامَۃِ۔

وَرُوِیَ عَنْ شَرِیکٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا وَلَیْسَ بِمَحْفُوظٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۸۳۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیے
(٢٢٨٠) حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ یہ کلمات تین بار کہے، جو پڑھنا چاہے ۔
(۲۲۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِی الْحَسَنِ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاہِینَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنِ الْجُرَیْرِیِّ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((بَیْنَ کُلِّ أَذَانَیْنِ صَلاَۃٌ - ثَلاَثًا - لِمَنْ شَائَ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاہِینَ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الْجُرَیْرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیے
(٢٢٨١) (ا) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ موذن جب اذان کہتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ستونوں کی طرف جلدی جلدی چلتے تاکہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لاتے۔ صحابہ کرام (رض) مغرب سے پہلے بھی دو رکعتیں ادا کرتے تھے اور اذان اور اقامت کے درمیان کچھ نہیں ہوتا تھا۔

(ب) عثمان بن عمر شعبہ سے روایت کرتے ہیں کہ مغرب کی نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان تھوڑا سا وقت ہوتا تھا۔
(۲۲۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ یَعْنِی ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الأَنْصَارِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: إِنْ کَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَیَبْتَدِرُونَ السَّوَارِیَ ، یُصَلُّونَ حَتَّی یَخْرُجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُمْ کَذَلِکَ یُصَلُّونَ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَۃِ شَیْئٌ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ۔

وَرَوَاہُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ شُعْبَۃَ فَقَالَ: وَکَانَ بَیْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَۃِ قَرِیبٌ یَعْنِی بِہِ فِی صَلاَۃِ الْمَغْرِبِ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۹۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیے
(٢٢٨٢) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) کو فرمایا : اے بلال ! اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ رکھا کرو جتنی دیر میں کھانا کھانے والا اپنے کھانے سے اور پینے والا اپنے پینے سے اور کوئی حاجت والا اپنی حاجت سے فارغ ہوجائے۔ اور تم تب تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔
(۲۲۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ وَلَقَبُہُ حَمْدَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُبَارَکٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُنْعِمِ خَتَنُ عَمْرِو بْنِ فَائِدٍ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لِبِلاَلٍ: ((یَا بِلاَلُ اجْعَلْ بَیْنَ أَذَانِکَ وَإِقَامَتِکَ بِقَدْرِ مَا یَفْرُغُ الآکِلُ مِنْ أَکْلِہِ ، وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِہِ ، وَالْمُعْتَصِرُ مِنْ حَاجَتِہِ ، وَلاَ تَقُومُوا حَتَّی تَرَوْنِی))

فِی إِسْنَادِہِ نَظَرٌ۔ [ضعیف جداً۔ اخرجہ الترمذی ۱۹۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام اگر دیکھے کہ لوگ جمع ہوگئے ہیں تو نماز کھڑی کر دے ورنہ بیٹھ جائے تاکہ لوگ زیادہ ہوجائیں، یہ اس وقت ہے جب نماز کے وقت میں وسعت ہو
(٢٢٨٣) (ا) سالم بن ابی نضر سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذان کے بعد مسجد کی طرف چل پڑتے۔ جب دیکھتے کہ مسجد والے لوگ کم ہیں تو بیٹھ جاتے حتیٰ کہ لوگ جمع ہوجاتے۔ پھر نماز پڑھاتے اور جب لوگوں کو دیکھتے کہ سب جمع ہوگئے ہیں تو نماز کھڑی کرلیتے۔
(۲۲۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْبَزَّازَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو یَحْیَی: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ سَالِمِ أَبِی النَّضْرِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَخْرُجُ بَعْدَ النِّدَائِ إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا رَأَیَ أَہْلَ الْمَسْجِدِ قَلِیلاً جَلَسَ حَتَّی یَرَی مِنْہُمْ جَمَاعَۃً ثُمَّ یُصَلِّی ، وَکَانَ إِذَا خَرَجَ فَرَأَی جَمَاعَۃً أَقَامَ الصَّلاَۃَ۔

قَالَ وَحَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ أَیْضًا عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ مَسْعُودٍ بْنِ الْحَکَمِ الزُّرَقِیِّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ مِثْلَ ہَذَا الْحَدِیثِ۔ (ت) وَرَوَاہُ أَیْضًا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔

[ضعیف۔ اخرجہ الفاکہی فی فوائدہ ۱۱۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کب کھڑا ہو ؟
(٢٢٨٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اقامت کہی جاتی تو لوگ اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوجاتے اس سے پہلے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جگہ تشریف لاتے۔
(۲۲۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَتِ الصَّلاَۃُ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَیَأْخُذُ النَّاسُ مَقَامَہُمْ قَبْلَ أَنْ یَأْخُذَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَقَامَہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُوسَی عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۰۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کب کھڑا ہو ؟
(٢٢٨٥) (ا) عون بن کہمس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم منیٰ میں نماز کے لیے کھڑے تھے، لیکن امام ابھی تک نہیں آیا تھا۔ چنانچہ ہم میں سے بعض بیٹھ گئے۔ اہل کوفہ کے ایک شیخ نے مجھے کہا : تجھے کس نے بٹھایا ہے ؟ میں نے کہا : ابن بریدہ نے۔ شیخ نے مجھے کہا : مجھے اس کے بارے عبدالرحمن بن عوسجۃ نے براء بن عازب سے روایت بیان کی ہے کہ انھوں نے فرمایا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں نماز کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تکبیر کہنے سے پہلے لمبی صف بنا کر کھڑے ہوجاتے تھے۔

براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے ان لوگوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں جو پہلی صف کو ملاتے ہیں اور اللہ جل شانہٗ کے نزدیک ان قدموں سے بہترین کوئی قدم نہیں جن کے ساتھ وہ چل کر آتا ہے اور صف کو ملاتا ہے۔

(ب) حضرت علی (رض) سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ ابو خالد والبی سے منقول ہے کہ ایک دن علی بن ابی طالب ہمیں نماز پڑھانے نکلے تو ہم کھڑے تھے۔ آپ (رض) نے فرمایا : کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں مبہوت حالت میں کھڑے دیکھ رہا ہوں۔

(ج) حضرت ابراہیم نخعی سے پوچھا گیا کہ امام کا انتظار کھڑے ہو کر کریں یا بیٹھ کر ؟ تو انھوں نے فرمایا : بیٹھ کر انتظار کریں۔

اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرام (رض) ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکلنے سے پہلے کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اپنی جگہ پر کھڑے ہونے سے پہلے اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہوجاتے تھے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کریں جب تک مجھے نہ دیکھ لیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر تخفیف کرتے ہوئے یہ حکم دیا تھا۔
(۲۲۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ السَّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ کَہْمَسٍ عَنْ أَبِیہِ کَہْمَسٍ قَالَ: قُمْنَا بِمِنًی إِلَی الصَّلاَۃِ وَالإِمَامُ لَمْ یَخْرُجْ ، فَقَعَدَ بَعْضُنْا فَقَالَ لِی شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ: مَا یُقْعِدُکَ؟ قُلْتُ: ابْنُ بُرَیْدَۃَ۔ قَالَ: ہَذَا السُّمُودُ۔ فَقَالَ لِی الشَّیْخُ حَدَّثَنِی بِہِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَۃَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: کُنَّا نَقُومُ فِی الصَّلاَۃِ صُفُوفًا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- طَوِیلاً قَبْلَ أَنْ یُکَبِّرَ ، قَالَ وَقَالَ: ((إِنَّ اللَّہَ وَمَلاَئِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی الَّذِینَ یَلُونَ الصَّفَ الأَوَّلَ ، وَمَا مِنْ خُطْوَۃٍ أَحَبَّ إِلَی اللَّہِ جَلَّ ثَنَاؤُہُ مِنْ خُطْوَۃٍ یَمْشِیہَا یَصِلُ بِہَا صَفًّا))۔

وَالَّذِی رُوِیَ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ قَدْ رُوِیَ أَیْضًا عَنْ عَلِیِّ۔ رُوِیَ عَنْ أَبِی خَالِدٍ الْوَالِبِیِّ قَالَ: خَرَجَ إِلَیْنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَنَحْنُ قِیَامٌ فَقَالَ: مَا لِی أَرَاکُمْ سَامِدِینَ یَعْنِی قِیَامًا۔

وَسُئِلَ إِبْرَاہِیمُ النَّخَعِیُّ أَیَنْتَظِرُونَ الإِمَامَ قِیَامًا أَوْ قُعُودًا قَالَ: لاَ بَلْ قُعُودًا۔ وَالأَشْبَہُ أَنَّہُمْ کَانُوا یَقُومُونَ إِلَی الصَّلاَۃِ قَبْلَ خُرُوجِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَیَأْخُذُونَ مَقَامَہُمْ قَبْلَ أَنْ یَأْخُذَ ، ثُمَّ أَمَرَہُمْ بِأَنْ لاَ یَقُومُوا حَتَّی یَرَوْہُ قَدْ خَرَجَ تَخْفِیفًا عَلَیْہِمْ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۵۴۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کب کھڑا ہو ؟
(٢٢٨٦) عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب نماز کھڑی ہو تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے نہ دیکھ لو۔
(۲۲۸۶) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَلاَ تَقُومُوا حَتَّی تَرَوْنِی))۔ -

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۱۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کب کھڑا ہو ؟
(٢٢٨٧) عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اقامت کہہ دی جائے تو اس وقت تک نہ کھڑے ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کہ میں نماز کے لیے نکل آیا ہوں۔

(ب) اسی طرح اس حدیث کو ولید بن مسلم نے شیبان سے ، انھوں نے یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ جب تک تم دیکھو کہ میں نماز کے لیے نکل پڑا ہوں۔

حجاج سے منقول روایت میں قد خرجت کے الفاظ ہیں اور دوسری روایت میں جسے بعض متفقہین نے نقل کیا ہے، ” حتی ترونی قائما فی الصف “ یہ الفاظ ہیں۔

(ج) حضرت انس بن مالک (رض) کہ جب قد قامت الصلاۃ سنتے تو نماز کے لیے فوراً کھڑے ہوجاتے۔

(د) سیدنا حسین بن علی (رض) بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ یہ عطاء اور حسن کا قول ہے۔
(۲۲۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالاَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَلاَ تَقُومُوا حَتَّی تَرَوْنِی قَدْ خَرَجْتُ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ شَیْبَانَ عَنْ یَحْیَی: حَتَّی تَرَوْنِی قَدْ خَرَجْتُ ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ عَنْ یَحْیَی مِنْ رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْہُ۔ وَرَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مَعْمَرٍ، وَأَبُو نُعَیْمٍ عَنْ شَیْبَانَ ، وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ یَحْیَی الْقَطَّانِ عَنِ الْحَجَّاجِ دُونَ قَوْلِہِ: قَدْ خَرَجْتُ ۔ وَأَمَّا الَّذِی یَرْوِیہُ بَعْضُ الْمُتَفَقِّہَۃُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ ((حَتَّی تَرَوْنِی قَائِمًا فِی الصَّفِّ)) فَلَمْ یَبْلُغْنَا۔

وَرُوِّینَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ: إِذَا قِیلَ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ وَثَبَ فَقَامَ۔

وَعَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ کَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ ، وَہُوَ قَوْلُ عَطَائٍ وَالْحَسَنِ۔

[صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام نماز شروع کرنے سے پہلے صفیں سیدھی کروائے
(٢٢٨٨) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اقامت کے بعد اور تکبیر کہنے سے پہلے صحابہ (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے : اپنی صفوں کو سیدھا (برابر) رکھو اور باہم مل کر کھڑے ہوجاؤ، میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ انس (رض) فرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ ہر شخص جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا تو اپنا کندھا اپنے بھائی کے کندھے کے ساتھ ملا لیتا۔
(۲۲۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ وَأَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعْدَ أَنْ أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ قَبْلَ أَنْ یُکَبِّرَ أَقْبَلَ بِوَجْہِہِ عَلَی أَصْحَابَہِ فَقَالَ: ((أَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ وَتَرَاصُّوا ، فَإِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی))۔ قَالَ فَلَقَدْ رَأَیْتُ الرَّجُلَ یُلْزِقُ مَنْکِبَہُ بِمَنْکِبِ أَخِیہِ إِذَا قَامَ فِی الصَّلاَۃِ ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۸۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام نماز شروع کرنے سے پہلے صفیں سیدھی کروائے
(٢٢٨٩) سیدنا انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : اقامت کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اپنی صفوں کو سیدھا کرلو اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوجاؤ۔ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ لیتا ہوں۔
(۲۲۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَأَقْبَلَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِوَجْہِہِ فَقَالَ: ((أَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ وَتَرَاصُّوا، فَإِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی رَجَائٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام نماز شروع کرنے سے پہلے صفیں سیدھی کروائے
(٢٢٩٠) سماک بن حرب سے روایت ہے کہ میں نے نعمان بن بشیر کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری صفوں کو درست فرمایا کرتے تھے، گویا کہ آپ اس کے ذریعے تیر سیدھا کر رہے تھے، حتیٰ کہ یقین کرلیتے کہ ہم نے آپ سے سیکھ لیا ہے۔ پھر ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ تکبیر کہنے ہی لگے تھے کہ اچانک ایک شخص پر آپ کی نظر پڑی، اس کا سینہ صف سے آگے نکلا ہوا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ کے بندو ! اپنی صفوں کو ضرور سیدھا رکھو وگرنہ پروردگار تمہارے منہ ٹیڑھے کر دے گا۔
(۲۲۹۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: الْعَلاَئُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُسَوِّی صُفُوفَنَا حَتَّی کَأَنَّمَا یُسَوِّی بِہَا الْقِدَاحَ حَتَّی رَأَی أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْہُ ، ثُمَّ خَرَجَ یَوْمًا فَقَامَ حَتَّی کَادَ یُکَبِّرُ ، فَرَأَی رَجُلاً بَادِیًا صَدْرُہُ مِنَ الصَّفِّ فَقَالَ: ((عِبَادَ اللَّہِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَکُمْ ، أَوْ لَیُخَالِفَنَّ اللَّہُ بَیْنَ وُجُوہِکُمْ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۴۳۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام نماز شروع کرنے سے پہلے صفیں سیدھی کروائے
(٢٢٩١) حضرت سماک سے روایت ہے کہ میں نے نعمان بن بشیر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری صفوں کو برابر فرمایا کرتے۔ جب ہم سیدھے ہوجاتے تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکبیر کہتے۔
(۲۲۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ یَعْنِی ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی صَغِیرَۃَ عَنْ سِمَاکٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُسَوِّی صُفُوفَنَا إِذَا قُمْنَا لِلصَّلاَۃِ ، فَإِذَا اسْتَوَیْنَا کَبَّرَ۔

[صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۶۶۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام نماز شروع کرنے سے پہلے صفیں سیدھی کروائے
(٢٢٩٢) سیدنا نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) صفوں کو برابر کرنے کا حکم دیتے تھے (یعنی کچھ آدمیوں کی ذمہ داری لگا دیتے جو صفیں سیدھی کریں) جب وہ لوگ آکر خبر دیتے کہ صفیں سیدھی ہوگئی ہیں تب آپ تکبیر کہتے۔
(۲۲۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَأْمُرُ بِتَسْوِیَۃِ الصُّفُوفِ ، فَإِذَا جَائُ وہُ فَأَخْبَرُوہُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ کَبَّرَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۳۷۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام نماز شروع کرنے سے پہلے صفیں سیدھی کروائے
(٢٢٩٣) ابو سہیل بن مالک اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں عثمان بن عفان (رض) کے ساتھ تھا۔ اقامت کہہ دی گیٔ جب کہ میں ان سے اپنے حصے کے بارے میں باتیں کررہا تھا، میں ان سے مسلسل باتیں کرتا رہا اور وہ اپنے پاؤں سے چٹائی کو سیدھا کر رہے تھے، حتیٰ کہ آپ کے پاس کچھ لوگ آئے تو آپ نے ان کو صفوں کی درستگی پر مامور کیا۔ پھر انھوں نے آکر خبر دی کہ صفیں درست ہوچکی ہیں تو آپ نے مجھے فرمایا : صف میں برابر ہوجاؤ، پھر آپ نے تکبیر کہی۔
(۲۲۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ: کُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ ، وَأَنَا أُکَلِّمُہُ فِی أَنْ یَفْرِضَ لِی ، فَلَمْ أَزَلْ أُکَلِّمُہُ وَہُوَ یُسَوِّی الْحَصْبَائَ بِنَعْلَیْہِ حَتَّی جَائَ ہُ رِجَالٌ ، قَدْ وَکَّلَہُمْ بِتَسْوِیَۃِ الصُّفُوفِ ، فَأَخْبَرُوہُ أَنَّ الصُّفُوفَ قَدِ اسْتَوَتْ فَقَالَ لِی: اسْتَوِ فِی الصَّفِّ ۔ ثُمَّ کَبِّرَ۔

[صحیح۔ اخرجہ مالک ۳۷۴]
tahqiq

তাহকীক: