আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২২৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر بچہ نماز میں بالغ ہوجائے تو وہ اپنی نماز پوری کرے گا اور اگر اوّل وقت میں نماز پڑھ لے، پھر بالغ ہوجائے تو اس پر نماز کا اعادہ لازم نہیں ؛کیونکہ اس نے وہی کیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا اور نہ کرنے پر اس کی سرزنش ہوتی
(٢٢٥٣) عبدالملک بن ربیع بن سبرہ اپنے والد سے، اپنے دادا کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز کا حکم کرو اور دس سال کا ہوجائے تو نماز نہ پڑھنے پر اس کی سرزنش کرو۔ “
(۲۲۵۳) وَذَلِکَ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہِشَامِ بْنِ مَلاَّسٍ النُّمَیْرِیُّ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْجُہَنِیُّ حَدَّثَنِی عَمِّی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ سَبْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((مُرُوا الصَّبِیَّ بِالصَّلاَۃِ ابْنَ سَبْعٍ ، وَاضْرِبُوہُ عَلَیْہَا ابْنَ عَشْرٍ))۔

تَابَعَہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الرَّبِیعِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۴۹۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کی نیت کا بیان
(٢٢٥٤) علقمہ بن وقاص فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ لہٰذا جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی تو اس کو اس کے مطابق ثواب ملے گا اور جس کی ہجرت دنیا کی غرض سے ہوئی کہ وہ اس کو مل جائے یا عورت کی خاطر ہوئی کہ وہ اس سے نکاح کرلے تو اس کی ہجرت اسی کام کے لیے شمار ہوگی۔
(۲۲۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُوالْقَاسِمِ: عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ السَّرَاجُ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیُّ أَنَّہُ سَمِعَ عَلْقَمَۃَ بْنَ وَقَّاصٍ یَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ ، وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَی ، فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَإِلَی رَسُولِہِ فَہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَإِلَی رَسُولِہِ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی دُنْیَا یُصِیبُہَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا فَہِجْرَتُہُ إِلَی مَا ہَاجَرَ إِلَیْہِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ نُمَیْرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کی نیت کا بیان
(٢٢٥٥) امام بویطی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی (رح) کو فرماتے ہوئے سنا کہ انما الاعمال بالنیات ایک تہائی علم پر مشتمل ہے۔
(۲۲۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الأَصْبَہَانِیَّ یَعْنِی ابْنَ مَنْدَہْ یَقُولُ سَمِعْتُ سُفْیَانَ بْنَ ہَارُونَ بْنِ سُفْیَانَ الْقَاضِی یَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ الْبُوَیْطِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ الشَّافِعِیَّ رَحْمَۃُ اللَّہِ عَلَیْہِ یَقُولُ: یَدْخُلُ فِی حَدِیثِ: ((الأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ))۔ ثُلُثُ الْعِلْمِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کے بعدنیت ختم کرنے کا بیان
(٢٢٥٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی تو اس میں کوئی کمی و زیادتی کی ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا ہوا ؟ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں : ہم نے آپ کو نماز والی بات یاد دلائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ٹانگ موڑی اور قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اگر نماز میں کوئی نیا حکم آجاتا تو میں ضرور تمہیں بتا دیتا۔ میں بھی انسان ہوں۔ بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔ لہٰذا جب میں بھول جایا کروں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور تم میں سے جو بھی اپنی نماز میں بھول جائے تو وہ غور کرے ، پھر جس کو درست سمجھے تو اسی کے مطابق نماز مکمل کرے، پھر سہو کے دو سجدے ادا کرلے۔
(۲۲۵۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃً فَزَادَ فِیہَا أَوْ نَقَصَ ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ حَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْء ٌ؟ قَالَ: ((وَمَا ذَاکَ؟))۔ قَالَ: فَذَکَرْنَا الَّذِی فَعَلَ، فَثَنَی رِجْلَہُ ثُمَّ اسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ فَقَالَ: ((لَوْ حَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْء ٌ لأَنْبَأْتُکُمْ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِیتُ فَذَکِّرُونِی، وَأَیُّکُمْ مَا نَسِیَ فِی صَلاَتِہِ فَلْیَتَحَرَّ الَّذِی یَرَی أَنَّہُ الصَّوَابُ، فَلْیُتِمَّ عَلَیْہِ ثُمَّ یَسْجُدْ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَنْصُورٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۹۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کے بعدنیت ختم کرنے کا بیان
(٢٢٥٧) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں بھول گئے تو آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔
(۲۲۵۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سَہَا فِی الصَّلاَۃِ فَسَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ وہو جزء منہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہنے کا بیان
(٢٢٥٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے اندر ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ اس نے نماز پڑھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وعلیک السلام جاؤ دوبارہ نماز پڑھو؛ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ لوٹ گیا اور نماز پڑھی، پھر دوبارہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔ آپ نے فرمایا : وعلیک السلام جاؤ پھر نماز پڑھو ؛کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے تیسری یا چوتھی بار عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے سکھا دیجیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نماز کا ارادہ کرلے تو اچھی طرح وضو کر، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ، پھر قرآن میں سے جو تجھے آسان ہو پڑھ، پھر اطمینان سے رکوع کر ، پھر سر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہوجا، پھر اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ جا، پھر اسی طرح اپنی ساری نماز پڑھ۔
(۲۲۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصِّیْدَلاَنِیُّ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُاللَّہِ یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَجُلاً دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جَالِسٌ فِی نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ، فَصَلَّی ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ فَرَجَعَ فَصَلَّی ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ ، فَقَالَ: ((وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ فَقَالَ فِی الثَّالِثَۃِ أَوْ فِی الَّتِی بَعْدَہَا: عَلِّمْنِی یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ: ((إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوئَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ فَکَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَیَسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَسْتَوِیَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِکَ فِی صَلاَتِکَ کُلِّہَا))

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۸۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (٢٢٥٩) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کی ابتدا تکبیر (تحریمہ) سے فرماتے تھے، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
(٢٢٦٠) ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز تکبیر کے ساتھ شروع فرماتے اور قرات { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ } سے شروع کرتے تھے۔
(۲۲۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ حَدَّثَنَا بُدَیْلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَفْتَتِحُ الصَّلاَۃَ بِالتَّکْبِیرِ وَالْقِرَائَ ۃَ بِ {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ}۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (٢٢٥٩) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کی ابتدا تکبیر (تحریمہ) سے فرماتے تھے، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
(٢٢٦١) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کی کنجی وضو ہے اور اس کا شروع کرنا تکبیر ہے اور اس سے نکلنا سلام ہے۔

امام شافعی (رح) قول قدیم میں فرماتے ہیں کہ اسی طرح ابن مسعود (رض) سے منقول ہے۔
(۲۲۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَیُّوبَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ عَنْ عَلِیٍّ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطُّہُورُ ، وَإِحْرَامُہَا التَّکْبِیرُ ، وَإِحْلاَلُہَا التَّسْلِیمُ))۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْقَدِیمِ: وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (٢٢٥٩) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کی ابتدا تکبیر (تحریمہ) سے فرماتے تھے، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
(٢٢٦٢) حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ نماز کی چابی (شروع کرنے والی) تکبیر ہے اور اس کا پورا ہوجانا سلام پھیرنا ہے۔
(۲۲۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ التَّکْبِیرُ ، وَانْقَضَاؤُہَا التَّسْلِیمُ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر بنحوہ /۹/۲۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیفیتِ تکبیر کا بیان
(٢٢٦٣) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب امام اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو اور جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو۔
(۲۲۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَنْظَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا قَالَ الإِمَامُ اللَّہُ أَکْبَرُ فَقُولُوا اللَّہُ أَکْبَرُ ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ))۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الحاکم ۱/۳۳۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیفیتِ تکبیر کا بیان
(٢٢٦٤) ابو عاصم نے ایک دوسری سند سے اسی جیسی طویل حدیث ذکر کی ہے۔
(۲۲۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ۔ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ فِی حَدِیثٍ طَوِیلٍ۔

قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: لَمْ یَرْوِہِ عَنْ سُفْیَانَ إِلاَّ أَبُو عَاصِمٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنْ سَعِیدٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[صحیح۔ قد تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیفیتِ تکبیر کا بیان
(٢٢٦٥) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ فرماتا ہے ! صحابہ (رض) نے عرض کیا : کیوں نہیں ! اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ضرور بتائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ناپسندیدگی کے وقت مکمل اور اچھی طرح وضو کرنا، مساجد کی طرف کثرت سے پیدل چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ تم میں سے جو بھی آدمی اپنے گھر سے وضو کر کے نکلتا ہے اور باجماعت نماز ادا کرتا ہے، پھر مسجد میں دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں : اللہم اغفرلہ اللہم ارحمہ ” اے اللہ اس کو بخش دے، اے اللہ اس پر رحم فرما۔ “ لہٰذا جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو صفوں کو برابر اور سیدھا کرلیا کرو اور درمیان میں خالی جگہ نہ چھوڑو ؟ کیونکہ میں تمہیں پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھ لیتا ہوں۔ جب تمہارا امام اللہ اکبرک ہے تو تم اللہ اکبرکہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا ولک الحمد کہو اور مردوں کی سب سے بہترین صفیں پہلی ہیں اور ان کی بدترین صفیں پچھلی ہیں اور عورتوں کی بہترین صفیں آخری صفیں ہیں اور ان کی بدترین صفیں پہلی صفیں ہیں۔

اے عورتو ! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نظریں پست رکھا کرو۔ مردوں کے تہہ بند تنگ (چھوٹے) ہونے کی وجہ سے تمہاری نظر ان کے ستر پر نہ پڑے۔
(۲۲۶۵) حَدَّثَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((أَلاَ أَدُلُّکُمْ عَلَی شَیْئِ یُکَفِّرُ اللَّہُ بِہِ الْخَطَایَا وَیَزِیدُ بِہِ فِی الْحَسَنَاتِ؟))۔ قَالُوا: بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ: ((إِسْبَاغُ الْوُضُوئِ عِنْدَ الْمَکَارِہِ ، وَکَثْرَۃُ الْخُطَا إِلَی ہَذِہِ الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ ، مَا مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتَہِ مُتَطَہِّرًا فَیُصَلِّی مَعَ الْمُسْلِمِینَ الصَّلاَۃَ فِی جَمَاعَۃٍ ، ثُمَّ یَقْعُدُ فِی ہَذَا الْمَسْجِدِ یَنْتَظِرُ الصَّلاَۃَ الأُخْرَی إِلاَّ أَنَّ الْمَلاَئِکَۃَ تَقُولُ: اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ ، اللَّہُمَّ ارْحَمْہُ۔ فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاَۃِ فَاعْدِلُوا صُفُوفَکُمْ وَأَقِیمُوہَا ، وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَإِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی ، فَإِذَا قَالَ إِمَامُکُمُ اللَّہُ أَکْبَرُ فَقُولُوا اللَّہُ أَکْبَرُ ، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ، وَإِنَّ خَیْرَ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ ، وَشَرُّہَا الْمُؤَخَّرُ ، وَخَیْرُ صُفُوفِ النِّسَائِ الْمُؤَخَّرُ ، وَشَرُّہَا الْمُقَدَّمُ ، یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاخْفِضْنَ أَبَصَارَکُنَّ لاَ تَرَیْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِیقِ الأُزُرِ))۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۳/۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیفیتِ تکبیر کا بیان
(٢٢٦٦) ابوبکر قطان کی روایت سے بھی اسی جیسی حدیث منقول ہے، مگر اس کی کتاب میں ویصلی مع المسلمین کے الفاظ ہیں۔ باقی اسی طرح ہے۔
(۲۲۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہَرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّ فِی کِتَابِہِ وَیُصَلِّی مَعَ الْمُسْلِمِینَ صَلاَۃَ الْجَمَاعَۃِ وَالْبَاقِی سَوَاء ٌ۔ [صحیح لغیرہ۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیفیتِ تکبیر کا بیان
(٢٢٦٧) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے کہ آپ نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا : اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا و سبحان اللہ بکرۃ واصیلا۔ ” اللہ سب سے بڑا ہے بڑائی والا اور ہر قسم کی بیشمار تعریف اسی کے لیے ہے اور صبح وشام اللہ کی تسبیح بیان کرو۔ نماز کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کلمات کس نے کہے تھے ؟ ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے کہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کلمات کے لیے آسمان کے دروازے کھو لے گئے۔ ابن عمر (رض) فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے یہ کلمات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھے ہیں۔ میں نے کبھی ان کو نہیں چھوڑا۔
(۲۲۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا تَمِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ۔

قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- نُصَلِّی إِذْ سَمِعَ رَجُلاً یَقُولُ: اللَّہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ کَثِیرًا ، وَسُبْحَانَ اللَّہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلاً۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنِ الْقَائِلُ کَلِمَۃَ کَذَا وَکَذَا؟))۔ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ: ((عَجِبْتُ لَہَا ، فُتِحَتْ لَہَا أَبْوَابُ السَّمَائِ))۔ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: فَمَا تَرَکْتُہُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُہُنَّ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے ضروری وظائف تکبیر، قرآن اور تسبیحات سیکھنے کا بیان

سیدنا ابوہریرہ (رض) سے اس شخص کے قصہ سے متعلق جس نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی تھی، منقول حدیث میں ہے کہ اس شخص نے تیسری بار کہا تھا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، لہٰذا آپ مجھے سکھا دیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ۔۔۔ مکمل حدیث ذکر کی۔
(٢٢٦٨) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ یمن کے کچھ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ہمارے ساتھ ایک شخص بھیجیں جو ہمیں سنت اور اسلام سکھائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یہ اس امت کے امین ہیں۔
(۲۲۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ أَنَّ حَجَّاجَ بْنَ مِنْہَالِ حَدَّثَہُمْ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ أَہْلَ الْیَمَنِ قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا: ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلاً یُعَلِّمْنَا السُّنَّۃَ وَالإِسْلاَمَ۔ فَأَخَذَ بِیَدِ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: ((ہَذَا أَمِینُ ہَذِہِ الأُمَّۃِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ عَفَّانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۲۴۱۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے ضروری وظائف تکبیر، قرآن اور تسبیحات سیکھنے کا بیان

سیدنا ابوہریرہ (رض) سے اس شخص کے قصہ سے متعلق جس نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی تھی، منقول حدیث میں ہے کہ اس شخص نے تیسری بار کہا تھا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس س
(٢٢٦٩) مالک بن حویرث سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان ہی تھے۔ ہم نے آپ کے ہاں بیس راتیں قیام کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہایت نرم دل اور مہربان تھے۔ ہمیں خیال آیا کہ ہم نے اپنے گھر والوں کو دور رہ کر مشقت میں ڈال دیا ہے۔ یعنی اتنا طویل عرصہ ہم گھروں سے باہر رہے ہیں تو گھر والے یقیناً پریشان ہوں گے۔ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے اہل و عیال کی وجہ سے سوال کیا کہ ہم انھیں چھوڑ آئے ہیں (اور اب جانا چاہتے ہیں) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ ، ان میں نماز قائم کرو اور ان کو دین کی باتیں سکھاؤ اور انھیں بھی اس کا حکم دو اور جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے ایک اذان کہے، پھر تم میں سے جو سب سے بڑا ہو وہ امامت کروائے۔
(۲۲۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ: أَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَہُ عِشْرِینَ لَیْلَۃً - قَالَ - وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَحِیمًا رَقِیقًا ، فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَہْلَنَا ، وَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا فِی أَہْلِنَا فَأَخْبَرْنَاہُ ، فَقَالَ: ((ارْجِعُوا إِلَی أَہْلِیکُمْ فَأَقِیمُوا فِیہِمْ ، وَعَلِّمُوہُمْ وَمُرُوہُمْ ، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَلْیُؤَذِّنْ أَحَدُکُمْ ، ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۰۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے ضروری وظائف تکبیر، قرآن اور تسبیحات سیکھنے کا بیان

سیدنا ابوہریرہ (رض) سے اس شخص کے قصہ سے متعلق جس نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی تھی، منقول حدیث میں ہے کہ اس شخص نے تیسری بار کہا تھا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس س
(٢٢٧٠) زید بن سلام اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ امیر معاویہ (رض) نے عبدالرحمن بن شبل کی طرف خط لکھا کہ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کچھ سن رکھا ہے وہ لوگوں کو سکھائیں تو عبدالرحمن نے ان کو جمع کیا اور فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن سیکھو، جب تم اس کو سیکھ لو تو اس میں غلو نہ کرو (حد سے نہ بڑھو) اور نہ ہی اس سے بےرخی برتو اور نہ ہی اسے کھانے کا ذریعہ بناؤ اور نہ ہی اس کے ذریعے سے مطالبہ کرو، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
(۲۲۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کَتَبَ مُعَاوِیَۃُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ: أَنْ أَعْلِمِ النَّاسَ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ فَجَمَعَہُمْ فَقَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ ، فَإِذَا عَلِمْتُمُوہُ فَلاَ تَغْلُوا فِیہِ ، وَلاَ تَجْفُوا عَنْہُ وَلاَ تَأْکُلُوا بِہِ، وَلاَ تَسْتَکْثِرُوا بِہِ))۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۳/۴۴۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے ضروری وظائف تکبیر، قرآن اور تسبیحات سیکھنے کا بیان

سیدنا ابوہریرہ (رض) سے اس شخص کے قصہ سے متعلق جس نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی تھی، منقول حدیث میں ہے کہ اس شخص نے تیسری بار کہا تھا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس س
(٢٢٧١) ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت اسی طرح منقول ہے۔
(۲۲۷۱) حَدَّثَنَاہُ الشَّیْخُ الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ: سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی رَاشِدٍ الْحُبْرَانِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ الأَنْصَارِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔ [صحیح۔ انظر التخریج السابق]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے ضروری وظائف تکبیر، قرآن اور تسبیحات سیکھنے کا بیان

سیدنا ابوہریرہ (رض) سے اس شخص کے قصہ سے متعلق جس نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی تھی، منقول حدیث میں ہے کہ اس شخص نے تیسری بار کہا تھا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس س
(٢٢٧٢) (ا) سیدنا عثمان بن عفان (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن سکھاتا ہے اور خود بھی سیکھتا ہے۔

(ب) ابوعبدالرحمن نے سیدنا عثمان (رض) کے دور حکومت میں قرآن پڑھایا ، یہاں تک کہ حجاج کا دور آگیا۔ فرماتے ہیں کہ اسی تعلیمِ قرآن نے ہی مجھے اس مقام تک پہنچایا ہے۔
(۲۲۷۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرَ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَأَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ وَأَبُو عَمْرٍو آدَمُ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ أَخْبَرَنِی عَلْقَمَۃُ بْنُ مَرْثَدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عُثْمَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((إِنَّ خَیْرَکُمْ مَنْ عَلَّمَ الْقُرْآنَ وَتَعَلَّمَہُ))

قَالَ: وَأَقْرَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِی إِمْرَۃِ عُثْمَانَ حَتَّی کَانَ الْحَجَّاجُ وَقَالَ: ذَاکَ أَقْعَدَنِی مَقْعَدِی ہَذَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۷۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے ضروری وظائف تکبیر، قرآن اور تسبیحات سیکھنے کا بیان

سیدنا ابوہریرہ (رض) سے اس شخص کے قصہ سے متعلق جس نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی تھی، منقول حدیث میں ہے کہ اس شخص نے تیسری بار کہا تھا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس س
(٢٢٧٣) ایوب بن موسیٰ اپنے دادا سے اپنے والد کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی والد کا اپنی اولاد کو حسن ادب سکھانے سے بہترین کوئی تحفہ نہیں۔
(۲۲۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْفَضْلِ: عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ السِّمْسَارِ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مَاہَانَ الدِّینَوَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ أَبِی عَامِرٍ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ مُوسَی عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا خَیْرًا لَہُ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ))۔

أَیُّوبُ بْنُ مُوسَی ہُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ ، وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَامِرٍ۔

[ضعیف۔ اخرجہ الترمذی ۱۹۵۲]
tahqiq

তাহকীক: