আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২১৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٧٤) حضرت عمرو بن رافع سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ ام المومنین حفصہ (رض) کے لیے مصحف لکھ رہا تھا تو انھوں نے فرمایا : جب اس آیت پر پہنچو تو مجھے بتانا { حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی } (البقرۃ : ٢٣٨) نمازیں پابندی سے ادا کرو خصوصاً درمیانی نماز ۔ میں جب اس آیت پر پہنچا تو میں نے آپ (رض) کو بتایا تو انھوں نے مجھ سے یہ لکھوایا :{ حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ } (البقرۃ : ٢٣٨) نمازوں پر محافظت کرو اور درمیانی نماز پر اور نماز عصر پر اور اللہ کے لیے فرمان بردار ہوجاؤ۔
(۲۱۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ أَنَّہُ قَالَ: کُنْتُ أَکْتُبُ مُصْحَفًا لِحَفْصَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ ہَذِہِ الآیَۃَ فَآذِنِّی {حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی} فَلَمَّا بَلَغْتُہَا آذَنْتُہَا فَأَمْلَتْ عَلَیَّ {حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی} وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ {وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ} [حسن۔ اخرجہ مالک ۳۱۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٧٥) (ا) نافع سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ حفصہ (رض) نے کاتب کو اس مصحف کے بارے میں حکم دیا جو ان کے لیے لکھا جا رہا تھا کہ جب تو نماز کے ذکر تک پہنچے تو اس کی جگہ خالی چھوڑ دینا، تاکہ میں تجھے وہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھتے ہوئے سنا، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ آپ (رض) نے لکھوایا : { حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ } ” نماز پر محافظت کرو، درمیانی نماز اور عصر کی نماز پر بھی محافظت کرو۔ نافع کہتے ہیں : میں نے واؤ کو معلق دیکھا ہے۔

(ب) یہ روایت مسند ہے مگر اس میں نافع کی جانب سے ارسال ہے، اس کی تاکید انھوں نے اپنے مشاہدے سے بھی کی اور زید بن اسلم کی روایت عمرو کاتب کے واسطے سے موصول ہے۔ اگر وہ موقوف ہو تو عبیداللہ بن عمر عن نافع کی روایت صحیح ہے۔

ایک اور سند کے ساتھ عمر بن رافع جو عمر بن خطاب (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے کہ میں ازواجِ مطہرات کے دور میں مصاحف لکھا کرتا تھا تو حفصہ بنت عمر (رض) مجھ سے اپنے مصحف میں لکھوایا کرتی تھیں۔ انھوں نے مجھے فرمایا : اے بیٹے ! جب تو اس آیت پر پہنچے :{ حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی } تو اس کو مت لکھنا جب تک تو اس کو میرے پاس نہ لے آئے تو میں تجھے اس طرح لکھواؤں گی جس طرح میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں جب اس آیت پر پہنچا تو میں نے ورق اور قلم د وات ان کے پاس لے گیا۔ انھوں نے فرمایا : لکھو :{ حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ }
(۲۱۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: أَمَرَتْ حَفْصَۃُ بِمُصْحَفٍ یُکْتَبُ لَہَا ، فَقَالَتْ لِلَّذِی یَکْتُبُ: إِذَا أَتَیْتَ عَلَی ذِکْرِ الصَّلاَۃِ فَذَرْ مَوْضِعَہَا حَتَّی أُعْلِمَکَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ۔ فَفَعَلَ فَکَتَبَتْ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ۔ قَالَ نَافِعٌ: فَرَأَیْتُ الْوَاوَ مُعَلَّقَۃً۔

وَہَذَا مُسْنَدٌ إِلاَّ أَنَّ فِیہِ إِرْسَالاً مِنْ جِہَۃِ نَافِعٍ ثُمَّ أَکَّدَہُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْ رُؤْیَتِہِ وَحَدِیثُ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرٍو الْکَاتِبِ مَوْصُولٌ وَإِنْ کَانَ مَوْقُوفًا فَہُوَ شَاہِدٌ لِصِحَّۃِ رِوَایَۃِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ۔

وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ وَنَافِعٍ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ کِلاَہُمَا عَنْ عُمَرَ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کُنْتُ أَکْتُبُ الْمَصَاحِفَ فِی زَمَانِ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَاسْتَکْتَبَتْنِی حَفْصَۃُ بِنْتُ عُمَرَ مُصْحَفًا لَہَا فَقَالَتْ لِی: أَیْ بُنَیَّ إِذَا انْتَہَیْتَ إِلَی ہَذِہِ الآیَۃِ {حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی} فَلاَ تَکْتُبْہَا حَتَّی تَأْتِیَنِی فَأُمِلَّہَا عَلَیْکَ کَمَا حَفِظْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ فَلَمَّا انْتَہَیْتُ إِلَیْہَا حَمَلْتُ الْوَرَقَۃَ وَالدَّوَاۃَ حَتَّی جِئْتُہَا فَقَالَتْ: ((اکْتُبْ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی ہِیَ صَلاَۃُ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ))۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابن جریر ۲/۵۶۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٧٦) امام بخاری (رح) نے فرمایا کہ سند میں جو عمر بن رافع ہے وہ عمر نہیں عمرو ہے اور یہ بھی فرمایا کہ واقعی یہ عصر کی نماز ہی ہے۔

سیدنا ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے { حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ } پڑھا۔

قرآن و سنت میں نمازِ فجر کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔ اس لیے درمیانی نماز فجر کی نماز ہے۔
(۲۱۷۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فَذَکَرَہُ۔ فَخَالَفَ رِوَایَۃَ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَعُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فِی الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِیعًا حَیْثُ قَالَ عَنْ عُمَرَ بْنِ رَافِعٍ وَإِنَّمَا ہُوَ عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ وَعُمَرُ لاَ یَصِحُّ قَالَہُ الْبُخَارِیُّ ، وَحَیْثُ قَالَ: ہِیَ صَلاَۃُ الْعَصْرِ وَإِنَّمَا ہُوَ وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ۔

وَقَدْ خُولِفَ إِسْنَادُ حَدِیثِ عَائِشَۃَ أَیْضًا فِی مَتْنِہِ وَالصَّحِیحُ مَا ذَکَرْنَاہُ ، وَقَدْ رُوِیَ بِوِفَاقِہِ۔ وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُ قَرَأَ ((حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَۃِ الْوُسْطَی وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ))

أَخْبَرَنَاہُ أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ ہُبَیْرَۃَ بْنِ یَرِیمَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِذَلِکَ۔

وَقَدْ جَائَ الْکِتَابُ ثُمَّ السُّنَّۃُ بِتَخْصِیصِ صَلاَۃِ الصُّبْحِ بِزِیَادِۃِ الْفَضِیلَۃِ۔ [حسن لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٧٧) ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : ” دن اور رات کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں “ ۔ پھر ابوہریرہ (رض) فرمانے لگے : اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو :{ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا } (بنی اسرائیل : ٧٨) ۔
(۲۱۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَأَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((یَجْتَمِعُ مَلاَئِکَۃُ اللَّیْلِ وَمَلاَئِکَۃُ النَّہَارِ فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ))۔ ثُمَّ یَقُولُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: اقْرَئُ وا إِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا} مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۴۴۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٧٨) سیدنا عثمان بن عفان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے عشا کی نماز باجماعت ادا کی، گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی، گویا اس نے پوری رات قیام کیا۔
(۲۱۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: جُنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ: الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی الْعِشَائَ فِی جَمَاعَۃٍ کَانَ کَقِیَامِ نِصْفِ لَیْلَۃٍ ، وَمَنْ صَلَّی الْفَجْرَ فِی جَمَاعَۃٍ کَانَ کَقِیَامِ لَیْلَۃٍ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۵۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٧٩) جندب بن سفیان علقی سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ کے ذمہ میں ہے، لہٰذا اے ابن آدم ! دیکھ ! اللہ اپنے ذمہ میں سے تجھ سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتا۔
(۲۱۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْوَاسِطِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْیَانَ الْعَلَقِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فَہُوَ فِی ذِمَّۃِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَانْظُرْ یَا ابْنَ آدَمَ لاَ یَطْلُبَنَّکَ اللَّہُ بِشَیْئٍ مِنْ ذِمَّتِہِ))

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٨٠) (ا) حضرت جندب بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے صبح کی نماز ادا کی وہ اللہ کے ذمہ (پناہ) میں ہے، پس اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے ذمہ میں سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ جس سے کسی چیز کا مطالبہ کرے وہ اس کو نبھانہ سکے تو اللہ اس کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔

(ب) کتاب سنت میں صبح اور عصر کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔
(۲۱۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَلِیِّ بْنِ عُرْوَۃَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو السَّرِیِّ: مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ النَّسَائِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی صَلاَۃَ الصُّبْحِ فَہُوَ فِی ذِمَّۃِ اللَّہِ فَلاَ یَطْلُبَنَّکُمُ اللَّہُ مِنْ ذِمَّتِہِ بِشَیْئٍ ، فَإِنَّہُ مَنْ یَطْلُبْہُ بِشَیْئٍ یُدْرِکْہُ فَیَکُبَّہُ فِی نَارِ جَہَنَّمَ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ بِشْرٍ۔

وَقَدْ جَائَ الْکِتَابُ ثُمَّ السُّنَّۃُ بِزِیَادَۃِ فَضِیلَۃِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ جَمِیعًا۔

[صحیح۔ مضٰی فی الذی قبلہ من حدیث جندب بن عبداللہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٨١) قیس فرماتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ نے فرمایا : ایک دفعہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں موجود تھے۔ اچانک آپ کی نظر چودھویں کے چاند پر پڑی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو ! تم ضرور اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھتے ہو۔ تم اس کو دیکھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے یا فرمایا : شک نہیں کرتے ہو۔ اگر ہو سکے تو تم طلوع آفتاب سے پہلے (فجر) اور غروب آفتاب سے پہلے (عصر) والی نماز ضرور پڑھو (یعنی تمہیں کوئی چیز ان دو نمازوں سے غافل نہ کرے) ۔ ان کو چھوڑ کر کسی کام میں پھنس نہ جاؤ۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : { وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِھَا } (طٰہٰ : ١٣٠) اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمدوثنا بیان کر۔
(۲۱۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقُ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا قَیْسٌ قَالَ قَالَ لِی جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ: کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِذْ نَظَرَ إِلَی الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ فَقَالَ: ((أَمَا إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَوْنَ ہَذَا لاَ تُضَامُّونَ أَوْ لاَ تُضَاہُونَ فِی رُؤْیَتِہِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَی صَلاَۃٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِہَا فَافْعَلُوا)) ۔ ثُمَّ قَالَ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ}

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٨٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس یکے بعد دیگرے فرشتے اترتے ہیں۔ کچھ دن کے فرشتے ہوتے ہیں اور کچھ رات کو اترتے ہیں۔ یہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر جنہوں نے تمہارے ہاں رات گزاری ہوتی ہے وہ رب ذوالجلال کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں، حالانکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں کہ میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : ہم جب ان کے پاس گئے تھے تو بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب انھیں چھوڑ کر آئے ہیں تب بھی وہ نماز ادا کر رہے تھے۔
(۲۱۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَالَوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا

حَدَّثَنَا أَبُوہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((الْمَلاَئِکَۃُ یَتَعَاقَبُونَ فِیکُمْ مَلاَئِکَۃٌ بِاللَّیْلِ وَمَلاَئِکَۃٌ بِالنَّہَارِ، یَجْتَمِعُونَ فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ، ثُمَّ یَعْرُجُ إِلَیْہِ الَّذِینَ بَاتُوا فِیکُمْ ، فَیَسْأَلُہُمْ وَہُوَ أَعْلَمُ بِہِمْ کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیَ؟ قَالُوا: تَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ وَأَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۰۵۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٨٣) ایک دوسری سند سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
(۲۱۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِیلٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ أَخْبَرَنِی أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [حوالہ مذکورہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٨٤) ابوبکر بن عبداللہ بن قیس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو دو ٹھنڈی نمازوں (فجر اور عصر) کو ادا کرے گا وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا۔
(۲۱۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَارُودِ بْنِ دِینَارٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ صَلَّی الْبَرْدَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ))۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٨٥) ابوبکر بن عبداللہ بن قیس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو دو ٹھنڈی نمازیں ادا کرے وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا۔
(۲۱۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً سَنَۃَ ثَلاَثٍ وَثَلاَثِینَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَفِیُّ وَہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی الْبَرْدَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا عَنْ ہُدْبَۃَ بْنِ خَالِدٍ إِلاَّ أَنَّہُمَا لَمْ یَنْسِبَا أَبَا بَکْرٍ عَنْ ہُدْبَۃَ وَنَسَبَاہُ عَنْ غَیْرِہِ وَہُو أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیُّ وَاسْمُ أَبِی مُوسَی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ قَیْسٍ۔ [صحیح۔ مضٰی فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٨٦) (ا) ابوبکر بن عبداللہ بن قیس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو دو ٹھنڈی نمازوں کو پڑھے گا وہ جنت میں ضرور جائے گا۔

(ب) بعض نحوی کہتے ہیں کہ (غُدْوَۃً وَعَشِیًّا) سے صبح وشام مراد ہیں۔
(۲۱۸۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْفَقِیہُ الطَّابَرَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّوَّافُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَسَنِ یَعْنِی أَبَا شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیَّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی الْبَرْدَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ))۔

قَالَ أَبُوشُعَیْبٍ قَالَ بَعْضُ النَّحْوِیِّینَ: غُدْوَۃً وَعَشِیًّا۔ قَالَ: وَأَبُوبَکْرٍ ہَذَا یُقَالُ إِنَّہُ أَبُوبَکْرِ بْنُ عُمَارَۃَ بْنِ رُوَیْبَۃَ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَالَّذِی رَوَاہُ عَنْہُ أَبُو جَمْرَۃَ ہُوَ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی مُوسَی۔ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عُمَارَۃَ أَیْضًا قَدْ رَوَاہُ بِمَعْنَاہُ۔ وَہُوَ فِیمَا۔ [صحیح۔ مضی فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٨٧) حضرت ابن عمارہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ ان کے پاس بصرہ والوں میں سے ایک آدمی تھا، اس نے پوچھا : کیا واقعی تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات سنی ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! میں نے سنی بھی ہے اور میں اس پر گواہی بھی پیش کرسکتا ہوں۔ اس آدمی نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی جگہ یہ بات فرماتے ہوئے سنا جہاں تو نے سنا ہے۔
(۲۱۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو: عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عُمَارَۃَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَارَۃَ بْنِ رُوَیْبَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَلِجُ النَّارَ مَنْ صَلَّی قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِہَا))۔ وَعِنْدَہُ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ ہَذَا مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ-؟ قَالَ: نَعَمْ أَشْہَدُ بِہِ عَلَیْہِ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ: وَأَنَا أَشْہَدُ لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ بِالْمَکَانِ الَّذِی سَمِعْتَہُ مِنْہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی خَالِدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۳۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کو درمیانی نماز کہنے والوں کا بیان

اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔
(٢١٨٨) (ا) عبداللہ بن فضالہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دین اسلام کی باتیں سکھائیں۔ ان میں یہ بھی تھا کہ پانچوں نمازوں پر محافظت کرو، (یعنی ان کو ان کے مقررہ اوقات میں ادا کرو) ۔ میں نے عرض کیا : یہ تو میری مصروفیت کے اوقات ہیں، آپ مجھے کوئی جامع حکم دے دیں جس پر میں کار بند رہوں وہ مجھے کفایت کر جائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عصرین نمازوں کی حفاظت کر، یہ لفظ (عصرین) ہماری لغت میں مستعمل نہیں تھا۔ میں نے پوچھا : عصرین سے کیا مراد ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے کی دو نمازیں۔

(ب) شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد یہ تھی کہ ان نمازوں کو ان کے اول وقت میں ادا کرنے پر محافظت کرو، لیکن جب اس نے اپنی مصروفیات کا عذر پیش کیا کہ میں مقررہ وقت پر نہ پڑھ سکوں گا تاخیر ہوجائے گی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ان دو نمازوں کے بارے میں خصوصی طور پر کہا کہ ان کو اول وقت میں ادا کرلیا کرو۔ واللہ اعلم وباللہ التوفیق
(۲۱۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ دَاوُدَ یَعْنِی ابْنَ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی حَرْبٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ فَضَالَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: عَلَّمَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ فِیمَا عَلَّمَنِی أَنْ قَالَ: ((حَافِظْ عَلَی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ))۔ قُلْتُ: إِنَّ ہَذِہِ سَاعَاتٍ لِی فِیہَا أَشْغَالٌ ، فَمُرْنِی بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُہُ أَجْزَأَ عَنِّی۔ قَالَ: حَافِظْ عَلَی الْعَصْرَیْنِ ۔ وَمَا کَانَتْ مِنْ لُغَتِنَا قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: ((صَلاَۃٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلاَۃٌ قَبْلَ غُرُوبِہَا))۔

لَفْظُ حَدِیثِ الْقَطَّانِ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَکَأَنَّہُ أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ: حَافِظْ عَلَیْہِنَّ فِی أَوَائِلِ أَوْقَاتِہِنَّ ، فَاعْتَذَرَ بِالأَشْغَالِ الْمُفْضِیَۃِ إِلَی تَأْخِیرِہَا عَنْ أَوَائِلِ أَوْقَاتِہِنَّ فَأَمَرَہُ بِالْمُحَافَظَۃِ عَلَی ہَاتَیْنِ الصَّلاَتَیْنِ بِتَعْجِیلِہِمَا فِی أَوَّلِ وَقْتَیْہِمَا وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۴۲۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف تحویل قبلہ کا بیان
(٢١٨٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مسجد قبا میں لوگ صبح کی نماز ادا کر رہے تھے کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا، اس نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رات کو قرآن نازل ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ (یہ سن کر) انھوں نے (نماز کی حالت میں ہی) اپنے چہرے کعبہ کی طرف پھیر لیے، جب کہ ان کے چہرے شام کی طرف تھے پھر وہ کعبہ کی طرف گھوم گئے۔
(۲۱۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْقَاسِمِ السَّرَّاجُ فِی آخَرِینَ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: بَیْنَمَا النَّاسُ بِقُبَائَ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ إِذْ أَتَاہُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ اللَّیْلَۃَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ یَسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃَ فَاسْتَقْبِلُوہَا۔ وَکَانَتْ وُجُوہُہُمْ إِلَی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَی الْکَعْبَۃِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۹۵، ۴۲۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف تحویل قبلہ کا بیان
(٢١٩٠) براء بن عازب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے سولہ یا سترہ ماہ تک نماز پڑھتے رہے، لیکن آپ کی خواہش تھی کہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ } (البقرۃ : ١٤٤) ” ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ ہم ضرور آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیریں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ پس آپ اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔ “

ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا، وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے اور حالت رکوع میں تھے تو اس نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم آچکا ہے تو وہ لوگ بھی کعبہ کی طرف پھرگئے۔ بعض بیوقوف لوگوں نے کہا، جو دراصل یہودی تھے : { مَا وَلّٰھُمْ عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا } (البقرۃ : ١٤٢) ” جس قبلہ پر یہ تھے اس سے ان کو کس نے پھیر دیا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { قُلْ لِّلّٰہِ الْمَشْرقُ وَ الْمَغْرِبُ یَھْدِی ْمَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } (البقرۃ : ١٤٢) ” کہہ دیجیے کہ اللہ ہی کے لیے مشرق اور مغرب ہے۔ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ “
(۲۱۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ فَصَلَّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا أَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُحِبُّ أَنْ یُوَجَّہَ نَحْوَ الْکَعْبَۃِ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ {قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرۃ: ۱۴۴] الآیَۃَ ، فَمَرَّ رَجُلٌ کَانَ یُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَلَی قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ یُصَلُّونَ وَہُمْ رُکُوعٌ نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ وُجِّہَ إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ فَتَحَرَّفُوا نَحْوَ الْکَعْبَۃِ ، فَقَالَ السُّفَہَائُ مِنَ النَّاسِ وَہُمُ الْیَہُودُ {مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا} [البقرۃ: ۱۴۲] قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَہْدِی مَنْ یَشَائُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ} [البقرۃ: ۱۴۲]

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَجَائٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۹۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف تحویل قبلہ کا بیان
(٢١٩١) براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ آپ کی دلی خواہش یہ تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ہوجائے۔ آپ نے عصر کی نماز (کعبہ کی طرف منہ کر کے) پڑھائی۔ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی ان میں سے ایک آدمی نکلا۔ وہ ایک مسجد کے پاس سے گزرا جہاں لوگ باجماعت نماز ادا کر رہے تھے اور وہ حالت رکوع میں تھے تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ (بیت اللہ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ یہ سن کر وہ لوگ فوراً بیت اللہ کی طرف گھوم گئے۔
(۲۱۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا أَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ تَکُونَ قِبْلَتُہُ قِبَلَ الْبَیْتِ ، وَأَنَّہُ صَلَّی صَلاَۃَ الْعَصْرِ وَصَلَّی مَعَہُ قَوْمٌ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ صَلَّی مَعَہُ ، فَمَرَّ عَلَی أَہْلِ مَسْجِدٍ وَہُمْ رَاکِعُونَ ، فَقَالَ: أَشْہَدُ بِاللَّہِ لَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قِبَلَ مَکَّۃَ۔ فَدَارُوا کَمَا ہُمْ قِبَلَ الْبَیْتِ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف تحویل قبلہ کا بیان
(٢١٩٢) براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ بعض لوگوں نے کہا : جو لوگ تحویل قبلہ سے پہلے فوت یا شہید ہوچکے، ہم نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں کیا کہیں، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : { وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ اِنَّ اللَّہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ} (البقرۃ : ١٤٣) ” اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمانوں (نمازوں) کو ضائع نہیں کرے گا۔ وہ تو لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ “
(۲۱۹۲) وَبِإِسْنَادِہِ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: قِیلَ ہَذَا الَّذِینَ مَاتُوا قَبْلَ أَنْ تُحَوَّلَ إِلَی الْکَعْبَۃِ وَرِجَالٌ قُتِلُوا فَلَمْ نَدْرِ مَا نَقُولُ فِیہِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا کَانَ اللَّہُ لِیُضِیعَ إِیمَانَکُمْ إِنَّ اللَّہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وفٌ رَحِیمٌ} [البقرۃ: ۱۴۳] رَوَاہُمَا الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف تحویل قبلہ کا بیان
(٢١٩٣) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ بیشک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مکہ میں) بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور کعبہ کو اپنے اور بیت المقدس کے درمیان رکھتے تھے۔ اس کے بعد جب آپ (ہجرت کر کے) مدینہ منورہ تشریف لائے تو سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے ۔ پھر اللہ نے انھیں کعبہ کی طرف پھیر دیا۔
(۲۱۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَالْکَعْبَۃُ بَیْنَ یَدَیْہِ وَبَعْدَ مَا تَحَوَّلَ إِلَی الْمَدِینَۃِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا ، ثُمَّ صَرَفَہُ اللَّہُ تَعَالَی إِلَی الْکَعْبَۃِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۱/ ۳۵۲]
tahqiq

তাহকীক: