আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ২১১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے مستحب ہونے کا بیان
(٢١١٤) عبدالرزاق فرماتے ہیں : ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہ میں نے عطا سے عرض کیا : آپ کے نزدیک عشا کی نماز ادا کرنے کے لیے کون سا وقت زیادہ بہتر ہے ؟ وہ فرمانے لگے : میں نے ابن عباس (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات عشا کی نماز میں تاخیر کی، حتیٰ کہ لوگ سو گئے پھر بیدار ہوگئے۔ پھر دوبارہ سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر کہا : نماز کا وقت جا رہا ہے۔ عطا کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا : پھر اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ یہ منظر اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھ کو سر کی ایک طرف رکھے ہوئے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں انھیں اسی طرح (اس وقت میں) نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ سر مبارک پر کس طرح رکھا تھا ؟ تو عطا نے مجھے سمجھانے کی غرض سے اپنی انگلیوں کے درمیان کچھ فاصلہ کیا یعنی انگلیاں کشادہ کرلیں، پھر انگلیوں کے کناروں کو سر میں مانگ پر رکھا پھر انگلیوں کو ملا کر انھیں اسی طرح سر پر پھیرنے لگے حتیٰ کہ ان کا انگوٹھا چہرے کی طرف والی کان کی لو سے ٹکرایا۔
پھر کنپٹی پر اور داڑھی کے کنارے پر ہاتھ پھیرا۔ وہ نہ کمی کر رہے تھے اور نہ زیادتی۔ میں نے عطا سے پوچھا : اس رات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز کتنی دیر تک موخر کی تھی ؟ انھوں نے فرمایا : میں نہیں جانتا، پھر فرمانے لگے : میرے نزدیک زیادہ محبوب یہ ہے کہ تو اس کو باجماعت یا اکیلے پڑھے تو تاخیر کر کے پڑھ جیسا کہ اس رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھائی تھی۔ اگر تجھ پر اکیلے یا جماعت کے ساتھ لوگوں پر گراں گزرے اور تو ان کا امام ہو تو ان کو درمیانے وقت میں پڑھا، نہ بہت زیادہ جلدی اور نہ ہی بہت زیادہ دیر سے۔
پھر کنپٹی پر اور داڑھی کے کنارے پر ہاتھ پھیرا۔ وہ نہ کمی کر رہے تھے اور نہ زیادتی۔ میں نے عطا سے پوچھا : اس رات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز کتنی دیر تک موخر کی تھی ؟ انھوں نے فرمایا : میں نہیں جانتا، پھر فرمانے لگے : میرے نزدیک زیادہ محبوب یہ ہے کہ تو اس کو باجماعت یا اکیلے پڑھے تو تاخیر کر کے پڑھ جیسا کہ اس رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھائی تھی۔ اگر تجھ پر اکیلے یا جماعت کے ساتھ لوگوں پر گراں گزرے اور تو ان کا امام ہو تو ان کو درمیانے وقت میں پڑھا، نہ بہت زیادہ جلدی اور نہ ہی بہت زیادہ دیر سے۔
(۲۱۱۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی حَفْصٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ : أَیُّ حِینٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ أَنْ أُصَلِّیَ الْعِشَائَ الَّتِی یَقُولُہَا النَّاسُ الْعَتَمَۃَ إِمَامًا وَخِلْوًا؟ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ: أَعْتَمَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃِ الْعِشَائَ حَتَّی رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَیْقَظُوا ، وَرَقَدُوا وَاسْتَیْقَظُوا ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: الصَّلاَۃَ۔ قَالَ عَطَاء ٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی أَنْظُرَ إِلَیْہِ الآنَ یَقْطُرُ رَأْسُہُ مَائً وَاضِعًا یَدَہُ عَلَی شِقِّ رَأْسِہِ فَقَالَ: ((لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی لأَمَرْتُہُمْ أَنْ یُصَلُّوہَا کَذَلِکَ)) ۔ قَالَ: فَاسْتَثْبَتُّ عَطَائً کَیْفَ وَضَعَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَدَہُ عَلَی رَأْسِہِ کَمَا أَنْبَأَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَبَدَّدَ لِی عَطَاء ٌ بَیْنَ أَصَابِعِہِ شَیْئًا مِنْ تَبْدِیدٍ ، ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِہِ عَلَی فَرْقِ الرَّأْسِ ، ثُمَّ ضَمَّہَا یُمِرُّہَا کَذَلِکَ عَلَی الرَّأْسِ حَتَّی مَسَّتَ إِبْہَامُہُ طَرَفَ الأُذُنِ مِمَّا یَلِی الْوَجْہَ ، ثُمَّ عَلَی الصُّدْغِ وَنَاحِیَۃِ اللِّحْیَۃِ لاَ یُقَصِّرُ وَلاَ یَبْطُشُ بِشَیْئٍ إِلاَّ کَذَلِکَ۔ قُلْتُ لِعَطَائٍ : کُمْ ذُکِرَ لَکَ أَخَّرَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- لَیْلَتَئِذٍ؟ قَالَ لاَ أَدْرِی قَالَ عَطَاء ٌ فَأَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ تُصَلِّیَہَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤَخَّرَۃً کَمَا صَلاَّہَا النَّبِیُّ -ﷺ- لَیْلَتَئِذٍ قَالَ: فَإِنْ شَقَّ عَلَیْکَ ذَلِکَ خِلْوًا أَوْ عَلَی النَّاسِ فِی الْجَمَاعَۃِ وَأَنْتَ إِمَامُہُمْ فَصَلِّہَا وَسْطَۃَ ، لاَ مُعَجَّلَۃً وَلاَ مُؤَخَّرَۃً۔ رَوَاہُ
مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ ہَکَذَا وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۵۴]
مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ ہَکَذَا وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے مستحب ہونے کا بیان
(٢١١٥) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کا دھیان نہ رہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے نہ نکلے اور ہم بیٹھے بیٹھے سوتے جاگتے رہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تمہارے علاوہ اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کررہا ہو۔
(۲۱۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- شُغِلَ عَنِ الصَّلاَۃِ لَیْلَۃً ، فَلَمْ یَخْرُجْ حَتَّی رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَیْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ، ثُمَّ اسْتَیْقَظْنَا فَخَرَجَ عَلَیْنَا وَقَالَ: لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ یَنْتَظِرُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ غَیْرُکُمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۵۴]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے مستحب ہونے کا بیان
(٢١١٦) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات ہم عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کرتے رہے۔ جب رات کا تقریباً تہائی حصہ گزر گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تم ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے علاوہ کسی بھی دین وملت والا اس کا انتظار نہیں کر رہا۔ اگر میں اپنی امت پر اس کو بھاری نہ سمجھتا تو میں اس وقت ان کو نماز پڑھایا کرتا، پھر موذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی۔
(۲۱۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَکَثْنَا لَیْلَۃً نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لِلْعِشَائِ الآخِرَۃِ ، فَخَرَجَ عَلَیْنَا حِینَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ أَوْ بَعْدَہُ ، فَقَالَ حِینَ خَرَجَ: إِنَّکُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلاَۃً مَا یَنْتَظِرُہَا أَہْلُ دِینٍ غَیْرُکُمْ ، وَلَوْلاَ أَنْ یَثْقُلَ عَلَی أُمَّتِی لَصَلَّیْتُ بِہِمْ ہَذِہِ السَّاعَۃَ ۔ قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّی۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۳۹]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۳۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے مستحب ہونے کا بیان
(٢١١٧) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز میں تاخیر کی حتیٰ کہ رات کا ابتدائی حصہ گزر گیا اور مسجد والے بھی سو گئے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی، پھر فرمایا : یہ اس نماز کا افضل وقت ہے ، اگر یہ میری امت پر گراں نہ ہو۔ ” یہ عبدالرزاق کی حدیث کے الفاظ ہیں اور حجاج کی حدیث میں جو ام المومنین حضرت عائشہ (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے عشا کا لفظ نہیں کہا ۔ باقی اسی طرح ہے۔
(۲۱۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی مُغِیرَۃُ بْنُ حَکِیمٍ عَنْ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ أَخْبَرَتْہُ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃٍ بِالْعِشَائِ حَتَّی ذَہَبَ عَامَّۃُ اللَّیْلِ وَحَتَّی نَامَ أَہْلُ الْمَسْجِدِ قَالَتْ ثُمَّ خَرَجَ إِلَیْہِمْ فَصَلَّی بِہِمْ ، وَقَالَ: ((إِنَّہُ لَوَقْتُہَا لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی))۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَفِی حَدِیثِ حَجَّاجٍ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ أَنَّہَا قَالَتْ وَلَمْ یَقُلْ بِالْعِشَائِ ۔ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ سَوَاء ٌ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حَجَّاجٍ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
[صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۳۸]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حَجَّاجٍ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔
[صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے مستحب ہونے کا بیان
(٢١١٨) عوف بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ابو منہال نے حدیث بیان کی کہ میں اپنے والد کے ہمراہ ابو برزہ اسلمی کے پاس آیا تو میرے والد نے ان سے عرض کیا : ہمیں بتلائیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نماز کس وقت میں ادا کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز جسے تم پہلی نماز کہتے ہو سورج ڈھلنے کے بعد ادا فرماتے تھے اور عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے کہ اگر ہم میں سے کوئی مدینہ کے دوسرے کنارے اپنے گھر جاتا تو سورج ابھی چمک رہا ہوتا اور مغرب کا وقت مجھے یاد نہیں رہا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کو تاخیر سے ادا کرنا پسند فرماتے تھے اور عشا سے پہلے سونے کو ناپسند سمجھتے اور عشا کے بعد بات چیت کو بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر سے فارغ ہوتے تو (اتنی روشنی ہوجاتی تھی کہ) ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھ بیٹھے آدمی کو پہچان سکتا تھا اور آپ ساٹھ سے سو تک آیات فجر کی نماز میں تلاوت فرماتے تھے۔
(۲۱۱۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْمِنْہَالِ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِی إِلَی أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ فَقَالَ لَہُ أَبِی: حَدِّثْنَا کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی الْمَکْتُوبَۃَ؟ قَالَ: کَانَ یُصَلِّی الْہَجِیرَ وَہِیَ الَّتِی تَدْعُونَہَا الأُولَی حِینَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ ، وَیُصَلِّی الْعَصْرَ ثُمَّ یَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَی أَہْلِہِ فِی أَقْصَی الْمَدِینَۃِ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ وَنَسِیتُ مَا قَالَ فِی الْمَغْرِبِ قَالَ وَکَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ یُؤَخِّرَ الْعِشَائَ قَالَ وَکَانَ یَکْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَہَا وَالْحَدِیثَ بَعْدَہَا وَکَانَ یَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ حِینَ یَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِیسَہُ وَیَقْرَأُ مِنَ السِّتِّینَ إِلَی الْمِائَۃِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۶]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے مستحب ہونے کا بیان
(٢١١٩) حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کی نماز کو موخر کر کے ادا کرتے تھے۔
(۲۱۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: الْعَلاَئُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُؤَخِّرُ صَلاَۃَ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ۔ [حسن۔ اخرجہ مسلم ۶۴۳]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ۔ [حسن۔ اخرجہ مسلم ۶۴۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے مستحب ہونے کا بیان
(٢١٢٠) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ایک رات) عشا کی نماز میں آدھی رات تک تاخیر کی، پھر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور فرمایا : تم جب تک نماز کا انتظار کرتے ہو وہ وقت نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔
اگر بوڑھوں اور کمزوروں کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک موخر کردیتا۔ راوی کہتے ہیں : شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاجت مندوں کا ذکر بھی فرمایا۔
اگر بوڑھوں اور کمزوروں کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک موخر کردیتا۔ راوی کہتے ہیں : شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاجت مندوں کا ذکر بھی فرمایا۔
(۲۱۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ: أَخِّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ إِلَی قَرِیبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی بِہِمْ وَقَالَ: ((إِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِی صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُوہَا ، وَلَوْلاَ کِبَرُ الْکَبِیرِ وَضَعْفُ الضَّعِیفِ ۔ قَالَ وَأَحْسَبُہُ قَالَ: وَذُو الْحَاجَۃِ لأَخَّرْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ إِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ))۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَابْنُ أَبِی عَدِیٍّ وَعَبْدُ الْوَارِثِ وَغَیْرُہُمْ عَنْ دَاوُدَ۔ وَرَوَاہُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ دَاوُدَ فَقَالَ عَنْ جَابِرٍ بَدَلَ أَبِی سَعِیدٍ۔
[صحیح۔ تقدم تخریجہ فی الحدیث ۱۷۵۸]
[صحیح۔ تقدم تخریجہ فی الحدیث ۱۷۵۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے مستحب ہونے کا بیان
(٢١٢١) حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک رات عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کر رہے تھے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا آپ اب تشریف نہیں لائیں گے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیتو ایک شخص کہنے لگا : اے اللہ کے نبی ! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ ضرور نماز ادا کرچکے ہوں گے یا آج آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف نہیں لائیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نماز کو تاخیر سے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس نماز کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز ادا نہیں کی۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا آپ اب تشریف نہیں لائیں گے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیتو ایک شخص کہنے لگا : اے اللہ کے نبی ! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ ضرور نماز ادا کرچکے ہوں گے یا آج آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف نہیں لائیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نماز کو تاخیر سے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس نماز کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز ادا نہیں کی۔
(۲۱۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا حَرِیزُ بْنُ عُثْمَانَ الرَّحَبِیُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَیْدٍ السَّکُونِیِّ صَاحِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: بَقَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لِصَلاَۃِ الْعَتَمَۃِ لَیْلَۃً فَتَأَخَّرَ بِہَا حَتَّی ظَنَّ الظَّانُّ أَنْ قَدْ صَلَّی أَوْ لَیْسَ بِخَارِجٍ ثُمَّ إِنَّہُ خَرَجَ بَعْدُ فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَا نَبِیَّ اللَّہِ لَقَدْ ظَنَنَّا أَنَّکَ قَدْ صَلَّیْتَ یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَوْ لَسْتَ بِخَارِجٍ۔ فَقَالَ لَنَا -ﷺ- : ((أَعْتِمُوا بِہَذِہِ الصَّلاَۃِ ، فَإِنَّکُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِہَا عَلَی سَائِرِ الأُمَمِ ، وَلَمْ تُصَلِّہَا أُمَّۃٌ قَبْلَکُمْ)) ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۵/۲۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے مستحب ہونے کا بیان
(٢١٢٢) حضرت عبید اللہ بن ابی یزید (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے ابن عباس سے سنا کہ وہ عشا کو تاخیر سے ادا کرنا پسند کرتے تھے اور یہ آیت کریمہ پڑھتے تھے : { وَزُلَفًا مِّنَ اللَّیْلِ } [ھود : ١١٤] (اور رات کی گھڑیوں میں) ۔
(۲۱۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ: سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَسْتَحِبُّ تَأْخِیرَ الْعِشَائِ وَیَقْرَأُ {وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ} [صحیح۔ تفسیر طبری ۷/ ۱۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٢٣) حضرت ابوبرزہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں عشا سے پہلے سونے کو اور عشا کے بعد گپ شپ کو ناپسند سمجھتا ہوں۔
(۲۱۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِیِّ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ ((أَکْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَہَا وَالْحَدِیثَ بَعْدَہَا)) یَعْنِی صَلاَۃَ الْعِشَائِ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٢٤) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا سے پہلے کبھی نہیں سوئے اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کے بعد باتیں کرتے تھے۔
(۲۱۲۴) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا نَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَبْلَہَا وَلاَ سَمَرَ بَعْدَہَا یَعْنِی الْعِشَائَ الآخِرَۃَ۔
[حسن۔ اخرجہ ابن ماجہ ۷۰۲]
[حسن۔ اخرجہ ابن ماجہ ۷۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٢٥) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عشا سے پہلے کبھی سوتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی عشا کے بعد کبھی کھیلتے دیکھا، یا تو آپ ذکر کرتے رہتے اور ثواب پاتے یا پھر آرام فرماتے اور سکون کرتے۔
(۲۱۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ وَہُوَ ابْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہَا قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَائِمًا قَبْلَ الْعِشَائِ وَلاَ لاَعِبًا بَعْدَہَا ، إِمَّا ذَاکِرًا فَیَغْنَمُ ، وَإِمَّا نَائِمًا فَیَسْلَمُ۔
[حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابو یعلی ۴۸۷۸]
[حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابو یعلی ۴۸۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٢٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کی نماز کے بعد دنیاوی باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۲۱۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَدَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- السَّمَرَ بَعْدَ صَلاَۃِ الْعَتَمَۃِ۔
[ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶۶۷۸]
[ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۶۶۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٢٧) حضرت خیثمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عشا کی نماز کے بعد دنیاوی گفتگو جائز نہیں ہے، البتہ نماز پڑھنے والا اور مسافر ضرورت کی باتیں کرسکتے ہیں۔
(۲۱۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: جُنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جُنَاحٍ الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَیْثَمَۃَ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ سَمَرَ بَعْدَ الصَّلاَۃِ إِلاَّ لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ))۔
[حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۱/ ۳۷۹]
[حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۱/ ۳۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٢٨) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عشا کی نماز کے بعد نمازی اور مسافر کے علاوہ کسی اور کے لیے باتیں کرنا مناسب نہیں۔
(۲۱۲۸) وَأَخْبَرَنَا جُنَاحٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَیْثَمَۃَ عَنْ رَجُلٍ جُعْفِیٍّ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ سَمَرَ بَعْدَ الصَّلاَۃِ إِلاَّ لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ))۔
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَیْثَمَۃَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَأَخْطَأَ فِیہِ وَقِیلَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَہُوَ خَطَأٌ۔ [حسن لغیرہ۔ انظر ما قبلہ]
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَیْثَمَۃَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَأَخْطَأَ فِیہِ وَقِیلَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَہُوَ خَطَأٌ۔ [حسن لغیرہ۔ انظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٢٩) علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس عرفہ کے مقام پر ایک آدمی آیا، اس نے کہا : اے امیرالمومنین ! میں کوفہ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہاں میں ایک ایسے آدمی سے ملا ہوں جو مصاحف کو زبانی املا کرواتا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر (رض) غصہ ہوگئے حتیٰ کہ آپ کی سانس پھول گئی، قریب تھا کہ وہ اس کو لات مار دیتے۔ پھر کہنے لگے : تیرا ناس ہو وہ ہے کون ؟ اس نے کہا : عبداللہ بن مسعود۔ حضرت عمر (رض) (یہ سن کر) بجھ سے گئے اور آپ کا غصہ ختم ہوگیا حتیٰ کہ اپنی پہلے والی حالت میں لوٹ آئے۔ پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی باقی ہو جو اس کام کا عبداللہ بن مسعود سے زیادہ حق دار ہو، میں تجھے ان کے بارے میں بتاتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے ہاں مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں رات گئے تک گفتگو کرتے رہتے تھے۔ ایک دن آپ ان کے ہاں عشا کے بعد باتیں کر رہے تھے اور اتفاقاً میں بھی وہاں موجود تھا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور ہم بھی آپ کے ہمراہ نکل پڑے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں کھڑا نماز ادا کررہا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی قراءت سننے لگ گئے۔ پھر جب ہم نے غور کیا کہ ہم اس آدمی کو پہچان لیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو پست آواز میں پڑھے جس طرح نازل ہوا تو وہ ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کی قرات کے موافق پڑھے، پھر وہ (ابن مسعود) بیٹھ کر دعا کرنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں کہنے لگے : تو جو سوال کر تجھے عطا کیا جائے گا اس کے بعد حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : میں صبح ابن مسعود (رض) کے پاس جا کر انھیں خوشخبری دوں گا۔ (عمر) کہتے ہیں کہ صبح میں انھیں بشارت دینے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ابوبکر صدیق (رض) مجھ سے سبقت لے گئے ہیں اور انھوں نے ابن مسعود کو بشارت بھی دے دی۔ اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی کسی نیکی میں ابوبکر سے پہل نہیں کرسکا مگر وہ ہمیشہ مجھ سے سبقت لے گئے۔
اس روایت کو اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ رات کو باتیں کرنے والی روایت حضرت عمر (رض) سے منقول ہے نہ کہ عبداللہ سے جو علقمہ نے نقل کی ہے۔
اس روایت کو اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ رات کو باتیں کرنے والی روایت حضرت عمر (رض) سے منقول ہے نہ کہ عبداللہ سے جو علقمہ نے نقل کی ہے۔
(۲۱۲۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ جِئْتُ مِنَ الْکُوفَۃِ وَتَرْکَتُ بِہَا رَجُلاً یُمْلِی الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَہْرِ قَلْبِہِ۔
قَالَ: فَغَضِبَ عُمَرُ وَانْتَفَخَ حَتَّی کَادَ یَمْلأُ مَا بَیْنَ شُعْبَتَیِ الرَّجُلِ ثُمَّ قَالَ: وَیْحَکَ مَنْ ہُوَ؟ قَالَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ۔ فَمَا زَالَ یُطْفِئُ وَیُسِرُّ الْغَضَبَ حَتَّی عَادَ إِلَی حَالِہِ الَّتِی کَانَ عَلَیْہَا ، ثُمَّ قَالَ: وَیْحَکَ وَاللَّہِ مَا أَعْلَمُہُ بَقِیَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ہُوَ أَحَقُّ بِذَلِکَ مِنْہُ ، سَأُحَدِّثُکَ عَنْ ذَلِکَ ، کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یَزَالُ یَسْمُرُ فِی الأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِینَ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ ، وَأَنَّہُ سَمَرَ عِنْدَہُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَأَنَا مَعَہُ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَخَرَجْنَا نَمْشِی مَعَہُ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ یُصَلِّی فِی الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتَمِعُ قِرَائَ تَہُ ، فَلَمَّا أَعْیَانَا أَنْ نَعْرِفَ مِنَ الرَّجُلِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا کَمَا أُنْزِلَ فَلْیَقْرَأْہُ عَلَی قِرَائَ ۃِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ))۔ ثُمَّ جَلَسَ الرَّجُلُ یَدْعُو ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ لَہُ: ((سَلْ تُعْطَہْ))۔ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ: لأَغْدُوَنَّ إِلَیْہِ فَلأُبَشِّرَنَّہُ قَالَ فَغَدَوْتُ إِلَیْہِ لأُبَشِّرَہُ ، فَوَجَدْتُ أَبَا بَکْرٍ قَدْ سَبَقَنِی إِلَیْہِ فَبَشَّرَہُ ، وَوَاللَّہِ مَا سَابَقْتُہُ إِلَی خَیْرٍ قَطٌّ إِلاَّ سَبَقَنِی إِلَیْہِ۔
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ الأَعْمَشِ وَفِی ذَلِکَ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ رِوَایَۃَ السَّمَرِ مِنْ عُمَرَ لاَ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَۃِ عَلْقَمَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱/۲۵]
قَالَ: فَغَضِبَ عُمَرُ وَانْتَفَخَ حَتَّی کَادَ یَمْلأُ مَا بَیْنَ شُعْبَتَیِ الرَّجُلِ ثُمَّ قَالَ: وَیْحَکَ مَنْ ہُوَ؟ قَالَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ۔ فَمَا زَالَ یُطْفِئُ وَیُسِرُّ الْغَضَبَ حَتَّی عَادَ إِلَی حَالِہِ الَّتِی کَانَ عَلَیْہَا ، ثُمَّ قَالَ: وَیْحَکَ وَاللَّہِ مَا أَعْلَمُہُ بَقِیَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ہُوَ أَحَقُّ بِذَلِکَ مِنْہُ ، سَأُحَدِّثُکَ عَنْ ذَلِکَ ، کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یَزَالُ یَسْمُرُ فِی الأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِینَ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ ، وَأَنَّہُ سَمَرَ عِنْدَہُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَأَنَا مَعَہُ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَخَرَجْنَا نَمْشِی مَعَہُ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ یُصَلِّی فِی الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتَمِعُ قِرَائَ تَہُ ، فَلَمَّا أَعْیَانَا أَنْ نَعْرِفَ مِنَ الرَّجُلِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا کَمَا أُنْزِلَ فَلْیَقْرَأْہُ عَلَی قِرَائَ ۃِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ))۔ ثُمَّ جَلَسَ الرَّجُلُ یَدْعُو ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ لَہُ: ((سَلْ تُعْطَہْ))۔ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ: لأَغْدُوَنَّ إِلَیْہِ فَلأُبَشِّرَنَّہُ قَالَ فَغَدَوْتُ إِلَیْہِ لأُبَشِّرَہُ ، فَوَجَدْتُ أَبَا بَکْرٍ قَدْ سَبَقَنِی إِلَیْہِ فَبَشَّرَہُ ، وَوَاللَّہِ مَا سَابَقْتُہُ إِلَی خَیْرٍ قَطٌّ إِلاَّ سَبَقَنِی إِلَیْہِ۔
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ الأَعْمَشِ وَفِی ذَلِکَ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ رِوَایَۃَ السَّمَرِ مِنْ عُمَرَ لاَ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَۃِ عَلْقَمَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱/۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٣٠) حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کہا کہ میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے آرہا ہوں جو مصاحف کی زبانی املا کرواتا ہے، پھر طویل حدیث ذکر کی۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے کہ میں تجھے عبداللہ کے بارے بتاتا ہوں۔ ایک رات ہم ابوبکر (رض) کے گھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی کام کے سلسلے میں گفتگو کر رہے تھے۔۔۔ پھر مکمل حدیث اسی طرح ذکر کی۔
(ب) اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ محمد عطار نے اعمش سے کہا تھا کہ کیا خیثمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس آدمی کا نام (جو عمر کے پاس آیا تھا) قیس بن مروان نہیں ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ، ان کی مراد حضرت عمر کے پاس آنے والا آدمی تھا۔
(ب) اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ محمد عطار نے اعمش سے کہا تھا کہ کیا خیثمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس آدمی کا نام (جو عمر کے پاس آیا تھا) قیس بن مروان نہیں ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ، ان کی مراد حضرت عمر کے پاس آنے والا آدمی تھا۔
(۲۱۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: جِئْتُکَ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ یُمْلِی الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَہْرِ قَلْبِہِ ، فَذَکَرَ بَعْضَ الْحَدِیثِ ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: سَأُحَدِّثُکَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ، إِنَّا سَمَرْنَا لَیْلَۃً فِی بَیْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی بَعْضِ مَا یَکُونُ مِنْ حَاجَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ ذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ بِمَعْنَاہُ۔
وَفِی آخِرِہِ قَالَ مُحَمَّدٌ الْعَطَّارُ لِلأَعْمَشِ: أَلَیْسَ قَالَ خَیْثَمَۃُ إِنَّ اسْمَ الرَّجُلِ قَیْسُ بْنُ مَرْوَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ یںُرِیدُ الرَّجُلَ الَّذِی جَائَ إِلَی عُمَرَ۔
وَہَذَا الْحَدِیثُ لَمْ یَسْمَعْہُ عَلْقَمَۃُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ عُمَرَ إِنَّمَا رَوَاہُ عَنِ الْقَرْثَعِ عَنْ قَیْسٍ عَنْ عُمَرَ۔
[صحیح۔ اخرجہ احمد ۱/۲۵]
وَفِی آخِرِہِ قَالَ مُحَمَّدٌ الْعَطَّارُ لِلأَعْمَشِ: أَلَیْسَ قَالَ خَیْثَمَۃُ إِنَّ اسْمَ الرَّجُلِ قَیْسُ بْنُ مَرْوَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ یںُرِیدُ الرَّجُلَ الَّذِی جَائَ إِلَی عُمَرَ۔
وَہَذَا الْحَدِیثُ لَمْ یَسْمَعْہُ عَلْقَمَۃُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ عُمَرَ إِنَّمَا رَوَاہُ عَنِ الْقَرْثَعِ عَنْ قَیْسٍ عَنْ عُمَرَ۔
[صحیح۔ اخرجہ احمد ۱/۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٣١) حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس سے گزرے اور وہ (قرآن کی) تلاوت کر رہے تھے۔ میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھا۔۔۔ پھر مکمل قصہ ذکر کیا مگر انھوں نے عشا کے بعد باتیں کرنے کا ذکر نہیں کیا۔
(۲۱۳۱) أَخْبَرَنَا بِصِحَّۃِ ذَلِکَ أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنِ الْقَرْثَعِ عَنْ قَیْسٍ أَوِ ابْنِ قَیْسٍ رَجُلٌ مِنْ جُعْفِیٍّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا مَعَہُ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَہُوَ یَقْرَأُ ، فَذَکَرَ الْقِصَّۃَ بِمَعْنَاہُ ، إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قِصَّۃَ السَّمَرِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٣٢) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے۔ ہم نے بہت باتیں کیں۔ پھر ہم گھروں کو لوٹے۔ صبح جب ہم بیدار ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر تمام انبیاء اپنی امتوں سمیت پیش کیے گئے اور ان کے پیروکار بھی۔۔۔ پھر لمبی حدیث ذکر کی۔
(۲۱۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَوُادَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتَّی أَکْثَرَ بِنَا الْحَدِیثَ ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَی أَہَالِینَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((عُرِضَ عَلَیَّ الأَنْبِیَائُ بِأُمَمِہَا وَأَتْبَاعِہَا مِنْ أُمَمِہَا))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱۵/ ۴۲۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا سے پہلے سونے، عشا کے بعد دنیاوی باتیں کرنے اور عشا کو بہت زیادہ موخر کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٣٣) (ا) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں عشا کی نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر فرمایا : تمہارا اس رات کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ پھر فرمایا : سو برس کے ختم ہونے تک جتنے لوگ زمین پر ہیں، ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان سننے میں غلطی کھا گئے حتیٰ کہ جن احادیث میں سو سال کا ذکر ہے، اس سے کچھ اور سمجھنے لگے یعنی سو برس بعد قیامت آجائے گی، حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ مراد نہیں تھی۔ بلکہ مقصد یہ تھا کہ جو آدمی آج اس زمین پر موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ آپ اس سے صدی کا ختم ہونا مراد لے رہے تھے۔ یعنی یہ زمانہ سو برس میں گزر جائے گا۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان سننے میں غلطی کھا گئے حتیٰ کہ جن احادیث میں سو سال کا ذکر ہے، اس سے کچھ اور سمجھنے لگے یعنی سو برس بعد قیامت آجائے گی، حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ مراد نہیں تھی۔ بلکہ مقصد یہ تھا کہ جو آدمی آج اس زمین پر موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ آپ اس سے صدی کا ختم ہونا مراد لے رہے تھے۔ یعنی یہ زمانہ سو برس میں گزر جائے گا۔
(۲۱۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی حَثْمَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعِشَائِ فِی آخِرِ حَیَاتِہِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ہَذِہِ فَإِنَّ عَلَی رَأْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ مِنْہَا لاَ یَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ الْیَوْمَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ))۔
قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: فَوَہِلَ النَّاسُ فِی مَقَالَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی مَا یَتَحَدَّثُونَ مِنْ ہَذِہِ الأَحَادِیثِ عَنْ مِائَۃِ سَنَۃٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ الْیَوْمَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ)) ۔ یُرِیدُ بِذَلِکَ أَنَّہَا تَخْرِمُ ذَلِکَ الْقَرْنَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۶]
قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: فَوَہِلَ النَّاسُ فِی مَقَالَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی مَا یَتَحَدَّثُونَ مِنْ ہَذِہِ الأَحَادِیثِ عَنْ مِائَۃِ سَنَۃٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ الْیَوْمَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ)) ۔ یُرِیدُ بِذَلِکَ أَنَّہَا تَخْرِمُ ذَلِکَ الْقَرْنَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۶]
তাহকীক: