আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২০৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢٠٩٤) عثمان بن سعید دارمی فرماتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی کو اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا جو سفیان زہری سے ، وہ سالم سے اور سالم اپنے والد سے اور وہ رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ جس کی عصر کی نماز فوت ہوجائے وہ ایسا ہے گویا اس کے گھر والے اور مال ومتاع کو لوٹ لیا گیا ہو۔

(ب) علی کہتے ہیں : میں نے سفیان سے کہا کہ ابن ابی ذئب اس حدیث کی سند نوفل بن معاویہ سے بیان کرتا ہے کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا۔ پھر کہتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، میرے دل نے اسے سمجھا اور میں نے یاد کیا، جس طرح آپ یہاں سالم عن ابیہ والی روایت بیان کرتے ہیں۔
(۲۰۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ الدَّارِمِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ الْمَدِینِیِّ یَقُولُ فِی حَدِیثِ سُفْیَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((مَنْ فَاتَہُ الْعَصْرُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔

قَالَ عَلِیٌّ قُلْتُ لِسُفْیَانَ: فَإِنَّ ابْنَ أَبِی ذِئْبٍ یُسْنِدُہُ عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ سَمِعَ النَّبِیَّ -ﷺ-۔ فَقَالَ: سَمِعْتُہُ مِنْہُ وَوَعَاہُ قَلْبِی وَحَفِظْتُہُ کَمَا أَنَّکَ ہَا ہُنَا عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ سُفْیَانَ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ کَذَلِکَ۔ (ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَعْمَرٌ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢٠٩٥) (ا) نوفل بن معاویہ دیلمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی کی نماز فوت ہوجائے وہ ایسا ہے گویا اس کا گھر بار لٹ گیا ہو۔ ابن شہاب کہتے ہیں : میں نے کہا : اے ابوبکر ! کیا آپ جانتے ہیں وہ کون سی نماز ہے ؟ تو ابن شہاب کہنے لگے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی کی عصر کی نماز فوت ہوجائے گویا اس کا گھر بار (مال و اولاد) لوٹ لیا گیا ہو۔

(ب) زہری کہتے ہیں : میں نے یہ سالم سے ذکر کیا تو انھوں نے کہا : میرے باپ نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے عصر کی نماز چھوڑی۔۔۔

(ج) حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث اسی طرح ہے ، یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتنوں کے بارے میں روایت ہے مگر ابوبکر نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ایک نماز ایسی ہے جو اس کو فوت کر دے وہ ایسا ہے گویا اس کا گھر بار لٹ گیا ہو۔
(۲۰۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الدِّیلِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ فَاتَتْہُ الصَّلاَۃُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَقُلْتُ: یَا أَبَا بَکْرٍ أَتَدْرِی أَیَّۃُ صَلاَۃٍ ہِیَ؟ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: إِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ فَاتَتْہُ صَلاَۃُ الْعَصْرِ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔

وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَقَالَ فِی آخِرِہِ قَالَ الزُّہْرِیُّ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِسَالِمٍ فَقَالَ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ))۔

وَقَدْ رَوَی صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُطِیعِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ مِثْلَ حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَعْنِی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْفِتَنِ إِلاَّ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ یَزِیدُ فِیہِ: ((وَمِنَ الصَّلاَۃِ صَلاَۃٌ مَنْ فَاتَتْہُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔ وَہُوَ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ وَالْحَدِیثُ مَحْفُوظٌ عَنْہُمَا جَمِیعًا۔ وَرَوَاہُ عِرَاکُ بْنُ مَالِکٍ عَنْہُمَا مَعًا نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ إِمَّا بَلاَغًا أَوْ سَمَاعًا۔ [اخرجہ احمدہ ۵/۴۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢٠٩٦) ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی طرف خط لکھا کہ ” عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھو جب سورج سفید اور روشن ہو اور پیدل چلنے والا تین فرسخ کا سفر طے کرلے اور عشا کی نماز تہائی رات کو پڑھو۔ اگر موخر کرو تو آدھی رات تک موخر کرلینا لیکن غافلوں میں سے نہ ہونا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ہمیں مالک نے عبداللہ بن عمر (رض) کے آزاد کردہ غلام نافع کے واسطے سے حدیث بیان کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ تمہارے معاملات اور امور میں سے سب سے اہم فریضہ میرے نزدیک نماز ہے۔ جس نے اس پر محافظت کی تو اس نے اپنا دین بچا لیا اور جس نے اس کو ضائع کیا تو وہ اس کے علاوہ دوسرے امور کو زیادہ ضائع کرنے والا ہے۔ پھر لکھا کہ ظہر کی نماز کو اس وقت ادا کرو جب سایہ ایک بازو سے ایک مثل تک ہو اور عصر کا وقت اس وقت ہے جب سورج بالکل سفید چمک رہا ہو (غروب آفتاب میں اتنا فاصلہ ہو کہ آدمی دو یا تین فرسخ طے کرلے) اور مغرب کا وقت جب سورج غروب ہو اور عشا کا وقت سفیدی غائب ہونے سے تہائی رات تک ہے، (یعنی ان اوقات میں نمازوں کو ادا کرلیا کرو) اور جو سو جائے تو اس کی آنکھ نہ سوئے۔ تین بار فرمایا اور صبح کی نماز ایسے وقت میں ادا کرو کہ ستارے ابھی ظاہر ہوں اور جو سو جائے اس آنکھ نہ سونے پائے۔
(۲۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: أَنْ صَلِّ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ قَدْرَ مَا یَسِیرُ الرَّاکِبُ ثَلاَثَۃَ فَرَاسِخَ ، وَأَنْ صَلِّ الْعَتَمَۃَ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ ثُلُثِ اللَّیْلِ ، فَإِنْ أَخَّرْتَ فَإِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ وَلاَ تَکُنْ مِنَ الْغَافِلِینَ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی عُمَّالِہِ: إِنَّ أَہَمَّ أَمْرِکُمْ عِنْدِی الصَّلاَۃُ ، مَنْ حَفِظَہَا أَوْ حَافَظَ عَلَیْہَا حَفِظَ دِینَہُ ، وَمَنْ ضَیَّعَہَا فَہُوَ لِمَا سِوَاہَا أَضْیَعُ ، ثُمَّ کَتَبَ: أَنْ صَلُّوا الظُّہْرَ إِذَا کَانَ الْفَیْئُ ذِرَاعًا إِلَی أَنْ یَکُونَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ قَدْرَ مَا یَسِیرُ الرَّاکِبُ فَرْسَخَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃً وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَائَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ ، فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ ، فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ ، وَالصُّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِیَۃٌ مُشْتَبِکَۃٌ ، فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ مالک ۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢٠٩٧) زیاد بن لاحق سے روایت ہے کہ مجھے تمیمہ بنت سلمہ نے بتلایا کہ وہ اہل کوفہ کی عورتوں کے ہمراہ سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ ہم نے عرض کیا : اے ام المومنین ! ہم آپ سے اوقات نماز کے بارے پوچھنا چاہتی ہیں۔ آپ نے فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ ہم بیٹھ گئیں۔ جب دوپہر کا وقت ہوا تو سیدہ عائشہ (رض) کھڑی ہوئیں۔ انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔ وہ ہماری صف کے درمیان کھڑی ہوئیں۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئیں تو میں نے عرض کیا : اے ام المومنین ! ہمارے ہاں اس وقت کو دوپہر کہتے ہیں تو انھوں نے فرمایا کہ یہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز ہے۔ پھر ہم بیٹھ گئیں، پھر جب سہ پہر کا وقت ہوا تو انھوں نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔ ہم نے کہا : اے ام المومنین ! ہمارے شہروں میں اس وقت کو سہ پہر کہتے ہیں۔ وہ فرمانے لگیں : یہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز ہے اور ہم سورج زرد ہونے کے بعد نماز نہیں پڑھتے۔ ہم پھر بیٹھ گئیں۔ اگر عائشہ (رض) کے علاوہ کوئی اور ہوتیں تو شاید ہم یقین کرلیتیں کہ وہ مغرب کی نماز غروب آفتاب سے پہلے ہی پڑھا دیں گی۔ لیکن ہمیں معلوم ہوگیا کہ حضرت عائشہ (رض) نے اسی وقت نماز پڑھی جب وقت ہوا ( غروب آفتاب کے بعد) اور مغرب میں قرا ئت بھی جہری کی۔

ان سے اہل شام کی کچھ عورتوں نے (اندر آنے کی) اجازت طلب کی تو عائشہ (رض) نے فرمایا : ان کبوتروں والیوں کو اجازت نہ دینا۔
(۲۰۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ لاَحِقٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی تَمِیمَۃُ بِنْتُ سَلَمَۃَ: أَنَّہَا أَتَتْ عَائِشَۃَ فِی نِسْوَۃٍ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ فَقُلْنَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ نَسْأَلُکِ عَنْ مَوَاقِیتِ الصَّلَوَاتِ۔ قَالَتِ: اجْلِسْنَ فَجَلَسْنَا ، فَلَمَّا کَانَتِ السَّاعَۃُ الَّتِی تَدْعُونَہَا نِصْفَ النَّہَارِ قَامَتْ ، فَصَلَّتْ بِنَا وَہِیَ قَائِمَۃٌ وَسَطَنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ قُلْتُ لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّا نَدْعُو ہَذِہِ فِی بِلاَدِنَا نِصْفَ النَّہَارِ۔ قَالَتْ: ہَذِہِ صَلاَتُنَا آلَ مُحَمَّدٍ -ﷺ- ثُمَّ جَلَسْنَا ، فَلَمَّا کَانَتِ السَّاعَۃُ الَّتِی تَدْعُونَہَا بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ صَلَّتْ بِنَا الْعَصْرَ ، فَقُلْنَا لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّا نَدْعُو ہَذِہِ فِی بِلاَدِنَا بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ۔ قَالَتْ: ہَذِہِ صَلاَتُنَا آلَ مُحَمَّدٍ -ﷺ- إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لاَ نُصَلِّی الصَّفْرَائَ ۔ قَالَتْ: ثُمَّ جَلَسْنَا ، فَلَوْ کَانَ غَیْرُ عَائِشَۃَ لَظَنَنَّا أَنَّہَا قَدْ صَلَّتِ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنَ تَجِبَ ، وَلَکِنْ قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ عَائِشَۃَ لاَ تُصَلِّی إِلاَّ عِنْدَ الْوَقْتِ حِینَ وَجَبَتْ ، وَجَہَرَتْ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی الْمَغْرِبِ ، وَاسْتَأْذَنَ عَلَیْہَا نِسْوَۃٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ فَقَالَتْ: لاَ تَأْذَنِی لَہُنَّ صَوَاحِبَ الْحَمَّامَاتِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٩٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس دو بار امامت کروائی “۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی کہ ہر نماز کو دو وقتوں میں ادا کیا (پہلا اور آخری وقت) اور مغرب کے بارے میں دونوں دن ایک ہی وقت بتایا اور فرمایا :ــ مجھے مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جس وقت روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے۔
(۲۰۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ عَنْ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَیْفٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَّنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ))۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ کُلَّ صَلاَۃٍ فِی وَقْتَیْنِ وَقَالَ فِی الْمَغْرِبِ فِی الْیَوْمَیْنِ جَمِیعًا: ((وَصَلَّی بِی الْمَغْرِبَ حِینَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ))۔ [حسن معنی تخریجہ مضی فی الحدیث ۱۷۰۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٩٩) سیدنا سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہوجاتا اور پردہ کے پیچھے چھپ جاتا۔
(۲۰۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ ابْنُ ابْنَۃِ یَحْیَی بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ یَعْنِی ابْنَ إِسْمَاعِیلَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ۔

لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی صَالِحٍ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَکِّیِّ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔

[صحیح فی الحدیث ۱۷۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢١٠٠) مجھے رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ ہم مغرب کی نماز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑھتے تھے۔ جب ہم میں سے کوئی نماز سے فارغ ہو کر واپس ہوتا تو (ابھی اتنی روشنی باقی ہوتی تھی کہ) تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ لیتا۔
(۲۱۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ حَدَّثَنِی جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا شُعَیْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو النَّجَاشِیِّ حَدَّثَنِی رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْمَغْرِبَ فَیَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَہُوَ یَرَی مَوَاضِعَ نَبْلِہِ۔

لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی صَالِحٍ رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔ [صحیح۔ مضٰی تخریجہ فی الحدیث ۱۷۲۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢١٠١) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز مغرب ادا کرتے تھے، پھر ہم تیر اندازی کرتے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ (بآسانی) دیکھ لیتا۔
(۲۱۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِیُّ بِخُسْرَوْ جِرْدَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ نَرْمِی فَیَرَی أَحَدُنَا مَوْضِعَ سَہْمِہِ۔

غَرِیبٌ بِہَذَا الإِسْنَادِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢١٠٢) (ا) ولید بن عبداللہ بن ابو سمیرہ سے روایت ہے کہ مجھے ابو طریف (رض) نے حدیث بیان کی کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس وقت حاضر تھے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل طائف کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں مغرب کی نماز ایسے وقت میں پڑھاتے تھے کہ اگر کوئی آدمی تیر پھینکتا تو تیروں کے گرنے کی جگہ بھی دیکھ لیتا تھا۔

(ب) صلوۃ البصر سے انھوں نے نماز مغرب کو مراد لیا ہے اور اس کا نام صلوۃ البصر اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ رات کی تاریکی سے پہلے ادا کی جاتی ہے۔
(۲۱۰۲) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی سُمَیْرَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو طَرِیفٍ: أَنَّہُ کَانَ شَاہِدَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ مُحَاصِرٌ لأَہْلِ الطَّائِفِ قَالَ فَکَانَ یُصَلِّی بِنَا صَلاَۃَ الْبَصَرِ حَتَّی لَوْ أَنَّ إِنْسَانًا رَمَی بِنَبْلِہِ أَبْصَرَ مَوَاقِعَ نَبْلِہِ۔

شَکَّ أَبُو جَعْفَرٍ الْحُلْوَانِیُّ فِی بَعْضِ أَلْفَاظِہِ وَالْحَدِیثُ مَحْفُوظٌ عَنْ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ بِشْرٍ بِہَذَا اللَّفْظِ۔

وَصَلاَۃُ الْبَصَرِ أَرَادَ بِہَا صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ وَإِنَّمَا سُمِّیتْ صَلاَۃَ الْبَصَرِ لأَنَّہَا تُؤَدَّی قَبْلَ ظُلْمَۃِ اللَّیْلِ۔

[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۳/۴۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢١٠٣) ابو طریف ہذلی (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ طائف کے قلعہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں مغرب کی نماز (ایسے وقت میں) پڑھاتے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے تیروں کے گرنے کی جگہ (بآسانی) دیکھ لیتا۔
(۲۱۰۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْکُدَیْمِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَقِیلٍ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ أَبِی سُمَیْرَۃَ عَنْ أَبِی طَرِیفٍ الْہُذَلِیِّ قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حِصْنَ الطَّائِفِ فَکَانَ یُصَلِّی بِنَا صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ وَأَحَدُنَا یَرَی مَوَاقِعَ نَبْلِہِ۔صحیح لغیرہ، احمد [۳/۴۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢١٠٤) ابو عطیہ وداعی سے روایت ہے کہ میں مسروق کے ہمراہ ام المومنین حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مسروق نے ام المومنین سے عرض کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے دو آدمی ایسے ہیں جنہوں نے خیر (حاصل کرنے میں) میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ ان میں سے ایک مغرب جلدی ادا کرتا تھا اور افطار بھی جلدی کرتا تھا اور دوسرا مغرب کو بھی تاخیر سے ادا کرتا تھا اور افطار بھی دیر کرتا تھا۔ سیدہ عائشہ (رض) فرمانے لگیں : ان میں سے مغرب جلدی ادا کرنے والا اور افطار میں جلدی کرنے والا کون تھا ؟ انھوں نے عرض کیا : حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) ۔ عائشہ (رض) نے فرمایا : اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے۔
(۲۱۰۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّائُ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدِینِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ أَخْبَرَنِی الأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ الْوَادِعِیِّ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ عَلَی عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ فَقَالَ لَہَا مَسْرُوقٌ: رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- کِلاَہُمَا لاَ یَأْلُو عَنِ الْخَیْرِ ، أَحَدُہُمَا یُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَیُعَجِّلُ الإِفْطَارَ ، وَالآخَرُ یُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَیُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ۔ قَالَتْ: أَیُّہُمَا الَّذِی یُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَیُعَجِّلُ الإِفْطَارَ؟ قَالَ: ابْنُ مَسْعُودٍ۔ قَالَتْ: ہَکَذَا کَانَ یَصْنَعُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۱۰۹۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢١٠٥) سیدنا ابوبردہ (رض) سے روایت ہے کہ میں جبان سے آ رہا تھا۔ جب میں جعفی مقام سے گزرا تو میں نے کہہ دیا : اب سورج نے مغرب کی نماز واجب کردی ہے۔ میں سوید بن غفلہ کی مسجد کے پاس سے گزرا تو میں نے ان سے پوچھا : کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ! میں نے کہا : تم نے تو نماز جلدی ادا کردی۔ وہ کہنے لگے : عمر بن خطاب (رض) بھی اسی وقت نماز ادا کیا کرتے تھے۔
(۲۱۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنَ الْجَبَّانِ فَمَرَرْتُ فِی جُعْفِیٍّ وَأَنَا أَقُولُ: الآنَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، فَمَرَرْتُ بِسُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ عِنْدَ مَسْجِدِہِمْ فَقُلْتُ: أَصَلَّیْتُمْ؟ فَقَالَ: نَعَمْ۔ فَقُلْتُ: مَا أَرَاکُمْ إِلاَّ قَدْ عَجَّلْتُمْ۔ قَالَ: کَذَلِکَ کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یُصَلِّیہَا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢١٠٦) ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھے حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے خبر دی کہ عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان (رض) دونوں جب رات کی سیاہی دیکھتے تو مغرب کی نماز ادا کرلیتے یعنی روزہ افطار کرنے سے پہلے۔ پھر نماز کے بعد روزہ افطار کرتے تھے۔
(۲۱۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانَا یُصَلِّیَانِ صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ حِینَ یَنْظُرَانِ إِلَی اللَّیْلِ الأَسْوَدِ قَبْلَ أَنْ یُفْطِرَا ، ثُمَّ یُفْطِرَانِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۶۳۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢١٠٧) اسود سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) غروب آفتاب کے وقت نماز مغرب ادا کرتے تھے اور کہتے تھے : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! یہ اس نماز کا (اصلی) وقت ہے۔
(۲۱۰۷) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ: کَانَ عَبْدُ اللَّہِ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ حِینَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، وَقَالَ: ہَذَا وَالَّذِی لاَ إِلَہَ غَیْرُہُ وَقْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الحاکم ۲/۳۹۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کو تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٠٨) سائب بن یزید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت ہمیشہ فطرت (سلیمہ) پر ہی رہے گی۔ جب تک یہ مغرب کی نماز ستاروں کے نکلنے سے پہلے ادا کرتی رہے گی۔
(۲۱۰۸) حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ إِمْلاَئً فِی جَامِعِ الْمَنْصُورِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی ہَارُونُ یَعْنِی ابْنَ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ وَسَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ ہَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الأَسْوَدِ الْقُرَشِیُّ أَنَّ یَزِیدَ بْنَ خُصَیْفَۃَ حَدَّثَہُ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ تَزَالُ أُمَّتِی عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا صَلُّوا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوعِ النُّجُومِ))۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۳/۴۴۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کو تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١٠٩) (ا) حضرت عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت اس وقت تک فطرت (سلیمہ) پر قائم رہے گی جب تک مغرب کو ستاروں کے ظاہر ہونے تک موخر نہیں کرے گی۔

(ب) ہم نے پیچھے ابوایوب انصاری (رض) کی حدیث روایت کی ہے اور یہ حضرت علی (رض) اور انس بن مالک (رض) کی حدیث ہے۔ ان لوگوں نے اس سے دلیل پکڑی ہے جو مغرب کو تاخیر سے ادا کرتے ہیں۔
(۲۱۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی الْفَرَّائُ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ تَزَالُ أُمَّتِی عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا لَمْ یُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّی تَشْتَبِکَ النُّجُومُ))۔

وَقَدْ رُوِّینَا فِیمَا مَضَی مِنْ حَدِیثِ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ وَرُوِیَ ذَلِکَ مِنْ حَدِیثِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ وَاحْتَجَّ بَعْضُ مَنْ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ بِمَا۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۴۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کو تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢١١٠) (ا) حضرت ابو بصرہ غفاری سے روایت ہے کہ ہمیں مخمص مقام پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ نماز (عصر) تم سے پہلے والی امتوں پر بھی پیش کی گئی تھی لیکن انھوں نے اس کو ضائع کردیا۔ لہٰذا جس نے اس پر محافظت کی اس کو دوہرا اجر دیا جائے گا اور اس کے بعد شاہد ستارہ طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں۔

(ب) ابن بکیر کہتے ہیں : میں نے لیث سے شاہد کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : وہ ایک ستارہ ہے۔

(ج) اس حدیث کی وجہ سے صحیح اور مشہور احادیث کو چھوڑنا جائز نہیں۔ اس سے مغرب کے وقت کا بیان مقصود نہیں ہے، بلکہ یہاں عصر کے بعد نوافل کی نفی مراد ہے۔
(۲۱۱۰) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ حَدَّثَنِی خَیْرُ بْنُ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیُّ عَنِ ابْنِ ہُبَیْرَۃَ السَّبَائِیِّ عَنْ أَبِی تَمِیمٍ الْجَیْشَانِیِّ عَنْ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ: ((إِنَّ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ عُرِضَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَضَیَّعُوہَا ، فَمَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا أُوتِیَ أَجْرَہُ مَرَّتَیْنِ ، وَلاَ صَلاَۃَ بَعْدَہَا حَتَّی یَطْلُعَ الشَّاہِدُ))۔

قَالَ ابْنُ بُکَیْرٍ: سَأَلْتُ اللَّیْثَ عَنِ الشَّاہِدِ فَقَالَ: ہُوَ النَّجْمُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ۔

وَلاَ یَجُوزُ تَرْکُ الأَحَادِیثِ الصَّحِیحَۃِ الْمَشْہُورَۃِ بِہَذَا ، وَإِنَّمَا الْمَقْصُودُ بِہَذَا نَفْیُ التَّطَوُّعِ بَعْدَہَا لاَ بَیَانُ وَقْتِ الْمَغْرِبَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۲۹۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز جلدی ادا کرنے والے قائلین کا بیان
(٢١١١) (ا) حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ عشا کی نماز کا وقت کب ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کی نماز تہائی رات کا چاند ڈوب جانے پر ادا فرماتے تھے۔

(ب) وہ تمام روایات جو عموماً نمازوں کو جلدی ادا کرنے کے بارے میں ہیں ان کا ذکر گذر چکا۔
(۲۱۱۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ بَشِیرِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرِ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ الصَّلاَۃِ صَلاَۃِ الْعِشَائِ ، کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّیہَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَۃٍ۔

وَسَائِرُ مَا رُوِیَ فِی التَّعْجِیلِ بِالصَّلَوَاتِ عَلَی الْعُمُومِ قَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ الترمذی ۱۶۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز جلدی ادا کرنے والے قائلین کا بیان
(٢١١٢) (ا) حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٩ راتوں تک عشا کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! اگر آپ اس نماز کو جلدی پڑھا دیا کریں تو ہم زیادہ دیر قیام کرسکتے ہیں۔

(ب) ابن منادی کی روایت میں امکن لقیامنا کی جگہ امثل لقیامنا کے الفاظ ہیں کہ رات کا قیام ہمارے لیے زیادہ آسان ہوتا۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلدی نماز پڑھاتے تھے۔
(۲۱۱۲) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عِبَادَۃَ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُونَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الطَّابَرَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا رَوْحُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْعِشَائَ تِسْعَ لَیَالٍ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: یَا رَسُولَ اللَّہِ لَوْ أَنَّکَ عَجَّلْتَ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ لَکَانَ أَمْکَنَ لِقَائِمِنَا۔

وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ الْمُنَادِی لَکَانَ أَمْثَلَ لِقِیَامِنَا مِنَ اللَّیْلِ فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِکَ۔ تَفَرَّدَ بِہِ عَلِیُّ بْنُ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ۔ (ج) وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۵/ ۴۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کے جمع ہوجانے پر عشا جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢١١٣) محمد بن عمرو سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت جابر (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے وقت کے بارے پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز دوپہر کو ادا کرتے تھے اور عصر جب سورج ابھی روشن ہوتا اور مغرب جب سورج غروب ہوجاتا اور عشا کی نماز جب لوگ زیادہ ہوجاتے تو جلدی پڑھا دیتے اور جب لوگ کم ہوتے تو تاخیر سے پڑھتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں ادا فرماتے تھے۔
(۲۱۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرًا عَنْ وَقْتِ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَاجِرَۃِ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَائَ إِذَا کَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [مضٰی تخریجہ فی الحدیث ۲۰۴۴]
tahqiq

তাহকীক: