আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ২০৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٧٤) حضرت انس بن مالک (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز (ایسے وقت میں) پڑھاتے تھے کہ سورج اچھا خاصا بلند ہوتا (یعنی اس کی سفیدی باقی ہوتی) اور کوئی جانے والا مدینہ کے بالائی حصے میں بھی چلا جاتا پھر بھی آفتاب بلند ہوتا اور مدینہ کا بالائی علاقہ مدینہ سے تین یا چار میل کی مسافت پر ہے۔
(ب) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں کہ لیث نے یونس کے واسطے سے یہ اضافہ کیا ہے کہ بالائی مدینہ کی مسافت تین یا چار میل کی ہے۔
(ب) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں کہ لیث نے یونس کے واسطے سے یہ اضافہ کیا ہے کہ بالائی مدینہ کی مسافت تین یا چار میل کی ہے۔
(۲۰۷۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ نَظِیفٍ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَرُوفٍ أَبُو کَامِلٍ الْمَدِینِیُّ إِمْلاَئً بِمِصْرَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُکَیْرٍ الْحَمْرَاوِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ کَاتِبُ اللَّیْثِ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یُونُسَ أَخْبَرَنِی ابْنُ شِہَابٍ
أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی صَلاَۃَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ حَیَّۃٌ ، فَیَذْہَبُ الذَّاہِبُ إِلَی الْعَوَالِی وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، وَبُعْدُ الْعَوَالِی مِنَ الْمَدِینَۃِ عَلَی أَرْبَعَۃِ أَمْیَالٍ أَوْ ثَلاَثَۃٍ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ: زَادَ اللَّیْثُ عَنْ یُونُسَ: وَبُعْدُ الْعَوَالِی أَرْبَعَۃُ أَمْیَالٍ أَوْ ثَلاَثَۃٌ۔
[حسن لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی فی مسند الشایین ۶۷]
أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی صَلاَۃَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ حَیَّۃٌ ، فَیَذْہَبُ الذَّاہِبُ إِلَی الْعَوَالِی وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، وَبُعْدُ الْعَوَالِی مِنَ الْمَدِینَۃِ عَلَی أَرْبَعَۃِ أَمْیَالٍ أَوْ ثَلاَثَۃٍ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ: زَادَ اللَّیْثُ عَنْ یُونُسَ: وَبُعْدُ الْعَوَالِی أَرْبَعَۃُ أَمْیَالٍ أَوْ ثَلاَثَۃٌ۔
[حسن لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی فی مسند الشایین ۶۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٧٥) (ا) زہری سے روایت ہے کہ مجھے حضرت انس بن مالک (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز سورج کے بلند اور روشن ہوتے ہوئے ادا فرماتے تھے اور جانے والا بالائی مدینہ چلا جاتا اور (ابھی) سورج اونچا ہوتا تھا اور بالائی حصے کی مسافت مدینہ سے چار میل ہے۔
(ب) امام بخاری (رح) نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں ابویمان سے روایت نقل کی اور فرمایا کہ بالائی مدینہ، شہر سے کم و بیش چار میل کی مسافت پر ہے۔
(ب) امام بخاری (رح) نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں ابویمان سے روایت نقل کی اور فرمایا کہ بالائی مدینہ، شہر سے کم و بیش چار میل کی مسافت پر ہے۔
(۲۰۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی صَلاَۃَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ حَیَّۃٌ ، فَیَذْہَبُ الذَّاہِبُ إِلَی الْعَوَالِی فَیَأْتِیہَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، وَبُعْدُ الْعَوَالِی مِنَ الْمَدِینَۃِ عَلَی أَرْبَعَۃِ أَمْیَالٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَقَالَ: وَبَعْضُ الْعَوَالِی مِنَ الْمَدِینَۃِ عَلَی أَرْبَعَۃِ أَمْیَالٍ أَوْ نَحْوِہِ۔ وَہَذَا مِنْ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ ذَکَرَہُ مَعْمَرٌ عَنْہُ مِنْ قَوْلِہِ۔ [اخرجہ البخاری ۵۲۵]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَقَالَ: وَبَعْضُ الْعَوَالِی مِنَ الْمَدِینَۃِ عَلَی أَرْبَعَۃِ أَمْیَالٍ أَوْ نَحْوِہِ۔ وَہَذَا مِنْ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ ذَکَرَہُ مَعْمَرٌ عَنْہُ مِنْ قَوْلِہِ۔ [اخرجہ البخاری ۵۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٧٦) (ا) زہری فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت انس بن مالک (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھاتے تھے اور کوئی جانے والا بالائی مدینہ تک پہنچ جاتا اور سورج ابھی روشن ہوتا۔
(ب) امام زہری فرماتے ہیں کہ بالائی مدینہ کا فاصلہ مدینہ سے دو میل یا تین میل ہے اور میرا خیال ہے کہ انھوں نے چار میل فرمایا۔
(ب) امام زہری فرماتے ہیں کہ بالائی مدینہ کا فاصلہ مدینہ سے دو میل یا تین میل ہے اور میرا خیال ہے کہ انھوں نے چار میل فرمایا۔
(۲۰۷۶) أَخْبَرَنَا بِصِحَّۃِ ذَلِکَ أَبُو صَالِحٍ ابْنُ ابْنَۃِ یَحْیَی بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ فَیَذْہَبُ الذَّاہِبُ إِلَی الْعَوَالِی وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ۔
قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَالْعَوَالِی مِنَ الْمَدِینَۃِ عَلَی مِیلَیْنِ وَثَلاَثَۃٍ وَأَحْسِبُہُ قَالَ وَأَرْبَعَۃٍ۔ [صحیح۔ ابوداود ۴۰۵]
قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَالْعَوَالِی مِنَ الْمَدِینَۃِ عَلَی مِیلَیْنِ وَثَلاَثَۃٍ وَأَحْسِبُہُ قَالَ وَأَرْبَعَۃٍ۔ [صحیح۔ ابوداود ۴۰۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٧٧) حضرت منصور فرماتے ہیں کہ ہم نے خیثمہ سے سورج کے زندہ ہونے سے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ سورج کی گرمی کا محسوس ہونا اس کا زندہ ہونا ہے۔
(۲۰۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ حَدَّثَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: تَذَاکَرْنَا عِنْدَ خَیْثَمَۃَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ حَیَّۃٌ فَقَالَ: حَیَاتُہَا أَنْ تَجِدَ حَرَّہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۴۰۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٧٨) حضرت ابو مسعود (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا۔ آپ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔ البتہ کبھی کبھار سخت گرمی میں تھوڑا مؤخر بھی کرلیا کرتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل واضح ہوتا، (یعنی اس کی تپش موجود ہوتی تھی) ۔ آدمی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ذوالحلیفہ تک غروبِ آفتاب سے پہلے پہنچ جاتا جب کہ وہ مدینہ سے چھ میل کی مسافت پر ہے۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
(۲۰۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی بَشِیرُ بْنُ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی الظُّہْرَ حِینَ زَاغَتِ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَہَا فِی شِدَّۃِ الْحَرِّ وَالْعَصْرُ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، یَسِیرُ الرَّجُلُ حِینَ یَنْصَرِفُ مِنْہَا إِلَی ذِی الْحُلَیْفَۃِ سِتَّۃَ أَمْیَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٧٩) (ا) امام زہری سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عروہ بن زبیر (رح) کو عمر بن عبدالعزیز کے دور خلافت میں ان سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔ جب کہ عمر بن العزیز اس زمانے میں عصر کی نماز موخر کر کے پڑھا کرتے تھے۔ عروہ نے ان سے کہا : ایک دن مغیرہ بن شعبہ (رض) نے عصر کی نماز موخر کر کے ادا کی جب کہ وہ کوفہ کے امیر تھے۔ ان کے پاس ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری (رض) جو زید بن حسن کے نانا تھے اور بدری صحابی تھے، تشریف لائے۔ فرمانے لگے : مغیرہ ! یہ کیا ماجرا ہے ؟ اللہ کی قسم ! آپ جانتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے تھے اور انھوں نے نماز پڑھی، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی نماز پڑھی۔ انھوں نے پھر نماز پڑھی اور آقا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی پانچ نمازیں ادا کیں۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) کہنے لگے : مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے۔ جب عروہ بن زبیر (رح) نے عمر (رض) کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو عمر پریشان ہوگئے اور کہنے لگے : اے عروہ ! غور کرو ! جو تم بیان کرتے ہو کیا واقعی یقیناً جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کے لیے نماز کے اوقات مقرر کیے تھے ؟ عروہ نے کہا : ہاں ! بشیر بن ابو مسعود بھی اپنے والد سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔
(ب) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھاتے تھے اور سورج (کی شعاعیں) ان کے حجرے میں ہوتی تھیں، یعنی سورج کا سایہ ظاہر ہونے سے پہلے۔ اس دن کے بعد عمر بن عبدالعزیز (رح) نماز کا وقت سورج کی اسی نشانی سے پہچانتے تھے حتیٰ کہ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔
(ب) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھاتے تھے اور سورج (کی شعاعیں) ان کے حجرے میں ہوتی تھیں، یعنی سورج کا سایہ ظاہر ہونے سے پہلے۔ اس دن کے بعد عمر بن عبدالعزیز (رح) نماز کا وقت سورج کی اسی نشانی سے پہچانتے تھے حتیٰ کہ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔
(۲۰۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْخُزَاعِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْیَمَانِ: الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ الْحِمْصِیُّ فِی سَنَۃِ إِحْدَی وَعِشْرِینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنِی أَبُو بِشْرٍ: شُعَیْبُ بْنُ دِینَارٍ أَبِی حَمْزَۃَ الْقُرَشِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی إِمَارَتِہِ وَکَانَ عُمَرُ یُؤَخِّرَ الصَّلاَۃَ فِی ذَلِکَ الزَّمَانِ فَقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ: أَخَّرَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ یَوْمًا وَہُوَ أَمِیرُ الْکُوفَۃِ ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَبُو مَسْعُودٍ: عُقْبَۃُ بْنُ عَمْرٍو الأَنْصَارِیُّ وَہْوَ جَدُّ زَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ أَبُو أُمِّہِ وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا فَقَالَ: مَا ہَذَا یَا مُغِیرَۃُ؟ أَمَا وَاللَّہِ لَقَدْ عَلِمْتَ لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَصَلَّی فَصَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ- خَمْسَ صَلَوَاتٍ ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا أُمِرْتُ۔ فَفَزِعَ عُمَرُ حِینَ حَدَّثَہُ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ بِذَلِکَ وَقَالَ: اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ بِہِ یَا عُرْوَۃُ ، إِنَّ جِبْرِیلَ لَہُوَ أَقَامَ لَہُمْ وَقْتَ الصَّلاَۃِ؟ قَالَ عُرْوَۃُ: کَذَلِکَ کَانَ بَشِیرُ بْنُ أَبِی مَسْعُودٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ۔
قَالَ عُرْوَۃُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی صَلاَۃَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِی حُجْرَتِہَا قَبْلَ أَنْ تَظْہَرَ الشَّمْسُ ، فَلَمْ یَزَلْ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ مِنْ ذَلِکَ الْیَوْمِ یَتَعَلَّمُ وَقْتَ الصَّلاَۃِ بِعَلاَمَۃٍ حَتَّی فَارَقَ الدُّنْیَا۔ [صحیح]
قَالَ عُرْوَۃُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی صَلاَۃَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِی حُجْرَتِہَا قَبْلَ أَنْ تَظْہَرَ الشَّمْسُ ، فَلَمْ یَزَلْ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ مِنْ ذَلِکَ الْیَوْمِ یَتَعَلَّمُ وَقْتَ الصَّلاَۃِ بِعَلاَمَۃٍ حَتَّی فَارَقَ الدُّنْیَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٨٠) (ا) ابن شہاب سے روایت ہے کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز نے نماز تاخیر سے ادا کی، چنانچہ عروہ بن زبیر (رض) ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : مغیرہ بن شعبہ (رض) نے کوفہ میں ایک دن نماز موخر کی تھی تو ابو مسعود انصاری ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : مغیرہ ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے تھے اور انھوں نے نماز پڑھی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی نماز پڑھی تھی، اسی طرح مکمل حدیث ذکر کی۔
(ب) عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ (رض) نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ سورج ان (عائشہ ) کے حجرے میں ہوتا۔
(ج) یونس اور لیث امام زہری سے روایت کرتے ہیں کہ سورج ان کے حجرے میں ہوتا، یعنی ان کے حجرے سے سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
(د) ابن عیینہ امام زہری سے روایت کرتے ہیں کہ آفتاب میرے کمرے میں چمک رہا ہوتا اور سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
(ہ) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : سورج ان کے حجرے سے باہر نہیں نکلا ہوتا تھا، (یعنی حجرے میں دھوپ ہوتی تھی) ۔
(ن) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : ابواسامہ ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے گھر کے اندرونی حصہ میں (سورج کی شعاعیں ہوتی تھیں) ۔
(ب) عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ (رض) نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ سورج ان (عائشہ ) کے حجرے میں ہوتا۔
(ج) یونس اور لیث امام زہری سے روایت کرتے ہیں کہ سورج ان کے حجرے میں ہوتا، یعنی ان کے حجرے سے سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
(د) ابن عیینہ امام زہری سے روایت کرتے ہیں کہ آفتاب میرے کمرے میں چمک رہا ہوتا اور سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
(ہ) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : سورج ان کے حجرے سے باہر نہیں نکلا ہوتا تھا، (یعنی حجرے میں دھوپ ہوتی تھی) ۔
(ن) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : ابواسامہ ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے گھر کے اندرونی حصہ میں (سورج کی شعاعیں ہوتی تھیں) ۔
(۲۰۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ بْنِ قَعْنَبَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ یَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَیْہِ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ فَأَخْبَرَہُ أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ یَوْمًا وَہُوَ بِالْکُوفَۃِ فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیُّ فَقَالَ: مَا ہَذَا یَا مُغِیرَۃُ أَلَیْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ نَزَلَ فَصَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ۔
قَالَ عُرْوَۃُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِی حُجْرَتِہَا قَبْلَ أَنْ تَظْہَرَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَعَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔
وَقَالَ یُونُسُ وَاللَّیْثُ عَنِ الزُّہْرِیِّ: وَالشَّمْسُ فِی حُجْرَتِہَا لَمْ یَظْہَرِ الْفَیْئُ مِنْ حُجْرَتِہَا۔
وَقَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ: وَالشَّمْسُ طَالِعَۃٌ فِی حُجْرَتِی لَمْ یَظْہَرِ الْفَیْئُ بَعْدُ۔
وَقَالَ ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ: وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِہَا۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ: مِنْ قَعْرِ حُجْرَتِہَا۔ [صحیح]
قَالَ عُرْوَۃُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِی حُجْرَتِہَا قَبْلَ أَنْ تَظْہَرَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَعَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔
وَقَالَ یُونُسُ وَاللَّیْثُ عَنِ الزُّہْرِیِّ: وَالشَّمْسُ فِی حُجْرَتِہَا لَمْ یَظْہَرِ الْفَیْئُ مِنْ حُجْرَتِہَا۔
وَقَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ: وَالشَّمْسُ طَالِعَۃٌ فِی حُجْرَتِی لَمْ یَظْہَرِ الْفَیْئُ بَعْدُ۔
وَقَالَ ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ: وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِہَا۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ: مِنْ قَعْرِ حُجْرَتِہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٨١) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز ادا کر رہے ہوتے اور سورج کی شعاعیں میرے کمرے کے اندرونی کونے میں لگ رہی ہوتیں۔
(۲۰۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ نَاجِیَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِی قَعْرِ حُجْرَتِی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٨٢) (ا) ہشام بن عروہ نے ہمیں مکمل حدیث ذکر کی۔ نیز فرمایا : سورج روشن ہوتا، یعنی میرے حجرے میں چمک رہا ہوتا۔
(ب) امام شافعی مالک کی حدیث ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ اول وقت کے بارے میں جتنی روایات ہیں ان میں یہ روایت سب سے واضح ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواجِ مطہرات کے حجرے ایسے مقام پر تھے جو مدینہ کا نشیبی علاقہ تھا نہ کہ کسی وسیع و عریض اور بلند مقام پر، اسی وجہ سے سورج عصر کے ابتدائی وقت میں بلند معلوم ہوتا تھا۔
(ب) امام شافعی مالک کی حدیث ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ اول وقت کے بارے میں جتنی روایات ہیں ان میں یہ روایت سب سے واضح ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواجِ مطہرات کے حجرے ایسے مقام پر تھے جو مدینہ کا نشیبی علاقہ تھا نہ کہ کسی وسیع و عریض اور بلند مقام پر، اسی وجہ سے سورج عصر کے ابتدائی وقت میں بلند معلوم ہوتا تھا۔
(۲۰۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ حَدَّثَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ فَذَکَرَہُ وَقَالَ: وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ فِی قَعْرِ حُجْرَتِی طَالِعَۃً۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ عُقَیْبَ حَدِیثِ مَالِکٍ: وَہَذَا مِنْ أَبْیَنِ مَا رُوِیَ فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ لأَنَّ حُجَرَ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی مَوْضِعٍ مُنْخَفِضٍ مِنَ الْمَدِینَۃِ وَلَیْسَتْ بِالْوَاسِعَۃِ وَذَلِکَ أَقْرَبُ لَہَا مِنْ أَنْ تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ مِنْہَا فِی أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۰]
قَالَ الشَّافِعِیُّ عُقَیْبَ حَدِیثِ مَالِکٍ: وَہَذَا مِنْ أَبْیَنِ مَا رُوِیَ فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ لأَنَّ حُجَرَ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی مَوْضِعٍ مُنْخَفِضٍ مِنَ الْمَدِینَۃِ وَلَیْسَتْ بِالْوَاسِعَۃِ وَذَلِکَ أَقْرَبُ لَہَا مِنْ أَنْ تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ مِنْہَا فِی أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٨٣) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو بنی سلمہ قبیلے کا ایک شخص آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم اپنے لیے ایک اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ آپ بھی موجود ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھیک ہے۔ چنانچہ آپ چلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ (جب ہم پہنچے) تو ابھی اونٹ ذبح نہیں کیا گیا تھا۔ (ہمارے پہنچنے کے بعد) اونٹ ذبح کیا گیا۔ پھر اس کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا، پھر اس سے کچھ گوشت پکایا گیا اور ہم نے سورج غروب ہونے سے پہلے کھا بھی لیا۔
(۲۰۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ السَّرْحِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ أَنَّ مُوسَی بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ قَالَ: صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْعَصْرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا نُرِیدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا ، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَہَا۔ قَالَ: نَعَمْ۔ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَہُ ، فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ ، فَنُحِرَتْ ثُمَّ قُطِّعَتْ ثُمَّ طُبِخَ مِنْہَا ، ثُمَّ أَکَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِیبَ الشَّمْسُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۲۴]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٨٤) حضرت رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عصر کی نماز ادا کرتے، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا اور اس کو دس حصوں میں تقسیم کردیا جاتا۔ پھر اس کو پکایا جاتا اور ہم سورج غروب ہونے سے پہلے گوشت کھالیا کرتے تھے۔
(ب) رافع بن خدیج کی یہ روایت صحیح ہے اور وہ روایت درست نہیں جسے عبدالواحد یا عبدالحمید بن نافع یا نفیع کلابی نے ابن رافع بن خدیج سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز کو تاخیر کے ساتھ ادا کرنے کا حکم فرماتے تھے، کیونکہ اس راوی اور اس کے باپ کے نام میں اختلاف ہے۔
(ب) رافع بن خدیج کی یہ روایت صحیح ہے اور وہ روایت درست نہیں جسے عبدالواحد یا عبدالحمید بن نافع یا نفیع کلابی نے ابن رافع بن خدیج سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز کو تاخیر کے ساتھ ادا کرنے کا حکم فرماتے تھے، کیونکہ اس راوی اور اس کے باپ کے نام میں اختلاف ہے۔
(۲۰۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو النَّجَاشِیِّ حَدَّثَنِی رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعَصْرِ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ، ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْکُلُ لَحْمًا نَضِیجًا قَبْلَ أَنْ تَغِیبَ الشَّمْسُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ الرَّازِیِّ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔
وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ الصَّحِیحَۃُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ تَدُلُّ عَلَی خَطَإِ مَا رَوَاہُ عَبْدُ الْوَاحِدِ أَوْ عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ نَافِعٍ أَوْ نُفَیْعٍ الْکِلاَبِیُّ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَأْمُرْہُمْ بِتَأْخِیرِ الْعَصْرِ۔ وَہُوَ مُخْتَلَفٌ فِی اسْمِہِ وَاسْمِ أَبِیہِ وَاخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی اسْمِ ابْنِ رَافِعٍ فَقِیلَ فِیہِ عَبْدُ اللَّہِ وَقِیلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ: لاَ یُتَابَعُ عَلَیْہِ وَاحْتَجَّ عَلَی خَطَئِہِ بِحَدِیثِ أَبِی النَّجَاشِیِّ عَنْ رَافِعٍ۔ وَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْہُ: ہَذَا حَدِیثٌ ضَعِیفُ الإِسْنَادِ وَالصَّحِیحُ عَنْ رَافِعٍ وَغَیْرِہِ ضِدُّ ہَذَا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۳۵۳]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو النَّجَاشِیِّ حَدَّثَنِی رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعَصْرِ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ، ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْکُلُ لَحْمًا نَضِیجًا قَبْلَ أَنْ تَغِیبَ الشَّمْسُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ الرَّازِیِّ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔
وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ الصَّحِیحَۃُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ تَدُلُّ عَلَی خَطَإِ مَا رَوَاہُ عَبْدُ الْوَاحِدِ أَوْ عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ نَافِعٍ أَوْ نُفَیْعٍ الْکِلاَبِیُّ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَأْمُرْہُمْ بِتَأْخِیرِ الْعَصْرِ۔ وَہُوَ مُخْتَلَفٌ فِی اسْمِہِ وَاسْمِ أَبِیہِ وَاخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی اسْمِ ابْنِ رَافِعٍ فَقِیلَ فِیہِ عَبْدُ اللَّہِ وَقِیلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ: لاَ یُتَابَعُ عَلَیْہِ وَاحْتَجَّ عَلَی خَطَئِہِ بِحَدِیثِ أَبِی النَّجَاشِیِّ عَنْ رَافِعٍ۔ وَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْہُ: ہَذَا حَدِیثٌ ضَعِیفُ الإِسْنَادِ وَالصَّحِیحُ عَنْ رَافِعٍ وَغَیْرِہِ ضِدُّ ہَذَا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۳۵۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٨٥) (ا) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ہم عصر کی نماز ادا کرتے ، پھر ہم میں سے کوئی شخص قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے ہاں جاتا تو انھیں عصر کی نماز ادا کرتے ہوئے پاتا۔
(ب) قعنبی کی حدیث میں ثُمَّ یَخْرُجُ الإِنْسَانُ کی جگہ فَیَخْرُجُ الإِنْسَانُ ۔
(ب) قعنبی کی حدیث میں ثُمَّ یَخْرُجُ الإِنْسَانُ کی جگہ فَیَخْرُجُ الإِنْسَانُ ۔
(۲۰۸۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی الْعَصْرَ ثُمَّ یَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَیَجِدُہُمْ یُصَلُّونَ الْعَصْرَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَفِی حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ: فَیَخْرُجُ الإِنْسَانُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَفِی حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ: فَیَخْرُجُ الإِنْسَانُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٨٦) عثمان بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک (رض) نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز غروب آفتاب سے تقریباً اتنا پہلے ادا فرماتے تھے کہ اتنی دیر میں اونٹ کو ذبح کیا جائے، پھر ہم اس کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیں اور اتنا پہلے کہ غروب آفتاب سے پہلے آدمی بنی حارثہ بن حارث سے ہو کر آجائے۔
(۲۰۸۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْقَاسِمِ: عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِاللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا فُلَیْحُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ أَخْبَرَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا تُنْحَرُ الْجَزُورُ ثُمَّ نَعُضُّہَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ، وَقَدْرِ أَنْ یُذْہَبَ إِلَی بَنِی حَارِثَۃَ بْنِ الْحَارِثِ فَیَرْجِعَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابویعلی ۴۳۳۰]
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابویعلی ۴۳۳۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢٠٨٧) حضرت ابو امامہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی ، پھر ہم (مسجد سے) نکلے اور حضرت انس بن مالک (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ (رض) کو دیکھا کہ عصر کی نماز ادا کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا : (چچا جان ! ) یہ کونسی نماز ہے، جو آپ اس وقت ادا کر رہے ہیں ؟ کہنے لگے : یہ عصر کی نماز ہے اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔
(۲۰۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی مُزَاحِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ
سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ یَقُولُ: صَلَّیْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ الظُّہْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ فَوَجَدْنَاہُ یُصَلِّی الْعَصْرَ فَقُلْتُ: یَا عَمِّ ما ہَذِہِ الصَّلاَۃُ الَّتِی صَلَّیْتَ؟ قَالَ: الْعَصْرُ وَہَذِہِ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الَّتِی کُنَّا نُصَلِّی مَعَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِی مُزَاحِمٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۴]
سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ یَقُولُ: صَلَّیْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ الظُّہْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ فَوَجَدْنَاہُ یُصَلِّی الْعَصْرَ فَقُلْتُ: یَا عَمِّ ما ہَذِہِ الصَّلاَۃُ الَّتِی صَلَّیْتَ؟ قَالَ: الْعَصْرُ وَہَذِہِ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الَّتِی کُنَّا نُصَلِّی مَعَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِی مُزَاحِمٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢٠٨٨) علاء بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ وہ ظہر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت انس بن مالک (رض) کے گھر تشریف لے گئے۔ آپ (رض) کا گھر مسجد کے قریب ہی تھا۔ جب ہم ان کے پاس حاضر ہوئے تو انھوں نے پوچھا : کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر کی ادائیگی سے فارغ ہوئے ہیں۔ یہ سن کر آپ (رض) فرمانے لگے : چلو عصر کی نماز پڑھو۔ چنانچہ ہم کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز ادا کی۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو انس بن مالک (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ بیٹھا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو وہ کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں (سجدے) لگاتا ہے اور اس میں بھی اللہ کا ذکر کم ہی کرتا ہے۔
(۲۰۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ
(ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِی دَارِہِ بِالْبَصْرَۃِ حِینَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّہْرِ - قَالَ وَدَارُہُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ قَالَ - فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَیْہِ قَالَ: أَصَلَّیْتُمُ الْعَصْرَ؟ قُلْنَا: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَۃَ مِنَ الظُّہْرِ۔ قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ۔ قَالَ: فَقُمْنَا فَصَلَّیْنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: تِلْکَ صَلاَۃُ الْمُنَافِقِ ، یَجْلِسُ یَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّی إِذَا کَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ قَامَ فَنَقَرَہَا أَرْبَعًا ، لاَ یَذْکُرُ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ فِیہَا إِلاَّ قَلِیلاً ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی الرَّبِیعِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۲۲]
(ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِی دَارِہِ بِالْبَصْرَۃِ حِینَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّہْرِ - قَالَ وَدَارُہُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ قَالَ - فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَیْہِ قَالَ: أَصَلَّیْتُمُ الْعَصْرَ؟ قُلْنَا: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَۃَ مِنَ الظُّہْرِ۔ قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ۔ قَالَ: فَقُمْنَا فَصَلَّیْنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: تِلْکَ صَلاَۃُ الْمُنَافِقِ ، یَجْلِسُ یَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّی إِذَا کَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ قَامَ فَنَقَرَہَا أَرْبَعًا ، لاَ یَذْکُرُ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ فِیہَا إِلاَّ قَلِیلاً ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی الرَّبِیعِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢٠٨٩) علاء بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ہم ظہر کے بعد انس بن مالک (رض) کے پاس پہنچے تو وہ عصر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز جلدی ادا کرنے کا ذکر کیا یا انھوں نے خود ہی پوچھا۔ پھر فرمانے لگے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ منافقوں کی نماز ہے (تین بار فرمایا) ۔ ان میں سے کوئی بیٹھا (انتظار کرتا) رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج زرد ہوجاتا ہے اور وہ (سورج) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان یا شیطان کے دو سینگوں پر ہوتا ہے تو یہ اٹھ کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور ان میں بھی اللہ کا ذکر بہت کم کرتا ہے۔
(۲۰۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بَعْدَ الظُّہْرِ ، فَقَامَ یُصَلِّی الْعَصْرَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِہِ ذَکَرْنَا تَعْجِیلَ الصَّلاَۃِ أَوْ ذَکَرَہَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((تِلْکَ صَلاَۃُ الْمُنَافِقِینَ تِلْکَ صَلاَۃُ الْمُنَافِقِینَ تِلْکَ صَلاَۃُ الْمُنَافِقِینَ ، یَجْلِسُ أَحَدُہُمْ حَتَّی إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ فَکَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ أَوْ عَلَی قَرْنَیْ شَیْطَانٍ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا ، لاَ یَذْکُرُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہَا إِلاَّ قَلِیلاً ))۔
[صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۴۱۳]
[صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۴۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢٠٩٠) ابو ملیح سے روایت ہے کہ ہم حضرت بریدہ (رض) کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے ۔ اس دن آسمان پر بادل چھائے تھے۔ انھوں نے فرمایا : عصر کی نماز جلدی ادا کرو، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل ضائع ہوگیا۔
(۲۰۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَاقُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَیُّوبَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ أَبِی عَبْدِاللَّہِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ قَالَ: کُنَّا مَعَ بُرَیْدَۃَ فِی غَزْوَۃٍ فِی یَوْمٍ ذِی غَیْمٍ فَقَالَ: بَکِّرُوا بِصَلاَۃِ الْعَصْرِ، فَإِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُہُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ وَخَالَفَہُ الأَوْزَاعِیُّ فِی إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۶۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ وَخَالَفَہُ الأَوْزَاعِیُّ فِی إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢٠٩١) بریدہ اسلمی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوے میں شریک تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بادلوں والے دن عصر کی نماز جلدی ادا کرو؛ کیونکہ (موسم کی خرابی سے وقت گزرنے کا پتہ نہ چلے گا اور) جس نے عصر کی نماز ترک کردی اس کے عمل ضائع ہوگئے۔
(۲۰۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحُسَیْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْہَانَ الْغَزَّالُ وَأَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ وَغَیْرُہُمَا بِبَغْدَادَ قَالُوا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ السَّبِیعِیُّ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَاجِرِ عَنْ بُرَیْدَۃَ الأَسْلَمِیِّ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ غَزَوَاتِہِ فَقَالَ: ((بَکِّرُوا بِالصَّلاَۃِ فِی الْیَوْمِ الْغَیْمِ ، فَإِنَّہُ مَنْ تَرَکَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُہُ))۔
[شاذ۔ اخرجہ احمد ۵/۳۶۱]
[شاذ۔ اخرجہ احمد ۵/۳۶۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢٠٩٢) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوگئی وہ ایسا ہے گویا اس کا مال و اولاد چھن گیا ہو۔
(۲۰۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((الَّذِی تَفُوتُہُ صَلاَۃُ الْعَصْرِ کَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کی کراہت کا بیان
(٢٠٩٣) سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے بارے میں فرمایا، جس کی عصر کی نماز رہ جائے کہ (وہ ایسا ہے) گویا اس کے گھر والے اور مال ومتاع کو لوٹ لیا گیا ہو۔
(۲۰۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- فِی: الَّذِی تَفُوتُہُ صَلاَۃُ الْعَصْرِ ((کَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۷]
তাহকীক: