আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ২০৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت گرمی کے علاوہ ظہر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٥٤) حضرت اسحاق ازرق سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔ البتہ اس میں یہ ذکر نہیں کہ انھوں نے اپنے باپ عمر (رض) کو مستثنیٰ نہیں کیا، لیکن یہ ان کا وہم ہے۔ صحیح وہی ہے جسے ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔
(۲۰۵۴) وَرَوَاہُ إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَذْرَمِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ دُونَ قَوْلِہِ: مَا اسْتَثْنَتْ أَبَاہَا وَلاَ عُمَرَ ، وَہُوَ وَہْمٌ وَالصَّوَابُ رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ قَالَہُ ابْنُ حَنْبَلٍ وَغَیْرُہُ وَقَدْ رَوَاہُ إِسْحَاقُ مَرَّۃً عَلَی الصَّوَابِ۔ [شاذ۔ اخرجہ الترمذی ۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے کا بیان
(٢٠٥٥) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب گرمی کی شدت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو ( موخر کرلو) کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے پیدا ہوتی ہے اور (جہنم کی) آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ ! میرا بعض میرے بعض کو کھا رہا ہے، پس اللہ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں اور جو تم سخت گرمی اور سردی محسوس کرتے ہو یہ اسی وجہ سے ہوتی ہے۔
(۲۰۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ سَعِیدِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ ، فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ وَاشْتَکَتِ النَّارُ إِلَی رَبِّہَا عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَتْ: رَبِّ أَکَلَ بَعْضِی بَعْضًا فَأَذِنَ لَہَا بِنَفَسَیْنِ: نَفَسٍ فِی الشِّتَائِ وَنَفَسٍ فِی الصَّیْفِ ، فَہُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْہَرِیرِ ۔)) [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے کا بیان
(٢٠٥٦) حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ہمیں سفیان نے زہری کے واسطے سے اسی طرح کی روایت بیان کی ، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : جو تم گرمی کی شدت محسوس کرتے ہو یہ اس (جہنم) کی گرمی سے ہے اور جو تم سخت سردی محسوس کرتے ہو یہ اس کی سردی سے ہے۔
(۲۰۵۲) وَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: ((فَأَشَدَّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ فَمِنْ حَرِّہَا وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ فَمِنْ زَمْہَرِیرِہَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدِینِیِّ۔ [صحیح۔ رواہ احمد ۲/ ۳۹۴]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدِینِیِّ۔ [صحیح۔ رواہ احمد ۲/ ۳۹۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے کا بیان
(٢٠٥٧) سیدنا ابو سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب سخت گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرلیا کرو (یعنی مؤخر کرلیا کرو) (انہوں نے عن الصلاۃ کے الفاظ نقل کیے ہیں جب کہ ابن موہب نے بالصلاۃ کے الفاظ نقل کیے ہیں) کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس سے پیدا ہوتی ہے۔
(۲۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْہَبٍ وَقُتَیْبَۃُ أَنَّ اللَّیْثَّ حَدَّثَہُمْ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَأَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَۃِ))۔ قَالَ ابْنُ مَوْہَبٍ: ((بِالصَّلاَۃِ فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۴۰۲]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۴۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے کا بیان
(٢٠٥٨) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب گرمی (زیادہ) ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس کی وجہ سے ہے اور (یہ بھی) جہنم نے اپنے رب کے حضور فریاد (التجا) کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر سال میں دو سانس لینے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ ایک سانس سردیوں میں اور دوسرا گرمیوں میں۔
(۲۰۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا کَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَۃِ فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ))۔ وَذَکَرَ: أَنَّ النَّارَ اشْتَکَتْ إِلَی رَبِّہَا عَزَّ وَجَلَّ فَأَذِنَ لَہَا فِی کُلِّ عَامٍ بِنَفَسَیْنِ: نَفَسٍ فِی الشِّتَائِ وَنَفَسٍ فِی الصَّیْفِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَی عَنْ مَعْنِ بْنِ عِیسَی عَنْ مَالِکٍ وَقَدْ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنْ مَالِکٍ فِی الْقَدِیمِ۔ [صحیح۔ انظر ما سبق برقم ۲۰۵۵]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَی عَنْ مَعْنِ بْنِ عِیسَی عَنْ مَالِکٍ وَقَدْ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنْ مَالِکٍ فِی الْقَدِیمِ۔ [صحیح۔ انظر ما سبق برقم ۲۰۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے کا بیان
(٢٠٥٩) حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ظہر (کی نماز) کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو کیونکہ (یقینا) گرمی کی شدت جہنم کے سانس کی وجہ سے ہوتی ہے۔
(۲۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو مُحَمَّدٍ: جُنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جُنَاحٍ الْقَاضِی بِالْکُوفَۃِ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَبْسِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَبْرِدُوا بِالظُّہْرِ فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ))۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ بَعْضُہَا رِوَایَۃً وَبَعْضُہَا إِشَارَۃً۔
وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۳]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ بَعْضُہَا رِوَایَۃً وَبَعْضُہَا إِشَارَۃً۔
وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے کا بیان
(٢٠٦٠) (ا) حضرت ابوالحسن فرماتے ہیں کہ میں نے زید بن وہب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوذر (رض) سے سنا : ایک مرتبہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ مؤذن نے ظہر کی اذان کہنا چاہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤذن سے فرمایا : اَبْرِدْ یعنی ابھی ٹھہر جاؤ، مؤخر کرو۔ (کچھ دیر بعد) موذن نے پھر اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا : ٹھہر جاؤ۔ دو مرتبہ یا تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا حتیٰ کہ ہم نے چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب سخت گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
(ب) حضرت شعبہ (رح) سے روایت ہے کہ موذن نے اذان کا ارادہ کیا۔
(ب) حضرت شعبہ (رح) سے روایت ہے کہ موذن نے اذان کا ارادہ کیا۔
(۲۰۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ قَالَ سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ وَہْبٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ یُؤَذِّنَ الظُّہْرَ فَقَالَ: ((أَبْرِدْ)) ۔ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُؤَذِّنَ فَقَالَ: أَبْرِدْ ۔ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا حَتَّی رَأَیْنَا فَیْئَ التُّلُولِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ))۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ہُوَ مُہَاجِرُ أَبُو الْحَسَنِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَکَذَا قَالَ جَمَاعَۃٌ عَنْ شُعْبَۃَ: فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ یُؤَذِّنَ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۴]
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ہُوَ مُہَاجِرُ أَبُو الْحَسَنِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَکَذَا قَالَ جَمَاعَۃٌ عَنْ شُعْبَۃَ: فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ یُؤَذِّنَ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے کا بیان
(٢٠٦١) حضرت ابو الولید نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے کہ انھوں نے سیدنا ابوذر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی سفر میں تھے۔ موذن نے اذان کہنے کا ارادہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا : ٹھنڈا کرو (یعنی کچھ ٹھہر جاؤ) ۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ غندر نے بھی شعبہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
(۲۰۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ: إِنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی سَفَرٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَبْرِدْ ۔ وَذَکَرَہُ وَکَذَلِکَ قَالَہُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے کا بیان
(٢٠٦٢) (ا) سیدنا ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موذن نے ظہر کی اذان کہنا چاہی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اَبْرِدْ اَبْرِد یا انتظر انتظر کے الفاظ کہے، یعنی ٹھہر جا۔ پھر فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے ہے۔ جب موسم زیادہ گرم ہو تو نماز کو موخر کر کے پڑھا کرو ۔ ابو ذر فرماتے ہیں : اتنی دیر ہوئی کہ ہم نے چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔
(ب) نیز مسلم نے محمد بن مثنی سے نقل کیا کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ٹھہرنے کا حکم اذان کے بعد تھا نیز یہ کہ اذان اول وقت میں ہوئی تھی۔
(ب) نیز مسلم نے محمد بن مثنی سے نقل کیا کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ٹھہرنے کا حکم اذان کے بعد تھا نیز یہ کہ اذان اول وقت میں ہوئی تھی۔
(۲۰۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَالْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُہَاجِرِ أَبِی الْحَسَنِ أَنَّہُ سَمِعَ زَیْدَ بْنَ وَہْبٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الظُّہْرَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَبْرِدْ أَبْرِدْ))۔ أَوْ قَالَ: ((انْتَظِرِ انْتَظِرْ))۔ وَقَالَ: ((إِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَۃِ))۔ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: حَتَّی رَأَیْنَا فَیْئَ التُّلُولِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔
وَفِی ہَذَا کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّ الأَمْرَ بِالإِبْرَادِ کَانَ بَعْدَ التَّأْذِینِ وَأَنَّ الأَذَانَ کَانَ فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ۔
[صحیح۔ مضی فی الذی قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔
وَفِی ہَذَا کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّ الأَمْرَ بِالإِبْرَادِ کَانَ بَعْدَ التَّأْذِینِ وَأَنَّ الأَذَانَ کَانَ فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ۔
[صحیح۔ مضی فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے کا بیان
(٢٠٦٣) حضرت حماد فرماتے ہیں : یہ حدیث مجھے سیار بن سلامہ نے ابو برزۃ اسلمی (رح) سے نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک کے الفاظ ہیں کہ بلال اس وقت اذان کہتے تھے جب سورج ڈھل جاتا اور دوسرے کے الفاظ ہیں کہ بلال اس وقت اذان کہتے تھے جب سورج مغرب کی طرف ڈھلنا شروع ہوجاتا۔
(۲۰۶۳) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ لَفْظًا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرٍ یَعْنِی ابْنَ سَمُرَۃَ۔
قَالَ حَمَّادٌ وَحَدَّثَنِیہِ سَیَّارُ بْنُ سَلاَمَۃَ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ قَالَ أَحَدُہُمَا: کَانَ بِلاَلٌ یُؤَذِّنُ إِذَا دَلَکَتِ الشَّمْسُ۔ وَقَالَ الآخَرُ: کَانَ بِلاَلٌ یُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ۔ [حسن۔ اخرجہ الطیالسی ۷۶۹]
قَالَ حَمَّادٌ وَحَدَّثَنِیہِ سَیَّارُ بْنُ سَلاَمَۃَ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ قَالَ أَحَدُہُمَا: کَانَ بِلاَلٌ یُؤَذِّنُ إِذَا دَلَکَتِ الشَّمْسُ۔ وَقَالَ الآخَرُ: کَانَ بِلاَلٌ یُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ۔ [حسن۔ اخرجہ الطیالسی ۷۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخت گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے کا بیان
(٢٠٦٤) حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ حضرت بلال (رض) اذان میں سستی نہیں کرتے تھے (یعنی اول وقت ہی میں اذان دے دیتے تھے) ۔ ہاں اقامت کبھی کبھی دیر سے کہا کرتے تھے اور ایک قول پہلے بھی گذر چکا ہے کہ بلال (رض) اس وقت اذان دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔
(۲۰۶۴) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: کَانَ بَلاَلٌ لاَ یَحْذِمُ الأَذَانَ ، وَکَانَ رُبَّمَا أَخَّرَ الإِقَامَۃَ شَیْئًا۔ وَقَدْ مَضَی قَوْلُہُ: کَانَ بَلاَلٌ یُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ روایات جن میں گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز جلدی ادا کرنے کا ذکر ہے
(٢٠٦٥) حضرت خباب (رض) سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گرمی کی شدت کی شکایت کی، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری شکایت کو نہیں مانا۔ میں نے ابو اسحق سے پوچھا کہ ظہر کے بارے میں ؟ کہنے لگے : ہاں ! میں نے کہا : کیا اس کو جلدی ادا کرنے کے بارے میں ؟ انھوں نے کہا : جی ! ظہر کو جلدی ادا کرنے کے بارے میں۔
(۲۰۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ: شَکَوْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حَرَّ الرَّمْضَائِ فَلَمْ یُشْکِنَا۔ قُلْتُ لأَبِی إِسْحَاقَ: فِی الظُّہْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ قُلْتُ: أَفِی تَعْجِیلِہَا؟ قَالَ: نَعَمْ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۱۹]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۱۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ روایات جن میں گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز جلدی ادا کرنے کا ذکر ہے
(٢٠٦٦) حضرت خباب بن ارت (رض) سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گرمی کی شدت کے بارے میں درخواست کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری شکایت کو نہ مانا اور فرمایا : جب سورج ڈھل جائے تو نماز پڑھ لو۔
(۲۰۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ وَہْبٍ قَالَ حَدَّثَنِی خَبَّابُ بْنُ الأَرَتِ قَالَ: شَکَوْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الرَّمْضَائَ فَمَا أَشْکَانَا ، وَقَالَ: ((إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَلُّوا))۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۵/۱۱۰]
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۵/۱۱۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ روایات جن میں گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز جلدی ادا کرنے کا ذکر ہے
(٢٠٦٧) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کیا کرتا تھا۔ میں اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر کنکریاں پکڑ لیتا تھا، تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں اور میں ان کو اپنے سجدے کی جگہ پر رکھتا تاکہ (زمین کی تپش سے بچتے ہوئے) ان پر سجدہ کروں، ( یہ گرمی کی شدت کے باعث تھا) ۔
(۲۰۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَنْصَارِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: کُنْتُ أُصَلِّی الظُّہْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَآخُذُ قَبْضَۃً مِنَ الْحَصَا لِتَبْرُدَ فِی کَفِّی ، أَضَعُہَا لِجَبْہَتِی أَسْجُدُ عَلَیْہَا لِشِدَّۃِ الْحَرِّ۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداود ۳۹۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے والی روایت خباب وغیرہ کی روایت کے لیے ناسخ ہے
(٢٠٦٨) حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر کے وقت (سخت گرمی میں) ادا کیا کرتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فرمایا : نماز کو ٹھنڈا کرلیا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے ہے۔
(۲۰۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو زَکَرِیَّا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ عَنْ شَرِیکٍ عَنْ بَیَانِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الظُّہْرِ بِالْہَاجِرَۃِ ، فَقَالَ لَنَا: ((أَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ ، فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ))۔
قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ فِیمَا بَلَغَنِی عَنْہُ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا یَعْنِی الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَعَدَّہُ مَحْفُوظًا وَقَالَ: رَوَاہُ غَیْرُ شَرِیکٍ عَنْ بَیَانٍ عَنْ قَیْسٍ عَنِ الْمُغِیرَۃِ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَاجِرَۃِ ، فَقِیلَ لَنَا: أَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ ، فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ۔
وَرَوَاہُ أَبُو عِیسَی عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُجَالِدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ بَیَانٍ کَمَا قَالَ الْبُخَارِیُّ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ عَنْ شَرِیکٍ عَنْ بَیَانِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الظُّہْرِ بِالْہَاجِرَۃِ ، فَقَالَ لَنَا: ((أَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ ، فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ))۔
قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ فِیمَا بَلَغَنِی عَنْہُ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا یَعْنِی الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَعَدَّہُ مَحْفُوظًا وَقَالَ: رَوَاہُ غَیْرُ شَرِیکٍ عَنْ بَیَانٍ عَنْ قَیْسٍ عَنِ الْمُغِیرَۃِ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَاجِرَۃِ ، فَقِیلَ لَنَا: أَبْرِدُوا بِالصَّلاَۃِ ، فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ۔
وَرَوَاہُ أَبُو عِیسَی عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُجَالِدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ بَیَانٍ کَمَا قَالَ الْبُخَارِیُّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے والی روایت خباب وغیرہ کی روایت کے لیے ناسخ ہے
(٢٠٦٩) ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) مکہ تشریف لائے۔ انھوں نے ابو محذورہ (رض) کی آواز سنی تو فرمانے لگے : اس کا ناس ہو، کتنی اونچی آواز نکالتا ہے ! کیا اسے ڈر نہیں لگتا کہ اس کا گلا پھٹ جائے گا۔ پھر آپ (رض) ان کے پاس آئے، وہ نماز کے لیے اذان کہہ رہے تھے (یعنی دوران اذان عمر ان کے پاس تشریف لے آئے) اور کہنے لگے : تیرا ناس ہو تو کتنی سخت آواز میں اذان کہہ رہا ہے۔ کیا تجھے ڈر نہیں لگتا کہ تیرا گلا پھٹ جائے گا ؟ ابومحذورہ (رض) کہنے لگے : اے امیرالمومنینـ! میں نے آپ کے آنے کی وجہ سے آواز میں شدت کی ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : تمہارا علاقہ گرم ہے، لہٰذا لوگوں کو تھوڑا دن ڈھلنے پر نماز پڑھایا کرو۔ یہ بات دو یاتین مرتبہ کہی کہ (نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کریں) ۔ پھر (جب موسم کی شدت کم ہو تو) اذان کہو، پھر اترکردو رکعتیں ادا کرو، پھر اقامت کہو۔
(۲۰۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَیْبَانَ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا نَافِعٌ یَعْنِی الْجُمَحِیَّ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدِمَ مَکَّۃَ فَسَمِعَ صَوْتَ أَبِی مَحْذُورَۃَ فَقَالَ: وَیْحَہُ مَا أَشَدَّ صَوْتَہُ أَمَا یَخَافُ أَنْ یَنْشَقَّ مُرَیْطَاؤُہُ۔ قَالَ: فَأَتَاہُ یُؤْذِنُہُ بِالصَّلاَۃِ فَقَالَ: وَیْحَکَ مَا أَشَدَّ صَوْتَکَ أَمَا تَخَافُ أَنْ یَنْشَقَّ مُرْیَطَاؤُکَ۔ فَقَالَ: إِنَّمَا شَدَدْتُ صَوْتِی لِقُدُومِکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ قَالَ: إِنَّکَ فِی بَلْدَۃٍ حَارَّۃٍ ، فَأَبْرَدْ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ أَبْرِدْ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا ، ثُمَّ أَذِّنْ ، ثُمَّ انْزِلْ فَارْکَعْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ ثَوِّبْ اِقَامَتِکَ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۸۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز کو آخر وقت تک مؤخر نہ کرنے کا بیان
(٢٠٧٠) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے تھے تو گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کیا کرتے تھے۔
(۲۰۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِی غَالِبٌ الْقَطَّانُ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کُنَّا إِذَا صَلَّیْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالظَّہَائِرِ سَجَدْنَا عَلَی ثِیَابِنَا اتِّقَائَ الْحَرِّ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ غَالِبٍ بِغَیْرِ ہَذَا اللَّفْظِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ غَالِبٍ بِغَیْرِ ہَذَا اللَّفْظِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۱۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر کی نماز کو آخر وقت تک مؤخر نہ کرنے کا بیان
(٢٠٧١) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سردیوں میں نماز (ایسے وقت میں) پڑھتے تھے کہ ہمیں یہ پتا نہ چلتا تھا کہ دن کا اکثر حصہ گذر چکا ہے یا ابھی باقی ہے۔ (دن کا جو حصہ گزر چکا ہے وہ زیادہ ہے یا جو باقی رہ گیا)
اگر یہ روایت صحیح ہے تو یہ دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز میں موسم سرما اور موسم گرما کے لحاظ سے فرق تھا۔ حضرت ابوبکر بن عبداللہ مزنی کی روایت اس پر محمول ہوگی کہ نماز ظہر کا گرمی میں موخر کرنا اس کے آخری وقت کو نہ پہنچے۔ نیز صحابہ کرام (رض) نماز کو موخر کرنے کے باوجود ٹیلوں اور وادیوں کی گرمی کو محسوس کرتے تھے۔ واللہ اعلم !
اگر یہ روایت صحیح ہے تو یہ دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز میں موسم سرما اور موسم گرما کے لحاظ سے فرق تھا۔ حضرت ابوبکر بن عبداللہ مزنی کی روایت اس پر محمول ہوگی کہ نماز ظہر کا گرمی میں موخر کرنا اس کے آخری وقت کو نہ پہنچے۔ نیز صحابہ کرام (رض) نماز کو موخر کرنے کے باوجود ٹیلوں اور وادیوں کی گرمی کو محسوس کرتے تھے۔ واللہ اعلم !
(۲۰۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ بِإِسْفَرَائِنَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُوسَی أَبِی الْعَلاَئِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی الظُّہْرَ فِی أَیَّامِ الشِّتَائِ وَمَا نَدْرِی مَا مَضَی مِنَ النَّہَارِ أَکْثَرُ أَوْ مَا بَقِیَ۔
وَفِی ہَذَا إِنْ صَحَّ کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی الْفَرْقِ بَیْنَ الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ فِی وَقْتِ صَلاَتِہِ -ﷺ- وَإِنَّ خَبَرَ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ مَحْمُولٌ عَلَی أَنَّہُ أَخَّرَہَا فِی الْحَرِّ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَبْلُغْ بِتَأْخِیرِہَا آخِرَ وَقْتِہَا ، فَکَانُوا یَجِدُونَ مَعَ التَّأْخِیرِ حَرَّ الرِّمَالِ وَالْبَطْحَائِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۳/۱۳۵]
وَفِی ہَذَا إِنْ صَحَّ کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی الْفَرْقِ بَیْنَ الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ فِی وَقْتِ صَلاَتِہِ -ﷺ- وَإِنَّ خَبَرَ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ مَحْمُولٌ عَلَی أَنَّہُ أَخَّرَہَا فِی الْحَرِّ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَبْلُغْ بِتَأْخِیرِہَا آخِرَ وَقْتِہَا ، فَکَانُوا یَجِدُونَ مَعَ التَّأْخِیرِ حَرَّ الرِّمَالِ وَالْبَطْحَائِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۳/۱۳۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٧٢) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ہم عصر کی نماز اتنی جلدی پڑھ لیتے تھے کہ کوئی شخص قبا جا کر واپس آجاتا تھا اور سورج کی چمک اور تپش باقی ہوتی تھی۔
(۲۰۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی الْعَصْرَ ثُمَّ یَذْہَبُ الذَّاہِبُ إِلَی قُبَائٍ فَیَأْتِیہِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
(٢٠٧٣) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز (اس وقت) پڑھتے تھے کہ سورج واضح بلند اور چمک رہا ہوتا تھا اور کوئی جانے والا بالائی مدینہ کو چلا جاتا تب بھی سورج واضح چمک رہا ہوتا۔
(۲۰۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ مُرْتَفِعَۃٌ حَیَّۃٌ ، وَیَذْہَبُ الذَّاہِبُ إِلَی الْعَوَالِی وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ حَیَّۃٌ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ۔ وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنِ اللَّیْثِ عَنْ یُونُسَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۵]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ۔ وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنِ اللَّیْثِ عَنْ یُونُسَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۵]
তাহকীক: