আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২০১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مؤذنوں کی تعدادکا بیان
(٢٠١٤) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقرر کردہ دو مؤذن تھے : بلال اور ابن ام مکتوم (رض) یہ نابینا تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بلال (رض) رات کو اذان دیتے ہیں تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے اور ان کے درمیان صرف اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ ایک (منارہ سے) نیچے اترتا تھا تو دوسرا اوپر چڑھتا تھا۔ “
(۲۰۱۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُؤَذِّنَانِ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ الأَعْمَی ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ بِلاَلاً یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ ۔ وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَہُمَا إِلاَّ أَنْ یَنْزِلَ ہَذَا وَیَرْقَی ہَذَا))۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مؤذنوں کی تعدادکا بیان
(٢٠١٥) سیدہ عائشہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پچھلی روایت کی طرح نقل فرماتی ہیں۔
(۲۰۱۵) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مؤذنوں کی تعدادکا بیان
(٢٠١٦) (الف) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقرر کردہ تین مؤذن تھے : بلال، ابومحذورۃ اور ابن ام مکتوم (رض) ۔ (ب) ابوبکر فرماتے ہیں : یہ دونوں روایات صحیح ہیں۔ جنھوں نے کہا : دو مؤذن تھے، ان کی مراد مدینہ کے دو مؤذن اور جنھوں نے کہا : تین مؤذن، ان کی مراد سیدنا ابو محذورہ (رض) بھی ہیں جو مکہ میں اذان دیتے تھے۔
(۲۰۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- ثَلاَثَۃُ مُؤَذِّنِینَ: بِلاَلٌ وَأَبُو مَحْذُورَۃَ وَابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ۔

قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَالْخَبَرَانِ صَحِیحَانِ یَعْنِی ہَذَا وَمَا تَقَدَّمَ ، فَمَنْ قَالَ کَانَ لَہُ مُؤَذِّنَانِ أَرَادَ اللَّذَیْنِ کَانَا یُؤَذِّنَانِ بِالْمَدِینَۃِ ، وَمَنْ قَالَ ثَلاَثَۃً أَرَادَ أَبَا مَحْذُورَۃَ الَّذِی کَانَ یُؤَذِّنُ بِمَکَّۃَ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَفِی اقْتِصَارِہِ بِمَکَّۃَ عَلَی مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ دَلاَلَۃٌ عَلَی جَوَازِ الاِقْتِصَارِ عَلَی مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ۔

[ضعیف۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۴۰۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مؤذنوں کی تعدادکا بیان
(٢٠١٧) سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ تیسری اذان جمعہ کی تھی، سیدنا عثمان (رض) نے اس کا اس وقت حکم دیا جب مدینہ منورہ کی آبادی بڑھ گئی اور یہ جمعہ کے دن کی اذان تھی جس وقت امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے۔
(۲۰۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَیَزِیدُ بْنُ مَوْہَبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ: أَنَّ التَّأْذِینَ الثَّالِثَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِنَّمَا أَمَرَ بِہِ عُثْمَانُ حِینَ کَثُرَ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ ، وَکَانَ التَّأْذِینُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ حِینَ یَجْلِسُ الإِمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ عَنِ اللَّیْثِ۔

وَیُقَالُ إِنَّہُ مَعَ الإِقَامَۃِ صَارَ الثَّالِثُ وَالْخَبَرُ وَرَدَ فِی التَّأْذِینِ لاَ فِی الْمُؤَذِّنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۸۷۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کے ساتھ نوافل ادا کرنا
(٢٠١٨) سیدنا عثمان بن ابی العاص (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے اپنی قوم کا امام بنا دیجیے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ان کا امام ہے، ان کے کمزورلوگوں کا خیال کر اور ایسا مؤذن مقرر کر جو اپنی اذان پر مزدوری نہ لیتا ہو۔
(۲۰۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنِی الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ: یَارَسُولَ اللَّہِ اجْعَلْنِی إِمَامَ قَوْمِی۔ قَالَ: أَنْتَ إِمَامُہُمْ فَاقْتَدِ بِأَضْعَفِہِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لاَیَأْخُذُ عَلَی أَذَانِہِ أَجْرًا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۳۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مؤذن کی تنخواہ کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان (رض) نے مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں۔ دین کی تعلیم پر اجرت لینے کی دلیل کتاب الصداق میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت وہ روایت ہے جس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کی شادی قرآن پاک کی سورتیں سکھلانے پر کی۔
(٢٠١٩) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت عرب کے کسی قبیلے کے پاس سے گزری اور ان کے پاس بچھو کا ڈسا ہوا ایک شخص لایا گیا یا وہ سخت زخمی تھا۔ انھوں نے پوچھا : کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے ؟ پانی میں بچھو ڈسا ہے یا فرمایا : یہ سخت زخمی ہے۔ ان میں ایک شخص اٹھا اور اس نے بکریوں کے عوض دم کیا تو وہ صحیح ہوگیا، جب وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا انھوں نے اس کو ناپسند سمجھا اور کہا : تم نے اللہ کی کتاب پر مزدوری لی ہے، وہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاس آئے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زیادہ حق دارجس پر تم مزدوری لو اللہ کی کتاب ہے۔

(ب) سیدنا ابو محذورہ (رض) کی حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بلایا، جس وقت انھوں نے پوری اذان دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک تھیلی دی، اس میں کچھ چاندی تھی۔
(۲۰۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ الْبَسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَیْسَرَۃَ الْقَوَارِیرِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَزِیدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّائُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الأَخْنَسِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَرُّوا بِحَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ وَفِیہِمْ لَدِیغٌ أَوْ سَلِیمٌ فَقَالُوا: ہَلْ فِیکُمْ مِنْ رَاقٍ ، فَإِنَّ فِی الْمَائِ لَدِیغًا أَوْ سَلِیمًا ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْہُمْ فَرَقَاہُ عَلَی شَائٍ فَبَرَأَ ، فَلَمَّا أَتَی أَصْحَابَہُ کَرِہُوا ذَلِکَ وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَی کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ أَجْرًا۔ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا کِتَابُ اللَّہِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سِیدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ۔

وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ أَبِی مَحْذُورَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- دَعَاہُ حِینَ قَضَی التَّأْذِینَ فَأَعْطَاہُ صُرَّۃً فِیہَا شَیْئٌ مِنْ فِضَّۃٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۱۵۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٢٠) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے۔ اللہ تعالیٰ اماموں کی راہنمائی کرے اور مؤذنوں کو معاف کر دے۔

(ب) امام احمد کہتے ہیں کہ یہ حدیث سہیل نے اپنے والد سے نہیں سنی بلکہ اعمش سے سنی ہے۔
(۲۰۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : الأَئِمَّۃُ ضُمَنَائُ وَالْمُؤَذِّنُونَ أُمَنَائُ فَأَرْشَدَ اللَّہُ الأَئِمَّۃَ ، وَغَفَرَ لِلْمُؤَذِّنِینَ ۔

قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ: وَہَذَا الْحَدِیثُ لَمْ یَسْمَعْہُ سُہَیْلٌ مِنْ أَبِیہِ إِنَّمَا سَمِعَہُ مِنَ الأَعْمَشِ۔

[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۵۳۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٢١) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اللہ تعالیٰ اماموں کی راہنمائی کرے اور مؤذنوں کو معاف کر دے۔
(۲۰۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالنَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی سُہَیْلُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((الإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ فَأَرْشَدَ اللَّہُ الأَئِمَّۃَ ، وَغَفَرَ لِلْمُؤَذِّنِینَ))۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٢٢) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اللہ تعالیٰ اماموں کی راہنمائی کرے اور مؤذنوں کو معاف کردے۔ ابو حمزہ کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے ہمیں نظر انداز کردیا جبکہ ہم آپ کے بعد اذان میں رغبت رکھتے تھے۔
(۲۰۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ السُّکَّرِیُّ قَالَ سَمِعْتُ الأَعْمَشَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، اللَّہُمَّ أَرْشِدِ الأَئِمَّۃَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِینَ))۔

زَادَ أَبُو حَمْزَۃَ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ تَرَکْتَنَا وَنَحْنُ نَتَنَافَسُ الأَذَانَ بَعْدَکَ زَمَانًا۔ قَالَ: إِنَّ بَعْدَکُمْ زَمَانًا سَفِلَتُہُمْ مُؤَذِّنُوہُمْ ۔

وَہَذَا الْحَدِیثَ لَمْ یَسْمَعْہُ الأَعْمَشُ بِالْیَقِینِ مِنْ أَبِی صَالِحٍ وَإِنَّمَا سَمِعَہُ مِنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ۔

[صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۲۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٢٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اللہ تعالیٰ اماموں کی راہنمائی کرے اور مؤذنوں کو معاف کرے۔
(۲۰۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ اللَّہُمَّ أَرْشِدِ الأَئِمَّۃَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِینَ))۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٢٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔۔ اسی کی مثل حدیث ہے۔
(۲۰۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ أَبِی صَالِحٍ وَلاَ أَرَی إِلاَّ قَدْ سَمِعْتُہُ مِنْہُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِثْلَہُ۔

وَقَدْ رُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ۔ وَبَلَغَنِی عَنِ الْبُخَارِیِّ أَنَّہُ قَالَ: حَدِیثُ أَبِی صَالِحٍ عَنْ عَائِشَۃَ أَصَحُّ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۲/۲۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٢٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اللہ تعالیٰ اماموں کی راہنمائی کرے اور مؤذن سے در گزر کرے۔
(۲۰۲۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ حَدَّثَنِی نَافِعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی صَالِحٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ

أَنَّہُ سَمِعَ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ فَأَرْشَدَ اللَّہُ الإِمَامَ ، وَعَفَا عَنِ الْمُؤَذِّنِ))۔

وَقَدْ قِیلَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطحاوی ۳/۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٢٦) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ مؤذن کو اس کی آواز کی لمبائی کی بقدر معاف کردیا جاتا ہے اور ہر تر اور خشک چیز اس کی تصدیق کرتی ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اے اللہ اماموں کی راہنمائی کر اور مؤذنوں کو معاف کر دے۔ “
(۲۰۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرَّائُ وَقَطَنُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالُوا حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ: الْمُؤَذِّنُ یُغْفَرُ لَہُ مَدَّ صَوْتِہِ ، وَیُصَدِّقُہُ کُلُّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ۔ قَالَ وَسَمَعْتُہُ یَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((الإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، اللَّہُمَّ أَرْشِدِ الأَئِمَّۃَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِینَ))۔ ہَکَذَا رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ۔ [صحیح۔ أخرجہ السراج فی مسندہ ۱/۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٢٧) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مؤذن کو اس کی اذان کی مقدار معاف کردیا جاتا ہے اور ہر خشک اور تر چیز اس کے لیے گواہی دے گی جس نے اس کی آواز سنی ہوگی۔ “
(۲۰۲۷) وَقَدْ رَوَاہُ عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یُغْفَرُ لِلْمُؤَذِّنِ مَدَّ صَوْتِہِ ، وَیَشْہَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَہُ))۔

ہَذَا الْقَدْرُ مَرْفُوعًا دُونَ الْحَدِیثِ الآخَرِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ فَذَکَرَہُ۔

وَرَوَاہُ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ کَمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٢٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مؤذن کو اس کی اذان کی بقدر معاف کردیا جاتا ہے اور ہر تر اور خشک چیز اس کے لیے گواہی دیتی ہے جس نے اس کو سنا۔ “
(۲۰۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یُغْفَرُ لِلْمُؤَذِّنِ مَدَی صَوْتِہِ وَیَشْہَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ سَمِعَہُ))۔

وَرَوَاہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ کَمَا۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٢٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مؤذن کو اس کی اذان کی بقدر معاف کردیا جاتا ہے اور ہر تر اور خشک چیز اس کے لیے گواہی دیتی ہے جس نے اس کو سنا۔ “ (ب) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے مرفوع روایت منقول ہے۔ پہلی حدیث حسن بصری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل روایت بیان کرتے ہیں۔
(۲۰۲۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوحَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((الْمُؤَذِّنُ یُغْفَرُ لَہُ مَدَی صَوْتَہُ، وَیَشْہَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ سَمِعَہُ))۔

وَقَدْ رُوِّینَا ہَذَا الْحَدِیثَ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أَبِی یَحْیَی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا۔ وَرُوِّینَا الْحَدِیثَ الأَوَّلَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٣٠) سیدنا حسن (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام ضامن ہے اور موذن امین ہے اللہ تعالیٰ اماموں کی راہنمائی کرے اور مؤذنوں کو معاف کر دے یا فرمایا : اللہ تعالیٰ اماموں کو معاف کر دے اور مؤذنوں کی راہنمائی کرے۔ ابن ابی عدی کو شک ہوا ہے۔
(۲۰۳۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ أَخْبَرَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ ذُکِرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : ((الإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، فَأَرْشَدَ اللَّہُ الأَئِمَّۃَ ، وَغَفَرَ لِلْمُؤَذِّنِینَ)) أَوْ قَالَ : ((غَفَرَ اللَّہُ لِلأَئِمَّۃِ ، وَأَرْشَدَ الْمُؤَذِّنِینَ))۔ شَکَّ ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٣١) سیدنا حسن (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مؤذن مسلمانوں کی نمازوں پر اور حاجتوں پر امین ہیں۔
(۲۰۳۱) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْمُؤَذِّنُونَ أُمَنَائُ الْمُسْلِمِینَ عَلَی صَلاَتِہِمْ وَحَاجَتِہِمْ أَوْ حَاجَاتِہِمْ))۔

وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرٍ وَلَیْسَ بِمَحْفُوظٍ وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ۔[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کی امامت پر فضیلت
(٢٠٣٢) ابو غالب کہتے ہیں : میں نے ابو امامہ سے سنا کہ مؤذن مسلمانوں کے امین ہیں اور امام ضامن ہیں اور مجھے اذان امامت سے زیادہ پسند ہے۔
(۲۰۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ الْخُزَاعِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ یَقُولُ: الْمُؤَذِّنُونَ أُمَنَائُ الْمُسْلِمِینَ ، وَالأَئِمَّۃُ ضُمَنَائُ قَالَ وَالأَذَانُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الإِمَامَۃِ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان کہنے کی ترغیب
(٢٠٣٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب نماز کی آواز دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور اس کی ہوا آواز کے ساتھ خارج ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ اذان کی آواز نہیں سنتا اور جب اذان پوری ہوجاتی ہے تو دوبارہ آجاتا ہے، اور جب تکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور جب تکبیر پوری ہوجاتی ہے تو دوبارہ آجاتا ہے اور نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور اس کو کہتا ہے : فلاں فلاں یاد کر جو اس کو اس سے پہلے یاد نہیں ہوتا۔ یہاں تک نمازی اسی بات میں مشغول رہتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اس نے کس طرح نماز پڑھی ہے۔
(۲۰۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو یَعْلَی الْمُہَلَّبِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا نُودِیَ بِالصَّلاَۃِ أَدْبَرَ الشَّیْطَانُ لَہُ ضُرَاطٌ حَتَّی لاَ یَسْمَعَ التَّأْذِینَ ، فَإِذَا قُضِیَ التَّأْذِینُ أَقْبَلَ حَتَّی إِذَا ثُوِّبَ بِہَا أَدْبَرَ ، حَتَّی إِذَا قُضِیَ التَّثْوِیبُ أَقْبَلَ یَخْطُرُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَنَفْسِہِ یَقُولُ لَہُ: اذْکُرْ کَذَا اذْکُرْ کَذَا ، لِمَا لَمْ یَکُنْ یَذْکُرُ مِنْ قَبْلُ حَتَّی یَظَلَّ الرَّجُلُ مَا یَدْرِی کَیْفَ صَلَّی))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔

وَالْمُرَادُ بِالتَّثْوِیبِ ہَا ہُنَا الإِقَامَۃُ۔ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ مَا۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۸۳]
tahqiq

তাহকীক: