আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ১৯৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَلِ کہنے کے متعلق روایات کا بیان
(١٩٩٤) سیدنا بلال (رض) سے روایت ہے کہ وہ صبح کی اذان میں کہتے تھے : حَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَلِتو انھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اس کی جگہ الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہوتو انھوں نیحَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَلِ چھوڑ دیا۔
(۱۹۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رُسْتَہْ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ کَاسِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ وَعَمَّارِ وَعُمَرَ ابْنَیْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ آبَائِہِمْ عَنْ أَجْدَادِہِمْ عَنْ بِلاَلٍ: أَنَّہُ کَانَ یُنَادَی بِالصُّبْحِ فَیَقُولُ: حَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَلِ ، فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَجْعَلَ مَکَانَہَا: الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، وَتَرَکَ حَیَّ عَلَی خَیْرِ الْعَمَلِ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذِہِ اللَّفْظَۃُ لَمْ تَثْبُتْ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِیمَا عَلَّمَ بِلاَلاً وَأَبَا مَحْذُورَۃَ وَنَحْنُ نَکْرَہُ الزِّیَادَۃَ فِیہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف جدًا۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱۰۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونچی جگہ پر اذان دینے کا بیان
(١٩٩٥) عروہ بن زبیر بنی نجار کی ایک عورت سے نقل فرماتے ہیں کہ میرا گھر مسجد کے پاس تھا اور دوسرے گھروں سے اونچا تھا، سیدنا بلال (رض) اسی پر فجر کی اذان دیتے تھے، وہ سحری کے وقت آتے اور گھر پر بیٹھ کر فجر کی طرف دیکھتے جب اس کو دیکھتے کہ وہ پھیل گئی ہے تو کہتے : اے اللہ ! میں تیری حمد بیان کرتا ہوں اور قریش پر تیری مدد چاہتا ہوں کہ تیرے دین کو قائم رکھیں۔ پھر وہ اذان دیتے۔ فرماتی ہیں : اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق انھوں نے ایک رات بھی ان کلمات کو نہیں چھوڑا۔
(۱۹۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ قَالَتْ: کَانَ بَیْتِی مِنْ أَطْوَلِ بَیْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ ، فَکَانَ بِلاَلٌ یُؤَذِّنُ عَلَیْہِ الْفَجْرَ فَیَأْتِی بِسَحَرٍ فَیَجْلِسُ عَلَی الْبَیْتِ یَنْظُرُ إِلَی الْفَجْرِ فَإِذَا رَآہُ تَمَطَّی ثُمَّ قَالَ: اللَّہُمَّ إِنِّی أَحْمَدُکَ وَأَسْتَعِینُکَ عَلَی قُرَیْشٍ أَنْ یُقِیمُوا دِینَکَ قَالَتْ ثُمَّ یُؤَذِّنُ قَالَتْ وَاللَّہِ مَا عَلِمْتُہُ کَانَ تَرَکَہَا لَیْلَۃً وَاحِدَۃً ہَذِہِ الْکَلِمَاتِ۔

[ضعیف۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۱۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونچی جگہ پر اذان دینے کا بیان
(١٩٩٦) (الف) سیدنا ابو برزہ اسلمی (رض) سے روایت ہے کہ اذان اونچی جگہ پر کہنا اور اقامت مسجد میں کہنا سنت ہے۔

(ب) یہ حدیث خالد بن عمرو نے ہم کو بیان کی ہے۔

(ج) اور سخت ضعیف و منکر الحدیث ہے۔
(۱۹۹۶) وَرَوَی خَالِدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ قَالَ: مِنَ السُّنَّۃِ الأَذَانُ فِی الْمَنَارَۃِ وَالإِقَامَۃُ فِی الْمَسْجِدِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی حَاتِمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَزِیدُ الأَطْرَابُلُسِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَمْرٍو فَذَکَرَہُ۔

وَہَذَا حَدِیثٌ مُنْکَرٌ لَمْ یَرْوِہِ غَیْرُ خَالِدِ بْنِ عَمْرٍو۔ (ج) وَہُوَ ضَعِیفٌ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ۔

[ضعیف جداً۔ أخرجہ تمام فی فوائدہ ۱۵۷۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان عادل اور بااعتماد شخص دے جو لوگوں میں معزز ہو، اخلاق رذیلہ سے پاک ہو، اور امانت دار ہو
(١٩٩٧) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اللہ ائمہ کی رہنمائی کرے اور مؤذن کو معاف کرے۔
(۱۹۹۷) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَیُّوبَ بْنِ سَلْمُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ عَنْ نَافِعِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْمَکِّیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((الإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، فَأَرْشَدَ اللَّہُ الإِمَامَ وَعَفَا عَنِ الْمُؤَذِّنِ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان عادل اور بااعتماد شخص دے جو لوگوں میں معزز ہو، اخلاق رذیلہ سے پاک ہو، اور امانت دار ہو
(١٩٩٨) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے معزز شخص اذان دے اور جو زیادہ پڑھا ہوا ہو وہ امامت کروائے۔
(۱۹۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ أَبِی خَلَفٍ الإِسْفَرَائِنِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدَانَ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عِیسَی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الْخَطْمِیُّ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحِمَّانِیُّ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عِیسَی الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لِیُؤَذِّنْ لَکُمْ خِیَارُکُمْ وَلْیَؤُمَّکُمْ أَقْرَؤُکُمْ))۔ [منکر۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۹۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان عادل اور بااعتماد شخص دے جو لوگوں میں معزز ہو، اخلاق رذیلہ سے پاک ہو، اور امانت دار ہو
(١٩٩٩) سیدنا ابو محذورہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مسلمانوں کے امین جو ان کی نمازوں اور سحریوں کی حفاظت کرتے ہیں مؤذن ہیں۔ “
(۱۹۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی مَحْذُورَۃَ وَہُوَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی مَحْذُورَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أُمَنَائُ الْمُسْلِمِینَ عَلَی صَلاَتِہِمْ وَسُحُورِہِمُ الْمُؤَذِّنُونَ))۔

[ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۶۷۴۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان عادل اور بااعتماد شخص دے جو لوگوں میں معزز ہو، اخلاق رذیلہ سے پاک ہو، اور امانت دار ہو
(٢٠٠٠) سیدنا حسن (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مؤذن مسلمانوں کی نمازوں کے امین ہیں۔ “ یہ روایت مرسل ہے اور پہلی روایت کے لیے شاہد ہے۔
(۲۰۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((الْمُؤَذِّنُونَ أُمَنَائُ الْمُسْلِمِینَ عَلَی صَلاَتِہِمْ))۔

قَالَ: وَذَکَرَ مَعَہَا غَیْرَہَا ، وَہَذَا الْمُرْسَلُ شَاہِدٌ لَمَا تَقَدَّمَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان عادل اور بااعتماد شخص دے جو لوگوں میں معزز ہو، اخلاق رذیلہ سے پاک ہو، اور امانت دار ہو
(٢٠٠١) صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار میں سے بنی خطمۃ سے کہا : اے نبی خطمہ ! مؤذن ان کو بناؤ جو تم میں سے افضل ہوں۔ یہ روایت بھی مرسل ہے۔
(۲۰۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لِبَنِی خَطْمَۃَ مِنَ الأَنْصَارِ: ((یَا بَنِی خَطْمَۃَ اجْعَلُوا مُؤَذِّنَکُمْ أَفْضَلَکُمْ فِی أَنْفُسِکُمْ))۔

وَہَذَا أَیْضًا مُرْسَلٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان عادل اور بااعتماد شخص دے جو لوگوں میں معزز ہو، اخلاق رذیلہ سے پاک ہو، اور امانت دار ہو
(٢٠٠٢) قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئے، انھوں نے فرمایا : تمہارے مؤذن کون ہیں ؟ ہم نے کہا : ہمارے غلام اور موالی۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا یعنی اس کو الٹ پلٹ رہے تھے ہمارے غلام اور ہمارے موالی۔ یہ تمہارا بہت بڑا نقص ہے اگر میں اپنے خلیفہ ہونے کے ساتھ ساتھ اذان دینے کی طاقت رکھتا تو میں اذان دیتا۔
(۲۰۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لِبَنِی خَطْمَۃَ مِنَ الأَنْصَارِ: ((یَا بَنِی خَطْمَۃَ اجْعَلُوا مُؤَذِّنَکُمْ أَفْضَلَکُمْ فِی أَنْفُسِکُمْ))۔

وَہَذَا أَیْضًا مُرْسَلٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نابینا شخص کا اذان دینا درست ہے جب اس سے پہلے بیناشخص اذان دے چکا ہو یا کوئی اس کو وقت کی خبر دے دے
(٢٠٠٣) سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بلال (رض) رات کو اذان دیتا ہے تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔ ابن شھاب کہتے ہیں : ابن ام مکتوم نابینا تھے وہ اذان نہیں دیتے تھے جب تک کہ ان سے کہا جاتا کہ تو نے صبح کردی تو نے صبح کردی۔
(۲۰۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا مَالِکُ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ بِلاَلاً یُنَادِی بِلَیْلٍ ، فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یُنَادِیَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ))۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَکَانَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ رَجُلاً أَعْمَی لاَ یُنَادِی حَتَّی یُقَالَ لَہُ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نابینا شخص کا اذان دینا درست ہے جب اس سے پہلے بیناشخص اذان دے چکا ہو یا کوئی اس کو وقت کی خبر دے دے
(٢٠٠٤) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ابن ام مکتوم (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مؤذن تھے اور وہ نابینا تھے۔
(۲۰۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَسَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ کَانَ مُؤَذِّنًا لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ أَعْمَی۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَۃَ الْمُرَادِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۸۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نابینا شخص کا اذان دینا درست ہے جب اس سے پہلے بیناشخص اذان دے چکا ہو یا کوئی اس کو وقت کی خبر دے دے
(٢٠٠٥) (الف) ابی عروبہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر (رض) نابیناکو مؤذن بنانا پسند نہیں کرتے تھے۔ (ب) یہ روایت اور ابن مسعود (رض) والی روایت اس صورت پر محمول ہے جب مؤذن اکیلا ہو اور کوئی بینا شخص اسے اذان کا وقت بتلانے والا نہ ہو۔
(۲۰۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی عَرُوبَۃَ: أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَکُونَ الْمُؤَذِّنُ أَعْمَی۔

وَہَذَا وَالَّذِی رُوِیَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِی ذَلِکَ مَحْمُولٌ عَلَی أَعْمَی مُنْفَرِدٍ لاَ یَکُونُ مَعَہُ بَصِیرٌ یُعْلِمُہُ الْوَقْتَ۔

[ضعیف۔ أخرجہ ابن شیبۃ ۲۲۵۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مؤذن کا اونچی آواز والا ہونا پسندیدہ ہے
(٢٠٠٦) محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو میرے والدعبداللہ بن زید (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خواب کا قصہ بیان کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک یہ سچا خواب ہے ان شاء اللہ۔ بلال (رض) کے ساتھ کھڑا ہو جو تو نے دیکھا ہے انھیں سکھلا دے اور وہ اذان دے، بلاشبہ وہ تجھ سے بلند آواز والا ہے۔

(ب) سیدنا ابو محذورہ کی روایت میں ہے کہ تم میں سے کس کی آواز بلند ہے جو آواز میں نے سنی ہے۔

(ج) ایک اور روایت میں ہے : میں نے ان لوگوں میں سے خوب صورت آواز والے شخص کی اذان سنی ہے۔
(۲۰۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّہِ

قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ ، فَذَکَرَ قِصَّۃَ رُؤْیَاہُ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٍّ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی فَقُمْ مَعَ بِلاَلٍ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَا رَأَیْتَ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ ، فَإِنَّہُ أَنْدَی صَوْتًا مِنْکَ))۔

وَقَدْ رُوِّینَا فِی حَدِیثِ أَبِی مَحْذُورَۃَ مَا دَلَّ عَلَی ذَلِکَ حَیْثُ قَالَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ : أَیُّکُمُ الَّذِی سَمِعْتُ صَوْتَہُ ارْتَفَعَ؟۔

وَفِی الرِّوَایَۃِ الأُخْرَی: لَقَدْ سَمِعْتُ فِی ہَؤُلاَئِ تَأْذِینَ إِنْسَانٍ حَسَنِ الصَّوْتِ۔ وَہِیَ رِوَایَۃُ عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ۔

[حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان آہستہ کہنا اور اقامت جلدی کہنا
(٢٠٠٧) (الف) ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ میرا خیال ہے کہ آپ بکریوں اور کھیتوں کو پسند کرتے ہیں، جب آپ اپنی بکریوں اور کھیتوں میں ہوں تو نماز کے لیے اذان کہیں اور اذان کے وقت اپنی آواز بلندکریں، آپ کی آواز دور تک جن، انسان اور جو چیز بھی سنے گی وہ قیامت کے دن گواہی دے گی۔

(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ آواز کا بلند کرنا اذان (کے کلمات) ٹھہر ٹھہر کر ادا کرنے پر دلیل ہے۔
(۲۰۰۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْوَرَّاقُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی صَعْصَعَۃَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ : إِنِّی أَرَاکَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِیَۃَ ، فَإِذَا کُنْتَ فِی غَنَمِکَ وَبَادِیَتِکَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلاَۃِ ، فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالنِّدَائِ ، فَإِنَّہُ لاَ یَسْمَعُ مَدَی صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَیْئٌ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَالتَّرْغِیبُ فِی رَفْعِ الصَّوْتِ یَدُلُّ عَلَی تَرْتِیلِ الأَذَانِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان آہستہ کہنا اور اقامت جلدی کہنا
(٢٠٠٨) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) سے فرمایا : ” اے بلال ! جب تو اذان دے تو آہستہ آہستہ دے اور جب اقامت کہے تو جلدی کہہ اور اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا فاصلہ رکھ کہ کھانے والا کھانے سے فارغ ہوجائے اور پینے والا اپنے پینے سے اور قضائے حاجت کو جانے والاقضائے حاجت سے فارغ ہوجائے اور تم نہ کھڑے ہو یہاں تک کہ مجھے دیکھ لو۔ (ب) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : عبدالمنعم منکر الحدیث ہے اور یحییٰ بن مسلم بکاء کوفی کو یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
(۲۰۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الْعُمَرِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَہْدِیٍّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمُنْعِمِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لِبِلاَلٍ : ((یَا بِلاَلُ إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْذِمْ ، وَاجْعَلْ بَیْنَ أَذَانِکَ وَإِقَامَتِکَ قَدْرَ مَا یَفْرُغُ الآکِلُ مِنْ أَکْلِہِ ، وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِہِ وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَائِ حَاجَتِہِ ، وَلاَ تَقُومُوا حَتَّی تَرَوْنِی))۔ ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَبْدِ الْمُنْعِمِ بْنِ نُعَیْمٍ أَبِی سَعِیدٍ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ: ہُوَ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ ، وَیَحْیَی بْنُ مُسْلِمٍ الْبَکَّائُ الْکُوفِیُّ ضَعَّفَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ۔

وَقَدْ رُوِیَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَلَیْسَ بِالْمَعْرُوفِ۔

[ضعیف۔ جدًا أخرجہ الترمذی ۱۹۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان آہستہ کہنا اور اقامت جلدی کہنا
(٢٠٠٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) سے فرمایا :۔۔۔ انھوں نے اسی کی مثل قضائے حاجت کے قول تک ذکر کیا ہے اور پہلی سند اس سے زیادہ مشہور ہے۔
(۲۰۰۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا حَمْدَانُ بْنُ الْہَیْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا صُبَیْحُ بْنُ عُمَرَ السِّیرَافِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَائٍ کِلاَہُمَا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِبِلاَلٍ فَذَکَرَ مِثْلَہُ إِلَی قَوْلِہِ لِقَضَائِ حَاجَتِہِ۔ الإِسْنَادُ الأَوَّلُ أَشْہَرُ مِنْ ہَذَا۔

[ضعیف جدًا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان آہستہ کہنا اور اقامت جلدی کہنا
(٢٠١٠) ابو زبیر جو بیت المقدس کے مؤذن تھے فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جب تو اذان دے تو آہستہ آہستہ دے اور جب اقامت کہے تو جلدی کہہ۔
(۲۰۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْعَطَّارُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ مُؤَذِّنِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ قَالَ لِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدِرْ۔

[ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۲۲۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان دینے پر قرعہ ڈالنا
(٢٠١١) (الف) ابوزبیر جو بیت المقدس کے مؤذن تھے فرماتے ہیں کہ عمر (رض) نے ان سے فرمایا : جب تو اقامت کہے تو جلدی کہہ۔

(ب) اصمعی کہتے ہیں : حذم سے مراد حدر ہے یعنی طوالت سے گریز کرنا۔

(ج) ابن عمر (رض) سے نقل کیا گیا ہے کہ وہ اذان ٹھہر ٹھہر کردیتے تھے اور اقامت جلدی کہتے تھے۔

(٢٠١٢) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر لوگ جان لیں کہ اذان اور پہلی صف میں کیا (فضیلت) ہے قرعہ کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو وہ ضرور قرعہ ڈالیں اور اگر وہ جان لیں کہ ظہر (کی نماز) میں کیا فضیلت ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کریں اور اگر وہ جان عشا اور صبح (کی نماز) میں کیا فضیلت ہے تو وہ ضرور ان کے لیے آئیں اگرچہ گھسٹ کر آنا پڑے۔ (ب) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : یہ بات منقول ہے کہ لوگوں نے اذان کہنے میں اختلاف کیا تو سعد (رض) نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا (کہ اذان کون کہے گا) ۔
(۲۰۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنِیہِ الأَنْصَارِیُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ مَرْحُومٍ الْعَطَّارِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ مُؤَذِّنِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لَہُ ذَلِکَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْذِمْ۔

قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ الأَصْمَعِیُّ الْحَذْمُ الْحَدْرُ فِی الإِقَامَۃِ وَقَطْعُ التَّطْوِیلِ۔

وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ کَانَ یُرَتِّلُ الأَذَانَ وَیَحْدِرُ الإِقَامَۃَ۔ ضعیف

(۲۰۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ سُمَیٍّ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی النِّدَائِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ یَجِدُوا إِلاَّ أَنْ یَسْتَہِمُوا عَلَیْہِ لاَسْتَہَمُوا عَلَیْہِ ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی التَّہْجِیرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَیْہِ ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی الْعَتَمَۃِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ: وَیُذْکَرُ أَنَّ قَوْمًا اخْتَلَفُوا فِی الأَذَانِ فَأَقْرَعَ بَیْنَہُمْ سَعْدٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۹۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان دینے پر قرعہ ڈالنا
(٢٠١٢) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر لوگ جان لیں کہ اذان اور پہلی صف میں کیا (فضیلت) ہے قرعہ کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو وہ ضرور قرعہ ڈالیں اور اگر وہ جان لیں کہ ظہر (کی نماز) میں کیا فضیلت ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کریں اور اگر وہ جان عشا اور صبح (کی نماز) میں کیا فضیلت ہے تو وہ ضرور ان کے لیے آئیں اگرچہ گھسٹ کر آنا پڑے۔ (ب) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : یہ بات منقول ہے کہ لوگوں نے اذان کہنے میں اختلاف کیا تو سعد (رض) نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا (کہ اذان کون کہے گا) ۔
(۲۰۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ سُمَیٍّ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی النِّدَائِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ یَجِدُوا إِلاَّ أَنْ یَسْتَہِمُوا عَلَیْہِ لاَسْتَہَمُوا عَلَیْہِ ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی التَّہْجِیرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَیْہِ ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی الْعَتَمَۃِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔

قَالَ الْبُخَارِیُّ: وَیُذْکَرُ أَنَّ قَوْمًا اخْتَلَفُوا فِی الأَذَانِ فَأَقْرَعَ بَیْنَہُمْ سَعْدٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۹۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان دینے پر قرعہ ڈالنا
(٢٠١٣) ابن شبرمہ نے ہمیں بیان کیا کہ لوگ قادسیہ کے میدان میں اذان کہنے کے لیے جھگڑنے لگے تو وہ سیدنا سعد (رض) کے پاس جھگڑا لے کر گئے، انھوں نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا۔
(۲۰۱۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا ابْنُ شُبْرُمَۃَ قَالَ: تَشَاحَّ النَّاسُ فِی الأَذَانِ بِالْقَادِسِیَّۃِ فَاخْتَصَمُوا إِلَی سَعْدٍ فَأَقْرَعَ بَیْنَہُمْ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: