আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ১৯৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان سے فارغ ہو کر کیا کہے
(١٩٣٤) سیدنا سعد بن ابی وقاص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے مؤذن کو اذان کہتے سنا یہ کہا : وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِیتُ بِاللَّہِ رَبًّا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً ، وَبِالإِسْلاَمِ دِینًاتو اس کو معاف کردیا جائے گا۔
(۱۹۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ حُکَیْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ قَالَ حِینَ یَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِیتُ بِاللَّہِ رَبًّا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً ، وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا غُفِرَ لَہُ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۸۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان سے فارغ ہو کر کیا کہے
(١٩٣٥) ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکھایا کہ مغرب کی اذان کے وقت یوں کہو :
( (اللَّہُمَّ إِنَّ ہَذَا إِقْبَالُ لَیْلِکَ وَإِدْبَارُ نَہَارِکَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِکَ فَاغْفِرْ لِی) )
( (اللَّہُمَّ إِنَّ ہَذَا إِقْبَالُ لَیْلِکَ وَإِدْبَارُ نَہَارِکَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِکَ فَاغْفِرْ لِی) )
(۱۹۳۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ الْعَدَنِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ الْمَسْعُودِیُّ عَنْ أَبِی کَثِیرٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: عَلَّمَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ أَقُولَ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ : ((اللَّہُمَّ إِنَّ ہَذَا إِقْبَالُ لَیْلِکَ وَإِدْبَارُ نَہَارِکَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِکَ فَاغْفِرْ لِی))۔
کَذَا فِی کِتَابِی ، وَقَالَ غَیْرُہُ: عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ۔
وَرَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی کَثِیرٍ وَزَادَ فِیہِ : ((وَحُضُورُ صَلاَتِکَ))۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۳۰]
کَذَا فِی کِتَابِی ، وَقَالَ غَیْرُہُ: عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ۔
وَرَوَاہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی کَثِیرٍ وَزَادَ فِیہِ : ((وَحُضُورُ صَلاَتِکَ))۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۳۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا
(١٩٣٦) سیدنا عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یقیناً اذان دینے والے ہم سے فضیلت لے گئے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس طرح کہا کرو جس طرح وہ کہتے ہیں، جب تم ختم کرلو تو جو سوال کرو تم کو دیا جائے گا۔
(۱۹۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ حُیَیٍّ عَنْ أَبِی عَبْدِالرَّحْمَنِ الْحُبُلِیَّ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَجُلاً قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ الْمُؤَذِّنِینَ یَفْضُلُونَنَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ((قُلْ کَمَا یَقُولُونَ ، فَإِذَا انْتَہَیْتَ فَسَلْ تُعْطَ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا
(١٩٣٧) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی۔
(۱۹۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدٍ الْعَمِّیِّ عَنْ أَبِی إِیَاسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یُرَدُّ الدُّعَائُ بَیْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَۃِ)) ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۲۱]
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ أبو داؤد ۵۲۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا
(١٩٣٨) سہل بن سعد نے خبر دی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو چیزیں رد نہیں کی جاتیں یا فرمایا : دو چیزیں بہت ہی کم رد کی جاتیں ہیں : اذان کے وقت دعا کرنا اور لڑائی کے وقت جس وقت لوگ ایک دوسرے کو مار رہے ہوں۔
(۱۹۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ الصَّیْدَلاَنِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ یَعْقُوبَ الزَّمْعِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو حَازِمِ بْنُ دِینَارٍ أَنَّ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((ثِنْتَانِ لاَ تُرَدَّانِ - أَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ - الدُّعَائُ عِنْدَ النِّدَائِ ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِینَ یُلْحِمُ بَعْضُہُ بَعْضًا))۔ رَفَعَہُ الزَّمْعِیُّ وَوَقَفَہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ الإِمَامُ۔ [منکر۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۵۴۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا
(١٩٣٩) سیدنا سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ دو گھڑیوں میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور بہت ہی کم دعا کرنے والے کی دعا رد کی جاتی ہے، اذان کے وقت اور اللہ کے راستے میں صف بندی کرتے ہوئے۔
(۱۹۳۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ: سَاعَتَانِ تُفْتَحُ فِیہِمَا أَبْوَابُ السَّمَائِ ، وَقَلَّ دَاعٍ تُرَدُّ عَلَیْہِ دَعْوَتُہُ ، حَضْرَۃُ النِّدَائِ بِالصَّلاَۃِ ، وَالصَّفُّ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری فی الادب المفرد ۶۶۱]
[صحیح۔ أخرجہ البخاری فی الادب المفرد ۶۶۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کے جواب میں کیا کہا جائے
(١٩٤٠) سیدنا ابی امامہ یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ بلال (رض) اقامت کہنا شروع ہوئے جب انھوں نے کہا : قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ تو نبی نے فرمایا : ( (أَقَامَہَا اللَّہُ وَأَدَامَہَا) )
(۱۹۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَوْ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّ بِلاَلاً أَخَذَ فِی الإِقَامَۃِ فَلَمَّا قَالَ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَقَامَہَا اللَّہُ وَأَدَامَہَا))۔ وَقَالَ فِی سَائِرِ الإِقَامَۃِ کَنَحْوِ حَدِیثِ عُمَرَ فِی الأَذَانِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا إِنَّ صَحَّ شَاہِدٌ لِمَا اسْتَحَبَّہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی مِنْ قَوْلِہِ: اللَّہُمَّ أَقِمْہَا وَأَدِمْہَا وَاجْعَلْنَا مِنْ صَالِحِ أَہْلِہَا عَمَلاً۔ وَبَعْضُ ہَذِہِ اللَّفْظَّۃِ فِیمَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۲۸]
قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا إِنَّ صَحَّ شَاہِدٌ لِمَا اسْتَحَبَّہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی مِنْ قَوْلِہِ: اللَّہُمَّ أَقِمْہَا وَأَدِمْہَا وَاجْعَلْنَا مِنْ صَالِحِ أَہْلِہَا عَمَلاً۔ وَبَعْضُ ہَذِہِ اللَّفْظَّۃِ فِیمَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۵۲۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقامت کے جواب میں کیا کہا جائے
(١٩٤١) أبی عیسیٰ ا سواری سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) جب اذان سنتے تو کہتے : اللَّہُمَّ رَبِّ ہَذِہِ الدَّعْوَۃِ الْمُسْتَجَابَۃِ الْمُسْتَجَابِ لَہَا دَعْوَۃِ الْحَقِّ وَکَلِمَۃِ التَّقْوَی تَوَفَّنِی عَلَیْہَا، وَأَحْیِنِی عَلَیْہَا، وَاجْعَلْنِی مِنْ صَالِحِ أَہْلِہَا عَمَلاً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔
(۱۹۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عِیسَی الأَسْوَارِیِّ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ الأَذَانَ قَالَ: اللَّہُمَّ رَبِّ ہَذِہِ الدَّعْوَۃِ الْمُسْتَجَابَۃِ الْمُسْتَجَابِ لَہَا دَعْوَۃِ الْحَقِّ وَکَلِمَۃِ التَّقْوَی تَوَفَّنِی عَلَیْہَا ، وَأَحْیِنِی عَلَیْہَا ، وَاجْعَلْنِی مِنْ صَالِحِ أَہْلِہَا عَمَلاً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
[حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الدعاء ۴۶۸]
[حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الدعاء ۴۶۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر میں اذان دینا
(١٩٤٢) مالک بن حویرث (رض) سے روایت ہے کہ میں اور میرے چچا کا بیٹا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، آپ نے کہا : جب تم سفر کرو تو اذان دو اور اقامت کہو اور تم دونوں میں سے بڑا امامت کرائے۔
(۱۹۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِی فَقَالَ : إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِیمَا ، وَلْیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُکُمَا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۰۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر میں اذان دینا
(١٩٤٣) (الف) جناب سفیان سے روایت ہے انھوں نے اسی سند کے ساتھ اور اسی کے ہم معنی بیان کیا، مگر انھوں نے یہ قول ” ابن عم لی “ ذکر نہیں کیا۔ (ب) گزشتہ ابواب میں ابو جحیفہ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں بلال (رض) کے ابطح میں اذان دینے کا ذکر ہے۔ ابوقتادہ کی روایت میں ہے کہ بلال نے خیبر سے واپسی پر اذان کہی۔ آئندہ ان شاء اللہ ہم ظہر کو ٹھنڈے کرنے کے مسئلہ میں ابوذر کی حدیث سے یہ ثابت کریں گے کہ سفر میں اذان اور اقامت کہنا سنت ہے۔
(۱۹۴۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا وَالْمَنِیعِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ زَنْجُوَیْہِ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ عَنْ سُفْیَانَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ ابْنُ عَمٍّ لِی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفِرْیَابِیِّ۔
وَفِیمَا مَضَی مِنْ حَدِیثِ أَبِی جُحَیْفَۃَ فِی أَذَانِ بِلاَلٍ بِالأَبْطَحِ وَحَدِیثِ أَبِی قَتَادَۃَ وَغَیْرِہِ فِی أَذَانِ بِلاَلٍ مُنْصَرَفَہُمْ مِنْ خَیْبَرَ ، وَفِیمَا نَذْکُرُہُ فِی مَسْأَلَۃِ الإِبْرَادِ بِالظُّہْرِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی ذَرٍّ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ الأَذَانَ وَالإِقَامَۃَ مِنْ سُنَّۃِ الصَّلاَۃِ فِی السَّفَرِ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفِرْیَابِیِّ۔
وَفِیمَا مَضَی مِنْ حَدِیثِ أَبِی جُحَیْفَۃَ فِی أَذَانِ بِلاَلٍ بِالأَبْطَحِ وَحَدِیثِ أَبِی قَتَادَۃَ وَغَیْرِہِ فِی أَذَانِ بِلاَلٍ مُنْصَرَفَہُمْ مِنْ خَیْبَرَ ، وَفِیمَا نَذْکُرُہُ فِی مَسْأَلَۃِ الإِبْرَادِ بِالظُّہْرِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی ذَرٍّ دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ الأَذَانَ وَالإِقَامَۃَ مِنْ سُنَّۃِ الصَّلاَۃِ فِی السَّفَرِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سفر میں اقامت پر اکتفا کرنے کا بیان
(١٩٤٤) نافع سے روایت ہے کہ بیشک ابن عمر (رض) سفر کی نماز میں اقامت سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تھے، (یعنی اذان نہیں دیتے تھے) سوائے صبح کی نماز کے۔ وہ اس میں اذان دیتے تھے اور اقامت کہتے اور فرماتے : اذان امام کے لیے ہے جس کی طرف لوگ جمع ہوں۔
(۱۹۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ لاَ یَزِیدُ عَلَی الإِقَامَۃِ فِی السَّفَرِ فِی الصَّلاَۃِ إِلاَّ فِی الصُّبْحِ ، فَإِنَّہُ کَانَ یُؤَذِّنُ فِیہَا وَیُقِیمُ وَیَقُولُ: إِنَّمَا الأَذَانُ لِلإِمَامِ الَّذِی یَجْتَمِعُ إِلَیْہِ النَّاسُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے سفر میں اقامت پر اکتفا کرنے کا بیان
(١٩٤٥) (الف) أبی زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے سوال کیا : کیا میں سفر میں اذان دوں ؟ انھوں نے کہا : کس کے لیے اذان دے گا ؟ کیڑے مکوڑوں کے لیے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کا مؤقف محتمل ہے۔ اگر سیدنا ابو سعید خدری کی جنگل میں اذان والی حدیث اور سیدنا انس بن مالک وغیرہ کی چرواہے والی حدیث نہ ہوتی۔ ان تمام احادیث میں دلالت ہے کہ اذان کہنا سنت ہے اگرچہ آدمی اکیلا ہو۔ سیدنا ابن عمر (رض) کی حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ سفر میں اذان ترک کرنا بہ نسبت حضر کے کم درجہ کی چیز ہے۔
(ج) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے، وہ مسافر کے متعلق فرماتے ہیں : اگر وہ چاہے اذان دے اور اقامت کہے اور اگر چاہے تو اقامت کہے، بعض لوگوں نے ابن عمر (رض) کی حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے اور یہ وہم فاحش ہے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کا مؤقف محتمل ہے۔ اگر سیدنا ابو سعید خدری کی جنگل میں اذان والی حدیث اور سیدنا انس بن مالک وغیرہ کی چرواہے والی حدیث نہ ہوتی۔ ان تمام احادیث میں دلالت ہے کہ اذان کہنا سنت ہے اگرچہ آدمی اکیلا ہو۔ سیدنا ابن عمر (رض) کی حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ سفر میں اذان ترک کرنا بہ نسبت حضر کے کم درجہ کی چیز ہے۔
(ج) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے، وہ مسافر کے متعلق فرماتے ہیں : اگر وہ چاہے اذان دے اور اقامت کہے اور اگر چاہے تو اقامت کہے، بعض لوگوں نے ابن عمر (رض) کی حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے اور یہ وہم فاحش ہے۔
(۱۹۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ أَبُو خَیْثَمَۃَ عَنْ أَخِیہِ الرُّحَیْلِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ أُؤَذِّنُ فِی السَّفَرِ؟ قَالَ: لِمَنْ تُؤَذِّنُ لِلْفَأْرِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا الَّذِی ذَہَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عُمَرَ شَیْئٌ یُحْتَمَلُ ، لَوْلاَ حَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فِی الأَذَانِ فِی الْبَادِیَۃِ وَحَدِیثُ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَغَیْرِہِ فِی أَذَانِ الرَّاعِی، وَفِی کُلِّ ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الأَذَانَ مِنْ سُنَّۃِ الصَّلاَۃِ وَإِنْ کَانَ وَحْدَہُ ، وَیُسْتَدَلُّ بِحَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ عَلَی أَنَّ تَرْکَ الأَذَانِ فِی السَّفَرِ أَخَفُّ مِنْ تَرْکِہِ فِی الْحَضَرِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَنَّہُ قَالَ فِی الْمُسَافِرِ: إِنْ شَائَ أَذَّنَ وَأَقَامَ ، وَإِنْ شَائَ أَقَامَ۔ وَبَعْضُ النَّاسِ رَفَعَ حَدِیثَ ابْنِ عُمَرَ وَہُوَ وَہْمٌ فَاحِشٌ۔ [ضعیف]
قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا الَّذِی ذَہَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عُمَرَ شَیْئٌ یُحْتَمَلُ ، لَوْلاَ حَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فِی الأَذَانِ فِی الْبَادِیَۃِ وَحَدِیثُ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَغَیْرِہِ فِی أَذَانِ الرَّاعِی، وَفِی کُلِّ ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الأَذَانَ مِنْ سُنَّۃِ الصَّلاَۃِ وَإِنْ کَانَ وَحْدَہُ ، وَیُسْتَدَلُّ بِحَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ عَلَی أَنَّ تَرْکَ الأَذَانِ فِی السَّفَرِ أَخَفُّ مِنْ تَرْکِہِ فِی الْحَضَرِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَنَّہُ قَالَ فِی الْمُسَافِرِ: إِنْ شَائَ أَذَّنَ وَأَقَامَ ، وَإِنْ شَائَ أَقَامَ۔ وَبَعْضُ النَّاسِ رَفَعَ حَدِیثَ ابْنِ عُمَرَ وَہُوَ وَہْمٌ فَاحِشٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف اقامت کہنا
(١٩٤٦) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہتے ہیں بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ دوہری اذان کہے اور اکیلی اقامت کہے۔
(۱۹۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ الْخَفَّافُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف اقامت کہنا
(١٩٤٧) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ بلال (رض) کو حکم دیا گیا، اذان دہری کہے اور اقامت وتر کہے۔
(۱۹۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔ فَحَدَّثْتُ بِہِ أَیُّوبَ فَقَالَ: إِلاَّ الإِقَامَۃَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عُلَیَّۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۸]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عُلَیَّۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف اقامت کہنا
(١٩٤٨) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ اذان دوہری کہے اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہے، مگر قدقامت الصلوٰۃ دو مرتبہ کہے۔
(۱۹۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ سِمَاکِ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ إِلاَّ الإِقَامَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۵۸۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف اقامت کہنا
(١٩٤٩) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ اذان دوہری کہے اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہے۔
(۱۹۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ ابْنُ بِنْتِ مَنِیعٍ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ خَلَفِ بْنِ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۷۸]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ خَلَفِ بْنِ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف اقامت کہنا
(١٩٥٠) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا اور انھوں نے یہود اور نصاریٰ کا ذکر کیا، بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ اذان دوہری کہے اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہے۔
(۱۹۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الأَدِیبُ الْبَسْطَامِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی ابْنُ خُزَیْمَۃَ - عَلَی شَکٍّ فِیہِ - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ہِلاَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: ذَکَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ وَذَکَرُوا الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی، فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَمْرٍو رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۸]
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَمْرٍو رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف اقامت کہنا
(١٩٥١) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ اذان دوہری کہے اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہے۔
(۱۹۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یُثَنِّیَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَوَارِیرِیِّ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۷۸]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَوَارِیرِیِّ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف اقامت کہنا
(١٩٥٢) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ جب لوگ زیادہ ہوگئے تو انھوں نے ذکر کیا کہ وہ کس چیز کے ساتھ نماز کے وقت کو معلوم کریں اور اس کو پہچانیں۔ لوگوں نے ذکر کیا کہ آگ جلائیں یا ناقوس بجائیں بالآخر بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ اذان دوہری کہے اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہے۔
(۱۹۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا کَثُرَ النَّاسُ ذَکَرُوا أَنْ یُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلاَۃِ بِشَیْئٍ یَعْرِفُونَہُ ، فَذَکَرُوا أَنْ یُنَوِّرُوا نَارًا أَوْ یَضْرِبُوا نَاقُوسًا فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ وُہَیْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۷۸]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ وُہَیْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف اقامت کہنا
(١٩٥٣) انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ جب لوگ زیادہ ہوگئے تو انھوں نے ذکر کیا کہ وہ کس چیز کے ساتھ نماز کے وقت کو معلوم کریں اور اس کو پہچانیں۔ لوگوں نے ذکر کیا کہ آگ جلائیں یا ناقوس بجائیں، پھر بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ اذان دوہری کہے اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہے۔
(۱۹۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ یَعْنِی الثَّقَفِیَّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا کَثُرَ النَّاسُ ذَکَرُوا أَنْ یُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلاَۃِ بِشَیْئٍ یَعْرِفُونَہُ ، فَذَکَرُوا أَنْ یُوقِدُوا نَارًا أَوْ یَضْرِبُوا نَاقُوسًا ، فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۷۸]
তাহকীক: