আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২ টি
হাদীস নং: ১২১৫৫
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے والدین کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا یا دونوں میں سے ایک کے اسلام کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) کی اولاد میں سے
(١٢١٥٠) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ انصار کے آدمیوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں اجازت دے دیں۔ ہم عباس (رض) کا فدیہ چھوڑ دیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ایک درہم بھی نہ چھوڑنا۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اس وقت بچے تھے، مگر ان کی والدہ مسلمان ہوگئیں، چنانچہ عبداللہ بھی ماں کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوگئے۔
امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) اپنی والدہ کے ساتھ کمزوروں میں سے تھے، اپنے باپ کے ساتھ اپنی قوم کے دین پر نہ تھے۔
امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) اپنی والدہ کے ساتھ کمزوروں میں سے تھے، اپنے باپ کے ساتھ اپنی قوم کے دین پر نہ تھے۔
(۱۲۱۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ قَالَ مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ : أَنَّ رِجَالاً مِنَ الأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا: ائْذَنْ لَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ فَلْنَتْرُکْ لاِبْنِ أُخْتِنَا عَبَّاسٍ فِدَائَ ہُ فَقَالَ: لاَ وَاللَّہِ لاَ تَذَرُونَ دِرْہَمًا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔
وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ إِذْ ذَاکَ کَانَ صَبِیًّا صَغِیرًا إِلاَّ أَنَّ أُمَّہُ کَانَتْ أَسْلَمَتْ فَصَارَ مُسْلِمًا بِإِسْلاَمِ أُمِّہِ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَعَ أُمِّہِ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ وَلَمْ یَکُنْ مَعَ أَبِیہِ عَلَی دِینِ قَوْمِہِ۔ [بخاری ۲۵۲۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔
وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ إِذْ ذَاکَ کَانَ صَبِیًّا صَغِیرًا إِلاَّ أَنَّ أُمَّہُ کَانَتْ أَسْلَمَتْ فَصَارَ مُسْلِمًا بِإِسْلاَمِ أُمِّہِ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَعَ أُمِّہِ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ وَلَمْ یَکُنْ مَعَ أَبِیہِ عَلَی دِینِ قَوْمِہِ۔ [بخاری ۲۵۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৫৬
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے والدین کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا یا دونوں میں سے ایک کے اسلام کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) کی اولاد میں سے
(١٢١٥١) عبیداللہ بن یزید (رض) فرماتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) سے سنا کہ میں اور میری ماں کمزوروں میں سے تھے، میری ماں عورتوں میں تھی اور میں بچوں میں تھا۔
(۱۲۱۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : أَنَا وَأُمِّی مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ کَانَتْ أُمِّی مِنَ النِّسَائِ وَأَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سُفْیَانَ۔ [بخاری ۱۳۵۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سُفْیَانَ۔ [بخاری ۱۳۵۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৫৭
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے والدین کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا یا دونوں میں سے ایک کے اسلام کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) کی اولاد میں سے
(١٢١٥٢) حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کے بارے میں منقول ہے : {إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ لاَ یَسْتَطِیعُونَ حِیلَۃَ وَلاَ یَہْتَدُونَ سَبِیلاً } آدمیوں، عورتوں اور بچوں میں سے کمزور لوگ جو حیلہ کی طاقت نہ رکھتے تھے اور نہ راستہ پاتے تھے، ابن عباس (رض) فرماتی ہیں : میں اور میری ماں ان میں سے تھے، جن کو اللہ نے معذور قرار دیا۔
(۱۲۱۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُوالنُّعْمَانِ عَارِمٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی ہَذِہ الآیَۃِ {إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ لاَ یَسْتَطِیعُونَ حِیلَۃَ وَلاَ یَہْتَدُونَ سَبِیلاً} قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَأُمِّی مِمَّنْ عَذَرَ اللَّہُ تَعَالَی ذِکْرُہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ وَسُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৫৮
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے والدین کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا یا دونوں میں سے ایک کے اسلام کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) کی اولاد میں سے
(١٢١٥٣) حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام زیادہ ہوتا ہے کم نہیں ہوتا۔
(۱۲۱۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی حَکِیمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ الدِّیلِیِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الإِسْلاَمُ یَزِیدُ وَلاَ یَنْقُصُ۔ [ضعیف۔ ابوداود ۲۹۱۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৫৯
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے والدین کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا یا دونوں میں سے ایک کے اسلام کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) کی اولاد میں سے
(١٢١٥٤) عبدالوارث نے بیان کیا کہ ان کا ارادہ یہ تھا کہ اسلام غلبہ پا جاتا ہے اور اس کا غلبہ پانا اس طرح ہے کہ بچے کو اسلام کا بھی وہی حکم ہے جو اس کے والدین میں سے کسی کو ہو۔
(۱۲۱۵۴) وَرَوَاہُ عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ یَحْیَی عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ أَنَّ رَجُلاً حَدَّثَہُ : أَنَّ مُعَاذًا قَالَ فَذَکَرَہُ کَذَلِکَ مَرْفُوعًا أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ۔ وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّ حُکْمَ الإِسْلاَمِ یُغَلَّبُ وَمِنْ تَغْلِیبِہِ أَنْ یُحْکَمَ لِلْوَلَدِ بِالإِسْلاَمِ بِإِسْلاَمِ أَحَدِ أَبَوَیْہِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬০
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے والدین کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا یا دونوں میں سے ایک کے اسلام کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) کی اولاد میں سے
(١٢١٥٥) عائذ بن عمرو فتح مکہ کے دن ابوسفیان بن حرب کے ساتھ آئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ عائذ بن عمرو اور ابوسفیان ہیں، اسلام ان دونوں سے زیادہ عزت والا ہے، اسلام بلند ہوتا ہے اور اس پر کوئی فوقیت نہیں رکھتا۔
امام احمد (رح) فرماتے ہیں : حسن، شریح، ابراہیم اور قتادہ نے کہا : جب دونوں میں سے ایک مسلمان ہو تو بچہ مسلم کے تابع ہوگا۔
امام احمد (رح) فرماتے ہیں : حسن، شریح، ابراہیم اور قتادہ نے کہا : جب دونوں میں سے ایک مسلمان ہو تو بچہ مسلم کے تابع ہوگا۔
(۱۲۱۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُبَانَۃَ الشَّاہِدُ بِہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمُوَیْہِ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا شَبَابُ بْنُ خَیَّاطٍ الْعُصْفُرِیُّ حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَشْرَجٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّہُ جَائَ یَوْمَ الْفَتْحِ مَعَ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَوْلَہُ أَصْحَابُہُ فَقَالُوا ہَذَا أَبُو سُفْیَانَ وَعَائِذُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَذَا عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو سُفْیَانَ الإِسْلاَمُ أَعَزُّ مِنْ ذَلِکَ الإِسْلاَمُ یَعْلُو وَلاَ یُعْلَی ۔
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَالَ الْحَسَنُ وَشُرَیْحُ وَإِبْرَاہِیمُ وَقَتَادَۃُ : إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُہُمَا فَالْوَلَدَ مَعَ الْمُسْلِمِ۔ [ضعیف]
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَالَ الْحَسَنُ وَشُرَیْحُ وَإِبْرَاہِیمُ وَقَتَادَۃُ : إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُہُمَا فَالْوَلَدَ مَعَ الْمُسْلِمِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬১
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچے پر اسلام کا حکم نہیں ہوگا جب کہ اس کے والدین کافر ہوں یہاں تک کہ وہ بلوغت کو پہنچ جائے اور اسلام کو پہچان لے
(١٢١٥٦) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے اور بےعقل سے یہاں تک وہ ٹھیک ہوجائے اور سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ جاگ جائے۔
(۱۲۱۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مُوسَی قَالاَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ وَمُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَۃٍ عَنِ الصَّبِیِّ حَتَّی یَحْتَلِمَ وَعَنِ الْمَعْتُوہِ حَتَّی یُفِیقَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّی یَسْتَیْقِظَ ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح لغیرہ]
وَرُوِّینَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬২
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٥٧) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا، وہ بیمار ہوگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی عیادت کے لیے گئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے سر کے پاس بیٹھ گئے، بچے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو اس نے کہا : ابوالقاسم کی اطاعت کرو، وہ مسلمان ہوگیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نکلے تو فرما رہے تھے : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری وجہ سے اس کو آگ سے بچا لیا۔
(۱۲۱۵۷) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ غُلاَمًا مِنَ الْیَہُودِ کَانَ یَخْدُمُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَمَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُہُ فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عِنْدَ رَأْسِہِ فَنَظَرَ الْغُلاَمُ إِلَی أَبِیہِ فَقَالَ : أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَنْقَذَہُ بِی مِنَ النَّارِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [بخاری ۱۳۵۶]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ غُلاَمًا مِنَ الْیَہُودِ کَانَ یَخْدُمُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَمَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ -ﷺ- یَعُودُہُ فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عِنْدَ رَأْسِہِ فَنَظَرَ الْغُلاَمُ إِلَی أَبِیہِ فَقَالَ : أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَنْقَذَہُ بِی مِنَ النَّارِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [بخاری ۱۳۵۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬৩
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٥٨) ابوحمزہ انصار کے ایک آدمی نے زید بن ارقم سے سنا کہ سب سے پہلے جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، وہ علی بن ابی طالب (رض) ہیں۔ کہتے ہیں : میں نے ابراہیم کے سامنے ذکر کیا تو انھوں نے اس کا انکار کیا اور کہا : وہ ابوبکر ہے۔
(۱۲۱۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ أَخْبَرَنِی قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَۃَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ یَقُولُ : أَوَّلُ مَنْ صَلَّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالَ : فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لإِبْرَاہِیمَ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ۔ [صحیح۔ النسائی فی الکبری ۸۳۳۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬৪
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٥٩) نجیب بن سری فرماتے ہیں : حضرت علی (رض) نے کہا : میں ان میں سے اسلام کی طرف سبقت لے جانے والا ہوں حالانکہ میں بچہ تھا، میں ابھی بلوغت کو نہ پہنچا تھا۔
اہل علم نے حضرت علی (رض) کے اسلام لانے کی عمر میں اختلاف کیا ہے۔
اہل علم نے حضرت علی (رض) کے اسلام لانے کی عمر میں اختلاف کیا ہے۔
(۱۲۱۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ زَکَرِیَّا الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَائٍ الْمَقْدِسِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّامِیُّ عَنِ النَّجِیبِ بْنِ السَّرِیِّ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی حَدِیثٍ ذَکَرَہُ : سَبَقْتُہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ قِدْمًا غُلاَمًا مَا بَلَغْتُ أَوَانَ حُلْمِی۔
لَیْسَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَبْدَانَ قِدْمًا وَہَذَا شَائِعٌ فِیمَا بَیْنَ النَّاسِ مِنْ قَوْلِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَقَعْ إِلَیْنَا بِإِسْنَادٍ یُحْتَجُّ بِمِثْلِہِ وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِی سِنِّہِ یَوْمَ أَسْلِمَ۔[ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ زَکَرِیَّا الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَائٍ الْمَقْدِسِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّامِیُّ عَنِ النَّجِیبِ بْنِ السَّرِیِّ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی حَدِیثٍ ذَکَرَہُ : سَبَقْتُہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ قِدْمًا غُلاَمًا مَا بَلَغْتُ أَوَانَ حُلْمِی۔
لَیْسَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَبْدَانَ قِدْمًا وَہَذَا شَائِعٌ فِیمَا بَیْنَ النَّاسِ مِنْ قَوْلِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَقَعْ إِلَیْنَا بِإِسْنَادٍ یُحْتَجُّ بِمِثْلِہِ وَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِی سِنِّہِ یَوْمَ أَسْلِمَ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬৫
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٦٠) عروہ سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) جب اسلام لائے تو ان کی عمر آٹھ سال تھی۔
(۱۲۱۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبُو الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : أَسْلَمَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِینَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬৬
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٦١) محمد بن اسحاق کہتے ہیں : حضرت علی (رض) جب اسلام لائے تو ان کی عمر دس سال تھی۔
(۱۲۱۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ: أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَسْلَمَ وَہُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِینَ۔[حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬৭
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٦٢) مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) جب اسلام لائے تو ان کی عمر دس برس تھی۔
(۱۲۱۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فِی الْمَغَازِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا یُونُسُ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی نَجِیحٍ قَالَ أُرَاہُ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : أَسْلَمَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِینَ۔
[ضعیف]
[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬৮
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٦٣) حسین بن ولید فرماتے ہیں : میں نے شریک سے سنا وہ کہتے تھے کہ علی (رض) گیارہ سال کی عمر میں مسلمان ہوئے۔
(۱۲۱۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ قَالَ سَمِعْتُ الْحُسَیْنَ بْنَ الْوَلِیدِ یَقُولُ سَمِعْتُ شَرِیکًا یَقُولُ : أَسْلَمَ عَلِیٌّ وَہُوَ ابْنُ إِحْدَی عَشْرَۃَ سَنَۃً۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬৯
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٦٤) حضرت حسن (رض) سے روایت ہے کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی بن ابی طالب (رض) ہیں اور وہ پندرہ یا سولہ برس کے تھے۔
دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ حضرت خدیجہ (رض) کے بعد سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی (رض) ہیں اور وہ اس وقت پندرہ یا سولہ برس کے تھے۔
دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ حضرت خدیجہ (رض) کے بعد سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی (رض) ہیں اور وہ اس وقت پندرہ یا سولہ برس کے تھے۔
(۱۲۱۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عِیسَی بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو بِشْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ وَغَیْرِہِ : وَکَانَ أَوَّلَ مَنْ آمَنَ بِہِ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَہُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ أَوْ سِتَّ عَشْرَۃَ۔ لَفْظُ حَدِیثِہِمَا وَفِی حَدِیثِ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ عَنِ الْحَسَنِ وَغَیْرِ وَاحِدٍ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِیٌّ بَعْدَ خَدِیجَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَہُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً أَوْ سِتَّ عَشْرَۃَ سَنَۃً۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৭০
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٦٥) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن جھنڈا حضرت علی (رض) کو دیا اور وہ اس وقت بیس برس کے تھے۔
امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ آنے کے ایک سال یا نصف سال بعد غزوہ بدر واقع ہوا اور انھوں نے مکہ میں بعثت کے بعد کی مدت کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے : دس برس اور یہ بھی کہا گیا ہے : تیرہ برس اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پندرہ برس۔ اگر مکہ میں دس برس مدت تھی تو صحیح ہے کہ حضرت علی (رض) غزوہ بدر کے وقت بیس برس کے تھے، تو ان کی اسلام لانے کی عمر اس کے قریب ہوگی جو عروہ نے بیان کیا۔ اگر مکہ کی مدت تیرہ یا پندرہ برس ہے تو یہ کم ہی صحیح ہے۔
انھوں نے حضرت علی (رض) کی شہادت کے وقت ان کی عمر میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے : پینسٹھ سال اور یہ بھی کہا گیا ہے : تریسٹھ سال اور اس سے کم بھی بیان کی گئی ہے اور مشہور یہ ہے کہ تریسٹھ سال۔ اگر ہجرت رسول کے چالیسویں سال کی بنیاد بنایا جائے تو ان کی یہ عمر اس قول کے لحاظ سے ہے، جس نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں دس سے تیرہ سال رہے اور اگر اس قول کو بنیاد بنایا جائے جس نے کہا : تیرہ سال سے دس سال تک تو یہ اکثر روایات میں ہے، جس میں آپ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی۔ جس میں احتمال ہے کہ آپ (رض) بالغ تھے اور جو اشعار میں منقول ہے ان کی اسناد ضعیف ہیں ‘ بالغ ہونے کا صحیح حکم جو ممیز بچے سے الگ ہے، شرعاً حضرت علی (رض) کے اسلام کے بعد ہے، ان کا اسلام لانا ان کے صحیح ہونے کا حکم ہے۔ چونکہ باقیوں کے لیے اسلام سے متصف ہونا، بلوغت کے بعد ہے یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مخاطب کر کے اسلام کی دعوت دی ہے، جبکہ باقی بچے مخاطب نہیں ہیں، یا پھر ممیز بچے کا قول تب اس پر صحت کا حکم ہوگا اس کے علاوہ شرع کے وارد ہونے سے پہلے یا جب وہ محتلم ہوگیا تو وہ بالغ ہوجائے گا۔
قتادہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی (رض) نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی عمر پندرہ سال یا سولہ تھی۔
امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ آنے کے ایک سال یا نصف سال بعد غزوہ بدر واقع ہوا اور انھوں نے مکہ میں بعثت کے بعد کی مدت کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے : دس برس اور یہ بھی کہا گیا ہے : تیرہ برس اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پندرہ برس۔ اگر مکہ میں دس برس مدت تھی تو صحیح ہے کہ حضرت علی (رض) غزوہ بدر کے وقت بیس برس کے تھے، تو ان کی اسلام لانے کی عمر اس کے قریب ہوگی جو عروہ نے بیان کیا۔ اگر مکہ کی مدت تیرہ یا پندرہ برس ہے تو یہ کم ہی صحیح ہے۔
انھوں نے حضرت علی (رض) کی شہادت کے وقت ان کی عمر میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے : پینسٹھ سال اور یہ بھی کہا گیا ہے : تریسٹھ سال اور اس سے کم بھی بیان کی گئی ہے اور مشہور یہ ہے کہ تریسٹھ سال۔ اگر ہجرت رسول کے چالیسویں سال کی بنیاد بنایا جائے تو ان کی یہ عمر اس قول کے لحاظ سے ہے، جس نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں دس سے تیرہ سال رہے اور اگر اس قول کو بنیاد بنایا جائے جس نے کہا : تیرہ سال سے دس سال تک تو یہ اکثر روایات میں ہے، جس میں آپ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی۔ جس میں احتمال ہے کہ آپ (رض) بالغ تھے اور جو اشعار میں منقول ہے ان کی اسناد ضعیف ہیں ‘ بالغ ہونے کا صحیح حکم جو ممیز بچے سے الگ ہے، شرعاً حضرت علی (رض) کے اسلام کے بعد ہے، ان کا اسلام لانا ان کے صحیح ہونے کا حکم ہے۔ چونکہ باقیوں کے لیے اسلام سے متصف ہونا، بلوغت کے بعد ہے یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مخاطب کر کے اسلام کی دعوت دی ہے، جبکہ باقی بچے مخاطب نہیں ہیں، یا پھر ممیز بچے کا قول تب اس پر صحت کا حکم ہوگا اس کے علاوہ شرع کے وارد ہونے سے پہلے یا جب وہ محتلم ہوگیا تو وہ بالغ ہوجائے گا۔
قتادہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی (رض) نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی عمر پندرہ سال یا سولہ تھی۔
(۱۲۱۶۵) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَفَعَ الرَّایَۃَ إِلَی عَلِیٍّ یَوْمَ بَدْرٍ وَہُوَ ابْنُ عِشْرِینَ سَنَۃً۔
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَوَقْعَۃُ بَدْرٍ کَانَتْ بَعْدَ مَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ بِسَنَۃٍ وَنِصْفِ سَنَۃٍ وَاخْتَلَفُوا فِی قَدْرِ مُقَامِہِ بِمَکَّۃَ بَعْد مَا بُعِثَ فَقِیلَ عَشْرًا وَقِیلَ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَقِیلَ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَإِنْ کَانَ عَشْرًا وَصَحَّ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ ابْنَ عِشْرِینَ سَنَۃً یَوْمَ بَدْرٍ رَجَعَ سِنُّہُ یَوْمَ أَسْلَمَ إِلَی قَرِیبٍ مِمَّا قَالَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ وَإِنْ کَانَ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ أَوْ خَمْسَ عَشْرَۃَ فَإِلَی أَقَلَّ مِنْ ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَاخْتَلَفُوا فِی سِنِّ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمَ قُتِلَ فَقِیلَ خَمْسٌ وَسِتُّونَ وَقِیلَ ثَلاَثٌ وَسِتُّونَ وَقِیلَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِکَ وَأَشْہَرُہُ ثَلاَثٌ وَسِتُّونَ عَلَی رَأْسِ أَرْبَعِینَ مِنْ مُہَاجَرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَیَرْجِعُ سِنُّہُ یَوْمَ أَسْلَمَ عَلَی قَوْلِ مَنْ قَالَ مَکَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ عَشْرًا إِلَی ثَلاَثَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَعَلَی قَوْلِ مَنْ قَالَ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ إِلَی عَشْرِ سِنِینَ فَفِی أَکْثَرِ الرِّوَایَاتِ کَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَلَغَ مِنَ السِّنِّ حِینَ صَلَّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَدْرًا یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ احْتَلَمَ فِیہِ وَمَا رُوِیَ مِنَ الشِّعْرِ مُحْتَمَلٌ لِلتَّأْوِیلِ مَعَ ضَعْفِ إِسْنَادِہِ عَلَی أَنَّ الْحُکْمَ بِصِحَّۃِ قَوْلِ الْبَالِغِ دُونَ الصَّبِیِّ الْمُمَیِّزِ وَقَعَ شَرْعُہُ بَعْدَ إِسْلاَمِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَإِسْلاَمُہُ کَانَ مَحْکُومًا بِصِحَّتِہِ إِمَّا لأَنَّہُ بَقِیَ حَتَّی وَصَفَ الإِسْلاَمَ بَعْدَ بُلُوغِہِ أَوْ لأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَاطَبَہُ بِالدُّعَائِ إِلَی الإِسْلاَمِ وَغَیْرُہُ مِنَ الصِّبْیَانِ غَیْرُ مُخَاطَبٍ أَوْ لأَنْ قَوْلَ الصَّبِیِّ الْمُمَیِّزِ إِذْ ذَاکَ کَانَ مَحْکُومًا بِصِحَّتِہِ قَبْلَ وُرُودِ الشَّرْعِ بِغَیْرِہِ أَوْ کَانَ قَدِ احْتَلَمَ فَصَارَ بَالِغًا بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ہَذَا وَقَدْ ذَہَبَ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ وَغَیْرُ وَاحِدٍ فِی رِوَایَۃِ قَتَادَۃَ إِلَی أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَسْلَمَ وَہُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً أَوْ سِتَّ عَشْرَۃَ سَنَۃً کَمَا مَضَی ذِکْرُہُ۔
[حسن۔ الحاکم ۴۵۶۲]
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَوَقْعَۃُ بَدْرٍ کَانَتْ بَعْدَ مَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ بِسَنَۃٍ وَنِصْفِ سَنَۃٍ وَاخْتَلَفُوا فِی قَدْرِ مُقَامِہِ بِمَکَّۃَ بَعْد مَا بُعِثَ فَقِیلَ عَشْرًا وَقِیلَ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَقِیلَ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَإِنْ کَانَ عَشْرًا وَصَحَّ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ ابْنَ عِشْرِینَ سَنَۃً یَوْمَ بَدْرٍ رَجَعَ سِنُّہُ یَوْمَ أَسْلَمَ إِلَی قَرِیبٍ مِمَّا قَالَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ وَإِنْ کَانَ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ أَوْ خَمْسَ عَشْرَۃَ فَإِلَی أَقَلَّ مِنْ ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَاخْتَلَفُوا فِی سِنِّ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمَ قُتِلَ فَقِیلَ خَمْسٌ وَسِتُّونَ وَقِیلَ ثَلاَثٌ وَسِتُّونَ وَقِیلَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِکَ وَأَشْہَرُہُ ثَلاَثٌ وَسِتُّونَ عَلَی رَأْسِ أَرْبَعِینَ مِنْ مُہَاجَرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَیَرْجِعُ سِنُّہُ یَوْمَ أَسْلَمَ عَلَی قَوْلِ مَنْ قَالَ مَکَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ عَشْرًا إِلَی ثَلاَثَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَعَلَی قَوْلِ مَنْ قَالَ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ إِلَی عَشْرِ سِنِینَ فَفِی أَکْثَرِ الرِّوَایَاتِ کَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَلَغَ مِنَ السِّنِّ حِینَ صَلَّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَدْرًا یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ احْتَلَمَ فِیہِ وَمَا رُوِیَ مِنَ الشِّعْرِ مُحْتَمَلٌ لِلتَّأْوِیلِ مَعَ ضَعْفِ إِسْنَادِہِ عَلَی أَنَّ الْحُکْمَ بِصِحَّۃِ قَوْلِ الْبَالِغِ دُونَ الصَّبِیِّ الْمُمَیِّزِ وَقَعَ شَرْعُہُ بَعْدَ إِسْلاَمِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَإِسْلاَمُہُ کَانَ مَحْکُومًا بِصِحَّتِہِ إِمَّا لأَنَّہُ بَقِیَ حَتَّی وَصَفَ الإِسْلاَمَ بَعْدَ بُلُوغِہِ أَوْ لأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَاطَبَہُ بِالدُّعَائِ إِلَی الإِسْلاَمِ وَغَیْرُہُ مِنَ الصِّبْیَانِ غَیْرُ مُخَاطَبٍ أَوْ لأَنْ قَوْلَ الصَّبِیِّ الْمُمَیِّزِ إِذْ ذَاکَ کَانَ مَحْکُومًا بِصِحَّتِہِ قَبْلَ وُرُودِ الشَّرْعِ بِغَیْرِہِ أَوْ کَانَ قَدِ احْتَلَمَ فَصَارَ بَالِغًا بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ہَذَا وَقَدْ ذَہَبَ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ وَغَیْرُ وَاحِدٍ فِی رِوَایَۃِ قَتَادَۃَ إِلَی أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَسْلَمَ وَہُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً أَوْ سِتَّ عَشْرَۃَ سَنَۃً کَمَا مَضَی ذِکْرُہُ۔
[حسن۔ الحاکم ۴۵۶۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৭১
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٦٦) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں پندرہ سال ٹھہرے وہ آواز سنتے تھے اور روشنی دیکھتے تھے، سات سال کی عمر میں اور آٹھویں برس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کی گئی اور مدینہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دس سال ٹھہرے۔
امام احمد (رح) فرماتے ہیں : اسی کی طرف حسن گئے ہیں کہ جس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مکہ میں وحی نازل کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی (رض) کا اسلام سات سال بعد کا ہے، پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکہ میں ٹھہرنا وحی کے بعد آٹھ سال کا عرصہ ہے اور مدینہ میں ١٠ سال ہے، حجاج بن منہال کی روایت میں سات سال ہے، وہ روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، آپ (رض) آٹھ سال کے تھے، جب آپ (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کی طرف وحی کی گئی اور مدینہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس سال قیام کیا۔
امام احمد (رح) فرماتے ہیں، حضرت حسن بصری (رح) وغیرہ نے مکہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی سے اندازہ لگایا ہے کہ حضرت علی (رض) سات سال کی عمر کے بعد مسلمان ہوئے (یعنی جب اسلام لائے تو عمر سات سال سے زیادہ تھی) اور یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کے بعد ہے، مکہ میں وحی کے بعد آٹھ سال رہے تو اس لحاظ سے ان کے قول کے مطابق حضرت علی (رض) کی عمر شہادت کے وقت تریسٹھ برس تھی تو اس کا آغاز ہجرت نبوی کے چالیسویں سال سے ہے) ، جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی عمر پندرہ سال تھی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکہ قیام اور وحی کے بعد مشہور روایات کافی تعداد میں ہیں۔
امام احمد (رح) فرماتے ہیں : اسی کی طرف حسن گئے ہیں کہ جس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مکہ میں وحی نازل کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی (رض) کا اسلام سات سال بعد کا ہے، پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکہ میں ٹھہرنا وحی کے بعد آٹھ سال کا عرصہ ہے اور مدینہ میں ١٠ سال ہے، حجاج بن منہال کی روایت میں سات سال ہے، وہ روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، آپ (رض) آٹھ سال کے تھے، جب آپ (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کی طرف وحی کی گئی اور مدینہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس سال قیام کیا۔
امام احمد (رح) فرماتے ہیں، حضرت حسن بصری (رح) وغیرہ نے مکہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی سے اندازہ لگایا ہے کہ حضرت علی (رض) سات سال کی عمر کے بعد مسلمان ہوئے (یعنی جب اسلام لائے تو عمر سات سال سے زیادہ تھی) اور یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کے بعد ہے، مکہ میں وحی کے بعد آٹھ سال رہے تو اس لحاظ سے ان کے قول کے مطابق حضرت علی (رض) کی عمر شہادت کے وقت تریسٹھ برس تھی تو اس کا آغاز ہجرت نبوی کے چالیسویں سال سے ہے) ، جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی عمر پندرہ سال تھی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکہ قیام اور وحی کے بعد مشہور روایات کافی تعداد میں ہیں۔
(۱۲۱۶۶) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِی عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ خَمْسَ عَشَرَۃَ سَنَۃً یَسْمَعُ الصَّوْتَ وَیَرَی الضَّوْئَ سَبْعَ سِنِینَ وَلاَ یَرَی شَیْئًا وَثَمَانَ سِنِینَ یُوحَی إِلَیْہِ وَأَقَامَ بِالْمَدِینَۃِ عَشْرًا وَفِی رِوَایَۃِ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ سَبْعًا یَرَی الضَّوْئَ وَیَسْمَعُ الصَّوْتَ وَثَمَانِیًا یُوحَی إِلَیْہِ وَأَقَامَ بِالْمَدِینَۃِ عَشْرًا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [مسلم ۲۳۵۳]
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ : وَإِلَی مِثْلِ ہَذَا ذَہَبَ الْحَسَنُ فِی قَدْرِ مَا کَانَ یُوحَی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَکَّۃَ فَعَلَی ہَذَا التَّفْصِیلِ یَکُونُ إِسْلاَمُ عَلِیٍّ بَعْدَ السِّنِینَ السَّبْعِ وَہُوَ بَعْدَ مَا أُوحِی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَیَکُونُ مُقَامُہُ بِمَکَّۃَ بَعْدَ الْوَحْیِ ثَمَانَ سِنِینَ فَیَکُونُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی قَوْلِ مَنْ قَالَ قُتِلَ وَہُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّینَ سَنَۃً عَلِی رَأْسِ أَرْبَعِینَ مِنْ مُہَاجَرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ أَسْلَمَ ابْنُ خَمْسَ عَشَرَۃَ سَنَۃً کَمَا رُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ إِلاَّ أَنَّ الرِّوَایَاتِ الْمَشْہُورَۃَ فِی مُقَامِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَکَّۃَ بَعْدَ الْوَحْیِ تَدُلُّ عَلَی أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [بخاری ۳۵۴۷۔ مسلم ۲۲۳۷]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِی عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ خَمْسَ عَشَرَۃَ سَنَۃً یَسْمَعُ الصَّوْتَ وَیَرَی الضَّوْئَ سَبْعَ سِنِینَ وَلاَ یَرَی شَیْئًا وَثَمَانَ سِنِینَ یُوحَی إِلَیْہِ وَأَقَامَ بِالْمَدِینَۃِ عَشْرًا وَفِی رِوَایَۃِ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ سَبْعًا یَرَی الضَّوْئَ وَیَسْمَعُ الصَّوْتَ وَثَمَانِیًا یُوحَی إِلَیْہِ وَأَقَامَ بِالْمَدِینَۃِ عَشْرًا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [مسلم ۲۳۵۳]
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ : وَإِلَی مِثْلِ ہَذَا ذَہَبَ الْحَسَنُ فِی قَدْرِ مَا کَانَ یُوحَی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَکَّۃَ فَعَلَی ہَذَا التَّفْصِیلِ یَکُونُ إِسْلاَمُ عَلِیٍّ بَعْدَ السِّنِینَ السَّبْعِ وَہُوَ بَعْدَ مَا أُوحِی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَیَکُونُ مُقَامُہُ بِمَکَّۃَ بَعْدَ الْوَحْیِ ثَمَانَ سِنِینَ فَیَکُونُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی قَوْلِ مَنْ قَالَ قُتِلَ وَہُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّینَ سَنَۃً عَلِی رَأْسِ أَرْبَعِینَ مِنْ مُہَاجَرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ أَسْلَمَ ابْنُ خَمْسَ عَشَرَۃَ سَنَۃً کَمَا رُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ إِلاَّ أَنَّ الرِّوَایَاتِ الْمَشْہُورَۃَ فِی مُقَامِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَکَّۃَ بَعْدَ الْوَحْیِ تَدُلُّ عَلَی أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [بخاری ۳۵۴۷۔ مسلم ۲۲۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৭২
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٦٧) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں دس سال ٹھہرے۔ آپ پر قرآن نازل کیا جاتا تھا اور مدینہ میں بھی دس سال آپ پر قرآن نازل کیا جاتا تھا۔
(۱۲۱۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ : الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَبِثَ بِمَکَّۃَ عَشْرَ سِنِینَ یُنْزَلُ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ وَبِالْمَدِینَۃِ عَشْرَ سِنِینَ یُنْزَلُ عَلَیْہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ وَکَذَا رَوَاہُ رَبِیعَۃُ بْنُ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔
[بخاری ۳۵۴۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ وَکَذَا رَوَاہُ رَبِیعَۃُ بْنُ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔
[بخاری ۳۵۴۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৭৩
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٦٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تیرہ سال ٹھہرے اور مدینہ میں دس سال اور جب فوت ہوئے تو تریسٹھ برس عمر تھی۔
(۱۲۱۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَبِالْمَدِینَۃِ عَشْرًا وَمَاتَ وَہُوَ ابْنُ ثَلاَثَ وَسِتِّینَ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَعِکْرِمَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [بخاری ۳۵۳۶]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَعِکْرِمَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [بخاری ۳۵۳۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৭৪
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے بچے کے اسلام کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا ہے
(١٢١٦٩) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تیرہ سال ٹھہرے اور جب فوت ہوئے تو تریسٹھ برس عمر تھی۔
(۱۲۱۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْبَزَّازُ الطَّابِرَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَکَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ سَنَۃَ وَتُوُفِّیَ وَہُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّینَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَطَرِ بْنِ الْفَضْلِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ کِلاَہُمَا عَنْ رَوْحٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَطَرِ بْنِ الْفَضْلِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ کِلاَہُمَا عَنْ رَوْحٍ۔
তাহকীক: