আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২ টি

হাদীস নং: ১২১১৫
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو گمشدہ چیز کا اعتراف کرلے
(١٢١١٠) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا، پھر لقط کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی تعداد، بندھن اور تھیلی کو پہچان لو اور ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر اس کا مالک آجائے اور اس کی تعداد اور بندھن پہچان لے تو اسے دے دینا ورنہ وہ تیرے لیے ہے۔
(۱۲۱۱۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْعَوْذِیُّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سُئِلَ عَنْ ضَالَّۃِ الإِبِلِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ ثُمَّ سَأَلَہُ عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَ : اعْرِفْ عَدَدَہَا وَوِعَائَ ہَا وَعِفَاصَہَا وَعَرِّفْہَا عَامًا فَإِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَعَرَفَ عَدَدَہَا وَعِفَاصَہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ وَإِلاَّ فَہِیَ لَکَ ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَہَذِہِ الزِّیَادَۃُ الَّتِی زَادَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ فِی حَدِیثِ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ وَیَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَرَبِیعَۃَ وَعُبَیْدِ اللَّہِ : إِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَعَرَفَ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا فَادْفَعْہَا إِلَیْہِ ۔ لَیْسَتْ بِمَحْفُوظَۃٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ رُوِّینَاہُ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৬
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو گمشدہ چیز کا اعتراف کرلے
(١٢١١١) حضرت زید بن خالد سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک دیہاتی لقطہ لے کر آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک سال تک اس کا اعلان کر، پھر اس کے بندھن اور تھیلی کو پہچان لے۔ اگر کوئی آئے اور اس کی خبر دے تو اسے دے دینا ورنہ اسے اپنے خرچہ میں شامل کرلینا۔

(ب) سفیان سے ایک روایت ہے کہ اگر کوئی آئے اور اس کی تھیلی اور بندھن کی خبر دے تو اسے دے دینا ورنہ اسے خرچ کرلینا۔
(۱۲۱۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِی یَزِیدُ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِلُقَطَۃٍ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً ثُمَّ اعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا فَإِنْ جَائَ أَحَدٌ یُخْبِرُکَ بِہَا وَإِلاَّ فَاسْتَنْفِقْہَا ۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔ [صحیح]

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ بِہَذَا اللَّفْظِ وَرَوَاہُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ سُفْیَانَ : فَإِنْ جَائَ أَحَدٌ یُخْبِرُکَ بِعِفَاصِہَا وَوِکَائِہَا وَإِلاَّ فَاسْتَنْفِقْ بِہَا ۔ وَہَذِہِ اللَّفْظَۃُ لَیْسَتْ فِی رِوَایَۃِ أَکْثَرِہِمْ فَیُشْبِہُ أَنْ تَکُونَ غَیْرَ مَحْفُوظَۃٍ کَمَا قَالَ أَبُو دَاوُدَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৭
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو گمشدہ چیز کا اعتراف کرلے
(١٢١١٢) ربیع بن سلیمان نے فرمایا کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا : کوئی چیز گم کرنے والے کے بارے میں فتویٰ دیا گیا ہے جب وہ تھیلی، بندھن ، تعداد اور وزن کو پہچان لے اور اس کے دل میں یہ بات نہ ہو کہ وہ باطل کا دعویٰ کررہا ہے کہ اسے مل جائے اور نہ فیصلے میں اسے مجبور کیا جائے مگر صرف اس سے قسم لی جائے گی جس طرح حقوق میں قسم لی جاتی ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو اور وہ اس کی تھیلی اور بندھن وغیرہ بھی ساتھ دے دو اور جب اپنے مال کے ساتھ اسے رکھے تو یاد رکھے کہ یہ لقطہ والا مال ہے اور احتمال ہے کہ یہ اعتراف کرنے والے کے صدق پر دلالت کرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول سے ظاہر ہے کہ قسم دعویٰ کرنے والے پر ہے، یہ مدعی ہے، آپ کی رائے ہے کہ اگر دس یا اس سے زیادہ لوگ اس کے اوصاف بیان کردیں اور ان کی بات درست ہو تو کیا ہم ان کو لوٹا دیں گے جو اس میں شریک ہیں اور اگر ہزار یا دو ہزار ہوں اور ہمیں علم ہے کہ وہ سارے جھوٹے ہیں سوائے ایک کے شاید کہ ایک بھی جھوٹا ہو اور کسی بھی چیز کے اوصاف سے فواقف نہ ہو۔
(۱۲۱۱۲) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : أُفْتِی الْمُلْتَقِطَ إِذَا عَرِفَ الْعِفَاصُ وَالْوَکَائُ وَالْعَدَدُ وَالْوَزْنُ وَوَقَعَ فِی نَفْسِہِ أَنَّہُ لَمْ یَدَّعِ بَاطِلاً أَنْ یُعْطِیَہُ وَلاَ أُجْبِرَہُ فِی الْحَکَمِ إِلاَّ بِبَیِّنَۃٍ تَقُومُ عَلَیْہَا کَمَا تَقُومُ عَلَی الْحُقُوقِ ثُمَّ سَاقَ الْکَلاَمَ إِلَی أَنْ قَالَ وَإِنَّمَا قَوْلُہُ -ﷺ- : اعْرِفْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا ۔ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنْ یُؤَدِّی عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ہَا مَعَ مَا یُؤَدِّی مِنْہَا وَلِیَعْلَمَ إِذَا وَضَعَہَا فِی مَالِہِ أَنَّہَا اللُّقَطَۃُ دُونَ مَالِہِ وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ اسْتَدَلَّ عَلَی صِدْقِ الْمُعْتَرِفِ وَہَذَا الأَظْہَرُ إِنَّمَا قَوْلُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : الْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِی ۔ فَہَذَا مُدَّعِی أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ عَشْرَۃً أَوْ أَکْثَرَ وَصَفُوہَا کُلُّہُمْ فَأَصَابُوا صِفَتَہَا أَلَنَا أَنْ نُعْطِیَہُمْ إِیَّاہَا یَکُونُونَ شُرَکَائَ فِیہَا وَلَوْ کَانُوا أَلْفًا أَوْ أَلْفَیْنِ وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّ کُلَّہُمْ کَاذِبٌ إِلاَّ وَاحِدًا بِغَیْرِ عَیْنِہِ وَلَعَلَّ الْوَاحِدَ أَنْ یَکُونَ کَاذِبًا لَیْسَ یَسْتَحِقُّ أَحَدٌ بِالصِّفَۃِ شَیْئًا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৮
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے چھوڑ دییگئے جانور کو تندرست کرنا
(١٢١١٣) عامرشعبی نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کسی ایسے جانور کو پائے کہ اس کے اہل اس سے بیماری کی وجہ سے عاجز آچکے تھے اور انھوں نے اسے چھوڑ دیا ، پھر کسی نے اسے پکڑ لیا اور اسے زندہ (تندرست) کیا تو وہ اسی (علاج کرنے والے) کا ہے۔ عبیداللہ نے کہا : یہ حدیث کس سی منقول ہے ؟ ابان نے کہا : کئی صحابہ کرام (رض) سی منقول ہے۔
(۱۲۱۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ وَحَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْیَرِیِّ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ عَنْ أَبَانَ أَنَّ عَامِرًا الشَّعْبِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَنْ وَجَدَ دَابَّۃً قَدْ عَجَزَ عَنْہَا أَہْلُہَا أَنْ یَعْلِفُوہَا فَسَیَّبُوہَا فَأَخَذَہَا فَأَحْیَاہَا فَہِیَ لَہُ ۔ قَالَ فِی حَدِیثِ أَبَانَ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ فَقُلْتُ : عَمَّنْ؟ قَالَ : عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ حَمَّادٍ وَہُوَ أَبْیَنُ وَأَتَمُّ۔[حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৯
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے چھوڑ دییگئے جانور کو تندرست کرنا
(١٢١١٤) شعبی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو جانور کو ہلاکت میں چھوڑ دے، پھر کوئی آدمی اسے زندہ کرے تو وہ اسی کی ہے جو اسے زندہ کرے۔
(۱۲۱۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الشَّعْبِیِّ یَرْفَعُ الْحَدِیثَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : مَنْ تَرَکَ دَابَّۃً بِمَہْلِکٍ فَأَحْیَاہَا رَجُلٌ فَہِیَ لِمَنْ أَحْیَاہَا ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২০
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے چھوڑ دییگئے جانور کو تندرست کرنا
(١٢١١٥) عبیداللہ بن حمید فرماتے ہیں : میں نے شعبی سے سنا وہ کہتے تھے : جس نے بیماری کی وجہ سے اپنے جانور کو چھوڑ دیا وہ اسی کا ہے جس نے اس کا علاج کر کے اسے تندرست کیا۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے ابوعمرو ! یہ کس سے منقول ہے ؟ انھوں نے کہا : اگر تو کہے تو میں اصحاب رسول میں سے شمار کردیتا ہوں۔
(۱۲۱۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ حُمَیْدٍ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُولُ : مَنْ قَامَتْ عَلَیْہِ دَابَّتُہُ فَتَرَکَہَا فَہِیَ لِمَنْ أَحْیَاہَا۔ قُلْتُ : عَمَّنْ ہَذَا یَا أَبَا عَمْرٍو؟ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ عَدَدْتُ لَکَ کَذَا وَکَذَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔

ہَذَا حَدِیثٌ مُخْتَلَفٌ فِی رَفْعِہِ وَہُوَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُنْقَطِعٌ وَکُلُّ أَحَدٍ أَحَقُّ بِمَالِہِ حَتَّی یَجْعَلَہُ لِغَیْرِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২১
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے چھوڑ دییگئے جانور کو تندرست کرنا
(١٢١١٦) شعبی سے اس آدمی کے بارے میں منقول ہے جو اپنے جانور کو بیماری کی وجہ سے چھوڑ دے، پھر اسے کوئی آدمی پکڑ لے اور اس کو درست کردے شعبی نے کہا : اس میں فیصلہ یہ ہے اگر وہ اس کا علاج، گھاس پانی سے کرے تو اس کا اصل مالک اس کا زیادہ حق دار ہے اور اگر وہ اس کا علاج کامیابی اور ڈر کی حالت میں کرے تو اسے پکڑنے والا اس کا حق دار ہے۔
(۱۲۱۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ فِی رَجُلٍ سَیَّبَ دَابَّتَہُ فَأَخَذَہَا رَجُلٌ فَأَصْلَحَہَا قَالَ قَالَ الشَّعْبِیُّ : ہَذَا قَدْ قُضِیَ فِیہِ إِنْ کَانَ سَیَّبَہَا فِی کَلأٍ وَمَائٍ وَأَمْنٍ فَصَاحِبُہَا أَحَقُّ بِہَا وَإِنْ کَانَ سَیَّبَہَا فِی مَفَازَۃٍ وَمَخَافَۃٍ فَالَّذِی أَخَذَہَا أَحَقُّ بِہَا۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২২
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکہ میں گری پڑی چیز اٹھانا حلال نہیں مگر اس شخص کے لیے جو اس کا اعلان کرے
(١٢١١٧) حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکہ والے قصہ کی خبر دی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ اس کے کانٹوں کو اکھاڑا جائے اور نہ اس کے درختوں کو کاٹا جائے اور نہ اس کی گری ہوئی چیز کو پکڑا جائے مگر وہ شخص اٹھائے جو اس کا اعلان کرے۔
(۱۲۱۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَخْبَرَہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی قِصَّۃِ مَکَّۃَ : لاَ یُخْتَلَی شَوْکُہَا وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یَلْتَقِطُ سَاقِطَتَہَا إِلاَّ مُنْشِدٌ ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ شَیْبَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی۔[بخاری ۲۴۳۴۔ مسلم ۱۳۵۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২৩
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکہ میں گری پڑی چیز اٹھانا حلال نہیں مگر اس شخص کے لیے جو اس کا اعلان کرے
(١٢١١٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فتح مکہ کے دن یہ شہر حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے حرمت والا بنایا ہے اس میں قتل کرنا حلال نہیں ہے۔ کسی کے لیے مجھ سے پہلے اور بیشک وہ حرمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک حرمت والا بنایا ہے، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور نہ اس کے کانٹوں کو کاٹا جائے اور نہ اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا جائے مگر وہ شخص اٹھائے جو اس کا اعلان کرے اور نہ اس کے درختوں کو اکھاڑا جائے۔ حضرت عباس (رض) نے فرمایا : مگر اذخر وہ گھروں کی چھتوں کے کام آتی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اذخر کی اجازت ہے۔
(۱۲۱۱۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُہَلْہِلٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : إِنَّ ہَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَہُ اللَّہُ لَمْ یَحِلَّ فِیہِ الْقَتْلُ لأَحَدٍ قَبْلِی وَإِنَّہَا َہِیَ حَرَامٌ حَرَّمَہُ اللَّہُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہُ وَلاَ یُعْضَدُ شَوْکُہُ وَلاَ یَلْتَقِطُ لُقَطَتَہُ إِلاَّ مَنْ عَرَّفَہَا وَلاَ یُخْتَلَی خَلاَہُ ۔ فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّہُ لِبَیُوتِہِمْ فَقَالَ : إِلاَّ الإِذْخِرَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ جَرِیرٍ عَنْ مَنْصُورٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২৪
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکہ میں گری پڑی چیز اٹھانا حلال نہیں مگر اس شخص کے لیے جو اس کا اعلان کرے
(١٢١١٩) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی گھاس کو نہ کاٹا جائے اور نہ اس کے درختوں کو کاٹا جائے اور نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے اور اس کا لقطہ اٹھانا حلال نہیں مگر اعلان کرنے والے کے لیے حضرت عباس (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ! اذخر کے علاوہ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اذخر کی اجازت ہے۔
(۱۲۱۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیمِ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : لاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا وَلاَ یُعْضَدُ عِضَاہُہَا وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا وَلاَ تَحِلُّ لُقَطَتُہَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ ۔ فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِلاَّ الإِذْخِرَ فَقَالَ : إِلاَّ الإِذْخِرَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ رَوْحٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২৫
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکہ میں گری پڑی چیز اٹھانا حلال نہیں مگر اس شخص کے لیے جو اس کا اعلان کرے
(١٢١٢٠) ابوعبید نے کہا : حدیث کی موجودگی میں میرے پاس اور کچھ نہیں مگر جو عبدالرحمن بن مہدی نے کہا کہ اس (لقطہ) کو پانے والا آدمی اس پر ہمیشہ اعلان کرنا ضروری ہے، ورنہ اس کے لیے چھونا حلال نہیں۔
(۱۲۱۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : لَیْسَ لِلْحَدِیثِ عِنْدِی وَجْہٌ إِلاَّ مَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ أَنَّہُ لَیْسَ لِوَاجِدِہَا مِنْہَا شَیْئٌ إِلاَّ الإِنْشَادَ أَبَدًا وَإِلاَّ فَلاَ یَحِلُّ لَہُ أَنَّ یَمَسَّہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২৬
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکہ میں گری پڑی چیز اٹھانا حلال نہیں مگر اس شخص کے لیے جو اس کا اعلان کرے
(١٢١٢١) حضرت عبدالرحمن بن عثمان تیمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاجیوں لقطہ کا اٹھانے سے منع فرمایا۔
(۱۲۱۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّیْمِیِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنْ لُقَطَۃِ الْحَاجِّ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَاہِرِ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔

[مسلم ۱۷۲۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২৭
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چٹّی کا بیان
(١٢١٢٢) حضرت ابو سعید (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کا ایک گروہ سفر پر گیا، وہ ایک قبیلے کے پاس اترے عرب کے قبائل میں سے۔ ان سے مہمان نوازی طلب کی۔ لیکن انھوں نے مہمان نوازی کرنے کا انکار کردیا، ان کے سردار کو کسی کیڑے نے ڈس لیا ۔ انھوں نے اس کے لیے کوشش کی، لیکن اسے فائدہ نہ ہوا۔ ان کے بعض لوگوں نے کہا : اگر تم ان اترنے والوں (صحابہ) کے پاس جاؤ تو ہوسکتا ہے ان میں کوئی ایسا ہو جو سردار کو نفع دے سکے۔ اب کچھ لوگوں نے کہا : اے قافلے والو ! ہمارے سردار کو کسی موزی چیز نے ڈس لیا ہے ہم نے اس کے لیے کوشش کی ہے کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو ہمارے سردار کو آرام پہنچا سکے ؟ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا : ہاں میں دم کرسکتا ہوں، لیکن ہم نے تم سے مہمان نوازی چاہی تھی تم نے انکار کردیا تھا۔ اس لیے میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا، جب تک تم میرے لیے کوئی اجرت مقرر نہیں کردیتے، انھوں نے بکری کا کچھ حصہ معاوضہ طے کرلیا۔ وہ صحابی اس کے پاس آئے اور اس پر سورة فاتحہ پڑھی اور اس پر تھوکا۔ یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوگیا جیسا کہ وہ رسی سے آزاد ہوگیا، انھوں نے اسے پورا بدلہ جو طے کیا تھا وہ دیا، ایک نے کہا : اس (اجرت) کو تقسیم کرلو۔ جس نے دم کیا تھا اس نے کہا نہ کرو، یہاں تک کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اس بارے میں دریافت کرلیں، صبح کے وقت وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور قصہ بیان کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے کیسے معلوم کیا کہ وہ دم ہے اور فرمایا : تم نے اچھا کیا۔ اسے تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھنا۔

یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اجرت کا مستحق شرط کے ساتھ بن سکتا ہے۔
(۱۲۱۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ : أَنَّ رَہْطًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- انْطَلَقُوا فِی سَفْرَۃٍ سَافَرُوہَا فَنَزَلُوا بِحَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوہُمْ فَأَبَوْا أَنْ یُضَیِّفُوہُمْ قَالَ فَلُدِغَ سَیِّدُ ذَلِکَ الْحَیِّ فَسَعَوْا لَہُ بِکُلِّ شَیْئٍ لاَ یَنْفَعُہُ شَیْئٌ قَالَ بَعْضُہُمْ : لَوْ أَتَیْتُمْ ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ نَزَلُوا بِکُمْ لَعَلَّ یَکُونَ عِنْدَ بَعْضِہِمْ مَنْ یَنْفَعُ صَاحِبَکُمْ فَقَالَ بَعْضُہُمْ : أَیُّہَا الرَّہْطَ إِنَّ سَیِّدَنَا لَدِیغٌ فَسَعَیْنَا لَہُ بِکُلِک شَیْئٍ فَہَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْکُمْ مَا یَنْفَعُ صَاحِبَنَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : نَعَمْ إِنِّی لأَرْقِی وَلَکِنِ اسْتَضَفْنَاکُمْ فَأَبَیْتُمْ أَنْ تُضِیِّفُونَا وَمَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّی تَجْعَلُوا لِی جُعْلاً فَجَعَلُوا لَہُ قَطِیعًا مِنَ الشَّائِ قَالَ فَأَتَاہُ فَقَرَأَ عَلَیْہِ أُمَّ الْکِتَابِ وَیَتْفِلُ عَلَیْہِ حَتَّی بَرَأَ کَأَنَّہُ نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ قَالَ فَأَوْفَاہُمْ فَجَعَلَ لَہُمْ الَّذِی صَالَحُوہُ عَلَیْہِ فَقَالَ اقْسِمُوا فَقَالَ الَّذِی رَقَی : لاَ تَفْعَلُوا حَتَّی نَأْتِیَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَنَسْتَأْمِرُہُ فَغَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرُوا لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مِنْ أَیْنَ عَلِمْتَ أَنَّہَا رُقْیَۃٌ ۔ وَقَالَ : أَحْسَنْتُمْ فَاقْتَسِمُوا وَاضْرِبُوا لِی مَعَکُمْ بِسَہْمٍ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ۔

وَہُوَ فِی ہَذَا کَالدِّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّ الْجُعْلَ إِنَّمَا یَکُونُ مُسْتَحَقًا بِالشَّرْطِ۔ [بخاری ۲۲۷۶۔ مسلم ۲۲۰۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২৮
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چٹّی کا بیان
(١٢١٢٣) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھاگے ہوئے غلام کے بارے میں دس درہموں کا فیصلہ کیا جو حرم سے پایا جائے۔

ابن ابی ملیکہ اور عمرو بن دینارفرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس درہم مقرر کیے ہیں اس غلام میں جو بھاگا ہوا اور حرم سیباہرپایا جائے۔
(۱۲۱۲۳) فَأَمَّا الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَحْمُودٍ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَحْمَدَ الشَّاہِدُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ الْعَطَّارُ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَکْرٍ الْبَالِسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا خُصَیْفٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْعَبْدِ الآبِقِ یُوجَدُ فِی الْحَرَمِ بِعَشَرَۃِ دَرَاہِمَ۔ [ضعیف]

فَہَذَا ضَعِیفٌ۔ وَالْمَحْفُوظُ حَدِیثُ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالاَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الآبِقِ یُوجَدُ خَارِجًا مِنَ الْحَرَمِ عَشْرَۃَ دَرَاہِمَ وَذَلِکَ مُنْقَطِعٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২৯
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چٹّی کا بیان
(١٢١٢٤) حضرت علی (رض) نے بھاگے ہوئے غلام پر ایک دینار مقرر کیا ہے اگرچہ قریب سے ملے یا دور سے۔

ابن مسعود (رض) فرماتی تھے، جب وہ مصر سے نکلے تو اس کی چٹّیچالیس ہے۔
(۱۲۱۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُعَمَّرٌ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ فِی جُعْلِ الآبِقِ دِینَارٌ قَرِیبًا أُخِذَ أَوْ بَعِیدًا۔

وَعَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ کَانَ یَقُولُ ذَلِکَ وَعَنِ الْحَجَّاجِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ کَانَ یَقُولُ : إِذَا خَرَجَ مِنَ الْمِصْرِ فَجُعْلُہُ أَرْبَعُونَ۔

الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৩০
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چٹّی کا بیان
(١٢١٢٥) ابوعمرو شیبانی فرماتے ہیں : مجھے بھاگے ہوئے غلام ملے، میں عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا اور بیان کیا، انھوں نے کہا : اجر اور غنیمت ہے، میں نے کہا : اجر تو ہے لیکن غنیمت کیسے ہے ؟ انھوں نے کہا : ہر ایک کی طرف سے چالیس درہم۔
(۱۲۱۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ قَالَ : أَصَبْتُ غِلْمَانًا أُبَّاقًا بِالْعَیْنِ فَأَتَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : الأَجْرُ وَالْغَنِیمَۃُ قُلْتُ : ہَذَا الأَجْرُ فَمَا الْغَنِیمَۃُ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ دِرْہَمًا مِنْ کُلِّ رَأْسٍ۔

وَہَذَا أَمْثَلُ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ عَبْدُ اللَّہِ عَرَفَ شَرْطَ مَالِکِہِمْ لِمَنْ رَدَّہُمْ عَنْ کُلِّ رَأْسٍ أَرْبَعِینَ دِرْہَمًا فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৩১
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چٹّی کا بیان
(١٢١٢٦) حضرت عمرو بن سعید خثعم کے ایک آدمی سے جسے حزن کہا جاتا تھا بیان کرتے ہیں کہ اس نے کہا : میں لشکر میں سے بھاگا ہوا ایک غلام لایا، لیکن وہ مجھ سے بھی بھاگ گیا، انھوں نے مجھے شریح پر پیش کیا، شریح نے مجھے ذمہ دار ٹھہرایا۔ حضرت علی (رض) کی طرف یہ بات پہنچی تو انھوں نے کہا : شریح نے جھوٹ بولا ہے اور فیصلہ کرنے میں غلطی کی ہے۔ سیاہ غلام سے سرخ غلام کے لیے قسم لی جائے گی۔ اگر واقعی اس سے بھاگ گیا ہے تو اس پر کوئی چیز نہیں ہے۔
(۱۲۱۲۶) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْقَسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَیْقٍ وَعُمَرَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ خَثْعَمٍ یُقَالُ لَہُ حَزْنٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْہُمْ قَالَ : جِئْتُ بِعَبْدٍ آبِقٍ مِنَ السَّوَادِ فَانْفَلَتَ مِنِّی فَخَاصَمُونِی إِلَی شُرَیْحٍ فَضَمَّنَنِیہِ قَالَ فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : کَذَبَ شُرَیْحٌ وَأَخْطَأَ الْقَضَائُ یُحَلَّفُ الْعَبْدُ الأَسْوَدُ لِلْعَبْدِ الأَحْمَرِ لاَنْفَلَتْ مِنْہُ انْفِلاَتًا ثُمَّ لاَ شَیْئَ عَلَیْہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৩২
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چٹّی کا بیان
(١٢١٢٧) حضرت علی (رض) سے اس آدمی کے بارے میں منقول ہے جو بھاگا ہوا غلام پائے، پھر وہ غلام اس سے بھی بھاگ جائے تو علی (رض) اسے ذمہ دار نہ ٹھہراتے تھے جبکہ شریح اسے ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔
(۱۲۱۲۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الأَصْفَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالَ قَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ حَزْمِ بْنِ بَشِیرٍ عَنْ رَجَائِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الرَّجُلِ یَجِدُ الآبِقَ فَیَأْبِقُ مِنْہُ لاَ یَضْمَنُہُ وَضَمَّنَہُ شُرَیْحٌ۔

وَنَحْنُ نَقُولُ بِقَوْلِ عَلِیٍّ : إِنْ کَانَ الآبِقُ أَبَقَ مِنْہُ دُونِ تَعَدِّیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৩৩
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستے میں پڑی چیز کا اٹھانا اور اس کا ترک کرنا جائز نہیں ہے کہ ضائع ہوجائے
(١٢١٢٨) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے اکیلا چھوڑتا ہے۔ جو اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے۔ اللہ اس کی مدد کرتے ہیں۔ جو مسلمان سے مصیبت دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی مصیبتوں کو دور کریں گے اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کریں گے۔
(۱۲۱۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہُ وَلاَ یُسْلِمُہُ مَنْ کَانَ فِی حَاجَۃِ أَخِیہِ کَانَ اللَّہُ فِی حَاجَتِہِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَۃً فَرَّجَ اللَّہُ عَنْہُ بِہَا کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ سَتَرَ عَلَی مُسْلِمٍ سَتَرَہُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [بخاری ۲۴۴۲۔ مسلم ۲۵۸۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৩৪
گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستے میں پڑی چیز کا اٹھانا اور اس کا ترک کرنا جائز نہیں ہے کہ ضائع ہوجائے
(١٢١٢٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جو قرض چھوڑے وہ ہمارے ذمہ ہے۔
(۱۲۱۲۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوالنَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُوالْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَدِیٍّ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: مَنْ تَرَکَ مَالاً فَلِوَرَثَتِہِ وَمَنْ تَرَکَ کَلاًّ فَإِلَیْنَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔[بخاری ۲۳۹۸]
tahqiq

তাহকীক: